علمی زمرے

  • PDF

    سوال: کیا نصرانی عورت سے شادی کی جاسکتی اوراسے قبول اسلام پر مجبور کیا جاسکتا ہے؟

  • video-shot

    YOUTUBE

    زیرنظرویڈیومیں چند ایسے اہم اسلامی آداب وطریقے اورضوابط بیان کئے گئے ہیں جن کو اپنا کرزوجین (شوہروبیوی) آپس میں خوشگواروسعادت مند زندگی گزارسکتے ہیں۔

  • PDF

    زیرنظرکتاب میں نکاح وشادی کے احکام ومسائل کو کتاب وسنت کی روشنی میں نہایت ہی بہترین انداز میں بیان کیا گیا ہے تاکہ زوجین ان احکام ومسائل کی معرفت حاصل کرکے ازدواجی زندگی کو خوشحالی وسعادت کے ساتھ بسرکرسکیں اور نکاح کا حقیقی مقصد حصول ہوسکے۔

  • video-shot

    YOUTUBE

    ساس اور بہو: پیس ٹی وی اردو کے ٹاک شو پروگرام’’ الجھنیں‘‘ سیریزمیں میزبان عبد الباسط مدنی حفظہ اللہ نے مؤقرمہمان شیخ حافظ عبد العظیم عمری مدنی حفظہ اللہ کے ساتھ ’’ساس اور بہو‘‘ ایپی سوڈ میں ساس اور بہو کے درمیاں ہونے والی الجنھوں اور مشاکل کا تذکرہ کرکے اس کا مناسب شرعی حل بیان کیا ہے،اوریہ بتلایا ہے کہ ساس بھی کبھی بہواورکسی کی بیٹی تھی لہذا اسے بھی اپنی بہو کے ساتھ بیٹی جیسا سلوک کرنا چاہئے اوراس کی جائز جذبات واحساسات کی قدرکرنی چاہئے،اسی طرح بہو کو بھی سسرال میں آنے کے بعد اپنی ذمے داریوں کا احساس رکھتے ہوئے شوہر کی اطاعت کے ساتھ ساتھ ساس اورسسُر کا احترام اوران کے ساتھ اچھا سلوک کرنا چاہئے تب جاکر گھروخاندان میں امن وسکون وخوشحالی آسکتی ہے۔

  • video-shot

    MP4

    اس ویڈیو میں حافظ عبد العظیم عمری مدنی حفظہ اللہ نے نہایت بہترین اندازمیں میاں بیوی کے درمیان اختلافات کے اسباب اور ان کا شرعی حل پیش کیا ہے۔

  • PDF

    زیر نظر فتوی میں بہرہ کا تعارف،ان کے عقائد اور ان سے شادی بیاہ کرنے کے حکم کو کتاب وسنت کی روشنی میں بیان کیا گیا ہے۔

  • PDF

    زیر مطالعہ کتاب’’ 477 سوال وجواب برائے نکاح وطلاق‘‘ سعودی عرب کے معتمد وکبار علمائے کرام کے نکاح ،طلاق ،خلع اور عدّت وغیرہ جیسے اہم مسائل کےجوابات پر مشتمل ہے تاکہ مسلمان شخص نکاح وطلاق کے جملہ مسائل کو کتاب وسنت کی روشنی میں جان کر ازدواجی زندگی کو خوشگوار بنا سکے، کتاب کی افادیت کے پیش نظر جناب محمد یاسر حفظہ اللہ نے اسے نہایت جانفشانی وعرق ریزی سے بہترین اردو قالب میں ڈھالا ہے۔ اور ادارہ بیت السلام، ریاض نے اسے زیور طباعت سے آراستہ کرکےہدیہ قارئین کیا ہے، رب العالمین اس کتاب کے نفع کو عام کرے، اور کتاب کے مؤلف،مترجم ،ناشر وجملہ متعاونین کی مساعی جمیلہ کو قبول کرکے ان سب کے لئے صدقہ جاریہ بنائےآمین۔

  • video-shot

    MP4

    زیر نظر ویڈیو میں ایڈوکیٹ فیض سیّد -حفظہ اللہ- نے جماع ، ہمبستری، سیکس کے طریقہ کو کتاب اللہ اور پاکیزہ سنّت کی روشنی میں نہایت تفصیل سے بیان کیا ہے۔ واضح رہے کہ اس ویڈیو کا مشاہدہ ایک لاکھ تیس ہزارسے زیادہ مرتبہ ہوچکا ہے۔ شادی کی دہلیز پے قدم رکھنے والے نوجوان لڑکے اور لڑکیوں کیلئے اس ویڈیو کا مشاہدہ نہایت ہی مفید ثابت ہوگا، تاکہ ازدواجی زندگی کے پیچیدہ مسائل اور اس سلسلے میں پائی جانے والی غلط فہمیوں کو دُور کرکے پاکیزہ سنت کی روشنی میں ازدواجی زندگی کو خو شگوار بنا سکیں۔

  • PDF

    شیخ محمد بن صالح المنجد ۔ حفظہ اللہ۔ سے پوچھا گیا : کہ عیسائی لڑکی مسلمان ہو چکی ہے لیکن اس نے اسلام کا اعلان نہیں کیا ہے اور اسکے گھر والے اسکی شادی کسی نصرانی لڑکے سے کروانا چاہتے ہیں تو ایسی حالت میں شرعی حکم کیا ہے؟ فتوی مذکور میں اسی کا جواب پیش ہےـ.

  • PDF

    مسلمان شخص كى كيتھولك عيسائى بيوى كو اپنے دنيى تہوار منانے كى اجازت كيوں نہيں، حالانكہ وہ مسلمان سے شادى شدہ ہے اور اپنے عقيدہ پر بھى قائم ہے ؟ كيا اس عيسائى بيوى كو اپنے اعتقاد كے مطابق عبادت كرنے كى اجازت ہے ؟

  • PDF

    ہمارے ملك ميں شادى بياہ كى تقريبات موسقيى و گانے اور رقص و سرور پر مشتمل ہوتى ہيں، كيا اگر ميں شادى ميں تقريب ميں جا كر گانے كى مجلس سے دور بيٹھوں خاص كر اپنے اور سسرالى خاندان كى شادى تقريب ميں جاؤں تو كيا گنہگار ٹھرونگى، ميں وہاں نہ جانے اور كھانے وغيرہ مباح امور ميں شركت نہ كرنے كى استطاعت نہيں ركھتى ؟

  • PDF

    ميرى والدہ اور ميرى بيوى كے مابين تعلقات بہت خراب ہيں، اور اس درجہ تك خراب ہو گئے ہيں كہ ميرى والدہ ميرى بيوى كا چہرہ بھى نہيں ديكھنا چاہتى، والدہ چاہتى ہے كہ ہم عليحدہ ہو جائيں، ليكن ميں اپنى والدہ كو نہيں چھوڑنا چاہتا كيونكہ ميں خاندان ميں بڑا بيٹا ہوں، اور اسى طرح ميں انہيں ناراض بھى نہيں كرنا چاہتا، تو كيا ميں اپنى بيوى كو طلاق دے دوں ؟

  • PDF

    ميں ايك ايسے شخص سے شادى شدہ ہوں جو مجھ سے محبت نہيں كرتا، اور نہ ہى ميرے اخراجات برداشت كرتا ہے اور ميرے ساتھ معاملات بھى صحيح نہيں كرتا، اور سنت پر ميرا عمل كرنا بھى اسے برا لگتا ہے، اور مجھے ملازمت كرنے پر مجبور كرتا ہے، ميں اس سے خلع لينا چاہتى ہوں، ليكن ميرے والدين انكار كرتے ہيں، اس سلسلہ ميں شريعت كى رائے كيا ہے ؟

  • PDF

    ميرى بہن كى شادى كو آٹھ ماہ ہوئے ہيں، اور اسے شكايت ہے كہ وہ اپنے خاوند سے محبت نہيں كرتى اس ليے طلاق چاہتى ہے، حالانكہ اس كا خاوند ايك اچھے اخلاق والا اور صاحب علم اور نوجوانوں ميں افضل ہے، ميرا سوال يہ ہے كہ ان دونوں كى اصلاح كے ليے آپ مجھے كيا نصيحت كرتے ہيں، يا كہ ان كے ليے طلاق ہى مناسب ہو گى ؟

  • PDF

    ميرے عزيز بھائيو ميں كيتھولك مذہب ركھنے والى عورت ہوں اور كئى برس سے شادى شدہ بھى ميرى خوبصورت سى دو بيٹياں بھى ہيں، تقريبا پانچ برس سے ميں اپنے خاوند كو پسند نہيں كرتى، ليكن طلاق كے متعلق كبھى سوچا بھى نہيں تھا، كيونكہ ميرا دين اس كى اجازت نہيں ديتا. پچھلے برس ميں اپنے آپ پر كنٹرول نہ ركھ سكى اور ايك چھوٹى عمر كے مسلمان نوجوان كے ساتھ حرام تعلقات قائم كر بيٹھى، اور اس بنا پر كہ وہ ہمارے ليے ايك فليٹ كرايہ پر لے ميں نے اس كے ساتھ عرفى نكاح پر دستخط بھى كر ديے، ليكن جب اس كے خاندان والوں كو علم ہوا تو اس نے وہ كاغذ پھاڑ ديا، ہمارے يہ تعلقات صرف ايك ہفتہ رہے اور پھر ميں نے توبہ كر لى، اور وہ بھى اس سے توبہ كر چكا ہے. اور اس نے اب ايك مسلمان لڑكى سے منگنى كر لى ہے، اور مجھے بھى پچھلے ماہ ايك اچھا سا مسلمان شخص ملا جو شادى شدہ بھى ہے اور اس كے دو بچے بھى ہيں، اور بعض اوقات ہمارى ڈيوٹى اكٹھى ہوتى ہے اور اچھے دوست بھى ہيں اور ہم اس دوسرے كے بہت قريب بھى ہيں، ليكن ابھى تك كوئى حرام كام نہيں كيا، ميرے كچھ سوالات ہيں: 1 ـ كيا ميرى پہلى عرفى شادى ابھى تك موجود ہے، ہم نے دو گواہوں اور ايك وكيل كى موجودگى ميں شادى كى تھى، ليكن مجھے يہ علم نہ تھا كہ يہ حقيقى شادى ہے اور پھر ميں شادى شدہ بھى تھى ؟ 2 ـ اب ميں اپنے خاوند سے طلاق لينا چاہتى ہوں، كيونكہ ميں اس سے محبت نہيں كرتى اور نہ ہى خاوند اور اپنى بچيوں كے ساتھ مسلسل جھوٹ بول سكتى ہوں ؟ 3 ـ اگر مجھے طلاق ہو جاتى ہے تو كيا ميرے ليے اس اچھے مسلمان دوست سے اسلامى شادى كر كے دوسرى بيوى بننا جائز ہے، اور عدت كى مدت كتنى ہو گى ؟ 4 ـ اس نے مجھے بتايا ہے كہ اس كى پہلى بيوى كہتى ہے اگر اس نے دوسرى شادى كى تو وہ اس سے طلاق لے كر بچوں سميت چلى جائيگى اس ليے ميں آپ سے شادى نہيں كر سكتا، تو كيا اس كى پہلى بيوى كو ايسا كرنے كا حق حاصل ہے ؟ ميں نے چاہتى كہ ميرى وجہ سے اسے تكليف اور اذيت سے دوچار ہونا پڑے كہ وہ اپنے خاندان سے دور رہے، اور خاندان كو ملنے نہ جائے، ميں نہ تو اس سے مال حاصل كرنا چاہتى ہوں اور نہ ہى ميں اس كے خاندان كا خسارہ اور نقصان كرنا چاہتى ہوں اور نہ ہى اس كى پہلى بيوى كے ساتھ كوئى برائى كرنا چاہتى ہوں، اور نہ ہى ميں اس پر غيرت ركھتى ہوں بلكہ ميں تو اس كى دوسرى بيوى بن كر اس كے ملك ميں بھى رہنے كے ليے تيار ہوں اور بعض اوقات اپنے ملك آ جايا كرونگى تا كہ اپنى بيٹيوں كو مل ليا كروں. اگر آپ اس موضوع ميں ميرا تعاون كرينگے تو ميں آپ كى مشكور رہوں گى، اللہ تعالى آپ كى حسنات و نيكيوں ميں اضافہ فرمائے.

  • PDF

    ميرى والدہ ميرى بيوى كو بغير ناحق تنگ كرتى ہے حتى كہ بيوى كے خاندان والوں كو بھى برا كہتى ہے، اور بيوى اور اس كے خاندان والوں پر ناحق غلط قسم كے الزامات لگاتى رہتى ہے، اس كے نتيجہ ميرى بيوى اپنى ساس سے قطع تعلق كرنے لگى ہے. يہ علم ميں رہے كہ ميں والدہ كو ملتا رہتا اور ٹيلى فون پر بھى ان كى خيريت دريافت كرتا رہتا ہوں، ميرى والدہ كو ميرى بيوى كى جانب سے قطع تعلقى كى توقع نہ تھى ليكن جب بيوى نے ايسا كيا تو والدہ اس كا الزام مجھ پر لگانے لگى كہ ميں نے ہى بيوى كو ايسا كرنے كى اجازت دى ہے، والدہ كہتى ہے كہ جب تك ميرى بيوى كے اس سے تعلقات صحيح نہيں ہوتے تو وہ مجھ سے قيامت تك راضى نہيں ہوگى، ميں بيوى پر سختى نہيں كرنا چاہتا بلكہ اسے اختيار ديا ہے كہ وہ رابطہ ركھے يا نہ ركھے، اب تو والدہ مجھے ناحق بد دعائيں دينے لگى ہيں. ميرا سوال يہ ہے كہ: كيا ميرى بيوى كا اپنى ساس سے قطع تلقى كرنے ميں كوئى محروميت ہے يا پھر ايسا كرنے كا حكم كيا ہے ؟ دوسرا سوال يہ ہے كہ: كيا والدہ كو حق ہے كہ وہ مجھ پر راضى ہونے كے ليے اپنے ساتھ ميرى بيوى كے تعلقات بحال كرنے اور ملنے كى شرط ركھے، حالانكہ ميں نماز ميں والدہ كے ليے دعا مانگتا رہتا ہوں، اور والدہ كى جانب سے صدقہ بھى كرتا ہوں ؟ تيسرا سوال يہ ہے كہ: اگر ميرى بيوى قطع تعلقى پر مصر رہے تو كيا والدہ كى ناراضگى كا گناہ مجھ پر ہوگا يا نہيں ؟ برائے مہربانى معلومات فراہم كر كے عند اللہ ماجور ہوں.

  • PDF

    ميرے ليے ايك شخص كا رشتہ آيا ہے جس كے بارہ ميں ميرا خيال ہے كہ وہ نيك و صالح اور سلف صالحين كے منہج پر ہے، باقى معاملہ اللہ ہى جانتا ہے، اور وہ عمر ميں مجھ سے چھوٹا ہے، اس نے شرط ركھى ہے كہ اس كى شادى ميں اس كے گھر والے نہيں آئينگے؛ كيونكہ وہ گھر والوں كو اپنى شادى كے بارہ ميں نہيں بتانا چاہتا، اس ليے كہ اسے اس شادى سے انكار كا خدشہ ہے، كيونكہ ميں عمر ميں اس سے بڑى ہوں. اس ليے اس نے واضح كر ديا ہے، تو كيا يہ شخص صحيح كر رہا ہے، اور مجھے كيا كرنا چاہيے ؟ برائے مہربانى مجھے معلومات فراہم كريں.

  • PDF

    ميں شيطانى چالوں سے كس طرح چھٹكارا حاصل كر سكتا ہوں، ميرى بيوى زبان دراز اور برى زبان والى ہے، ميں نے كئى بار اسے طلاق دينے اور اسے چھوڑنے كا سوچ چكا ہوں پھر ميں اپنى تقدير كے بارہ ميں سوچ كر كہتا ہوں: اللہ سبحانہ و تعالى نے ميرے ليے يہ حالت كيوں اختيار كي ہے ؟! اور اس كے نتيجہ ميں نماز چھوڑ ديتا ہوں، پھر اللہ سے استغفار كر كے توبہ كرتا ہوں، برائے مہربانى آپ مجھے كيا نصيحت كرتے ہيں، اور كيا تقدير كے مسئلہ كى شرح كر سكتے ہيں ؟

  • PDF

    ميرى چار برس قبل ايك شخص سے شادى ہوئى اور اس كى ايك بيٹى بھى ہو چكى ہے، خاوند مجھے كہنے لگا يہ شادى ميرى بيوى اور والد پر مخفى رہنى چاہيے حتى انہيں لوگوں كے ذريعہ ہى علم ہو ميرى جانب سے پتہ نہ چلے، ميں نے اس كى موافقت كى اور جب سے ہم نے شادى كى ہے وہ ميرے پاس صرف ايك ہفتہ سويا ہے، وہ بھى اس طرح كہ سفر كا بہانہ كر كے اور اس كے بعد وہ ميرے پاس گھر ميں نہيں سويا، ميں اكيلى رہ رہى ہوں وہ روزانہ آتا تھا اور مجھے حمل بھى ٹھر گيا اور ميں نے ايك بچى بھى جنم دى جس كى عمر دو برس ہو چكى ہے اور آج تك اس بچى كا نام اندارج نہيں كرايا گيا اس خوف سے كہ كہيں اس كى بيوى كو علم نہ ہو جائے، يہ سارا وقت ميں صبر و شكر ميں بسر كرتى رہى اور كہتى كہ كوئى حرج نہيں كيونكہ صراحتا ميرا خاوند ايك انسان ہے جس كى كوئى مثال نہيں ملتى، وہ مجھ سے محبت كرتا ہے. ليكن ساڑھےتين برس گزرنے كے بعد اس كى پہلى بيوى اور اس كے والد كو علم ہو گيا اور وہ مجھے طلاق دينے كا مطالبہ كرنے لگى ليكن خاوند نے مجھے طلاق دينے سے انكار كر ديا اور اسے بھى طلاق دينے سے انكار كر ديا، ليكن اب تك وہ ہمارے درميان عدل نہيں كر پا رہا، اور ميرے اور اپنى بيٹى كے ہاں كبھى نہيں سويا، اور نہ ہى اس نے بچى كا اپنے نام سے اندراج كرايا ہے مجھے اس كا سبب معلوم نہيں كہ ايسا كيوں ہے، حتى كہ جمعہ كے دن بھى اس كے ليے ہمارے ہاں آنا مشكل ہو چكا ہے، يہاں تك كہ اگر ميرى بيٹى رات كو بيمار ہو جائے تو ميں اسے نہيں بتا سكتى اور ہميشہ اكيلے ہى ہاسپٹل لے جاتى ہوں مجھے سمجھ نہيں آ رہى كہ ميں كيا كروں، اللہ كى قسم ميں ہر وقت اللہ سے دعا كرتى ہوں كے وہ مجھے صبر دے كيونكہ ان برسوں ميں مجھے بہت زيادہ اكتاہٹ و تھكاوٹ ہو چكى ہے، اور پتہ نہيں كب تك ايسا ہو. يہ علم ميں رہے كہ ميرا خاوند اللہ سے ڈرنے والا ہے،اور كبھى نماز ترك نہيں كى، اور نيكى و بھلائى كے عمل كرنے والا ہے، جب بھى ميں نے اس سے بات كى تو وہ مجھے كہتا ہے ہر چيز اپنے وقت پر اچھى ہوتى ہے، اور تم نے بہت صبر كيا ہے، اب تم زيادہ صبر نہيں كر سكتى، برائے مہربانى ميرا تعاون كريں كيونكہ حقيقتا ميں زيادہ ظلم برداشت نہيں كر سكتى ؟

  • PDF

    خاوند كى منت و سماجت اور اصرار كے بعد ميں نے اپنے ماضى كے بارہ ميں بتا ديا، حالانكہ ميں توبہ كر چكى تھى اور شادى سے تين برس قبل اپنى اصلاح كر كے دين احكام كا التزام بھى كرنا شروع كر ديا تھا، اور اللہ كے فضل و كرم سے اب تك اس پر قائم ہوں. ليكن مجھے اس كى باتيں پريشان كرتى ہيں، اور وہ مجھے طعنے ديتا اور فاسق قسم كى عورتوں كے ساتھ تشبيہ ديتا ہے اور كہتا ہے كہ ميرى تربيت اچھى نہيں كى گئى، ميں اپنى تقدير پر راضى ہوں، اور اپنے خاوند سے محبت كرتى ہوں اللہ سے دعا ہے كہ وہ ہميں ہدايت نصيب فرمائے، اور ہمارے حالات كى اصلاح فرمائے، اور جن اور انسانوں ميں سے شيطان كو ہم سے دور كرے. ميرا سوال يہ ہے كہ: كيا ميرى غلطياں اور وہ گناہ جو ميں ماضى ميں كر چكى ہوں، ان كى بنا پر مجھے پاك اور عفت و عصمت والى كہنے ميں مانع ہيں، كہ ميں ايك اچھى اور فاضل پاكباز مسلمان عورت نہيں كہلا سكتى ؟ اور كيا ميرا خاوند ميرے بارہ ميں سوء ظن ركھنے كى بنا پر اور مجھ پر سب و شتم كرنے كى وجہ سے گنہگار ہوگا ؟ اور كيا ايسا كرنے پر ميرا خاوند ايك پاكباز عورت پر بہتان لگانے والا شمار كيا جائيگا يا نہيں، يا كہ ميرى جيسى عورت كو پاكباز عورت كہنا جائز نہيں ہے ؟

صفحہ : 7 - سے : 1
فیڈ بیک