علمی زمرے

  • اردو

    PDF

    ایسا شخص جسے شیطان اللہ تعالی کے متعلق بہت بڑے بڑے وسوسوں سے دوچار کرتا ہے اور وہ اس سے بہت زیادہ خوف زدہ ہے اسے کیا کرنا چاہئے؟۔

  • اردو

    PDF

    جب مجھے وسوسہ پیدا ہواورمیں بیوی کی بات کا وسوسے کے سبب جواب نہ دوں یا پھر اپنے اس اعتقاد کی بنا پر کہ بیوی ہی اس وسوسے کا سبب ہے توکیا میرا جواب نہ دینا طلاق شمارہوگا ؟ اورجب میں اس سے عصیبیت اورانفعال سے یا متاثرہوکر بات کروں توکیا اسے طلاق شمار کیا جاۓ گا ؟

  • اردو

    PDF

    632 میلادی میں نبی صلی اللہ علیہ وسلم اپنے مستقرمدینہ میں کیسے اورکس حد تک معاشرہ کی اصلاح کرنےاوراس کی تعمیرمیں کامیاب ہوۓ ؟

  • اردو

    PDF

    زیر نظر کتاب میں جادو اور ٹونہ کے فرد اور معاشرے پرہونے والے خطرناک اثرات کو انتہائی علمی انداز میں بیان کیا گیا ہے نہایت ہی مفید مضمون ہے ضرور مطالعہ کریں.

  • انڈونيشی
  • اردو

    PDF

    عصرحاضرمیں عالمى سطح پر فتنے وفسادات’خوف وخطرات اورقتل وغارتگری عام ہیں’ انسان کے جان ومال’عزت وآبرو کی حفاظت مشکل میں پڑگئی ہے’ ایسے نازک حالات میں اسلام ہی وہ واحد مذہب نظرآتا ہے جواپنے دامن میں امن وسلامتى کا پیغام لئے ہوئے ہے ’ لیکن بسااوقات اسلام کی صحیح ترجمانى نہ ہونے کی وجہ سے فرقہ وارانہ فسادات رونما ہونے لگتے ہیں, حالانکہ دین اسلام فساد اورفسادیوں کی سختى سے مذمت کرتا ہے’ اسلامى حکومت میں غیر مسلم کی جان ومال کی حفاظت کرنے کا حکم دیتا ہے’انسان تو انسان حیوان کے ساتھ بھی اچھے برتاؤ کی تلقین کرتا ہے.

  • اردو

    MP4

    ویڈیو مذکورمیں سوال وجواب کی شکل میں شراب کی تباہی اور اسکے برے اثرات کے سلسلے میں كتاب وسنت اور علم طب کی روشنی میں نہایت ہی مفید باتیں پیش کی گئی ہیں ضرور مشاہدہ فرمائیں.

  • روسی زبان
  • اردو

    PDF

    اصلاح معاشرہ میں عورت کا کردار: اسلام نے عورت کو وہ بلند مقام دیا ہے جو کسی بھی دوسرے مذہب نے نہیں دیا ہے۔دنیا کے مختلف مذاہب اورقوانین کی تعلیمات کا مقابلہ اگر اسلام کے اس نئے منفرد وممتازکردار(Role)سے کیا جائے، جو اسلام نے عورت کے وقار واعتبار کی بحالی، انسانی سماج میں اسے مناسب مقام دلانے، ظالم قوانین، غیر منصفانہ رسم و رواج اور مردوں کی خود پرستی، خود غرضی اور تکبر سے اسے نجات دلانے کے سلسلہ میں انجام دیا ہے، تو معترضین کی آنکھیں کھل جائیں گی، اور ایک پڑھے لکھےاورحقیقت پسند انسان کو اعتراف و احترام میں سر جھکا دینا پڑیگا۔اسلام میں مسلمان عورت کا بلند مقام،اور ہر مسلمان کی زندگی میں مؤثر کردار ہے۔صالح اور نیک معاشرے کی بنیاد رکھنے میں عورت ہی پہلا مدرسہ ہے۔عورت کے اسی نیک کردار کو سعودی عرب کے معروف عالم دین شیخ محمد بن صالح العثیمینؒ نے اپنے (اصلاح معاشرہ میں عورت کا کردار)نامی اس کتابچے میں قلم بند کیا ہے۔ تاکہ وہ معاشرے کی اصلاح کا بیڑا اٹھائے اور اپنی ان ذمہ داریوں سے عہدہ برآ ہوسکے۔ یہ کتاب ہر مسلمان ماں اور بہن کو پڑھنی چایئے ،کیونکہ یہ خواتین کے حوالے سے بڑی مفید ترین کتاب ہے۔(راسخ) (نظرثانی: شفیق الرحمن ضیاء اللہ مدنیؔ)

  • اردو

    YOUTUBE

    زیرنظر ویڈیو میں دین سے دوری اوربے راہ روی کے اہم اسباب کا تذکرہ کرکے ان کا مناسب شرعی حل وعلاج بتایا گیا ہے۔ نہایت ہی مفید ویڈیو ہے خود مشاہدہ کریں اور اپنے بچوں کو بھی مشاہدہ کرنے کی ترغیب دیں۔

  • اردو

    MP4

    نوجوانانِ اسلام اور ان کی ذمہ داریاں : صہبا کی تپش بَن کے ایاغوں میں جلو: تم نور بصیرت ہو دماغوں میں جلو ہے روشنی درکار زمانے کو ابھی:روغن کی طرح اپنےچراغوں میں جلو (فضاابن فییضیؒ) نوجوان کسی بھی قوم یا معاشرہ کے اندر ریڑھ کی ھڈی کا درجہ رکھتے ہیں، اگران کی اصلاح ہوجائے تو بڑے سے بڑے انقلاب آسکتے ہیں، لیکن اگرنوجوان بگڑجائیں تو معاشرے میں انارکی وفساد عام ہوجائے گا۔ اسی کے پیش نظر ویڈیو مذکور میں شیخ عبد المجید بن عبد الوہاب مدنی-حفظہ اللہ-نے فرد ، معاشرہ ، وطن اور دین کے تئیں نوجوانان اسلام کو اپنی ذمہ داریوں کا احساس دلانے کی شاندار کوشش کی ہےـ تمام زمرہ جات، فقہ، خاندان، نوجوانوں کے مسائل،اصلاح معاشرہ.

  • اردو

    PDF

    ہم جنسی فطرت کے خلاف بغاوت ہے: فطرت سلیمہ سے بغاوت کرنے والے اور پورے معاشرے اور سوسائٹی کو تباہ وبرباد کرنے والے چند مردوں اور عورتوں اور ووٹ بنک پر نگاہ رکھنے والے کچھ نیتاؤں کو چھوڑ کر فطرت سلیمہ اور عقل سلیم رکھنے والے مختلف مذاہب کے ماننے والوں نے ہم جنس پرستی کو قانونی جواز فراہم کرنے کی مخالفت کی ہے۔ جن میں ہندو بھی ہیں مسلمان بھی ،سکھ بھی ہیں عیسائی بھی، عوام بھی ہیں اور مذہبی پیشوا اور رہنما بھی۔ کیونکہ ان کی دور رس اور دوربیں نگاہیں دیکھ رہی ہیں کہ اگر‘‘ہم جنس پرستی’’ کو قانونی درجہ اور قانونی جواز دے دیا گیا تو اس کے بھیانک اور خطرناک اثرات مرتب ہوں گے اور ملک سے مذہبی اور اخلاقی قدروں کا جنازہ نکل جائے گا اور اس کو تباہی اور بربادی سے کوئی بجا نہیں سکتا۔ ان حالات میں امر بالمعروف اورنہی عن المنکر کے فریضہ کو سامنے رکھتے ہوئے بلا امتیاز مذہب وشریعت اور بلا تفریق مسلک ومشرب ہرباشعور اور سلیم الفطرت انسان کو ڈٹ کر ہم جنسی کے جواز کی مخالفت کرنی چاہئے اور بھر پور اسکا مقابلہ کرنا چاہئے۔ مذکورہ بالا معاملہ کی قباحت وشناعت اور اسکی خطرناکی کے پیش نظر مولانا عاشق علی اثری ۔حفظہ اللہ۔ نے ہم جنس پرستی کی تاریخ ، اس کی خطرناکی اور اسکے نتیجہ میں آنے والی تباہی وبربادی اور دنیا اور آخرت میں ہونے والے عذاب کے سلسلہ میں مختصر روشنی ڈالی ہے۔ تاکہ ایسے اعمال قبیحہ میں ملوّث ہونے والے مرد وعورتیں اور ان کی پُشت پناہی کرنے والے افراد، ادارے اور تنظیمیں ، روساء اور وزراء اس کے انجام بد سے واقف ہوجائیں اور اپنے آپ کو اور معاشرہ کو تباہی اور بربادی سے بچانے کی کوشش کریں۔

  • اردو

    PDF

    ميں نے ايك عيسائى عورت سے شادى كر ركھى ہے اور اس سے ميرے دو بچے بھى ہيں، ايك رمضان المبارك كے مہينہ ميں ايسا ہوا كہ ميں افطارى كر رہا تھا كہ كھانے كے دوران ميرى بيوى نے شراب نوشى شروع كر دى، اور ميں اسے اس سے نہ روك سكا، كيونكہ اگر ميں روكنے كى كوشش كرتا تو وہ طلاق كا مطالبہ كرتى اور ہو سكتا ہے طلاق كى صورت ميں بچوں كى پرورش كا حق بھى حاصل كر ليتى، اس طرح ميرے ليے بچوں كو دين اسلام كى تعليم دين مشكل ہو جاتا. ميرا سوال يہ ہے كہ كيا رمضان المبارك ميں جب وہ شراب نوشى كرے اور اس كے خاندان والے شراب نوشى كريں تو كيا ميرے ليے ان كے ساتھ بيٹھنا حرام ہے، حالانكہ ميں شراب نوشى نہيں كرتا ؟

  • اردو

    PDF

    ميں چاليس سالہ طلاق يافتہ ايك حسب و نسب والى عورت ہوں، ميں نے سابقہ تجربہ سے بہت سخت سبق سيكھا ہے كيونكہ اختيار ظاہر كو ديكھ ہوا نہ كہ دين و اخلاق كو، اب ميرے ليے ايك دين و اخلاق والا رشتہ آيا ہے اور لوگ بھى اسےنيك و صالح كہتے ہيں، ليكن وہ شادى شدہ ہے اور اس بيوى ہمارے خاندان كى سہيلى ہے. اسى طرح معاشرتى طور پر بھى وہ ميرے خاندان سے كم درجہ كا شخص ہے، معاشرے كى نظر سے ميں اسے قبول كرنے سے خوفزدہ ہوں كہ اگر وہ رشتہ قبول كر لوں تو معاشرے ميں باتيں ہونگى، اور اسى طرح بيوى كى نظروں ميں بھى، ميں مصر سے تعلق ركھتى ہوں، مولانا صاحب آپ كو علم ہے كہ مصرى معاشرے ميں دوسرى بيوى كے بارہ ميں كيا نظريات ہيں. ميں نے نماز استخارہ كے بعد راحت محسوس كى ہے اور قريب ہے كہ بھائى سے يہ رشتہ قبول كرنے كا كہہ دوں، ليكن جب معاشرے كو ديكھتى ہوں اور لوگوں كے سوالات ذہن ميں آتے ہيں كہ اپنے سے كم درجہ كے خاندان كا رشتہ كيوں قبول كيا، اور ايك بيوى اور اس كى اولاد سے كس طرح خاوند چھين ليا حالانكہ وہ ميرے خاندان كى سہيلى بھى ہے تو ميرا سينہ تنگ ہو جاتا ہے. اس شخص نے ميرا رشتہ صرف مسلمان لڑكيوں كى عفت و عصمت محفوظ كرنے كے ليے طلب كيا ہے كسى مالى لالچ كى خاطر نہيں، خاص كر جب لڑكى نيك و صالح ہو، بلكہ وہ تو دوسروں كو بھى دوسرى شادى كى ترغيب دلاتا ہے تا كہ معاشرہ اور عورتيں عفت اختيار كريں، اس كى گواہى ميرا بھائى بھى ديتا ہے، اور پھر ميں كوئى جوان اور خوبصورت بھى نہيں كہ كوئى اور رشتہ آ جائے، وہ چھوٹى عمر كى كسى خوبصورت عورت سے بھى رشتہ كر سكتا ہے، ميرا سوال يہ ہے كہ آيا اگر ميں اس رشتہ كو ٹھكرا دوں تو كيا مجھ پر كوئى گناہ ہوگا، اور اس سلسلہ ميں آپ كى رائے كيا

  • اردو

    PDF

    اگر كوئى شخص يہ بات كہے كہ: " مسلمانوں كے فقر اور كمزورى اور اس دور ميں ان كے پيچھے رہنے كا سبب كثرت نسل ہے، اس ليے مسلمان ترقى نہيں كر سكے، ايسا اعتقاد ركھنے والے شخص كا شريعت ميں كيا حكم ہے ؟

  • اردو

    PDF

    غم و پريشانى حاصل ہونے كى صورت ميں طلاق طلب كرنے كا كيا حكم ہے ؟ كيا اپنے ملك اور گھر والوں سے دورى ـ جس نے مجھے نفسياتى مريض بنا كر غم و پريشان كر ديا ہے ـ ايسا عذر ہے جس كى بنا پر طلاق طلب كرنا مباح ہو جاتى ہے، يہ علم ميں رہے كہ مجھے شادى سے قبل يہ علم تھا كہ ميں شادى كے بعد اپنے ملك كے علاوہ دوسرے ملك رہوں گى.

  • اردو

    PDF

    ميں ستائيس برس كى مسلمان لڑكى ہوں، مجھے دينى التزام كا كچھ علم نہ تھا، يا اس كى طرف راہ كا بھى علم نہ تھا، بہر حال ميں نے ايك عيسائى نوجوان سے محبت كرنا شروع كر دى اور مجھے اس نے بتايا كہ وہ مجھ سے شادى كرنے كے ليے مسلمان ہو رہا ہے، ليكن وہ اپنے اسلام كو ظاہر نہيں كرنا چاہتا كيونكہ چرچ والے اس كو قتل كر دينگے. ہم نے آپس ميں ايك ورقہ لكھا جسے " عرفى زنا يا نكاح " كا نام ديا جاتا ہے، ليكن مجھے اس وقت نكاح كے معنى كا علم نہ تھا، اور اس لڑكے نے ميرے گھر والوں كے علم كے بغير مجھ سے دخول اور جماع بھى كيا، ميں بہت خوش تھى كہ اس نے ميرى وجہ سے اسلام قبول كر ليا ہے، مجھے حمل بھى ہو گيا اور ميں نے اس كے اسلام كے اظہار كا انتظار كيا ليكن وہ بہت ہى گندا اور برا شخص نكلا اس نے مجھے بتايا كہ وہ مسلمان نہيں ہوا اور نہ ہى اس نے ميرے ساتھ شادى كو ظاہر كيا، اور امريكہ چلا گيا. اس كے بعد مجھے احساس ہوا كہ ميرا انجام قريب ہے، اور جو كچھ ميں نے كيا ہے اللہ اس كا مجھ سے انتقام لينے والا ہے ليكن اللہ تعالى نے ميرا پردہ ركھا جو كہ اللہ كى جانب سے عظيم احسان تھا، ميں نے پورى كوشش كى كہ كسى طريقہ سے اس بچہ سے چھٹكارا حاصل كر لوں، ليكن ايسا نہ ہو سكتا، ميں ولادت سے قبل گھر سے بھاگ گئى اور بچہ پيدا ہوا تو ميں نے اسے كچھ غريب و فقير افراد كے حوالے كر ديا اور انہيں اس كے اخراجات كے ليے كچھ رقم بھى دى. اللہ كى قسم پھر اللہ كى قسم ميں نے ہر قسم كے گناہ سے اللہ كے ہاں توبہ كر لى، اور اب پردہ بھى كرنے لگى ہوں اور روزے ركھتى ہوں اور نماز پنجگانہ كى پابندى كرنے لگى ہوں، اس كے چار برس بعد ميرے ليے ايك دين پر عمل كرنے والے نوجوان كا رشتہ آيا تو ميں نے بالكل صراحت كے ساتھ اس كو سب كچھ بيان كر ديا، ليكن ميں اس سے حيران ہوئى كہ اس كے باوجود اس نے مجھے نہيں چھوڑا اور ميرا ساتھ ديا اور ميرا پردہ ركھا اور ميں نے اس سے شادى كر لى. اب وہ ميرے ساتھ بہت اچھا معاملہ كر رہا ہے؛ كيونكہ وہ دين پر عمل كرتا ہے، اب ہمارى زندگى ايمان سے بھرپور ہے اور تقوى و دين پايا جاتا ہے، اب مجھے معلوم نہيں كہ اس بچے كا حكم كيا ہے كيا وہ بالفعل ميرا بچہ ہے يا كہ نہيں، اور يہ كيسے اور ميرى اس حالت كا شرعى حكم كيا ہے، اور كيا ميرے اس خاوند سے بچوں كا بھائى ہے يا نہيں ؟

  • اردو

    PDF

    ميں آپ كے سامنے اپنا قصہ اور پر مشكل پيش كرنا چاہتا ہوں اميد ہے آپ اس كو مدنظر ركھتے ہوئے مجھے جواب ديں گے: ايك برس قبل دوران تعليم ميرا ايك بااخلاق لڑكى سے تعارف ہوا اور تعليم مكمل كرنے كے بعد ہم نے شادى كرنے كا وعدہ بھى كيا، ليكن ايك دن مجھے علم ہوا كہ اس كى ايك ايسے شخص كے ساتھ منگنى ہو گئى ہے جسے وہ جانتى تك نہيں، اور اس كے چچا اس شادى پر موافق ہيں، بلكہ اس نے اس آدمى كے ساتھ اس كى شادى كرنے كا وعدہ بھى كر ليا ہے، حالانكہ لڑكى كا والد اور بھائى موجود ہيں. باپ خاموش رہا اور اس نے كوئى بات نہيں كى، حالانكہ وہ اور اس كى بيٹى دونوں ہى اس شادى پر موافق نہيں، ان كے گھر ميں چچا كى بات چلتى ہے كيونكہ وہى خاندان ميں بڑى عمر كا ہے، طويل جھگڑے كے بعد چچا نے جبرا اسے نكاح پر مجبور كر ديا حالانكہ وہ كنوارى ہے. اور ايك ماہ گزرنے كے بعد علم ہوا كہ اس كا خاوند شراب نوشى كرتا ہے، اور اكثر گھر آتا ہے تو نشہ كى حالت ميں اور بيوى كو زدكوب كرتا اور گالياں نكالتا ہے، اور مكمل طور پر اسلامى احكام پر عمل نہيں كرتا. حالانكہ ميں الحمد للہ دين پر عمل كرنے والا ہوں، حتى كہ ميں نے اس كو كہا تھا اگر ميں نے تجھ سے شادى كى تو تم پردہ كرو گى، اور ميں نے عورت كے سارے فرائض بھى اسے بتائے تو وہ اس پر راضى تھى، اس لڑكى كا بڑا بھائى سفر پر گيا ہوا تھا جب وہ سفر سے واپس آيا تو اسے علم ہوا كہ اس كى بہن كى جبرا شادى كر دى گئى ہے، اور اس كا بہنوئى شراب نوشى كرتا اور بہن كو زدكوب كرتا ہے، تو وہ اپنى بہن كو گھر لے آيا اسے طلاق تو نہيں ہوئى ـ ليكن وہ والدين كے گھر ميں ہے ـ. پہلا سوال يہ ہے كہ: كيا اس لڑكى كى اجازت كے بغير يہ نكاح صحيح شمار ہو گا ؟ اور كيا باپ اور بھائى كے ہوتے ہوئے چچا كو بھتيجى كى شادى كرنے كا حق حاصل تھا ؟ دوسرا سوال يہ ہے كہ: اگر اس سے طلاق طلب كى جائے تو وہ طلاق نہيں دےگا، كيونكہ وہ جانتا ہے كہ ميں اس سے شادى كرنا چاہتا ہوں، اب جبكہ بھائى اسے گھر لے آيا ہے اور خاوند طلاق دينے سے انكار كر دے تو كيا قاضى يا امام كے ليے اسے طلاق دينا جائز ہے ؟ اور كيا اسلام ميں دين كى برابرى نہيں ہے، كيا ميں اس لڑكى كا زيادہ حقدار نہيں جبكہ اب ميں اسلامى يونيورسٹى كا طالب علم ہوں ؟

  • اردو

    PDF

    كيا عورت كے ليے شرابى اور نشئى خاوند سے طلاق طلب كرنا جائز ہے ؟

  • اردو

    PDF

    مجھے اصل ميں اپنى مشكل كا صحيح طور پر علم نہيں ہو پا رہا! ! ! ميں تيس برس كى عمر كا جوان ہوں اور شادى شدہ ہوں، الحمد للہ ميرى ايك بيٹى بھى ہے، اور ميں بدنظمى كا شكار ہوں، اور انتہائى طور پر عدم كنٹرول ركھتا ہوں. الحمد للہ مجھ ميں بہت سارى صلاحيات پائى جاتى ہيں ميں شاعر بھى ہوں، اور قصہ گو بھى، اور تاليف بھى كر سكتا ہوں، اور ٹى اور سٹيج ڈرامے پر كرنے كا بھى ملكہ ركھتا ہوں اور ادب شعر و شاعرى ميں بھى يدطولى ركھتا ہوں، اور تاريخ اور ثقافت ميں بھى. اور واقعہ كو سمجھنے كى صلاحيت بھى ہے، اور حافظہ بہت تيز ہے، جلد حفظ كر ليتا ہوں، اور ياداشت بھى بہت قوى ہے، ليكن اس كے باوجود اپنى پڑھائى اور تعليم ميں سست ہوں، حالانكہ ميں اچھے نمبر حاصل كر كے امتيازى حيثيت حاصل كر سكتا ہوں ليكن ! مجھے نيند اور سستى و كاہلى سے بہت عشق ہے، كبھى كبھار ہى كوئى كام مكمل كر پاتا ہوں، اور بعض اوقات تو ميرى اميديں خيال كى حدود سے بھى تجاوز كر جاتى ہيں، ميں سب كچھ ہى بننا چاہتا ہوں. مثلا جب تاريخ كى كوئى كتاب پاتا ہوں تو مجھے يقين ہونے لگتا ہے كہ ميں امام طبرى كى طرح مؤرخ بن جاؤں گا، اور جب ميں ٹى وى ميں كسى عالم كو ديكھتا ہوں اور وہ مجھے اچھا لگتا ہے تو ميں يہ فيصلہ كرتا ہوں كہ ميں ايسا طالب علم بنوں گا كہ لوگ اس كى طرف اشارے كريں گے. ليكن كچھ عرصہ بعد جب ميں كوئى قصيدہ پڑھتا ہوں تو كہتا ہوں ميں امت كا ايك بہت بڑا شاعر بنوں گا، اسى طرح آپ ديكھيں گے كہ ايك ہى دن ميں يہ فيصلہ كرتا ہوں كہ ميں دنيا ميں سب سے عظيم شخص بنوں گا، اور ہر چيز كا اصل اور ميں يہ بنوں ايسا بنوں گا. عجيب بات ہے كہ ميں بعض اوقات پينٹنگ كرتا ہوں اور اس سلسلہ ميں پلاننگ بھى كرتا ہوں اور پروگرام بھى بناتا ہوں يہ سب كچھ كسى كى نقالى ميں نہيں ہوتا بلكہ سب كچھ اپنى جانب سے ہى ابتدائى طور پر كرتا ہوں، ليكن يہ كاغذ پر سياہى ہى بن كر رہ جاتى ہے. حالانكہ مجھے يقين ہوتا ہے كہ اگر ميں اس پلاننگ كا چوتھائى بھى كر لوں جس حالت ميں ہوں اس سے بہت زيادہ بہتر بن سكتا ہوں، اور اس سے بھى زيادہ عجيب و غريب بات يہ ہے كہ ميں تربيت كے ميدان ميں ايك امتيازى حيثيت كا مالك ہوں، اور اس ميں كوئى دوسرا ميرا مقابلہ نہيں كر سكتا، ميں كيمپ كے جس گروہ اور فريق كا ميں سربراہ بن جاؤں وہ ہر چيز ميں پہلى پوزيشن حاصل كرتا ہے، ليكن اپنى تربيت نہيں كر سكا، ميرا سامان اور لباس ہميشہ ہى بكھرا سا رہتا ہے اور كبھى منظم نہيں ہوا. ہر چيز بكھرى سى رہتى ہے اور ميں اسے مرتب نہيں كر سكتا، اور نہ ہى كوئى نظام ركھتا ہوں، ميں يہ محسوس كرتا ہوں كہ منظم لوگ تو اپنى زندگى ميں ايك ربوٹ كى طرح ہيں جو صرف اپنے كام پورے كرتے ہيں. ميں بہت زيادہ خيالى پلاؤ اور سپنے ركھنے والا شخص ہوں، ليكن فى الواقع كچھ بھى نہيں ہوتا، صراحت كے ساتھ كہتا ہوں كہ اب ميں معطل ہو كر رہ گيا ہوں، ميں نے يونيورسٹى چھوڑ دى ہے، دس برس قبل ميں نے ميٹرك كيا تھا اور پھر يونيورسٹى ميں داخلہ ليا اور كئى ايك كالجز ميں منتقل ہوتا رہا.... اور خيراتى اور تعاونى اداروں ميں بھى كام كرتا رہا ہوں اور جب كوئى كام لوں تو اس ابتدا ميں سب سے زيادہ بہتر ہوتا ہوں، ليكن جلد ہى اسے چھوڑ كر نكل جاتا ہوں، اور ميرے بارہ ميں اس بات كا سب كو علم ہو چكا ہے، اس ليے اب كوئى كام مجھے سونپا ہى نہيں جاتا، حالانكہ انہيں علم ہوتا ہے كہ ميں كوئى بھى كام اچھے طريقہ سے سرانجام دينے كى صلاحيت ركھتا ہوں. تقريبا ميرى عمر تيس برس ہو چكى ہے، ليكن ميرى آمدنى كا كوئى ذريعہ نہيں ہے حالانكہ ميں شادى شدہ ہوں اور پھر بھى كوئى نصيحت حاصل نہيں كر سكا، ميرى حالت بہت ہى تنگ ہے، اور ميں اس كو حل كرنے ميں بہت سنجيدہ ہوں، اللہ ہى مدد كرنے والا ہے، برائے مہربانى آپ كوئى حل بتائيں ؟

صفحہ : 4 - سے : 1
فیڈ بیک