وصف

شیخ محمد بن صالح المنجد ۔ حفظہ اللہ۔ سے پوچھا گیا كہ : ميں نے بہت سارے علماء اور دعاۃ سے مختلف مقامات پر وہابيت كے متعلق بات كرتے سنا ہے اور انہوں نے اس كا دفاع كيا ہے، اور اس بات کی وضاحت کی ہےكہ يہ كسى تحريك يا فرقے كا نام نہيں، بلکہ یہ صرف سلف صالحین کی فہم کے مطابق کتاب وسنت کی اتباع اور شرک کے تمام مظاہر سے دوری اختیار کرنے کی تجدید ہے، اور ان ميں سے كسى ايك - خاص كر مشہور علماء - نے يہ نہيں كہا كہ ايك فرقہ ايسا بھى ہے جسے ‘‘وہابیت’’ كے نام سے موسوم كيا جاتا ہے، اور يہ گمراہ فرقہ تھا جو شمالى افريقہ ميں پروان چڑھا، جس كى بنا پر معاملہ ایک دوسرے سے گڈ مڈ ہوجاتا ہے، اور اسى وجہ سے جزيرہ عرب سے باہر كے بعض علماءجزيرہ عرب ميں پروان چڑھنے والی جماعت(وہابیت)كا انكار كرتے ہيں،اور یہ اعتقاد رکھتے ہیں کہ یہ (سلفی وہابیت) اسی ( اباضی وہابیت) کی شاخ ہے کیونکہ یہ نام شیخ محمد بن عبدالوہاب رحمہ اللہ کی دعوت سے جُڑا ہوا ہے۔اس لئے کیا ہی بہتر ہوتا کہ اس گمراہ فرقہ کے بارے میں کچھ تحریر کیا جاتا،اور اس گمراہ فرقے اور شيخ محمد بن عبد الوھاب رحمہ اللہ كى دعوت کے درمیان اصول واعتقاد کے اعتبار سے فرق بیان کیا جاتا، اور میرے سوال کا ایک خاص سبب ہے، ليكن ميں اسے ذكر كر كے سوال لمبا نہيں كرنا چاہتا، اميد ہے کہ مقصود واضح ہوگیا ہوگا۔اللہ تعالى سے دعا ہے كہ وہ آپ كے ذريعہ اسلام كو فائدہ دے، اور آپ كو دنیا وآخرت میں اسلام سے فائدہ حاصل ہو، اور ميرا اور آپ كا خاتمہ بالخير ہو اور انجام بہتر ہو. ۔ فتوی مذکور میں اسی کا جواب پیش ہےـ

فیڈ بیک