علمی زمرے

  • PDF

    اس دنیا میں انسانوں کے مختلف طبقات میں چھوٹے سے لیکر بڑے تک ،بچے سے لیکر بوڑھے تک،ان پڑھ جاہل سے لیکر ایک ماہر عالم اور بڑے سے بڑے فلاسفر تک،ہر شخص کی جد وجہد اور محنت وکوشش میں اگر غور سے کام لیا جائے تو ثابت ہو گا کہ اگرچہ محنت اور کوشش کی راہیں مختلف ہیں مگر آخری مقصد سب کا قدرے مشترک ایک ہی ہے ،اور وہ ہے امن وسکون کی زندگی۔ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم اسی امن وسلامتی کا علم بردارمذہب لے کر آئے۔ اسلام ایک امن وسلامتی والا مذہب ہے ،جو نہ صرف انسانوں بلکہ حیوانوں کے ساتھ بھی نرمی کرنے کی ترغیب دیتا ہے۔ اس عظیم دین کا حسن دیکھئے کہ اسلام ’’سلامتی‘‘ اور ایمان ’’امن‘‘ سے عبارت ہے اور اس کا نام ہی ہمیں امن و سلامتی اور احترام انسانیت کا درس دینے کیلئے واضح اشارہ ہے۔نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی حیاتِ طیبہ ، صبر و برداشت، عفو و درگزر اور رواداری سے عبارت ہے۔اسلام کی بدولت ایک ایسا معاشرہ تشکیل پایا جو تاریخ انسانی کا سب سے زیادہ باکمال اور شرف سے بھرپور معاشرہ تھا اور اس معاشرے کے مسائل کا ایسا خوشگوار حل نکالا کہ انسانیت نے ایک طویل عرصے تک زمانے کی چکی میں پس کر اور اتھاہ تاریکیوں میں ہاتھ پاؤں مار کر تھک جانے کے بعد پہلی بار چین کا سانس لیا۔ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے انسانیت کی بقاء کے لئے سب سے پہلے جان،مال،عزت،خاندان کے تحفظ کا حق اور اجتماعی طور پر پورے انسانی معاشروں کے تحفظ کے حقوق کا نہ صرف رسمی اعلان کیا بلکہ یقینی طور پر اس کے عملی نفاذ کی ضمانت فراہم کرکے جبر واستبداد اور استحصال طرز زندگی کا ناطقہ بند کر دیا۔ زیر تبصرہ کتاب" اسلام کا نظام امن وسلامتی" محترم ابو حمزہ عبد الخالق صدیقی صاحب کی تصنیف ہے،جس میں انہوں نے اسلام کے اسی وصف اور امتیاز کو بڑے احسن انداز میں پیش کیا ہے۔اللہ تعالی ان کی اس خدمت کو اپنی بارگاہ میں قبول فرمائے اور ان کے میزان حسنات میں اضافہ فرمائے۔آمین(راسخ) تقريظ:شيخ الحديث عبد الله ناصررحمانى حفظه الله. تحقیق:حافظ حامد محمودالخضری،ناشر:انصارالسنہ،پبلیکیشنز،لاہور۔

  • PDF

    نَو مسلم کےلیے کن چیزوں کا کرنا اورکن چیزوں کا نہ کرنا ضروری ہے: اس کتابچہ میں عزّت مآب شیخ صالح بن فوزان الفوزان حفظہ اللہ نے نومسلم سے متعلق تمام ضروری احکام کو کتاب وسنت کی روشنی میں بیان کردیا ہے،نومسلم کے بارے میں اس مختصرگائڈ کو زیادہ سے زیادہ تعداد میں نشروتوزیع کرکے عند اللہ ماجورہوں۔

  • PDF

    پیش نظر کتاب میں انگریزی زبان میں حج وعمرہ کے طریقے کو کتاب وسنت کی روشنی میں نہایت شرح وبسط اور تصویری خاکے ساتھ بیان کیا گیا ہے۔

  • MP3

    مکہ کی طرف حج کرنا اسلام کا پانچواں رکن ہے، حج ایسا عبادت ہے جس میں عبادات کی ساری اقسام بدنی، قلبی، مالی جمع ہوجاتی ہیں، اور یہ جسمانی ومالی قادر شخص پر زندگی میں صرف ایک بار فرض ہے،

  • PDF

    شیخ محمد بن صالح المنجد ۔ حفظہ اللہ۔ سے پوچھا گیا : کہ عیسائی لڑکی مسلمان ہو چکی ہے لیکن اس نے اسلام کا اعلان نہیں کیا ہے اور اسکے گھر والے اسکی شادی کسی نصرانی لڑکے سے کروانا چاہتے ہیں تو ایسی حالت میں شرعی حکم کیا ہے؟ فتوی مذکور میں اسی کا جواب پیش ہےـ.

  • PDF

    زیر نظر فتوی میں نَو مسلم شخص پر عائد ہونے والى فرائض اور منہیات کا تذکرہ کیا گیا ہے۔

  • PDF

    ميں ايك نيك و صالح اور دين كا التزام كرنے والے شخص سے شادى شدہ ہوں، اس نے اپنے خاندان والوں سے خفيہ طور پر ميرے ساتھ شادى كى كيونكہ وہ پہلے بھى شادى شدہ تھا، اس كى رغبت كا احترام كرتے ہوئے ميں نے بہت سارے حقوق ختم كر ديے تا كہ يہ راز قائم رہے، اس طرح ميں اس سے رابطہ كرنے ميں مشكل سے دوچار رہنے لگى، ميرى شادى كو ايك برس ہو چكا ہے ليكن اس عرصے ميں اسے ميں نے صرف چوبيس دن ديكھا ہے. اور بالآخر ميں نے فيصلہ كيا كہ ميں اس كى بيويوں اور خاندان والوں كو بتا دوں ہو سكتا ہے وہ ميرے ساتھ نرمى و رحمدلى كا سلوك كرتے ہوئے ميرا تعاون كريں، ليكن اچانك مشكل اور بڑھ گئى كيونكہ ميں چھ ماہ كى حاملہ ہوں اس حالت ميں خاوند نے مجھے موبائل ميسج كر كے طلاق دے دى. مجھے حق سننے والا كوئى نہيں ملا ليكن اس سے بھى بڑھ كر ظلم يہ كہ ميرا خاوند حمل گرانے كا مطالبہ كر رہا ہے! اس سلسلہ ميں شريعت كيا كہتى ہے ؟ ميں تو ضائع اور تباہ ہو گئى ہوں كيونكہ ميرا نكاح سركارى طور پر رجسٹر نہيں ہوا، بلكہ صرف شرعى طور پر والد صاحب اور دو گواہوں كى موجودگى ميں نكاح ہوا تھا، اب ميں تو يہى كہتى ہوں كہ مجھے اللہ ہى كافى ہے، ميں نے اس كے خاندان والوں كو بتا كر كوئى برائى نہيں كى، كيونكہ ميرا خيال تھا كہ وہ سمجھتے ہيں، ليكن معاملہ اس كے برعكس اور الٹ ہو كيا، اب مجھے كيا كرنا چاہيے ؟

  • PDF

    ایک جدید مسلم دوست کا سوال : ایک آدمی نے شادی کی جس سے اس کے دو بچے ہيں ، وہ کام کے سلسلے میں سعودیہ گیا اوراپنے بیوی بچوں کوملک میں ہی چھوڑ دیا ، سعودیہ میں ایک عورت سے تعارف کے بعد پہلی بیوی کے علم کے بغیر ہی دوسری شادی کرلی اوراس سے بھی ایک بچہ پیدا ہوا اورسعودیہ میں کام کرنے والے دونوں میاں بیوی نے اسلام قبول کرلیا ۔ اس لیے کہ وہ دونوں جدید مسلمان ہیں ان کوخدشہ ہے کہ ہم نے گناہ کا کام کیا ہے ، توکیا ممکن ہے کہ آپ ہمیں کوئ نصیحت کریں ؟ 1 - مذکورہ تعلق کا کیا حکم ہے ؟ 2 - آدمی کے ذمہ پہلی بیوی اوربچوں کے بارہ میں کیا واجبات ہیں ؟ 3 - وہ کون سے گناہ کے مرتکب ہوۓ ہيں اوراس سے بچنے کے لیے انہيں کیا کرنا چاہیے تا کہ آئندء وقوع پذیر نہ ہو ؟ گزارش ہے کہ اس جیسے حالات کوختم کرنے کے لیے کو‏ئ نصیت فرمائيں

  • PDF

    اگر كوئى شخص يہ بات كہے كہ: " مسلمانوں كے فقر اور كمزورى اور اس دور ميں ان كے پيچھے رہنے كا سبب كثرت نسل ہے، اس ليے مسلمان ترقى نہيں كر سكے، ايسا اعتقاد ركھنے والے شخص كا شريعت ميں كيا حكم ہے ؟

  • PDF

    برائے مہربانى ميرا ليٹر پڑھ كر جتنى جلدى ہو سكے اس كا جواب ارسال كريں؛ كيونكہ ميں فتوى كى ويب سائٹس تلاش كر كے اور ليٹر ارسال كر كے جواب كا انتظار كر كے تھك چكا ہوں، جس ويب سائٹ پر بھى ليٹر ارسال كيا اس نے جواب نہيں ديا، تو ان ويب سائٹس كے بارہ ميں ميرا نظريہ تبديل ہوگيا. اور جب ميں نے آپ كى اس ويب سائٹ پر كچھ فتوى جات كا مطالعہ كيا تو مجھے بہت راحت ملى اور ميں روزانہ ہى آپ كے فتاوى جات پڑھنے لگا، كيونكہ يہ ميرے ليے راحت كا باعث ہيں، ميں نے اپنے كچھ سوالات كے واضح اور شافى جوابات پائے. برائے مہربانى ميرے سارے سوالات كا حل پيش كريں كيونكہ مجھے يہ سوال سونے بھى نہيں ديتے مجھے شافى جواب كى بہت زيادہ ضرورت ہے؛ كيونكہ ميں بہت تھك چكا ہوں اور بہت زيادہ پريشان ہوں ذہن منتشر ہے اور مجھے خدشہ ہے كہيں ميں وہى غلطى نہ كر بيٹھوں جس سے دور بھاگتا ہوں. ميرا قصہ يہ ہے كہ: ميں اپنے كى بجائے كسى دوسرے ملك ميں زير تعليم تھا اور آپ جانتے ہيں كہ يورپى معاشرہ كيسا ہے ميں قصہ لمبا نہيں كرنا چاہتا: ميں نے شراب نوشى اور زنا جيسے فحش كام بھى كيے، اور رمضان المبارك ميں روزے بھى نہ ركھتا، بلكہ رمضان المبارك ميں زنا بھى كرتا رہا، ميرے غلطياں و كوتاہياں تو بہت ہيں. اس اللہ كا شكر ہے جس نے مجھے ہدايت سے نوزا اور ميں نے توبہ كر لى اور مجھے اللہ نے ايك نئى زندگى كى توفيق دى اور مجھے اندھيروں سے نور كى طرف لےآيا، ميں نے رمضان المبارك ميں توبہ كى تھى، ميرے ساتھ ايك عيسائى لڑكى رہتى تھى، جب اس لڑكى نے مجھے توبہ كر كے قرآن مجيد كى تلاوت كرتے اور نماز روزہ كى پابندى كرتے ہوئے ديكھا تو يہ لڑكى اسلام كے قريب ہونے لگى، اور دس رمضان المبارك كے روز يہ لڑكى بھى مسلمان ہوگئى، اور شرعى لباس زيب تن كر كے پردہ كرنا شروع كر ديا، اور قرآن مجيد كى تعليم حاصل كرنے لگى، اور فرض نمازيں اور سنتوں كے ساتھ ساتھ روزے بھى ركھنا شروع كر ديے، اور سيرت نبويہ كا مطالعہ كر كے بہت سارے اسلامى درس بھى سننے لگى. جس دن اس نے اسلام كا اعلان كيا ميں نے اس سے شادى كر لى، اور ہم اپنى زندگى كے بہترين ايام بسر كر رہے تھے كہ ايك دن ميں نے كڑوى حقيقت جانى جس نے ميرى زندگى كو ہى تبديل كر ديا، اور ميں ہر وقت پريشان و غمزدہ رہنا لگا، ميں نے اس لڑكى كى تاريخ معلوم كر لى، اس كا ماضى بالكل ايك اجنبى ( آزاد اور خائن ) لڑكى جيسا تھا، مجھے معلوم ہوا كہ اس نے مجھ سے كئى ايك بار خيانت كى ہے، ليكن اس نے يہ خيانت اسلام قبول كرنے اور ميرى اس كے ساتھ شادى كرنے سے قبل كى تھى، ليكن اس ليے كہ وہ ميرى بيوى بن چكى ہے اور پھر ميں عربى النسل ہوں ميں ماضى نہيں بھول سكتا، ميں نے اپنے دين اور اپنے پرودگار كى بھى خيانت كى اور اسلام سے دور رہا ميں پيدائشى مسلمان ہوں، وہ اسلام كے بارہ ميں كچھ نہيں جانتى تھى، ليكن ميں اسلام كے بارہ ميں بہت كچھ جانتا تھا وہ مجھ سے بہت بہتر ہے كيا واقعتا ايسا ہى نہيں ؟ اسلام اپنے سے قبل ہر گناہ كو ختم كر ديتا ہے، اور توبہ كرنے والا بھى ايسا ہى ہے جيسے كسى كے پہلے كوئى گناہ نہ ہو ميں اس كى قدر و احترام كرتا ہوں كيونكہ اس نے يقين كے ساتھ اسلام قبول كيا ہے، وہ بہت روتى رہتى ہے، خاص كر جب قرآن مجيد كى تلاوت كرے، اور احاديث نبويہ كا مطالعہ كرتے وقت بھى، اس نے بھى غلطياں كى تھيں، ليكن اسے اسلام كا علم نہ تھا اور ميں نے غلطياں اور گناہ كيے اور مجھے علم تھا كہ زنا گناہ كبيرہ ہے، اور اللہ سبحانہ و تعالى شديد العقاب ہے، ليكن انسان خطا كار ہے، اور اس كى سوچ محدود ہے. مجھے جو تنگى محسوس ہوتى ہے وہ يہ كہ جب مجھے ماضى كا علم ہوا تو ميں بہت شديد غصہ ميں آ گيا اور ناراض ہوا، اور اسے ايك بار طلاق بھى دے دى، اور دو روز كے بعد ميں پھر غصہ ميں ہوا اور اسے زدكوب بھى كيا اور بہت زيادہ ناراض ہوا، اور اسے دوبارہ طلاق دے دى، ہمارے درميان مشكلات بڑھ گئيں، اور ميرا غصہ زيادہ ہونے لگا، جب ميں غصہ ميں ہوتا ہوں تو پاگل كى طرح ہو جاتا ہوں، نہ تو كچھ سوچتا ہوں، اور نہ ہى سمجھ ہوتى ہے كہ زبان سے كيا نكال رہا ہوں، زبان سے جو كچھ نكلتا ہے وہ نكلتا ہى جاتا ہے مجھے كچھ علم نہيں ہوتا. ميں نے دونوں بار سوال اور استفسار كے بعد اس سے رجوع كر ليا، كچھ ايام ہى گزرے كہ ہمارے درميان پھر جھگڑا ہوا اور ميں نے اسے زدكوب كيا، اس نے ميرى توہين كى تھى ليكن شروع ميں كرنے والا تھا، ميں نے اسے تيسرى بار طلاق دے دى اور جتنى بار بھى طلاق ہوئى ميں نادم ہوتا اور روتا اور اس پر شفقت كرتا كيونكہ يہ لڑكى اسلام قبول كرنے كے بعد بہت ہى نيك و صالح بن گئى ہے، مجھے اس كے ضائع ہونے كا خدشہ رہتا ہے، ليكن غصے اور شيطان نے مجھے غلطياں كرنے پر مجبور كر ديا ہے، تيسرى بار طلاق دينے كے بعد ميں نے دو ركعت نماز ادا كى اور اللہ كے سامنے رويا بھى، اور اللہ سے دعا كى كہ اگر طلاق واقع ہو گئى ہے تو مجھے فورى طور پر اس سے دور كر دے اور اگر طلاق نہيں ہوئى تو پھر جتنى جلدى ہو سكے ميں اس سے رجوع كر لوں، اور يہى ہوا، ميں نے اللہ كى توفيق سے اسى رات اس سے رجوع كر ليا، ميں نے پڑھا ہے كہ غصہ ميں طلاق واقع نہيں ہوتى. اور جب ميرى تعليم مكمل ہوئى تو ميں اپنے ملك واپس آ گيا اور ميں نے اس سے وعدہ كيا تھا كہ ميں اپنے خاندان والوں سے بات كرونگا تا كہ تم بھى ميرے پاس آ سكو، ليكن يہاں معاملہ ہى مختلف ہے، ميں نے ايك عرب لڑكى جسے كبھى كسى نے ہاتھ بھى نہيں لگايا كو بہت مختلف پايا، اور ايك اجنبى لڑكى جو مجھ سے قبل بہت سارے مردوں كے ساتھ سوتى رہى ميں بہت فرق پايا، يہى چيز مجھے بہت غضبناك كر ديتى ہے اور بعض اوقات تو ميں اسے چھوڑنے كا سوچنا شروع كر ديتا ہوں، ليكن اللہ سے ڈرتا ہوں كہ ميں بھى تو اس جيسا ہى تھا، اور اب وہ مجھ سے بہتر اور افضل ہو چكى ہے، اب ميرى عقل اور سوچ ايك عرب لڑكى اور ايك اجنبى لڑكى ميں موازنہ كرنے ميں مشغول رہتى ہے، اور ميرے گھر والے بھى ميرى شادى كو قبول نہيں كرتے، اور وہ مجھ سے سوال كرنے لگے ہيں: وہ كون ہے ؟ كيا شادى سے قبل وہ لڑكى تھى ؟ تو ميں نے انہيں كہا جى ہاں وہ ايسى نہ تھى، ميں نے اس سے شادى اس ليے كى كہ اس نے اسلام قبول كر ليا تھا، اور بہت اچھى مسلمان بن گئى، ميں نے اس سے شادى اللہ كى رضا و خوشنودى كے ليے كى ہے، اور تا كہ ميں اپنے گناہوں كا كفارہ ادا كر سكوں، اور اب وہ ميرا انتظار كر رہى ہے، اور مسلمان ملك ميں رمضان كے روزے ركھنے كى تمنا ركھتى ہے، ليكن ميرے گھر والے اس سے انكار كرتے ہيں، ميں چاہتا ہوں كہ و ہ ميرے پاس آ جائے تا كہ وہاں رہ كر ضائع نہ ہو جائے، وہ بہت اچھے اخلاق كى مالك ہے اور خاص كر اسلام لانے كے بعد تو اس كا اخلاق اور بھى اچھا ہو چكا ہے، ميرى نظر ميں تو وہ پہلے دور كى ايك اسلامى عورت بن چكى ہے، ميں اب بہت ہى عذاب سے دوچار ہوں، جب ميں اپنى اور اس كى تاريخ اور ماضى ياد كرتا ہوں تو اپنے دل ميں كہتا ہوں اللہ نے اس لڑكى كو ميرے ليے گناہوں كا كفارہ بنا كر بھيجا ہے. كيا طلاق واقع ہو چكى ہے يا نہيں ؟، اور اگر طلاق واقع ہو گئى ہے تو كيا مجھے رجوع كرنے كا حق حاصل ہے تاكہ وہ ايك كفريہ ملك ميں اكيلى رہ كر ضائع نہ ہو جائے ؟ مجھ پر كيا واجب ہوتا ہے، كيا ميں ايك نيا اسلام قبول كرنے والى بيوى كے ساتھ رہوں، يا كہ ايك عرب مسلمان لڑكى سے شادى كر لوں ؟ ميں اپنے گھر والوں كے ساتھ كيا معاملہ كروں، وہ چاہتے ہيں كہ ميں اسے طلاق دے دوں، اور اگر ميں انہيں راضى كرنے كے ليے بيوى كو طلاق دے دوں تو كيا يہ حرام ہوگا ؟ كيا زنا ميرى گردن ميں قرض ہے كہ ايك دن مجھے اس كى قيمت ادا كرنا پڑيگى ؟ اور ميں اس كا ماضى كيسے بھول سكتا ہوں كہ وہ ميرے ساتھ كھاتى پيتى اور سوتى جاگتى تھى اور ميں اس كے ساتھ مسلمان خاوند بيوى كى طرح رہتا تھا ؟ برائے مہربانى ايسے دلائل ارسال كريں جو اس سلسلہ ميں ميرى معاونت كريں، ميں آپ سے شديد گزارش كرتا ہوں كہ آپ مجھے شافى جواب ديں جس كا مجھے بہت عرصہ اور شدت سے انتظار ہے، اور اس ليے بھى كہ جو ويب سائٹس مسلمانوں كى معاونت كے ليے كھولى گئى ہيں ان كے بارہ ميں ميرا گمان برا نہ ہو جائے، اور خاص كر ان كى معاونت كے ليے جو تباہ ہو كر برے راستے پر چل نكلے ہيں اور ميرى طرح ضائع ہو رہے ہيں وہ مدد كے محتاج ہيں، چاہے كوئى نصيحت كر كے ہى مدد كريں، ( ڈوبنے والے كو تنكے كا سہارا ہى سہى ) اے مسلمانوں كے علماء كرام جب تم ميرى مدد نہيں كرو گے تو ميں كہاں جاؤں ؟

  • PDF

    کثرت افراد کے حامل ممالک میں تحدید نسل کا کیا حکم ہے مثلا قاہرہ وغیرہ میں ؟

  • PDF

    ايك شخص يورپى ممالك كى طرف ہجرت كر كے گيا اور وہاں رہائشى پرمٹ حاصل كرنے كے ليے ايك عيسائى عورت سے شادى كى، اس كى ايك بچى بھى ہوئى، شادى كے ابتدائى برس تو اس نے گمراہى ميں ہى برس كر ديے، وہ بيوى پر ظلم و ستم كرتا اور بچى كو بھى اذيت ديتا گويا كہ وہ اس كے كچھ نہيں لگتے. اللہ تعالى نے اس كى بيوى كو ہدايت دى چنانچہ اس نے اسلام قبول كر ليا، ليكن خاوند كى حالت ميں كوئى تبديلى پيدا نہ ہوئى اور وہ اب تك زنا اور گناہوں كا ارتكاب كرتا ہے، اور گھر كے اخراجات بھى ادا نہيں كرتا، نہ تو بيوى كو رقم ديتا ہے اور نہ ہى كھانا لا كر ديتا ہے. بلكہ وہ زبردستى بيوى كے خرچ پر رہتا ہے، ليكن وہ مسكين ہر ظلم پر صبر و تحمل كرتى ہے كيونكہ اس كے اور بھى دو بچے ہيں، اور وہ اپنا گھر خراب نہيں كرنا چاہتى، اور اللہ سے اميد ركھتى ہے كہ اللہ تعالى اس كے خاوند كو ہدايت ضرور دےگا. عورت كے خاندان والوں كا خيال ہے كہ اجنبى لوگ اور اسلام ان كى بيٹى كى تباہى كا سبب ہيں، كيا آپ كوئى نصيحت كريں گے يا آپ كے پاس كوئى ايسا طريقہ ہے جو اس شخص كو صحيح راہ دكھا سكے، اور اس سلسلہ ميں اسلامى حكم كيا ہے ؟

  • PDF

    الحمد للہ ميں دو يا تين برس سے مسلمان ہو چكى ہوں يونيورسٹى ميں اپنے كلاس فيلو سے متاثر ہوئى اور پھر ہم ايك دوسرے كو پسند كرنے لگے، اور ميں نے اسلام قبول كر ليا اور اب ہم شادى كى رغبت ركھتے ہيں، كيونكہ خاندان كافر ہے اس ليے وہ ان تعلقات كى مخالفت كرتا ہے، اور اسى طرح اس نوجوان كے والدين كى بھى يہى حالت ہے، ميرے والدين كو ميرے اسلام قبول كرنے كا كوئى علم نہيں، كيونكہ نے اسلام ظاہر نہيں كيا اور خفيہ طور پر اسلامى امور پر عمل كرتى ہوں. اور ميں آپ كو يہ بھى معلومات دينا چاہتى ہوں كہ ميں مذكورہ نوجوان سے شادى كر كے ايك اسلامى زندگى بسر كرنا چاہتى ہوں، ميں كسى كافر شخص سے شادى نہيں كرنا چاہتى ميرے والدين چاہتے ہيں كہ ميں اپنے ملك واپس جا كر ايسے شخص سے شادى كروں جو ان كے دين پر ہى عمل كرتا ہے. كيا ہمارى شادى كے ليے ہمارے والدين كى موافقت ضرورى ہے، اور كيا ان كے علم كے بغير ہمارى شادى ممكن ہے يا كہ اسے ان كى اجازت تك مؤخر كر ديا جائے، مجھے خدشہ ہے كہ اگر ميرے والدين كو پتہ چل گيا كہ ميں مسلمان ہو گئى ہوں تو وہ زندگى سے ہاتھ دھو بيٹھيں گے اور مر جائينگے، كيونكہ وہ مسلمانوں كو ناپسند كرتے ہيں، اور ميں نہيں جانتى كہ انہيں كيسے مطمئن كيا جائے، كيا ميرى شادى كے ليے انہيں مطمئن كرنا ضرورى ہے، يا كہ ميرے ليے ان كى رغبت كى مخالفت كرنا جائز ہے ؟

  • PDF

    میں ایک یورپیین عورت ہوں اللہ تعالی نے صراط مستقیم کی ھدایت نصیب فرمائي اورالحمدللہ اسلام قبول کرلیا ۔ میں پوری کوشش کرتی ہوں کہ اللہ تعالی کے دین کی اتباع کروں ، لیکن میں آپ سے بعض ازدواجی مشکلات کے بارہ میں نصیحت طلب کرتی ہوں جوکہ میرے اورخاوند کے مابین پیدا ہوچکی ہیں ۔ میرے خیال میں آپ کویہ بتانا ضروری ہے کہ ہماری ازدواجی زندگي کشیدگي کی علامت بن چکی ہے ، حتی کہ معاملہ اس حد تک جا پہنچا ہے کہ میں نے اپنے خاوند سے چند مال قبل پہلی مرتبہ طلاق کا مطالبہ بھی کردیا ہے ، اس کا سبب یہ ہے کہ وہ جانتے ہوئے بھی کہ نماز فرض اورضروری ہے نماز میں سستی کرنے لگا ہے ۔ اوراس نے ایک اوربری عادت بنا لی ہے کہ وہ جب بھی غصہ میں ہوتا ہے مجھے طلاق کی دھمکیاں دیتا ہے ، اوراسی حالت میں مجھے اس نے گھر سے بھی نکال دیا تھا ، اورجب اسے یہ پتہ چلا کہ میں بھی اسے چھوڑ دونگي تو اس نے توبہ کی اوراپنے معاملات میں تبدیلی پیدا کرلی ، جس کی وجہ سے میں نے اپنا مطالبہ ختم کردیا اوراس کے پاس واپس آگئی ۔ اس کے باوجود کشیدگي ابھی تک پائي جاتی ہے اورہمارے تعلقات کوخراب کررہی ہے ، اس کا سب سے بڑا سبب یہ ہے کہ موجود دور میں وہ مجھ سے ایمان میں کمزور ہے ، اورمیں بھی اپنے آپ کوکامل ایمان نہيں سمجھتی ، اورمجھے بھی علم ہے کہ میں بھی معصیت اورگناہ میں پڑ جاتی ہوں ، لیکن میں اسے ہروقت دیکھتی ہوں کہ وہ اچھے کام نہیں کرتا ( وہ حرام اورمکروہ کام میں پڑا رہتا ہے ) ۔ میں یہ سب کچھ برداشت نہیں کرسکتی اوراسے ایسے کاموں سے منع کرنے سے نہیں رک سکتی کہ میں اس پر خاموش رہوں مثلا : بیٹی کے سامنے ایسی جگہ کا بوسہ لینا جوکہ کسی کے سامنے شرم کی بات ہے ، اوربیٹی کی موجودگی میں ہی فحش کلمات کی ادائیگي وغیرہ الخ ۔ اورجب میں اس سے یہ کہتی ہوں کہ ایسا کرنا صحیح نہیں ، بعض اوقات تووہ مجھے قرآن وسنت میں سے دلیل دیتا ہے وہ چاہتا ہے کہ اس سے معلوم کروائے اورپھر وہ اپنے اسی فعل میں کوجاری رکھتا ہے ، یا پھر غصہ میں آجاتا ہے اورمجھے کہتا ہے کہ وہ اپنے معاملات میں ہی مشغول رہے میرے معاملات میں دخل نہ دیا کرو ، اورہمارے درمیان کشیدگي کا یہی سبب اورمصدر ہے ۔ ہم دونوں میں سے ہرایک کے صبر کا پیمانہ لبريز ہوچکا ہے کوئي بھی صبر نہیں کرسکتا تومیرا سوال یہ ہے کہ : اللہ تعالی ان حالت میں مجھے کس چيز میں آزمانا چاہتا ہے ؟ اگرمجھے علم ہوتوکیا مجھ پر ضروری نہيں کہ میں اسے نصیحت کروں اوراسے صحیح چيز کے متعلق بتا‎ؤں یا کہ میں صبرو تحمل کا مظاہرہ کروں اورانتظار کروں کہ اسے خود ہی صحیح اورغلط کا علم ہوجائے گا کیونکہ اب وہ اسلامی کتب پڑھنے لگا ہے ؟ اس موضوع کے بارہ میں آپ سے نصیحت چاہتی ہوں ، کیونکہ اب وہ اس طرح کی تنبیھات سے تنگی محسوس کرنے لگا ہے ، اورمیں صبر نہیں کرسکتی بلکہ اگر تو وہ میری بات نہ سنے تو میں غصہ میں آجاتی ہوں ، میری آّپ سے گزارش ہے کہ آپ مجھے کوئي نصیحت کریں اوراس میں کتاب وسنت کے دلائل بھی دیں ۔

  • PDF

    ميں نے سوال نمبر ( 2803 ) كے جواب ميں پڑھا جس ميں آپ نے سوال كرنے والى كو اپنى شادى كے اعلان كى نصيحت كى ہے كيونكہ يہى سنت ہے جيسا كہ ميں نے ايك دوسرے سوال ميں پڑھا ہے كہ كئى ايك اسباب كى بنا پر والدين نے اپنے بيٹے يا بيٹى كى شادى كى رغبت كو ٹھكرا ديا ہے تو اس سلسلہ ميں آپ اس بہن كو كيا نصيحت كرتے ہيں: ايك عورت جس كا خاوند ہندو ہے اس كو طلاق ہو چكى اور پھر اس عورت نے اسلام قبول كر ليا كيونكہ وہ حق كو پہچان گئى اور اسے صراط مستقيم كى راہنمائى حاصل ہو گئى ہے الحمد للہ. اس نے اپنے خاندان والوں سے كسى معروف سبب كى بنا اپنا اسلام مخفى ركھا، ليكن اس كے دونوں بچے ابھى تك ہندو ہى ہيں، اس ليے كہ اس كا سابقہ خاوند اسلام دشمن ہونے كى بنا پر بيوى كو قتل كرنا بہتر سمجھتا ہے كہ اس كے دونوں بچے اسلام قبول كر ليں، وہ شخص دين اسلام اور اللہ سبحانہ و تعالى پر كئى ايك موقع پر سب و شتم بھى كر چكا ہے. يہ بہن اب ايك دين والے مسلمان شخص كو پسند كرتى ہے جو اخلاق عاليہ كا مالك ہے، ليكن مشكل يہ درپيش ہے كہ اس شخص كے والدين اس شادى كے خلاف ہيں، اس كى والدہ كا اعتقاد ہے كہ جو نئے مسلمان ہوتے ہيں وہ اچھے نہيں ہوتے بلكہ وہ كہتى ہے " يہ ممكن ہى نہيں ہو سكتا كہ وہ كسى دن ہم ميں سے ہوں " جب وہ شادى كا فيصلہ كرے تو كيا دونوں كے ليے اس شادى كو ان اسباب كى بنا پر خفيہ ركھنا جائز ہے ؟ جو شخص اس عورت سے شادى كرنا چاہتا ہے وہ ان دونوں بچوں كو اپنے ساتھ ركھنے پر متفق ہيں، اور وہ انہيں اسلام كى دعوت دے كر انہيں مسلمان بنائيں گے، وہ شخص كہتا ہے كہ ايك ہى گھر ميں دو دين پر عمل نہيں ہو سكتا. ان دو مشكلات كى موجودگى ميں وہ دونوں كس طرح زندگى بسر كر سكتے ہيں، يعنى خاوند كى جانب سے گھر والوں كى مشكل، اور بيوى كى جانب سے سابقہ خاوند جو اپنے بچوں كو اسلام ميں داخل نہيں ہونے ديتا، اور ميرى يہ سہيلى بچوں كى پرورش كا حق چھنوانا نہيں چاہتى كيونكہ ان كا باپ برے اخلاق كا مالك ہے اور ان پر ظلم و زيادتى كريگا. برائے مہربانى اس بہن كو جلد از جلد كوئى ايسى نصيحت كريں جو اس كو مشكلات سے نكالنے كا باعث بن سكے، كيونكہ وہ رات كو بھى سو نہيں سكتى، و صلى اللہ علي نبى محمد عليہ السلام.

  • PDF

  • video-shot

    MP4

    فيملي پلاننگ کیا ہے؟ اسکے کیا دوافع ہیں؟ اسکے کیا وسائل ہیں؟ اسلامی سماج میں اسکے انتشارکے کیا اسباب ہیں؟ تحدید نسل اور فیملی پلاننگ میں کیا فرق ہے؟ فیملی پلاننگ کے سلسلہ میں شریعت اسلامیہ کا کیا موقف ہے ؟ اس بارے میں جانکاری حاصل کرنے کیلئے مشاہدہ کریں ویڈیو مذکور کا جسے مشہور اسلامی داعی حافظ ارشد بشیرمدنی حفظہ اللہ نے آپکی خدمت میں پیش کیا ہے.نہایت ہی مفید معلومات ہے ضرور استفادہ حاصل کریں.

  • MP3

    اسلام کا مالیاتی نظام كيا ہے؟ تجارت ،صنعت وحرفت ، زراعت اوراجرت ومزدوری کی اسلا م کی نظرمیں کیا اہمیت ہے؟اسلام میں کمائی کے حلال طریقے کیا کیا ہیں ؟اسلام میں رشوت، سود خوری،چوری وڈکیٹی، زنا ورنڈی بازی ،جھوٹ ومکاری فریب ودھوکہ دھڑی ’قسمت کا حال وغیرہ بتاکرمال کمانے کا کیا حکم ہے ؟زیرنظرکیسٹ میں انہیں چیزوں کے متعلق تفصيلی روشنی ڈال کریہ واضح کیا گیا ہے کہ موجودہ دورمیں پوری دنیا خاص کریوروپی ومغربی ممالک جس مالی واقتصادی بحران کا شكارهیں اس سے نکلنے کا واحد حل اسلام کے مالیاتی نظام کونافذکرنا ہے. نہایت ہی مفید بیان ہے ضرورسنیں.

  • MP3

    مُقرّر : حسين سلفي

صفحہ : 2 - سے : 1
فیڈ بیک