عورت کے رحم سے خارج ہونے والی رُطوبت(secretions) کا حُکم

وصف

عورت کے رحم سے خارج ہونے والی رُطوبت(secretions) کا حُکم :شیخ محمد بن صالح المنجد ۔ حفظہ اللہ۔ سے پوچھا گیاکہ: بعض اوقات ميں محسوس كرتى ہوں كہ انڈروئير پر(transparent secretions) شفاف پانى سا لگا ہے جس كے خارج ہونے كا مجھے احساس تك نہيں ہوتا، كيا اس حالت ميں نماز ادا كرنا جائز ہے، اور اگر جائز نہيں تو كيا انڈر وئير تبديل كر كے وضو دوبارہ كرنا ہو گا ؟"

Download
اس پیج کے ذمّے دار کو اپنا تبصرہ لکھیں

کامل بیان

    عورت کے رحم سے خارج ہونے والی رُطوبت(secretions) کا حُکم

    حكم الإفرازات التي تخرُج من رحِم المرأة

    « باللغة الأردية »

    شیخ محمد صالح المنجد ۔حفظہ اللہ۔

    ترجمہ: اسلام سوال وجواب ویب سائٹ

    تنسیق: اسلام ہا ؤس ویب سائٹ

    ترجمة: موقع الإسلام سؤال وجواب
    تنسيق: موقع islamhouse

    2015 – 1436

    عورت کے رحم سے خارج ہونے والی رُطوبت(secretions) کا حُکم

    عورت کے رحم سے خارج ہونے والی رُطوبت(secretions) کا حُکم

    سوال:

    بعض اوقات ميں محسوس كرتى ہوں كہ انڈروئير پر(transparent secretions) شفاف پانى سا لگا ہے جس كے خارج ہونے كا مجھے احساس تك نہيں ہوتا، كيا اس حالت ميں نماز ادا كرنا جائز ہے، اور اگر جائز نہيں تو كيا انڈر وئير تبديل كر كے وضو دوبارہ كرنا ہو گا ؟

    الحمد للہ:

    اس خارج ہونے والی رُطوبت کے بارے میں کلام دو مسئلوں میں ہوگی:

    پہلا مسئلہ:

    كيا يہ طاہر ہے يا نجس ؟

    ابو حنيفہؒ اور امام احمدؒ اور امام شافعىؒ سے ايك روايت ـ جسے امام نووىؒ نے صحيح كہا ہے ـ يہ ہے كہ يہ طاہر ہے.

    اورشيخ ابن عثيمين رحمہ اللہ نے بھى يہى قول اختيار كيا ہے، اللہ سب پر رحم فرمائے.

    چنانچہ شيخ ابن عثيمين رحمہ اللہ (الشرح الممتع:1/457) ميں كہتے ہيں:

    " اورجب يہ ـ يعنى خارج ہونے والا مادہ (رطوبت) ـ عضو تناسل كے راستےسے ہو تو يہ پاك ہے، كيونكہ يہ كھانے پينے كے فضلات سے نہيں، لہذا يہ پيشاب نہيں ہے، اور اصل اس كا نجس نہ ہونا ہى ہے حتىٰ كہ اس كى كوئى دليل مل جائے، اور اس لئے بھى كہ اس کے لئے یہ لازم نہيں كہ جب وہ اپنى بيوى سے جماع كرے تو اپنا عضو تناسل دھوئے، اور جب کپڑوں کو لگ جائے تو کپڑا دھوئے ، اور اگر يہ (رطوبت)نجس ہوتی تو پھر اس سے يہ لازم آتا كہ منى بھى نجس ہو كيونكہ وہ اس سے لتھڑتا ہے " اھـ

    ديكھيں المجموع ( 1 / 406 ) ،المغنى لابن قدامہ ( 2 / 88 ).

    اس بناپر،اگر یہ رطوبت لگ جائے تو کپڑے دھونا یا اسے تبدیل کرناواجب نہیں ہوگا۔

    دوسرا مسئلہ:

    كيا اس مادہ اور رطوبت كے خارج ہونے سے وضوء ٹوٹ جاتاہے يا نہيں ؟

    اكثر علماء كے ہاں اس سے وضوء ٹوٹ جاتا ہے.

    اور شيخ ابن عثيمين رحمہ اللہ نے بھى يہى قول اختيار كيا ہے،حتّٰی کہ وہ فرماتے ہیں:

    " ميرى طرف اس كے علاوہ جو قول منسوب كيا جاتا ہے وہ صحيح نہيں، اور ظاہر يہ ہوتا ہے كہ ميرے اس قول سے كہ يہ طاہر ہے وہ يہ سمجھ بيٹھا ہے كہ اس سے وضوء نہيں ٹوٹتا " اھـ

    ديكھيں: مجموع فتاوى الشيخ ابن عثيمين ( 11 / 287 ).

    اور ان كا يہ بھى كہنا ہے کہ:

    ’’ بعض عورتوں كا يہ اعتقاد ركھنا كہ اس سے وضوء نہيں ٹوٹتا تو میرے علم کے مطابق سوائے ابن حزم ؒ کے قول کے علاوہ اس کی کوئی دلیل واصل نہیں ہے‘‘ا.ھـ

    ديكھيں: مجموع فتاوى الشيخ ابن عثيمين ( 11 / 285 ).

    ليكن .. اگر يہ رطوبت عورت سےمسلسل خارج ہوتى ہو تو وہ ہر نماز كے ليے نماز كا وقت داخل ہونے كے بعد وضو كرےگى، اور اس کے بعد اس رطوبت کے نکلنے سے اسے کوئی نقصان نہیں ہوگی،گرچہ نماز ہی میں کیوں نہ ہو۔

    شيخ ابن باز رحمہ اللہ كہتے ہيں:

    " اگر مذكورہ رطوبت اکثر اوقات میں مستمر رہتی ہو تو جس عورت سے بھى يہ رطوبت خارج ہو وہ استحاضہ والى عورت، اور مسلسل پيشاب كى بيمارى ميں مبتلا شخص كى طرح ہر نماز كے ليے نماز كا وقت داخل ہونے كے بعد وضو كرے، ليكن اگر يہ رطوبت بعض اوقات خارج ہوتى ہو ـ مسلسل نہيں نکلتی ـ تو اس كا حكم پيشاب کا ہے جب بھى يہ رطوبت خارج ہو گی وضوء ٹوٹ جائيگا چاہے نماز ميں ہى ہو " اھـ

    ديكھيں: مجموع فتاوى ابن باز ( ۱۰/130).

    مزيد تفصيل كے ليے آپ سوال نمبر ( 37752 ) كے جواب كا مطالعہ ضرور كريں.

    واللہ اعلم .

    الاسلام سوال و جواب