بُہرہ ، ان كے عقائد اور ان سے شادى بياہ كا حكم

وصف

زیر نظر فتوی میں بہرہ کا تعارف،ان کے عقائد اور ان سے شادی بیاہ کرنے کے حکم کو کتاب وسنت کی روشنی میں بیان کیا گیا ہے۔

Download
اس پیج کے ذمّے دار کو اپنا تبصرہ لکھیں

کامل بیان

    بُہرہ ، ان كے عقائد اور ان سے شادى بياہ كا حكم

    من هم " البهرة " ؟ وما هي عقائدهم ؟ وما حكم تزويجهم والتزوج منهم ؟

    (اُردو۔أردية-urdu)

    تالیف:محمد صالح المنجد ۔حفظہ اللہ۔

    ترجمہ: اسلام سوال وجواب ویب سائٹ

    مراجعہ وتنسیق:اسلام ہاؤس ڈاٹ کام

    ترجمة: موقع الإسلام سؤال وجواب

    تنسيق: موقع Islam house

    بُہرہ ، ان كے عقائد اور ان سے شادى بياہ كا حكم

    107544بہرہ ، ان كے عقائد اور ان سے شادى بياہ كا حكم

    سوال:ميرا سوال ميرى بيوى اور مجھ سےمتعلق ہے، میری بیوی کا تعلّق " بہرہ " فرقہ سےہے، یہ شیعہ کے فرقے میں سے ایک ہے،ان کی انٹرنيٹ پر " مومنين ڈاٹ آرگنائزیشنwww.mumineen.org " اور " معلومات ڈاٹ كام " كے نام سے ويب سائٹ بھى ہے، ميں اس فرقہ كى طرف منسوب تھا ليكن اللہ تعالىٰ نے مجھے اپنے صحیح دین کی طرف ہدايت دىدی ،ميں نے اس لڑکی سے اپنے والدين كى خاطرشادی کرلی كيونكہ وہ كہتے تھے يہ ايك اچھى لڑكى ہے، اور شادى كے بعد دينى مسئلہ ميں ميرى اطاعت کر لے گی۔
    ميں نے قرآن و سنت سے(اس کے عقیدہ کے بطلان کو) بيان كرنے كى پورى كوشش كى ليكن ابھى تك وہ اس كا انكار كر رہى ہے، ہمارے درمیان سب سے بڑا اختلاف يہ ہے كہ: يہ عورت ـیا عمومى طور پر يہ فرقہ ـعلی اور حسین رضی اللہ عنہما کا وسیلہ طلب کرتا ہے۔
    اور مثال سے اس کی صورت واضح ہوجاتی ہے مثلا وہ کہتے ہیں:اے اللہ مجھے حسين رضى اللہ تعالى عنہ كے وسیلہ سے شفا عطا كر، يا ميرى مدد فرما، تو اس طرح حسين اللہ كے پاس جا كر اس كے ليے شفا طلب كرتے ہيں، اور اس طرح شفا مل جاتى ہے، يا پھر مطلوبہ مدد حاصل ہو جاتى ہے.
    ميرى بيوى كى اس سے قبل یہ کہنے کی عادت تھی: اے حسین میری مدد کرو،یا مجھے شفا دو،یا مجھے نجات دو،اوریہ ۔ميرے اعتقاد كے مطابق ۔شرك ہے، ليكن جب ميں نے اس کے شرک ہونے کے بارے میں اس کو بتایا تو اس سے رُک گئی، ليكن وہ ابھی تک (اپنے)ائمہ کا وسیلہ پکڑتی ہے،اور بدعات و خرافات پر عمل كرتى ہے، توكيا وسیلہ كى يہ قسم شرك شمار ہوگی؟
    كيا اللہ سبحانہ و تعالى نے كئى ايك آيات ميں يہ بيان نہیں كيا ہے كہ ہم اس كے علاوہ كسى اور سے نہ مانگیں ؟
    اگر جو کچھ وسیلہ کرتی ہے شرک ہے:تو کیا اس سے میری شادی صحیح ہے؟کیا شرک کفر ہے؟اور کافرہ سے شادی کرنا جائز نہیں ہے؟ ان کے ائمہ ان سے اپنے سامنے جھکنے اور ان کے پاؤں کا بوسہ لینے کا مطالبہ کرتے ہیں، اور وہ قبروں پر جاتے ہیں اور مُردوں کے سامنے جھکتے ہیں،اوریہ اعتقاد رکھتے ہیں کہ یہ ان کا ہاتھ پکڑ کر جنت تک لے جائیں گے،اسی طرح یہ لوگ سیدنا علی رضی اللہ عنہ کے نام کو اذان میں لیتے ہیں اور نماز کی تشہد میں ان کے نام کو ذکر کرتے ہیں،اور مختلف قسم کی بدعتوں کو انجام دیتے ہیں، اور یہ بھی کہتے ہیں کہ رسولﷺ نے سیدنا علی کےنام کے ذریعہ کئی مرتبہ اللہ سے دعاکیا ہے، اس کے علاوہ وہ عائشہ ،ابوبکر،عمر،عثمان رضی اللہ عنہم کو سبّ وشتم اور لعن طعن کرتے ہیں۔ اور کہتے ہیں کہ ان لوگوں نے سیدہ فاطمہ اور سیدنا علی رضی اللہ عنہما کو تکلیف دیا تھا،یہ جو ذکر کیا ہے یہ بہت زیادہ(خرافات) میں سے معمولی ہے۔اور برابر انہیں حج کے لئے جانے کی اجازت ہے، وہ اپنے طریقے پر نماز پڑھتے ہیں اور مکہ میں اپنی بدعتوں کا ارتکاب کرتے ہیں۔میرے بھائی ! آپ سے جتنا جلدی ہوسکے جواب دینے کی کوشش کریں، کیونکہ اگر میرے لئے اس سے شادی کرنا جائز نہیں ہے تو میں زانیہ ہوں گا! میں اللہ سے سوال کرتا ہوں کہ مجھے اور تمام مومنین کو شرک وگناہوں سے محفوظ رکھے اور جہنم سے نجات دے ،آمین۔

    الحمد للہ:

    اوّل: ((الموسوعة الميسرة في الأديان والمذاهب والأحزاب المعاصرة)) ميں بہرہ كى تعريف كچھ اس طرح كى گئى ہے: یہ اسماعیلیہ مستعلیہ ہیں، جو امام مستعلی،اس کے بعد آمر اور پھر اس کے بیٹے طیب کی امامت کے معترف ہیں ، اسى ليے انہيں الطيبیہ بھى كہا جاتا ہے، يہ برصغير پاك و ہند اور يمن كے اسماعيلى فرقے سے تعلق ركھنے والے افراد ہيں، انہوں نے سياست ترك كر كے تجارت اختيار كى اور ہندوستان پہنچے اور ہندو سے مسلمان ہونے والے افراد سے میل جول كے بعد يہ بہرہ كے نام سے معروف ہوئے ہيں، اور ’’بہرہ ‘‘ قديم ہندى زبان كا لفظ ہے جس كا معنى ’’تاجر ‘‘ہے.

    ـ امام طيب ( 525ھـ ) ميں رو پوش ہوا، اور اس كى نسل سے اب تك كسى بھى امام كے متعلق كچھ معروف نہيں، حتى كہ ان كے نام تك غير معروف ہيں، اور بہرہ فرقہ كے علماء كرام خود بھى ان كے متعلق كچھ نہيں جانتے.

    ـ بہرہ ميں دو فرقے ہيں:

    1 ـ بہرہ داوديہ: يہ قطب شاہ داود كى طرف منسوب ہيں اور برصغير پاك ميں دسویں صدی ہجرى سے پائے جاتے ہيں، ان كا مبلغ ممبئى ميں رہتا ہے .

    2 ـ بہرہ سليمانيہ: يہ سليمان بن حسن كى طرف منسوب ہيں، اور ان كا مركز آج تك يمن ميں ہى پايا جاتا ہے. انتہى

    ديكھيں: الموسوعۃ الميسرۃ في الأديان و المذاہب و الأحزاب المعاصرۃ ( 2 / 389 (

    دوم:

    بہرہ كئى قسم كے منحرف عقائد پر مشتمل ہے،يہ باطنىہ ہیں، اور کچھ اسماعیلیہ سے ہیں جو كہ شیعہ فرقےميں سے ہے، ليكن ان كا اپنے اماموں كے متعلق غلو رافضى شيعہ سے بھى بڑھ كر ہے، ذيل میں ان کے چند عقائد پیش ہیں:

    1 ـ يہ مسلمانوں كى مساجد ميں نماز ادا نہيں كرتے.

    2ـ عقيدہ ميں ظاہرى طور پر يہ سارے معتدل اسلامى فرقوں كے عقائد كے مشابہ ہيں.

    3 ـ ان كا باطن كچھ اور ہے، يہ نماز تو ادا كرتے ہيں، ليكن ان كى يہ نماز اپنے روپوش امام اسماعيلى كے ليے ہوتى ہے جو طيب بن آمر كى اولاد سے ہے.

    4 ـ باقى مسلمانوں كى طرح يہ بھى مكہ مكرمہ حج كرنے جاتے ہيں، ليكن ان كا كہنا ہے كہ كعبہ: امام كا نشان اور رمز ہے. انتہى. ديكھيں: (الموسوعۃ الميسرۃ : 2 / 390 )

    اپنےاماموں كے بارے ميں غلو كرنے كى: ان کے ہاں متعدّد صورتيں ہيں: اس کا سجدہ كرتے ہيں، اور سب مرد و عورت اس كے ہاتھ پاؤں وغيرہ چومتے ہيں، ہم ذيل ميں اس سلسلہ ميں مستقل فتوى كميٹى كے جاردى كردہ بعض فتاوى جات ذكر كرتے ہيں:

    1 ـ مستقل فتوى كميٹى كے علماء كرام سے دريافت كيا گيا:

    بہرہ فرقہ كے بڑے علماء اس بات پر مصر ہيں کہ ان کے پیروکاروں پر لازم ہے کہ ان کی زیارت کرتے وقت ان کا سجدہ کریں،تو كيا ايسا كوئى عمل رسول كريم صلى اللہ عليہ وسلم يا خلفاء راشدين كے دور ميں پايا گيا ہے؟۔

    اورابھى كچھ ايام قبل پاكستان كے ايك معروف اخبار ( 6 / 10 / 1977م ) ميں ايك بہرہ فرقہ سے تعلق ركھنے والے شخص كى تصوير چھپى ہے جو اپنے ايك بڑے عالم دين كو سجدہ كر رہا ہے، آپ كى اطلاع كے ليے ہم اس كى فوٹو كاپى بھى ساتھ ارسال كر رہے ہيں برائے مہربانى اس كے متعلق معلومات فراہم كريں؟۔

    كميٹى كے علماء كرام كا جواب تھا:

    "سجدہ عبادت كى ان اقسام ميں سے ہے جسے اللہ سبحانہ و تعالىٰ نے صرف اپنے لئے کرنے کا حکم دیا ہے، اور نیکیوں میں سےايك نیکی ہے جس کے ذریعہ بندہ کا صرف اللہ کی طرف متوجہ ہونا واجب ہے ؛ كيونكہ اللہ سبحانہ كا فرمان ہے:

    ( وَلَقَدْ بَعَثْنَا فِي كُلِّ أُمَّةٍ رَسُولًا أَنِ اُعْبُدُوا اللَّهَ وَاجْتَنِبُوا الطَّاغُوتَ)[ النحل:36] ’’ اور يقينا ہم نے ہر امت ميں رسول بھيجا كہ ( لوگو! ) صرف اللہ كى عبادت كرو اور اس كے سوا تمام معبودوں سے بچو ‘‘ [ النحل : 36 [

    اور ايك مقام پر ارشاد بارى تعالى ہے: وَمَا أَرْسَلْنَا مِنْ قَبْلِكَ مِنْ رَسُولٍ إِلا نُوحِي إِلَيْهِ أَنَّهُ لا إِلَهَ إِلا أَنَا فَاعْبُدُونِ )[ الأنبياء:25]

    ’’ اور آپ سے قبل بھى جو رسول ہم نے بھيجا اس كى طرف يہى وحى نازل فرمائى كہ ميرے سوا كوئى معبود برحق نہيں پس تم سب ميرى ہى عبادت كرو ‘‘[الأنبياء:25]

    اور ايك مقام پر ارشاد ربانى اس طرح ہے: ( وَمِنْ آيَاتِهِ اللَّيْلُ وَالنَّهَارُ وَالشَّمْسُ وَالْقَمَرُ لا تَسْجُدُوا لِلشَّمْسِ وَلا لِلْقَمَرِ وَاسْجُدُوا لِلَّهِ الَّذِي خَلَقَهُنَّ إِنْ كُنْتُمْ إِيَّاهُ تَعْبُدُونَ )[فصلت: 37]

    ’’ اور دن رات اور سورج و چاند بھى اسى كى نشانيوں ميں سے ہيں، تم نہ تو سورج كو سجدہ كرو اور نہ ہى چاند كو بلكہ سجدہ اس اللہ كے ليے كرو جس نے ان سب كو پيدا كيا ہے، اگر تمہيں اس كى عبادت كرنى ہے ‘‘۔[فصلت: 37]

    چنانچہ اللہ سبحانہ و تعالى نے اپنے بندوں كو سورج و چاند كے سامنے سجدہ كرنے سے منع فرمايا، كيونكہ يہ دونوں اللہ كى نشانيوں ميں سے ايك نشانى اور مخلوق ہيں، اس ليے يہ نہ سجدہ كے مستحق ہيں، اور نہ ہى كسى اور عبادت كے مستحق ہيں.

    بلكہ اللہ سبحانہ و تعالىٰ نے تو يہ حكم ديا كہ وہ اللہ سبحانہ و تعالىٰ جو كہ ان دونوں یعنی سورج و چاند كو بھى اور دوسرى اشياء كو بھى پيدا كرنے والا ہے صرف اسى كے سامنے سجدہ ريز ہوں، اس ليے اللہ كے علاوہ كسى اور كو سجدہ كرنا حرام بلكہ يہ شرك كہلاتا ہے، لہذا كسى بھى مخلوق كے سامنے سجدہ كرنا صحيح نہيں.

    كيونكہ اللہ سبحانہ و تعالىٰ كا فرمان ہے:

    ( أَفَمِنْ هَذَا الْحَدِيثِ تَعْجَبُونَ . وَتَضْحَكُونَ وَلا تَبْكُونَ . وَأَنْتُمْ سَامِدُونَ . فَاسْجُدُوا لِلَّهِ وَاعْبُدُوا ) [النجم : 59 - 62 [

    ’’كيا تم اس بات سے تعجب كرتے ہو ؟ اور ہنس رہے ہو ؟ اور روتے نہيں ؟ ( بلكہ ) تم كھيل رہے ہو، اب اللہ كے سامنے سجدے كرو، اور ( اسى كى ) عبادت كرو‘‘ [النجم : 59 - 62 [

    چنانچہ اللہ سبحانہ و تعالى ٰنے حكم ديا ہے كہ صرف اسى اكيلے كو سجدہ كيا جائے، پھر اللہ عزوجل نے عموم بيان كرتے ہوئے اپنے بندوں كو حكم ديا كہ وہ ہر قسم كى عبادت صرف اللہ وحدہ كى ليے كريں اور عبادت ميں كسى بھى مخلوق كو شريك مت كريں.

    چنانچہ جب بہرہ فرقہ كے لوگوں كى حالت يہ ہے جيسا كہ سوال ميں بيان ہوئى ہے: تو ان كا اپنے بزرگوں اور بڑوں كے سامنے سجدہ ريز ہونا ان كى عبادت ہے اور انہيں الہ بنانا ہے، اور انہيں اللہ كے ساتھ شريك بنانے كے مترادف ہے، يا پھر اللہ كے علاوہ انہيں معبود بنانا ہے، اور ان بزرگوں اور بڑوں كا اپنے فرقے كے لوگوں كو ايسا كرنے كا حكم دينا يا پھر ايسا كرنے پر ان بزرگوں اور بڑوں كا راضى ہونا اسے طاغوت بنا ديتا ہے جو اس كى بنفس نفيس عبادت كى دعوت ہے، اس ليے دونوں فريق یعنی تابع اور متبوع دوسرے معنوں ميں جو سجدہ كر رہا ہے اور جو بزرگ سجدہ كروا رہا ہے دونوں ہى اللہ كے ساتھ كفر كا ارتكاب كر كے ملت اسلام سے خارج ہو گئے ہيں، اللہ محفوظ ركھے.

    الشيخ عبد العزيز بن باز.

    الشيخ عبد الرزاق عفيفى.

    الشيخ عبد اللہ بن غديان.

    الشيخ عبد اللہ بن قعود.

    ديكھيں: فتاوى اللجنۃ الدائمۃ للبحوث العلميۃ والافتاء ( 2 / 382 - 383 ).

    اور مستقل فتوى كميٹى كے علماء سے درج ذيل سوال بھى دريافت كيا گيا:

    سب عورتيں اس كے ہاتھ اور پاؤں چومتى ہيں، كيا اسلام ميں جائز ہے كہ عورت كسى غير محرم عالم دين كا ہاتھ چھوئے، يہ عمل كسى بڑے عالم دين كے ساتھ خاص نہيں، بلكہ اس عالم دين كے خاندان كے سارے افراد كے ساتھ يہى عمل كيا جاتا ہے ؟

    كميٹى كے علماء كا جواب تھا:

    اول:

    سوال ميں جو يہ بيان ہوا ہے كہ بہرہ فرقہ كى عورتيں اپنے بڑے اور بزرگ عالم كے ہاتھ پاؤں چومتى ہيں، بلكہ عورتيں اس بزرگ كے خاندان كے سارے افراد كى قدم بوسى كرتى ہيں، ايسا كرنا جائز نہيں، كيونكہ رسول كريم صلى اللہ عليہ وسلم سے اور نہ ہى خلفاء راشدين سے ايسا ثابت ہے كہ عورتيں ان كى قدم بوسى كرتى ہوں؛ كيونكہ ايسا كرنے ميں مخلوق كى تعظيم ميں غلو ہوتا ہے جو كہ شرك كا ذريعہ بنتا ہے.

    دوم:

    كسى بھى مرد كے ليے جائز نہيں كہ وہ كسى اجنبى عورت سے مصافحہ كرے، اور نہ ہى اس كے ليے كسى عورت كے جسم كو چھونا جائز ہے؛ كيونكہ اس ميں فتنہ و فساد اور خرابى پائى جاتى ہے؛ اور اس ليے بھى كہ يہ اس كا ذريعہ ہے جو اس سے بھى بڑا شر اور برائى يعنى زنا اور زنا كے وسائل ہيں.

    اور پھر صحيح حديث ميں ثابت ہے كہ عائشہ رضى اللہ تعالى عنہا بيان كرتى ہيں نبى كريم صلى اللہ عليہ وسلم ہجرت كرنے والى عورتوں كا اس آيت سے امتحان ليا كرتے تھے: ﴿ يَا أَيُّهَا النَّبِيُّ إِذَا جَاءَكَ الْمُؤْمِنَاتُ يُبَايِعْنَكَ عَلَىٰ أَن لَّا يُشْرِ‌كْنَ بِاللَّـهِ شَيْئًا وَلَا يَسْرِ‌قْنَ وَلَا يَزْنِينَ وَلَا يَقْتُلْنَ أَوْلَادَهُنَّ وَلَا يَأْتِينَ بِبُهْتَانٍ يَفْتَرِ‌ينَهُ بَيْنَ أَيْدِيهِنَّ وَأَرْ‌جُلِهِنَّ وَلَا يَعْصِينَكَ فِي مَعْرُ‌وفٍ ۙ فَبَايِعْهُنَّ وَاسْتَغْفِرْ‌ لَهُنَّ اللَّـهَ ۖ إِنَّ اللَّـهَ غَفُورٌ‌ رَّ‌حِيمٌ ﴾

    ’’ اے نبى ( صلى اللہ عليہ وسلم ) جب مومن عورتيں آپ سے ان باتوں پر بيعت كرنے آئيں كہ وہ اللہ كے ساتھ كسى كو شريك نہ كريں گى، اور چورى نہ كريں گى، اور زنا كارى نہ كريں گى، اور اپنى اولاد كو نہ مار ڈاليں گى، اور كوئى ايسا بہتان نہ باندھيں گى جو خود اپنے ہاتھوں پيروں كے سامنے گھڑ ليں اور كسى نيك كام ميں تيرى نافرمانى نہيں كريں گى، تو آپ ان سے بيعت كر ليا كريں، اور ان كے ليے اللہ تعالى سے مغفرت طلب كريں، بيشك اللہ تعالى بخشنے اور معاف كرنے والا ہے ‘‘[الممتحنۃ : 12 ]

    عروہ رحمہ اللہ كہتے ہيں: عائشہ رضى اللہ تعالىٰ عنہا نے فرمايا:

    مومن عورتوں ميں سے جو كوئى عورت بھى ان شروط كا اقرار كرتى تو رسول كريم صلى اللہ عليہ وسلم اسے فرماتے: " ميں نے تجھ سے بيعت كر لى " يعنى كلام كرتے، اللہ كى قسم رسول كريم صلى اللہ عليہ وسلم نے بيعت ميں كبھى بھى كسى عورت كا ہاتھ نہيں چھوا، آپ صلى اللہ عليہ وسلم صرف اس طرح بیعت كيا كرتے تھے " ميں نے تجھ سے اس پر بيعت لى ‘‘(متفق عليہ)۔

    جب رسول كريم صلى اللہ عليہ وسلم عورتوں سے بيعت كرتے وقت مصافحہ نہيں كيا كرتے تھے، بلكہ آپ صرف كلام كے ساتھ ہى بيعت كرتے حالانكہ مصافحہ كا تقاضا بھى موجود تھا، اور پھر آپ صلى اللہ عليہ وسلم كى عفت و عصمت بھى مسلمہ تھى، اور آپ كى بنسبت خرابى و فتنہ كا بھى كوئى خطرہ نہ تھا ليكن اس كے باوجود رسول كريم صلى اللہ عليہ وسلم نے بيعت كرتے وقت عورت سے ہاتھ نہيں ملايا، اس ليے آپ كى امت كو تو بالاولى ٰاجنبى عورتوں كے ساتھ مصافحہ كرنے سے اجتناب كرنا چاہيے، بلكہ يہ تو ان كے ليے حرام ہے، چہ جائيكہ عورتيں اس شخص اور اس كے خاندان كے باقى افراد كے ہاتھ پاؤں چوميں، صحيح حديث ميں نبى كريم صلى اللہ عليہ وسلم كا فرمان ہے:

    " ميں عورتوں ميں سے مصافحہ نہيں كرتا " اسے نسائى اور ابن ماجہ نے روايت كيا ہے.

    اور اللہ سبحانہ و تعالىٰ كا فرمان ہے:﴿ لَّقَدْ كَانَ لَكُمْ فِي رَ‌سُولِ اللَّـهِ أُسْوَةٌ حَسَنَةٌ ﴾

    ’’ يقينا تمہارے ليے رسول ( صلى اللہ عليہ وسلم ) ميں بہترين نمونہ ہے‘‘[الاحزاب : 21 )

    الشيخ عبد العزيز بن باز.

    الشيخ عبد الرزاق عفيفى.

    الشيخ عبد اللہ بن غديان.

    الشيخ عبد اللہ بن قعود.

    ديكھيں: فتاوى اللجنۃ الدائمۃ للبحوث العلميۃ والافتاء ( 2 / 383 - 385 )۔

    كميٹى سے درج ذيل سوال بھى دريافت كيا گيا:

    بہرہ فرقہ كے بڑے عالم كا دعوىٰ ہے كہ وہ اپنے مريدوں اور متبعين كى نيابت ميں روح اور ايمان ( يعنى دينى عقائد ) كا كلى مالك ہے، اس كے متعلق آپ كى رائے كيا ہے ؟

    كميٹى كے علماء كا جواب تھا:

    " اگر بہرہ فرقہ كا بڑا عالم سوال میں ذکر کردہ چیز کا دعویٰ کرتا ہے تو اس كا يہ دعوىٰ باطل ہے، چاہے اس كا روح اور ايمان كا مالك ہونے كے دعوىٰ سے مراد يہ ہو كہ ايمان اور روح اس كے ہاتھ ميں ہيں وہ اسے جس طرح چاہے پھير سكتا ہے، اور دلوں كو وہ جس طرح چاہے پھير كر انہيں ايمان كى ہدايت دے يا پھر انہيں سيدھى راہ سے گمراہ كر دے:تو یہ اللہ رب العالمین کے علاوہ کوئی نہیں کرسکتا ہے،جیسا كہ اللہ سبحانہ و تعالىٰ كا فرمان ہے:

    ﴿فَمَن يُرِ‌دِ اللَّـهُ أَن يَهْدِيَهُ يَشْرَ‌حْ صَدْرَ‌هُ لِلْإِسْلَامِ ۖ وَمَن يُرِ‌دْ أَن يُضِلَّهُ يَجْعَلْ صَدْرَ‌هُ ضَيِّقًا حَرَ‌جًا كَأَنَّمَا يَصَّعَّدُ فِي السَّمَاءِ ۚ كَذَٰلِكَ يَجْعَلُ اللَّـهُ الرِّ‌جْسَ عَلَى الَّذِينَ لَا يُؤْمِنُونَ ﴾ ’’چنانچہ جسے اللہ تعالىٰ ہدايت سے نوازنا چاہے اس كا سينہ اسلام كے ليے كھول ديتا ہے، اور جسے وہ گمراہ كرنا چاہے اس كے سينے كو تنگ كر ديتا ہے، جيسے كوئى آسمان ميں چڑھتا ہے،اسى طرح اللہ تعالى ايمان نہ لانے والوں پر ناپاكى مسلط كر ديتا ہے‘‘]الانعام : 125 ]

    اور ايك دوسرے مقام پر ارشاد بارى تعالىٰ كچھ اس طرح ہے:

    ﴿مَنْ يَهْدِ اللَّهُ فَهُوَ الْمُهْتَدِ وَمَنْ يُضْلِلْ فَلَنْ تَجِدَ لَهُ وَلِيًّا مُرْشِدًا﴾ [ الكهف: ۱۷]

    ’’اللہ تعالى جس كو ہدايت دے تو وہ راہ راست پر ہے، اور جسے وہ گمراہ كر دے، تو اس كے ليے آپ كو كوئى راہنما اور كارساز ملنا ناممكن ہے‘‘۔[ الكهف: ۱۷]

    اس كے علاوہ اس موضوع كى اور بھى بہت آيات ہيں جو اس پر دلالت كرتى ہيں كہ اللہ سبحانہ و تعالىٰ ہى دلوں كو ہدايت و گمراہى كى طرف پھيرتا ہے اور كوئى نہيں، اور اس ليے بھى كہ نبى كريم صلى اللہ عليہ وسلم كا فرمان ہے:

    " بندوں كے دل اللہ رحمن كى دو انگليوں كے درميان ہيں وہ جس طرح چاہے انہيں پھير تا ہے " صحيح مسلم.

    اور نبى كريم صلى اللہ عليہ وسلم ہميشہ يہ دعا كيا كرتے تھے:

    ( يا مقلّب القلوب ، ثبِّت قلبي على دينك (

    ’’اے دلوں كو پلٹانے والے ميرے دل كو اپنے دين پر ثابت قدم ركھ‘‘۔اسے ترمذى نے روايت كيا ہے.

    يا بہرہ فرقہ كے اس سردار اور بڑے نے روح اور ايمان كےکلّی مالك ہونے سے يہ مراد ليا ہے كہ وہ اپنى جماعت اور افراد كے ايمان كا نائب ہے كہ صرف اس كا ايمان ہى كافى ہے اور انہيں ايمان لانے كى ضرورت نہيں، اور انہيں اس كا ثواب بھى حاصل ہو گا، اور وہ اس طرح عذاب سے بھى نجات حاصل كر ليں گے چاہے وہ برے عمل بھى كرتے رہے اور جرائم كے مرتكب ٹہريں، يہ اعتقاد تو قرآن مجید ميں بيان كردہ عقیدہ كے خلاف ہے كيونكہ اللہ سبحانہ و تعالىٰ كا فرمان ہے:

    ﴿لَهَا مَا كَسَبَتْ وَعَلَيْهَا مَا اكْتَسَبَتْ﴾[البقرۃ : 286]

    ’’ جو نیکی وه کرے وه اس کے لئے اور جو برائی وه کرے وه اس پر ہے ‘‘۔[البقرۃ : 286]

    اور ايك دوسرے مقام پر ارشاد ربانى كچھ اس طرح ہے:

    ﴿كُلُّ امْرِ‌ئٍ بِمَا كَسَبَ رَ‌هِينٌ ﴾[الطور : 21 ]

    ’’ ہر شخص اپنے اپنے اعمال كا گروى ہے ‘‘[الطور : 21 ]

    اور ايك جگہ اللہ رب العزت كا فرمان اس طرح ہے:

    ﴿كُلُّ نَفْسٍ بِمَا كَسَبَتْ رَ‌هِينَةٌ ﴿٣٨﴾ إِلَّا أَصْحَابَ الْيَمِينِ ﴿٣٩﴾ فِي جَنَّاتٍ يَتَسَاءَلُونَ ﴿٤٠﴾ عَنِ الْمُجْرِ‌مِينَ ﴿٤١﴾ مَا سَلَكَكُمْ فِي سَقَرَ‌﴿42﴾

    ’’ہر شخص اپنے اعمال كے بدلے ميں گروى ہے، مگر دائيں ہاتھ والے، كہ وہ باغات و بہشتوں ميں بیٹھے ہوئے گنہگاروں سے سوال كرينگے، تمہيں كس چيز نے دوزخ ميں ڈالا ؟ ‘‘۔[المدثر : 38 - 42 ]

    اور ايك مقام پر ارشاد بارى تعالى ہے:

    ﴿مَن يَعْمَلْ سُوءًا يُجْزَ بِهِ وَلَا يَجِدْ لَهُ مِن دُونِ اللَّـهِ وَلِيًّا وَلَا نَصِيرً‌ا وَمَن يَعْمَلْ مِنَ الصَّالِحَاتِ مِن ذَكَرٍ‌ أَوْ أُنثَىٰ وَهُوَ مُؤْمِنٌ فَأُولَـٰئِكَ يَدْخُلُونَ الْجَنَّةَ وَلَا يُظْلَمُونَ نَقِيرً‌ا ﴾

    ’’جوئى كوئى بھى برا عمل كريگا اسے اس كى سزا دى جائيگى، اور وہ اللہ كے علاوہ كوئى بھى دوست نہيں پائيگا اور نہ ہى كوئى مدد گار، اور جو كوئى نيك و صالح علم كريگا چاہے وہ مرد ہو يا عورت اور وہ مومن ہو تو يہ لوگ جنت ميں داخل ہونگے، اور كھجور كى گٹھلى كے سوراخ كے برابر بھى ان كا حق نہ مارا جائيگا ‘‘۔ [النساء: 123 - 124 ]

    اور رب ذوالجلال كا فرمان ہے:

    ﴿وَأَن لَّيْسَ لِلْإِنسَانِ إِلَّا مَا سَعَىٰ ﴾[النجم : 39 ]

    ’’ اور انسان كو وہى كچھ ملے گا جس كى اس نے كوشش و سعى كى ہو گى‘‘ [النجم : 39 ]

    اور ايك جگہ فرمايا: ﴿وَلَا تَزِرُ‌ وَازِرَ‌ةٌ وِزْرَ‌ أُخْرَ‌ىٰ ۚ وَإِن تَدْعُ مُثْقَلَةٌ إِلَىٰ حِمْلِهَا لَا يُحْمَلْ مِنْهُ شَيْءٌ وَلَوْ كَانَ ذَا قُرْ‌بَىٰ ۗ ﴾

    ’’ کوئی بھی بوجھ اٹھانے واﻻ دوسرے کا بوجھ نہیں اٹھائے گا، اگر کوئی گراں بار دوسرے کو اپنا بوجھ اٹھانے کے لئے بلائے گا تو وه اس میں سے کچھ بھی نہ اٹھائے گا گو قرابت دار ہی ہو۔ ‘‘۔[فاطر:18 ]

    اس كے علاوہ بھى اس موضوع كے متعلق بہت سارى آيات ہيں جو اس بات پر دلالت كرتى ہيں كہ ہر انسان كو اس كے عمل كا بدلہ ديا جائيگا چاہے وہ برا عمل ہو يا اچھا، اور اس ليے بھى كہ صحيح حديث ميں رسول كرم صلى اللہ عليہ وسلم سے ثابت ہے كہ جب يہ آيت نازل ہوئى: ﴿وَأَنذِرْ‌ عَشِيرَ‌تَكَ الْأَقْرَ‌بِينَ ﴾[الشعراء:214]

    ’’اور آپ اپنے قريبى رشتہ داروں كو ڈرائيں‘‘۔[الشعراء:214]

    تو رسول كريم صلى اللہ عليہ وسلم نے صفا پہاڑى پر كھڑے ہو كر فرمايا:

    ’’اے جماعت قریش!- یا اسی طرح کا کوئی کلمہ آپ نے فرمایا -اللہ کی اطاعت کے ذریعہ اپنی جانوں کو اس کے عذاب سے بچالو (اگر تم شرک وکفر سے باز نہ آئے تو) اللہ کے ہاں میں تمہارے کسی کام نہیں آؤں گا۔ اے بنی عبد مناف! اللہ کے ہاں میں تمہارے لئے بالکل کچھ نہیں کر سکوں گا۔ اے عباس بن عبدالمطلب! اللہ کی بارگاہ میں میں تمہارے کچھ کام نہیں آسکوں گا۔ اے صفیہ، رسول اللہ کی پھوپھی! میں اللہ کے یہاں تمہیں کچھ فائدہ نہ پہنچا سکوں گا۔ اے فاطمہ! محمد صلی اللہ علیہ وسلم کی بیٹی! میرے مال میں سے جو چاہو مجھ سے لے لو لیکن اللہ کی بارگاہ میں میں تمہیں کوئی فائدہ نہ پہنچا سکوں گا‘‘۔ (متفق عليہ(

    الشيخ عبد العزيز بن باز.

    الشيخ عبد الرزاق عفيفى.

    الشيخ عبد اللہ بن غديان.

    الشيخ عبد اللہ بن قعود.

    ديكھيں: فتاوى اللجنۃ الدائمۃ للبحوث العلميۃ والافتاء ( 2 / 385 - 387 ).

    اور يہ بھى دريافت كيا گيا:

    اس كا دعوىٰ ہے كہ وہ وقف كردہ املاك كا مکمّل مالک ہے، اور تمام صدقات كا اس سے كوئى حساب و كتاب نہيں لے سكتا، اور وہ زمين پر اللہ ہے، جس طرح ان كے بڑے عالم طاہر سيف الدين كا بمبئى ہائى كورٹ ميں عدالت كے سامنے ایک مسئلہ میں يہى دعوىٰ تھا، اور اسے اپنے پيروكاروں پر پورى قدرت ہے ؟

    كميٹى كا جواب تھا:

    سوال ميں جو بہرہ فرقے كے بڑے كا دعوىٰ بيان كيا گيا ہے كہ " وہ سب وقف كردہ املاك كا مالك كلى ہے، اور تمام صدقات پر اس کا کوئی حساب نہیں لینے والا ہے، اور وہ زمين پر اللہ ہے " :

    يہ سب دعوے باطل ہيں، چاہے اس كى جانب سے ہوں يا كسى اور كى جانب سے صادر ہوئے ہوں:

    پہلا دعوىٰ اس ليے باطل ہے كہ: وقف كردہ بعينہ چيز كسى كى ملكيت نہيں ہوتى، بلكہ اس كا فائدہ اور نفع ملكيت ہوتا ہے، اور وہ اس طرح كہ جس كے ليے وقف كيا گيا ہو اس كا فائدہ اس كو ديا جاتا ہے كسى اور كو نہيں، اس ليے ان بہرہ كا بڑا اور سردار كسى بھى بعینہ وقف كردہ چيز كا مالك نہيں، اور نہ ہى وہ اس كے فائدے كا مالك ہے صرف اس كے فائدہ كے ملكيت اسى چيز كى حاصل ہو گى جو صرف اس كے ليے وقف كى گئى ہو اور وہ اس كا اہل بھى ہو.

    رہا دوسرا دعوى ٰ : کہ اس كا محاسبہ نہيں كيا جا سكتا: يہ اس ليے باطل ہے كہ ہر شخص كو اس كے اعمال پر اس كا محاسبہ ہو گا كہ وہ صدقات و خيرات وغيرہ ميں كس طرح تصرف كرتا رہا، يہ محاسبہ كتاب و سنت كى نص اور اجماع امت سے ثابت شدہ ہے.

    رہا تيسرا دعوىٰ كہ:وہ زمين ميں اللہ ہے: يہ صريحا كفر ہے، اور جو كوئى بھى يہ دعوىٰ كرے وہ طاغوت ہے جو اپنے آپ كو الہ بنانے اور اپنى عبادت كى دعوت دے رہا ہے، اور اس چيز كا بطلان تو دین اسلام سے بدیہی طور پر معلوم ہے‘‘۔

    الشيخ عبد العزيز بن باز.

    الشيخ عبد الرزاق عفيفى.

    الشيخ عبد اللہ بن غديان.

    الشيخ عبد اللہ بن قعود.

    ديكھيں: فتاوى اللجنۃ الدائمۃ للبحوث العلميۃ والافتاء ( 2 / 387 - 388 )

    كميٹى كے علماء كرام سے يہ بھى دريافت كيا گيا:

    اس كا يہ بھى دعوى ٰہے كہ اسے اس طرح كے اعمال پر اعتراض كرنے والوں سے سوشل بائيكاٹ كرنے كا حق حاصل ہے ؟

    كميٹى كے علماء كرام كا جواب تھا:

    "اگر بہرہ كے بڑے علماء كا يہى طریقہ اور اوصاف ہيں جو اوپرسوالات ميں بيان ہوئے ہيں: تو اس كے ليے جائز نہيں كہ وہ ان لوگوں سے براءت ظاہر کرے جو اس پر مختلف قسم کی شرک کے ارتکاب پر اعتراض کرتے ہیں،بلكہ اسے تو ان كى نصیحت قبول كرنى چاہيے، اور اپنے آپ كو معبود و الہ بنانے سے باز آ جانا چاہيے، اور ايسے دعوؤں سے اجتناب كرنا چاہيے جو اللہ عزوجل كے ليے مخصوص ہيں، اور اللہ كے علاوہ كوئى اور اس سے متصف نہيں ہو سكتا: یعنی الوہیت، اور روح و دلوں كا مالك ہونا يہ سب اللہ عزوجل كے خصائص ميں شامل ہے، اور اس كا اپنے ارد گرد افراد كو اپنى عبادت كى دعوت دينا، اور اس كے اور اس كے خاندان كے افراد ميں غلو كرتے ہوئے ان كے سامنے عاجزى و انكسارى سے جھكنا اور گڑگڑانے كى دعوت دينا بھى جائز نہيں.

    بلكہ اس بڑے كے شرك و كفر پر اعتراض كرنے والوں كو چاہيے كہ اگر وہ اپنى گمراہى و ضلالت اور كفر و شرك سے باز نہيں آتا اور ان كى نصیحت قبول نہيں كرتا، اور نہ ہى وہ كتاب اللہ اور سنت رسول ﷺپر عمل كرتا ہے تو وہ اس شخص اور اس كے پيروكاروں اور اس طرح كے دوسرے طاغوتوں اور طاغوت كى عبادت كرنے والوں سے براءت كا اظہار كريں.

    اللہ سبحانہ و تعالىٰ كا فرمان ہے:

    ﴿وَاعْتَصِمُوا بِحَبْلِ اللَّـهِ جَمِيعًا وَلَا تَفَرَّ‌قُوا ۚ ﴾

    ’’اور تم سب اكٹھے ہو كر اللہ كى رسى كو مضبوطى سے تھام لو‘‘[آل عمران : 103]

    اور ايك مقام پر اللہ عزوجل كا فرمان ہے:

    ﴿لَّقَدْ كَانَ لَكُمْ فِي رَ‌سُولِ اللَّـهِ أُسْوَةٌ حَسَنَةٌ لِّمَن كَانَ يَرْ‌جُو اللَّـهَ وَالْيَوْمَ الْآخِرَ‌ وَذَكَرَ‌ اللَّـهَ كَثِيرً‌ا﴾

    ’’ یقیناً تمہارے لئے رسول اللہ میں عمده نمونہ (موجود) ہے، ہر اس شخص کے لئے جو اللہ تعالیٰ کی اور قیامت کے دن کی توقع رکھتا ہے اور بکثرت اللہ تعالیٰ کی یاد کرتا ہے ‘‘۔[الاحزاب : 21]

    اور ايك مقام پر ارشاد ربانى كچھ اس طرح ہے:

    ﴿وَلَقَدْ بَعَثْنَا فِي كُلِّ أُمَّةٍ رَّ‌سُولًا أَنِ اعْبُدُوا اللَّـهَ وَاجْتَنِبُوا الطَّاغُوتَ ﴾

    إِ’’ ہم نے ہر امت میں رسول بھیجا کہ (لوگو!) صرف اللہ کی عبادت کرو اور اس کے سوا تمام معبودوں سے بچو۔ ‘‘[النحل : 36 [

    اور ايك جگہ ارشاد بارى تعالى ٰہے:

    ﴿وَالَّذِينَ اجْتَنَبُوا الطَّاغُوتَ أَن يَعْبُدُوهَا وَأَنَابُوا إِلَى اللَّـهِ لَهُمُ الْبُشْرَ‌ىٰ ۚ فَبَشِّرْ‌ عِبَادِ الَّذِينَ يَسْتَمِعُونَ الْقَوْلَ فَيَتَّبِعُونَ أَحْسَنَهُ ۚ أُولَـٰئِكَ الَّذِينَ هَدَاهُمُ اللَّـهُ ۖ وَأُولَـٰئِكَ هُمْ أُولُو الْأَلْبَابِ ﴾ ’’ اور جن لوگوں نے طاغوت کی عبادت سے پرہیز کیا اور (ہمہ تن) اللہ تعالیٰ کی طرف متوجہ رہے وه خوش خبری کے مستحق ہیں، میرے بندوں کو خوشخبری سنا دیجئے جو بات کو کان لگا کر سنتے ہیں۔ پھر جو بہترین بات ہو اس کی اتباع کرتے ہیں۔ یہی ہیں جنہیں اللہ تعالیٰ نے ہدایت کی ہے اور یہی عقلمند بھی ہیں ‘‘[الزمر : 17 - 18 ]

    اور ايك مقام پر فرمايا:

    ﴿قَدْ كَانَتْ لَكُمْ أُسْوَةٌ حَسَنَةٌ فِي إِبْرَ‌اهِيمَ وَالَّذِينَ مَعَهُ إِذْ قَالُوا لِقَوْمِهِمْ إِنَّا بُرَ‌آءُ مِنكُمْ وَمِمَّا تَعْبُدُونَ مِن دُونِ اللَّـهِ كَفَرْ‌نَا بِكُمْ وَبَدَا بَيْنَنَا وَبَيْنَكُمُ الْعَدَاوَةُ وَالْبَغْضَاءُ أَبَدًا حَتَّىٰ تُؤْمِنُوا بِاللَّـهِ وَحْدَهُ إِلَّا قَوْلَ إِبْرَ‌اهِيمَ لِأَبِيهِ لَأَسْتَغْفِرَ‌نَّ لَكَ وَمَا أَمْلِكُ لَكَ مِنَ اللَّـهِ مِن شَيْءٍ ۖ رَّ‌بَّنَا عَلَيْكَ تَوَكَّلْنَا وَإِلَيْكَ أَنَبْنَا وَإِلَيْكَ الْمَصِيرُ‌﴾

    ’’ (مسلمانو!) تمہارے لیے حضرت ابراہیم میں اور ان کے ساتھیوں میں بہترین نمونہ ہے، جبکہ ان سب نے اپنی قوم سے برملا کہہ دیا کہ ہم تم سے اور جن جن کی تم اللہ کے سوا عبادت کرتے ہو ان سب سے بالکل بیزار ہیں۔ ہم تمہارے (عقائد کے) منکر ہیں جب تک تم اللہ کی وحدانیت پر ایمان نہ ﻻؤ ہم میں تم میں ہمیشہ کے لیے بغض وعداوت ظاہر ہوگئی ‘‘[الممتحنۃ : 4 ]

    حتىٰ كہ اللہ عزوجل نے فرمايا:

    ﴿لَقَدْ كَانَ لَكُمْ فِيهِمْ أُسْوَةٌ حَسَنَةٌ لِّمَن كَانَ يَرْ‌جُو اللَّـهَ وَالْيَوْمَ الْآخِرَ‌ ۚ وَمَن يَتَوَلَّ فَإِنَّ اللَّـهَ هُوَ الْغَنِيُّ الْحَمِيدُ ﴾

    ’’ یقیناً تمہارے لیے ان میں اچھا نمونہ (اور عمده پیروی ہے خاص کر) ہر اس شخص کے لیے جو اللہ کی اور قیامت کے دن کی ملاقات کی امید رکھتا ہو، اور اگر کوئی روگردانی کرے تو اللہ تعالیٰ بالکل بےنیاز ہے اور سزا وار حمد وثنا ہے ‘‘۔ [الممتحنۃ:۶]

    الشيخ عبد العزيز بن باز.

    الشيخ عبد الرزاق عفيفى.

    الشيخ عبد اللہ بن غديان.

    الشيخ عبد اللہ بن قعود.

    ديكھيں: فتاوى اللجنۃ الدائمۃ للبحوث العلميۃ والافتاء ( 2 / 388 – 389(

    اور آخر ميں مستقل فتوى كميٹى كے علماء كا كہنا ہے:

    ’’جب بہرہ کے کبار علماء اور ان کے پیروکاروں کی صورت حال یہ ہے اور جو آپ نے اپنے سوال میں بیان کیا ہے: تو وہ کافر ہیں، وہ اسلام کے اصولوں پر ایمان نہیں رکھتے ہیں، اور نہ ہی اللہ کی کتاب اور اللہ کے رسول ﷺ کی سنّت سے کوئی ہدایت حاصل کرتے ہیں، اور ان لوگوں سے یہ بعید نہیں کہ وہ اللہ ،اس کی کتاب، اسکے رسولﷺ اور ان کی سنّت پر سچّے ایمان لانے والوں کو تکلیف دیں،جیسا کہ ہر امّت میں کفار نے اللہ کے ان پیغمبروں کو ظلم وستم کا نشانہ بنایا جواللہ کی طرف سے ان کی ہدایت ورہنمائی کے لئے بھیجے گئے تھے‘‘۔

    الشيخ عبد العزيز بن باز.

    الشيخ عبد الرزاق عفيفى.

    الشيخ عبد اللہ بن غديان.

    الشيخ عبد اللہ بن قعود.

    ديكھيں: فتاوى اللجنۃ الدائمۃ للبحوث العلميۃ والافتاء ( 2 / 390 ).

    بہرہ فرقے كے متعلق مزيد معلومات حاصل کرنے کے لئے خادم حسين الہى بخش كى كتاب( أثر الفكر الغربي في انحراف المجتمع المسلم بشبه القارة الهندية "( برصغير ميں مسلمان معاشرے كے انحراف پر مغربى فكر كے اثرات " كا مطالعہ ضرور كريں.

    سوم:

    ہم نے جو كچھ بيان كيا ہے اس سے سب مسلمانوں كے ليے واضح ہو جاتا ہے كہ: بہرہ فرقے كى عورتوں سے نكاح كرنا حرام ہے، اور اسى طرح ان كے مردوں سے اپنى عورتوں كى شادى كرنا بھى حرام ہے، اور يہ باطنى فرقہ ہے جو اسلامى اصولوں كى مخالفت كرتا اور اسلامى بنيادوں كو گراتا ہے.

    اور آپ كی بيوى كو چاہيے كہ يا تو وہ اس فرقہ سے مكمل طور پر واضح براءت كا اظہار كرے، اور جن فاسد عقائد پر وہ ہيں ان كى وجہ سے وہ انہيں كافر گردانے, وگرنہ آپ كا اس كے ساتھ رہنا حلال نہيں، اور آپ كا اس سے نكاح فسخ ہو گا، اور آپ كو اس كے كفر و ارتداد كا علم ہو جانے كے بعد اس كے ساتھ رہنا اور اس سے جماع كرنا زنا شمار ہو گا، يہ يہوديہ اور عيسائى عورت كى طرح نہيں؛ كيونكہ وہ تو اہل كتاب ميں شامل ہوتى ہيں، ليكن بہرہ فرقہ تو باطنى اور كافر ہے.

    واللہ اعلم .

    الاسلام سوال و جواب

    فیڈ بیک