علمی زمرے

  • PDF

    سلف کا وصیّتی پیغام نوجوانانِ ملّت کے نام: جوانی انسانی عمر کا سب سے بہترین مرحلہ ہوتا ہےجس میں انسان کے اعضاء ہرطرح سے کام کرتے ہیں، اورفکر وسوچ کافی وسیع ہوتے ہیں، اوراسلام ایک کامل دین ہے جس نےاس مرحلہ کے بارے میں بھی کافی ہدایت ورہنمائی کی ہے،یہی وجہ ہے کہ سلف صالحین وائمہ عظام وغیرھم نےاس مرحلہ کی قدروقیمت جان کر اس میں خوب عبادت اوردیگرعلمی وجائزدنیاوی امور سرانجام دئیے ہیں، زیرمطالعہ کتابچہ میں نوجوانا ن قوم کے نام سلف صالحین کی چند اہم وصیتوں کو جمع کرکے اس پر نہایت مفید علمی تبصرہ کیا گیا ہے۔ اپنے موضوع پر نہایت منفرد پیشکش ہے ضرورمستفید ہوں۔

  • video-shot

    YOUTUBE

    اس ویڈیو میں نوجوانوں کے اخلاقی فساد وبگاڑ،اور ان کی بے راہ روی سے پردہ اٹھا کر،ان کے انتشار کےاسباب کو بیان کیا گیا ہے،اوران اخلاقی بگاڑ سے نجات پانے کا مناسب وشرعی حل پیش کیا گیا ہے۔

  • video-shot

    MP4

    پیش نظر ویڈیو میں شیخ حافظ عبد العظیم عمری مدنی حفظہ اللہ نے نوجوانوں کا مقام ومرتبہ،قوم کی تعمیروترقی میں ان کا کردار،اورموجودہ دورمیں ان کی فکری واخلاقی بے راہ روی کے مظاہرواسباب کا تذکرہ کرکے ان کا شرعی علاج وحل پیش کیا ہے۔

  • video-shot

    MP4

    نوجوانانِ اسلام اور ان کی ذمہ داریاں : صہبا کی تپش بَن کے ایاغوں میں جلو: تم نور بصیرت ہو دماغوں میں جلو ہے روشنی درکار زمانے کو ابھی:روغن کی طرح اپنےچراغوں میں جلو (فضاابن فییضیؒ) نوجوان کسی بھی قوم یا معاشرہ کے اندر ریڑھ کی ھڈی کا درجہ رکھتے ہیں، اگران کی اصلاح ہوجائے تو بڑے سے بڑے انقلاب آسکتے ہیں، لیکن اگرنوجوان بگڑجائیں تو معاشرے میں انارکی وفساد عام ہوجائے گا۔ اسی کے پیش نظر ویڈیو مذکور میں شیخ عبد المجید بن عبد الوہاب مدنی-حفظہ اللہ-نے فرد ، معاشرہ ، وطن اور دین کے تئیں نوجوانان اسلام کو اپنی ذمہ داریوں کا احساس دلانے کی شاندار کوشش کی ہےـ تمام زمرہ جات، فقہ، خاندان، نوجوانوں کے مسائل،اصلاح معاشرہ.

  • PDF

    موسيقى لگانے والے نائى كى دوكان پر جانے كا حكم كيا ہے، يہ علم ميں رہے كہ ميں دل ميں اللہ كا ذكر كرتا رہا ہوں، اور ميرے قريب كوئى ايسى باربر شاپ نہيں جو موسيقى نہ لگاتے ہوں، كچھ ايسے ہيں ليكن وہ حجامت صحيح نہيں بناتے ؟

  • PDF

    ہمارے ملك ميں شادى بياہ كى تقريبات موسقيى و گانے اور رقص و سرور پر مشتمل ہوتى ہيں، كيا اگر ميں شادى ميں تقريب ميں جا كر گانے كى مجلس سے دور بيٹھوں خاص كر اپنے اور سسرالى خاندان كى شادى تقريب ميں جاؤں تو كيا گنہگار ٹھرونگى، ميں وہاں نہ جانے اور كھانے وغيرہ مباح امور ميں شركت نہ كرنے كى استطاعت نہيں ركھتى ؟

  • PDF

    ميں ايك ايسے شخص سے شادى شدہ ہوں جو مجھ سے محبت نہيں كرتا، اور نہ ہى ميرے اخراجات برداشت كرتا ہے اور ميرے ساتھ معاملات بھى صحيح نہيں كرتا، اور سنت پر ميرا عمل كرنا بھى اسے برا لگتا ہے، اور مجھے ملازمت كرنے پر مجبور كرتا ہے، ميں اس سے خلع لينا چاہتى ہوں، ليكن ميرے والدين انكار كرتے ہيں، اس سلسلہ ميں شريعت كى رائے كيا ہے ؟

  • PDF

    ميرى والدہ ميرى بيوى كو بغير ناحق تنگ كرتى ہے حتى كہ بيوى كے خاندان والوں كو بھى برا كہتى ہے، اور بيوى اور اس كے خاندان والوں پر ناحق غلط قسم كے الزامات لگاتى رہتى ہے، اس كے نتيجہ ميرى بيوى اپنى ساس سے قطع تعلق كرنے لگى ہے. يہ علم ميں رہے كہ ميں والدہ كو ملتا رہتا اور ٹيلى فون پر بھى ان كى خيريت دريافت كرتا رہتا ہوں، ميرى والدہ كو ميرى بيوى كى جانب سے قطع تعلقى كى توقع نہ تھى ليكن جب بيوى نے ايسا كيا تو والدہ اس كا الزام مجھ پر لگانے لگى كہ ميں نے ہى بيوى كو ايسا كرنے كى اجازت دى ہے، والدہ كہتى ہے كہ جب تك ميرى بيوى كے اس سے تعلقات صحيح نہيں ہوتے تو وہ مجھ سے قيامت تك راضى نہيں ہوگى، ميں بيوى پر سختى نہيں كرنا چاہتا بلكہ اسے اختيار ديا ہے كہ وہ رابطہ ركھے يا نہ ركھے، اب تو والدہ مجھے ناحق بد دعائيں دينے لگى ہيں. ميرا سوال يہ ہے كہ: كيا ميرى بيوى كا اپنى ساس سے قطع تلقى كرنے ميں كوئى محروميت ہے يا پھر ايسا كرنے كا حكم كيا ہے ؟ دوسرا سوال يہ ہے كہ: كيا والدہ كو حق ہے كہ وہ مجھ پر راضى ہونے كے ليے اپنے ساتھ ميرى بيوى كے تعلقات بحال كرنے اور ملنے كى شرط ركھے، حالانكہ ميں نماز ميں والدہ كے ليے دعا مانگتا رہتا ہوں، اور والدہ كى جانب سے صدقہ بھى كرتا ہوں ؟ تيسرا سوال يہ ہے كہ: اگر ميرى بيوى قطع تعلقى پر مصر رہے تو كيا والدہ كى ناراضگى كا گناہ مجھ پر ہوگا يا نہيں ؟ برائے مہربانى معلومات فراہم كر كے عند اللہ ماجور ہوں.

  • PDF

    ميرا بہترين مشغلہ رومانٹك ڈائجسٹ اور ناول پڑھنا ہے، جن ميں بعض اوقات ہيرو اور ہيروئن كے جنسى تعلقات اور مشاہد كو تفصيلا بيان كيا گيا ہوتا ہے، يہ علم ميں رہے كہ ميں نماز بھى ادا كرتى ہوں، اور پردہ بھى كرتى ہوں، اور بہت زيادہ اللہ كا تقوى اور ڈر بھى ركھتى ہوں، اور ميرا كسى بھى نوجوان سے كوئى تعلق نہيں ہے، ليكن ميں ايك رومانسى لڑكى ہوں، اور موسيقى سننا، ار رومانٹك افلام ديكھنا پسند كرتى ہوں، ليكن مجھے جو چيز پريشان كرتى ہے وہ يہ ناول ہى ہيں.

  • PDF

    مجھے دو بار طلاق ہو چكى ہے: پہلى بار اس ليے طلاق ہوئى كہ ميں نے خاوند سے مطالبہ كيا تھا كہ وہ ميرے اور بچوں كے ليے مہينہ ميں ايك دن مقرر كر دے جس ميں وہ ہمارے ساتھ بيٹھے اور وہاں اپنے گھر والوں كى ياد نہ كرے. دوسرى بار طلاق اس ليے ہوئى كہ خاوند دوسرى عورت سے محبت كرتا تھا اور ميرے ساتھ بچوں كے سامنے توہين آميز رويہ اختيار كرتا، اور اسے مجھ پر فوقيت ديتا اور ميرے اور ميرے بچوں كے احساس كا خيال تك نہ كرتا تھا، اور وہ اس سے شادى كيے بغير ميرے سامنے ٹيلى فون پر محبت كى باتيں كرتا رہتا. اب وہ سفر پر گيا ہوا ہے اور مجھے ميرے بچوں كے ساتھ اكيلا چھوڑ گيا ہے، ميرا اس سے تعلق صرف يہى ہے كہ وہ اپنے گھر والوں كے ذريعہ كچھ خرچ بھيج ديتا ہے. مجھے يہ بتائيں كہ اگر مجھے طلاق ہو جائے تو اللہ مجھے اللہ اس كا نعم البدل ديگا، اور مجھے اپنے فضل سے غنى كر ديگا اور ميں جو ظلم ديكھ رہى ہوں مجھے اس كے عوض ميں بہتر بدلہ دےگا يا كہ يہ اللہ كى قضاء و قدر پر عدم رضا ہو گى ؟ اور كيا مجھے يہ حق حاصل ہے كہ ميرا ايسا خاوند ہو جس كے ساتھ محبت و پيار اور سكون سے رہوں، يا كہ ميں اور ميرے بچے صرف ماہانہ اخراجات پر ذلت كى زندگى پر راضى رہيں جو ہر ماہ خاوند كے گھر والوں كے ذريعہ بھيج ديتا ہے جس سے ميرى اور بھى زيادہ تذليل ہوتى ہے ؟ اور كيا ميں صبر و شكر كرنے والى شمار ہوتى ہوں يا كہ كمزور كيونكہ ميں طلاق كے خوف كى بنا پر گيارہ برس سے اس زندگى پر راضى ہوں ؟

  • PDF

    ميں شادى شدہ ہوں شادى كے وقت ميں رہائش اور گھريلو ساز و سامان اور دلہن كو ديا جانے والے سونے سے دستبردار ہو گئى تھى كيونكہ ميرا خاوند باہر كے ملك ميں ملازمت كرتا تھا، چنانچہ عفت اختيار كرتے ہوئے شادى كى موافقت كر لى كہ ميں خاوند كے ساتھ باہر كے ملك جانے كے معاملات حل ہونے تك سسرال والوں كے ساتھ رہونگى. ليكن كچھ ہى عرصہ قبل جب ميں نے خاوند سے تنخواہ كے بارہ ميں دريافت كيا تو حيران رہ گئى كہ وہ تو اپنے امير ترين شادى شدہ بھائى كا تعاون كرتا ہے، اور اسى طرح وہ اپنے سارے خاندان كى معاونت كرتا ہے، حالانكہ ہميں اپنا مكان بنانے كے ليے مال كى زيادہ ضرورت ہے. جب ميں نے ايسا كرنے كى مخالفت كى تو خاوند نے ايسے معاملہ ميں دخل دينے كا الزام لگايا جو ميرے ساتھ خاص نہيں، اور كہنے لگا كہ اسے اپنے گھر والوں كے ليے خير و بھلائى كرنى چاہيے، اس كے ليے رہائش اور سونا مہيا كرنا لازم ہے، اس كے بعد مجھے خاوند كے مخصوص معاملات ميں دخل دينے كا كوئى حق نہيں. ميرا سوال يہ ہے كہ اس مسئلہ ميں ميرا خاوند كى مخالفت كرنا غلطى تو نہيں، كيا اس سے اللہ تعالى ناراض تو نہيں ہوگا ؟ ميرا خاوند مجھ سے دور ہو اور ميں اس كى جدائى برداشت كرتى پھروں اور ميں اس كى ممد و معاون بنوں، اور اپنے ميكے سے دور رہوں، ليكن اس عرصہ ميں اس كا بھائى ميرے خاوند كے مال سے فائدہ حاصل كرتا پھرے، حالانكہ خاوند كا بھائى اچھا خاصہ امير اور دولتمند بھى ہے، كيا ميرا خاوند اس مال كا زيادہ حقدار نہيں ہے ؟ اور اگر خاوند كى ضروريات سے مال زيادہ ہے تو اسے اپنے فائدہ كے ليے جمع كرنا چاہيے تھا تا كہ بعد ميں بوقت ضرورت استعمال كر سكے، يا پھر كسى مستحق اور فقير شخص پر صدقہ كر دے، ميرا سوال يہ ہے كہ آيا ميرا خاوند صحيح كر رہا ہے يا نہيں ؟ خاوند اپنے خاندان والوں كى محبت كے ليے مال صرف كرتا ہے، ميرے خيال ميں خاوند مجھ پر ظلم كر رہا ہے، اگر ميرے خاوند كے پاس مال زيادہ ہے تو فقير شخص اس كا زيادہ محتاج ہے، يا پھر ميں، آپ ہم دونوں ميں سے كسے صحيح خيال كرتے ہيں، اور اگر ميرا خاوند صحيح ہے تو آپ مجھے كيا نصحيت كريں گے تا كہ ہم آپس ميں ايك دوسرے كو معاف و درگزر كر ديں، اور ميں بھى اس كے اجروثواب ميں شريك ہو سكوں، اور اگر ميں صحيح ہوں تو آپ كيا كہتے ہيں ؟ اللہ تعالى آپ كو جزائے خير عطا فرمائے.

  • PDF

    اس دور ميں شادى بياہ كى تقريبات بعض برائى اور منكرات كے ارتكاب سے خالى نہيں ہوتيں مثلا ان ميں گانا بجانا اور موسيقى و رقص اور بےپردگى اور شارٹ لباس ضرور ہوتا ہے ميرا بہت اہم سوال ہے: 1 ـ كيا اس طرح كى تقريب ميں شركت كى دعوت قبول كرنى جائز ہے ؟ 2 ـ اگرچہ ان تقريبات ميں ننانوے فيصد تقريبات گانے بجانے سے خالى نہيں ہوتيں خاص كر ان ميں حرام موسيقى يا فحش كلمات ضرور پائے جاتے ہيں، تو كيا اس كا معنى يہ ہے كہ اس طرح كى تقريبات ميں بالكل شريك نہ ہوا جائے ؟ 3 ـ اگر ہم اس طرح كى تقريبات ميں شامل نہ ہوں تو كيا يہ قطع رحمى ميں شامل ہوگا اور لوگوں كے درميان عداوت و بغض كا باعث تو نہيں بنےگا ؟ 4 ـ اس طرح كى تقريبات ميں شركت كے ليے علماء شرط لگاتے ہيں كہ وہاں اس برائى سے روكا جائے، ليكن اس روكنے والے كى بات كو كہاں تسليم كيا جاتا ہے، اور اصل ميں اس طرح كے اوقات جسے وہ خوشى و سرور كے اوقات سمجھتے ہيں روكنے كى فرصت كہاں ہوتى ہے ؟ برائے مہربانى مولانا صاحب اگر آپ كے پاس وقت ہے تو اس سلسلہ ميں وافى و شافى معلومات فراہم كريں كيونكہ ہمارے دور ميں يہ مسئلہ بہت پھيل چكا ہے ؟

  • PDF

    میری کچھ سہیلیاں ہیں جن کے ساتھ میری معرفت وتعلق بہت پختہ ہے ، لیکن وہ بے پرد ہیں ، اورمیں دوستی کے حکم میں ان کے ساتھ بہت زیادہ رہتی ہوں ،اوروہ بھی میرے ساتھ اپنی ان باتوں کوکرنے پرترجیح دیتی ہیں جواجتماعی نہیں ہوسکتیں ۔ اوروہ اپنا وقت گھومنے پھرنے اورسمندرپرجانے میں ضائع کرتی ہیں اوران کے پاس اللہ اوررسول صلی اللہ علیہ وسلم کے لیے کو‏ئ وقت نہیں اس کےلیے وہ صرف اتنا وقت دیتی ہیں جوقابل ذکرنہیں ، اورجب میں انہیں اللہ اوررسول صلی اللہ علیہ وسلم کے فرامین سناتی ہوں تووہ مجھے عالمہ اورسردارنی کا نام دیتی ہیں جس کی بنا پرمیرا ان سے بات کرنے کودل نہیں کرتا ، توکیا میں اس معاملہ میں غلطی پرہوں ؟ اوروہ کون سا طریقہ ہے جس سے میں انہیں صحیح اورسلیم راہ پرلانےمیں ان کا مساعدہ اورتعاون کرسکوں آپ کےعلم میں ہونا چاہیے کہ میں انہیں چھوڑ نہیں سکتی ؟

  • PDF

    632 میلادی میں نبی صلی اللہ علیہ وسلم اپنے مستقرمدینہ میں کیسے اورکس حد تک معاشرہ کی اصلاح کرنےاوراس کی تعمیرمیں کامیاب ہوۓ ؟

  • PDF

    بچوں كے پاركوں ميں جانے كا حكم كيا ہے؛ كيونہ وہاں اكثر كھيلنے والى اشياء جانوروں كى شكل ( گھوڑا، بندر ) ميں ہوتے ہيں. اور بعض كھيلوں پر بھى جانوروں كے مجسمے ہوتے ہيں تو كيا يہ شرعى طور پر حرام مجسموں ميں شمار ہونگے تو اس كے نتيجہ ميں ان كھيلوں كے پارك ميں جانا جائز نہيں ہوگا ؟

  • PDF

    سپيس ٹون ( Spease toon ) چينل پر پيش كى جانے والى كارٹوں فلميں ديكھنے كا حكم كيا ہے، مثلا فلم كيپٹن ماجد اور ٹوم اينڈ جيرى، چاہے وہ بچوں كے ليے ہو يا بڑوں كے ليے ؟ اللہ تعالى آپ كو جزائے خير عطا فرمائے.

  • PDF

    ہمارى مساجد ميں ( ماہ رمضان ميں ميلاد النبى صلى اللہ عليہ وسلم كى ياد ميں ... ) دينى تقريبات كے موقع پر انعامى مقابلہ كا اہتمام كيا جاتا ہے، تو كيا يہ انعام لينے جائز ہيں ؟

  • video-shot

    MP4

    ویڈیو مذکورمیں فاضل خطیب نے اتحاد واتفاق کی اہمیت وضرورت کو اجاگرکرکے فرقہ بندی واختلاف سے بچنے کی تاکید کی ہے.

  • PDF

    بے شک گانا بجانا اور قوالی کا سننا حرام ہے اور دل میں نفاق وذکرالہی سے دوری کا سبب ہے اسی لئے شریعت نے اسے حرام قراردیا ہے اور نبی صلى اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:\” میرى امت میں سے ایسے لوگ ضرور پیدا ہونگے جو شرمگاہ [زنا] ’ ریشم ’ شراب اور گانا وموسیقی کو حلال کرلیں گے\”- کتاب مذکور میں اسی سے متعلق کتاب وسنت کی روشنی میں تفصیلی گفتگو کی گئی ہے. نہایت ہی مفید کتاب ہے ضرور مطالعہ کریں اللہ سے دعا ہے کہ ہم سب کو اس مرض سے محفوظ رکھے آمین.

  • video-shot

    MP4

    ویڈیو مذکور میں سوال وجواب کے طور پر غیرمسلم معاشرے میں مسلمانوں کے کردارکو کتاب وسنت کی روشنی میں نہایت ہی عمدہ اسلوب میں پیش کیا گیا ہے.ضرورمشاہدہ فرمائیں.

صفحہ : 4 - سے : 1
فیڈ بیک