ائمّہ شیعہ اثنا عشریہ کا مقام ومَرتبہ

وصف

ائمّہ شیعہ اثنا عشریہ کا مقام ومَرتبہ: شیخ محمد بن صالح المنجد ۔ حفظہ اللہ۔ سے پوچھا گیا کہ: ائمہ شیعہ اثنا عشریہ اور خاص طور سے ان میں سے متاخرّین کا کیا مقام ومرتبہ ہے؟۔

Download
اس پیج کے ذمّے دار کو اپنا تبصرہ لکھیں

کامل بیان

    ائمّہ شیعہ اثنا عشریہ کا مقام ومَرتبہ

    مَنزلة أئمّة الشيعة الإثني عشرية

    (اُردو۔أردية-urdu)

    تالیف:محمد صالح المنجد ۔حفظہ اللہ۔

    ترجمہ: شفیق الرّحمن ضیاء اللہ مدنیؔ

    ناشر: دفترتعاو ن برائے دعوت وارشاد وتوعیۃ الجالیات،ربوہ،ریاض

    بسم اللہ الرّحمن الرحیم

    ائمّہ شیعہ اثنا عشریہ کا مقام ومَرتبہ

    101272ائمّہ شیعہ اثنا عشریہ کا مُقام ومَرتبہ

    سوال: ائمہ شیعہ اثنا عشریہ اور خاص طور سے ان میں سے متاخرّین کا کیا مقام ومرتبہ ہے؟۔

    الحمد اللہ:

    اوّل: رافضہ یا امامیہ یا اثنا عشریہ، شیعہ فرقوں میں سے ایک ہے۔

    رافضہ اسکا نام اس لئے پڑا کیونکہ اس فرقہ نے اکثرصحابہ کا انکار کیا،اور شیخین ابوبکر وعمررضی اللہ عنہ کی امامت کا انکار کیا،یا زید بن علی رضی اللہ عنہ کی امامت کا انکار کیا اور ان سے جدائی اختیار کرلی۔

    اور امامیہ اس لئے کہا گیا کیونکہ امامت کے مسئلہ کو اس نے بہت زیادہ اہتمام دیا،یہاں تک کہ اسے اصل دین بنا دیا، یا اس لئے امامیہ کہا گیا کیونکہ اس کا گمان ہے کہ نبیﷺ نے علی رضی اللہ عنہ اور ان کی اولاد کی امامت کی تنصیص فرمائی ہے۔

    اور اثنا عشریہ اس لئے کہا گیا کیونکہ اس فرقہ کے لوگ آل بیت کے بارہ آدمیوں کی امامت کے قائل ومعتقدہیں،جن میں سب سے پہلے علی رضی اللہ عنہ ہیں اور سب سے آخرمیں محمد بن عسکری امام غائب وموہوم ہیں جو ان کے اعتقاد کے مطابق تیسری صدی ہجری کی نصف میں سامراء کے غار میں داخل ہوئے،اور وہ ابھی اس کے اندر زندہ موجودہیں، اور یہ لوگ ان کے نکلنے کا انتظار کرتے ہیں۔

    اس فرقہ کے چند ایسے اصول وعقائد ہیں جو اہل اسلام کے عقیدے کے خلاف ہیں،اور وہ درج ذیل ہیں:

    ۱۔ائمہ کی شان میں حد سے زیادہ غلو کرنا: یہ ائمہ کے عصمت کے قائل ہیں،اور ان کے لئے عبادات کی قسموں جیسے دعاء،استغاثہ، ذبح اور طواف وغیرہ کو پھیرنا جائز سمجھتے ہیں، اور یہ سب شرک اکبر میں سے ہےجس کے بارے میں اللہ نے عدم مغفرت کی خبردی ہے۔اور اس شرک کا ان کے علماء اور عوام بغیر کسی نکیر کے ارتکاب کرتے ہیں۔

    ۲۔قرآن میں تحریف کمی وزیادتی کے قائل ہیں: اور اس سلسلے میں ان کی بہت ساری تالیفات ہیں جسے ان کے علماء اور ان کے بہت سارے عوام جانتے ہیں،یہاں تک کہ انہوں نے تحریفِ قرآن کے قول کو اپنے مذہب کی ضروریات میں سے بنادیا ۔ (اس سلسلے میں مزید جانکاری کے لئے سوال نمبر(21500) کے جواب کی طرف رجوع فرمائیں۔

    ۳۔اکثر صحابہ کا انکار اور ان سے براءت کا اظہار کرنا: اور ان کی طعن وتشنیع اور لعن وطعن کے ذریعہ اللہ کی قربت حاصل کرنا، اور ان کا یہ دعویٰ ہے کہ نبیﷺ کی وفات کے بعد سات صحابہ کو چھوڑکر باقی سب مرتدہوگئے تھے، اور اس سے قرآن کی تکذیب لازم آتی ہے جس نے صحابہ کی فضیلت کو ظاہر کیا ہے، اور یہ خبر دی ہے کہ اللہ ان سے راضی ہے،اور انہیں اپنے نبی ﷺ کی صحبت کے لئے انتخاب فرمایا ہے،اسی طرح اس قول سے قرآن کریم میں خود طعن کرنا لازم آئے گا ،کیونکہ قرآن صحابہ کرام کے ذریعہ ہی منقول ہوا ہے، پس جب وہ کافر ہو گئے، تو ان کی طرف سے اس میں تبدیلی اور تحریف سے مامون نہیں رہا جاسکتا،اور یہی رافضہ کا اعتقاد ہے جیسا کہ گزرچکا۔
    شیخ الاسلام ابن تیمیہ رحمۃ اللہ علیہ فرماتے ہیں: ’’اور رہی بات اس شخص کی جواس سے تجاوز کرگیا، یہاں تک کہ یہ گمان کر بیٹھا کہ سوائے چند لوگوں کو چھوڑ کرباقی صحابہ مرتد ہوگئے جن کی تعداد ۱۳ تک نہیں پہنچتی، یا عام صحابہ فاسق ہوگئے، تو اس کےبھی کفر میں کوئی شک نہیں، کیونکہ اس نے قرآن کی تکذیب فرمائی جس نے بہت ساری جگہوں پر رب کی طرف سے ان صحابہ کی مدح وسرائی کرنےاور ان سے راضی ہونے کی تنصیص فرمائی ہے،بلکہ جو شخص ایسے لوگوں کی کفر کے بارے میں شک کرے گا وہ بھی کافر ہوجائے گا،کیونکہ اس مقالہ کا مضمون یہ ہے کہ(معاذ اللہ) کتاب وسنت کے ناقلین کفار یا فسّاق ہیں، اور یہ آیت جو (كُنتُمْ خَيْرَ‌ أُمَّةٍ أُخْرِ‌جَتْ لِلنَّاسِ)’’تم بہترین امّت ہو جو لوگوں کے لئے پیدا کی گئی ہو‘‘[آل عمرانـ۱۱۰] ہے تو اس کا خیر وہ پہلی صدی ہے،جوعام طور سے کفّار وفسّاق تھے، اور اس کا مضمون یہ ہوا کہ یہ امّت سب سے بدترین امّت ہے،اور اس امّت کے سابقہ لوگ اس کے بدترین لوگ تھے، اور اس بات کا کفر ہونا دین اسلام میں بدیہی طور پر معلوم ہے‘‘۔ ا.ھ دیکھیں(الصارم المسلول علی شاتم الرسول:ص۵۹۰)
    ۴۔ اللہ کی طرف بداءت کی نسبت کرنا: اس کا مطلب کسی ایسی نئی رائے کاپیدا ہونا جو پہلے سے نہیں تھی، اور اس میں اللہ کی طرف جہالت کی نسبت کرنا ہے۔

    ۵۔تقیّہ کے طور پر بات کہنا: تقیّہ سے مراد انسان کا باطن کے خلاف کسی چیز کا اظہار کرنا،اوراس کی حقیقت کذب ونفاق اور لوگوں کو دھوکہ دینے میں مہارت رکھنا ہے، اور ان کے نزدیک تقیّہ صرف خوف کی حالت تک محددود نہیں ہے، بلکہ یہ لوگ چھوٹے،بڑے،امن اور خوف ہرحالت میں تقیّہ کو بطور دین استعمال کرنا درست سمجھتے ہیں ۔اور ان کے اماموں میں سے کسی امام کی طرف سے کوئی حق بات آجائے، جیسے نبیﷺ کے صحابہ کرام کی مدح سرائی،یا اہل سنّت کی موافقت،گرچے طہارت ،اورکھانےوپینے کے مسائل میں ہی کیوں نہ ہو تو شیعہ اسکا فورا انکار کردیتے ہیں، اور کہتے ہیں کہ: اسے امام نے بطور تقیّہ کہا ہے۔

    ۴۔رجعت کا اعتقاد رکھنا: شیعہ یہ اعتقاد رکھتے ہیں کہ نبیﷺ ،اور آل بیت نبی: علی،حسن، حسین اور بقیہ ائمہ عنقریب واپس ہوں گے،اور ان کے بالمقابل ابوبکر، عمر، عثمان،معاویہ، یزید،ابن ذی الجوشن، اور ان کے مطابق ہرآل بیت کو تکلیف دینے والا شخص واپس آئےگا۔یہ سارے لوگ ان کے پاس دوبارہ قرب قیامت مہدی کے ظہور کے وقت تشریف لائیں گے جیسا کہ اللہ کے دشمن ابن سبا نے ان کے لئے مقرر کیا ہے۔ وہ اس لئے واپس آئیں گے تاکہ انہوں نے آل بیت کو جو تکلیف دی ہے، اور ان پر اعتدا کی ہے، اور ان کے حقوق کو روکا ہے، اس کی سخت سزا پاسکیں، اور پھر بھوکے مرجائیں، اور دوبارہ قیامت کے دن آخری بدلہ پانے کے لئے زندہ ہوں گے۔
    او ر ان کے علاوہ دیگر فاسد عقیدے ہیں، جن کی مکمل تفصیل اور ان کے بطلان کی وضاحت کو درج ذیل کتابوں کے ذریعہ جانا جاسکتا ہے:

    الخطوط العريضة لمحب الدين الخطيب، یا أصول مذهب الشيعة الإمامية للدكتور ناصر القفاري، یا فرق معاصرة تنتسب إلى الإسلام،للدكتور غالب بن علي عواجى 1/127-269، یا الموسوعة الميسرة في الأديان والمذاهب والأحزاب المعاصرة 1/51-57.

    اسی طرح سوال نمبر (1148) کے جواب کو بھی دیکھا جاسکتا ہے۔

    اور افتاء کی دائمی کمیٹی کے علمائے کرام سے پوچھا گیا کہ: ’’کیا شیعہ امامیہ کا طریقہ اسلامی ہے؟ اور اس کا موجد کون ہے؟ اس لئے کہ شیعہ اپنے مذہب کو سیدنا علی کرم اللہ وجہہ کی طرف منسوب کرتے ہیں؟۔ تو ان کا جواب یوں تھا:

    جواب:اسلام میں شیعہ امامیہ کا مذہب اصول وفروع دونوں اعتبار سے بدعت پر مبنی ہے، اور ہم آپ کو کتاب(الخطوط العريضة)،وكتاب(مختصرالتحفة الإثني عشرية)،وكتاب(منهاج السنّة النبوية)کی طرف رجوع کرنے کی وصیّت کرتے ہیں کیونکہ ان کتابوں کے اندر ان کی بدعت کے بارے میں بہت زیادہ معلومات موجود ہیں۔

    عبد العزیز بن عبد اللہ بن باز عبد الرزّاق عفیفی عبد اللہ بن غدیّان ا.ھ (فتاوی اللجنۃ الدائمۃ:۲؍۳۷۷)

    دوم: سابقہ بیان سے اس مذہب کا بطلان واضح ہوگیا، اور یہ کہ اہل سنت والجماعت کے عقیدہ کے خلاف ہے،اور ان میں سے کسی کے بھی اعتقاد کو قبول نہیں کیا جائے گا ،چاہے علماء ہوں یا عوام۔

    اور رہی بات ان ائمہ کی جن کی طرف یہ اپنے آپ کو منسوب کرتے ہیں تو وہ اس افترا اور باطل سے بری وپاک ہیں، اور ان ائمہ کے نام درج ذیل ہیں:

    ۱۔علی بن ابی طالب رضی اللہ عنہ ،سن ۴۰ ھ میں شہید ہوئے۔

    ۲۔حسن بن علی رضی اللہ عنہ (۳۔۵۰ھ)۔

    ۳۔حسین بن علی رضی اللہ عنہ(۴۔۶۱ھ)۔

    ۴۔علی زین العابدین بن حسین (۳۸۔۹۵ھ) اور شیعہ انہیں سجّاد کا لقب دیتے ہیں۔

    ۵۔محمد بن علی زین العابدین (۵۷۔۱۱۴ھ) اور شیعہ انہیں باقر کا لقب دیتے ہیں۔

    ۶۔جعفر بن محمد باقر(۸۳۔۱۴۸ھ)اورشیعہ انہیں صادق کا لقب دیتے ہیں۔

    ۷۔موسی ٰ بن جعفر صادق(۱۲۸۔۱۸۳ھ)اور شیعہ انہیں کاظم کا لقب دیتے ہیں۔

    ۸۔علی بن موسیٰ کاظم(۱۴۸۔۲۰۳ھ)اورشیعہ انہیں رضا کا لقب دیتے ہیں۔

    ۹۔محمّد جواد بن علی رضا(۱۹۵۔۲۲۰ھ) اور شیعہ انہیں تقی کا لقب دیتے ہیں۔

    ۱۰۔علی ہادی بن محمد جواد(۲۱۲۔۲۵۴ھ) اور شیعہ انہیں نقی کا لقب دیتے ہیں۔

    ۱۱۔حسن عسکری بن علی ہادی (۲۳۲۔۲۶۰ھ) اور شیعہ انہیں زکی کا لقب دیتے ہیں۔

    ۱۲۔محمد مہدی بن حسن عسکری،اور ان کا لقب الحجّۃ القائم المنتظر ہے۔ اور شیعوں کا گمان ہے کہ وہ سامراء کے غار میں موجود ہیں، اور اکثر محققین کہتے ہیں کہ ان کا سرے سے وجود ہی نہیں ہے، بلکہ یہ شیعہ کی ایجادات ہے۔دیکھیں: (الموسوعۃ المیسّرۃ:۱؍۵۱)

    ابن کثیر رحمۃ اللہ علیہ فرماتے ہیں:’’رہی بات جو یہ(شیعہ) سامرا کے غار کا اعتقاد رکھتے ہیں تو یہ دماغوں کی خبطی پن ہے، اور نفوس کی بکواس ہے، اس کی کوئی حقیقت ہے نہ کوئی وجود اور نہ کوئی اثر‘‘۔(البدایۃ والنہایۃ:۱؍۱۷۷)

    اور امام ابن تیمیہ رحمہ اللہ نے ائمہ اثنا عشریہ کو چار قسم میں تقسیم کیا ہے:

    پہلی قسم: علی بن ابی طالب،حسن،حسین رضی اللہ عنہم کی ہے ،یہ بزرگ صحابہ ہیں، جن کی فضیلت وامامت میں کوئی شک نہیں کیا جاسکتا،لیکن صحابہ کی فضیلت میں بہت ساری مخلوق شریک ہیں،اور صحابہ میں ان لوگوں سے بعض افضل ہیں جیسا کہ نبی ﷺ سے صحیح دلیلوں کے ذریعہ ثابت ہے۔

    دوسری قسم: علی بن حسین،محمد بن علی باقر،جعفر بن محمد صادق،موسیٰ بن جعفر کی ہے، اور یہ معتمد وثقہ علماء ہیں،(منہاج السنۃ:۲؍۲۴۳۔۲۴۴)

    تیسری قسم: علی بن موسیٰ رضا، محمد بن علی بن موسی جوّاد،علی بن محمدبن علی عسکری،حسن بن علی بن محمد عسکری کی ہے۔ان کے بارے میں شیخ الاسلام ابن تیمیہؒ فرماتے ہیں کہ:

    ’’ان لوگوں سے کوئی ایسا علم نہیں ظاہر ہوا جس سے امت استفادہ حاصل کرتی، اور نہ ہی ان کی کوئی قوت وطاقت تھی جس سے امت مدد طلب کرتی،بلکہ یہ اپنے ہم مثل ہاشمیوں کی طرح تھے جن کی حرمت وتقدس اورمرتبہ ثابت ہے،اور ان میں سے بعض اسلام اوردین کی ضروری چیزوں کی معرفت اپنے ہی جیسے لوگوں کی طرح رکھتے تھے، اور اس کی جانکاری مسلم عوام کی اکثریت بھی رکھتی ہے۔اور رہی وہ بات جس سے اہل علم مختص ہیں،توانہیں اس کی جانکاری نہں تھی، اسی لئے اہل علم نے ان لوگوں سے نہیں لیا جیسا کہ پہلے تینوں(علی بن ابی طالب،حسن،حسین رضی اللہ عنہم ) سے لیا،اور اگر ان سے کوئی فائدہ مند چیز پاتے تو ضرور حاصل کرتے، لیکن طالب علم اپنی مقصود کو بخوبی جانتا ہے‘‘(منہا ج السنّۃ:۶؍۳۸۷)۔

    چوتھی قسم: محمد بن حسن عسکری منتظر کی ہے، اور اس کا کوئی وجود نہیں ہے جیسا کہ گزرچکا،واللہ اعلم۔

    اسلام سوال وجواب