عورت (کی شرمگاہ)سے مُسَلسل نکلنے والی رُطوبت(سیّال مادّہ) سے روزہ پر کوئی اثر نہیں پڑتا

وصف

عورت (کی شرمگاہ)سے مُسَلسل نکلنے والی رُطوبت(سیّال مادّہ) سے روزہ پر کوئی اثر نہیں پڑتا: شیخ محمد بن صالح المنجد ۔ حفظہ اللہ۔ سے پوچھا گیاکہ:’’ جب شفّاف سیّال مادّہ پانی کی طرح نکلے(اور پھر خشک ہونے کے بعد سفید ہوجائے) تو کیا ہماری نماز اور روزہ صحیح ہوگی؟ اور کیا اس سے غسل واجب ہوگا؟ ازراہ کرم اس کے بارے میں مجھے بتائیں، کیونکہ یہ رطوبت( سیّال مادّہ) مجھے بہت نکلتا ہے، اور اسے میں اپنے اندرونی لباس (انڈروئر) میں پاتی ہوں، اور میں اس کی وجہ سے دن میں دو یا تین بار غسل کرتی ہوں تاکہ میری نماز اور روزہ درست ہوسکے‘‘؟۔

Download
اس پیج کے ذمّے دار کو اپنا تبصرہ لکھیں

کامل بیان

    عورت (کی شرمگاہ) سےمُسَلسل نکلنے والی رُطوبت (سیّال مادّہ ) سےروزے پر کوئی اثر نہيں پڑتا

    السائل الذي ينزل من المرأة باستمرار لا يؤثر على الصّيام

    « باللغة الأردية »

    شیخ محمد صالح المنجد ۔حفظہ اللہ۔

    ترجمہ: اسلام سوال وجواب ویب سائٹ

    تنسیق: اسلام ہا ؤس ویب سائٹ

    ترجمة: موقع الإسلام سؤال وجواب
    تنسيق: موقع islamhouse

    2014 – 1436

    عورت (کی شرمگاہ) سےمُسَلسل نکلنے والی رُطوبت (سیّال مادّہ ) سےروزے پر کوئی اثر نہيں پڑتا

    37752:عورت (کی شرمگاہ) سے مسلسل نکلنے والی رُطوبت (سیّال مادّہ ) سےروزے پر کوئی اثر نہيں پڑتا.

    سوال: جب شفّاف سیّال مادّہ پانی کی طرح نکلے(اور پھر خشک ہونے کے بعد سفید ہوجائے) تو کیا ہماری نماز اور روزہ صحیح ہوگی؟ اور کیا اس سے غسل واجب ہوگا؟ ازراہ کرم اس کے بارے میں مجھے بتائیں، کیونکہ یہ سیّال مادّہ مجھے بہت نکلتا ہے، اور اسے میں اپنے اندرونی لباس (انڈروئر) میں پاتی ہوں، اور میں اس کی وجہ سے دن میں دو یا تین بار غسل کرتی ہوں تاکہ میری نماز اور روزہ درست ہوسکے؟۔

    الحمد للہ
    یہ مادّہ عورتوں سے اکثر خارج ہوتا ہے جوکہ طاہر ہےنجس نہیں، اوراس سے غسل واجب نہيں ہوتا ،بلکہ صرف وضو ٹوٹتا ہے ۔

    شیخ ابن عثیمین رحمہ اللہ سے اس کے بارے میں سوال کیا گیا تو انہوں نے جواب دیا کہ:

    تحقیق وجستجو کے بعد اس نتیجہ پر پہنچا ہوں کہ عورت کی شرم گاہ سے بہنے والا مادہ اگر مثانہ سے نہ آرہا ہو رحم سے آرہا ہو تو وہ پاک ہے لیکن وضو ٹوٹ جاتا ہے......

    اس سیّال مادّہ کا طہارت کے اعتبار سے یہی حکم ہے، کہ یہ پاک وطاہر ہے جو کپڑے اور بدن کو ناپاک نہیں کرتا۔

    اور رہی بات وضو کی جہت سے تو یہ وضو کو توڑ دیتا ہے، لیکن اگر برابر نکلتا رہتا ہے تو اس سے وضو نہیں ٹوٹتا، لیکن عورت کے لئے ضروری ہے کہ وہ نماز کا وقت داخل ہونے کے بعد ہی نماز کے لئے وضو کرے، اسی طرح وہ تحفظ اختیار کرے ، (یعنی کوئی روئی یا کپڑا وغیرہ شرمگاہ پررکھ لے)۔

    لیکن اگر وہ وقتاً فوقتاً بہتاہو اور عام طور سے نماز کے اوقات میں بند ہوجاتاہو تو عورت کو اس کے وقت انقطاع تک نماز کو موخر کرلینا چاہیئے بشرطیکہ نماز کا وقت نکل جانے کا اندیشہ نہ ہو ۔ اگر وقت ختم ہوجانے کا اندیشہ ہوتو وہ وضو کرلے اور شرم گاہ پر کپڑا رکھ کر نماز پڑھ لے۔ اس سلسلہ میں کم یازیادہ سے کوئی فرق نہیں پڑـتا، کیونکہ سبیلین (دو نوں شرمگاہوں) میں سے ایک سے نکلنے کی وجہ سے وہ بہرصورت ناقض وضو ہے.ا ھـ

    دیکھیں کتاب : مجموع فتاوی ابن عثیمین ( 11 / 284 ) ۔

    اور(تحفّظ وخیال کرنے ) کا مطلب یہ ہے کہ اپنے شرمگاہ پر کوئی کپڑا یا روئی وغیرہ رکھ لے تاکہ یہ سیّال مادّہ کم نکلے، اور جسم و کپڑے پر منتشر نہ ہوسکے۔

    تو اس بنا پر... اس بہنے والے مادّے سے غُسل واجب نہیں ہوتا، اور نہ ہی روزے پر اثرانداز ہوتاہے، لیکن اگر یہ (سیّال مادّہ) مسلسل نکلتا ہو تو ہر نماز کے وقت کے داخل ہونے کے بعد وضو کرنا ضروری ہوگا۔

    واللہ اعلم .

    الاسلام سوال وجواب