علمی زمرے

  • PDF

    زیرمطالعہ کتاب میں کتاب وسنت کی روشنی میں دین اسلام پر ثابت قدمی کے اہم وسائل وذرائع کو بیان کیا گیا ہے تاکہ شبہات وشہوات کے فتنے میں مبتلا انسان ان وسائل کو اپنا کردین اسلام پر ثابت قدم رہ سکے۔

  • MP3

    اس خطاب میں توبہ كا معنی ، اس كی فضیلت اور اس كی شرطوں پر روشنی ڈالی گئی ہے

  • PDF

    سوال: اگر میں شرابی ہوں ،پھر بھی میں نیت کر لوں کہ 9 اور 10 محرّم کے روزے رکھوں گا تو کیا مجھے ان روزوں کا ثواب ملے گا ،اور اگر ملے گا تو کیا میرے سابقہ اور آئندہ سال کے گناہ معاف ہو جائیں گے ؟

  • PDF

    سوال:کیا حج اور توبہ کرنے سے حقوق اللہ، حقوق العباد اور مقتول کے حقوق ساقط ہو جاتے ہیں؟

  • PDF

    زیر تبصرہ کتاب’’حضرت ابراہیم علیہ السلام کی قربانی کا قصہ، تفسیر ودروس‘‘ پروفیسر فضل الٰہی ظہیر حفظہ اللہ کی تصنیف ہے۔ یہ کتاب سیدنا ابراہیم علیہ السلام کی واقعہ قربانی پر مشتمل تفصیلی کتاب ہے۔ پروفیسر صاحب نےاس قصہ کوسمجھنے سمجھانے اوراس میں موجود دروس اور عبرتوں سے فیض یاب ہونے اور دوسروں کوفیض کرنے کےلیے اس کتا ب کومرتب کیا ہے۔ انہوں نے اس قصہ سےمتعلقہ آیات کی تفسیر اوران سے اخذ کردہ دروس اور عبرتوں کے تحریر کرنے میں معتمد تفسیروں سے استفادہ کیا ہے۔ اور ضعیف احادیث اوراسرائیلی روایات سے کلی طور پر اجنتاب کیا ہے کیوں کہ ثابت شدہ تھوڑی معلومات غیر ثابت شدہ زیادہ معلومات سے کہیں بہترہیں۔ مصنف موصوف نے قصہ سے متعلقہ آیات پندرہ حصوں میں تقسیم کی کیں ہیں اور ہر حصے میں اس کی تفسیر اوراخذ کردہ دروس بیان کیے گئے ہیں۔ بیان کردہ دروس کی مجموعی تعداد بتیس ہے۔ اپنے موضوع پر یہ کتاب انتہائی جامع اور مستند ہے۔ اللہ تعالیٰ پروفیسر صاحب کی تمام دعوتی وتبلیغی اور تحقیقی وتصنیفی خدمات قبول فرمائے۔(آمین)

  • PDF

    سوال: میں ایک مزدور آدمی ہوں ، کسبِ معاش کےلیے اکثر میں سفر پر رہتاہوں،اورسفر میں فرض نمازوں کو ہمیشہ جمع کرکے پڑھتا ہوں،اورماہ رمضان میں روزے کو توڑدیتا ہوں، توکیا میرا ایسا کرنا صحیح ہے ؟

  • توبہ اردو

    PDF

    اس مختصررسالہ میں ایک ایسے شخص کی داستان کا تذکرہ ہے جو باربارفلم کا مشاہدہ کرتا اورپھراستغفاروتوبہ کرتا لیکن اس کا ساتھی اس کے توبہ کوتسلیم نہیں کرتا اوربارباراسے ٹوکتا یہاں تک کہ وہ دونوں اس توبہ کی حقیقت کودریافت کرنے ایک عالم دین کے پاس تشریف لے جاتے ہیں تو وہ اسے توبہ کا صحیح مفہوم،اس کی حقیقت اورشروط کو بتلاتے ہیں وہ یہ کہ آدمی گناہ سے باز آجائے،اس کے سرزد ہونے پرندامت کا اظہارکرے، اوریہ عزم کرے کہ آئندہ کبھی بھی اس گناہ کا ارتکاب نہیں کرے گا،اگران میں سے کوئی ایک شرط بھی پوری نہ کی توتوبہ صحیح نہ ہوگی۔ اوراگرگناہ کا تعلّق کسی آدمی کے حق سے ہوتو پھرایک چوتھی شرط بھی ہے اوروہ یہ کہ حق دارکے حق سے بری ہوجائے،اگروہ حق مال وغیرہ کی صورت میں ہو تو اسے ادا کردے،حدَّقذف ہوتو اس حد کو اپنے اوپرجاری کروائے،یا اس سے معافی طلب کرے،اوراگرغیبت وغیرہ ہو تو اسے معاف کروالے، بشرطیکہ صاحب حق کو بتانے کے نتیجے میں اس سے کسی بڑی خرابی کے رونما ہونے کا اندیشہ نہ ہو۔ یاد رہے کہ تمام گناہوں سے توبہ کرنا واجب ہے اوراگر کچھ گناہوں سے توبہ کرلی اور کچھ سے توبہ نہ کی تو جن گناہوں سے توبہ کرلی،ان سے توبہ صحیح ہے،باقی گناہ اس کے ذمے رہیں گے۔ اس حقیقت کو سن کرگنہگارشخص بہت نادم ہوا اوراس کی آنکھوں سے آنسوجاری ہوگئے اورتوبہ کی حقیقت کا اسے صحیح اندازہ ہوگیا۔

  • PDF

    دُنیا اور آخرت کی حقیقت کتاب وسنّت کی روشنی میں: دنیا کی زندگی ایک کھیل کود سے زیادہ کی حیثیت نہیں رکھتی۔مسند احمد میں روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نےفرمایا :”دنیا سے میرا بھلا کیا ناطہ! میری اور دنیا کی مثال تو بس ایسی ہے جیسے کوئی مسافر کسی درخت کی سایہ میں گرمیوں کی کوئی دوپہر گزارنے بیٹھ جائے ۔ وہ کوئی پل آرام کر ے گا تو پھر اٹھ کر چل دے گا“ترمذی میں سہل بن عبداللہ کی روایت میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم فرماتے ہیں : ”یہ دنیا اللہ کی نگاہ میں مچھر کے پر برابر بھی وزن رکھتی تو کافرکوا س دنیا سے وہ پانی کا ایک گھونٹ بھی نصیب نہ ہونے دیتا“صحیح مسلم میں مستورد بن شداد کی روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”دنیا آخرت کے مقابلے میں بس اتنی ہے جتنا کوئی شخص بھرے سمندر میں انگلی ڈال کر دیکھے کہ اس کی انگلی نے سمندر میں کیا کمی کی “ تب آپ نے اپنی انگشت شہادت کی جانب اشارہ کیا ۔ “زیر تبصرہ کتاب"دنیا اور آخرت کی حقیقت قرآن وسنت کی روشنی میں "محترم مولانا ابو حمزہ عبد الخالق صدیقی صاحب کی تصنیف لطيف ہے، جس میں انہوں نے قرآن وسنت کی روشنی میں دنیا وآخرت کی حقیقت کو بیان کیا ہے۔اللہ تعالی سے دعا ہے کہ مولف موصوف کی اس کاوش کو اپنی بارگاہ میں قبول فرمائے اور ان کے میزان حسنات میں اضافہ فرمائے، اور تمام مسلمانوں کو دنیا کی حقیقت کو سمجھ کر آخرت کی تیاری کرنے کی توفیق عطا فرمائے۔آمین (راسخ) ناشر:انصار السنہ پبلیکیشنز، لاہور

  • PDF

    دل سے دل تک : حق کے متلاشی،صراطِ مستقیم کےجویا،بھلائی کے خواہشمند،راہِ جنّت کے طلبگار اور اہل بیت رضی اللہ عنہم سے سچی محبت کرنے والے کے نام ڈاکٹر عثمان الخمیس حفظہ اللہ کا گرانقدرعلمی تحفہ’’دل سے دل تک‘‘۔ان شاء اللہ اس کتاب کا مطالعہ قرآن کریم،امامت ،خانہ کعبہ،صحابہ کرام،ازواج مطہّرات اورشہادت حسین رضی اللہ عنہم اجمعین وغیرہ کے تعلق سے پائی جانے والی شکوک وشبہات اورغلط اعتقادات کے ازالہ میں کافی معاون ثابت ہوگا۔

  • PDF

    اس کتاب میں فاضل مولف حافظ جلال الدین قاسمی حفظہ اللہ نے گناہوں کی مغفرت کے دس اسباب کو قلمبند کیا ہے ۔تقدیم:یوسف جمیل جامعی، تخریج وتحقیق: مولانا ارشد کمال، تعلیق ونظرثانی:ڈاکٹرحافظ محمد شہبازحسن

  • video-shot

    PDF

    کون ہوگا کامیاب یا ناکام؟: اس پمفلٹ میں قیامت کے روز کامیاب وناکام ہونے والے شخص کا بیان ہے۔

  • video-shot

    MP4

    زیر نظر ویڈیو میں شیخ حافظ عبد العظیم عمری مدنی حفظہ اللہ نے تقوی کا مفہوم ، تقوی کی معرفت، تقوی کے ثمرات وفوائد، تقاضے اور شیطانی مداخل(شبہات،شہوات) اور اس سے نجات کے ذرائع کے بارے میں نہایت مدلل اور وقیع خطاب پیش فرمایا ہے۔ ضرور مشاہدہ فرمائیں۔

  • video-shot

    MP4

    دنیا کی لذتوں کو ختم کردینے والی موت کا تذکرہ ، آخرت کی یاددھانی، دنیا کی رنگینیوں سے دل نہ لگانے کی نصیحت، توشہ آخرت تیار کرنے کی وصیت (پیشکش:حافظ عبد العظیم عمری مدنی)

  • video-shot

    MP4

    تزکیہ نفس: موجودہ دور میں خال خال ہی لوگ باطن کی صفائی و اصلاح کی طرف توجہ دیتے ہیں جبکہ دل کی صفائی سے خود انسان کی شخصیت پر اور انسانی معاشرہ وسماج پر اچھے اثرات مرتب ہوتے ہیں، اور دل کی فساد وبگاڑ اور اسکی ناپاکی سے خود انسان کی ذات پر اور معاشرے پر بھی اسکے برے اثرات مرتب ہوتے ہیں۔ اسی مقصد کو پیش نظر رکھتے ہوئے شیخ عبد المجید بن عبد الوہاب مدنی -حفظه الله- نے تزکیہ نفس کا معنی مفہوم ، تزکیہ نفس کی شرعی حیثیت، تزکیہ نفس کی ضرورت واہمیت ، تزکیہ نفس کے اصول وضوابط ، تزکیہ نفس کے تعلق سے نبوی منہج ، اسکے طریقہ کار اور اسکے نتائج واثرات کے سلسلے میں قرآن وسنت صحیحہ کی روشنی میں نہایت ہی موثر و وقیع خطاب فرمایا ہے ۔ نہایت ہی مفید ویڈیو ہے ضرور مشاہدہ فرمائیں۔

  • PDF

    ميں نوجوان ہوں اور تين برس قبل ميں نے اپنے سے ايك برس چھوٹى بيوى سے شادى كى، الحمد للہ ميرى اس سے دو برس كى بيٹى بھى ہے، مشكل يہ ہے كہ ہمارے درميان ابھى تك سمجھوتہ نہيں ہے، ہمارا ہميشہ آپس ميں تصادم ہى رہتا ہے كيونكہ وہ بہت غصہ والى ہے، اور اكثر اسے كوئى چيز پسند نہيں آتى اور پھر وہ بہت زيادہ شكوى شكايت كرنے والى بھى ہے، اور ميرے گھر والوں كے ساتھ سمجھوتہ نہيں كرتى. اس پر مستزاد يہ كہ مجھے اس كے ماضى ميں شك ہے وہ شادى سے قبل يونيورسٹى ميں تعليم حاصل كرنے كے عرصہ ميں سگرٹ نوشى كرتى اور نائٹ كلب جانے والوں ميں شامل تھى، اس نے شادى سے قبل ميرے سامنے اس كا اعتراف بھى كيا تھا، اور يقين كے ساتھ كہنے لگى كہ ان امور سے تجاوز نہيں ہوا. ليكن ايك برس قبل اچانك مجھے اس كے ذاتى كاغذات ميں سے ايك ميڈيكل سرٹيفكيٹ ملا ( اس كى تاريخ شادى سے ايك برس قبل كى ہے ) جس ميں اسے كنوارہ ثابت كيا گيا ہے، ميں نے اسے اس كے بارہ ميں دريافت كيا اور اس سے اس سرٹيفكيٹ حاصل كرنے كى وجہ دريافت كى كہ اگر وہ اپنے كنوارہ ہونے ميں شك نہيں ركھتى تھى تو پھر وہ ڈاكٹر سے يہ رپورٹ لينے كيوں گئى ؟ اس نے جواب ديا: كہ اس كى كچھ سہيلوں نے يہ كہا كہ ايسا كرنا روٹين كى بات ہے جو لڑكى اس ليے كرتى ہے كہ كہيں رخصتى كى رات كچھ خاوند حضرات مشكل كھڑى كر ديتے ہيں اس سے بچنے كے ليے ايسا كيا جاتا ہے، ليكن ميں مطمئن نہ ہوا، حالانكہ مجھے اس كے كنوارہ ہونے كا يقين تھا ليكن اس كے باوجود ميں شك ميں پڑا رہا. آپس ميں مشكلات كى كثرت اور سمجھوتے ميں صعوبت ہونے كے ساتھ ساتھ شك كى بنا پر ميں حقيقى طور پر اسے طلاق دينے كے بارہ ميں سوچنے لگا تا كہ فتنہ و خرابى سے اجتناب كر سكوں اور اپنے اور اس پر رحم كروں. ميرا سوال يہ ہے كہ: كيا ہر حال ميں طلاق حرام ہے يا حلال، اور اگر اس حالت ميں طلاق ديتا ہوں تو كيا گنہگار شمار كيا جاؤنگا ؟ برائے مہربانى شافى جواب سے نوازيں، اور آپ كے وسعت صدر سے سوال قبول كرنے پر آپ كا شكريہ.

  • PDF

    برائے مہربانى ميرا ليٹر پڑھ كر جتنى جلدى ہو سكے اس كا جواب ارسال كريں؛ كيونكہ ميں فتوى كى ويب سائٹس تلاش كر كے اور ليٹر ارسال كر كے جواب كا انتظار كر كے تھك چكا ہوں، جس ويب سائٹ پر بھى ليٹر ارسال كيا اس نے جواب نہيں ديا، تو ان ويب سائٹس كے بارہ ميں ميرا نظريہ تبديل ہوگيا. اور جب ميں نے آپ كى اس ويب سائٹ پر كچھ فتوى جات كا مطالعہ كيا تو مجھے بہت راحت ملى اور ميں روزانہ ہى آپ كے فتاوى جات پڑھنے لگا، كيونكہ يہ ميرے ليے راحت كا باعث ہيں، ميں نے اپنے كچھ سوالات كے واضح اور شافى جوابات پائے. برائے مہربانى ميرے سارے سوالات كا حل پيش كريں كيونكہ مجھے يہ سوال سونے بھى نہيں ديتے مجھے شافى جواب كى بہت زيادہ ضرورت ہے؛ كيونكہ ميں بہت تھك چكا ہوں اور بہت زيادہ پريشان ہوں ذہن منتشر ہے اور مجھے خدشہ ہے كہيں ميں وہى غلطى نہ كر بيٹھوں جس سے دور بھاگتا ہوں. ميرا قصہ يہ ہے كہ: ميں اپنے كى بجائے كسى دوسرے ملك ميں زير تعليم تھا اور آپ جانتے ہيں كہ يورپى معاشرہ كيسا ہے ميں قصہ لمبا نہيں كرنا چاہتا: ميں نے شراب نوشى اور زنا جيسے فحش كام بھى كيے، اور رمضان المبارك ميں روزے بھى نہ ركھتا، بلكہ رمضان المبارك ميں زنا بھى كرتا رہا، ميرے غلطياں و كوتاہياں تو بہت ہيں. اس اللہ كا شكر ہے جس نے مجھے ہدايت سے نوزا اور ميں نے توبہ كر لى اور مجھے اللہ نے ايك نئى زندگى كى توفيق دى اور مجھے اندھيروں سے نور كى طرف لےآيا، ميں نے رمضان المبارك ميں توبہ كى تھى، ميرے ساتھ ايك عيسائى لڑكى رہتى تھى، جب اس لڑكى نے مجھے توبہ كر كے قرآن مجيد كى تلاوت كرتے اور نماز روزہ كى پابندى كرتے ہوئے ديكھا تو يہ لڑكى اسلام كے قريب ہونے لگى، اور دس رمضان المبارك كے روز يہ لڑكى بھى مسلمان ہوگئى، اور شرعى لباس زيب تن كر كے پردہ كرنا شروع كر ديا، اور قرآن مجيد كى تعليم حاصل كرنے لگى، اور فرض نمازيں اور سنتوں كے ساتھ ساتھ روزے بھى ركھنا شروع كر ديے، اور سيرت نبويہ كا مطالعہ كر كے بہت سارے اسلامى درس بھى سننے لگى. جس دن اس نے اسلام كا اعلان كيا ميں نے اس سے شادى كر لى، اور ہم اپنى زندگى كے بہترين ايام بسر كر رہے تھے كہ ايك دن ميں نے كڑوى حقيقت جانى جس نے ميرى زندگى كو ہى تبديل كر ديا، اور ميں ہر وقت پريشان و غمزدہ رہنا لگا، ميں نے اس لڑكى كى تاريخ معلوم كر لى، اس كا ماضى بالكل ايك اجنبى ( آزاد اور خائن ) لڑكى جيسا تھا، مجھے معلوم ہوا كہ اس نے مجھ سے كئى ايك بار خيانت كى ہے، ليكن اس نے يہ خيانت اسلام قبول كرنے اور ميرى اس كے ساتھ شادى كرنے سے قبل كى تھى، ليكن اس ليے كہ وہ ميرى بيوى بن چكى ہے اور پھر ميں عربى النسل ہوں ميں ماضى نہيں بھول سكتا، ميں نے اپنے دين اور اپنے پرودگار كى بھى خيانت كى اور اسلام سے دور رہا ميں پيدائشى مسلمان ہوں، وہ اسلام كے بارہ ميں كچھ نہيں جانتى تھى، ليكن ميں اسلام كے بارہ ميں بہت كچھ جانتا تھا وہ مجھ سے بہت بہتر ہے كيا واقعتا ايسا ہى نہيں ؟ اسلام اپنے سے قبل ہر گناہ كو ختم كر ديتا ہے، اور توبہ كرنے والا بھى ايسا ہى ہے جيسے كسى كے پہلے كوئى گناہ نہ ہو ميں اس كى قدر و احترام كرتا ہوں كيونكہ اس نے يقين كے ساتھ اسلام قبول كيا ہے، وہ بہت روتى رہتى ہے، خاص كر جب قرآن مجيد كى تلاوت كرے، اور احاديث نبويہ كا مطالعہ كرتے وقت بھى، اس نے بھى غلطياں كى تھيں، ليكن اسے اسلام كا علم نہ تھا اور ميں نے غلطياں اور گناہ كيے اور مجھے علم تھا كہ زنا گناہ كبيرہ ہے، اور اللہ سبحانہ و تعالى شديد العقاب ہے، ليكن انسان خطا كار ہے، اور اس كى سوچ محدود ہے. مجھے جو تنگى محسوس ہوتى ہے وہ يہ كہ جب مجھے ماضى كا علم ہوا تو ميں بہت شديد غصہ ميں آ گيا اور ناراض ہوا، اور اسے ايك بار طلاق بھى دے دى، اور دو روز كے بعد ميں پھر غصہ ميں ہوا اور اسے زدكوب بھى كيا اور بہت زيادہ ناراض ہوا، اور اسے دوبارہ طلاق دے دى، ہمارے درميان مشكلات بڑھ گئيں، اور ميرا غصہ زيادہ ہونے لگا، جب ميں غصہ ميں ہوتا ہوں تو پاگل كى طرح ہو جاتا ہوں، نہ تو كچھ سوچتا ہوں، اور نہ ہى سمجھ ہوتى ہے كہ زبان سے كيا نكال رہا ہوں، زبان سے جو كچھ نكلتا ہے وہ نكلتا ہى جاتا ہے مجھے كچھ علم نہيں ہوتا. ميں نے دونوں بار سوال اور استفسار كے بعد اس سے رجوع كر ليا، كچھ ايام ہى گزرے كہ ہمارے درميان پھر جھگڑا ہوا اور ميں نے اسے زدكوب كيا، اس نے ميرى توہين كى تھى ليكن شروع ميں كرنے والا تھا، ميں نے اسے تيسرى بار طلاق دے دى اور جتنى بار بھى طلاق ہوئى ميں نادم ہوتا اور روتا اور اس پر شفقت كرتا كيونكہ يہ لڑكى اسلام قبول كرنے كے بعد بہت ہى نيك و صالح بن گئى ہے، مجھے اس كے ضائع ہونے كا خدشہ رہتا ہے، ليكن غصے اور شيطان نے مجھے غلطياں كرنے پر مجبور كر ديا ہے، تيسرى بار طلاق دينے كے بعد ميں نے دو ركعت نماز ادا كى اور اللہ كے سامنے رويا بھى، اور اللہ سے دعا كى كہ اگر طلاق واقع ہو گئى ہے تو مجھے فورى طور پر اس سے دور كر دے اور اگر طلاق نہيں ہوئى تو پھر جتنى جلدى ہو سكے ميں اس سے رجوع كر لوں، اور يہى ہوا، ميں نے اللہ كى توفيق سے اسى رات اس سے رجوع كر ليا، ميں نے پڑھا ہے كہ غصہ ميں طلاق واقع نہيں ہوتى. اور جب ميرى تعليم مكمل ہوئى تو ميں اپنے ملك واپس آ گيا اور ميں نے اس سے وعدہ كيا تھا كہ ميں اپنے خاندان والوں سے بات كرونگا تا كہ تم بھى ميرے پاس آ سكو، ليكن يہاں معاملہ ہى مختلف ہے، ميں نے ايك عرب لڑكى جسے كبھى كسى نے ہاتھ بھى نہيں لگايا كو بہت مختلف پايا، اور ايك اجنبى لڑكى جو مجھ سے قبل بہت سارے مردوں كے ساتھ سوتى رہى ميں بہت فرق پايا، يہى چيز مجھے بہت غضبناك كر ديتى ہے اور بعض اوقات تو ميں اسے چھوڑنے كا سوچنا شروع كر ديتا ہوں، ليكن اللہ سے ڈرتا ہوں كہ ميں بھى تو اس جيسا ہى تھا، اور اب وہ مجھ سے بہتر اور افضل ہو چكى ہے، اب ميرى عقل اور سوچ ايك عرب لڑكى اور ايك اجنبى لڑكى ميں موازنہ كرنے ميں مشغول رہتى ہے، اور ميرے گھر والے بھى ميرى شادى كو قبول نہيں كرتے، اور وہ مجھ سے سوال كرنے لگے ہيں: وہ كون ہے ؟ كيا شادى سے قبل وہ لڑكى تھى ؟ تو ميں نے انہيں كہا جى ہاں وہ ايسى نہ تھى، ميں نے اس سے شادى اس ليے كى كہ اس نے اسلام قبول كر ليا تھا، اور بہت اچھى مسلمان بن گئى، ميں نے اس سے شادى اللہ كى رضا و خوشنودى كے ليے كى ہے، اور تا كہ ميں اپنے گناہوں كا كفارہ ادا كر سكوں، اور اب وہ ميرا انتظار كر رہى ہے، اور مسلمان ملك ميں رمضان كے روزے ركھنے كى تمنا ركھتى ہے، ليكن ميرے گھر والے اس سے انكار كرتے ہيں، ميں چاہتا ہوں كہ و ہ ميرے پاس آ جائے تا كہ وہاں رہ كر ضائع نہ ہو جائے، وہ بہت اچھے اخلاق كى مالك ہے اور خاص كر اسلام لانے كے بعد تو اس كا اخلاق اور بھى اچھا ہو چكا ہے، ميرى نظر ميں تو وہ پہلے دور كى ايك اسلامى عورت بن چكى ہے، ميں اب بہت ہى عذاب سے دوچار ہوں، جب ميں اپنى اور اس كى تاريخ اور ماضى ياد كرتا ہوں تو اپنے دل ميں كہتا ہوں اللہ نے اس لڑكى كو ميرے ليے گناہوں كا كفارہ بنا كر بھيجا ہے. كيا طلاق واقع ہو چكى ہے يا نہيں ؟، اور اگر طلاق واقع ہو گئى ہے تو كيا مجھے رجوع كرنے كا حق حاصل ہے تاكہ وہ ايك كفريہ ملك ميں اكيلى رہ كر ضائع نہ ہو جائے ؟ مجھ پر كيا واجب ہوتا ہے، كيا ميں ايك نيا اسلام قبول كرنے والى بيوى كے ساتھ رہوں، يا كہ ايك عرب مسلمان لڑكى سے شادى كر لوں ؟ ميں اپنے گھر والوں كے ساتھ كيا معاملہ كروں، وہ چاہتے ہيں كہ ميں اسے طلاق دے دوں، اور اگر ميں انہيں راضى كرنے كے ليے بيوى كو طلاق دے دوں تو كيا يہ حرام ہوگا ؟ كيا زنا ميرى گردن ميں قرض ہے كہ ايك دن مجھے اس كى قيمت ادا كرنا پڑيگى ؟ اور ميں اس كا ماضى كيسے بھول سكتا ہوں كہ وہ ميرے ساتھ كھاتى پيتى اور سوتى جاگتى تھى اور ميں اس كے ساتھ مسلمان خاوند بيوى كى طرح رہتا تھا ؟ برائے مہربانى ايسے دلائل ارسال كريں جو اس سلسلہ ميں ميرى معاونت كريں، ميں آپ سے شديد گزارش كرتا ہوں كہ آپ مجھے شافى جواب ديں جس كا مجھے بہت عرصہ اور شدت سے انتظار ہے، اور اس ليے بھى كہ جو ويب سائٹس مسلمانوں كى معاونت كے ليے كھولى گئى ہيں ان كے بارہ ميں ميرا گمان برا نہ ہو جائے، اور خاص كر ان كى معاونت كے ليے جو تباہ ہو كر برے راستے پر چل نكلے ہيں اور ميرى طرح ضائع ہو رہے ہيں وہ مدد كے محتاج ہيں، چاہے كوئى نصيحت كر كے ہى مدد كريں، ( ڈوبنے والے كو تنكے كا سہارا ہى سہى ) اے مسلمانوں كے علماء كرام جب تم ميرى مدد نہيں كرو گے تو ميں كہاں جاؤں ؟

  • PDF

    ميرے ايك ايسے نوجوان سے تعلقات تھے جس نے ميرا كنوارہ پن ختم كر ديا تھا، اور اب ميں كنوارى نہيں رہى، ميں اب اس فعل سے توبہ كر چكى ہوں اور اللہ سے دعا ہے كہ وہ ميرى توبہ قبول فرمائے، اور اس نوجوان نے مجھے شادى كا پيغام بھيجا ہے ليكن وہ اسلامى تعليمات كا پابند نہيں، بلكہ كسى بھى نوجوان كى طرح حشيش اور شراب اور سگرٹ نوشى كرتا ہے. اس نے ميرے ساتھ جو كچھ كيا ہے اس كى وجہ سے ميرے ليے زيادہ بہتر ہے اب ميں كيا كروں، يا ميں اسے چھوڑ كر آپريشن كے ذريعہ بكارت كا پردہ صحيح كروا كر كسى اور نوجوان سے شادى كر لوں جو اسلامى تعليمات پر عمل كرنے والا ہو ؟ يہ علم ميں رہے كہ ميں اس زنا سے حاملہ بھى تھى اور حمل ضائع كروا ديا تھا، ميرى توبہ كى سچائى كا اللہ كو ہى علم ہے ؟

  • PDF

    ميں ايك ديندار گھرانے سے تعلق ركھتا ہوں اور الحمد للہ ايك ديندار گھرانے ميں ہى ميرى شادى ہوئى ميرا سسر داعى دين اور مصلح افراد ميں سے ہے، اور اس كى سارى اولاد حافظ قرآن ہے، مشكل يہ ہے كہ ميرى بيوى ان آخرى ايام ميں بہت بدل چكى ہے، مجھ پر انكشاف ہوا كہ اس كے ايك شخص كے ساتھ ناجائز تعلقات تھے، ابتدا ميں تو ٹيلى فون كے ذريعہ رابطہ ہوا اور پھر كئى ايك ملاقاتيں بھى ہوئيں. جب سے يہ انكشاف ہوا ہے ميرى بيوى صاحب فراش بن كر رہ گئى ہے اور اس كى نفسياتى حالت بھى خراب ہو چكى ہے، اور وہ اپنے كيے پر نادم ہے، جب ميں نے اس سے بات چيت كى تو اس نے قسم اٹھا كر كہا كہ اس نے زنا كا تو ارتكاب نہيں كيا، بلكہ ملاقات بات چيت كى حد تك ہى رہى ہے، بيوى نے بتايا كہ وہ اس سے دور رہنا چاہتى تھى، ليكن اس شخص نے دھمكى دى اور بليك ميل كيا، اب وہ اپنے كيے پر نادم ہے، اس پر اثرانداز ہونے والے اسباب ميں درج ذيل سبب شامل ہيں: ـ ميں اپنى بيوى سے بہت ہى كم بات چيت كرنے والا شخص ہوں، اور اس كے جذبات پورے نہيں كرتا. ـ آخرى ايام ميں ميں اپنے گھر والوں كو رہائش لے كر نہيں دے سكا. ـ ميں نے بيوى كو مستقل طور پر اس كى رشتہ دار لڑكيوں سے ملاقات دے ركھى تھى، اور مجھے علم نہيں تھا كہ يہ لڑكياں خراب ہيں انہوں نے ميرى بيوى كو بھى اس گندگى ميں دھكيل ديا. ـ شادى سے قبل ميں نے كچھ كبيرہ گناہوں ( مثلا زنا بلكہ اس سے بھى سخت ) كا ارتكاب كيا، ميرا خيال ہے كہ اللہ نے مجھے اس كى سزا دى ہے. ـ آخرى ايام ميں ميرى بيوى كى نفسياتى حالت بہت خراب تھى حالانكہ ايسا كبھى نہيں ہوا، ليكن اب ميں اللہ كو گواہ بنا كر كہتا ہوں كہ وہ اس گناہ سے توبہ كر چكى ہے، وہ روتى رہتى ہے اور تسليم نہيں كرتى كہ يہ كام ہوا ہو، ميرى اس سے اولاد بھى ہے. ميرا سوال يہ ہے كہ مجھے كيا كرنا چاہيے: كيا ميں اسے طلاق دے دوں، حالانكہ مجھے اس كى توبہ كا يقين بھى ہو چكا ہے اور كيا اس كى توبہ قبول ہو گى ؟ اپنى اولاد كو اس كے ساتھ ركھنا اور دوسرى شادى كرنا ميرے ليے عذاب ہے، كيا ميں اس كا يہ گناہ معاف كر كے اس كے ليے اور اپنے غم و پريشانى سے نجات كى دعا كروں ؟ اور كيا اگر ميں ايسا كر ليتا ہوں تو كہيں ديوث تو نہيں كہلاؤنگا جيسا كہ رسول كريم صلى اللہ عليہ وسلم نے وصف بيان كيا ہے، گھر تباہى كى طرف جا رہا ہے.

  • PDF

    بہت سارے ممالک زلزلوں کاشکار ہوۓ ہیں مثلا ترکی ، مکسیکو، تائیوان ، جاپان وغیرہ توکیا یہ کسی چيزپردلالت کرتے ہیں ؟

  • PDF

    مال حرام سے توبہ کرنے کے بعد اگر انسان کو اس مال کے استعمال کی ضرورت پڑ جائے تو شرعی نقطہ نظر سے اسکا کیا حکم ہے ؟۔ فتوی مذکور میں اسی کا تفصیلی جواب پیش ہے۔

صفحہ : 8 - سے : 1
فیڈ بیک