رافضہ (شیعہ)کے نزدیک تحریفِ قُرآن

وصف

رافضہ (شیعہ)کے نزدیک تحریفِ قُرآن: شیخ محمد بن صالح المنجد ۔ حفظہ اللہ۔ سے پوچھا گیا کہ: میں نے اپنے ایک شیعہ ساتھی سے سنا ہے کہ ان کے ہاں ایک ایسی سورت ہے جوہمارے مصحف میں نہیں پائی جاتی، تو کیا یہ صحیح ہے؟ اور اس سورت کو ’’سورۃ الولایۃ ‘‘ کا نام دیا جاتا ہے۔

Download
اس پیج کے ذمّے دار کو اپنا تبصرہ لکھیں

کامل بیان

    رافضہ(شیعہ) کے نزدیک تحریفِ قُرآن

    تحريف القرآن عند الرّافضة

    (اُردو۔أردية-urdu)

    تالیف:محمد صالح المنجد ۔حفظہ اللہ۔

    ترجمہ: شفیق الرّحمن ضیاء اللہ مدنیؔ

    ناشر: دفترتعاو ن برائے دعوت وارشاد وتوعیۃ الجالیات،ربوہ،ریاض

    بسم اللہ الرّحمن الرّحیم

    رافضہ(شیعہ) کے نزدیک تحریفِ قُرآن

    :21500 رافضہ (شیعہ)کے نزدیک تحریفِ قُرآن

    سوال:میں نے اپنے ایک شیعہ ساتھی سے سنا ہے کہ ان کےہاں ایک ایسی سورت ہے جوہمارے مصحف میں نہیں پائی جاتی ، تو کیا یہ صحیح ہے ؟ اور اس سورت کو ’’سورۃ الولایۃ ‘‘ کا نام دیا جاتا ہے ۔ الحمدلله: سورۃ الولایۃ کے وجود کا بعض شیعہ علماء اور ان کے ائمّہ اقرار کرتے ہیں ,اور ان میں سے جن لوگوں نے اسکا انکار کیا ہےتو اسے تقیّہ کے طورپر کیا ہے۔اوراس سورت کے وجود کی صراحت کرنے والوں میں میرزا حسین محمد تقی نوری الطبرسی(ت1320ھ) شامل ہے ,اس نے ایک ایسی کتا ب تالیف کی ہے جس میں اس کا گمان ہے کہ قرآن کریم میں تحریف کی گئی ہے اور صحابہ کرام نے اس میں سے بعض اشیا ء چھپا لیں ہیں جن میں سورۃ الولایۃ بھی شامل ہے۔ اوررافضیوں نے طبرسی کی وفات کے بعد اسے نجف میں دفنا کر عزّت وتکریم کی۔

    اورجب طبرسی کی یہ کتاب ( 1298 ھ ) میں ایران کے اندر طبع ہوئی تواس کی طباعت کے وقت اس کے متعلق کا فی ہنگامہ کھڑا ہوگیا ، کیونکہ رافضی چاہتے تھے کہ قرآن کریم کی صحت کے متعلق یہ شکوک وشبہات صرف ان کے خاص لوگوں اور ان کی سینکڑوںمعتبر کتب تک ہی محدود رہیں ، اور یہ سب کچھ ایک ہی کتاب میں جمع نہ کیا جائے۔

    طبرسی اپنی کتاب کے شروع میں لکھتا ہے کہ:

    یہ ایک شریف سِفر اور بہترین کتاب ہے جس کا نام " فصل الخطاب في إثبات تحريف كتاب رب الأرباب"( رب الارباب کی کتاب میں تحریف کے اثبات پر فیصلہ کن خطاب )ہے۔

    اس کے اندر اس نے ان آیات اورسورتوں کا ذکر کیا ہے جن کے بارے میں اس کا گمان ہے کہ صحابہ کرام نے انہیں حذف کردیا تھا اور چھپا دیا تھا ،اور انہیں میں سے’’سورۃ الولایۃ‘‘ہے ،اور اس کا نص ان کے نزدیک جیسا کہ کتاب میں ہے یوں ہے:

    ( يا أيها الذين آمنوا آمنوا بالنبي والولي الذين بعثناهما يهديانكم إلى الصراط المستقيم نبي وولي بعضهما من بعض وأنا العليم الخبير ).

    ’’اے ایمان والو اس نبی اور ولی پر ایمان لاؤجنہیں ہم نے مبعوث کیا ہے وہ تمہیں صراط مستقیم کی راہنمائ کرتے ہیں وہ نبی اور ولی ایک دوسرے میں سے ہیں اور میں جاننے والا اور خبردارہوں‘‘ ۔

    اور اسی طرح ان کے ہاں ایک اور بھی سورت ہے جسے وہ "النورین " کا نام دیتے ہیں وہ کچھ اس طرح ہے :

    (يأيها الذين آمَنوا آمِنوا بالنورين أنزلناهما يتلوان عليكم آياتي ويحذرانكم عذاب يوم عظيم . بعضهما من بعض وأنا السميع العليم . إن الذين يوفون بعهد الله ورسوله في آيات لهم جنات النعيم . والذين كفروا من بعد ما آمنوا بنقضهم ميثاقهم وما عاهدهم الرسول عليه يقذفون في الجحيم . ظلموا أنفسهم وعصوا وصية الرسول أولئك يسقون من حميم).

    ’’اے ایمان والو ! ان دونوروں پر ایمان لاؤ جنہیں ہم نے نازل فرمایا ہے وہ تم پر میری آیات تلاوت کرتے اور تمہیں بڑے دن کے عذاب سے ڈارتے ہیں وہ دونوں ایک دوسرے میں سے ہیں اورمیں سننے والا جاننے والا ہوں ، بیشک جو لوگ اللہ تعالیٰ اور اس کے رسول کی آیات میں کئےگئے عہد کو پورا کرتے ہیں ان کے لئے نعمتوں والی جنتیں ہیں ، اور جو لوگ ایمان لانے کے بعد اپنے عہدوپیمان کو توڑ کر اور رسول صلی اللہ علیہ وسلم نے جو ان سے پیمان لیا تھا اسے توڑ کر کفر کا ارتکاب کئے وہ جہنم میں ڈالے جائیں گے ، انہوں نے اپنے آپ پر ظلم کیا اور رسول صلی اللہ علیہ وسلم کی وصیت کی نافرمانی کی، یہی لوگ ہیں جنہیں کھولتا ہوا پانی پلایا جا ئے گا‘‘...

    اس طرح کی دیگربےہودہ باتیں ہیں۔

    اورآپ پوری سورت کا فارسی مصحف کی برقی تصویر کے ساتھ درج ذیل ویب سائٹ پر مشاہدہ کرسکتے ہیں:

    http://arabic.islamicweb.com/shia/nurain.htm

    اور استاد محمد علی سعودی۔ جومصر کی وزارت عدل میں اچھے خبیر رہے ہیں ۔ ایک ایرانی مصحف کے مخطوطہ سے واقف ہوئے جو کہ’’براین‘‘مستشرق کے پاس تھا،چنانچہ انہوں نےاس سورت کو ٹیلی گراف کے ذریعہ نقل کیا،اور اس کی عربی سطورپرایرانی زبان میں ترجمہ کیا گیا تھا۔

    اور جس طرح طبرسی نے اپنی کتا ب " فصل الخطاب فی اثبات تحریف کتاب رب الأرباب " میں اس بات کو ثابت کیا ہے اسی طرح ان کی کتاب ’’دبستان مذاہب‘‘۔جو کہ فارسی زبان میں محسن فانی کشمیری کی تالیف کردہ ہےاور ایران میں کئ بارطبع ہو چکی ہے ۔میں بھی یہ بات موجود ہے، اور اللہ پر مکذوب اس سورت کو مستشرق نولڈکے (Noeldeke) نے اپنی کتاب " تاریخ مصاحف " ( 2/12 ) میں محسن فانی کشمیری سے ہی نقل کیا ہےجسے فرانسیسی ایشیائی اخبار نے ۱۸۴۲عیسوی میں (ص۴۳۱۔۴۳۹) پر نشر کیا تھا۔

    اور اسی طرح مرزا حبیب اللہ ھاشمی الخوئ نے اپنی کتاب (منھاج البراعۃ فی شرح منھاج البلاغۃ : 2/ 217 ) میں، اور محمد باقر المجلسی نے اپنی کتاب (تذکرۃ الائمۃ : ص 19 - 20 ) میں نقل کیا ہے جوفارسی زبان میں ہے اور جسے ایران میں مولانا طباعت خانہ نے شائع کیا ہے۔

    دیکھیں :محب الدین الخطیب کی کتاب ( الخطوط العریضۃ للأسس التی قام علیھا دین الشیعۃ )۔

    اور ان کے اس گمان واعتقاد سے اللہ تعالیٰ کےدرج ذیل قول کی تکذیب لازم آتی ہے:

    ﴿إِنَّا نَحْنُ نَزَّلْنَا الذِّكْرَ‌ وَإِنَّا لَهُ لَحَافِظُونَ ﴾ [ الحجر : 9]

    ’’ ہم نے ہی اس قرآن کو نازل فرمایا ہے اور ہم ہی اس کے محا فظ ہیں ‘‘[ الحجر : 9]

    اور اسی لئے امّت مسلمہ کا اس بات پر اجماع ہے کہ جو بھی قرآن کریم میں تحریف وتبدیل کا گمان رکھے وہ کافر اور دائرہ اسلام سے خارج ہے ۔

    شیخ الاسلام ابن تیمیہ رحمۃ اللہ علیہ فرماتے ہیں :

    ’’اور اسی طرح ان میں سے جو کوئی یہ گمان رکھے کہ قرآن کریم میں سے چند آیتیں ناقص ہیں اورانہیں چھپادیا گیا ہے،یایہ گمان رکھے کہ ان کی باطن تاویلیں ہیں جو مشروع اعمال کو ساقط کردیتی ہیں وغیرہ ، یہ قرامطی اور باطنی ہیں اور ان میں سے بعض تناسخی ہیں، اور ان لوگوں کے کفر کےبارے میں کوئی اختلاف نہیں ہے‘‘۔

    دیکھیں:(الصارم المسلول علی شاتم الرسول : 3 / 1108 -1110 ) ۔

    اور ابن حزم رحمۃ اللہ علیہ کہتے ہیں کہ:

    ’’یہ کہنا کہ دوتختیوں کے درمیان ( یعنی قرآن ) میں تبدیلی واقع ہوئی ہے ، صریح کفر اور نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی تکذیب ہے‘‘۔ دیکھیں: (الفصل فی الاھواء والملل والنحل : 4 /139 ) ۔

    واللہ تعالی اعلم .

    الاسلام سوال وجواب

    فیڈ بیک