ہم اپنے دلوں میں نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی محبّت کیسے زیادہ کریں؟

وصف

شیخ محمد بن صالح المنجد ۔ حفظہ اللہ۔ سے پوچھا گیا كہ":ایک مسلمان اپنے اندر دنیا کی کسی بھی چیز سے زیادہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم کا پیار کیسے بڑھا سکتا ہے"؟ـ

Download
اس پیج کے ذمّے دار کو اپنا تبصرہ لکھیں

کامل بیان

    ہم اپنے دلوں میں نبیﷺ کی محبّت کیسے زیادہ کریں؟

    [ أردو - اردو - urdu ]

    فتوی: محمد بن صالح المنجدـ حفظہ اللہ ـ

    ترجمہ: شفیق الرحمن ضیاء اللہ مدنی

    2014 - 1435

    كيف نزيد محبّة النبي ﷺ في قلوبنا؟

    «باللغة الأردية»

    فتوى: محمد بن صالح المنجد-حفظه الله-

    ترجمة: شفيق الرحمن ضياء الله المدني

    2014 - 1435

    بسم اللہ الرحمن الرحیم

    ہم اپنےدلوں میں نبی ﷺ کی محبّت کیسے زیادہ کریں؟

    سوال: ایک مسلمان اپنے اندر دنیا کی کسی بھی چیز سے زیادہ نبی ﷺ کا پیار کیسے بڑھا سکتا ہے؟

    جواب:

    رسولﷺ کی محبت کی مضبوطی مسلمان شخص کے ایمان کے تابع ہوتی ہے،اگر اسکے ایمان میں زیادتی ہوتی ہے تو آپ ﷺسے اسکی محبت میں بھی اضافہ ہوتا ہے؛ کیونکہ آپ ﷺ کی محبت طاعت وقربت کا ذریعہ ہے، اور شریعت نے آپ ﷺ کی محبت کو واجبات میں سے قرار دیا ہے۔

    انس ؓ سے روایت ہے کہ آپﷺ نے فرمایا: ‘‘ تم میں سے کوئی شخص اسوقت تک (کامل) مومن نہیں ہوسکتا جب تک کہ میں اسکے نزدیک اسکے والد ،اسکی اولاد اور تمام لوگوں سے زیادہ محبوب نہ ہوجاؤں’’۔ اسے بخاری (حدیث نمبر:۱۵) اور مسلم (حدیث:۴۴) نے روایت کیا ہے۔

    اور رسولﷺ کی محبت مندرجہ ذیل امور کی معرفت سے حاصل ہوسکتی ہے :

    اوّل: آپﷺ اپنے رب کی طرف سے مبعوث کئے گئے ہیں، اس نے آپ کوچُنا ہے اور ساری دنیا پر منتخب فرمایا ہےتاکہ آپ لوگوں کو اللہ کا پیغام پہنچائیں، اور اللہ نے آپ کو آپ سے محبت کرنے اور آپ سے خوش ہونے کی وجہ سے چُنا ہے ۔ اگر اللہ تعالیٰ خوش نہ ہوتا تو آپ کو پسند کرتا اور نہ ہی منتخب فرماتا۔ اور ہمارے لئے ضروری ہے کہ جس سے اللہ نے محبت کیا ہے ہم اس سے محبت کریں اور جس سے اللہ خوش ہوا ہے ہم اس سے خوش ہوں۔ اور اس بات کو جان لیں کہ آپ اللہ کے خلیل (دوست) ہیں، اور خُلّت کا مرتبہ اونچا ہے او روہ محبت کا سب سے اعلی درجہ ہے۔

    جند ب بن عبد اللہ بجلی ؓ فرماتے ہیں کہ میں نے نبی ﷺ کو وفات سے پانچ دن پہلے یہ فرماتے ہوئے سنا کہ: ‘‘میں اللہ کے سامنے اس بات سے بیزاری ظاہر کرتا ہوں کہ تم میں سے کوئی میرا خلیل (دوست) ہے، کیونکہ اللہ تعالیٰ نے مجھے اپنا خلیل بنایا ہے جس طرح ابراہیمؑ کو اپنا خلیل بنایا تھا، اور اگر میں اپنی امّت میں سے کسی کو دوست بناتا تو ابوبکرؓ کو اپنا دوست بناتا’’۔ (صحیح مسلم حدیث:۵۳۲)۔

    دوم:ہم آپ ﷺ کے اس مقام و مرتبہ کو جانیں جس سے اللہ نے آپ کو چُنا ہے، اور یہ کہ آپ ﷺ سب سے افضل انسان ہیں۔

    ابوہریرہؓ کہتے ہیں کہ آپﷺ نے فرمایا: ‘‘ میں روز قیامت آدم کے اولاد کا سردارہوں گا اور میری ہی قبر سب سے پہلے پھٹے گی، اور میں سب سے پہلا سفارشی ہوں اور سب سے پہلے میری ہی سفارش قبول کی جائے گی’’۔ اسے مسلم (حدیث:۲۲۷۸) نے روایت کیا ہے۔

    سوم: ہم اس بات کو جان لیں کہ آپﷺ نے ہم تک دین پہنچانے کی خاطر بہت ساری آزمائشوں اور پریشانیوں کا سامنا کیا ہے اور ۔ الحمد اللہ ۔ ایسا ہی ہوا، اور ہمیں اس بات کا ضرور علم ہونا چاہئے کہ آپﷺ کو تکلیف دی گئی ، مار ا گیا، سب وشتم کا نشانہ بنایا گیا اور آپﷺ کے سب سے قریب لوگ آپ سے الگ ہوگئے ، اور آپ کو دیوانہ پن ، جھوٹ اور جادوسے متہم کیا گیا ، آپ نے دین کی حفاظت کیلئے لوگوں سے لڑائی کی تاکہ وہ ہم تک پہنچ سکے، تو ان لوگوں نے آپ سے لڑائی کی ،اور آپ کو آپ کے خاندان، مال اور گھر سے بے دخل کر دیا ،اور آپ کے خلاف لشکرجمع کیں۔

    چہارم: آپ کے صحابہ کرام رضی اللہ عنہ کا انکی آپﷺ سے گہری محبت میں اتباع کرنا، چنانچہ وہ آپ ﷺ سے مال واولاد سے زیادہ، بلکہ خود اپنی جانوں سے بڑھ کر محبت کرتے تھے، آپکے سامنے اسکے چند نمونے پیش خدمت ہیں:

    انس بن مالک رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ : ‘‘میں نے نبی ﷺ کو دیکھا ہے ،جبکہ نائی آپکے بال مونڈ رہا تھا اور آپ کے صحابہ آپ کو گھیرے ہوئے تھے، تو وہ ایک بال بھی کسی آدمی کے ہاتھ میں گرنا نہیں دینا چاہتے تھے’’۔ اسے مسلم (حدیث: ۲۳۲۵) نے روایت کیا ہے۔

    اورانس بن مالک ؓ روایت کرتے ہیں کہ جب اُحد کے دن کچھ لوگ نبی کریمﷺ کو چھوڑ کر پیچھے ہٹ گئے تو ابو طلحہؓ ہاتھ میں ڈھال سنبھالے ہوئے خود نبی کریمﷺ کے لئے ڈھال بن گئے۔ حضرت انس ؓ نے مزید بیان کیا کہ‘‘ ابو طلحہ ؓ بہت بڑے تیر انداز تھے۔ انہوں نے اس دن دو یا تین کمانیں توڑیں’’ انہوں نے مزیدکہا : ‘‘ آدمی تیروں کے تھیلے کے یا ترکش کے ساتھ وہاں سے گزرتا تو نبی ﷺ اس سے فرماتے : ‘‘ ابو طلحہ کو اپنے تیر دے دو’’۔ انہوں نے یہ بھی کہا کہ : ‘‘نبی کریمﷺ مشرکوں کا جائزہ لینے کیلئے اپنے سر مبارک کو اٹھاتے تو ابو طلحہؓ آپ سے عرض کرتے :‘‘اے اللہ کے نبی! میرے ماں باپ آپ پر قربان ہوں! سر مبارک کو نہ اٹھائیے، ایسا نہ ہو کہ مشرکوں کا کوئی تیر آپ کو لگ جائے۔ میری چھاتی آپ کی چھاتی کیلئے ڈھال ہے’’۔اسے بخاری (حدیث:۳۶۰۰) اور مسلم (حدیث: ۱۸۱۱) نے روایت کیا ہے۔

    حجفہ: زرہ کو کہتے ہیں ، اور اسے ‘‘جوبہ’’ بھی کہا جاتا ہے، اور اسکا معنی یہ ہے کہ ابوطلحہؓ کے ساتھ ایک زرہ تھا جس کے ذریعہ نبی ﷺ کا بچاؤ کرتے تھے۔

    شدید القِد: (قِد) کمان کے تانت کو کہتے ہیں، اور اسکا مطلب یہ ہے کہ وہ بہت تیر انداز تھے۔

    پنجم: آپﷺ کی قولی وعملی سنت کی اتباع کی جائے، اور ساری زندگی میں آپﷺ کی سنت کو بطور دستور ومنہج بنا کر اسکی پیروی کی جائے، اور ہر قول وحکم پر آپﷺ کے قول وحکم کو فوقیت دی جائے،پھر آپﷺ کے صحابہ وتابعین وتبع تابعین کے عقیدہ کی پیروی کی جائے، پھر آج تک انکی روشن ہدایت کی اتباع کرنے والے اہل سنت والجماعت کے عقیدہ کی پیروی کی جائے جو بدعت سے کنارہ کشی اختیار کرتے ہیں اورخاص کر روافض کی بدعت سے، کیونکہ نبی ﷺ کے صحابہ کے تئیں ان (روافض) کے دل بہت سخت ہیں ، اور وہ ان پر اپنے اماموں کو فوقیت دیتے ہیں اور صحابہ کرام ؓ سے زیادہ اپنے اماموں سے محبت کرتے ہیں۔

    ہم اللہ سے سوال کرتے ہیں کہ وہ ہمیں اپنے نبی ﷺ کی محبت عطا کرے اور انہیں ہمارے نزدیک، ہماری اولاد ، ہمارے والدین، ہمارے خاندان اور ہماری جانوں سے زیادہ محبوب بنادے۔اور اللہ تعالیٰ ہی سب سے زیادہ علم رکھتا ہے۔

    اسلام سوال وجواب

    فیڈ بیک