وصف

ميرى مشكل يہ ہے كہ ميں بچپن سے ہى والد صاحب پر اعتماد كرتا رہا، ميرا سارا خرچ والد صاحب ہى برداشت كرتے رہے، اور ہر چيز لا كر دى ـ ميں اپنى تعليم اس ليے مكمل نہ كر سكا كہ والد صاحب كا اصرار تھا كہ ميں ان كے ساتھ تجارتى معاملات ميں ہاتھ بٹاؤں، اس ليے ميں نے مڈل تك ہى تعليم حاصلى كى، حالانكہ ميں ان كے ساتھ كام نہيں كرنا چاہتا تھا اس كے باوجود والد صاحب كے اصرار پر ميں نے ان كے ساتھ دينا شروع كر ديا.
اور وقت گزرنے كے ساتھ ساتھ ميں كام كرنے كا عادى بھى ہو گيا، اور تقريبا ساٹھ فيصد كام كو پسند كرنا شروع كر ديا، ميں نے والد صاحب كے ساتھ مسلسل سولہ برس تك كام كيا ہے، جس ميں كوئى واضح ترقى نہ ہوئى، يا پھر ميں محسوس كرتا ہوں كہ ميرى ايك اچھى آزمائش تھى.
اللہ تعالى والد صاحب كو جزائے خير عطا فرمائے ميرے سارے اخراجات وہى كرتے رہے، ابتدائى برسوں ميں تو ميں بغير تنخواہ كے كام كرتا رہا، والد صاحب مجھے ايك ہفتہ كا خرچ دے ديتے، يا پھر ميں انصاف كى اور سچى بات كروں تو مجھے اتنا خرچ دے ديتے جو ايك ماہ كے ليے كافى ہوتا.
ليكن يہ خرچ اتنا نہيں تھا كہ ميں اس سے كچھ بچا سكوں، اسى طرح دن گزرتے رہے، اور ميں نے شادى كرنے كا فيصلہ كيا، اللہ تعالى والد صاحب كو جزائے خير عطا فرمائے انہوں نے شادى كے اخراجات كيے، اور مجھے اپنے گھر ميں ہى ايك فليٹ رہائش كے ليے دے ديا، ميں اس نيكى كا كبھى انكار نہيں كرونگا. اس كے بعد والد صاحب نے دو ہزار ريال ميرى تنخواہ مقرر كر دى، اور كچھ سال كے بعد بڑھا كر تين ہزار كر دى، ليكن ميں محسوس كرتا تھا كہ ميں اپنے اس كام پر راضى نہيں ہوں، كيونكہ يہ تنخواہ ميرى ذاتى اور گھريلو ضروريات كے ليے كافى نہ تھى.
تين برس گزرنے كے بعد ميں نے اپنے والد صاحب كى جانب سے برا سلوك ديكھنا شروع كرديا جو بعض اوقات تو گاليوں تك پہنچ جاتى اور دوسروں كو مجھ پر فضيلت ديتے كہ تم سے تو فلاں شخص ہى اچھا ہے، اور فلاں شخص ديكھو وہ تم سے بہتر ہے...
ميں محسوس كرنے لگا كہ والد صاحب دوسروں كو اچھا سمجھتے ہيں، اور انہيں راضى كرنے كى كوشش كرتے ہيں، ليكن ميرے بارہ ميں ان كا رويہ اچھا نہيں ميرے ساتھ معاملات اچھے نہيں كر رہے، مجھے والد صاحب كوئى كام كرنے كا كہتے اور مجھے اس كا صلہ دينے كا بھى وعدہ كرتے ليكن بعد ميں فيصلہ تبديل كرتے ہوئے اپنا وعدہ پورا نہ كرتے اور كہتے كہ مجھے تو كوئى وعدہ ياد نہيں ہے، يا پھر كہتے كہ تم نے كام ميں كوتاہى كى ہے، اس كے علاوہ كئى طرح كے بہانے بنا كر انكار كر ديتے.
اس سب كچھ كے بعد انہوں نے ميرى تنخواہ بھى كم كر كے دو ہزار ريال كردى حالانكہ ميرى عمر اب سينتيس برس ہو چكى ہے، اور ميں شادى شدہ ہوں اور ميرى اولاد بھى ہے، اور ميرے ذمہ كئى قسم كى ذمہ دارياں ہيں، بلاشك آپ كو علم ہے كہ اس وقت مہنگائى كتنى ہو چكى ہے، دو ہزار ريال كس طرح ايك ماہ كے اخراجات پورے كر سكتے ہيں، اور آئندہ مستقبل كى كيا ضمانت ہو سكتى ہے ؟
اور مستقبل ميں بچوں كے ليے كيا بنايا جا سكتا ہے، مجھے كئى قسم كے افكار اور سوچيں گھيرے ركھتى ہيں كہ ميں كوئى اور كام كر لوں، ليكن جب بھى ميں والد صاحب كا سوچتا ہوں تو مجھے پريشانى لاحق ہو جاتى ہے، اور ميں خوف محسوس كرتا ہوں كہ والد صاحب اكيلے رہ جائيں گے اور وہ اس كا اثر بھى ليں گے.
اور اسى طرح ميں ان كى ناراضگى كا خدشہ بھى محسوس كرتا ہوں، جب انہيں علم ہوگا كہ ميں كوئى اور كام تلاش كر رہا ہوں تو وہ ناراض ہونگے، كيونكہ وہ ہر مسئلہ ميں مجھ پر اعتماد كرتے ہيں، چاہے تجارت ہو يا گھر كا كام، يا خاندان كا كوئى معاملہ ہو، ہر كوئى يہى كہتا ہے كہ ميں ہى اس خاندان كا سب كچھ اور محور ہوں.
وہ يہ سمجھتے ہيں كہ اس كام كے پيچھے مجھے بہت كچھ ملتا ہے، حالانكہ فى الواقع ايسا نہيں ہے، بلكہ ميں تو يہ سمجھتا ہوں كہ اس ميں جو خير پائى جاتى ہے وہ يہ كہ اللہ كے حكم سے ميں حسب استطاعت اپنے والد كے ساتھ حسن سلوك كر رہا ہوں، حالانكہ مجھے وہ كچھ حاصل نہيں ہوتا جو ميرے باقى بھائي حاصل كرتے ہيں.
ميرے سارے بھائى مجھ سے چھوٹے ہيں، اور ميں ہى سب سے بڑا ہوں، وہ سب اچھى ملازمت كر رہے ہيں اور ان ميں سے سب كى كم از كم تنخواہ پانچ ہزار ريال ماہانہ ہے، اور پھر وہ غير شادى شدہ ہيں، ليكن ميرى تنخواہ صرف دو ہزار ريال ہے، مجھے علم ہے كہ ميرے مقدر ميں يہى ہے، اور روزى كى تقسيم تو اللہ سبحانہ و تعالى ہى كرتا ہے اس نے ہر انسان كا رزق اور اسكى زندگى اور تقدير لكھ ركھى ہے... اللہ گواہ ہے ميرا اس پر ايمان ہے كہ يہ اللہ كى جانب سے ہے، اللہ نے ميرے ليے جو لكھ ركھا ہے ميں اس پر راضى ہوں، اللہ سبحانہ و تعالى نے انسان كے ليے بہتر ہى لكھا ہے، ہر حالت ميں اللہ سبحانہ و تعالى كا شكر ہے.
ليكن انسان طبعى طور پر كمزور واقع ہوا ہے، اور وہ بعض اوقات دنياوى امور كى طرف مائل ہو كر اس كى جانب جھك جاتا ہے، كہ وہ اپنے كسى دوست يا كسى رشتہ دار يا پھر اپنے ارد گرد رہنے والوں كو ديكھتا اور كہتا ہے كہ: ميں بھى ان جيسى صفات كا مالك كيوں نہيں، وہ اچھا لباس زيب تن كرتے ہيں، اور بہترين گاڑيوں پر سفر كرتے ہيں اور اپنى اولاد كے ليے جو چاہيں لا كر ديتے ہيں ..... ليكن ميں ايسا نہيں ؟
بعض اوقات ميں بھى محسوس كرتا ہوں كہ ميں بھى اس امر واقع كے سامنے سرتسليم خم كر چكا ہوں، ميرے پاس كوئى اچھى ملازمت نہيں ہے، اور نہ ہى ميرے پاس كوئى ايسى تعليمى ڈگرى ہے جو مجھے كوئى اچھى ملازمت دلا دے جس كے ذريعہ ميں اپنے بيوى بچوں كے صحيح طرح اخراجات پورے كر سكوں، اور نہ ہى ميرے پاس كوئى جمع پونجى ہے جس كے ذريعہ كوئى كاروبار شروع كروں.
خلاصہ يہ ہے كہ: اس وقت تو ميرى حالت اور بھى زيادہ خراب ہو چكى ہے كيونكہ گھريلو اخراجات بڑھ چكے ہيں اور ميں محسوس كرتا ہوں كہ دنيا ميرے سر پر سوار ہے ميں اس كا وزن برداشت نہيں كر سكتا، ہر وقت پريشان اور غم كا شكار رہتا ہوں، اور دن بدن نيچے كى طرف ہى جا رہا ہوں، اور پريشانى بھى بڑھ رہى ہے.
اس ليے ميں نے يہ فيصلہ كيا كہ مجھے كوئى اور كام كرنا چاہيے، اور اس كوئى ايسا كام تلاش كروں جو ميرے حالات بدل دے، ميں محسوس كرتا ہوں كہ كسى بھى وقت اپنى بيوى كھو سكتا ہوں، كيونكہ وہ مجھے ہر وقت كوئى اور كام تلاش كرنے پر ابھارتى رہتى ہے، كيونكہ وہ خود بھى ملازمت كرتى ہے اور ميرى تنخواہ سے تين گناہ زيادہ تنخواہ ليتى ہے، اور گھريلو اخراجات ميں ميرى مدد كرتى، بلكہ مجھ سے بھى زيادہ اخراجات برداشت كرتى ہے.
ليكن مرد كى بھى كوئى عزت ہونى چاہيے، اور اس كے نفس كى عزت ہو، ميں جانتا ہوں كہ ان دنياوى امور ميں بيوى اپنے خاوند كى معاونت كر سكتى ہے اس ميں كوئى حرج نہيں ليكن معاملہ مختلف ہے كيونكہ وہ ميرى عيالدارى ميں ہے اس كے اخراجات ميرے ذمہ ہيں، بلكہ ايك دفعہ تو ايسا بھى ہوا كہ ميرى بيوى ميرے فقر كى بنا پر اپنے ميكے بھى چلى گئى اور وہ اس صورت حال سے خوش نہيں ہے، ميں محسوس كرتا ہوں كہ وہ حق پر ہے.
وہ ايسا كرے بھى كيوں نہ، اور كيسے اپنے ميكے جا كر نہ بيٹھے، كيونكہ وہ ديكھتى ہے كہ اس كى سارى سہيلياں اور سارى بہنيں شادى شدہ ہيں اور وہ اپنے ملكيتى گھروں ميں رہتى ہيں، اور اچھى سے اچھى گاڑى ركھى ہوئى ہے، اور بہتر سے بہتر وسائل راحت اختيار كيے ہوئے ہيں، ليكن اسے ان اشياء ميں سے كچھ بھى حاصل نہيں ہے.
اہم يہ ہے كہ ميں نے جب بھى عزم كيا يا ارادہ كيا كہ ميں كوئى اور كام تلاش كروں تو مجھے خوف اور ڈر سا لگا رہتا ہے كہ كہيں مستقبل ميں ناكام نہ ہو جاؤں، جيسا كہ ميں اوپر كى سطور ميں بيان كر چكا ہوں كہ ميں اپنے والد صاحب پر ہى اعتماد كرتا رہا ہوں، اور ميں نے كبھى بھى عليحدہ اكيلے كام نہيں كيا، ميرے والد صاحب نے مجھے عادى بنا ديا ہے كہ ميں ہر چيز ميں ان ميں پر اعتماد كرنے لگا ہوں، اور ميں يہ نقطہ ان كى مصلحت كے ليے ہى استعمال كرتا ہوں.
ليكن اب مجھے ايك ايسا كام ملا ہے جس كے بارہ ميں معلومات اكٹھى كرنے اور الحمد للہ استخارہ كرنے كے بعد مجھے علم ہوا ہے كہ اس ميں ان شاء اللہ خير پائى جاتى ہے، ليكن اندر سے مجھے بہت زيادہ ڈر بھى محسوس ہو رہا ہے استخارہ كے بعد مجھے پچاس فيصد سكون حاصل ہوا ہے، ليكن باقى خوف اور حيرانى پائى جاتى ہے كہ كہيں ناكام نہ ہو جاؤں، ميں وضاحت كے ساتھ بتانا چاہتا ہوں كہ وہ كام درج ذيل ہے:
سامان كى نقل و حمل كے ليے گاڑى چلانا، كہ ہر چيز ايك علاقے سے دوسرے علاقے ميں نقل كى جائے كچھ لوگ حتى كہ ميرے بھائى بھى مجھے يہ كام كرنے پر طعنے ديتے اور عار دلاتے ہيں، حتى كہ ابتدا ميں تو ميرے والد صاحب بھى ميرے ساتھ مذاق كرنے والوں ميں شامل تھے.
ان كا كہنا تھا كہ ميں نے وہ كام شروع كيا ہے جو دوسرے ملكوں سے يہاں كر دوسرے ملازمين كرتے ہيں، ليكن مجھے تو يہ كام اچھا لگا ہے، ميں اس سے اپنى روزى كماتا اور اپنے بيوى بچوں كے اخراجات پورے كرتا ہوں، اللہ سے توفيق كى دعا ہے.
برائے مہربانى يہ بتائيں كہ اس كام كے متعلق آپ كى رائے كيا ہے ؟
اور ميرى حالت كے بارہ ميں آپ كى رائے ميں كيا حل ہے اور مجھے كيا كرنا چاہيے، اور كيا اگر ميں اپنے والد سے عليحدہ اور دور رہ كر كوئى كام كرتا ہوں تو كيا ميں نافرمان كہلاؤنگا، كيونكہ مجھے ڈر ہے كہ كہيں ميں والد صاحب كا نافرمان نہ بن جاؤں، اللہ سے ميرى دعا ہے كہ ميں اپنے والدين سے حسن سلوك كرنے والا بنوں ؟

فیڈ بیک