علمی زمرے

والدین کے ساتھ حسن سلوک وصلی رحمی کرنا

والدی کے ساتھ نیکی وصلہ رحمی :والدین کے ساتھ حسن سلوک نہایت ہی نیک اعمال میں سے ہے اور کتاب وسنت میں اس کی بہت ہی فضیلت وارد ہے ،اور سلف صالحین کے ہاں والدین کے ساتھ حسن سلوک کی بہترین واقعات ملتے ہیں، اور مذہب اسلام میں والدین کے ساتھ دنیا میں اور مرنے کے بعد حسن سلوک کی بہت صورتیں ہیں، اس صفحہ میں ایسے مواد جمع کئے گئے ہیں جو والدین کے مقام ومرتبہ اور ان کے ساتھ حسن سلوک اور صلہ رحمی کرنے کو اُجاگر کرتے ہیں۔

عناصر کی تعداد: 35

  • MP3

    اس خطاب میں والدین كے ساتھ اچھے برتاؤ كرنے اور ان كے حقوق كا پاس ولحاظ ركھنے كو واضح كیا گیا ہے

  • PDF

    سوال:کیا یہ میرے لئے جائز ہے کہ میں 100 بار سبحان اللہ ، یا کوئی اور ورد کرنے کے بعد یہ دعا کروں کہ اس کا ثواب میرے والدین کو ملے؟ واضح رہے کہ میرے والد صاحب فوت ہوچکے ہیں، جبکہ میری والدہ ابھی زندہ ہیں۔

  • video-shot

    YOUTUBE

    لاپرواہ والدین (ٹی وی ٹاک شو): کیا والدین بھی اولاد کے تئیں لاپرواہ ہوتے ہیں؟ اولاد کے تئیں والدین پرسب سے بڑی اوراہم ذمے داری کیا ہے؟کیا اولاد کو سائنسداں ،انجینئر،ڈاکٹر،وکیل بنا دینے سے والدین اپنی ذمہ داریوں سے سبکدوش وعہدہ برآ ہوسکتے ہیں؟ کیا اولاد ووالدین کے حقوق کا تذکرہ شریعت اسلامیہ کے متوازن ہونے کی دلیل نہیں؟ کیا اولاد کے درمیان حقوق میں امتیازی سلوک برتنا جائزہے؟ کیا والدین کو کسی اولاد کو وراثت میں محروم یا برتری دینا درست ہے؟ کیا اولاد کے درمیان حقوق میں امتیازی سلوک اولاد کی بغاوت کا اہم سبب نہیں؟ کیا کسی لڑکے سے فطری محبّت ودلی میلان میں انصاف کرنا ضروری ہے؟کیا والدین کے لئے کسی بیٹے سے محبت ودلی میلان کو دیگراولاد کےدرمیان اظہارکرنا درست ہے؟ تربیت کے علاوہ والدین پردیگرکیا حقوق عائد ہوتے ہیں؟ کیا والدین کے لئے سماج ومعاشرہ میں بدنامی کےخوف،اوراپنی عزت ووقاراورانا کے خاطراولاد کو اس کی ناپسند وغیر منظوررشتہ پر مجبور کرنا جائز ہے؟ کیا اولاد کے لئے ایسی شریک حیات کا انتخاب کرنا درست ہے جو عصمت باختہ ،بے حیا، اوروالدین،گھراورسماج کے لئے کلنک ہو؟ ان سب کے بارے میں پیس ٹی وی اردو ٹاک شو پرواگرام’’الجھنیں‘‘سیریز کے’’لاپرواہ والدین‘‘ایپی سوڈ میں میزبان عبد الباسط مدنی اور مہمان مؤقرشیخ حافظ عبد العظیم عمری مدنی حفظہما اللہ سے تفصیلی جان کاری حاصل کریں ۔

  • video-shot

    YOUTUBE

    نا فرمان اولاد(ٹی وی ٹاک شو) :انسانی زندگی میں اولاد کی کیا اہمیت ہے؟ موجودہ زمانے میں والدین کی بڑی بے چینیوں میں سے اہم بے چینی والجھن کا کیا سبب ہے؟ اولاد نافرمان کیوں ہوتی ہے؟ اولاد کی نافرمانی کے بنیادی اسباب کیا ہیں؟اولاد، والدین کے لئے فتنہ وآزمائش کا سبب کیوں بنتی ہے؟ ماضی کے مقابلے میں آج اولاد زیادہ نافرمان کیوں ہے؟ کیا موجودہ عصری تعلیم اور مغربی تہذیب وکلچراولاد کی شرعی تادیب میں حائل ہے؟ نافرمان اولاد کی اصلاح وسدہار کے عملی تدابیر کیا ہیں؟ اولاد انسان کے لئے زحمت کے بجائے رحمت کیسے بن سکتی ہے؟ نافرمان اولاد کے لئے کیا نصیحت ہے؟ان سب کے کے بارے میں پیس ٹی وی اردو ٹاک شو پرواگرام’’الجھنیں‘‘ سیریز کے’’نافرمان اولاد‘‘ایپی سوڈ میں میزبان عبد الباسط مدنی اور مہمان مؤقرشیخ حافظ عبد العظیم عمری مدنی حفظہما اللہ سے تفصیلی جان کاری حاصل کریں۔

  • video-shot

    MP4

    والدین کی نافرمانی کا انجام

  • PDF

    کیا والدین کی طرف دیکھنا عبادت ہے؟ اس سلسلے میں وارد احادیث کی صحت کیسی ہے؟ اس مقالہ میں انہی سوالوں کا مختصر جواب پیش ہے

  • PDF

    والدین اور اولاد کے حقوق : پیش نظر کتاب میں قرآن و احادیث صحیحہ کی روشنی میں والدین اور اولاد کے حقوق کو بیان کیا گیا ہے ۔ اگر ان حقو ق کی صحیح معرفت حاصل ہوجائے تو ان شاء اللہ اولاد و والدین کے تعلقات خو شگوار ہو جائیں گے اور نفرت کی جگہ الفت ومحبت کی فضا ہموار ہو جائے گی۔

  • PDF

    الحمد للہ ميرى چھ ماہ قبل شادى ہوئى اور ميں اپنے خاوند كے ساتھ سعودى عرب ميں رہ رہى ہوں، ميرا خاوند مصرى ہے اور ميں اصلا جرمن ہوں اور امريكہ كى شہريت حاصل كر ركھى ہے، ميرا خاوند مجھے طلاق دينا چاہتا ہے كيونكہ ميں نے ساس سسر سے عليحدہ رہائش كا مطالبہ كيا تھا حالانكہ ہم اس وقت خاوند كے والدين كے ساتھ نہيں رہتے بلكہ وہ مصر ميں رہتے ہيں. وہ چند ہفتے قبل مصر جانے سے پہلے ہمارے ہاں سعوديہ ميں تين ماہ رہ كر گئے ہيں ميرا خاوند بھى واپس جانے كا سوچ رہا ہے اور والدين كے ساتھ ہى رہنا چاہتا ہے، تا كہ ميں اس كے والدين كى خدمت كر سكوں، ميں نے خاوند كو بتايا اس كا والدين كے بارہ ميں سوچنا اور ان سے محبت ركھنا ايك اچھى چيز ہے، ليكن ميں ايك بيوى كى حيثيت سے مستقل طور پر اس كى والدين كے ساتھ ايك ہى گھر ميں نہيں رہ سكتى، اس نے وعدہ كيا ہے كہ ہم اسى گھر ميں اوپر والى منزل پر رہيں گے تا كہ والدين كى خدمت كر سكيں، اور ان كى ضروريات پورى كى جائيں، ميں نے اسے بتايا كہ اسلامى اور شرعى طور پر يہ ميرا كام نہيں كہ ميں ان كى خدمت كروں، اس ليے كہ اسلام ميں كوئى ايسى نص اور دليل نہيں ملتى جو اس كے نظريہ كى دليل ہو. اس طرح ميرے بھى والدين ہيں ان كى خدمت كرنا بھى مجھ پر فرض ہے، اور ان سے صلہ رحمى كرنا اور ان كى ضروريات پورى كرنا مجھ پر بھى عائد ہونگى، ميرا خاوند اس پر متفق ہے كہ ميرے والدين كو جب بھى ميرى ضرورت ہوگى وہ ان كى خدمت كے ليے مجھے جانے سے منع نہيں كريگا، ليكن جب ابھى اس كى ضرورت نہيں تو ميرے والدين كى خدمت كرو، ميں نے سوچا ہے كہ يہ ہے تو اچھا ليكن اگر مجھ سے اس كے والدين كى خدمت صحيح نہ ہو سكى يا پھر ميرا خاوند اس پر مطمئن نہ ہوا تو يہ مجھے طلاق كا باعث بن سكتا ہے، ليكن ميں ايسا پسند نہيں كرتى، كيونكہ اس كے والدين كى خدمت اور گھر كى ديكھ بھال ميرا ذمہ نہيں ہے، ميں نے واضح كيا ہے كہ مجھے ان كى خدمت ميں كوئى اعتراض نہيں اگر ميرا گھر ان كے قريب ہى ہوا تو ميں ان سے اچھے تعلقات ركھوں گى اور ان كى ديكھ بھال بھى كرونگى اور ضرورت كے وقت گھريلو معاملات ميں بھى ہاتھ بٹاؤں گى ليكن ميں مستقل طور پر ايسا پسند نہيں كرتى، مثلا يہ كہ اگر ايسا نہ كروں تو مجھے سزا دى جائے يا پھر اسے مجھ پر لازم كيا جائے يا پھر اس كى مرضى كے مطابق نہ ہو تو مجھ پر دباؤ ڈالا جائے. ميں نے اس سے پورى وضاحت كے ساتھ بات كى ہے ليكن وہ مجھے طلاق دينا چاہتا ہے كيونكہ ميں اپنى ساس اور سسر كے ساتھ ايك ہى گھر ميں نہيں رہنا چاہتى، كيونكہ مجھے تجربہ ہے كہ ان كے ساتھ رہنے سے مجھے اپنى خصوصيت اور خاوند كے ساتھ خاص وقت بسر كرنے سے بھى ہاتھ دھونا پڑيں گے، كيونكہ گھر كے كام كاج ميں مصروف رہوں گى، افسوس ہے كہ انہوں نے اور باقى رشتہ داروں نے ميرى غيبت بھى كرنا شروع كر دى ہے جس كا خاوند كو علم نہيں، برائے مہربانى مجھے اس سلسلہ ميں كوئى نصيحت فرمائيں تا كہ خاوند كے ساتھ محبت و مودت اور نرمى كے ساتھ معاملہ طے كر سكوں دو دن سے تو وہ ميرے ساتھ سوتا بھى نہيں بلكہ عليحدہ كمرہ ميں اكيلا سوتا ہے، برائے مہربانى ميرى مدد كريں.

  • PDF

    ميرى مشكل يہ ہے كہ ميں بچپن سے ہى والد صاحب پر اعتماد كرتا رہا، ميرا سارا خرچ والد صاحب ہى برداشت كرتے رہے، اور ہر چيز لا كر دى ـ ميں اپنى تعليم اس ليے مكمل نہ كر سكا كہ والد صاحب كا اصرار تھا كہ ميں ان كے ساتھ تجارتى معاملات ميں ہاتھ بٹاؤں، اس ليے ميں نے مڈل تك ہى تعليم حاصلى كى، حالانكہ ميں ان كے ساتھ كام نہيں كرنا چاہتا تھا اس كے باوجود والد صاحب كے اصرار پر ميں نے ان كے ساتھ دينا شروع كر ديا. اور وقت گزرنے كے ساتھ ساتھ ميں كام كرنے كا عادى بھى ہو گيا، اور تقريبا ساٹھ فيصد كام كو پسند كرنا شروع كر ديا، ميں نے والد صاحب كے ساتھ مسلسل سولہ برس تك كام كيا ہے، جس ميں كوئى واضح ترقى نہ ہوئى، يا پھر ميں محسوس كرتا ہوں كہ ميرى ايك اچھى آزمائش تھى. اللہ تعالى والد صاحب كو جزائے خير عطا فرمائے ميرے سارے اخراجات وہى كرتے رہے، ابتدائى برسوں ميں تو ميں بغير تنخواہ كے كام كرتا رہا، والد صاحب مجھے ايك ہفتہ كا خرچ دے ديتے، يا پھر ميں انصاف كى اور سچى بات كروں تو مجھے اتنا خرچ دے ديتے جو ايك ماہ كے ليے كافى ہوتا. ليكن يہ خرچ اتنا نہيں تھا كہ ميں اس سے كچھ بچا سكوں، اسى طرح دن گزرتے رہے، اور ميں نے شادى كرنے كا فيصلہ كيا، اللہ تعالى والد صاحب كو جزائے خير عطا فرمائے انہوں نے شادى كے اخراجات كيے، اور مجھے اپنے گھر ميں ہى ايك فليٹ رہائش كے ليے دے ديا، ميں اس نيكى كا كبھى انكار نہيں كرونگا. اس كے بعد والد صاحب نے دو ہزار ريال ميرى تنخواہ مقرر كر دى، اور كچھ سال كے بعد بڑھا كر تين ہزار كر دى، ليكن ميں محسوس كرتا تھا كہ ميں اپنے اس كام پر راضى نہيں ہوں، كيونكہ يہ تنخواہ ميرى ذاتى اور گھريلو ضروريات كے ليے كافى نہ تھى. تين برس گزرنے كے بعد ميں نے اپنے والد صاحب كى جانب سے برا سلوك ديكھنا شروع كرديا جو بعض اوقات تو گاليوں تك پہنچ جاتى اور دوسروں كو مجھ پر فضيلت ديتے كہ تم سے تو فلاں شخص ہى اچھا ہے، اور فلاں شخص ديكھو وہ تم سے بہتر ہے... ميں محسوس كرنے لگا كہ والد صاحب دوسروں كو اچھا سمجھتے ہيں، اور انہيں راضى كرنے كى كوشش كرتے ہيں، ليكن ميرے بارہ ميں ان كا رويہ اچھا نہيں ميرے ساتھ معاملات اچھے نہيں كر رہے، مجھے والد صاحب كوئى كام كرنے كا كہتے اور مجھے اس كا صلہ دينے كا بھى وعدہ كرتے ليكن بعد ميں فيصلہ تبديل كرتے ہوئے اپنا وعدہ پورا نہ كرتے اور كہتے كہ مجھے تو كوئى وعدہ ياد نہيں ہے، يا پھر كہتے كہ تم نے كام ميں كوتاہى كى ہے، اس كے علاوہ كئى طرح كے بہانے بنا كر انكار كر ديتے. اس سب كچھ كے بعد انہوں نے ميرى تنخواہ بھى كم كر كے دو ہزار ريال كردى حالانكہ ميرى عمر اب سينتيس برس ہو چكى ہے، اور ميں شادى شدہ ہوں اور ميرى اولاد بھى ہے، اور ميرے ذمہ كئى قسم كى ذمہ دارياں ہيں، بلاشك آپ كو علم ہے كہ اس وقت مہنگائى كتنى ہو چكى ہے، دو ہزار ريال كس طرح ايك ماہ كے اخراجات پورے كر سكتے ہيں، اور آئندہ مستقبل كى كيا ضمانت ہو سكتى ہے ؟ اور مستقبل ميں بچوں كے ليے كيا بنايا جا سكتا ہے، مجھے كئى قسم كے افكار اور سوچيں گھيرے ركھتى ہيں كہ ميں كوئى اور كام كر لوں، ليكن جب بھى ميں والد صاحب كا سوچتا ہوں تو مجھے پريشانى لاحق ہو جاتى ہے، اور ميں خوف محسوس كرتا ہوں كہ والد صاحب اكيلے رہ جائيں گے اور وہ اس كا اثر بھى ليں گے. اور اسى طرح ميں ان كى ناراضگى كا خدشہ بھى محسوس كرتا ہوں، جب انہيں علم ہوگا كہ ميں كوئى اور كام تلاش كر رہا ہوں تو وہ ناراض ہونگے، كيونكہ وہ ہر مسئلہ ميں مجھ پر اعتماد كرتے ہيں، چاہے تجارت ہو يا گھر كا كام، يا خاندان كا كوئى معاملہ ہو، ہر كوئى يہى كہتا ہے كہ ميں ہى اس خاندان كا سب كچھ اور محور ہوں. وہ يہ سمجھتے ہيں كہ اس كام كے پيچھے مجھے بہت كچھ ملتا ہے، حالانكہ فى الواقع ايسا نہيں ہے، بلكہ ميں تو يہ سمجھتا ہوں كہ اس ميں جو خير پائى جاتى ہے وہ يہ كہ اللہ كے حكم سے ميں حسب استطاعت اپنے والد كے ساتھ حسن سلوك كر رہا ہوں، حالانكہ مجھے وہ كچھ حاصل نہيں ہوتا جو ميرے باقى بھائي حاصل كرتے ہيں. ميرے سارے بھائى مجھ سے چھوٹے ہيں، اور ميں ہى سب سے بڑا ہوں، وہ سب اچھى ملازمت كر رہے ہيں اور ان ميں سے سب كى كم از كم تنخواہ پانچ ہزار ريال ماہانہ ہے، اور پھر وہ غير شادى شدہ ہيں، ليكن ميرى تنخواہ صرف دو ہزار ريال ہے، مجھے علم ہے كہ ميرے مقدر ميں يہى ہے، اور روزى كى تقسيم تو اللہ سبحانہ و تعالى ہى كرتا ہے اس نے ہر انسان كا رزق اور اسكى زندگى اور تقدير لكھ ركھى ہے... اللہ گواہ ہے ميرا اس پر ايمان ہے كہ يہ اللہ كى جانب سے ہے، اللہ نے ميرے ليے جو لكھ ركھا ہے ميں اس پر راضى ہوں، اللہ سبحانہ و تعالى نے انسان كے ليے بہتر ہى لكھا ہے، ہر حالت ميں اللہ سبحانہ و تعالى كا شكر ہے. ليكن انسان طبعى طور پر كمزور واقع ہوا ہے، اور وہ بعض اوقات دنياوى امور كى طرف مائل ہو كر اس كى جانب جھك جاتا ہے، كہ وہ اپنے كسى دوست يا كسى رشتہ دار يا پھر اپنے ارد گرد رہنے والوں كو ديكھتا اور كہتا ہے كہ: ميں بھى ان جيسى صفات كا مالك كيوں نہيں، وہ اچھا لباس زيب تن كرتے ہيں، اور بہترين گاڑيوں پر سفر كرتے ہيں اور اپنى اولاد كے ليے جو چاہيں لا كر ديتے ہيں ..... ليكن ميں ايسا نہيں ؟ بعض اوقات ميں بھى محسوس كرتا ہوں كہ ميں بھى اس امر واقع كے سامنے سرتسليم خم كر چكا ہوں، ميرے پاس كوئى اچھى ملازمت نہيں ہے، اور نہ ہى ميرے پاس كوئى ايسى تعليمى ڈگرى ہے جو مجھے كوئى اچھى ملازمت دلا دے جس كے ذريعہ ميں اپنے بيوى بچوں كے صحيح طرح اخراجات پورے كر سكوں، اور نہ ہى ميرے پاس كوئى جمع پونجى ہے جس كے ذريعہ كوئى كاروبار شروع كروں. خلاصہ يہ ہے كہ: اس وقت تو ميرى حالت اور بھى زيادہ خراب ہو چكى ہے كيونكہ گھريلو اخراجات بڑھ چكے ہيں اور ميں محسوس كرتا ہوں كہ دنيا ميرے سر پر سوار ہے ميں اس كا وزن برداشت نہيں كر سكتا، ہر وقت پريشان اور غم كا شكار رہتا ہوں، اور دن بدن نيچے كى طرف ہى جا رہا ہوں، اور پريشانى بھى بڑھ رہى ہے. اس ليے ميں نے يہ فيصلہ كيا كہ مجھے كوئى اور كام كرنا چاہيے، اور اس كوئى ايسا كام تلاش كروں جو ميرے حالات بدل دے، ميں محسوس كرتا ہوں كہ كسى بھى وقت اپنى بيوى كھو سكتا ہوں، كيونكہ وہ مجھے ہر وقت كوئى اور كام تلاش كرنے پر ابھارتى رہتى ہے، كيونكہ وہ خود بھى ملازمت كرتى ہے اور ميرى تنخواہ سے تين گناہ زيادہ تنخواہ ليتى ہے، اور گھريلو اخراجات ميں ميرى مدد كرتى، بلكہ مجھ سے بھى زيادہ اخراجات برداشت كرتى ہے. ليكن مرد كى بھى كوئى عزت ہونى چاہيے، اور اس كے نفس كى عزت ہو، ميں جانتا ہوں كہ ان دنياوى امور ميں بيوى اپنے خاوند كى معاونت كر سكتى ہے اس ميں كوئى حرج نہيں ليكن معاملہ مختلف ہے كيونكہ وہ ميرى عيالدارى ميں ہے اس كے اخراجات ميرے ذمہ ہيں، بلكہ ايك دفعہ تو ايسا بھى ہوا كہ ميرى بيوى ميرے فقر كى بنا پر اپنے ميكے بھى چلى گئى اور وہ اس صورت حال سے خوش نہيں ہے، ميں محسوس كرتا ہوں كہ وہ حق پر ہے. وہ ايسا كرے بھى كيوں نہ، اور كيسے اپنے ميكے جا كر نہ بيٹھے، كيونكہ وہ ديكھتى ہے كہ اس كى سارى سہيلياں اور سارى بہنيں شادى شدہ ہيں اور وہ اپنے ملكيتى گھروں ميں رہتى ہيں، اور اچھى سے اچھى گاڑى ركھى ہوئى ہے، اور بہتر سے بہتر وسائل راحت اختيار كيے ہوئے ہيں، ليكن اسے ان اشياء ميں سے كچھ بھى حاصل نہيں ہے. اہم يہ ہے كہ ميں نے جب بھى عزم كيا يا ارادہ كيا كہ ميں كوئى اور كام تلاش كروں تو مجھے خوف اور ڈر سا لگا رہتا ہے كہ كہيں مستقبل ميں ناكام نہ ہو جاؤں، جيسا كہ ميں اوپر كى سطور ميں بيان كر چكا ہوں كہ ميں اپنے والد صاحب پر ہى اعتماد كرتا رہا ہوں، اور ميں نے كبھى بھى عليحدہ اكيلے كام نہيں كيا، ميرے والد صاحب نے مجھے عادى بنا ديا ہے كہ ميں ہر چيز ميں ان ميں پر اعتماد كرنے لگا ہوں، اور ميں يہ نقطہ ان كى مصلحت كے ليے ہى استعمال كرتا ہوں. ليكن اب مجھے ايك ايسا كام ملا ہے جس كے بارہ ميں معلومات اكٹھى كرنے اور الحمد للہ استخارہ كرنے كے بعد مجھے علم ہوا ہے كہ اس ميں ان شاء اللہ خير پائى جاتى ہے، ليكن اندر سے مجھے بہت زيادہ ڈر بھى محسوس ہو رہا ہے استخارہ كے بعد مجھے پچاس فيصد سكون حاصل ہوا ہے، ليكن باقى خوف اور حيرانى پائى جاتى ہے كہ كہيں ناكام نہ ہو جاؤں، ميں وضاحت كے ساتھ بتانا چاہتا ہوں كہ وہ كام درج ذيل ہے: سامان كى نقل و حمل كے ليے گاڑى چلانا، كہ ہر چيز ايك علاقے سے دوسرے علاقے ميں نقل كى جائے كچھ لوگ حتى كہ ميرے بھائى بھى مجھے يہ كام كرنے پر طعنے ديتے اور عار دلاتے ہيں، حتى كہ ابتدا ميں تو ميرے والد صاحب بھى ميرے ساتھ مذاق كرنے والوں ميں شامل تھے. ان كا كہنا تھا كہ ميں نے وہ كام شروع كيا ہے جو دوسرے ملكوں سے يہاں كر دوسرے ملازمين كرتے ہيں، ليكن مجھے تو يہ كام اچھا لگا ہے، ميں اس سے اپنى روزى كماتا اور اپنے بيوى بچوں كے اخراجات پورے كرتا ہوں، اللہ سے توفيق كى دعا ہے. برائے مہربانى يہ بتائيں كہ اس كام كے متعلق آپ كى رائے كيا ہے ؟ اور ميرى حالت كے بارہ ميں آپ كى رائے ميں كيا حل ہے اور مجھے كيا كرنا چاہيے، اور كيا اگر ميں اپنے والد سے عليحدہ اور دور رہ كر كوئى كام كرتا ہوں تو كيا ميں نافرمان كہلاؤنگا، كيونكہ مجھے ڈر ہے كہ كہيں ميں والد صاحب كا نافرمان نہ بن جاؤں، اللہ سے ميرى دعا ہے كہ ميں اپنے والدين سے حسن سلوك كرنے والا بنوں ؟

  • PDF

    ميرے كئى ايك رشتے آئے ليكن والد صاحب نے يہ كہہ كر رد كر ديے كہ ابھى ميرى تعليم مكمل نہيں ہوئى، ميں نے والدين كو منانے كى كوشش كى كہ مجھے شادى كى رغبت ہے اور شادى ميرى تعليم ميں ركاوٹ پيدا نہيں كريگى، ليكن والدين اپنے موقف پر قائم رہے، تو كيا والدين كى رضامندى كے بغير ميرے ليے شادى كرنا جائز ہے، وگرنہ مجھے كيا كرنا چاہيے ؟

  • PDF

    ميرى والدہ جس بات كے پيچھے پڑ جائے اسے چھوڑتى نہيں، اور اس كے مطالبات ختم ہونے كا نام نہيں ليتے، ميرے ساتھ ميرے خاوند كے متعلق لڑتى رہتى ہے حالانكہ ميرا خاوند مجھ اور ميرى اولاد كے ساتھ بہت ہى اچھا برتاؤ كرتا ہے، ميرى والدہ چاہتى ہے كہ ميرا خاوند اسے سير و تفريح ميں اپنے ساتھ لے كر جائے، اس كے اور بھى كئى مطالبات ہيں، اور بہت زيادہ خرچ كرتى ہے جسے ميرا خاوند پسند نہيں كرتا. ميرا خاوند ايك ڈاكٹر ہے اور اپنى ساس كو اتنا وقت نہيں دے سكتا، اور پھر وہ سمجھتا ہے كہ ميں اور ميرى والدہ اكٹھى نہيں رہ سكتيں، ميرى والد سال ميں كم از كم تين يا چار بار ہميں ملنے آتى ہے، اور چاہتى ہے اسے روزانہ سير و تفريح كے ليے لے جاؤں چاہے بچوں اور گھر كو وقت نہ بھى ديا جائے. والدہ تجارت بھى كرتى ہے ليكن اس كے باوجود كہتى ہے تم اپنے بہن بھائى كو اپنے پاس ركھو جن كى عمر سولہ اور اٹھارہ برس ہے، اور اس كے ليے خاوند كى اجازت كى بھى ضرورت نہيں، دو برس قبل والد صاحب فوت ہوئے تو انہوں نے ميرى يونيورسٹى ميں تعليم كے ليے قرض ليا تھا اور يہ قرض واپس كرنے سے انكار كر ديا جس كى بنا پر ميرى شہرت اتنى خراب ہوئى كہ ميں اپنے نام پر كوئى چيز بھى نہيں خريد سكتى. اس سے بھى بڑھ كر والد فوت ہونے سے كچھ عرصہ قبل ميرى والدہ نے والد كى سارى جائداد اور مال اپنے نام كروا ليا تا كہ ہم ميں تقيسم كرنا آسان رہے، ہم چار بہنيں اور ايك بھائى ہيں، ليكن والد كى وفات كے بعد كہنے لگى وہ سب كچھ توم ميرے نام ہے، ميں نے تمہارے والد كے قرض كى ادائيگى كے ليے بہت كچھ ادا كيا ہے، قرض كى ادائيگى سے ہى اس كى تجارت يہاں تك پہنچى ہے، اس ليے وہ مرنے تك سارا مال اور جائداد خود ہى ركھےگى. جب والدہ نے ظاہر كيا كہ وہ والد كے قرض كى ادائيگى كرنا چاہتى ہے تو ميں نے كسى كو بتائے بغير والدہ كو تقريبا ايك لاكھ ڈالر ديے، ليكن والدہ نے قرض ادا كرنے كى بجائے گرميوں ميں رہنے كے ليے ايك گھر خريد ليا، اور بالكل انكار كر ديا كہ اسے ميں نے كچھ ديا ہے، شادى سے چھ برس قبل يہ قرض ليا گيا تھا اور خاوند كو اس كے متعلق علم بھى نہيں ہے اب يہ قرض ميرے نام ہے اور روز بروز اس ميں اضافہ ہوتا جا رہا ہے، اس كے علاوہ ميرى والدہ ميرے خاوند كے ساتھ برا سلوك كرتى اور اسے گالياں بھى نكالتى ہے اور مجھے اس كى نافرمانى كرنے كا كہتى رہتى ہے، كہ والدہ كا تجھ پر خاوند سے بھى زيادہ حق ہے، اور مجھے اپنے خاوند كو معذرت كرنے پر مجبور كرتى ہے كہ وہ اپنى ساس سے معذرت كرے حالانكہ اس نے كوئى غلطى بھى نہيں كى، ہم دو ملكوں مصر اور امريكہ ميں بٹے ہوئے ہيں، بلكہ كچھ ايام قبل والدہ نے دھمكى بھى دى كہ اگر تم ماں سے محبت كرتى اور اللہ كى نافرمان نہيں كرنا چاہتى تو اپنى اولاد كے ساتھ مجھے ملنے آؤ، ليكن ميرا خاوند اكيلا رہنے پر راضى نہيں، ماں كہتى ہے كہ خاوند كى بات نہ سنو بلكہ ماں كى بات مانو، ليكن اس كے باوجود مجھے خاوند يہى كہتا ہے كہ والدہ كے ساتھ حسب استطاعت بہتر سلوك كرتے ہوئے اچھے تعلقات ركھو. ميرا سوال يہ ہے كہ ان حالات ميں مجھ پر كيا ذمہ دارى عائد ہوتى ہے، كہ والدہ كے ساتھ كيسے تعلقات ركھوں، اور اسى طرح اس قرض كا ذمہ دار كون ہے، حالانكہ مجھے اس يونيورسٹى ميں پڑھائى كر مجبور كيا گيا اور ميرى عمر بھى اس وقت سولہ اور اٹھارہ برس كے درميان تھى، خاوند كو اس قرض كے متعلق كچھ علم نيں، اور پھر ماں كے پاس تو قرض كى ادائيگى سے بھى زياد مال ہے.

  • PDF

    ميرے خاوند كى بہن يعنى ميرى نند كى سابقہ زندگى گناہ اور زنا اور حرام افعال سے بھرى ہوئى ہے، اور تقريبا ہم نے اس سے پندرہ برس تك تعلقات ختم كيے ركھے، پھر ميرا خاوند اس سے بات چيت كرنے لگا. اب مجھے اپنى اولاد كے متعلق خدشہ ہے كہ كہيں وہ اس سے متاثر نہ ہو جائے، اس ليے ميں نے اپنى اولاد كے سامنے اس كے شرف پر حملہ كيا اور اسے عار دلائى تا كہ ميرى اولاد اس سے دور رہے، ميں نے بچوں كے سامنے كہا: تمہارى پھوپھى تو اپنے ماموں كے ساتھ زنا كرتى رہى اور اس سے جنسى تعلق بنا ركھے تھے، تو كيا اپنى اولاد كو اس سے دور كرنے كے ليے ايسا كرنا جائز ہے ـ حالانكہ بچے اس سے منقطع رہتے ہيں ليكن مجھے خدشہ ہے كہ ميرا خاوند ان پر اثرانداز نہ ہو جائے ـ تو ميں نے اس كے شرف اور عزت پر ہاتھ ڈالا كيا يہ جائز ہے ؟ اللہ تعالىآپ كو جزائے خير عطا فرمائے.

  • PDF

    ميرى دو برس قبل شادى ہوئى الحمد للہ ميرا خاوند ميرے معاملہ ميں اللہ سے ڈرتا ہے، ليكن ميں اپنے اندر نفسياتى طور پر ركاوٹ سى محسوس كرتى ہوں كيونكہ ميرے والد نے ميرے اور ميرے بھائيوں اور والدہ كے ساتھ اچھا سلوك نہيں كيا جس كى بنا پر ميرے اور بھائيوں كے اندر والد كے بارہ ميں كينہ اور بغض بھر گيا، حالانكہ ميں شادى كر كے اس تكليف دہ زندگى والے ماحول سے دور ہو چكى ہوں ليكن ميں والدہ اور بھائيوں كے غم اور پريشانى ميں پريشان ہوئے بغير نہيں رہ سكتى، كيونكہ وہ اب تك پريشان ہيں جس كے نتيجہ ميں ميرے خاوند كے ساتھ معاملات پر بھى اثرپڑتا ہے، حالانكہ ميرا خاوند ميرا احترام بھى كرتا ہے. ليكن جب وہ اكثر اوقات پريشان ديكھتا ہے تو اس كا صبر جاتا رہتا ہے وہ خيال كرنے لگتا ہے كہ ميں ماحول كو سوگوار بنانا پسند كرتى ہوں، برائے مہربانى مجھے بتائيں كہ كيا كروں ؟ اسى طرح ہم سب بہن بھائى والد صاحب كے برے سلوك كى بنا پر ان كا احترام نہيں كر سكتے، ہميں اپنے اس بغض كو ختم كرنے كے ليے كيا كرنا ہوگا ؟ يہ علم ميں رہے كہ ہم والد صاحب كا احترام كرنے كى كوشش تو كرتے ہيں، ليكن والد صاحب كسى كا احترام نہيں كرتے، اور انہيں مشكل درپيش ہے كہ وہ اپنے سے افضل شخص كو ناپسند كرتے ہيں، اور ان ميں ايك اور چيز پائى جاتى ہے كہ وہ اپنے آپ كو امتياز كرنے اور اونچا ہونا پسند كرتے ہيں يعنى وہ چاہتے ہيں كہ لوگ يہ سمجھيں كہ وہ بہت مالدار ہيں حالانكہ والد صاحب تو لوگوں كے مقروض ہيں، برائے مہربانى ميرى مدد فرمائيں كہ ہميں كيا كرنا چاہيے ؟

  • PDF

    آپ شكريہ كے مستحق ہيں، اور اللہ تعالى آپ كو اس ويب سائٹ كى جزائے خير عطا فرمائے، ميں اصل موضوع كى طرف آتى ہوں... ميرے والدين مجھے اتنے پيسے نہيں ديتے تھے جو ميرى ضروريات معاش كے ليے كافى ہوں، بعض اوقات مجھے رقم حاصل كرنے كے ليے جھوٹ كا سہارا لينا پڑتا تھا اور ميں ايسى اشياء بيان كرتى جن كى كوئى حقيقت نہ ہوتى، انہيں بھى اس كا علم ہوتا ليكن اس كے باوجود وہ صراحت نہ كرتے تا كہ ميں پيسے لينے كى عادت نہ بنا لوں، تو كيا اسے چورى شمار كيا جائيگا ؟ بعض اوقات ميں اپنى سہيليوں كے ساتھ كہيں جانا چاہتى تو ميں والدين سے اجازت اور پيسے لينے كے ليے جھوت بولتى تھى.

  • PDF

    اللہ تعالى آپ كو اتنى اچھى ويب سائٹ قائم كرنے پر جزائے خير عطا فرمائے، ميرے ذہن ميں جو سوال بھى ابھرا مجھے اس كا آپ كى ويب سائٹ سے جواب ضرور ملا. اس وقت ميرا سوال والدہ كے ساتھ حسن سلوك اور صلہ رحمى كرنے كے متعلق ہے، ميرى عمر تقريبا بيس برس سے زائد ہے اور ہم پانچ بھائى ہيں سب ايك ہى گھر ميں والدہ كے ساتھ رہائش پذير ہيں، دس برس گيارہ برس قبل ہمارے والد صاحب فوت ہوئے تو ہمارى والدہ نے ہمارے سارے تعليمى اور معاشى اخراجات خود اٹھائے اور اس طرح ہم نے گريجويشن كر ليا. الحمد للہ اللہ كے فضل و كرم سے گھر كے سارے اخراجات اور بھائيوں كے اخراجات بھى ميں برداشت كرتا ہوں، ليكن درج ذيل دو اشياء كے بارہ ميں دريافت كرنا چاہتا ہوں: اول: ايك بار بہت بڑى رقم جو ميں نے جمع كر ركھى تھى ميرى والدہ نے خرچ كر لى كيونكہ ميرے ماموں كى مالى حالت بہت تنگ تھى تو والدہ نے وہاں رقم خرچ كر دى تو اس وقت ميں بہت ناراض ہوا كہ والدہ نے مجھے بتائے بغير ميرے پيسے وہاں صرف كر ديے. ليكن ميں نے ناراضگى كے متعلق والدہ كو نہيں بتايا اور اس رقم كے متعلق ميں نے والدہ سے كوئى باز پرس بھى نہيں، گويا كہ كچھ ہوا ہى نہ ہو. ليكن اس كے كئى ماہ بعد ميرى بڑى بہن كو آپريش كى بنا پر بہت زيادہ مالى تنگى سے گزرنا پڑا، تو اس وقت بھى والدہ نے پہلا جيسا عمل ہى كيا، اور جو رقم ميں نے دوبارہ جمع كى تھى وہ بھى مجھے بتائے بغير وہاں خرچ كر دى. ميں نے سوچا كہ مجھے اس سلسلہ ميں خاموش نہيں رہنا چاہيے بلكہ بات چيت كرنى چاہيے تاكہ پھر دوبارہ ايسا نہ ہو، ميں نے بات كى تو والدہ نے كہا آپ كى بہن كو پيسوں كى ضرورت تھى تو ميں نے اسے دے ديے اور تجھے بتانا بھول گئى تو ميں نے والدہ سے كہا كہ ميرے علم كے بغير آپ ميرے پيسے خرچ مت كيا كريں، تو والدہ نے خاموشى اختيار كر لى ليكن مجھے بعد ميں محسوس ہوا كہ والدہ كے ساتھ مجھے ايسا نہيں كرنا چاہيے تھا. ميرا سوال يہ ہے كہ آيا ميرى والدہ كو ميرے مال ميں ميرے علم كے بغير تصرف كا حق حاصل ہے ؟ ميں نے يہ بات صرف اس ليے كى كہ دوبارہ ايسا نہ كيا جائے، كيا ميرا يہ عمل اور والدہ كو كہنا غلط تو نہيں تھا ؟ دوم: دوسرا سوال اوپر بيان كردہ معلومات اور نيت كے متعلق ہے: ميں نے نيت كر ركھى تھى كہ گھر كے سارے اخراجات اور بھائيوں كا خرچ اللہ كے ليے ميں خود ہى برداشت كرونگا، تاكہ والدہ سے صلہ رحمى اور حسن سلوك كر سكوں، اكثر اوقات ميرے اور والدہ كے مابين كسى چيز ميں بہت زيادہ اختلافات ہو جاتے ہيں، ان اختلافات كے بعد مجھے شيطانى وسوسہ سا ہوتا ہے كہ تمہارى نيت خالص اللہ كے ليے نہ تھى، اور خاص كر جب يہ اختلافات پيسوں اور خرچ كرنے كے طريقہ كے بارہ ميں ہوتے ہيں، ميں ڈرتا ہوں كہ كہيں ميرى نيت ميں فتور تو نہيں برائے مہربانى مجھے بتائيں كہ ميں اپنى نيت كو كيسے كنٹرول كر سكتا ہوں تا كہ شيطانى وسوسوں سے بچ كر خالصتا اللہ كے ليے نيت ركھوں ؟

  • PDF

    ميں جہاد فى سبيل اللہ كے متعلق ايك سوال دريافت كرنا چاہتا ہوں، يہ علم ميں رہے كہ ميں اپنے بھائيوں ميں سب سے بڑا ہوں اور ميرے والد صاحب فوت ہو چكے ہيں، اور والدہ موجود ہيں، ميرى بيوى اور بچے بھى ہيں، ميں نے والدہ سے جہاد ميں جانے كى اجازت طلب كى ليكن انہوں نے اجازت دينے سے انكار كر ديا؛ تو كيا ميں جہاد كر سكتا ہوں ؟

  • PDF

    كيا ميں درج ذيل اسباب كى بنا پر والد كا نافرمان بنوں گا: 1- ميرے والد صاحب ( رحمہ اللہ ) ميرى شادى كرنا چاہتے تھے اور ميں انكار كرتا رہا كيونكہ ميں اپنى يونيورسٹى كى تعليم مكمل كرنا چاہتا تھا. 2- ميں نے جو مال اكٹھا كيا تھا وہ صرف عقد نكاح كے ليے كافى تھا يہ علم ميں رہے ميں ملازم بھى ہوں. 3- پھر ميں تعليم مكمل كرنے كے ليے سفر بھى نہيں كر سكتا تھا، اس ليے ميں نے فيصلہ كيا كہ كوئى چھوٹا سا كام كرتا ہوں جس سے نفع ہو اور ميں اس سے حج كر لوں، اس طرح ميں نے زمين كا ايك ٹكڑا والد كے ساتھ مل كر خريد ليا، جس كى قيمت حج كے ليے بھى كافى نہ تھى، ہمارى نيت تھى كہ جس گھر ميں ہم رہ رہے ہيں اسے بدل ليں، كيونكہ پڑوسى اچھے نہ تھے اور اذيت ديتے تھے، اللہ انہيں ہدايت دے. 4- والد صاحب اس رقم سے مجھے حج كرنے سے منع كرتے اور كہتے كہ يہ مال ان كا ہے اور ميرى ملكيت نہيں. 5- كوشش كے باوجود بھى كوئى فائدہ نہ ہوا تو ميں نے كہا ميں شادى سے قبل حج كرونگا، اور والد صاحب كہنے لگے پہلے شادى كرو. 6- اب رمضان المبارك ميں وہ فوت ہو گئے ہيں اور ان كى موت كے بعد مجھ سے گھر والے مطالبہ كر رہے ہيں كہ والد كا ارادہ پورا كيا جائے، اور ميں انہيں كہتا ہوں كہ پہلے حج كرونگا. 7- اب وہ زمين اتنى رقم دے رہى ہے كہ اس سے حج ہو سكتا ہے، اور ہم نے قرض بھى ادا كر ديا ہے ( والد كى موت سے قبل زمين كى قيمت سے قرض ادا كر چكے ہيں ).

  • PDF

    کیا کوئي شخص والدین کی اجازت کے بغیر حج کرسکتاہے ؟ اورکیا اس کا حج صحیح ہوگا ؟ اورکیا والدین کی اجازت کے بغیر علم حاصل کیا جاسکتا ہے ؟ اورکیا وہ دونوں گناہ گارہونگے ؟

  • PDF

    شریعت اسلامى کی بے شمار خوبیوں میں سے ایک خوبی یہ بھی ہے کہ اسمیں عدل وانصاف کا خاص خیال رکھا گیا ہے’اورعدل کا تقاضا یہ ہے کہ ہرصاحب حق کو اسکا حق دیا جائے اورہر صاحب منزلت کو اسکا مقام عطا کیا جائے.زير مطالعہ کتاب میں شیخ محمد بن صالح العثیمین -رحمہ اللہ- نے چند ایسے حقوق ذکر کئے ہیں جو تقاضائے فطرت کے موافق اور کتاب وسنت سے ثابت ہیں ’ جنکا جاننا اور اسکے مطابق عمل کرنا انسان کیلئے انتہائی ضروری ہے’اور وہ حقوق مندرجہ ذیل ہیں:1 -اللہ تعالى کے حقوق 2- نبى کریم صلى اللہ علیہ وسلم کے حقوق 3- والدین کے حقوق 4-اولاد کے حقوق 5- رشتہ داروں کے حقوق 6- میاں بیوى کے حقوق 7- حکام اور رعایا کے حقوق 8-پڑوسیوں کے حقوق 9- عام مسلمانوں کے حقوق 10- غیر مسلموں کے حقوق.

  • video-shot

    MP4

    ویڈیو مذکور میں والدین کی عظمت ومنزلت کو بیان کرکے انکے ساتھ حسن سلوک وفرمانبرداری کرنے کی تاکید کی گئی ہے ساتھ ہی انکی نافرمانی سے ڈرایا گیا ہے.

صفحہ : 2 - سے : 1
فیڈ بیک