بُہرہ اور رافضہ کے درمیان کیا فرق ہے ،اور کیا ان کے پیروکار وں کو کافر کہا جائے گا؟

وصف

شیخ محمد بن صالح المنجد ۔ حفظہ اللہ۔ سے پوچھا گیا: برائے کرم مجھے ’’بُہرہ شیعہ‘‘ اور ’’رافضہ شیعہ‘‘ کے درمیان دینی اختلاف کی حقیقت سے خبردار کریں،اور کیا یہ لوگ ’’شیعہ اثنا عشریہ‘‘ سے بدتر ہیں؟اور چونکہ یہ لوگ یا علی مدد! اوریاحسین ! کہتے ہیں، اور بعض بہرہ اپنے اماموں کا سجدہ بھی کرتے ہیں: تو کیا یہ شرک اکبر کے مرتکب ہیں؟ اور ان کی تکفیر کا کیا حکم ہوگا؟ اور کیا ہم یہ کہیں کہ یہ سب کافرہیں یا کہیں کہ یہ عمومی طور پر کافر نہیں ہیں،بلکہ گمراہ ہیں، اور ان کے عقائد کفرپر مشتمل ہیں، اور بہری معین کی تکفیر کے لئے ان کے خلاف ٹھوس دلیل کی ضرورت ہے،اور یہ صرف کبار علماء کے لئے ہی ممکن ہے؟

Download
اس پیج کے ذمّے دار کو اپنا تبصرہ لکھیں

کامل بیان

    بُہرہ اور رافضہ کے درمیان کیا فرق ہے ،اور کیا ان کے پیروکار وں کو کافر کہا جائے گا؟

    الفرق بين " البُهرة " و " الرافضة " ، وهل يُكفّر أتباع الطائفتين ؟

    (اُردو۔أردية-urdu)

    تالیف:محمد صالح المنجد ۔حفظہ اللہ۔

    ترجمہ: شفیق الرّحمن ضیاء اللہ مدنیؔ

    ناشر: دفترتعاو ن برائے دعوت وارشاد وتوعیۃ الجالیات،ربوہ،ریاض

    بُہرہ اور رافضہ کے درمیان کیا فرق ہے ،اور کیا ان کے پیروکار وں کو کافر کہا جائے گا؟

    113676 :بُہرہ اور رافضہ کے درمیان کیا فرق ہے ،اور کیا ان کے پیروکار وں کو کافر کہا جائے گا؟

    سوال: برائے کرم مجھے ’’بُہرہ شیعہ‘‘ اور ’’رافضہ شیعہ‘‘ کے درمیان دینی اختلاف کی حقیقت سے خبردار کریں،اور کیا یہ لوگ ’’شیعہ اثنا عشریہ‘‘ سے بدتر ہیں؟اور چونکہ یہ لوگ یا علی مدد! اوریاحسین ! کہتے ہیں، اور بعض بہرہ اپنے اماموں کا سجدہ بھی کرتے ہیں: تو کیا یہ شرک اکبر کے مرتکب ہیں؟ اور ان کی تکفیر کا کیا حکم ہوگا؟اور کیا ہم یہ کہیں کہ یہ سب کافرہیں یا کہیں کہ یہ عمومی طور پر کافر نہیں ہیں،بلکہ گمراہ ہیں، اور ان کے عقائد کفرپر مشتمل ہیں، اور بہری معین کی تکفیر کے لئے ان کے خلاف ٹھوس دلیل کی ضرورت ہے،اور یہ صرف کبار علماء کے لئے ہی ممکن ہے؟

    الحمد للہ:

    اوّل: رافضہ شیعہ اور بہر ہ شیعہ دونوں گمراہ فرقے میں سے ہیں جواللہ کے دین سے منحرف ہیں ۔اگریہ اصلی طور پر ان کے اندرداخل ہیں۔

    اور علمائے فِرق ’’بہرہ‘‘ کو اسماعیلہ باطنیہ میں سے شمار کرتے ہیں، اوریہ ’’شیعہ‘‘ کے فرقوں میں سے تھے ،مگر انہوں نے ائمہ کے بارے میں حدسے زیادہ غلو کیا ،یہاں تک کہ رافضہ نے انہیں کافر قراردے دیا!

    اور رافضہ امامیہ اور اسماعیلیہ کے درمیان ائمہ معصومین کی ترتیب میں جعفرصادق کے بعد کافی نزاع واختلاف پیدا ہوا،چنانچہ رافضہ امامیہ اثناعشریہ کے یہاں (ائمہ معصومین کی )ترتیب :جعفرصادق، پھران کے بیٹے موسیٰ کاظم ہیں،جبکہ اسماعیلیہ کے ہاں ان کی ترتیب: جعفرصادق،پھر ان کے بیٹے اسماعیل، پھر محمد بن اسماعیل ہیں۔

    دوم: رافضہ امامیہ اثناعشریہ کے عقائد زندقہ ،الحاداور وثنیت پر مشتمل ہیں،اور ان کے مشہوراعتقادات درج ذیل ہیں:

    ۱۔اس بات کا اعتقاد رکھنا کہ قرآن تحریف شدہ ہے۔

    ۲۔چند صحابہ کرام رضی اللہ عنہم کو چھوڑکر بقیہ کو کافر سمجھنا۔

    ۳۔ائمہ کے بارے میں یہ اعتقاد رکھنا کہ وہ غلطی وبھول سے معصوم ہیں، چہ جائیکہ ان سے معصیت وبرائی کا صدور ہو،اور یہ اعتقاد رکھنا کہ وہ مطلق غیب کا علم رکھتے تھے۔

    ۴۔قبروں اور مزاروں کی تعظیم کرنا ۔

    ابن کثیررحمہ اللہ، اللہ کے قول: (مُحَمَّدٌ رَسُولُ اللَّهِ وَالَّذِينَ مَعَهُ أَشِدَّاءُ عَلَى الْكُفَّارِ رُحَمَاءُ بَيْنَهُمْ تَرَاهُمْ رُكَّعًا سُجَّدًا يَبْتَغُونَ فَضْلًا مِنَ اللَّهِ وَرِضْوَانًا سِيمَاهُمْ فِي وُجُوهِهِمْ مِنْ أَثَرِ السُّجُودِ ذَلِكَ مَثَلُهُمْ فِي التَّوْرَاةِ وَمَثَلُهُمْ فِي الْإِنْجِيلِ كَزَرْعٍ أَخْرَجَ شَطْأَهُ فَآَزَرَهُ فَاسْتَغْلَظَ فَاسْتَوَى عَلَى سُوقِهِ يُعْجِبُ الزُّرَّاعَ لِيَغِيظَ بِهِمُ الْكُفَّارَ وَعَدَ اللَّهُ الَّذِينَ آَمَنُوا وَعَمِلُوا الصَّالِحَاتِ مِنْهُمْ مَغْفِرَةً وَأَجْرًا عَظِيماً ) [الفتح: 29 [ ’’ محمد (صلی اللہ علیہ وسلم) اللہ کے رسول ہیں اور جو لوگ ان کے ساتھ کافروں پر سخت ہیں آپس میں رحمدل ہیں، تو انہیں دیکھے گا کہ رکوع اور سجدے کر رہے ہیں اللہ تعالیٰ کے فضل اور رضامندی کی جستجو میں ہیں، ان کا نشان ان کے چہروں پر سجدوں کے اثر سے ہے، ان کی یہی مثال تورات میں ہے اور ان کی مثال انجیل میں ہے، مثل اسی کھیتی کے جس نے اپنا انکھوا نکالا پھر اسے مضبوط کیا اور وه موٹا ہوگیا پھر اپنے تنے پر سیدھا کھڑا ہوگیا اور کسانوں کو خوش کرنے لگا تاکہ ان کی وجہ سے کافروں کو چڑائے، ان ایمان والوں اور نیک اعمال والوں سے اللہ نے بخشش کا اور بہت بڑے اجرکا وعده کیا ہے ‘‘

    کی تفسیر میں فرماتے ہیں کہ: ’’اس آیت سے امام مالک رحمۃ اللہ علیہ نے۔ ایک روایت کے مطابق۔ صحابہ رضی اللہ عنھم سے بغض رکھنے والے روافض (شیعہ) کی تکفیر کا استنباط کیا ہے کیونکہ یہ صحابہ کرام کوغیظ دلاتے ہیں اور جو صحابہ کو غیظ وغصّہ دلائے تو وہ اس آیت کی رو سے کافر ہے۔ اورعلماء کی ایک جماعت۔اللہ ان سے راضی ہو۔نے اس پر امام مالک کی موافقت کی ہے،اور صحابہ کے فضائل اور ان کی برائی نہ کرنے کے سلسلے میں بہت زیادہ حدیثیں ہیں۔اور ان کے لئے صرف اللہ عزوجل کی تعریف اور ان سے خوش ہونا ہی کافی ہے۔(تفسیر ابن کثیر:۷؍۳۶۲)۔

    امام قرطبی رحمۃ اللہ علیہ فرماتے ہیں :

    ’’امام مالک رحمہ اللہ نے اچھی بات کی ہے،اور اس کی تاویل کرنے میں درستگی کوپہچنے ہیں،پس جس نے کسی ایک صحابی کی شان گھٹائی یا ان کی روایت میں کوئی طعن کیا تو اس نے اللہ رب العالمین کو ٹھکرادیا اور مسلمانوں کی تمام شریعتوں کو باطل ٹہرادیا ‘‘۔(تفسیر القرطبی:۱۶؍۲۹۷)۔

    اورابن حزم رحمہ اللہ نے نصاریٰ پر رد کرتے ہوئے فرمایا:

    ’’اور جہاں تک روافض کی طرف سے قراءت کی تبدیلی کے دعویٰ سے متعلق ان (نصاریٰ) کا قول ہے:تو (واضح رہے کہ)روافض مسلمانوں میں سے نہیں ہیں!،بلکہ یہ چند فرقے ہیں،ان کا سب سے پہلے ظہور رسولﷺ کی وفات کے پچیس برس بعد ہوا، اور اس (فرقہ) کی اساس ومبدا اس شخص(عبداللہ بن سبا) کی دعوت قبول کرنے کےطورپر ہوئی جس کو اسلام کے ساتھ مکر کرنے کی وجہ سے اللہ تعالیٰ نے ذلیل کردیا تھا،اور یہ ایسی جماعت ہے جو جھوٹ اور کفر میں یہود ونصاریٰ کی روش پر قائم ہے‘‘۔ دیکھیں:(الفصل في الملل والنحل:۲؍۶۵)۔

    سوم: جہاں تک بہر ہ کی بات ہے تو یہ مختلف انحراف شدہ عقائد سے مرکّب ہے، یہ باطنیہ ہیں، اور کچھ اسماعیلیہ سے ہیں جو کہ شیعہ فرقے میں سے تھی،لیکن انہوں نے اپنے اماموں کے بارے میں رافضہ سے بھی زیادہ غلوکیا، اور ان کے بعض عقائد درج ذیل ہیں:

    ۱۔اپنے ائمہ کی عبادت کی حدتک تعظیم کرنا، جسے وہ ’’داعی مطلق‘‘ کا نام دیتے ہیں، اور وہی ان ک نزدیک اختیارات کا مصدر ہے،اور وہی ان کا ہرچیز میں مرجع ہے، اور اس کی آمد پر اس کا سجدہ کرتے ہیں۔

    ۲۔ان کی مبتدعانہ نمازیں ہیں، جن میں سے: تیسویں رمضان کی رات کی نماز جس کی رکعات: بارہ ہیں، اس کےاندر وہ درج ذیل کلمات کی تردید کرتے ہیں: ’’یا علی‘‘ ۷۰ بار، ’’یا فاطمہ‘‘ سوبار، ’’یاحسن‘‘سوبار،’’یاحسین‘‘ نوسوستانوے بار۔

    ۳۔ ان کا ظاہر اسلام کے ساتھ اور باطن خبیث ہے، وہ نماز پڑھتے ہیں،لیکن ان کی نماز امام اسماعیل مستور کے لئے ہوتی ہے جو طیب بن آمر کی نسل سے ہے، وہ بقیہ مسلمانوں کی طرح حج کے لئے مکہ بھی جاتے ہیں، لیکن وہ کہتے ہیں:کہ کعبہ یہ امام کی رمز وعلامت ہے۔

    ۴۔وہ اپنے رافضی بھائیوں کی طرح قبروں اور مزاروں کی تعظیم کرتے ہین، اور ان کے مشہورمعاصر اعمال میں سے: کربلاء ونجف کے مزار کی اصلاح ومرمّت ہے،جس طرح انہوں نے قاہرہ کے اندر حسین کے مزعوم ضریح کے اوپر سونے کا قبّہ تیار کیا ہے۔

    دائمی کمیٹی کے علماء کا کہنا ہے کہ: ’’جب بہرہ کے کبار علماء اور ان کے پیروکاروں کی صورت حال یہ ہے اور جو آپ نے اپنے سوال میں بیان کیا ہے: تو وہ کافر ہیں، وہ اسلام کے اصولوں پر ایمان نہیں رکھتے ہیں، اور نہ ہی اللہ کی کتاب اور اللہ کے رسول ﷺ کی سنّت سے کوئی ہدایت حاصل کرتے ہیں، اور ان لوگوں سے یہ بعید نہیں کہ وہ اللہ ،اس کی کتاب، اسکے رسولﷺ اور ان کی سنّت پر سچّے ایمان لانے والوں کو تکلیف دیں،جیسا کہ ہر امّت میں کفار نے اللہ کے ان پیغمبروں کو ظلم وستم کا نشانہ بنایا جواللہ کی طرف سے ان کی ہدایت ورہنمائی کے لئے بھیجے گئے تھے۔

    شیخ عبد العزیز بن باز، شیخ عبد الرّزاق عفیفی، شیخ عبد اللہ بن غدیّان، شیخ عبد اللہ بن قعود

    (فتاوی اللجنۃ الدائمۃ:۲؍۳۹۰)۔

    اسی طرح بہرہ کے متعلق مزید جانکاری حاصل کرنے کیلئے ملاحظہ فرمائیں: کتاب (أثر الفكر الغربي في انحراف المجتمع المسلم بشبه القارة الهندية) تالیف: خادم حسين إلهي بخش .

    اور سوال نمبر(۱۰۷۵۴۴) کے جواب میں ’’بہرہ ‘‘کے بارے میں مکمّل تفصیل ہے۔

    چہارم:رہی بات ان دونوں گروہوں کے تکفیر کا مسئلہ:توتمام ’’بہرہ ‘‘کے کفر میں کوئی شک نہیں ہے،چاہے وہ عالم ہوں یا عوام،کیونکہ یہ باطنی فرقہ ہے، اور باطنی فرقے میں ان کے تمام لوگوں کے کفر کے حکم میں کوئی تفصیل نہیں ہے۔

    اور رہی بات رافضہ کی: تو ان کے کفر کے سلسلے میں علماء کے مختلف اقوال ہیں:

    ۱۔علماء میں سے بعض کا خیال ہے کہ وہ حقیقت میں کافر ہیں، اور وہ اسلام میں سرے سے داخل ہی نہیں ہوئے،کیونکہ ان کے شہادتین کا معنیٰ اسلام سے مختلف ہے۔اوروہ قرآن پر ایمان نہیں رکھتے،اور یہ دین جسے صحابہ نے ہم تک پہنچایا ہے انہیں صرف کافر وگمراہ گردانتے ہیں،اور اس قول کے اصحاب کے پاس: عالم وعامی میں کوئی فرق نہیں، اور ان کے عوام کا حکم یہود ونصاریٰ کے عوام کے حکم کی طرح ہے۔اور اس قول کے مشہور قائل میں سے: شیخ ابن بارؒ ہیں ۔

    اور ان لوگوں کی ظاہری صورت،ان کے منحرف عقیدے،اور ان کی گمراہیاں اس قول سے ملتے جلتے ہیں۔

    ب:اور علماء کی دوسری جماعت ان کے عوام اور علماء کے درمیان تفریق کی طرف گئی ہے، اور انہوں نے کہا ہے کہ:ان کے عوام کو بغیران کے خلاف حجّت قائم کئے کافر نہیں قرار دیا جاسکتا ، اور رہی بات ان کے علماء کی تو وہ کافرقراردئیے جائیں گے،کیونکہ کتاب وسنت کی نصوص کی جانکاری رکھنےکی وجہ سے ان کے خلاف حجت قائم ہے۔ اورقدیم زمانے میں اس تفصیل کے مشہور قائلین میں سے :شیخ الاسلام ابن تیمیہ رحمہ اللہ ہیں،اور موجودہ زمانے میں اس کے قائل: شیخ البانی رحمہ اللہ ہیں۔

    شیخ الاسلام ابن تیمیہ رحمۃ اللہ علیہ رافضہ کے بارے میں کہتے ہیں:

    ’’رہی بات ان کے کفروتخلید کی : تو اس میں بھی علماء کے دومشہور قول ہیں:اور وہ احمدؒ سے دو روایتیں ہیں، اور خوارج ،حروریہ میں سے نکلنے والے، اور رافضہ اور ان کے جیسے لوگوں کے بارے میں دوقول ہیں، اور صحیح بات یہ ہے کہ: یہ اقوال جنہیں یہ(رافضہ) کہتے ہیں اور جن کے بارے میں معلوم ہے کہ یہ رسولﷺ کے لائی ہوئی شریعت کے خلاف ہیں: کفر ہے، اسی طرح مسلمانوں کے ساتھ ان کے وہ افعال جو کافروں کے افعال کے جنس سے ہیں یہ بھی کفر ہیں،اور ان کی دلائل کو میں دوسری جگہ بیان کرچکا ہوں، لیکن ان میں سے کسی کو بعینہ کافر اور مخلد فی النار کا حکم لگانا:تو یہ شروط تکفیر کے ثبوت اور اس کے موانع کے ممتنع ہونےپر موقوف ہے،کیونکہ ہم وعد ووعید،اور تفسیق وتکفیر کے نصوص کا اطلاق کرتے ہیں،اور اس عموم میں کسی معین کے داخل ہونے کا حکم نہیں لگاتے یہاں تک کہ اس کے بارے میں ایسا مقتضی قائم ہوجائے جس کا کوئی معارض نہ ہو۔اور اس قاعدہ کو میں نے ’’ تکفیرکے قاعدے‘‘ میں بسط وتفصیل سے بیان کیا ہے۔اسی لئے نبیﷺ نے اس آدمی کے بارے میں کفر کا فیصلہ نہیں لگایا جس نے کہا : ’’جب میں مرجاؤں تو مجھے جلا دینا اور پھر میری راکھ کو سمندر میں پھینک دینا،اللہ کی قسم!اگر اللہ مجھ پر قادر ہوا تومجھے ایسی عذاب دے گا جو دنیا میں کسی کو بھی نہیں دے گا‘‘، جبکہ وہ اللہ کی قدرت اور اسے دوبارہ زندہ کرنے کے بارےمیں شک کرنے والا تھا۔اسی لئے علماء اس شخص کو کافر نہیں قرارد یتے جو کسی حرام کردہ چیز کو اسلام کے زمانے سے قریب کی وجہ سے حلال سمجھے، یا کسی دور دیہات میں پرورش پایا ہو، کیونکہ کفر کا حکم پیغام کے پہنچنے کے بعد ہی ہوگا، اور ان میں سے بہت سارے لوگوں کے پاس بسا اوقات وہ نصوص نہیں پہنچتی جسے وہ مخالف سمجھتے ہیں، اور انہیں یہ پتہ نہیں ہوتا کہ اس کے ذریعہ رسولﷺ بھیجے گئے ہیں،چنانچہ یہ اطلاق کردیا جاتا ہے کہ یہ قول کفر ہے، اورکفرکا حکم اسوقت لگایا جائے گا جب اس کے خلاف ایسی حجت قائم ہوجائے جس کا چھوڑنے والا کافر ہوجاتا ہے، نہ کہ اس کے علاوہ میں،واللہ اعلم‘‘۔(مجموع فتاوی:۲۸؍۴۶۸۔۵۰۱) ،اختصار کے ساتھ۔

    البتہ یہاں پر دوباتوں کا دھیان رکھنا ضروری ہے:

    ۱۔صحابہ کو گالی دینے کے سلسلے میں علماء کے درمیان اختلاف کرنے میں وہ شخص نہیں داخل ہوگا جوان کے عام لوگوں کے فسق کا اعتقاد رکھتا ہے،یا ان کی تکفیر کا اعتقاد رکھتا ہے،یا ان میں سے چند کو چھوڑکر تمام کو کافر سمجھتا ہے،لہذا رافضہ میں سے جو اس کفر کا اعتقاد رکھے:تو اس کے کفر کے بارے میں کوئی شک نہیں ،بلکہ ایسا شخص بھی کافر ہوگا جو ان کے کفر کے بارے میں شک کرےگا۔
    شیخ الاسلام ابن تیمیہ رحمۃ اللہ علیہ فرماتے ہیں: ’’اور رہی بات اس شخص کی جواس سے تجاوز کرگیا، یہاں تک کہ یہ گمان کر بیٹھا کہ سوائے چند لوگوں کو چھوڑ کرباقی صحابہ مرتد ہوگئے جن کی تعداد ۱۳ تک نہیں پہنچتی، یا عام صحابہ فاسق ہوگئے، تو اس کےبھی کفر میں کوئی شک نہیں، کیونکہ اس نے قرآن کی تکذیب فرمائی جس نے بہت ساری جگہوں پر رب کی طرف سے ان صحابہ کی مدح وسرائی کرنےاور ان سے راضی ہونے کی تنصیص فرمائی ہے،بلکہ جو شخص ایسے لوگوں کی کفر کے بارے میں شک کرے گا وہ بھی کافر ہوجائے گا،کیونکہ اس مقالہ کا مضمون یہ ہے کہ(معاذ اللہ) کتاب وسنت کے ناقلین کفار یا فسّاق ہیں، اور یہ آیت جو (كُنتُمْ خَيْرَ‌ أُمَّةٍ أُخْرِ‌جَتْ لِلنَّاسِ)’’تم بہترین امّت ہو جو لوگوں کے لئے پیدا کی گئی ہو‘‘[آل عمرانـ۱۱۰] ہے تو اس کا خیر وہ پہلی صدی ہے،جوعام طور سے کفّار وفسّاق تھے، اور اس کا مضمون یہ ہوا کہ یہ امّت سب سے بدترین امّت ہے،اور اس امّت کے سابقہ لوگ اس کے بدترین لوگ تھے، اور اس بات کا کفر ہونا دین اسلام میں بدیہی طور پر معلوم ہے‘‘۔ ا.ھ دیکھیں: ) الصارم المسلول على شاتم الرسول : 1 / 590 )۔

    اور اسی کے بالکل جیسے شیخ ابن عثیمین رحمہ اللہ نے کہا ہے، اور ہم نے ان کے قول کو سوال نمبر(۹۵۵۸۸) کے جواب میں نقل فرمایا ہے۔

    ۲۔عائشہ رضی اللہ عنہا جن کو اللہ نے بری قراردیا ہے ان پر(زنا کا) الزام لگانا:

    یہ ایسا کفر ہے جو ملّت سے خارج کردیتا ہے، اور اس پر اجماع منقول ہے، اورہم نے سوال نمبر(۹۵۴) کے جواب میں اہل سنت کی ایک گروہ کے اقوال کو ان لوگوں کے کفر کے بارے میں ذکر کیا ہے جو عائشہ رضی اللہ عنہ پر زنا کا الزام لگاتے ہیں۔

    واللہ اعلم۔

    اسلام سوال وجواب

    فیڈ بیک