علمی زمرے

طلاق وجُدائی

اس مجموعہ میں ایسے روابط شامل کئے گئے ہیں جن میں طلاق، خلع،ظہار،ایلاء ،لعان اور رجعت کے احکام بیان کئے گئے ہیں۔

عناصر کی تعداد: 60

  • PDF

    سوال : كيا طلاق رجعى والى عورت اپنے خاوند كے گھر ميں ہى سارى عدت گزارے گى يا كہ خاوند كے رجوع كرنے تك ميكے ميں رہے گى ؟

  • PDF

    سوال: حيض كے پہلے دن بيوى اپنے خاوند كو بتانا بھول گئى كہ اسے حيض شروع ہو چكا ہے، اور خاوند سے طلاق كا مطالبہ كر ديا، خاوند نے تيسرى طلاق بھى دے دى، پھر بيوى كو ياد آيا كہ اسے تو حيض آيا ہوا ہے لہذا اس نے خاوند كو بتايا، برائے مہربانى آپ يہ بتائيں كہ اس سلسلہ ميں شرعى موقف كيا ہے ؟

  • PDF

    سوال: الحمد للہ ميں مسلمان ہوں، اورميرا ایمان ہے کہ اللہ تعالیٰ کی حکمت ہے، چاہے ہميں اس کی حكمت سمجھ میں آئے یا نہ آئے، اللہ عزوجل كو یہ علم ہے كہ كس چيز ميں ہمارا فائدہ ہے. میں جانتا ہوں كہ عقد ِنكاح ميں جو سختى ہے اس ميں حكمت يہ ہے كہ خرابى اور فساد سے اجتناب اور بُعد پيدا ہو جائے ، تا كہ كوئى عورت زنا كر كے يہ نہ كہے كہ ميں تو شادى شدہ ہوں ليكن طلاق كے معاملہ ميں اتنى آسانى كيوں. صرف ايك كلمہ كے ساتھ ہى شادى ختم ہو جاتى ہے اور پھر بغير گواہوں كے ہى اور لوگوں كو بتائے بغير ہى، اور پھر طلاق تين طلاقوں ميں محدود ہے، كيا خاندان كى تباہى ميں يہ آسانى نہیں ہے ؟ اور اسى طرح طلاق ميں گواہوں كا نہ ہونے ميں بھى خرابى نہیں ہے كیونکہ اگر طلاق دينے والا خاوند طلاق پر گواہ نہیں بناتا تو بيوى وراثت كا مطالبہ كر سكتى ہے، اور پھر زنا سے حاملہ ہونے كے بعد وہ طلاق دينے والے شخص كى طرف اسے منسوب بھى كر سكتى ہے ؟

  • PDF

    سوال: اگر كوئى شخص اپنى بيوى پر طلاق كى قسم کھائے كہ اگر اس نے كوئى كام مثلا :قطع رحمى كى تو اسے طلاق ہے، اورخاوند اس وقت شديد غصہ كى حالت ميں تھا اور اسے اپنے نفس پر کنٹرول نہ تھا اور اسے يہ بھى ياد نہیں تھا كہ وہ كيا كہہ رہا ہے۔۔۔ تو اس كا حكم كيا ہو گا ؟

  • PDF

    سوال: ايك مسلمان خاتون كے خاوند نے سخت غصہ كى حالت ميں اسےكئى بار ’’ تجھے طلاق ہے‘‘كے الفاظ كہے ہيں، اس كا حكم كيا ہے خاص كر اس كے بچے بھى ہيں ؟

  • PDF

    سوال:ميرے ايك دوست نے اپنى بيوى كو غصہ كى حالت ميں طلاق دے دى، اس نے اسے ايك ہى بارہ تين طلاقيں ديں، ليكن ميں نے انٹرنيٹ پر پڑھا ہے كہ تين طلاقيں ايك ہى شمار ہوتى ہے، كيا يہ بات صحيح ہے كہ ايك مجلس كى تين طلاقيں ايك ہى شمار ہو گى، اور ميں نے غصہ كى بھى تين قسميں پڑھى ہيں كيا يہ بھى صحيح ہے ؟

  • PDF

    زیر مطالعہ کتاب’’ 477 سوال وجواب برائے نکاح وطلاق‘‘ سعودی عرب کے معتمد وکبار علمائے کرام کے نکاح ،طلاق ،خلع اور عدّت وغیرہ جیسے اہم مسائل کےجوابات پر مشتمل ہے تاکہ مسلمان شخص نکاح وطلاق کے جملہ مسائل کو کتاب وسنت کی روشنی میں جان کر ازدواجی زندگی کو خوشگوار بنا سکے، کتاب کی افادیت کے پیش نظر جناب محمد یاسر حفظہ اللہ نے اسے نہایت جانفشانی وعرق ریزی سے بہترین اردو قالب میں ڈھالا ہے۔ اور ادارہ بیت السلام، ریاض نے اسے زیور طباعت سے آراستہ کرکےہدیہ قارئین کیا ہے، رب العالمین اس کتاب کے نفع کو عام کرے، اور کتاب کے مؤلف،مترجم ،ناشر وجملہ متعاونین کی مساعی جمیلہ کو قبول کرکے ان سب کے لئے صدقہ جاریہ بنائےآمین۔

  • PDF

    شریعت اسلامیہ نے شوہر بیوی کو آپس میں پیارو محبت کے ساتھ زندگی گزارنے کا حکم دیا ہے، لیکن بسا اوقات فریقین کی طرف سے آپس میں ایک دوسرے کی حق تلفی ،یا کوتاہی حقوق ، یا ناسمجھی کی بنا پر تعلقات خراب ہوجاتے ہیں اور نوبت طلاق تک جا پہنچتی ہےِ، اورمسائل طلاق سے جہالت ولاعلمی کی بنا پر شوہر و بیوی بہت سارے خلاف سنت عمل کر بیٹھتے ہیں ۔ زیر تبصرہ کتاب "سلسلہ تفہیم السنہ" کی تیرہویں پیشکش میں فاضل مصنف محمد اقبال کیلانی۔ حفظہ اللہ۔ نے سب سے پہلے مثالی شوہر اور بیوی کی صفات بیان کرکے انکے آپسی حقوق کا تذکرہ کیا ہے، اسکے بعد طلاق، خلع، ظہار , ایلاء اور عدت وغیرہ سے متعلق جملہ مسائل کو کتاب وسنت کی روشنی میں نہایت ہی عمدہ اسلوب میں پیش فرمایا ہے ۔ طلاق کے موضوع پر بہترین کتاب ہے جس کا مطالعہ ہر عام وخاص کیلئے بے حد مفید ثابت ہوگا۔

  • PDF

    الحمد للہ ميرى چھ ماہ قبل شادى ہوئى اور ميں اپنے خاوند كے ساتھ سعودى عرب ميں رہ رہى ہوں، ميرا خاوند مصرى ہے اور ميں اصلا جرمن ہوں اور امريكہ كى شہريت حاصل كر ركھى ہے، ميرا خاوند مجھے طلاق دينا چاہتا ہے كيونكہ ميں نے ساس سسر سے عليحدہ رہائش كا مطالبہ كيا تھا حالانكہ ہم اس وقت خاوند كے والدين كے ساتھ نہيں رہتے بلكہ وہ مصر ميں رہتے ہيں. وہ چند ہفتے قبل مصر جانے سے پہلے ہمارے ہاں سعوديہ ميں تين ماہ رہ كر گئے ہيں ميرا خاوند بھى واپس جانے كا سوچ رہا ہے اور والدين كے ساتھ ہى رہنا چاہتا ہے، تا كہ ميں اس كے والدين كى خدمت كر سكوں، ميں نے خاوند كو بتايا اس كا والدين كے بارہ ميں سوچنا اور ان سے محبت ركھنا ايك اچھى چيز ہے، ليكن ميں ايك بيوى كى حيثيت سے مستقل طور پر اس كى والدين كے ساتھ ايك ہى گھر ميں نہيں رہ سكتى، اس نے وعدہ كيا ہے كہ ہم اسى گھر ميں اوپر والى منزل پر رہيں گے تا كہ والدين كى خدمت كر سكيں، اور ان كى ضروريات پورى كى جائيں، ميں نے اسے بتايا كہ اسلامى اور شرعى طور پر يہ ميرا كام نہيں كہ ميں ان كى خدمت كروں، اس ليے كہ اسلام ميں كوئى ايسى نص اور دليل نہيں ملتى جو اس كے نظريہ كى دليل ہو. اس طرح ميرے بھى والدين ہيں ان كى خدمت كرنا بھى مجھ پر فرض ہے، اور ان سے صلہ رحمى كرنا اور ان كى ضروريات پورى كرنا مجھ پر بھى عائد ہونگى، ميرا خاوند اس پر متفق ہے كہ ميرے والدين كو جب بھى ميرى ضرورت ہوگى وہ ان كى خدمت كے ليے مجھے جانے سے منع نہيں كريگا، ليكن جب ابھى اس كى ضرورت نہيں تو ميرے والدين كى خدمت كرو، ميں نے سوچا ہے كہ يہ ہے تو اچھا ليكن اگر مجھ سے اس كے والدين كى خدمت صحيح نہ ہو سكى يا پھر ميرا خاوند اس پر مطمئن نہ ہوا تو يہ مجھے طلاق كا باعث بن سكتا ہے، ليكن ميں ايسا پسند نہيں كرتى، كيونكہ اس كے والدين كى خدمت اور گھر كى ديكھ بھال ميرا ذمہ نہيں ہے، ميں نے واضح كيا ہے كہ مجھے ان كى خدمت ميں كوئى اعتراض نہيں اگر ميرا گھر ان كے قريب ہى ہوا تو ميں ان سے اچھے تعلقات ركھوں گى اور ان كى ديكھ بھال بھى كرونگى اور ضرورت كے وقت گھريلو معاملات ميں بھى ہاتھ بٹاؤں گى ليكن ميں مستقل طور پر ايسا پسند نہيں كرتى، مثلا يہ كہ اگر ايسا نہ كروں تو مجھے سزا دى جائے يا پھر اسے مجھ پر لازم كيا جائے يا پھر اس كى مرضى كے مطابق نہ ہو تو مجھ پر دباؤ ڈالا جائے. ميں نے اس سے پورى وضاحت كے ساتھ بات كى ہے ليكن وہ مجھے طلاق دينا چاہتا ہے كيونكہ ميں اپنى ساس اور سسر كے ساتھ ايك ہى گھر ميں نہيں رہنا چاہتى، كيونكہ مجھے تجربہ ہے كہ ان كے ساتھ رہنے سے مجھے اپنى خصوصيت اور خاوند كے ساتھ خاص وقت بسر كرنے سے بھى ہاتھ دھونا پڑيں گے، كيونكہ گھر كے كام كاج ميں مصروف رہوں گى، افسوس ہے كہ انہوں نے اور باقى رشتہ داروں نے ميرى غيبت بھى كرنا شروع كر دى ہے جس كا خاوند كو علم نہيں، برائے مہربانى مجھے اس سلسلہ ميں كوئى نصيحت فرمائيں تا كہ خاوند كے ساتھ محبت و مودت اور نرمى كے ساتھ معاملہ طے كر سكوں دو دن سے تو وہ ميرے ساتھ سوتا بھى نہيں بلكہ عليحدہ كمرہ ميں اكيلا سوتا ہے، برائے مہربانى ميرى مدد كريں.

  • PDF

    ميرى ايك سہيلى نقاب اوڑھتى ہے اور تعليم ميں كچھ پيچھے رہ گئى تو اس كے والد نے كہا يہ سب كچھ اس نقاب كى وجہ سے ہوا ہے، اور اس نے لڑكى كى والدہ پر قسم كھائى كہ اگر لڑكى نے نقاب نہ اتارا تو لڑكى كى ماں كو طلاق، اب اس لڑكى كو كيا كرنا چاہيے ؟

  • PDF

    ميرى بہن كى شادى كو آٹھ ماہ ہوئے ہيں، اور اسے شكايت ہے كہ وہ اپنے خاوند سے محبت نہيں كرتى اس ليے طلاق چاہتى ہے، حالانكہ اس كا خاوند ايك اچھے اخلاق والا اور صاحب علم اور نوجوانوں ميں افضل ہے، ميرا سوال يہ ہے كہ ان دونوں كى اصلاح كے ليے آپ مجھے كيا نصيحت كرتے ہيں، يا كہ ان كے ليے طلاق ہى مناسب ہو گى ؟

  • PDF

    ميرے عزيز بھائيو ميں كيتھولك مذہب ركھنے والى عورت ہوں اور كئى برس سے شادى شدہ بھى ميرى خوبصورت سى دو بيٹياں بھى ہيں، تقريبا پانچ برس سے ميں اپنے خاوند كو پسند نہيں كرتى، ليكن طلاق كے متعلق كبھى سوچا بھى نہيں تھا، كيونكہ ميرا دين اس كى اجازت نہيں ديتا. پچھلے برس ميں اپنے آپ پر كنٹرول نہ ركھ سكى اور ايك چھوٹى عمر كے مسلمان نوجوان كے ساتھ حرام تعلقات قائم كر بيٹھى، اور اس بنا پر كہ وہ ہمارے ليے ايك فليٹ كرايہ پر لے ميں نے اس كے ساتھ عرفى نكاح پر دستخط بھى كر ديے، ليكن جب اس كے خاندان والوں كو علم ہوا تو اس نے وہ كاغذ پھاڑ ديا، ہمارے يہ تعلقات صرف ايك ہفتہ رہے اور پھر ميں نے توبہ كر لى، اور وہ بھى اس سے توبہ كر چكا ہے. اور اس نے اب ايك مسلمان لڑكى سے منگنى كر لى ہے، اور مجھے بھى پچھلے ماہ ايك اچھا سا مسلمان شخص ملا جو شادى شدہ بھى ہے اور اس كے دو بچے بھى ہيں، اور بعض اوقات ہمارى ڈيوٹى اكٹھى ہوتى ہے اور اچھے دوست بھى ہيں اور ہم اس دوسرے كے بہت قريب بھى ہيں، ليكن ابھى تك كوئى حرام كام نہيں كيا، ميرے كچھ سوالات ہيں: 1 ـ كيا ميرى پہلى عرفى شادى ابھى تك موجود ہے، ہم نے دو گواہوں اور ايك وكيل كى موجودگى ميں شادى كى تھى، ليكن مجھے يہ علم نہ تھا كہ يہ حقيقى شادى ہے اور پھر ميں شادى شدہ بھى تھى ؟ 2 ـ اب ميں اپنے خاوند سے طلاق لينا چاہتى ہوں، كيونكہ ميں اس سے محبت نہيں كرتى اور نہ ہى خاوند اور اپنى بچيوں كے ساتھ مسلسل جھوٹ بول سكتى ہوں ؟ 3 ـ اگر مجھے طلاق ہو جاتى ہے تو كيا ميرے ليے اس اچھے مسلمان دوست سے اسلامى شادى كر كے دوسرى بيوى بننا جائز ہے، اور عدت كى مدت كتنى ہو گى ؟ 4 ـ اس نے مجھے بتايا ہے كہ اس كى پہلى بيوى كہتى ہے اگر اس نے دوسرى شادى كى تو وہ اس سے طلاق لے كر بچوں سميت چلى جائيگى اس ليے ميں آپ سے شادى نہيں كر سكتا، تو كيا اس كى پہلى بيوى كو ايسا كرنے كا حق حاصل ہے ؟ ميں نے چاہتى كہ ميرى وجہ سے اسے تكليف اور اذيت سے دوچار ہونا پڑے كہ وہ اپنے خاندان سے دور رہے، اور خاندان كو ملنے نہ جائے، ميں نہ تو اس سے مال حاصل كرنا چاہتى ہوں اور نہ ہى ميں اس كے خاندان كا خسارہ اور نقصان كرنا چاہتى ہوں اور نہ ہى اس كى پہلى بيوى كے ساتھ كوئى برائى كرنا چاہتى ہوں، اور نہ ہى ميں اس پر غيرت ركھتى ہوں بلكہ ميں تو اس كى دوسرى بيوى بن كر اس كے ملك ميں بھى رہنے كے ليے تيار ہوں اور بعض اوقات اپنے ملك آ جايا كرونگى تا كہ اپنى بيٹيوں كو مل ليا كروں. اگر آپ اس موضوع ميں ميرا تعاون كرينگے تو ميں آپ كى مشكور رہوں گى، اللہ تعالى آپ كى حسنات و نيكيوں ميں اضافہ فرمائے.

  • PDF

    ميں ايك نيك و صالح اور دين كا التزام كرنے والے شخص سے شادى شدہ ہوں، اس نے اپنے خاندان والوں سے خفيہ طور پر ميرے ساتھ شادى كى كيونكہ وہ پہلے بھى شادى شدہ تھا، اس كى رغبت كا احترام كرتے ہوئے ميں نے بہت سارے حقوق ختم كر ديے تا كہ يہ راز قائم رہے، اس طرح ميں اس سے رابطہ كرنے ميں مشكل سے دوچار رہنے لگى، ميرى شادى كو ايك برس ہو چكا ہے ليكن اس عرصے ميں اسے ميں نے صرف چوبيس دن ديكھا ہے. اور بالآخر ميں نے فيصلہ كيا كہ ميں اس كى بيويوں اور خاندان والوں كو بتا دوں ہو سكتا ہے وہ ميرے ساتھ نرمى و رحمدلى كا سلوك كرتے ہوئے ميرا تعاون كريں، ليكن اچانك مشكل اور بڑھ گئى كيونكہ ميں چھ ماہ كى حاملہ ہوں اس حالت ميں خاوند نے مجھے موبائل ميسج كر كے طلاق دے دى. مجھے حق سننے والا كوئى نہيں ملا ليكن اس سے بھى بڑھ كر ظلم يہ كہ ميرا خاوند حمل گرانے كا مطالبہ كر رہا ہے! اس سلسلہ ميں شريعت كيا كہتى ہے ؟ ميں تو ضائع اور تباہ ہو گئى ہوں كيونكہ ميرا نكاح سركارى طور پر رجسٹر نہيں ہوا، بلكہ صرف شرعى طور پر والد صاحب اور دو گواہوں كى موجودگى ميں نكاح ہوا تھا، اب ميں تو يہى كہتى ہوں كہ مجھے اللہ ہى كافى ہے، ميں نے اس كے خاندان والوں كو بتا كر كوئى برائى نہيں كى، كيونكہ ميرا خيال تھا كہ وہ سمجھتے ہيں، ليكن معاملہ اس كے برعكس اور الٹ ہو كيا، اب مجھے كيا كرنا چاہيے ؟

  • PDF

    مجھ پر منكشف ہوا كہ ميرى بيوى كے ايك نوجوان كے ساتھ عشقيہ تعلقات ہيں، ابتدا ميں تو يہ ٹيلى فونك رابطے تك ہى محدود تھے، ليكن معاملہ اس حد تك پہنچ گيا كہ ميرى بيوى نے اسے ميرى غير موجودگى ميں گھر بھى بلايا. اب تك ميرى بيوى كو معلوم نہيں كہ مجھے ان كے تعلقات كا علم ہو چكا ہے، ميں اسے طلاق دينے كى نيت كر چكا ہوں، ميرا سوال يہ ہے كہ: كيا مجھے شرعى طور پر حق حاصل ہے كہ ميں اسے ديا ہوا مہر واپس لے لوں، اور بيوى كو شرعى عدالت ميں اسٹام ميں تحرير كردہ باقى مانندہ مہر سے بھى دستبردار ہونے پر مجبور كروں ؟ ميرا دوسرا سوال يہ ہے كہ: ميرى بيوى نے ميرى كئى بار كچھ رقم بھى چورى كى ہے، اس كا انكشاف اس كى آخرى چورى كے بعد ہوا ہے، تو كيا مجھے حق حاصل ہے كہ ميں اس كے گھر والوں سے چورى كردہ مال اور مندرجہ بالا سوال ميں بيان كيا گيا مہر واپس كرنے كا مطالبہ كروں ؟ ميرا تيسرا سوال يہ ہے كہ: ہمارى دو بچياں ہيں بڑى بچى كى عمر ڈھائى بر ساور چھوٹى كى عمر دس ماہ ہے، اور ماہ كا دودھ بھى چھوڑ چكى ہے كيا مجھے حق حاصل ہے كہ ميں طلاق دينے كے بعد بيوى كو بچيوں كى تربيت محروم كردوں؛ كيونكہ اس نے جو كچھ كيا ہے وہ خيانت ہے ؟ بيوى كے برے اخلاق كى بنا پر ميں اپنى بچيوں كى تربيت خود كرنا چاہتا ہوں. ميرا چوتھا سوال يہ ہے كہ: ميرى بيوى اب حاملہ ہے كيا ميں حاملہ بيوى كو طلاق دے سكتا ہوں ؟ ميرى پانچواں سوال يہ ہے كہ: ميڈيكل رپورٹ كے مطابق اب تك حمل پورى طرح صحيح حالت ميں نہيں، اور ہو سكتا ہے حمل ضائع ہو جائے، اور اگر ايسا ہوتا ہے تو كيا مجھے طلاق دينے كے ليے ايك حيض انتظار كرنا ضرورى ہو گا، طلاق دينے كے ليے شرعى وقت كيا ہے ؟ ميرا چھٹا سوال يہ ہے كہ: كيا ايك ہى طلاق كافى ہے يا كہ وقفہ وقفہ سے اسے تين طلاق دينا ہونگى، برائے مہربانى مجھے معلومات فراہم كريں، اللہ سبحانہ و تعالى آپ كو جزائے خير عطا فرمائے، ميں اسے طلاق دينے كے ليے آپ كے فتوى كا انتظار كرونگا ؟

  • PDF

    ميرى خالہ كے خاوند نے طلاق كى قسم اٹھائى كہ خالہ ہمارے گھر ميں نہ آئے، اور ميرى خالہ كو اس كا علم ہى نہ تھا وہ صلہ رحمى اور ہمارے ساتھ صلح كرنے كے ليے ہمارے گھر آ گئى، ہميں كوئى علم نہيں كہ ميرے خالو نے كب قسم اٹھائى ليكن اس نے طلاق كى قسم اٹھائى تھى كہ وہ يہاں نہ آئے. اللہ ہدايت دے ميرے والد صاحب ہميشہ طلاق كى قسم اٹھا ليتے ہيں، اور ميرى والدہ كو اب ايك طلاق ہى باقى ہے برائے مہربانى يہ بتائيں كہ اس ميں شرعى حكم كيا ہے ؟ صراحت كے ساتھ يہ ہے كہ ميرے والدين ہميشہ ہى اپنى سارى زندگى ہى لڑائى جھگڑے ميں گزار رہے ہيں، اور ہر بار ہمارى زندگى تباہ ہونے كے اور زيادہ قريب ہو جاتى ہے.

  • PDF

    ميرے خاوند نے ميرے ملك سے باہر سفر پر جانے سے تين طلاق كو معلق كر ديا ہے كہ اگر سفر پر گئى تو تجھے طلاق اور اس كى نيت طلاق كى ہے، وہ خود ہر سال اپنے دوست و احباب كے ساتھ سياحتى سفر پر جاتا اور كہتا ہے كہ وہاں بہت فتنہ و فساد ہے، اور ميں ايك غيرت مند آدمى ہوں، اور ميں مرد ہوں اس ليے وہاں جانے ميں كوئى مانع نہيں، حالانكہ وہ طبعى جگہوں پر جاتا ہے ليكن مجھے اور بچوں كو سير و تفريح پر لے جانے سے انكار كرتا ہے، حتى كہ يہاں سعوديہ ميں بھى نہيں لے كر جاتا. بلكہ جواب يہ ديتا ہے ميں تمہيں اختلاط والى جگہوں پر نہيں لے جانا چاہتا، ميں تو اس سے بحث كركے تھك گئى ہوں وہ كہتا ہے ميں ہر برس ايك ماہ كے ليے سير و تفريح پر جاتا ہوں كيا يہ جائز ہے كہ مجھ پر اللہ كى جانب سے حلال كردہ سياحت كو حرام كر ديا جائے، وہ جب چاہتا ہے چلا جاتا ہے. حالانكہ وہ نماز كا بھى پابند ہے، اور ہمارے پاس ڈش بھى نہيں اور نہ ہى وہ گانے سنتا ہے، كيا اسے حق حاصل ہے كہ وہ مجھے ميرى مرضى كے بغير ميرے ميكے چھوڑ كر چلا جائے ؟ مجھے بتائيں كہ ميں اس كے ساتھ كيا كروں ؟ اللہ تعالى سے دعا كريں كہ وہ مجھ اور اس سے غفلت كو دور كرے.

  • PDF

    ميں نے ايك اچھے خاندان كى لڑكى سے شادى كى، ليكن شادى سے قبل اس كے بارہ ميں دريافت كرنے سے انہوں نے مجھے بتايا كہ وہ ايك رافضى نواجوان سے محبت كرتى تھى اور اس كے گھر والوں نے رافضى ہونے كى بنا پر قبول نہيں كيا. ميں نے ان كے قابل بھروسہ دوستوں سے دريافت كيا تو ان كا كہنا تھا كہ: ان كا آپس ميں كوئى تعلق تو نہ تھا، وہ لوگوں كے سامنے صرف اكٹھے بيٹھا كرتے تھے، اس ليے ميں نے اس سے شادى كرنے كا فيصلہ كر ليا تا كہ ميں اسے غلطى سے چھٹكارا دلا سكوں. ليكن جب ميرى رخصتى ہوئى تو ميں نے اسے كنوارى نہيں پايا، اور اس نے ميرے سامنے اعتراف كيا كہ اس سے جنسى تعلقات قائم كيے تھے، ليكن دخول نہيں ہوا، ہو سكتا ہے اسے علم نہ ہو اور اس رافضى نے دخول كر ديا ہو. وہ توبہ كر چكى ہے، اور اپنے كيے پر نادم بھى ہے، ميں نے فيصلہ كيا كہ كچھ عرصہ تو ميں اس كى ستر پوشى كرتا ہوں اور پھر اسے طلاق دے دوں گا، ليكن اسے حمل ہوگيا، اب مجھے بتائيں كہ ميں كيا كروں ؟ اس كے جس لڑكے كے ساتھ تعلقات تھے ميں اسے جانتا ہوں، اور وہ بھى مجھے جانتا ہے، اور ميں غصہ سے مر رہا ہوں يہ علم ميں رہے كہ ميں دينى التزام كرتا ہوں، اور بيت اللہ كا حج بھى كر چكا ہوں، اور ايك صلاۃ و صوم كى پابندى كرنے والے خاندان سے تعلق ركھتا ہوں جو سنت پر عمل كرتا ہے ؟

  • PDF

    ميں مطلقہ ہوں اور طلاق اس ليے طلب كى كہ خاوند نے مجھے چھوڑ ركھا تھا، اور اس ليے بھى كہ اسنے رشوت دے كر بے اے كى جعلى ڈگرى حاصل كى، اور يہ علم ميں رہے كہ ميں نے اسے نصيحت بھى كى كہ اس گواہى سے آنے والا مال حرام ہے اور پھر وہ بھى اس سے غافل نہ تھا اسے اس كا علم بھى تھا اس نے كئى بار رشوت دى اور جو چاہتا تھا وہ حاصل بھى كيا. اس كے علاوہ اس نے اپنے اٹھارہ سالہ بھائى كو بھى ميرے ساتھ فليٹ ميں ركھا اور اسے چابى دے ركھى تھى كہ جب چاہے آئے اور جائے، اس سلسلہ ميں ميرا خاوند كے ساتھ اختلاف بھى ہوا، اور اسى وقت ميرے خاوند نے ميرے گھر والوں كى تذليل بھى كى جنہوں نے اس كے ساتھ كوئى برا سلوك نہيں كيا تھا. يہ علم ميں رہے كہ خاوند كى ملازمت كى وجہ سے ہم كسى دوسرے ملك ميں اكٹھے رہتے تھے اس كے بعد خاوند نے مجھ سے ٹيلى فون بھى لے ليا اور بغير محرم مجھے اپنے پانچ سالہ بچے كے ساتھ اپنے ملك بھى روانہ كر ديا صرف ميرے ساتھ خادمہ تھى، تو يہاں سے اس نے ميرے ساتھ عليحدگى اور بائيكاٹ شروع كيا، اس كے بعد اور بھى بہت سارى مشكلات پيدا ہوئيں جن ميں غير اخلاقى حركات بھى تھيں اور ميں نے طلاق كا مطالبہ كر ديا، تو كيا ميرے طلاق طلب كرنے ميں مجھے كوئى گناہ تو نہيں، اس كا ميرے ساتھ اكثر طور پر معاملہ ايك ملازمہ جيسا تھا اور نہ ہى احترام كرتا تھا.

  • PDF

    غم و پريشانى حاصل ہونے كى صورت ميں طلاق طلب كرنے كا كيا حكم ہے ؟ كيا اپنے ملك اور گھر والوں سے دورى ـ جس نے مجھے نفسياتى مريض بنا كر غم و پريشان كر ديا ہے ـ ايسا عذر ہے جس كى بنا پر طلاق طلب كرنا مباح ہو جاتى ہے، يہ علم ميں رہے كہ مجھے شادى سے قبل يہ علم تھا كہ ميں شادى كے بعد اپنے ملك كے علاوہ دوسرے ملك رہوں گى.

  • PDF

    كيا عورت كے ليے شرابى اور نشئى خاوند سے طلاق طلب كرنا جائز ہے ؟

صفحہ : 3 - سے : 1
فیڈ بیک