علمی زمرے

تقدیر پر ایمان

قضا وقدر (بھاگیہ وقسمت) پر ایمان رکھنا ایمان کے ارکانوں میں سے ایک رکن ہے، چنانچہ بندے کا ایمان مکمل نہیں ہوسکتا جب تک کہ وہ یہ نہ جان لے کہ اسے جو مصیبت پہینچی ہے وہ اس سے چوکنے والی نہیں تھی اور جو چیز اس سے چوک گئی ہے وہ اسے پہنچنے والی نہیں تھیِ۔ اس صفحہ میں اس رکن کو بیان کرنے والی بعض مواد ومضامین کا ذکر ہے۔

عناصر کی تعداد: 3

  • video-shot

    MP4

    ‘‘سلسلہ تعارف ارکان ایمان’’ کے آخری رکن میں تقدیر پر ایمان لانے کا مطلب، تقدیر کے مراتب اور اس پر ایمان لانے کے فوائد وثمرات کو شیخ عبدالہادی عبد الخالق مدنی ۔ حفظہ اللہ۔ نے ویڈیو مذکور میں اختصار کے ساتھ بیان فرمایا ہے۔

  • PDF

    یہ کتاب محرِّفِ قرآن اور منکر حدیث پرویز کے مسئلہ تقدیر کے ضمن میں پیش کیے گئے دلائل کا قرآن وحدیث اور اجماع امت کے حوالے سے جواب دیا گیا ہے اور اس ضمن میں ان اغلاط کی نشاندہی کی گئی ہےجن سے صرف نظر کرنے کے باعث مسئلہ تقدیرکا عملی طور پر انکار کرتے ہوئے لفظ تقدیر کو محض ایک اصطلاح قراردینے کی کوشش کی ہے.

  • video-shot

    MP4

    زیرنظر ویڈیو میں یہ بتا یا گیا ہے کہ یہ دنیا دار الاسباب ہے اسکے دار الاسباب ہونے کا مطلب کہ اللہ نے سارے مسببات کو اسباب کے ساتھ جوڑدیا ہے اگر سبب پایا جائے گا تو مسبب کا وجود ہوگا ورنہ نہیں لیکن کبھی حکمت الہی کے بنا پر سبب کے پائے جانے پر بھی مسبب کا وجود نہیں ہوتا , اور اللہ تعالى ان اسباب کے پیچھے سے اپنی قدرت کی کرشموں کو دکھاتا رہتا ہے گرچہ وہ اس دنیا میں نظرنہیں آتا لیکن یہ منظّم کائنات رب کے وجود پر شاہد ہے .اسی طرح اسبا ب کی دوقسمیں ہیں ظاہری جیسے دولت وقوت وغیرہ 2-باطنی جیسے توکل و ایمان وغیرہ. اسباب ظاہریہ سے زندگی کا بننا ضروری نہیں , ان سے زندگی بنتی ہے اور بگڑ تی بھی لیکن باطنی اسباب سے زندگی بنتی ہے جسکا اللہ نے وعدہ کررکھا ہے.اسی طرح دین بقدر محنت ہے جتنی نیکی کروگے اتنا ہے اجرملے گا اور دنیا بقدر قسمت ہے اتنا ہی ملے گا جتنا اللہ چاہے گا .

فیڈ بیک