جب کسی جگہ کُتّے کے چاٹنے کا شک ہو

وصف

شیخ عبد الکریم الخضیر ۔ حفظہ اللہ۔ سے پوچھا گیا ": اگر كسى شخص كا گمان ہو كہ كپڑے ميں كسى جگہ کُتّے نے چاٹا ہے ليكن اسے يقين نہ ہو تو اسے كيا كرنا چاہيے، ؟کیا اس كے ليے اس كپڑے ميں نماز ادا كرنى جائز ہے ؟
ميں حقيقتا اس كا حكم معلوم كرنا چاہتا ہوں کیونکہ یہ چیز مجھے بے چین کئے رہتی ہے، اور اس لئے کہ ميرے گھر ميں کُتّاہے ، اورميں نے حال ہی میں اسلام قبول كيا ہے،اوربعض اوقات کُتّا ميرى نظروں سے اوجھل ہوجاتا ہے تو ميں نہيں جانتا كہ آيا اس نے ميرے كپڑوں كو چاٹا ہے يا نہيں ؟۔

Download
اس پیج کے ذمّے دار کو اپنا تبصرہ لکھیں

کامل بیان

    جب کسی جگہ کُتّے کے چاٹنے کا شک ہو

    إذا شكّ هل لعق الكلب موضعاً

    « باللغة الأردية »

    شیخ عبد الکریم الخضیر ۔حفظہ اللہ۔

    ترجمہ: اسلام سوال وجواب ویب سائٹ

    تنسیق: اسلام ہا ؤس ویب سائٹ

    ترجمة: موقع الإسلام سؤال وجواب
    تنسيق: موقع islamhouse

    2014 – 1436

    جب کسی جگہ کُتّے کے چاٹنے کا شک ہو

    جب کسی جگہ کُتّے کے چاٹنے کا شک ہو

    سوال :

    اگر كسى شخص كا گمان ہو كہ كپڑے ميں كسى جگہ کُتّے نے چاٹا ہے ليكن اسے يقين نہ ہو تو اسے كيا كرنا چاہيے، ؟کیا اس كے ليے اس كپڑے ميں نماز ادا كرنى جائز ہے ؟

    ميں حقيقتا اس كا حكم معلوم كرنا چاہتا ہوں کیونکہ یہ چیز مجھے بے چین کئے رہتی ہے، اور اس لئے کہ ميرے گھر ميں کُتّاہے ، اورميں نے حال ہی میں اسلام قبول كيا ہے،اوربعض اوقات کُتّا ميرى نظروں سے اوجھل ہوجاتا ہے تو ميں نہيں جانتا كہ آيا اس نے ميرے كپڑوں كو چاٹا ہے يا نہيں ؟

    الحمد للہ:

    كھيت يا جانوروں كى ركھوالى اور شكار كے علاوہ کُتّا ركھنا اورپالنا حرام ہے كيونكہ کُتّا ركھنے والے كے اجر سے ہر روز ايك قيراط كمى ہوتى ہے، اور ايك روايت ميں دو قيراط کی كمى كا ذكر ہے، اور اگر ان تين جائز ضرورتوں كى بنا پر کُتّا ركھا جائے اور وہ كسى برتن وغيرہ ميں منہ ڈال دے تو اسے پاك كرنا واجب ہے وہ اسطرح كہ سات بار دھویا جائےجن ميں ايك بار مٹى كے ساتھ دھونا شامل ہو، يہ تو اس وقت ہے جب کُتّے كے منہ ڈالنے كا يقين ہو، ليكن اگر ہميں اس ميں شك ہو تو پھر جب تك ہميں یقین نہ ہو اسے دھونا واجب نہيں، كيونكہ اصل طہارت ہے۔

    الشيخ عبد الكريم الخضير

    فیڈ بیک