طہارت کے احکام ومسائل

وصف

کتاب وسنت کی روشنی میں وضو، غسل اور طہارت کے احکام ومسائل

Download
اس پیج کے ذمّے دار کو اپنا تبصرہ لکھیں

کامل بیان

أحكام الطهارة و مسائلها

طہارت کےاحکام ومسائل

اعداد:

ابواسعد قطب محمد اثری

نظرثانی:

ذاکرحسین وراثت اللہ

ناشر

دفتر تعاون برائے دعوت وارشاد وتوعیۃ الجالیات ربوہ ، ریاض

فقہ اسلامی کے شرعی اصول و ضوابط

٭یقین شک کی بنیاد پرزائل نہیں ہوگا۔٭ ہر چیز میں طہارت اصل ہے سوائے ان چیزوں کے جن کے نجس ہونے پر شرعی دلیل موجودہے۔٭اصل برأت الذمہ ہے، الایہ کہ شرعی دلیل اس کے خلاف موجود ہو۔٭اصل اباحت ہے الا یہ کہ حرمت یا نجاست پر کوئی شرعی دلیل موجود ہو۔٭مشقت آسانی پیدا کرتی ہے۔٭ضرورتیں ممنوعہ چیزوں کو جائز کرتی ہیں ٭ قدرے ضرورت ضرورت کا اعتبار کیا جاتا ہے۔ ٭اگر آدمی کسی کام کی طاقت نہیں رکھتا تو اس پر وہ کام واجب نہیں۔٭ اشد ضرورت کے وقت حرام چیز استعمال کرنا بھی جائز ہے۔ ٭مفاسد کو دفع کرنا مصالح کے لانے پر مقدم ہے۔٭ اور جب دومصالح جمع ہو جائیں تو ان میں جو اعلی ہو اسے لیا جائے۔٭ جب دومفاسد جمع ہوجائیں تو جس میں کم نقصان ہو اسے اختیار کیا جائے گا۔ ٭نفی اور اثبات میں علت حکم کا اعتبار ہوتا ہے۔٭واجبات صرف مکلف (بالغ )لوگوں پر لازم ہیں۔٭ اتلافات مکلف اور غیر مکلف سب پر واجب ہیں۔٭عبادات میں اصل ممانعت ہے سوائے ان عبادات کے جن پر شرعی دلیل موجود ہے۔٭ اور معاملات میں اصل اباحت ہے،الا یہ کہ اس کی حرمت پر شرعی دلیل موجود ہو۔٭ اور عادات و معاملات میں اصل اباحت ہے سوائے ان عادات و معاملات کے جن کی حرمت پر شرعی دلیل موجود ہو۔٭ شرعی اوامر میں اصل وجوب ہے،الا یہ کہ مستحب یا اباحت پر شرعی دلیل موجود ہو۔ ٭نواہی میں اصل تحریم ہے الا یہ کہ مکروہ ہونے پر کوئی شرعی دلیل موجود ہو۔٭منافع میں اصل حلت ہے۔ ٭ اور نقصان دہ چیزوں میں اصل حرمت ہے ۔

شرعی اوامر کی بجا آوری کا حکم

اللہ کے اوامر آسان اور سہل ہیں،آدمی اپنی طاقت بھر انہیں انجام دے اور ان چیزوں سے مکمل اجتناب کرے جن سے اللہ نے منع کیا ہے ۔اللہ تعالی فرماتا ہے :

+ﮧ ﮨ ﮩ ﮪ ﮫ ﮬ ﮭ ﮮﮯﮰ" [التغابن: ١٦] "جہاں تک تم سے ہوسکے اللہ سے ڈرتے رہو اور سنتے اور مانتے چلے جاؤ اور اللہ کی راہ میں خیرات کرتے رہو جو تمہارے لئے بہتر ہے“۔

ابو ہریرہ b سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺنے فرمایا:

«دَعُونِي مَا تَرَكْتُكُمْ إِنَّمَا هَلَكَ مَنْ كَانَ قَبْلَكُمْ بِسُؤَالِهِمْ وَاخْتِلافِهِمْ عَلَى أَنْبِيَائِهِمْ فَإِذَا نَهَيْتُكُمْ عَنْ شَيْءٍ فَاجْتَنِبُوهُ وَإِذَا أَمَرْتُكُمْ بِأَمْرٍ فَأْتُوا مِنْهُ مَا اسْتَطَعْتُمْ» "جب تک میں تمہیں چھوڑے رہوں تم مجھے چھوڑے رہو،(یعنی کسی بات کی زیادہ کرید نہ کرو)اس لئے کہ تم سے پہلے جو لوگ گزر چکے ہیں اپنے (کثرت)سوال اور انبیاء پر اختلاف کرنے کی وجہ سے ہلاک ہوئے، پس اگر میں تم کو کسی چیز سے منع کردوں تو تم اس سے رک جاؤ اور اگر کسی چیز کا حکم دوستوں اپنی طاقت بھر اسے کرو“۔(صحیح البخاری:٧٢٨٨،صحیح مسلم:١٣٣٧)

عمل کی تباہ کاری

نماز و روزہ اور صدقات و خیرات جیسی نیکیاں کرنے کے وقت تین آفتیں در پیش ہوتی ہیں :

٭عمل کا دکھاوا ٭عمل پر عوض کا مطالبہ٭اپنے عمل سے رضامندی اور اس پر اعتماد ۔

١- عمل کے دکھاوے (ریاکاری)سے چھٹکارا:

جو شخص اپنے عمل کی ریا سے خودکوبچا لے،تو اسے یہ سمجھنا چاہئےکہ یہ اس پر اللہ کا احسان اور اس کے عطا کردہ توفیق میں سے ہے اور یہ اللہ کی جانب سےاور اس کی مدد سے وجود پذیر ہواورنہ بندے میں اس کی مجال کہاں۔

٢-عمل کے عوض کے مطالبے سے چھٹکارا:

جو شخص اپنے عمل کو عوض کے طلب سے بچا لیتا ہے ،تو معلوم ہو کہ وہ تو اپنے آقا کا محض ایک غلام بندہ ہے جو اس کی خدمت گزاری پر کسی اجرت کا حقدار نہیں ،ہاں اس کا آقا اگر اسے کچھ تھوڑا موڑا اپنی جانب سے نواز دے تو وہ آقا کی جانب سے احسان و نوازش ہے نہ کہ اس عمل کا بدلہ و عوض۔

٣- اپنے عمل پر شاداں ہونا اور اس پر اعتماد کرنا:

جو شخص اپنے عمل کو خود پسندی اور اس پر اعتماد سے اپنے آپ کو آزاد کرالے کیونکہ اس کی نگاہوں میں اس کے عیوب،عمل کی ادائیگی میں کوتاہیاں اور نفس و شیطان سے اس کی حفاظت اور حقوق الہی کی عظمتیں گردش کرتی ہیں۔اور یہ بھی پتہ ہے کہ بندہ عمل کے اکمل انداز میں بجاآوری میں وہ کس قدر نا تواں و عاجز ہے ۔ہم اللہ سے اخلاص ومدد اور استقامت کے طلبگار ہیں ۔

عمل کی حفاظت

عمل صالح کو بروئے کار لانا ہی کمال نہیں ،بلکہ اس کی شان تو یہ ہے کہ اسے تباہ و برباد کرنے والی چیز وں سے بچا لیا جائے،جیسے ریا کہ اگر وہ داخل ہو جائے تو عمل کو برباد کردے ،اس کے چند ایک دروازے ہیں جنہیں شمار کرنا مشکل ہے ،ایسے ہی جو عمل اتباع سنت سے مربوط و مقید نہ کیا جائے وہ بھی بربادی کا شکار ہو جاتا ہے اور ایسے ہی جس عمل پر دل سے اللہ پر احسان جتلایا جائے وہ اسے برباد کردیتا ہے ،بندوں کو اذیت پہونچا کر عمل کرنے سے اس میں نقص و کمی پیدا ہو جاتی ہے،ایسے ہی اللہ کے حکم کی جان بوجھ کر مخالفت کرنے اور اسے حقیر سمجھنے کی صورت میں عمل تباہی سے دو چار ہوجاتا ہے اس جیسی اوربھی بہت سی مثالیں ہیں۔

طہارت کے احکام و مسائل

طہارت کی لغوی تعریف:طہارت کا معنی ظاہری اور باطنی گندگی سےپاکی و صفائی حاصل کرنا۔

طہارت کی شرعی تعریف:ناپاکی ختم کرنا اور نجاست کو زائل کرنا۔

طہارت کی قسمیں

طہارت کی دو قسمیں ہیں:

١- ظاہری طہارت :

پانی سے وضو یا غسل کرنا اس کے علاوہ کپڑا،جسم اور جگہ کا نجاست سے پاک ہونا۔

٢- باطنی طہارت:

دل کا بری صفات سے پاک و صاف ہو نا مثلا شرک، کفر، غرورتکبر،خود پسندی،کینہ، حسد ،نفاق اور ریاء وغیرہ اور اس میں اچھی صفات سے لبریز ہونامثلا توحید،ایمان،سچائی،اخلاص یقین،توکل علی اللہ ،سخاوت اور احسان وغیرہ اور مزید اس کی تکمیل کثرت توبہ و استغفار اور ذکر الٰہی سے ہوتی ہے ۔

رب کی عبادت کے وقت بندے کی صورت:

اگر انسان کا ظاہر پانی سے پاک ہو جائے اور اس کا باطن توحید وایمان سے پاک ہو جائے تو اس کی روح پاکیزہ ہو جاتی ہے ،اس کا نفس عمدہ ہوجاتا ہے، اس کے دل میں چستی وپھرتی پیدا ہو جاتی ہے اور وہ بہت اچھی حالت میں اپنے رب سے مناجات کرنے کے لئے کچھ یوں تیار ہو جاتا ہے کہ اس کا جسم پاک ،اس کا دل پاک،اس کا لباس پاک اور وہ جگہ پاک اوریہ اللہ رب العالمین کے سامنے عبادت کرنے کے لئے پراثر عمدہ صفات و منتہائے آداب ہیں، اسی وجہ سے صفائی کو نصف ایمان قرار دیا گیا۔صفائی سے آدمی اللہ اور اس کے بندوں کے نزدیک محبوب بن جاتا ہے۔

اللہ تعالی فرماتا ہے : وَيَسَۡٔلُونَكَ عَنِ ٱلۡمَحِيضِۖ قُلۡ هُوَ أَذٗى فَٱعۡتَزِلُواْ ٱلنِّسَآءَ فِي

ٱلۡمَحِيضِ وَلَا تَقۡرَبُوهُنَّ حَتَّىٰ يَطۡهُرۡنَۖ فَإِذَا تَطَهَّرۡنَ فَأۡتُوهُنَّ مِنۡ حَيۡثُ أَمَرَكُمُ ٱللَّهُۚ إِنَّ ٱللَّهَ يُحِبُّ ٱلتَّوَّٰبِينَ وَيُحِبُّ ٱلۡمُتَطَهِّرِينَ " [البقرة: ٢٢٢] "اللہ تعالی توبہ کرنے والوں اور پاک رہنے والوں کو پسند فرماتا ہے“۔

ابو مالک اشعری سے روایت ہے کہ رسول اللہﷺ نے فرمایا: «الطُّهُورُ شَطْرُ الإِيمَانِ وَالْحَمْدُ لِلَّهِ تَمْلأُ الْمِيزَانَ»

"صفائی نصف ایمان ہےاورالحمد اللہ میزان کو بھر دیتا ہے“۔ (صحیح مسلم: ٢٢٣)

جسم اور روح کی سلامتی:

بدن اور روح سے اللہ نے انسان کی تخلیق فرمائی ہے۔ بدن کے اندردو طرف سے گندگی داخل ہوتی ہے، ایک اندر سے جیسے پسینہ، دوسرےباہر سے جیسےگرد وغبار،اس سے چھٹکارہ پانے کے لئے باربار دھوناضروری ہے ۔اسی طرح روح بھی دو طرف سے متأثر ہوتی ہے ایک ان امراض سے جو دلوں کے اندر پیدا ہوتے ہیں مثلا حسد،تکبر، دوسرے ان خارجی گناہوں کی پاداش میں جنہیں آدمی خود کرتا ہے مثلا ظلم،زنا،ایسی صورت میں روح کی عافیت وسلامتی کے لئےکثرت سے توبہ و استغفار کی ضرورت ہے۔

جن چیزوں سے طہارت حاصل ہوتی ہے

طہارت محاسن اسلام میں سے ہے طہارت مشروع طریقے سے پاک پانی کے استعمال کرنے یا پاک مٹی سے تیمم کرنےکا نام ہےتاکہ حدث اور نجاست دور کی جاسکے۔

طہارت دو چیزوں سے حاصل ہوتی ہے:

١- پانی

اوراس کی دو قسمیں ہیں :

٭پاک پانی:

پاک پانی وہ ہے جو اپنی اصلی حالت پر برقرار رہے جیسے بارش کا پانی ،سمندر کا پانی،ندی کا پانی ،پگھلنے والی برف یا جو پانی زمین سے خود نکلے یا کسی آلہ سے نکالا جائے چاہے وہ میٹھا ہو یا نمکین،گرم ہو یا ٹھنڈایہی وہ پاک پانی ہےجس سے طہارت حاصل کرنا جائز ہے۔جیسا کہ اللہ تعالی نے فرمایا: وَأَنزَلۡنَا مِنَ ٱلسَّمَآءِ مَآءٗ طَهُورٗا " [الفرقان: ٤٨] ''اور ہم نے آسمان سے پاک کرنے والا پانی اتارا ہے ''۔

٭نجس پانی:

نجس پانی وہ ہے جس کا رنگ یا مزہ یا بو نجاست کی وجہ سے تبدیل ہوجائے،چاہے وہ کم ہو یا زیادہ، اس پانی سے طہارت حاصل کرنا جائز نہیں۔

٭نجس پانی اس وقت پاک ہوجاتا ہے جب کہ اس کی تبدیلی خود بخود زائل ہو جائےیا وہ پانی نکال لیا جائے یا اس میں دوسرا پا نی ملا دیا جائے جس سے اس کی تبدیلی زائل ہو جائے۔

٭اگرپانی کی نجاست یا طہارت کے بارے میں مسلمان کو شک ہو تو وہ اصل پر بنا کرےکیونکہ اس کی اصل طہارت ہے جس پر شک سے کوئی فرق نہیں پڑے گا۔

٭اگرپاک پانی نجاست کے ساتھ مشتبہ ہو جائے اور اس کے علاوہ دوسرا پانی نہ ملے تو اگر غالب گمان یہ ہو کہ وہ پاک ہے تو اس سے وضو کر لے۔

٭اگرپاک کپڑے میں نجاست یا حرام چیز لگنے کا شبہ ہو اور اس کے علاوہ کوئی دوسرا کپڑا نہ ہو تو اجتہاد کر کے نماز پڑھ لے، اگر اس بات کا غالب گمان ہو کہ وہ پاک ہے اور اس کی نماز ان شاء اللہ صحیح ہوجائے گی۔

٢- پاک مٹی:

جس میں ریت ،مٹی ،پتھر،غبار سب داخل ہیں البتہ یہ اس وقت وضویا غسل کے قائم مقام ہوگی جب پانی میسر نہ ہو یا اس کے استعمال سے بیماری یا کوئی اور چیز مانع ہوجیسا کہ اللہ تعالی نے فرمایا:

+ ﯧ ﯨ ﯩ ﯪ ﯫ ﯬ" [النساء: ٤٣] "پانی نہ پاؤ تو پاک مٹی سے تیمم کر لو“۔

٭حدث اصغر یا حدث اکبر سے طہارت پانی سےحاصل ہوتی ہے اور اگر پانی نہ ملے تو تیمم کیا جائے ،اسی طرح اگر اس بات کا اندیشہ ہو کہ پانی استعمال کرنے سے نقصان پہنچے گا تو تیمم کیا جائے۔

٭بدن یا کپڑے یاجگہ پر لگی ہوئی نجاست کی طہارت پانی یا دوسرےسوائل(بہنےوالی چیز)یا پاک جامد چیزوں سے ہوگی جوعین اس گندگی کو دور کردے،مثلا،بھاپ،کیمیکل وغیرہ۔

سونے چاندی کے برتنوں اور کفار کے لباس کے استعمال کا حکم:

سونےاورچاندی کے برتنوں میں کھانا،پینا،مرداورعورت دونوں کے لئے حرام ہےاوراس کے ہر قسم کے استعمال پر پابندی ہے، البتہ عورتیں اس کا زیوربنا سکتی ہیں اور مرد چاندی کی انگوٹھی پہن سکتے ہیں،اسی طرح ضرورت کے وقت سونے یا چاندی کے دانت یا ناک لگوائے جا سکتے ہیں۔جیسا کہ حذیفہ بن یمان b سے روایت ہے کہ رسو ل اللہ ﷺ نے فرمایا :

«لا تَلْبَسُوا الْحَرِيرَ وَلا الدِّيبَاجَ وَلاتَشْرَبُوا فِي آنِيَةِ الذَّهَبِ وَالْفِضَّةِ وَلا تَأْكُلُوا فِي صِحَافِهَا فَإِنَّهَا لَهُمْ فِي الدُّنْيَا وَلَنَا فِي الآخِرَةِ» "تم خالص ریشم اور دیباچ نہ پہنو، اور نہ سونے اور چاندی کے برتن میں پیؤ اور نہ سونے اور چاندی کی رکابیوں میں کھانا کھاؤ کیونکہ وہ دنیا میں کافروں کے لئے ہے، اور ہمارے لئے آخرت میں ہے“۔(صحیح البخاری:٥٤٢٦،صحیح مسلم: ٢٠٦٧)

اور ایک دوسری حدیث میں ام المومنین ام سلمہ c بیان فرماتی ہیں کہ رسول اللہ ﷺنے فرمایا:

«الَّذِي يَشْرَبُ فِي إِنَاءِ الْفِضَّةِ إِنَّمَا يُجَرْجِرُ فِي بَطْنِهِ نَارَ جَهَنَّمَ» "جو شخص چاندی کے برتن میں پیتا ہے، وہ اپنے پیٹ میں گویا دوزخ کی آگ گٹ گٹ اتارتا ہے“۔ (صحیح البخاری: ٥٦٣٤،صحیح مسلم: ٢٠٦٥)

وضو وغیرہ کرنے کے لئے ہر پاک برتن استعمال کرنا جائز ہے اگر وہ غصب کیا ہوا یا سونے چاندی کا نہ ہو اور اگر وہ غصب کیا ہوا ہے یا سونے چاندی کا برتن ہے تو اس کا بنانا اور استعمال کرنا حرام ہے لیکن اگر کسی نے سونے یا چاندی کے برتن میں وضو کر لیا تو اس کو گناہ ملے گا لیکن اس کا وضو صحیح ہوجائے گا۔

کفار کے برتنوں اور کپڑے کا حال اگر معلوم نہ ہو تو اس کو استعمال کرنا جائز ہے کیونکہ اصلاوہ پاک ہے لیکن اگر نجاست کی موجود گی کا پتہ چل جائے تو پانی سے اس کا دھونا واجب ہے۔

نجاست اور اس کے ا قسام و احکام :

مسلمانوں پر جن نجاستوں کو دور کرنا اور ایک یا کئی بار دھو کر اس کے اثر کو زائل کرنا ضرور ی ہے وہ یہ ہیں :

آدمی کا پیشاب اور پا خانہ،بہنےوالاخون،حیض اور نفاس کا خون ، ودی،مذی،مردار( سوائےمچھلی اورٹڈی کے)سور کا گوشت، ان جانوروں کا پیشاب اور گوبر جن کا گوشت کھانا حرام ہے جیسے خچر گدھا وغیرہ اورکتے کا لعاب اس کو سات مرتبہ دھویا جائے پہلی بار مٹی سے۔ جیسا کہ ابو ہریرہ b سے روایت ہے کہ رسو ل اللہﷺنے فرمایا: «طَهُورُ إِنَاءِ أَحَدِكُمْ إِذَا وَلَغَ فِيهِ الْكَلْبُ أَنْ يَغْسِلَهُ سَبْعَ مَرَّاتٍ أُولاهُنَّ بِالتُّرَابِ» "تم میں سے کسی کے برتن کی پاکی جب کہ کتا منہ ڈال کر اس میں سے پئے یہ ہے کہ اسے سات بار دھوئے جس میں پہلی بار مٹی سے دھوئے“۔(صحیح البخاری:١٧٢،صحیح مسلم: ٢٧٩)

٭اگر جوتے یا موزے میں نجاست لگ جائے تو اس کو پاک کرنے کاطریقہ یہ ہے کہ اسے زمین پر اس طرح رگڑ دیا جائے کہ نجاست کا اثر زائل ہو جائے۔

قضائے حاجت کے آداب

استنجاء کا معنی:پیشاب اور پاخانے کے راستے سے نکلنے والی ہر چیز کو پانی سے زائل کرنے کو استنجا کہتے ہیں۔

استجمارکا معنی:ڈھیلہ یا پتھر یا کاغذ وغیرہ سے پا خانہ اور پیشاب کے راستوں سے نکلنے والی چیزوں کو زائل کرنے کو استجمار کہتے ہیں۔

بیت الخلاء میں داخل ہونے اور نکلتے وقت کتنی باتوں کو ملحوظ رکھے :

(الف)بیت الخلاء جاتے وقت پہلے بایاں پاؤں اندر کرنااور بسم اللہ کہنا اور یہ دعا پڑھنا: «اللَّهُمَّ إِنِّي أَعُوذُ بِكَ مِنْ الْخُبُثِ وَالْخَبَائِثِ» "اے اللہ میں نر اور مادہ جنوں سے تیری پناہ طلب کرتا ہوں“سنت ہے(صحیح البخاری: ۱۴۲)۔

(ب)بیت الخلاء سے نکلنے کے وقت اپنا دایاں پاؤں پہلے باہر نکالنا اور"غفرانک“کہنا سنت ہے۔(سنن ابی داود:٣٠ ،سنن الترمذی : ٧،صحیح )

٭مسجد میں داخل ہونے کے وقت اور کپڑا اور جوتا پہننے کے وقت داہناپاؤں یا ہاتھ پہلے داخل کرنا سنت ہے، اور مسجد سے نکلنے کے وقت اور کپڑا اور جوتا نکالنے کے وقت بایاں پاؤں یا ہاتھ پہلے نکالنا سنت ہے ۔

٭جو شخص میدان یا صحراء میں قضائے حاجت کے لئے جائے اس کے لئےسنت یہ ہے کہ اتنی دور نکل جائے کہ لوگوں کی نظروں سےاوجھل ہوجائے اورآڑ کر کے بیٹھےاور ایسی نرم زمین میں بیٹھے کہ پیشاب کے چھینٹوں سے ناپاک نہ ہو۔

٭حمام میں مصحف (قرآن کریم)لے جانا جائز نہیں اور نہ حمام میں بات چیت درست ہے، الایہ کہ کسی ضرورت سے کلام کیا جائے مثلا کسی بھٹکے ہوئے کی رہنمائی کر رہا ہو یا پانی مانگ رہا ہو۔

٭حمام میں کوئی ایسی چیز لے جانا جس میں اللہ کا نام ہوجائز ہے مگر نہ لے جانا افضل ہے، حمام میں اور سوراخ میں پیشاب کرنا مکروہ ہے اور اسی طرح داہنے ہاتھ سے شرم گاہ چھونااور استنجا واستجمار کرنابھی مکروہ ہے،قضائے حاجت کے وقت زمین سے قریب ہونے سے پہلے کپڑااٹھانابھی مکروہ ہے،پیشاب و پا خانہ کرتے وقت سلام کا جواب دینا مکروہ ہے، ایسا شخص حاجت سے فارغ ہونے کے بعد وضو کرے، پھر سلام کا جواب دے۔

قضائے حاجت کے وقت قبلہ رخ ہونے کا حکم

٭ قضائے حاجت کے وقت قبلہ کی طرف چہرہ یا پیٹھ کر کے بیٹھناحرام ہے چاہے کھلے میدان میں ہو یا عمارت میں جیسا کہ ابو ایوب انصاری b سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺنے فرمایا:

«إِذَا أَتَيْتُمْ الْغَائِطَ فَلا تَسْتَقْبِلُوا الْقِبْلَةَ وَلا تَسْتَدْبِرُوهَا بِبَوْلٍ وَلا غَائِطٍ وَلَكِنْ شَرِّقُوا أَوْ غَرِّبُوا».

قَالَ أَبُو أَيُّوبَ فَقَدِمْنَا الشَّامَ فَوَجَدْنَا مَرَاحِيضَ قَدْ بُنِيَتْ قِبَلَ الْقِبْلَةِ فَنَنْحَرِفُ عَنْهَا وَنَسْتَغْفِرُ اللَّهَ. "جب تم قضاء حاجت کے لیے جاؤ ، تو نہ قبلہ کی طرف منہ کرو اور نہ پیٹھ۔ پیشاب کرنا ہو تب بھی اور پاخانہ کرنا ہو تب بھی ۔بلکہ پورب کی طرف کر لو ،یا پچھم کی طرف“۔ ابو ایوب کہتے ہیں ہم شام آئے تو ہم نے وہاں قبلہ رخ بنی ہوئی کھڈیاں دیکھیں تو (جتنا ممکن ہوتا ) ہم ٹیڑھے ہو کر بیٹھتے اور ہم اللہ سے استغفار کرتے۔(صحیح البخاری: ٣٩٤،صحیح مسلم: ٢٦٤)

٭مسجد میں ،راستے میں،نفع بخش سائے میں،پھل دار درخت کے نیچے گزر گاہوں پر اور اسی طرح عام راستوں پر جہاں لوگ آتے جاتے ہوں پیشاب پاخانہ کرنا منع ہے ۔

٭استجمار صرف تین پاک کرنے والے پتھروں سے ہونا چاہئےاور اگر تین پتھروں سے صاف نہ ہوتو تین سے زیادہ پتھر استعمال کرنے میں کوئی مضائقہ نہیں اور طاق استعمال کرنا سنت ہے مثلا تین پتھر یا پانچ پتھر وغیرہ۔

٭ہڈی ،لید ،کھانایا کسی محترم چیز سے استنجاء کرناحرام ہے ۔

٭پاخانہ ،پیشاب کو پتھروں،ٹیشو پیپر اورورق سے زائل کیا جائے، لیکن پانی استعمال کرنا افضل ہے، اس لئے کہ اس سے اچھی طرح صاف ہوتا ہے ۔

٭کپڑے میں جس جگہ نجاست لگ جائے اس کو پانی سے دھونا ضروری ہےاور اگرنجاست کی جگہ کا پتہ نہ چل سکے تو پورا کپڑا دھویاجائے ۔

٭بچے کےپیشاب پر چھینٹا مارا جائے، اور بچی کے پیشاب کو دھویا جائے ،یہ اس وقت تک ہے جب تک کہ وہ کھانا نہ کھائیں اور جب کھانے لگیں تو دونوں کا پیشاب دھونا واجب ہے۔

٭آدمی پر واجب ہے کہ تمام نجاستوں سے اپنے آپ کو پاک و صاف رکھے جیسے پیشاب یا پا خانہ وغیرہ۔کیونکہ عبداللہ بن عباس d کہتے ہیں کہ رسو ل اللہﷺ دو قبروں کے پاس سے گزرے جن میں عذاب دیا جا رہا تھا آپ نے فرمایا:

«أَمَا إِنَّهُمَا لَيُعَذَّبَانِ وَمَا يُعَذَّبَانِ فِي كَبِيرٍ أَمَّا أَحَدُهُمَا فَكَانَ يَمْشِي بِالنَّمِيمَةِ وَأَمَّا الآخَرُ فَكَانَ لايَسْتَتِرُ مِنْ بَوْلِهِ قَالَ: فَدَعَا بِعَسِيبٍ رَطْبٍ فَشَقَّهُ بِاثْنَيْنِ، ثُمَّ غَرَسَ عَلَى هَذَا وَاحِدًا وَعَلَى هَذَا وَاحِدًا، ثُمَّ قَالَ: لَعَلَّهُ أَنْ يُخَفَّفُ عَنْهُمَا مَا لَمْ يَيْبَسَا» "دو قبروں کے پاس سے گذرے ، تو آپ نےفرمایا: یہ دونوں قبر والے عذاب دیئےجارہے ہیں اور انھیں کسی بڑے گناہ کے سبب عذاب نہیں دیا جا رہا ہے ، ایک تو اس وجہ سے عذاب سے دوچار ہے کہ وہ چغلخوری کرتا تھا (ایک کی بات دوسرے سے لگا کر لڑائی جھگڑا کراتا تھا ) اور دوسرا اس وجہ سے کہ وہ خود اپنے پیشاب سے بھی نہیں بچتا تھا (جس کی وجہ سے نجس رہتا تھا ) راوی کہتے ہیں: پھر آپ نے ہری ٹہنی منگوائی اسے چیر کر دو حصے کر لیے اور ایک اس قبر پرایک اس قبر پر گاڑ دیئے ، پھر فرمایا : توقع ہے کہ جب تک یہ نہ سوکھیں ان کا عذاب ہلکا ہو جائے“(صحیح البخاری :١٣٦١،صحیح مسلم :٢٩٢)

فطری سنتیں

اللہ تعالی نے انسانی تخلیق میں انسان کے لئے کچھ خصوصی اور فطری سنتیں بنائی ہیں جس کو بروئے کار لا کر وہ انسانیت کے بلند درجے پر فائز ہوتا ہے اور صفائی و ستھرائی کے اعلی معیار پر قائم ہوتا ہے جس کے بدولت وہ اللہ کے اور بندوں کی نظروں میں محبوب ہوجاتا ہے اور وہ چند ایک ہیں جن کی تفصیل درج ذیل سطور میں کچھ یوں ہے ۔

١- مسواک کرنا :

٭مسواک کی لغوی تعریف :دانت کا ملنا یا دانت ملنے کا آلہ ۔

٭مسواک کی اصطلاحی تعریف:مسواک اس لکڑی (پیلو، زیتون یا نیم کی ٹہنی)یا اس جیسی چیز (جیسے برش وغیرہ)کو کہتے ہیں جسے دانت یا مسوڑھے کی زردی اور بدبوو میل کچیل مٹانے کی خاطر استعمال کیا جاتا ہے ۔یہ منہ کی صفائی اور رب کی رضا کا اچھا نسخہ ہے۔

مسواک کرنے کا طریقہ:

آدمی اپنے دائیں یا بائیں ہاتھ سے مسواک پکڑے، اور اسے اپنے مسوڑھوں اور دانتوں پر پھرائے، اورمنہ میں دائیں جانب سے بائیں جانب لے جائے، اور کبھی کبھی زبان کے کنارے بھی مسواک رگڑے۔

مسواک کرنے کے مستحب اوقات :

مسواک کرنا ہر وقت مسنون ہے اور بالخصوص ہر وضوکے وقت اورہرنماز کے وقت، اور قرآن کی تلاوت کرتے وقت، اور گھر میں داخل ہونے کے وقت، اور جب رات میں سو کر اٹھے یا جب اپنے منہ کی بدبومحسوس کرے تب جیسا کہ ابو ہریرہ b سے روایت ہے کہ رسو ل اللہ ﷺ نے فرمایا: «لَوْلا أَنْ أَشُقَّ عَلَى الْمُؤْمِنِينَ وَفِي حَدِيثِ زُهَيْرٍ عَلَى أُمَّتِي لأَمَرْتُهُمْ بِالسِّوَاكِ عِنْدَ كُلِّ صَلاةٍ» ''اگر مجھے یہ ڈر نہ ہوتا کہ میں مسلمانوں کو مشقت و پریشانی میں ڈال دوں گا تو میں ان کو حکم دیتا کہ وہ ہر صلاۃ کے وقت مسواک کیا کریں'' (زھیر کی حدیث میں ''عَلَى الْمُؤْمِنِينَ''کے بجائے ''علی امتی'' کے الفاظ ہیں ) (صحیح البخاری،٨٨٧،مسلم:٢٥٢)

مسواک کرنے کی فضیلت:

٭ام المومنین عائشہ c بیان فرماتی ہیں کہ رسو ل اللہ ﷺ نےفرمایا:

«السواك مطهرة للفم مرضاة للرب» "مسواک کرنا منہ کی صفائی اور رب کی خوشنودی کا ذریعہ ہے “ (صحیح الترغیب:٤٠٩)

مسواک کے متعلق رسول اکرمﷺکا معمول:

٭حذیفہ b فرماتے ہیں کہ نبی کریم ﷺ جب رات کو اٹھتے تو مسواک کرتے ۔(صحیح البخاری:٢٤٥،صحیح مسلم:٢٥٥)

٭شریح رحمہ اللہ بیان فرماتے ہیں کہ میں نے ام المؤمنین عائشہ c سے پوچھا کہ رسول مکرم ﷺ جب گھر میں داخل ہوتے تو سب سے پہلے کیا کام کرتے ،تو ام المومنین عائشہ c نے فرمایا کہ آپﷺ مسواک کرتے تھے (صحیح مسلم:٢٥٣)

٢- ختنہ کرانا: ختنہ کی تعریف:عضو تناسل کے سپاری ڈھانپنے والے چمڑے کے کاٹنے کو ختنہ کہتے ہیں۔

ختنہ کا حکم: ختنہ مردوں پر واجب ہے اور عورتوں کے لئے سنت ہے ۔

ختنہ کے فوائد:

یہ رسول اللہ ﷺ کے حکم کی اتباع اور ابراہیم علیہ السلام کے سنت کی پیروی ہے،مسلمان کی پہچان ہےاور عضو تناسل میں جمع ہونے والی میل و کچیل اور پیشاب جیسی چیزوں کے جمع ہونے سے صفائی ہے ۔

٣- مونچھ کاٹنا اور داڑھی بڑھانا:

داڑھی بڑھانے،اسے چھوڑے رکھنے،اسے معاف کرنےاور مونچھ کاٹنے کے متعلق متعدد احادیث وارد ہوئی ہیں جیسا کہ عبداللہ بن عمر d سےمروی ہےفرماتے ہیں کہ رسول اللہﷺ نے فرمایا: «خَالِفُوا الْمُشْرِكِينَ،وأَحْفُوا الشَّوَارِبَ وَأَوْفُوا اللِّحَى» "تم لوگ مشرکوں کی مخالفت کرو،مونچھیں کترواورداڑھیاں چھوڑو“ (صحیح البخاری:٥٨٩٢و صحیح مسلم:٢٥٩)

داڑھی چھوڑنے اور مونچھ کترنے میں حسن و جمال اور مردانگی کا مظہر ہے اور اس کے بر عکس عمل پر نبی کریمﷺ کی ہدایت کی مخالفت اور اللہ اور اس کے رسول کے دشمنوں کی تقلید ،مردانگی کے اعلی معیار کا ضیاع اور عورتوں کی شناخت ہے جیسا کہ ایک شاعر نے کہا :

وما عجب أن النساء ترجلت
ولكن تأنيث الرجال عجيب

تعجب خیز یہ نہیں کہ عورتوں نے مردوں کا بھیس اپنایا،لیکن عجوبہ تو یہ ہے کہ مرد عورت بن گئے۔

٤- ناف کے نیچے کا بال چھیلنا،بغل کا بال اکھاڑنا،ناخن کاٹنا اور انگلیوں کے جوڑوں کو دھونا:

ابو ہریرہ b سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: «الْفِطْرَةُ خَمْسٌ أَوْ خَمْسٌ مِنْ الْفِطْرَةِ الْخِتَانُ وَالاسْتِحْدَادُ وَتَقْلِيمُ الأَظْفَارِ وَنَتْفُ الإِبِطِ وَقَصُّ الشَّارِبِ» "پیدائشی سنتیں پانچ ہیں ،یا پانچ چیزیں پیدائشی سنت میں سے ہیں : ختنہ کرانا،زیرناف کےبال مونڈنا،بغل کا بال اکھاڑنا،ناخن کاٹنا اورمونچھ کاٹنا“۔(صحیح البخاری:٥٨٨٩،صحیح مسلم: ٢٥٧)

ام المومنین عائشہcسے روایت ہےکہ رسول اللہ ﷺ نےفرمایا: «عَشْرٌ مِنْ الْفِطْرَةِ قَصُّ الشَّارِبِ وَإِعْفَاءُ اللِّحْيَةِ وَالسِّوَاكُ وَاسْتِنْشَاقُ الْمَاءِ وَقَصُّ الأَظْفَارِ وَغَسْلُ الْبَرَاجِمِ وَنَتْفُ الإِبِطِ وَحَلْقُ الْعَانَةِ وَانْتِقَاصُ الْمَاءِ» "دس باتیں پیدائشی سنت ہیں مونچھیں کاٹنا ۔ داڑھی بڑھتے رہنے دینا ، مسواک کرنا ، ناک میں پانی ڈال کر چھینکنا ، ناخن کاٹنا ، انگلیوں کا پور پور دھونا ، بغل کے بال اکھیڑنا ، ناف کے نیچے کے بال مونڈدینا ، پانی بہانا یعنی: استنجا کرنا (یا وضو کے بعد شرم گاہ پر پانی کے چھینٹے مارنا )“۔(صحیح مسلم:٢٦١)

٥- سر کا بال درست کرنا:

اس میں تیل لگانا اور کنگھی کرنا البتہ سر کے بالوں کا کچھ حصہ مونڈانا اور کچھ چھوڑ دینا مکروہ ہے اور اگر کفار کی مشابہت اختیار کی جائے تو حرام ہے ۔

٦-بال کو مہندی وغیرہ سے رنگنا:

جابر بن عبداللہ d کہتے ہیں کہ رسو ل اللہ ﷺ کے پاس فتح مکہ کے دن ابو قحافہ کو لایا گیاان کے سر اور داڑھی کے بال ثغامہ (سفید پھولوں والا ایک درخت)کی طرح سفید تھے تورسول اللہ ﷺ نے فرمایا: «غَيِّرُوا هَذَا بِشَيْءٍ وَاجْتَنِبُوا السَّوَادَ» "اس کو کسی چیز سے بدل دو البتہ کالے خضاب سے بچنا“۔ (صحیح مسلم:٢١٠٢)

صفائی و ستھرائی کی مدت

انس b کہتے ہیں کہ ہمارے لئے مونچھ کا بال کاٹنے ، ناخن کاٹنے ،بغل کا بال اکھاڑنے ،ناف کے نیچے کا بال مونڈنے کے لئے وقت مقرر کیا گیا ہے وہ یہ کہ ہم چالیس دنوں سے زیادہ اسے نہ چھوڑیں۔ (صحیح مسلم :٢٥٨)

وضوکے احکام ومسائل

وضو کی لغوی تعریف:وضو مصدر ہے جو وضائۃسے ماخوذ ہے جس کا معنی خوبصورتی و نظافت ہے ۔

وضو کی شرعی تعریف:تعبد الہی کی خاطر مخصوص انداز میں مخصوص اعضائے جسم کو پاک پانی سے دھونا ۔

وضو کی فضیلت

ابو ہریرہ b کہتے ہیں: رسول اللہﷺ نے بلا ل bسے فجر کےوقت پوچھا: «يَا بِلالُ حَدِّثْنِي بِأَرْجَى عَمَلٍ عَمِلْتَهُ فِي الإِسْلامِ فَإِنِّي سَمِعْتُ دَفَّ نَعْلَيْكَ بَيْنَ يَدَيَّ فِي الْجَنَّةِ» قَالَ: مَا عَمِلْتُ عَمَلا أَرْجَى عِنْدِي أَنِّي لَمْ أَتَطَهَّرْ طَهُورًا فِي سَاعَةِ لَيْلٍ أَوْ نَهَارٍ إِلا صَلَّيْتُ بِذَلِكَ الطُّهُورِ، مَا كُتِبَ لِي أَنْ أُصَلِّيَ» ''اے بلال! مجھے اپنا سب سے زیادہ امید والا نیک کام بتاؤ جسےتم نے اسلام لانے کے بعد کیا ہے کیوں کہ میں نے جنت میں اپنے آگے تمہارے جوتوں کی چاپ سنی ہے؟۔ بلال b نے عرض کیا: میں نے تو اپنے نزدیک اس سے زیادہ امید کا کوئی کام نہیں کیا کہ جب میں نے رات یا دن میں کسی وقت بھی وضو کیا تو میں اس کے بعدوضو سے نفل صلاة پڑھتا رہتا جتنی میری تقدیرمیں لکھی گئی تھی''۔ (صحیح البخاری : ١١٤٩، مسلم:٢٤٥٨)

ابو ہریرہ b سے روایت ہے رسول اللہﷺنے فرمایا:

«إِذَا تَوَضَّأَ الْعَبْدُ الْمُسْلِمُ أَوْ الْمُؤْمِنُ فَغَسَلَ وَجْهَهُ خَرَجَ مِنْ وَجْهِهِ كُلُّ خَطِيئَةٍ نَظَرَ إِلَيْهَا بِعَيْنَيْهِ مَعَ الْمَاءِ أَوْ مَعَ آخِرِ قَطْرِ الْمَاءِ فَإِذَا غَسَلَ يَدَيْهِ خَرَجَ مِنْ يَدَيْهِ كُلُّ خَطِيئَةٍ كَانَ بَطَشَتْهَا يَدَاهُ مَعَ الْمَاءِ أَوْ مَعَ آخِرِ قَطْرِ الْمَاءِ فَإِذَا غَسَلَ رِجْلَيْهِ خَرَجَتْ كُلُّ خَطِيئَةٍ مَشَتْهَا رِجْلاهُ مَعَ الْمَاءِ أَوْ مَعَ آخِرِ قَطْرِ الْمَاءِ حَتَّى يَخْرُجَ نَقِيًّا مِنْ الذُّنُوبِ» "جب مسلمان بندہ یامومن بندہ(یہ شک ہے راوی کا ) وضو کرتا ہے اور منہ دھوتا ہے تواس کے منہ کے وہ سارے گناہ جنھیں اس نے اپنی آنکھوں سے دیکھاتھا پانی کے ساتھ بہہ جاتے ہیں ، یا پانی کے آخری قطرے کے ساتھ (یہ بھی راوی کو شک ہے) اور جب ہاتھ دھوتا ہے ، تو اس کے ہاتھوں کا ہر (چھوٹا ) گناہ جن کا اس کے ہاتھوں نے ارتکاب کیا ہو۔پانی کے ساتھ یا پانی کے آخری قطرے کے ساتھ نکل جاتا ہے۔ پھر جب وہ اپنے پیر دھوتا ہے تو اس کے پیروں کا ہر گناہ جو اس نے چل کر کیے تھے پانی کے ساتھ یاپانی کے آخری قطرے کے ساتھ نکل جاتے ہیں ، یہاں تک کہ(جب وہ وضو سے فارغ ہوتا ہے تو وہ ) گناہوں سے پاک و صاف ہو کر اٹھتا ہے“۔ (صحیح مسلم:٢٤٤)

نیت کی اہمیت

عمل کی صحت،اس کی قبولیت اور اس پر بدلہ ملنے کے لئے نیت شرط ہے ،نیت کی جگہ دل ہے نیت ہر عمل میں ضروری ہے رسول اللہ ﷺنےفرمایا: «إِنَّمَا الأَعْمَالُ بِالنِّيَّاتِ، وَإِنَّمَا لِكُلِّ امْرِئٍ مَا نَوَى» "بیشک تمام اعمال کا دارو مدار نیت پر ہےاور ہرعمل کا نتیجہ ہر انسان کو اس کی نیت کے مطابق ہی ملے گا“۔ (صحیح البخاری:١، صحیح مسلم: ١٩٠٧)

شریعت میں نیت کا مطلب:

شریعت میں نیت کا مطلب ہے اللہ سے قربت حاصل کرنے کے لئے عبادت کی ادائیگی کا عزم کرنا۔

نیت کی دو قسمیں ہیں:

١-عمل کی نیت : وضو یا غسل یا نمازوغیرہ کی نیت کرے۔

٢- جس کے لئے عمل کیا جائے اس کی نیت: وضو یا غسل یا نماز وغیرہ کےذریعے صرف اللہ سے قربت حاصل کرنے کی نیت کرے، اور یہ دوسری قسم پہلی قسم سے زیادہ اہم ہے ۔

قبولیت عمل کی شرط:

عمل کے قبول ہونے کی دو شرطیں ہیں :

1-ایک یہ کہ وہ عمل خالص اللہ کے لئے ہو ۔

2-دوسرے یہ کہ اس کو ایسے ہی کیا جائے جس طرح رسو ل اللہ ﷺ نے کیا ہے ۔

اخلاص کا معنی:

اخلاص کامطلب یہ ہے کہ بندے کے اعمال ظاہر و باطن میں یکساں اورصرف اللہ کے لئے ہوں اور اخلاص میں صدق کامطلب ہے کہ اس کاباطن اس کے ظاہر سے زیادہ آبادہو،بندہ جب اخلاص کے ساتھ اللہ کی عبادت کرتا ہے تو اللہ تعالی اس کے دل کو زندہ کر دیتا ہے اس کواپنی طرف کھینچ لیتا ہے،پھر وہ نیک کاموں سے محبت کرنے لگتا ہےاور معاصی سےنفرت کرنے لگتا ہے بر خلاف اس دل کے جس میں اخلاص نہ ہو تو وہ شوق و طلب اور چاہت بلکہ بسا اوقات سرداری و درہم و دینار کا دل دادہ ہو جاتا ہے ۔

وضو کی شرطیں

وضوکی درج ذیل آٹھ شرطیں ہیں

١-اسلامـــــکافر کا وضو صحیح نہیں

٢-عقلــــــپاگل کا وضو صحیح نہیں

٣-تمیزـــــــچھوٹا بچہ جو تمیز نہ کر پائے

٤-نیتـــــــبغیر نیت کےوضو صحیح نہیں جیسے ٹھنڈی حاصل کرنے یا نجاست زائل کرنے کے لئے دھلے

٥-پاک پانیـــــناپاک پانی سے وضو صحیح نہیں

٦-جائز پانیــــــغصب کئے گئے پانی یا غیر شرعی طریقے سے حاصل کئے گئے پانی سے وضو درست نہیں

٧-وضو سے پہلے استنجاء ہوا ہو

٨-چمڑے تک جو چیز پانی پہنچنے کے لئے مانع ہو اسے زائل کرنا جیسے نیل پالش،مٹی ،پینٹ وغیرہ۔

وضو کے فرائض

١- چہرہ دھونا یعنی پیشانی کے اوپر جہاں سے اصل میں بال اگتے ہیں وہاں سے ٹھوڑی کے اختتام تک اور ایک کان کی جڑ سے دوسری کان کی جڑ تک دھونا جیسا کہ اللہ نے فرمایا:

+ﭘ ﭙ" "اور اپنے چہرے دھوئے “اور اسی میں میں کلی کرنا اور ناک میں پانی ڈالنا بھی ہے کیونکہ منہ اور ناک یہ چہرے کا حصہ ہے ۔

٢- دونوں ہاتھوں کو کہنیوں تک دھوناجیسا کہ اللہ نے فرمایا:

+ﭚ ﭛ ﭜ" "اور اپنے ہاتھوں کو کہنیوں تک دھوؤ“۔

٣- سر کا مسح کرنا یعنی پیشانی کے بالوں سے گدی تک جیسا کہ اللہ نےفرمایا: +ﭝﭞ" "اور اپنے سروں کا مسح کرو“ا س میں دونوں کانوں کا مسح بھی ہے کیونکہ یہ بھی سر کا حصہ ہے۔

٤- دونوں پیروں کو ٹخنوں تک دھوناجیسا کہ اللہ نے فرمایا:

+ﭟ ﭠ ﭡﭢ" "اور ٹخنوں تک اپنے پاؤں دھوؤ“۔(المائدۃ: ۶)

٥-اعضائے سابقہ کے درمیان ترتیب کا خیال رکھنا جیسا کہ قرآن کی آیت میں اس کی ترتیب ہے ۔

٦ـاعضاء کو پے در پے دھونایعنی طویل وقفہ یا انقطاع نہ ہو۔

وضوکی سنتیں ومستحبات:

١-بسم اللہ کہنا،٢-مسواک کرنا،٣-دونوں ہتھیلیوں کو تین مرتبہ دھونا، ٤-چہرہ دھونے سے پہلے کلی کرنا اور ناک میں پانی ڈالنا، ٥-گھنی داڑھی میں خلال کرنا، ٦-داہنے اعضاکو پہلے دھونا،٧-دو اور تین مرتبہ دھونا، ٨-وضو کے بعددعا پڑھنا،٩- اور وضو کے بعد دو رکعت نماز پڑھنا۔

وضو میں استعمال ہونے والے پانی کی مقدار

وضو میں سنت یہ ہے کہ تین مرتبہ سے زیادہ اعضاء نہ دھوئے اور ایک مد(٦٢٥گرام) سے وضو کرے اور زیادہ پانی نہ خرچ کرے، اورجس نے زیادہ پانی خرچ کیا اس نے غلط کام کیا اور حد سے تجاوز کیا ۔

آداب وضو:

جو شخص نیند سے بیدار ہو اور برتن سے وضو کرنا چاہے وہ اپنی ہتھیلی تین مرتبہ دھولے اس لئے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا :

«وَإِذَا اسْتَيْقَظَ أَحَدُكُمْ مِنْ نَوْمِهِ فَلْيَغْسِلْ يَدَهُ قَبْلَ أَنْ يُدْخِلَهَا فِي وَضُوئِهِ فَإِنَّ أَحَدَكُمْ لا يَدْرِي أَيْنَ بَاتَتْ يَدُهُ» ''جب تم میں سے کوئی شخص نیند سے بیدار ہو تو وہ اپنا ہاتھ برتن میں اس وقت تک نہ ڈالے جب تک کہ اسے تین مرتبہ نہ دھو لے اس لئے کہ وہ نہیں جانتا ہے کہ اس کے ہاتھ نے کہاں رات گزاری ہے'' ۔(صحیح البخاری:١٦٢،صحیح مسلم: ٢٧٨)

کامل وضو کا طریقہ

آدمی وضو کی نیت کرے،پھر بسم اللہ کہے، پھر اپنی دونوں ہتھیلیوں کو تین مرتبہ دھوئے ،پھر ایک ہی ہتھیلی سے کلی کرےاور ناک میں پانی ڈالے، ہتھیلی کا آدھا پانی منہ میں ڈالے اور آدھا ناک میں ڈالے وہ ایسا تین مرتبہ چلو میں کرے، پھر اپنا چہرہ تین مرتبہ دھوئے، پھر اپنا دایاں ہاتھ کہنی سمیت تین مرتبہ دھوئے، پھر اپنے دونوں ہاتھوں سے ایک مرتبہ سر کے اگلے حصے سے پچھلے حصے تک مسح کرے، پھر دونوں ہاتھوں کو اسی جگہ لوٹائے جہاں سے شروع کیا تھا، پھر اپنی شہادت کی دونوں انگلیوں کو دونوں کانوں کے اندر داخل کرے اور دونوں انگوٹھوں سے کان کے اوپر مسح کرے ،پھر اپنا دایاں پیر ٹخنوں سمیت تین مرتبہ دھوئے، پھر بایاں پیر بھی اسی طرح دھوئے، پھر وہ دعا پڑھے جو حدیث میں آئی ہے اس کا بیان ان شاء اللہ آگے آئے گا۔

نبی مکرمﷺکے وضو کی کیفیت

عثمانb کے غلام حمران کہتے ہیں کہ انہوں نے عثمان بن عفان b کو دیکھا انہوں نے ایک برتن(میں پانی)منگایا ،انہوں نے اپنی ہتھیلیوں پر تین مرتبہ پانی ڈالا، پھر کلی کی اور ناک میں پانی ڈالا، پھر اپنامنھ تین مرتبہ دھویااور دونوں ہاتھوں کو کہنیوں تک تین مرتبہ دھویا، پھر اپنے سر کا مسح کیا، پھر اپنے دونوں پیروں کو ٹخنوں تک تین مرتبہ دھویا، پھر کہنے لگے کہ رسو ل اللہ ﷺ نے فرمایا ہے :

«مَنْ تَوَضَّأَ نَحْوَ وُضُوئِي هَذَا، ثُمَّ صَلَّى رَكْعَتَيْنِ لا يُحَدِّثُ فِيهِمَا نَفْسَهُ غُفِرَ لَهُ مَا تَقَدَّمَ مِنْ ذَنْبِهِ» "جس نے میرے اس وضو کی طرح وضو کیا پھر دو رکعت نماز پڑھی (تحیۃ الوضوء)جس کے دوران اس کے دل میں کسی قسم کا دنیاوی خیال نہ آیا ہو تو اس کے اگلے گناہ بخش دئیے جائیں گے “۔(صحیح البخاری: ١٥٩،صحیح مسلم: ٢٢٦)

٭رسو ل اللہ ﷺ سے یہ ثابت ہے کہ آپ نے ایک ایک بار،دو دو بار اور تین تین بار اور ہاتھوں کو دو،دو بار اور پیروں کو ایک ایک بار دھویا ہے یہ سب سنت ہے،آدمی کو چاہئے کہ کبھی یہ کرے کبھی وہ کرے تاکہ سنت زندہ ہوجیسا کہ متعدد حدیثوں میں یہ کیفیت مذکور ہے: عبداللہ بن عباس d کہتے ہیں کہ نبی کریمﷺ نے وضو میں ایک ایک بار اعضائے وضو کو دھویا۔(صحیح البخاری:١٥٧)

ایک دوسری حدیث میں عبد اللہ بن زیدdکہتے ہیں کہ نبی اکرمﷺنے وضو میں اعضاء کو دو دو بار دھویا۔(صحیح البخاری : ١٨٥)

٣- عثمان b سےمروی حدیث میں ہے: «أنّ النبي تَوضأ ثَلاثًا ثلاثًا» " نبی مکرم ﷺنے اعضائے وضو کوتین تین بار دھویا“ (صحیح مسلم:2٣٠)

کامل وضو کرنے کا مفہوم:

اللہ کے نبی ﷺ نے فرمایا: «إِنَّهَا لا تَتِمُّ صَلاةُ أَحَدِكُمْ حَتَّى يُسْبِغَ الْوُضُوءَ كَمَا أَمَرَ[هُ] اللَّهُ عَزَّ وَجَلَّ» ''تم میں کسی کی کامل نماز اس وقت نہیں ہوگی جب تک کہ وہ اللہ کے حکم کے مطابق کامل وضو نہ کرے''(سنن أبی داود:٨٥٨)

کامل وضو کرنے کا قطعا یہ مطلب نہیں کہ بہت زیادہ پانی انڈیلا جائے۔بلکہ حسب ضرورت پانی استعمال کرتے ہوئے تمام اعضائے وضو تک پانی پہنچایا جائے اور اس کا کوئی جز خشک نہ رہے کیونکہ ناخن کے مقدار میں بھی سوکھا رہ گیا تو وضو نہ ہوگا ۔(صحیح مسلم:٥٥٧)

اور وضو و نماز دونوں باطل ہو جائیگی(ابو داود:١٥٧)بلکہ مستحق عذاب بھی ہو جائے گا۔(صحیح البخاری:١٦٥،صحیح مسلم:٥٧٢)

دائیں اور بائیں جانب کو مقدم کرنے کی جگہیں:

انسان کے افعال کی دو قسمیں ہیں:

١- ایک دائیں اور بائیں کے درمیان مشترک ہے، پس اگر کرامت والا معزز عمل ہے جیسے وضو کرنا، غسل کرنا ،لباس پہننا ،جوتا پہننا ،مسجد اور گھر میں داخل ہوناوغیرہ تو دائیں سے شروع کرے، اور اگر کرامت والا عمل نہیں ہے تو بائیں سے شروع کرے جیسے مسجد سے نکلنا،جوتا نکالنا ،بیت الخلاء میں جاناوغیرہ۔

٢- دوسرا ان دونوں میں سے کسی ایک کے ساتھ خاص ہے پس اگر وہ کرامت کے باب میں سے ہے تو دائیں ہاتھ سے کر ے جیسے کھانا ، پینا،مصافحہ کرنا،لینا دینا وغیرہ اور اگر وہ کرامت کے باب میں سے نہیں ہے تو بائیں ہاتھ سے شروع کرے جیسے استنجاء کرنا،شرم گاہ چھونا،ناک سے رینٹ صاف کرنا وغیرہ۔

جیسا کہ ایک حدیث ام المومنین عائشہ c سے مروی ہے کہتی ہیں کہ نبیﷺ کو ہر کام دائیں طرف سے شروع کرنا اچھا لگتا تھا،جوتا پہننے میں،کنگھی کرنے میں اور طہارت حاصل کرنے میں۔ (صحیح البخاری: ١٦٨،صحیح مسلم:٢٦٨)

٭وضو سے فارغ ہونے کے بعد شرم گاہ پر پانی کا چھینٹا مارے اور کسی کپڑے یا رومال سے اعضاء وضوکو پونچھ لے۔

وضو کے بعد کی دعا:

(ابوسعیدخدریb سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا:جس نے وضو کیا پھر یہ کہا: «سبحانك اللهم وبحمدك لاإله إلا أنت استغفرك وأتوب إليك» "توایک کاغذمیں اس کا یہ عمل لکھا جائے گا جس پر مہر لگا دی جائے گی اور وہ مہر قیامت کے دن تک نہیں توڑی جائے گی“۔(نسائی فی عمل الیوم واللیلۃ:٨١،الطبرانی فی الاوسط/١٤٧٨،ملاحظہ ہو: السلسلۃ الصحیحۃ: ٢٢٣٣)

ایک دوسری حدیث جوعقبہ بن عامر b سے مروی ہے اس میں رسول اللہ ﷺنے یہ دعا سکھائی :

«مَا مِنْكُمْ مِنْ أَحَدٍ يَتَوَضَّأُ فَيُبْلِغُ أَوْ فَيُسْبِغُ الْوَضُوءَ ثُمَّ يَقُولُ: أَشْهَدُ أَنْ لا إِلَهَ إِلا اللَّهُ وَأَنَّ مُحَمَّدًا عَبْدُ اللَّهِ وَرَسُولُهُ إِلا فُتِحَتْ لَهُ أَبْوَابُ الْجَنَّةِ الثَّمَانِيَةُ يَدْخُلُ مِنْ أَيِّهَا شَاءَ» "جو شخص وضو مکمل ہونے کے بعدیہ دعا پڑھے گا: میں گواہی دیتا ہوں کہ اللہ کے سوا کوئی معبود برحق نہیں وہ اکیلا ہے اس کا کوئی شریک نہیں اور میں گواہی دیتا ہوں کہ محمدﷺاللہ کے بندے اور رسول ہیں تو اس کے لئے جنت کے آٹھوں دروازے کھول دیئے جائیں گے کہ وہ جس دروازے سے چاہے داخل ہو جائے“ (صحیح مسلم:٢٣٤)

وضو میں چار اعضاء دھونے کی حکمت:

اصل حکمت کا علم تو اللہ ہی کے پاس ہے لیکن ظاہری طور پر جو علم حاصل ہوتا ہے،اس سے پتہ چلتا ہے کہ گناہوں کے ارتکاب میں یہ دیگر اعضا کے مقابلے میں زیادہ متحرک و پیش پیش رہتے ہیں ، لہذا ان کی ظاہری طہارت کا حکم ان کی باطنی طہارت کا پتہ دیتا ہے،جیسا کہ نبی اکرمﷺ کی حدیث میں اس کی وضاحت ہے کہ جب ایک مسلمان اعضائے وضو کو دھوتا ہے تو اس سے سرزد ہونے والے گناہ پانی کےساتھ یا اس کے آخری قطرے کے ساتھ دھل جاتے ہیں ،پھر اس کے بعد نبی مکرمﷺ نے دعائے وضو کا حکم فرما کر ایمان کی تجدید فرمائی جس کا اشارہ ہے کہ بندے کو ظاہری و باطنی دونوں گندگیوں سے پاک کر دیا جائے لہذا اعضاء کے دھونے سے ظاہری پاکی اور شہادتیں سےباطنی (شرک سے)پاکی حاصل ہو جائے اس لئے جب ظاہری طہارت وضو سے اورباطنی طہارت توبہ و توحید سے حاصل ہو جائے تو بارگاہِ رب میں حاضری اور اس کے روبرو مناجات کا مزہ ہی کچھ اور ہے۔

وضومیں واقع ہونے والی چند غلطیاں

١-الفاظ کے ساتھ نیت کرنا بدعت ہے(الفتاوی الکبری:١/٢١٤)

٢-وضو سے پہلے استنجاء کو واجب سمجھنا بے بنیاد ہے ۔

٣-بسم اللہ کے ساتھ الرحمن الرحیم کا اضا فہ درست نہیں(المغنی لابن قدامہ١/١١٥)

٤-کانوں کے مسح کے لئے نیا پانی لینا حدیث سے ثابت نہیں(زاد المعاد:١/١٩٥)

٥-گردن کا مسح کرنا کسی صحیح حدیث سے ثابت نہیں (مجموع الفتاوی:٢١/١٢٧)

٦-وضو سے فارغ ہونے کے بعدآسمان کی طرف دیکھنا اور انگلی اٹھاناکسی بھی صحیح حدیث سے ثابت نہیں بلکہ ابو داؤد والی روایت ضعیف ہے (ضعیف ابو داود:٣١)

٧-وضو کے دوران اعضاء دھوتے ہوئے یا مسح کرتے ہوئے نبی کریمﷺ سے کوئی دعا ثابت نہیں اور اس بارے میں جتنی دعائیں بیان کی جاتی ہیں وہ بدعت ہیں (فتاوی اللجنۃ الدائمۃ :٥/٢٠٥)

٨- ضرورت سے زیادہ پانی استعمال کرنے کی ممانعت۔(ابن ماجہ: ٤٢٥)

موزوں،جرابوں اورپٹیوں پر مسح کے احکام

مسح کی تعریف:تعبد الہی کے خاطر مخصوص انداز میں موزوں پر ہاتھ پھیرنا ۔

مسح کی مشروعیت:

بندوں پر آسانی کی خاطر اللہ نے مقیم و مسافر لوگوں کو موزوں، پگڑیوں پر مسح کرنا مشروع قرار دیا ،تاکہ وضو کرنے والے ان کے نکالنے کی مشقت و دشواریوں سے بچ سکیں کیونکہ اللہ نے اس دین کو آسانی و سہولت کا دین بنایا ہے،موزوں پر مسح کی مشروعیت اللہ کے رسول اور صحابہ کرام سے عملا ثابت ہے ،جیسا کہ بلالbبیان فرماتے ہیں: «مَسَحَ عَلَى الْخُفَّيْنِ وَالْخِمَارِ»"رسول اللہﷺ نے موزوں اور پگڑی پر مسح کیا“ (صحیح مسلم:٢٧٥)

اور امام احمد بن حنبل رحمہ اللہ فرماتے ہیں :''مسح کے متعلق اللہ کے نبیﷺ سے چالیس (٤٠)حدیثیں مروی ہیں ۔(اعلام بفوائد عمدة الاحکام:١/٦١٥)

موزوں پر مسح کا حکم:

یہ رخصت ہے ،موزہ پر مسح کرنا اس کے نکالنے اور پیر دھونے سےافضل ہے،اس میں نبی ﷺ کی اقتدا اور اہل بدعت کی مخالفت ہے،آپ ﷺ کا معمول تھا کہ جب آپ کے پیر بلا موزے کے ہوتے تو انہیں دھوتے اور جب آپ موزے پہنے ہوتے تو اس پر مسح کرتے ۔

مقیم اور مسافر کے لئے مسح کرنے کی مدت:

مقیم کےلئے ایک دن اور ایک رات، اور مسافر کے لئے تین دن اور تین رات موزوں پر مسح کرنا جائز ہے جیسا کہ علی b کہتے ہیں: «جعل رسول الله × ثلاثة أيام ولياليهن للمسافر ويوما وليلة للمقيم» "رسو ل اللہ ﷺ نے مسافر کو تین دن اور تین رات، مقیم کو ایک دن اور ایک رات موزوں پر مسح کرنے کی اجازت دی ہے“ ۔(صحیح مسلم: ٢٧٦)

٭مسح کی مدت کی شروعات موزہ پہننے کے بعد پہلی بار مسح کرنے سے ہوگی۔

موزوں پر مسح کرنے کی شرطیں:

١- جومو زہ پہنا جائے وہ مباح اور پاک ہو،٢ـ اور طہارت(وضو) کی حالت میں پہنا گیا ہو،٣ـ اور مسح حدث اصغر میں ہوگا،٤ـ اور اس مدت میں کیا جائے گا جو مقیم یا مسافر کے لئے مقرر کی گئی ہے اسے اتارا نہ ہو،٥ـموزے اس حصے کو ڈھانکے ہو ں جس کا دھونا ضروری ہے۔

موزوں پر مسح کرنے کاطریقہ:

آدمی پانی سے اپنا ہاتھ بھگوئے، پھر اپنے دائیں ہاتھ سے دائیں پیر کے موزے کے اوپری حصہ پر اپنی انگلیوں سے پنڈلی تک ایک ہی مرتبہ مسح کرے، موزے کے نچلے حصے پر اور پیچھے مسح کرنے کی ضرورت نہیں ہےاور بائیں ہاتھ سےبائیں موزہ پر اسی طرح مسح کرے۔

موزوں پر مسح مندرجہ ذیل چیزوں سے باطل ہوجاتا ہے :

١-جب پیر سے موزہ نکال لیا جائے ۔

٢-جب غسل لازم ہوجائے ،جیسے غسل جنابت۔

٣-جب مسح کی مدت پوری ہو جائے ۔

٭لیکن مدت ختم ہونے کے بعد وضو اسی حالت میں ٹوٹے گا جب نواقض وضو میں سے کوئی چیز لاحق ہو جائے ۔

پگڑی اور دوپٹے پر مسح کی کیفیت

پگڑی پر مسح کرنا جائز ہے، اور ضرورت کے وقت عورت اپنے دوپٹہ پرمسح کر سکتی ہے، اور اس میں وقت کی کوئی قید نہیں ہے ۔

٭پگڑی یا دوپٹہ کے اکثر حصہ پر مسح کیا جائے، اور افضل یہ ہے کہ ان کو طہارت کی حالت میں پہنا جائے جیسا کہ عمرو بن امیہ b کہتے ہیں کہ میں نے رسول اللہ ﷺکو اپنی پگڑی اور موزوں پر مسح کرتے ہوئے دیکھا۔(صحیح البخاری:٢٠٥)

٭موزہ ،پائتابہ، جوتا،پگڑی اور دوپٹے پر مسح حدث اصغر میں ہے،جیسے پیشاب،پائخانہ، نیند وغیرہ اور مدت مسح میں جنبی ہو جائے تو پھر اس پر مسح نہیں کر سکتابلکہ اپنا پورا بدن دھوئے ۔

پٹی پر مسح کی کیفیت

ٹوٹی ہوئی ہڈی کے باندھنے کی لکڑی یا پٹی پر اس کے کھولنے تک مسح جائز ہے اگر چہ مدت لمبی ہوجائے یا اسے جنابت لاحق ہو یا اسے طہارت کی حالت میں نہ پہنا ہو اور اگر چہ اس کے بعض جزء ہی پر مسح ہو تب بھی کافی ہے۔

٭زخم اگر کھلا ہو تو پانی سے اس کا دھونا واجب ہے، اور اگر نقصان کا اندیشہ ہو تو پانی سے اس پر مسح کرے اور اگر پانی سے مسح کرنا دشوار ہو تو تیمم کرے اور اگر زخم چھپا ہوا ہو تو پانی سے اس پر مسح کرے، اور اگر ایسا کرنا دشوار ہو تو تیمم کرے ۔

اس مسافر کے لئے مسح کی مدت کی کوئی تحدید نہیں جس کے لئے موزہ بار بار پہننا اور نکالنا دشوار ہو مثلامسلمانوں کی ڈاک ڈھونے والے ،یاکسی ہنگامی صورت (ایمرجنسی )میں لوگوں کے بچاؤ کےخاطر کام کرنے والے۔

وضو کو توڑنے والی چیزیں

وضو کے شروط اور اس کے فرائض و سنن اورمکمل کیفیت کی معرفت کے بعداس بات کی اشد ضرورت ہے کہ ان چیزوں کی بھی معرفت حاصل کر لی جائے جن سے یا تو وضو فاسد ہوجاتا ہے یا ٹوٹ جاتا ہے اور ایسا نہ ہو کہ بندہ اسی حالت میں عبادت کرتا رہے اور اس کی ساری عبادتیں رائیگا ں اور بیکار ہو جائیں اور وہی چیزیں جو وضو کو برباد کرتی ہیں ان کے چند نام ہیں،مثلا مفسدات ،نواقض اور مبطلات اور یہ عموما پیشاب اور پاخانے دونوں کے راستے نکلنے والی چیزیں ہوتی ہیں ،اس لئے ان کی تفصیلات درج ذیل سطور میں لکھی جا رہی ہیں۔

وضو مندرجہ ذیل چیزوں سے ٹوٹ جاتا ہے :

١- دونوں راستوں سے نکلنے والی چیزیں مثلاپیشاب،پاخانہ، ہوا، منی،مذی اور خون وغیرہ جیسا کہ ابو ہریرہ b سے مروی ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: «لاتُقْبَلُ صَلاةُ مَنْ أَحْدَثَ حَتَّى يَتَوَضَّأَ» "اللہ تعالی تم میں سے کسی کی نماز قبول نہیں فرماتا جبکہ اسے حدث لاحق ہو،جب تک کہ وہ وضو نہ کر لے“ (صحیح البخاری:١٣٥، صحیح مسلم:٢٢٥)

٢- وہ گہری نیند جس سے عقل زائل ہو جائےیا جب آدمی بیہوش ہوجائے یا نشہ میں ہو جائے جیسا کہ علی b سے مروی ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: «الْعَيْنُ وِكَاءُ السَّهِ، فَمَنْ نَامَ فَلْيَتَوَضَّأْ» آنکھیں دبر کا تسمہ ہیں لہذا جو سو جائے وہ وضو کرے (صحیح ابن ماجہ :٤٨٦)حسن۔

٣- بلا حائل آدمی اپنا ذکر(عضو تناسل) چھوئے یا عورت اپنا فرج(شرم گاہ) چھوئے اللہ کے رسول ﷺ نے فرمایا:

«مَنْ مَسَّ ذَكَرَهُ فَلْيَتَوَضَّأْ» "جس شخص نے اپنا آلہ تناسل چھوا وہ وضو کرے “(سنن أبی داود:١٨١،صحیح)

٤- ہر وہ چیز جس سے غسل واجب ہوتا ہے جیسے جنابت ،حیض اور نفاس ۔

٥- اگر مرتد ہوجائے ۔

٦-اگر اونٹ کا گوشت کھائے جابر بن سمرہ b کہتے ہیں کہ ایک شخص نے رسول اللہ ﷺ سے پوچھا کہ کیا بکری کا گوشت کھانے کے بعد (نئے طریقے سے)وضوکرنا ضروری ہے ؟آپ نے فرمایا: «إِنْ شِئْتَ فَتَوَضَّأْ وَإِنْ شِئْتَ فَلا تَوَضَّأْ قَالَ أَتَوَضَّأُ مِنْ لُحُومِ الإِبِلِ قَالَ نَعَمْ فَتَوَضَّأْ مِنْ لُحُومِ الإِبِلِ» "اگر تم وضو کرنا چاہو تو کرو، اور اگر نہ کرنا چاہو تو نہ کرو، اس نے کہا: کیا اونٹ کے گوشت سے وضو کیا جائے گا؟آپ نے فرمایا: ہاں تم اونٹ کے گوشت سے وضو کرو“۔(صحیح مسلم: ٣٦٠)

طہارت میں شک ہونے پر کب وضو کرے:

جس کو طہارت کے بارے میں یقین ہو، اور حدث کے بارے میں شک ہو، وہ یقین پر بنا کرے اسے وضو کرنے کی ضرورت نہیںاور جیسے حدث پر یقین ہو اور طہارت میں شک ہو تو یقین پر اعتبار کرتے ہوئے دوبارہ وضو کرے گاجیسا کہ ابو ہریرہ b سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا :

«إِذَا وَجَدَ أَحَدُكُمْ فِي بَطْنِهِ شَيْئًا فَأَشْكَلَ عَلَيْهِ أَخَرَجَ مِنْهُ شَيْءٌ أَمْ لا فَلا يَخْرُجَنَّ مِنْ الْمَسْجِدِ حَتَّى يَسْمَعَ صَوْتًا أَوْ يَجِدَ رِيحًا» "جب تم میں سے کوئی شخص اپنے پیٹ میں کچھ محسوس کرے، اور اسے یہ شبہ ہو کہ ہوا خارج ہوئی ہے یا نہیں تو مسجد سے اس وقت تک نہ نکلے جب تک کہ آواز نہ سن لے یا بدبو نہ محسوس کر لے“ ۔(صحیح مسلم: ٣٦٢)

انسان کے بدن سے جو چیزیں نکلتی ہیں ان کی دو قسمیں ہیں :

١- پاک چیزیں :مثلاآنسو،رینٹ ،تھوک،پسینہ،منی۔

٢-ناپاک چیزیں:مثلا پاخانہ، پیشاب، مذی، ودی، وہ خون جو پیشاب یا پاخانہ کے راستے سے نکلے ۔

خون نکلنے کا حکم:

اگر خون دونوں راستوں سے نکلے تو وضو ٹوٹ جائے گا لیکن اگر جسم کے بقیہ حصوں سے نکلے مثلاناک،دانت یا زخم وغیرہ سے تو اس سے وضو نہیں ٹوٹے گاخون کم ہو یا زیادہ لیکن اس کا دھونا ضروری ہے ۔

وضو کی مستحب صورتیں:

٭ قے کے بعد٭ میت کو اٹھا کر لے جائے تو اس کے لئے وضو کرنا مستحب ہے٭ اور ہر حدث کے وقت وضو کرنا مستحب ہے٭ اور ہر نماز کے لئے اگر حدث لاحق نہ ہو اہو تووضو کرنا مستحب ہے٭ لیکن اگر حدث لاحق ہوگیا ہو تو وضو کرنا واجب ہے ۔

سونے کے وقت وضو کرنا سنت ہے٭ اسی طرح جنبی کے لئے جب سونے یا کھانے کا ارادہ کرے٭ یا دوبارہ جماع کرناچاہے تووضو کرنا سنت ہے ۔

نواقض وضو کے چند مسائل:

١-سلسل بول(بیماری کی وجہ سے پیشاب کےراستےسے برابر پیشاب کا قطرہ ٹپکنا)میں مبتلا مرد و عورت ہر نماز کے لئے نیا وضو کریں گے اور اس نماز کے اوقات میں پوری نماز اور تلاوت قرآن سب کچھ بلا تامل ادا کریں گے اور یہی حکم گیسٹک کے مریض کا بھی ہے۔

٢-استحاضہ والی وہ عورت جسے ایام حیض کے علاوہ خون آتا رہے اس کا بھی یہی حکم ہے کہ وہ ہر نماز کے لئے نئے وضو سے نماز قرآن کی تلاوت اور طواف کعبہ وغیرہ کر سکتی ہے

٣-صرف پیٹ میں گڑگڑاہٹ کی وجہ سے وضو نہیں ٹوٹتا جب تک کہ ہوا نکلنے یا بدبو کا احساس نہ ہوجائے۔

٤-اونٹنی کا دودھ پینے یا چائے وغیرہ پینے سے وضو نہیں ٹوٹتا۔

٥-نکسیر(ناک کے راستے سےنکلنے والا خون)سے،پائیریا (مسوڑھوں کے خون)نکلنے سے وضو نہیں ٹوٹتانیز شرمگاہ کے علاوہ کہیں سے بھی خون کے نکلنے سے وضو نہیں ٹوٹتا۔

٦-معمولی اونگھ کسی بھی حالت میں ہو اس سے وضو نہیں ٹوٹتا

٧-بیوی کا بوسہ لینے یا محض اسے چھونے سے نہ وضو ٹوٹتا اور نہ ہی روزے پر کوئی اثر پڑتاہے۔

٨-قہقہہ سے وضو نہیں ٹوٹتا۔اس بارے میں وارد حدیث ضعیف اور نا قابل اعتبار ہے ۔

٩-شرمگاہ پر نظر پڑنے سے وضو پر کوئی فرق نہیں پڑتا۔

١٠-وضو کے بغیر تلاوت قرآن کر سکتا ہے لیکن چھونے کے لئے باوضو ہونا ضروری ہے ۔

١١-مردوں کا سونا یا ریشم چھونے سے یا بدن میں الکوحل لگنے سے یا کسی کافر کا بدن چھونے سے وضو نہیں ٹوٹتاکیونکہ ان کی حرمت یا نجاست معنوی ہے حسی نہیں۔

١٢-عورت کے سامنے کے شرمگاہ سے ہوا خارج ہونے سے وضو نہیں ٹوٹتا(تساولات حائرہ،ص:١٦٤)

١٣-حیض کے ایام کے علاوہ عورت کے رحم (بچہ دانی)سے سفید یا کچھ زردی مائل دھات (پانی)کے نکلنے سے نہ عورت کو وضو کی ضرورت ہوتی ہے اور نہ ہی کپڑے میں لگے ہوئے اس دھات کو دھونے کی ضرورت ہے بلکہ فقہاء کی زبان میں اسے عورت کے شرمگاہ کی رطوبت کا نام دیا گیا ہے اوراس حالت سے شاید ہی کوئی عورت محفوظ ہو۔

١٤-جس جانور کا گوشت کھایا جائے اس کا پیشاب،گوبراور منی اور آدمی کا منی پاک ہے اسی طرح بلی کا جھوٹا بھی پاک ہے۔

١٥-درندے، شکاری پرندے،گدھا خچر سب پاک ہیں اگر وہ زندہ ہوں اور ان کا جھوٹا بھی پاک ہے البتہ ان کی لید اور خون نجس ہے ۔

١٦-جسے حدث لاحق ہو اس کے لئے نماز پڑھنا اور مصحف چھونا منع ہے یہاں تک کہ وضو کرلے ۔

١٧-ناقض وضو ہونے میں مرد و عورت کی شرمگاہ اور قبل و دبر میں کوئی فرق نہیں ہے ۔

غسل کے احکام ومسائل

غسل کی لغوی وضاحت:غسل اگر غین پر زبر ہوتو یہ مصدر ہے جس کا معنی دھونا ہے اور اگر غسل کے غین پر پیش ہو تو اس کا معنی نہانا ہے ۔

غسل کی تعریف:تعبد الہی کی خاطر پاک پانی سے مخصوص طریقے سے پورے بدن کے دھونے کو غسل کہتے ہیں۔

غسل کو واجب کرنے والے امور:

١-اگرمنی اچھل کرلذت سے نکلے چاہے مرد کی منی ہو یا عورت کی،چاہےتنہا رہنے کی حالت میں نکلے ،یا جماع کے وقت یا سونے کی حالت میں احتلام کی صورت میں نکلے۔جیسا کہ اللہ تعالی نے فرمایا:

+ ﭣ ﭤ ﭥ ﭦﭧ" [المائدة: ٦]

"جب تم حالت جنابت میں ہو تو غسل کر لو“۔

٢-سپاری کے شرمگاہ کے اندر جانے سے گر چہ انزال نہ ہوجیسا کہ ابو ہریرہ b سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا:

«إِذَا جَلَسَ بَيْنَ شُعَبِهَا الأَرْبَعِ ثُمَّ جَهَدَهَا فَقَدْ وَجَبَ عَلَيْهِ الْغُسْلُ» "آدمی جب چاروں شاخوں کے درمیان بیٹھےاور کوشش کرے، (جماع کرے)تو غسل واجب ہے“۔(صحیح البخاری: ٢٩١،صحیح مسلم:٣٤٨)

اور ایک دوسری حدیث میں اللہ کے رسول ﷺ نے فرمایا: «وَمَسَّ الْخِتَانُ الْخِتَانَ فَقَدْ وَجَبَ الْغُسْلُ» "اور ختنہ ختنے سے مل جائے (یعنی ذکر فرج سے مل جائے ) تو غسل واجب ہو جائے گا“۔

٣-جب مسلمان کی وفات ہوجائے( البتہ شہید کو غسل نہیں دیا جائے گا)جیسا کہ حدیث میں ہے: «اغْسِلُوهُ بِمَاءٍ وَسِدْرٍ» "اسے پانی اور بیری کے پتوں کے ساتھ غسل دو“ (صحیح البخاری: ١٨٤٩، مسلم:٢٠٩٢)

٤-جب کافر اسلام لائے جیسا کہ نبی ﷺ نے فرمایا: " پانی اور بیر کے پتوں سے غسل کرو“۔(صحیح ابوداد:٣٤٢)

٥-حیض(ماہواری)

٦-نفاس(ولادت کے بعد کی ناپاکی)جیسا کہ اللہ تعالی نے فرمایا:

فَٱعۡتَزِلُواْ ٱلنِّسَآءَ فِي ٱلۡمَحِيضِ وَلَا تَقۡرَبُوهُنَّ حَتَّىٰ يَطۡهُرۡنَۖ فَإِذَا تَطَهَّرۡنَ فَأۡتُوهُنَّ مِنۡ حَيۡثُ أَمَرَكُمُ ٱللَّهُۚ " [البقرة: ٢٢٢]

"حیض (کے دنوں)میں عورتوں سے الگ رہو اور پاک ہونے تک ان کے قریب نہ جاؤ ،جب پاک ہوجائیں ،تو جہاں سے تمہیں اللہ نے حکم دیا ہے جا سکتے ہو“۔

کامل غسل کی کیفیت:

غسل کی دل سے نیت کرنا، پھر بسم اللہ کہہ کر اپنے ہاتھوں کو تین مرتبہ دھونا، پھر اپنی شرمگاہ دھونا، پھر کامل وضو کرنا، پھر اپنے سر پر تین مرتبہ پانی ڈالنا اور انگلیوں سے بال میں خلال کرنا، پھر اپنا بقیہ جسم ایک مرتبہ دھونا، اور دائیں جانب سے پہلے شروع کرنا، اور بدن کو ملنا اور ضرورت سے زیادہ پانی خرچ نہ کرنا ۔

سنت یہ ہے کہ غسل کرنے سے پہلے نماز کے وضو کی طرح وضو کیا جائے، پس اگر کسی نے غسل کر لیا اوراس سے پہلے وضو نہیں کیا تو بعد میں وضو کرنا مشروع نہیں۔

رسول اللہﷺ کے غسل کاطریقہ:

عبداللہ بن عباس d کہتے ہیں کہ مجھ سے میری خالہ میمونہ c نےبیان کیا کہ میں رسول اللہ ﷺ کے لئے جنابت سے غسل کرنے کا پانی رکھا، آپ ﷺ نے اپنی ہتھیلیوں کو دو یا تین مرتبہ دھویا، پھر اپنا ہاتھ برتن میں ڈالا، پھر اس سے شرمگاہ پرپانی ڈالا اور اپنے بائیں ہاتھ سے شرمگاہ کو دھویا، پھر اپنا بایاں ہاتھ زمین پر مارا اور اسے خوب رگڑا، پھر نماز کے وضوکی طرح وضو کیا، پھر اپنے سر پر اپنی ہتھیلیاں بھر کر تین لپ پانی ڈالا،پھر اپنا پورا جسم دھویا، پھر وہاں سے ذرا ہٹ گئے، اور اپنا پیر دھویا، پھر میں آپ کے پاس رومال لائی آپ نے اسے واپس کردیا۔(صحیح البخاری:٢٧٦،صحیح مسلم: ٣١٧)

جنبی پرکون سا عمل حرام ہے:

٭نماز پڑھنا٭خانہ کعبہ کا طواف کرنا٭قرآن کریم کا چھونا٭مسجد میں بیٹھنا ٭لیکن اگر وہاں سے راستے کے طور پر گزرے تو کوئی حرج نہیں ۔

جنبی کے سونے کی کیفیت:

حالت جنابت میں سونا جائز ہے لیکن یہ بہتر ہے کہ پہلے اپنے شرم گاہ دھولے اور وضو کرے،پھر سوئے ، ام المؤمنین عائشہ c کہتی ہیں کہ رسول اللہ ﷺ جب جنابت کی حالت میں سونا چاہتے تو اپنی شرمگاہ دھو ڈالتے، اور نماز کی طرح وضو کر لیتے ۔(صحیح البخاری: ٢٨٨،صحیح مسلم: ٣٠٥)

جنبی کیا کر سکتا ہے؟

١-مرد جنابت کا غسل اپنی عورت کے ساتھ ایک ہی برتن میں کر سکتا ہے ام المؤمنین عائشہ c کہتی ہیں کہ میں اور رسول اللہ ﷺ (دونوں مل کر) جنابت کی حالت میں ایک ہی برتن میں نہاتے۔ (صحیح البخاری: ٢٦٣،صحیح مسلم: ٣٢١)

٢-جس شخص نے اپنی بیوی سے جماع کیا ہو پھر دوبارہ کرنا چاہے یا اپنی دوسری بیویوں کے پاس آنا چاہے اس کے لئے مستحب ہے کہ دو جماع کے درمیان غسل کرے اور اگر ایسا نہ کر سکے تو وضو کرے، اس لئے کہ اس سے چستی پیدا ہو جائے گی، لیکن ایک ہی غسل سے اپنی تمام بیویوں کے پاس آسکتا ہے، اورایک ہی غسل سے اپنی بیوی سے کئی بار جماع کر سکتا ہے ۔

کن صورتوں میں غسل مستحب ہے :

١- حج یا عمرہ کے لئے احرام باندھنے کے وقت،٢-جب میت کو غسل دے،٣-جب جنون یا بیہوشی سے افاقہ ہو،٤-جب مکہ میں داخل ہو، ٥-ہر جماع کے لئے غسل کرنا بھی مستحب ہے،٦- اور جس عورت کو استحاضہ کا خون آئے اس کے لئے بھی ہر نماز کے لئے غسل مستحب ہے،٧- جو مشرک کو دفن کرے اس کے لئے بھی غسل کرنا مستحب ہے، ٨-جو شخص دو مرتبہ یا اس سے زیادہ جماع کرنا چاہے وہ ایک بیوی سے ہو یا کئی بیویوں سے ہو اس کے لئے ایک مرتبہ غسل کافی ہے جیسا کہ انس b کہتے ہیں کہ نبی کریم ﷺ ایک ہی غسل سے اپنی تمام بیویوں کے پاس ہو آتے ۔(صحیح البخاری:٢٦٨،صحیح مسلم:٣٠٩)

٩-ایک ہی غسل حیض اور جنابت دونوں کے لئے کافی ہے، یا جنابت اور جمعہ کے لئے بھی کافی ہے ،جب دونوں کی ایک ساتھ نیت ہو۔

١٠-غسل جنابت میں عورت کے لئے اپنے بالوں کو کھولنا واجب نہیں، اور غسل حیض و نفاس میں بالوں کا کھولنا مستحب ہے ۔

غسل کی سنتیں :

١-غسل سے پہلے وضو کرنا ٢-گندگی کو دور کرنا ٣-سر پر تین مرتبہ پانی ڈالنا٤- او ربقیہ جسم پر تین مرتبہ پانی ڈالنا٥- اور دائیں جانب سے شروع کرنا٦-کلی کرنا ،ناک میں پانی ڈالنا،کانوں کے باطنی حصہ کو دھونا۔

غسل کے پانی کی مقدار:

سنت یہ ہے کہ جنبی ایک صاع پانی سے لے کر پانچ مد تک پانی سے غسل کرے، پس اگر اس سے کم ہوجائے یا اس سے زیادہ ضرورت پڑے مثلا تین صاع تب بھی جائز ہے جیسا کہ انس b کہتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ ایک صاع پانی سے لے کر پانچ مد تک پانی سے غسل کرتے تھے اور ایک مد سے وضو کرتے تھے ۔ (صحیح البخاری: ٢٠١، صحیح مسلم: ٣٢٥)

غسل کے مکروہات

١-بیت الخلاء میں غسل کرنا مکروہ ہے اس لئے کہ وہ نجاست کی جگہ ہے، اور اس میں غسل کرنے سے وسوسہ پیدا ہوگا اور پیشاب کرکے پھر اسی جگہ غسل نہ کر ے تاکہ نجس نہ ہو۔

٢-پانی زیادہ استعمال کرنا۔

٣-عورت کے بچے ہوئے پانی سے غسل کرنا۔

٤-دیوار وغیرہ کا پردہ کئے بغیر نہانا۔

٥-ٹھہرے ہوئے پانی میں نہانا۔

عورت اور مرد کے غسل جنابت میں تفریق:

غسل جنابت کے طریقے میں مرد اور عورت کے درمیان کوئی فرق نہیں اور نہ ہی ان دونوں میں سے کسی ایک کے لئے بال کھولنا ضروری ہے بلکہ اتنا ہی کافی ہے کہ وہ اپنے سرپر پانی کے تین چلو ڈال لے ،پھر اپنے سارے جسم پر پانی بہالے۔(فتوی اللجنۃالدعوة: ٥/٣٢٠)

عورت کے غسل حیض و جنابت میں فرق:

علامہ البانی رحمہ اللہ اس کے متعلق ساری حدیثوں کو جمع کرنے کے بعد فرماتے ہیں کہ غسل حیض میں مینڈھیاں کھولنا واجب ہے اور غسل جنابت میں کھولنے کی ضرورت نہیں۔(الصحیحہ:١٨٨)

تیمم کے احکام و مسائل

تیمم کی لغوی تعریف: لفظ تیمم مصدر ہے جس کا معنی ہے قصد و ارادہ کرنا۔

تیمم کی شرعی تعریف: تعبد الہی کی خاطر نماز وغیرہ کی نیت کرتے ہو ئے پاک مٹی کے ساتھ چہرے اور دونوں ہاتھوں کامسح کرنا۔

تیمم کا حکم :

تیمم یہ اس امت کے خصائص میں سے ہے تیمم طہارت حاصل کرنے کے لئے پانی کے بدلے میں ہے ، جسے حدث اصغر یا حدث اکبر لاحق ہو جائے اور اسے پانی استعمال کرنا دشوار ہویا اس وجہ سے کہ پانی نہ ملے یا اس کا استعمال نقصان دہ ہو ،یا اس کے استعمال کرنے سے وہ عاجز و بے بس ہو تو اس کے لئے تیمم کرنا جائز ہے جیسا کہ اللہ تعالی فرماتا ہے :

يَٰٓأَيُّهَا ٱلَّذِينَ ءَامَنُوٓاْ إِذَا قُمۡتُمۡ إِلَى ٱلصَّلَوٰةِ فَٱغۡسِلُواْ وُجُوهَكُمۡ وَأَيۡدِيَكُمۡ إِلَى ٱلۡمَرَافِقِ وَٱمۡسَحُواْ بِرُءُوسِكُمۡ وَأَرۡجُلَكُمۡ إِلَى ٱلۡكَعۡبَيۡنِۚ وَإِن كُنتُمۡ جُنُبا فَٱطَّهَّرُواْۚ وَإِن كُنتُم مَّرۡضَىٰٓ أَوۡ عَلَىٰ سَفَرٍ أَوۡ جَآءَ أَحَد مِّنكُم مِّنَ ٱلۡغَآئِطِ أَوۡ لَٰمَسۡتُمُ ٱلنِّسَآءَ فَلَمۡ تَجِدُواْ مَآء فَتَيَمَّمُواْ صَعِيدا طَيِّبا فَٱمۡسَحُواْ ِوُجُوهِكُمۡ وَأَيۡدِيكُم مِّنۡهُۚ مَا يُرِيدُ ٱللَّهُ لِيَجۡعَلَ عَلَيۡكُم مِّنۡ حَرَج وَلَٰكِن يُرِيدُ لِيُطَهِّرَكُمۡ وَلِيُتِمَّ نِعۡمَتَهُۥ عَلَيۡكُمۡ لَعَلَّكُمۡ تَشۡكُرُونَ ٦ [المائدة: ٦]

"اے ایمان والو! جب تم نماز کے لئے اٹھو تو اپنے منھ کو اور اپنے ہاتھوں کو کہنیوں سمیت دھولو،اپنے سروں کا مسح کرو، اور اپنے پاؤں کو ٹخنوں سمیت دھولو ، اوراگر تم جنابت کی حالت میں ہو تو غسل کرلو،ہاں اگر تم بیمار ہو یا سفر کی حالت میں ہویا تم میں سے کوئی حاجت ضروری سے فارغ ہو کر آیا ہو ،یا تم عورتوں سے ملے ہو اور تمہیں پانی نہ ملے تو تم پاک مٹی سے تیمم کرلو ،اسے اپنے چہروں پر اور ہاتھوں پر مل لو،اللہ تعالی تم پر کسی قسم کی تنگی نہیں ڈالنا چاہتا بلکہ اس کا ارادہ تمہیں پاک کرنے کا اور تمہیں اپنی بھر پور نعمت دینے کا ہے ،تاکہ تم شکر ادا کرتے رہو“۔

تیمم کی ابتدا

ام المومنین عائشہc بیان فرماتی ہیں :ہم رسول اللہ ﷺ کے ساتھ کسی سفرمیں نکلے جب بیداء یا ذات جیش ( مقام) پر پہونچے تو میرا ہار ٹوٹ کر گر گیا ، رسول اللہ ﷺ اسے تلاش کرنے کے لئے ٹھہر گئے اور لوگ بھی آپ کے ساتھ ٹھہر گئے، لیکن وہاں پانی نہ تھا اور نہ لوگوں کے پاس پانی تھا ، لوگ ابو بکر b کے پاس آکر کہنے لگے :کیا آپ کو معلوم ہے کہ عائشہ c نے کیاکیا؟رسول اللہ ﷺ اور لوگوں کے ساتھ آپ کو بھی ایسے مقام پر ٹھہرا دیاجہاں پانی نہیں ہے ، اور نہ ہی لوگوں کے پاس پانی ہے ،یہ سن کر ابو بکر b آئے تو اس وقت رسول اللہ ﷺ میری ران پر سر رکھ کر سو رہے تھے ، انھوں نے کہا : تونے رسول اللہ ﷺ اورلوگوں کو ایسے مقام پر روک دیا ہے جہاں پانی نہیں ہے اور نہ ہی ان کے پاس پانی ہےاور مجھ سے ناراض ہوکر میری کوکھ پر کونچنے (مارنے ) لگے لیکن میں نے ہلچل نہیں کی ، صرف اس وجہ سے کہ رسول اللہ ﷺ کا سر میری ران پر تھا (اور آپ ﷺ سو رہے تھے )جب صبح کو اٹھے تو پانی نہ تھا ،(بعض صحابہ نے بغیر وضو ہی کے نماز پڑھ لی ، جیساکہ دوسری روایت میں ہے)تب اللہ تعالی نے تیمم کی آیت نازل فرمائی،اسید بن حضیر b نے کہا : اے ابو بکر کے گھر والو!یہ تمہاری پہلی برکت نہیں ہے (یعنی تمہاری وجہ سے بہت سی برکتیں اور راحتیں مسلمانوں کو نصیب ہوئی ہیں )،عائشہ c بیان فرماتی ہیں کہ پھر ہم نے اپنا وہ اونٹ اٹھایا جس پر میں سوار تھی تومیرا ہار بھی اس کے نیچے سے بر آمد ہوگیا''۔(نسائی:٣١١، صحیح)

کس چیز سے تیمم کیا جائے؟

تیمم زمین کی تمام مٹی ،ریت اور پتھر سے جائز ہے، چاہے وہ مٹی خشک ہو یا تر۔

تیمم کا طریقہ:

پہلے نیت کرنا، پھر بسم اللہ کہنااور اپنے ہاتھوں کے اندرونی حصے سے زمین پر ایک مرتبہ مارنا، پھر انہیں اپنے ہتھیلی پر پھیرنا ،پہلے بائیں ہاتھ کا اندرونی حصہ دائیں ہاتھ کے پشت پر پھیرنا ، پھر دائیں ہاتھ کا اندرونی حصہ بائیں ہاتھ کے پشت پر پھیرناجیسا کہ عبد الرحمن بن ابزی اپنے باپ سے روایت کرتے ہیں کہ ایک آدمی عمر بن خطاب d کے پاس آیا، اور کہنے لگا کہ اگر مجھے جنابت لاحق ہو اور پانی نہ ملے تو کیا کروں عماربن یاسر d نے عمر b سے کہا :کیا آپ کو یاد نہیں ہم دونوں ایک سفر میں تھے اور ہمیں جنابت لاحق ہوئی آپ نے تو نماز ہی نہیں پڑھی اور میں مٹی میں لوٹا اور نماز پڑھ لی پھر میں رسول اللہ ﷺسے یہ بیان کیا توآپ ﷺ نے فرمایا:

«إِنَّمَا كَانَ يَكْفِيكَ هَكَذَا فَضَرَبَ النَّبِيُّ × بِكَفَّيْهِ الأَرْضَ وَنَفَخَ فِيهِمَا ثُمَّ مَسَحَ بِهِمَا وَجْهَهُ وَكَفَّيْهِ» "تمہارے لئے ایسا کرنا کافی تھا ،پھر آپ نے اپنی دونوں ہتھیلیاں زمین پر ماریں، اور ان کو پھونک دیا پھر منہ اور دونوں ہتھیلیوں پر مسح کیا“۔ (صحیح البخاری: ٣٣٨،صحیح مسلم: ٣٦٨) اور ایک دوسر ی روایت میں یوں ہے عمار b تیمم کی صفت بیان کرتے ہوئے کہتے ہیں کہ نبی ﷺ نے فرمایا:

«إِنَّمَا كَانَ يَكْفِيكَ أَنْ تَصْنَعَ هَكَذَا، فَضَرَبَ بِكَفِّهِ ضَرْبَةً عَلَى الأَرْضِ، ثُمَّ نَفَضَهَا، ثُمَّ مَسَحَ بِهِمَا ظَهْرَ كَفِّهِ بِشِمَالِهِ أَوْ ظَهْرَ شِمَالِهِ بِكَفِّهِ، ثُمَّ مَسَحَ بِهِمَا وَجْهَهُ» "تمہارے لئے ایسا کرنا کافی تھا پھر آپ نے اپنی ہتھیلیوں کو ایک مرتبہ زمین پر مارا، پھر انہیں جھاڑا ،پھر بائیں ہاتھ سے دائیں ہاتھ کی پشت پر ملایا دائیں ہاتھ سے بائیں ہاتھ کی پشت پر ملا ،پھر اپنے منہ پر دونوں ہاتھوں کو پھیر لیا“ (صحیح البخاری: ٣٤٧،صحیح مسلم: ٣٦٨)۔

تیمم سے کون کون سی پاکی حاصل ہوتی ہے؟

اگر ایک تیمم سے کئی حدثوں کو دور کرنے کی نیت کرے مثلا پیشاب اورپاخانہ کیا ہے ، اور احتلام ہوا ہے تو ایک تیمم ان تمام احداث کی طرف سے کافی ہوگااورتیمم کرنے والے کے لئے وہ ساری چیزیں مباح ہوں گی جو وضو کرنے والے کے لئے مباح ہیں مثلا نماز، طواف،قرآن کا چھونا ،مسجد میں ٹھہرنا وغیرہ۔

نواقض تیمم:

١ـاگر پانی مل جائے ۔

٢ـجب عذر زائل ہوجائے مثلا مرض یا حاجت وغیرہ۔

٣ـنواقص وضو(جن کا بیان پیچھے گزر چکا ہے) ۔

تیمم کے چند مسائل:

٭اگر کسی کوپانی اور مٹی دونوں نہ ملے تو وہ اپنی حالت کے مطابق بغیر وضو و تیمم کے نماز پڑھے اور اس پر اعادہ نہیں ۔

٭تیمم حدث اصغر اور حدث اکبر سے طہارت حاصل کرنے کے لئے مشروع کیا ہے البتہ میل کچیل یا گندگی چاہے وہ بدن پر ہو یا کپڑے پر اس کو تیمم سے زائل نہیں کیا جاسکتا ،پس آدمی اگر ان کو زائل نہیں کر سکتا تو جس طرح ہو سکے نماز پڑھ لے ۔

٭جو شخص زخمی ہو اور اس بات سے ڈر رہا ہو کہ اگر پانی کا استعمال کرے گا تو پانی اسے نقصان پہنچائے گا وہ زخم پر مسح کرلے اور باقی بدن دھو لے اور اگر مسح سے بھی نقصان ہو تو اس کے لئے تیمم کرلے اور باقی اعضاء دھو لے ۔

٭اگر تیمم کرنے والے نے نماز پڑھ لی ہے اور نماز کے وقت ہی میں اسے پانی مل گیا تو کیا کرنا چاہئے اس کے بارے میں ابو سعید خدری b کہتے ہیں کہ دو آدمی سفر پر نکلے اتنے میں نماز کا وقت ہوگیا، ان دونوں کے پاس پانی نہیں تھا ان دونوں نے پاک مٹی سے تیمم کیا، اور نماز پڑھ لی، پھر نماز کے وقت ہی میں ان کو پانی مل گیا چنانچہ ان میں سے ایک نے وضو کیااورنماز دہرایا اور دوسرے نے نہیں دہرایا، پھر دونوں رسول اللہ ﷺ کے پاس آئے اور آپ سے یہ واقعہ بیان کیاتو آپ ﷺ نے اس شخص سے فرمایا: «لِلَّذِي لَمْ يُعِدْ: أَصَبْتَ السُّنَّةَ وَأَجْزَأَتْكَ صَلاتُكَ، وَقَالَ لِلَّذِي تَوَضَّأَ وَأَعَادَ: لَكَ الأَجْرُ مَرَّتَيْنِ» "جس نے نہیں دہرایا تھا کہ تم نے سنت کے مطابق کیا، اور تمہاری نماز ہو گئی، اور جس نے نماز اور وضو دہرایا تھا اس سے کہا کہ تمہارے لئے دہرانا اجر ہے“۔ (سنن أبی داود: ٣٣٨،سنن النسائی: ٤٣٣،صحیح)

حیض ونفاس کے احکام ومسائل

حیض کا لغوی معنی:لفظ حیض یا محیض مصدر ہے جس کا معنی ہے بہنا یا ماہواری کا خون جاری ہونا۔

حیض کی اصطلاحی تعریف: وہ فطری و طبعی خون جو عورت کے رحم سے ( ولادت یا امراض سے سلامتی کی حالت میں)بلوغت کے بعد مخصوص ایام میں عورت کی شرم گاہ کے راستے سے ہر ماہ باہر آتا ہے ۔

حیض کی حکمت:

اللہ تعالی نے حیض کے خون کو ایک بڑی حکمت کے پیش نظر پیدا کیا ہے، وہ ماں کے پیٹ میں بچے کے لئے غذا کا کام کرتا ہے اسی لئے حاملہ عورت کو عام طور پر حیض نہیں آتا، پھر جب بچے کی ولادت ہو جاتی ہے تو اللہ تعالی اسے دودھ کی شکل بنا دیتا ہے جو عورت کے پستان سے نکلتا ہے اسی لئے دودھ پلانے والی عورت عام طور پر حائضہ نہیں ہوتی، پھر جب عورت حمل و رضاعت سے فارغ ہو جاتی ہے تو وہ خون رحم میں ٹھہرنے لگتا ہے اور ہر مہینے ہر عور ت کے حسب معمول چھ یا سات دن باہر نکلتا ہے ۔

حیض کی مدت:

کم سے کم حیض اور زیادہ سے زیادہ حیض کی تحدید نہیں کی جاسکتی اور نہ اس کے شروع اور اختتام کی تحدید کی جا سکتی ہے ۔

حیض کے خون کی پہچان:

حیض کا خون رحم کی تہ میں موجود ایک رگ سے نکلتا ہے جس کا نام عازل ہے، اس خون کا رنگ کالا گاڑھا اور بدبو دار ہوتا ہے اور جب وہ نکلتا ہے تو جمتا نہیں جیسا کہ فاطمہ بنت ابی حبیش c کی حدیث میں ہے: «إِذَا كَانَ دَمُ الْحَيْضَةِ: فَإِنَّهُ أَسْوَدُ يُعْرَفُ» "بلا شبہ حیض کا خون سیاہ رنگ ہوتا ہے جو کہ پہچانا جاتا ہے“ (سنن ابی داود:٢٨٦،حسن)

نفاس کی لغوی تعریف:

لفظ نفاس مصدر ہے اس کا معنی ہے بچہ جننا اور اس کی جمع نفسا ء ہے ۔

نفاس کی شرعی تعریف: نفاس ایسا خون جو بچے کی پیدائش سے کچھ پہلے یا ساتھ میں یا بعد میں عورت کی سامنے کی شرمگاہ سے خارج ہو ۔

نفاس کی مدت:

عام طور پر نفاس کی مدت چالیس دن ہے اور اگر اس سے پہلے پاک ہوجائے تو وہ غسل کرکے نماز پڑھے اور روزہ رکھے اور شوہر اس سے جماع کر سکتا ہے اور اگر ساٹھ دن تک خون آیا تو وہ بھی نفاس ہے لیکن اگر مسلسل آنے لگے تو وہ بیماری ہے جیسا کہ ام سلمہ c سے مروی ہے: «كَانَتِ النُّفَسَاءُ عَلَى عَهْدِ رَسُولِ اللَّهِ تَقْعُدُ بَعْدَ نِفَاسِهَا أَرْبَعِينَ يَوْمًا» "نفاس والی عورتیں عہد رسالت میں چالیس دن عدت گزارتی تھیں“(سنن أبی داود:۳۱۱، حسن)

دوران حمل نکلنے والے خون کاحکم:

اگر حاملہ عورت سے بہت خون نکلے اور بچہ ساقط نہ ہو تو وہ بیماری کی وجہ سے ہے وہ نماز کو اس کی وجہ سے نہ چھوڑے لیکن ہر نماز کے لئے وضو کرے اور اگر وہ حیض کا خون دیکھے جو اپنی حالت وقت اور ایام ماہواری میں آتا ہے تو نماز روزہ وغیرہ چھوڑ دے ۔

حیض اور نفاس والی عورتوں پر کیا حرام ہے

٭حائضہ اور نفاس والی عورت کے لئے بیت اللہ کا طواف کرنا منع ہے یہاں تک کہ وہ پاک ہوجائے اور غسل کر لے ۔

٭حائضہ اور نفاس والی عورت قرآن کریم نہیں چھو سکتی الایہ کہ غلاف یا کوئی دوسری چیز حائل ہو ۔

٭جب تک عورت کو حیض کا خون آئے وہ نماز نہ پڑھے چاہے حیض عادت کے مطابق آئے یا اس سے زیادہ آئے یا اس سے کم آئے، پھر جب وہ پاک ہوجائے تو غسل کرے اور نماز پڑھے ،حائضہ عورت روزہ کی قضاء کرے اور نماز کی قضاء نہ کرے ۔

٭عورت ضرورت کے وقت ایسی دوا کھا سکتی ہے جس سے حیض منقطع ہو جائے بشرط کہ وہ دوا اسے نقصان نہ پہنچائے ،ایسی صورت میں وہ پاک مانی جائے گی وہ نماز پڑھے اور روزہ رکھے۔

حائضہ عورت کے پاک ہونے کی علامت:

جب عورت سفید پانی دیکھے جو حیض بند ہونے کے بعد نکلتا ہے تو وہ اس کے پاک ہونے کی علامت ہے اور جو عورت یہ سفید سائل نہ دیکھے وہ سفید روئی کا ٹکڑا اگر اس حال میں نکلا کہ اس کا رنگ نہیں بدلا ہے تو یہ اس کے طہر کی علامت ہے ۔

زرد اور مٹیالے رنگ کے خون کا حکم:

حیض کے معلوم ایام میں اگر زرد یا مٹیالے رنگ کا خون آئے تو وہ بھی حیض ہے لیکن اگر وہ اس سے پہلے یا بعد میں آئے تو حیض نہیں اس میں وہ نمازپڑھے اور روزہ رکھے اور اس کا شوہراس سے مباشرت کرے۔

٭عورت اگر نماز کا وقت ہوجانے کے بعدحائضہ ہوتی ہے یا نماز کا وقت نکل جانے سے پہلے پاک ہوئی ہے تو اس کا نماز پڑھنا اس پر واجب ہے،اسی طرح نفاس والی عورت کا بھی معاملہ ہے ۔

٭مرد ازار کے اوپر سے بھی حائضہ عورت سے مباشرت کر سکتا ہے ۔جیسا کہ میمونہ c کہتی ہیں: «كَانَ رَسُولُ اللَّهِ × إِذَا أَرَادَ أَنْ يُبَاشِرَ امْرَأَةً مِنْ نِسَائِهِ أَمَرَهَا فَاتَّزَرَتْ وَهِيَ حَائِضٌ» اپنی بیویوں میں سے کسی سے مباشرت (جسم سے جسم ملاکرلیٹنا)چاہتے اور وہ حائضہ ہوتی ، تو آپ کے حکم سے وہ پہلے ازار باندھ لیتیں (صحیح البخاری:٣٠٣،صحیح مسلم: ٢٩٤)

حائضہ عورت سے جماع کرنا حرام ہے :

حائضہ عورت کے شرمگاہ میں وطی کرنا حرام ہے جیسا کہ اللہ تعالی فرماتا ہے :

فَٱعۡتَزِلُواْ ٱلنِّسَآءَ فِي ٱلۡمَحِيضِ وَلَا تَقۡرَبُوهُنَّ حَتَّىٰ يَطۡهُرۡنَۖ فَإِذَا تَطَهَّرۡنَ فَأۡتُوهُنَّ مِنۡ حَيۡثُ أَمَرَكُمُ ٱللَّهُۚ " [البقرة: ٢٢٢] "آپ سے حیض کے بارے میں سوال کرتے ہیں کہہ دیجئے کہ وہ گندگی ہے ،حالت حیض میں عورتوں سے الگ رہو اور جب تک وہ پاک نہ ہوجائیں ان کے قریب نہ جاؤ ہاں جب وہ پاک ہو جائیں تو ان کے پاس جاؤ جہاں سے اللہ نے تمہیں اجازت دی ہے اللہ توبہ کرنے والوں کو اور پاک رہنے والوں کو پسند فرماتا ہے “۔

٭حائضہ عورت سے جماع کرنا اس وقت تک جائز نہیں جب تک کہ اس کا دم حیض منقطع نہ ہوجائے اور وہ غسل نہ کرلے اور جس نے غسل سے پہلے جماع کیا وہ گنہگار ہوگا۔

حالت حیض میں جماع کا کفارہ :

اگر کسی آدمی نے یہ جانتے ہوئے کہ اس کی بیوی حائضہ ہے جماع کر لیا تو وہ گنہگار ہوگا اور اس پر توبہ اور کفارہ ہے پس اگر حیض کے شروع میں جماع کیا ہے تو ایک دینار ہے اور اگر حیض منقطع ہونے کے وقت کیا ہے تو آدھا دینار ہے ۔(ایک دینار ٢٥،٤گرام سونے کے برابر ہے )جیسا کہ عبد اللہ بن عباس d کہتے ہیں کہ نبی کریم ﷺ نے یہ فیصلہ کیا جو آدمی اپنی بیوی کے پاس حالت حیض میں آئے «يَتَصَدَّقُ بِدِينَارٍ أَوْ نِصْفِ دِينَارٍ» وہ ایک دینار یا نصف دینار صدقہ کرے (سنن ابی داود،٢٦٤،سنن النسائی٢٨٩)صحیح موقوف ۔

مستحاضہ کی تعریف:یہ وہ عورت ہے جسے بغیر وقت کے مسلسل خون آتا ہو ۔

استحاضہ کے خون کی پہچان:

استحاضہ کا خون رحم کے کنارے حصے میں موجود ایک رگ سے آتا ہے جس کا نام عاذل ہے اس خون کا رنگ سرخ پتلا ہوتا ہے اور بدبو دار نہیں ہوتا جب وہ نکلتا ہے تو جم جاتا ہے،اس لئےکہ وہ عام رنگ کا خون ہے ۔

مستحاضہ کے غسل کی کیفیت:

مستحاضہ عورت حیض کا خون بند ہو جانے کے بعد ایک مرتبہ غسل کرے اور ہر نماز کے لئے وضو کرے اوزر اپنی شرم گاہ میں کپڑا رکھے رہے ۔

مستحاضہ کی چار حالتیں ہیں :

١ـحیض کی مدت اسے معلوم ہو ،اس مدت میں وہ نماز نہ پڑھے اور جب یہ مدت گزر جائے تو غسل کرے اور نماز پڑھے ۔

٢ـحیض کی مدت اسے معلوم نہ ہو ایسی صورت میں وہ چھ یا سات دن نماز نہ پڑھے اس لئے کہ عام طور پر حیض کی مدت یہی ہوتی ہے اور جب یہ مدت گزر جائے تو غسل کرے اور نماز پڑھے ۔

٣ـاس کی عادت ابھی مقرر نہ ہوئی ہو لیکن وہ حیض کا کالا خون غیر حیض سے تمیز کر سکتی ہو ایسی صورت میں وہ چھ یا سات دن نماز نہ پڑھے اور جب یہ مدت گزر جائے تو غسل کرے اور نماز پڑھے ۔

٤-اس کی کوئی عادت نہ ہو اور نہ ہی خون کے درمیان تمیز کی استطاعت ہو تو وہ چھ یا سات دن رکی رہے پھر غسل کرے اور نماز پڑھے ایسی عورت کو آغاز حیض والی عورت کہا جاتا ہے ۔

عورت کے شرمگاہ سے نکلنے والی چیز کا حکم:

اگر عورت نے نطفہ گرادیا ہے تو یہ نہ حیض ہے اور نہ نفاس اور اگر چار مہینے کا بچہ گرا دیا ہے تو یہ نفاس ہے اور اگر ایسا خون کا لوتھڑا یا گوشت کا ٹکڑا گرایا ہے جس میں بچہ کی شکل نمایا نہ ہو تو وہ نفاس نہیں ہے اگر چہ خون دیکھے اور اگر ایسا گوشت کا ٹکڑا گرایا ہے جس میں بچے کی شکل و صورت نمایا ہو گئی ہو اور تین مہینہ گزر چکا ہو تو یہ نفاس ہے ۔

٭مستحاضہ عورت نماز پڑھے ،روزہ رکھے، اعتکاف میں بیٹھے اور اس کے علاوہ دوسری عبادتیں کرے جیسا کہ ام المومنین عائشہ c کہتی ہیں کہ فاطمہ بنت ابی حبیش c نےنبی اکرمﷺ سے کہا کہ مجھے استحاضہ کا خون آتا ہے اور میں پاک نہیں ہوتی ہوں (یعنی خون نہیں رکتا ہے)کیا میں نماز چھوڑ دوں آپ ﷺنے فرمایا: «لا، إِنَّ ذَلِكِ عِرْقٌ وَلَكِنْ دَعِي الصَّلاةَ قَدْرَ الأَيَّامِ الَّتِي كُنْتِ تَحِيضِينَ فِيهَا ثُمَّ اغْتَسِلِي وَصَلِّي». نہیں، یہ ایک رگ کا خون ہے (حیض نہیں )لہذا ان ایام میں تم نماز نہ پڑھو جن میں تمہیں حیض آتا تھا ،پھر غسل کرو اور نماز پڑھو ۔(صحیح البخاری٣٢٥،صحیح مسلم ٣٣٣)

٭مرد اور عورت کے لئے قرآن زبانی پڑھنا جائز ہے اگر چہ مردجنبی ہو یا عورت حائضہ یا جنبی ہو یا اسے نفاس آتا ہو لیکن بہتر یہ ہے کہ وہ طہارت کی حالت میں پڑھے ۔

***

فیڈ بیک