شرعاً مستثنىٰ كردہ اغراض كے علاوہ کُتّے پالنے كى حرمت

وصف

شرعاً مستثنىٰ كردہ اغراض كے علاوہ کُتّے پالنے كى حرمت:
شیخ محمد بن صالح المنجد ۔ حفظہ اللہ۔ سے پوچھا گیاکہ ":گھروں ميں کُتّے پالنے کا کیا حُکم ہے؟۔

Download
اس پیج کے ذمّے دار کو اپنا تبصرہ لکھیں

کامل بیان

    شرعاً مستثنىٰ كردہ اغراض كے علاوہ کُتّے پالنے كی حُرمت

    تحريم اقتناء الكلاب إلا ما استثناه الشرع

    « باللغة الأردية »

    شیخ محمد صالح المنجد ۔حفظہ اللہ۔

    ترجمہ: اسلام سوال وجواب ویب سائٹ

    تنسیق: اسلام ہا ؤس ویب سائٹ

    ترجمة: موقع الإسلام سؤال وجواب
    تنسيق: موقع islamhouse

    2014 – 1436

    شرعاً مستثنىٰ كردہ اغراض كے علاوہ کُتّے پالنے كى حُرمت

    شرعاً مستثنىٰ كردہ اغراض كے علاوہ کُتّے پالنے كى حرمت

    سوال: گھروں ميں کُتّے پالنے کا کیا حُکم ہے؟۔

    الحمد للہ:

    اوّل:مسلمان شخص كے ليےکُتّا پالنا جائز نہيں، ليكن اگر اسے شكار يا جانوروں کی حفاظت يا کھیتی كى ركھوالى كے ليےکُتّے كى ضرورت ہو تو وہ ركھ سكتا ہے.

    امام بخارى رحمہ اللہ نے ابو ہريرہ رضى اللہ عنہ سے روایت كيا ہے كہ رسول كريم صلى اللہ عليہ وسلم نے فرمايا:

    " جس نےکُتّا ركھا اس كے اجروثواب ميں سے روزانہ ايك قيراط كمى ہو جاتى ہے، ليكن کھیتی يا جانوروں كے ليے ركھے گئے كتے كى بنا پر نہيں "

    صحيح بخارى حديث نمبر ( 2145)۔

    اور امام مسلم رحمہ اللہ نے ابو ہريرہ رضى اللہ تعالى عنہ سے ہى روایت كيا ہے كہ رسول كريم صلى اللہ عليہ وسلم نے فرمايا:

    " جس نے شكار اور جانور، اور کھیتی كے علاوہ كسى اور غرض كے ليے کُتّا پالا تو اس كے اجروثواب ميں سے روزانہ دو قيراط كمى ہو جاتى ہے "

    صحيح مسلم حديث نمبر ( 2974 )۔

    اور امام مسلم نے ہى عبد اللہ بن عمر رضى اللہ تعالى عنہما سے روایت كيا ہے كہ رسول كريم صلى اللہ عليہ وسلم نے فرمايا:

    " جس نے جانور يا شكار كے علاوہ كتا پالا تو اس كے اجر و ثواب سے يوميہ ايك قيراط اجر كم کردیا جاتاہے "

    عبد اللہ بيان كرتے ہيں كہ ابو ہريرہ رضى اللہ عنہ نے فرمايا: يا کھیتی كى ركھوالى كے لئے ركھے گئےکُتّے كے علاوہ " صحيح مسلم حديث نمبر ( 2943 )۔

    ابن عبد البر رحمہ اللہ كہتے ہيں:

    ’’اس حديث ميں شكار، اور جانور كى ركھوالى کے لئے،اسی طرح کھیت کی نگرانی کے لئے کُتّے رکھنے کا جواز ہے‘‘۔

    اور ابن ماجہ رحمہ اللہ نے على بن ابى طالب رضى اللہ عنہ سے روایت كيا ہے كہ نبى كريم صلى اللہ عليہ وسلم نے فرمايا:

    " بلا شبہ فرشتے اس گھر ميں داخل نہيں ہوتے جس گھر ميں كُتّا اور تصوير ہو "

    سنن ابن ماجہ حديث نمبر ( 3640 )،علامہ البانى رحمہ اللہ نے صحيح ابن ماجہ ميں اسے صحيح قرار ديا ہے.

    چنانچہ يہ احاديث کُتّا پالنے كى حرمت پر دلالت كرتى ہيں، مگر ان اغراض کے لئے جائز ہے جسے نبى كريم صلى اللہ عليہ وسلم نے مستثنى ٰ کردیاہے.

    ايك اور دو قيراط اجروثواب كم ہونے والى احاديث کے درمیان جمع وتطبیق ميں علماء كرام كا اختلاف ہے.

    ايك قول يہ ہے كہ: اگرکُتّا زيادہ اذيّت ناك ہو تو اس كا اجر دو قيراط يوميہ كم ہوگا، اور اگر اس كى اذيّت كم ہو تو پھر ايك قيراط يوميہ كم ہو گا.

    اور ايك قول يہ ہے كہ: نبى كريم صلى اللہ عليہ وسلم نے پہلے يہ بتايا كہ يوميہ ايك قيراط كمى ہوتى ہے، پھر اس سزا كو زيادہ كرتے ہوئے نبى كريم صلى اللہ عليہ وسلم نے دو قيراط كمى بيان كى، تا كہ کُتّا ركھنے اور پالنے سے لوگ مزید متنفّر ہوجائیں۔

    اور قيراط كى مقدار اللہ تعالىٰ كو معلوم ہے، اور مُراد يہ ہے كہ اس كے عمل كے اجر سے کچھ حصہ كم ہوجاتا ہے۔

    ديكھيں: شرح مسلم للنووى ( 10 / 342 ) اور فتح البارى ( 5 / 9( ۔

    رياض الصالحين كى شرح ميں شيخ ابن عثيمين رحمہ اللہ كہتے ہيں:

    " انسان كے ليے کُتّا رکھنا اور پالنا حرام ہے، بلكہ يہ كبيرہ گناہوں میں سے ہے، كيونكہ جو شخص مستثنىٰ كردہ مقاصد كے علاوہ كتا پالتا ہے اس كے اجر ميں سے يوميہ دو قيراط كمى ہوجاتی ہے ....

    اور اللہ تعالىٰ كى حكمت میں سے ہے كہ خبيث اشياء خبيث لوگوں كے ليے ہى ہيں، اور خبيث لوگ خبيث اشياء كے ليے ہيں،اور كہا جاتا ہے: كہ مشرق و مغرب ميں يہود و نصارىٰ اور كمیونسٹ كفّار ميں سے ہر ايك شخص نے كتا پال ركھا ہے، جسے وہ اپنے ساتھ ركھتا ہے۔ اس سے اللہ کی پناہ!، اور وہ اسے روزانہ صابن اور دوسرى صاف کرنے والی اشیاء سے دھوتا ہے! حالانكہ اگر اسے وہ سارے سمندر كے پانى اور پورى دنيا كے صابن سے بھى دھوئے تو وہ پاك نہيں ہوگا! كيونكہ اس كى نجاست عينى ہے، اور نجاست عينيہ يا تو تلف كر كے ،يا پھر مكمل طور پر زائل کرکے ہی پاك ہوتى ہے۔ ليكن يہ اللہ تعالىٰ كى حكمت میں سے ہے، اللہ كى حكمت ہے كہ يہ خبيث لوگ اس سے ہى مالوف ہوتے ہيں جو خبيث ہو، جيسا كہ يہ لوگ شيطان كى وحى سے بھی مالوف ہوتے ہيں؛ كيونكہ ان كا يہ كفر شيطان كى وحى اور اس كے حكم سےہے، اس ليے كہ شيطان فحاشى اور برائى كا حكم ديتا ہے،اوركفر و ضلالت كا حكم ديتا ہے، تو يہ كفار شيطان كے غلام اور خواہشات كے بندے ہيں، اور يہ خبيث بھی ہيں جوخبيث اشياء سے ہى مالوف ہوتے ہيں. اللہ تعالى ٰسے ہم دعا كرتے ہيں كہ وہ ہميں اور انہيں ہدايت نصيب فرمائے " انتہى.

    ديكھيں شرح رياض الصالحين ( 4 / 241 (۔

    دوم:

    كيا گھروں كى ركھوالى كے ليےکُتّا پالنا جائز ہے ؟

    جواب:

    نبى كريم صلى اللہ عليہ وسلم نے صرف تين اغراض كے ليے كتا پالنا مستثنی قرار دیا ہے، اور وہ درج ذيل ہيں:

    1۔شكار كے لئے ۔

    2۔جانوروں كى حفاظت کے لئے ۔

    ۳۔كھيتوں كى ركھوالى كے لئے ۔

    چنانچہ بعض علماء كرام كا مسلك ہے كہ ان تين اسباب كے علاوہ باقى اسباب كے ليے كتا پالنا جائز نہيں ہے.

    اور باقى علماء كرام كا كہنا ہے كہ: ان تينوں پر قياس كرتے ہوئے ان جيسےیا اس سے بہتر اسباب كے ليے بھى كتا ركھنا اور پالنا جائز ہے، كيونكہ جب جانوروں اور كھيتوں كى ركھوالى كے ليے كتا پالنا جائز ہے تو پھر گھروں كى ركھوالى كے ليے کُتّا پالنا بدرجہ اولیٰ جائز ہوگا۔

    امام نووى رحمہ اللہ مسلم كى شرح ميں كہتے ہيں:

    " كيا گھروں، اور راستوں وغيرہ كى ركھوالى كےکُتّے پالنا جائز ہيں ؟

    اس ميں دو قول ہيں:

    پہلا : احاديث كے ظاہر كى بنا پر جائز نہيں، كيونكہ احاديث ميں کھیتی يا جانوروں كى ركھوالى اور شكار كے علاوہ كسى اور غرض كے ليے كتا پالنے كى صريحا ممانعت ہے.

    اور ان دونوں میں صحیح ترین قول : تينوں پر قياس کرکے، اور احاديث سے سمجھ ميں آنے والى علّت ضرورت پر عمل كرتے ہوئے جواز کا ہے " انتہى.

    ديكھيں: شرح مسلم للنووى ( 10 / 340 (۔

    اورامام نووى رحمہ اللہ نے جو گھر كى ركھوالى كے ليےکُتّا ركھنے كے جواز كو صحيح قرار ديا ہے،اسے

    شيخ ابن عثيمين رحمہ اللہ نے بھى صحيح مسلم كى شرح ميں صحيح كہا ہے،چنانچہ ان کا کہنا ہے کہ:

    ’’صحيح يہ ہے كہ گھروں كى حفاظت كے ليے كتا ركھنا جائز ہے، اور جب كسى منفعت مثلا شكار كے ليے كتا پالنا جائز ہے، تو پھر كسى نقصان اور ضرر كو دور كرنے اور اپنى حفاظت كے ليے بدرجہ اولیٰ جائز ہوگا " انتہى.

    واللہ اعلم .

    الاسلام سوال و جواب

    فیڈ بیک