وصف

ميں نے ايك عيسائى عورت سے شادى كر ركھى ہے اور اس سے ميرے دو بچے بھى ہيں، ايك رمضان المبارك كے مہينہ ميں ايسا ہوا كہ ميں افطارى كر رہا تھا كہ كھانے كے دوران ميرى بيوى نے شراب نوشى شروع كر دى، اور ميں اسے اس سے نہ روك سكا، كيونكہ اگر ميں روكنے كى كوشش كرتا تو وہ طلاق كا مطالبہ كرتى اور ہو سكتا ہے طلاق كى صورت ميں بچوں كى پرورش كا حق بھى حاصل كر ليتى، اس طرح ميرے ليے بچوں كو دين اسلام كى تعليم دين مشكل ہو جاتا.
ميرا سوال يہ ہے كہ كيا رمضان المبارك ميں جب وہ شراب نوشى كرے اور اس كے خاندان والے شراب نوشى كريں تو كيا ميرے ليے ان كے ساتھ بيٹھنا حرام ہے، حالانكہ ميں شراب نوشى نہيں كرتا ؟

فیڈ بیک