وصف

ايك شادى شدہ نوجوان آدمى جو جنون جيسے مرض كا شكار ہونے كى بنا پر ہر وقت پريشان سا رہتا ہے، اور كمزور حافظہ كى بنا پر وسوسے كا بہت زيادہ شكار ہے, وہ اپنے اس خاندان والوں كے ساتھ ہى رہائش پذير ہے جو نجوميوں اور بدفالي پر ايمان ركھتا ہے.
اسى بنا پر وہ اسے كہتے ہيں كہ اسے جو بيارى اور تكليف ہو رہى ہے اس كا سبب اس كى بيوى ہے اور وہ اسے منحوس قرار ديتے ہيں، كيونكہ اس كا ستارہ منحوس ہے، اور اگر وہ اسے نہيں چھوڑتا تو بيمارى بھى نہيں جائيگى.
اس نوجوان نے بيمارى سے شفايابى كا لالچ كرتے ہوئے بيوى كو تين طلاق كےالفاظ ادا كر ديے، ان الفاظ كى ادائيگى كرتے وقت اس كے پاس كوئى شخص نہ تھا حتى كہ بيوى بھى نہ تھى، اور بيوى كے گھر سے چلے جانے اور واپس نہ آنے كے خوف كى بنا پر اس نے اس كے بارہ ميں كسى كو بتايا بھى نہيں، وہ كچھ عرصہ اس كے پاس رہى حتى كہ اس كے بچے كو جنم ديا.
اس نوجوان نے اس كے متعلق دريافت كيا تو اسے كہا گيا كہ جب وہ اسے بتائےگا تو اس كے بعد اس پر عدت ہوگى پھر وہ اس سے رجوع كر سكتا ہے، اور اسے اب چار برس بيت چكے ہيں اس نوجوان نے كسى اور سے بھى دريافت كيا: تو اس شخص نے اسے بتايا كہ نہ تو اسے طلاق ہوئى ہے اور نہ ہى وہ عدت گزارے گى، ليكن تمہيں اللہ سے توبہ كرنى چاہيے.
برائے مہربانى مجھے يہ بتائيں كہ اس طلاق پر كيا مرتب ہوتا ہے، كيونكہ بيوى اب تك ميرے پاس گھر ميں ہے اور ميرى حالت بھى ويسى ہى ہے ؟
اور اس طرح كے اعمال كے صحيح ہونے اور ان سے فائدہ ہونے كا اعتقاد ركھنے والے كو آپ كيا نصيحت كرتے ہيں ؟
اور اسى طرح آپ بغير علم كے فتوى دينے والے لوگوں كو كيا نصيحت كريں گے.

فیڈ بیک