وقوع ِطلاق كے متعدّد شرعى قيود

وصف

سوال: الحمد للہ ميں مسلمان ہوں، اورميرا ایمان ہے کہ اللہ تعالیٰ کی حکمت ہے، چاہے ہميں اس کی حكمت سمجھ میں آئے یا نہ آئے، اللہ عزوجل كو یہ علم ہے كہ كس چيز ميں ہمارا فائدہ ہے.
میں جانتا ہوں كہ عقد ِنكاح ميں جو سختى ہے اس ميں حكمت يہ ہے كہ خرابى اور فساد سے اجتناب اور بُعد پيدا ہو جائے ، تا كہ كوئى عورت زنا كر كے يہ نہ كہے كہ ميں تو شادى شدہ ہوں ليكن طلاق كے معاملہ ميں اتنى آسانى كيوں.
صرف ايك كلمہ كے ساتھ ہى شادى ختم ہو جاتى ہے اور پھر بغير گواہوں كے ہى اور لوگوں كو بتائے بغير ہى، اور پھر طلاق تين طلاقوں ميں محدود ہے، كيا خاندان كى تباہى ميں يہ آسانى نہیں ہے ؟
اور اسى طرح طلاق ميں گواہوں كا نہ ہونے ميں بھى خرابى نہیں ہے كیونکہ اگر طلاق دينے والا خاوند طلاق پر گواہ نہیں بناتا تو بيوى وراثت كا مطالبہ كر سكتى ہے، اور پھر زنا سے حاملہ ہونے كے بعد وہ طلاق دينے والے شخص كى طرف اسے منسوب بھى كر سكتى ہے ؟

Download
اس پیج کے ذمّے دار کو اپنا تبصرہ لکھیں

کامل بیان

    وقوع ِطلاق كے متعدّد شرعى قيود

    [الأُردية –اُردو Urdu]

    فتوی:اسلام سوال وجواب سائٹ

    —™

    ترجمہ: اسلام سوال وجواب سائٹ

    مراجعہ وتنسیق :عزیز الرّحمن ضیاء اللہ سنابلیؔ

    القيود الشّرعية المتعدّدة للحدّ

    من إيقاع الطلاق

    [الأُردية –اُردو Urdu]

    فتوى:موقع الإسلام سؤال وجواب

    —™

    ترجمة: موقع الإسلام سؤال وجواب

    مراجعة وتنسيق:عزيز الرحمن ضياء الله السنابلي


    :142223 وقوع ِطلاق كے متعدّد شرعى قيود

    سوال:

    الحمد للہ ميں مسلمان ہوں، اورميرا ایمان ہے کہ اللہ تعالیٰ کی حکمت ہے، چاہے ہميں اس کی حكمت سمجھ میں آئے یا نہ آئے، اللہ عزوجل كو یہ علم ہے كہ كس چيز ميں ہمارا فائدہ ہے.
    میں جانتا ہوں كہ عقد ِنكاح ميں جو سختى ہے اس ميں حكمت يہ ہے كہ خرابى اور فساد سے اجتناب اور بُعد پيدا ہو جائے ، تا كہ كوئى عورت زنا كر كے يہ نہ كہے كہ ميں تو شادى شدہ ہوں ليكن طلاق كے معاملہ ميں اتنى آسانى كيوں.
    صرف ايك كلمہ كے ساتھ ہى شادى ختم ہو جاتى ہے اور پھر بغير گواہوں كے ہى اور لوگوں كو بتائے بغير ہى، اور پھر طلاق تين طلاقوں ميں محدود ہے، كيا خاندان كى تباہى ميں يہ آسانى نہیں ہے ؟
    اور اسى طرح طلاق ميں گواہوں كا نہ ہونے ميں بھى خرابى نہیں ہے كیونکہ اگر طلاق دينے والا خاوند طلاق پر گواہ نہیں بناتا تو بيوى وراثت كا مطالبہ كر سكتى ہے، اور پھر زنا سے حاملہ ہونے كے بعد وہ طلاق دينے والے شخص كى طرف اسے منسوب بھى كر سكتى ہے ؟

    بتاریخ 2011-05-31 کو نشر کیا گیا

    جواب

    الحمد للہ:

    اسلام نے شادى اس ليے مشروع كى ہے اور شادى كرنے كا حكم اس ليے ديا ہے كہ اس ميں بہت سارى مصلحتیں پائى جاتى ہيں، اور مصلحت كى بنا پر ہى طلاق ميں سختى كى ہے، ايسا نہیں ہے جيسا کہ سائل كہہ رہا ہے: كہ طلاق ميں آسانى كى گئى ہے بلكہ طلاق كے ليے كئى ايك قيود اور احكام ہيں جو طلاق ميں مرد پر تنگى كرتے ہيں، اور طلاق كے وقوع ميں كمى كرتے ہيں اس ليے طلاق خاوند كے ہاتھ میں نہیں دى گئى ہے كہ وہ جب چاہے اسے استعمال كر لے.

    اگر مسلمان ان احكام پر عمل پيرا ہوں تو طلاق كى شرح بہت ہى كم ہو جائے، اور خاوند بالفعل بغير كسى ضرورت كے طلاق دے ہى نہ، ليكن آج كل اكثر لوگ ان احكام كى پابندى نہیں كرتے ہیں ، اور انہوں نے اللہ كى حدود سے تجاوز كرنے كى جراءت كرنا شروع كر دى ہے، اسى بنا پر طلاق كثرت سے ہوتى ہے اور كچھ لوگوں نے يہ گمان كر ليا ہے كہ اسلام نے طلاق كے معاملہ ميں آسانى كر ركھى ہے.

    طلاق كے وقوع ميں كمى كرنے كے ليے درج ذيل احكام مشروع كيے ہيں:

    ۱۔ اصل ميں طلاق دينا ممنوع ہے، يا تو حرام يا پھر مكروہ.

    شيخ الاسلام ابن تيميہ رحمہ اللہ كہتے ہيں:

    اصلا طلاق ممنوع ہے، صرف بقدرِ ضرورت طلاق مباح كى گئى ہے، جيسا كہ صحيح بخارى ميں جابر رضى اللہ تعالیٰ عنہ سے مروى ہے كہ نبى كريم صلى اللہ عليہ وسلم نے فرمايا: (أن إبليس ينصب عرشه على البحر، ويبعث سراياه، فأقربهم إليه منزلة أعظمهم فتنة، فيأتيه الشيطان فيقول : ما زلتُ به حتى فعل كذا ، حتى يأتيه الشيطان فيقول : ما زلتُ به حتى فرقتُ بينه وبين امرأته ، فيدنيه منه ، ويقول : أنتَ ، أنتَ ويَلتزِمَهُ)

    ’’ ابليس اپنا تخت پانى پر لگاتا ہے اور اپنے لشكر كور وانہ كرتا ہے، ابليس كے یہاں سب سے زيادہ مقام و مرتبہ والا وہ كارندہ ہوتا ہے جو سب سے زيادہ فتنہ و خرابى كرنے والا ہو.

    شيطان ابليس كے پاس آ كر كہتا ہے :ميں اس شخص كے ساتھ ہى لگا رہا حتى ٰكہ اس نے ايسے كيا، اور ايك دوسرا شيطان آ كر كہتا ہے ميں اس كے ساتھ ہى لگا رہا حتىٰ كہ ميں نے اس كے اور اس كى بيوى كے درميان عليحدگى كرا دى، تو ابليس اس شيطان كے قريب ہو كر كہتا ہے:

    ’’ہاں تم نے كام كيا تم نے كام كيا، اور اسے اپنے سے چمٹا ليتا ہے۔‘‘

    اور اللہ سبحانہ و تعالیٰ نے جادو كى مذمت ميں فرمايا ہے:

    ﴿فَيَتَعَلَّمُونَ مِنْهُمَا مَا يُفَرِّقُونَ بِهِ بَيْنَ الْمَرْءِ وَزَوْجِهِ﴾

    ’’ تو وہ ان دونوں سے وہ كچھ سيكھتے ہيں جس سے آدمى اور اس كى بيوى كے درميان جدائى ڈالدیں ‘‘۔ [ البقرۃ : 102 ] انتہى.

    ديكھيں: مجموع الفتاوى ( 33 / 81 ).

    اور شيخ الاسلام ابن تيميہ رحمہ اللہ كا يہ بھى كہنا ہے:

    ’’اور اگر ضرورت طلاق دينے كا باعث نہ ہوتى تو دليل طلاق حرام ہونے كى متقاضى تھى، جيسا كہ آثار اور اصول اس پر دلالت كرتے ہيں، ليكن اللہ سبحانہ و تعالیٰ نے بندوں كى ضرورت كى بنا پر اپنے بندوں پر رحمت كرتے ہوئے بعض اوقات طلاق كو مباح كيا ہے ‘‘۔ انتہى

    ديكھيں: مجموع الفتاوى ( 32 / 89 ).

    ۲۔ اللہ تعالیٰ نے طلاق (کا اختیار یا حق ) خاوند كے ہاتھ ميں دى ہے نہ كہ بيوى كے ہاتھ ميں.

    اگر طلاق عورت كے ہاتھ ميں دى گئى ہوتى تو آپ ديكھتے كہ اس وقت جتنى طلاق كى شرح ہے اس سے بھى کہیں زيادہ طلاقيں ہوتيں؛ كيونكہ عورت بہت جلد جذبات اور غصہ ميں آ جاتى ہے، اور اپنے فيصلہ ميں بہت جلدى كرتى ہے.

    ابن ہمام حنفى رحمہ اللہ بيان كرتے ہيں كہ:

    طلاق كى تشريع كے محاسن ميں يہ بھى شامل ہے كہ طلاق مردوں كے ہاتھ ميں دى گئى ہے نہ كہ عورتوں كے ہاتھ ميں اس كا سبب يہ ہے كہ: مرد حضرات اپنے آپ پر زيادہ كنٹرول كرنے والے ہوتے ہيں، اور معاملات كے انجام كو مدنظر ركھتے ہيں.ديكھيں: فتح القدير ( 3 / 463 ).

    ۳۔ آدمى كے ليے جائز نہیں ہے كہ وہ بيوى كو حيض كى حالت ميں طلاق دے، يا پھر اس طہر ميں جس ميں بيوى كے ساتھ جماع كيا ہو.

    اس طلاق كے واقع ہونے ميں فقہاء كرام كا اختلاف پايا جاتا ہے آيا حيض يا جماع كرنے كے بعد طہر ميں دى گئى طلاق واقع ہو گى يا نہیں ؟

    اس كى تفصيل ديكھنے كے ليے آپ سوال نمبر ( 72417 ) كے جواب كا مطالعہ كريں.

    اس ليے جو شخص اپنى بيوى كو طلاق دينا چاہتا ہو اور بيوى حيض كى حالت ميں ہو يا پھر اس نے اس طہر ميں بيوى سے جماع كر ليا ہو تو اسے انتظار كرنا چاہيے كہ وہ حيض سے پاک ہو جائے اور پھر طہر ميں جماع كرنے سے پہلے طلاق دیدے، بعض اوقات يہ عرصہ اور مدت ايك ماہ تك چلا جاتا ہے، اور اكثر طور پر اس عرصہ ميں خاوند طلاق دينے كا ارادہ تبديل كر ليتا ہے، اور جس سبب نے اسے طلاق پر ابھارا تھا وہ سبب بھى ختم ہو سكتا ہے.

    ۴۔ طلاق كے بعد بيوى كو گھر سے نہ نكالنا، طلاق كے بعد بيوى كو گھر سے نكالنا جائز نہیں ہے ، كيونكہ اللہ سبحانہ و تعالیٰ كا فرمان ہے:

    ﴿يَا أَيُّهَا النَّبِيُّ إِذَا طَلَّقْتُمُ النِّسَاءَ فَطَلِّقُوهُنَّ لِعِدَّتِهِنَّ وَأَحْصُوا الْعِدَّةَ ۖ وَاتَّقُوا اللَّـهَ رَبَّكُمْ ۖ لَا تُخْرِجُوهُنَّ مِن بُيُوتِهِنَّ وَلَا يَخْرُجْنَ إِلَّا أَن يَأْتِينَ بِفَاحِشَةٍ مُّبَيِّنَةٍ ۚ وَتِلْكَ حُدُودُ اللَّـهِ ۚ وَمَن يَتَعَدَّ حُدُودَ اللَّـهِ فَقَدْ ظَلَمَ نَفْسَهُ ۚ لَا تَدْرِي لَعَلَّ اللَّـهَ يُحْدِثُ بَعْدَ ذَٰلِكَ أَمْرًا﴾

    ’’ اے نبی! (اپنی امت سے کہو کہ) جب تم اپنی بیویوں کو طلاق دینا چاہو تو ان کی عدت (کے دنوں کے آغاز) میں انہیں طلاق دو اور عدت کا حساب رکھو، اور اللہ سے جو تمہارا پروردگار ہے ڈرتے رہو، نہ تم انہیں ان کے گھروں سے نکالو اور نہ وه (خود) نکلیں ہاں یہ اور بات ہے کہ وه کھلی برائی کر بیٹھیں، یہ اللہ کی مقرر کرده حدیں ہیں، جو شخص اللہ کی حدوں سے آگے بڑھ جائے اس نے یقیناً اپنے اوپرظلم کیا، تم نہیں جانتے شاید اس کے بعد اللہ تعالیٰ کوئی نئی بات پیدا کر دے ‘‘۔[الطلاق : 1]

    اس حكم ميں حكمت يہ ہے كہ خاوند اور بيوى كو اپنى مشكل حل كرنے كے ليے مہلت اور فرصت دى جائے اور كسى تيسرے شخص كى دخل اندازى سے قبل ہى خاوند اور بيوى آپس ميں رجوع كر ليں، كيونكہ ہو سكتا ہے كسى اور شخص كى دخل اندازى اصلاح كے ليے نہیں بلكہ اور خرابى پيدا كرنے كے ليے ہو.

    اگر صرف طلاق كى بنا پر ہى عورت اپنے گھر سے چلى جائے، تو اس كے نتيجہ ميں خاوند كو اور زيادہ اختلاف ہو جائے گا ـ جيسا كہ ہوتا ہے ـ اور خاوند اپنى بيوى سے رجوع ہى نہیں كريگا.

    اللہ سبحانہ و تعالیٰ نے اسى آيت ميں اس حكم كى حكمت بيان كرتے ہوئے فرمايا ہے:

    ’’ تم نہیں جانتے كہ شائد اس كے بعد اللہ تعالیٰ كوئى نئى بات پيدا كر دے ‘‘۔ [الطلاق :1]

    اور يہ حالت ميں تبديلى اور خاوند كا اپنى بيوى سے رجوع كرنا ہے.

    مزيد آپ سوال نمبر ( 14299 ) كے جواب كا مطالعہ ضرور كريں.

    ۵۔ شريعت مطہرہ نے خاوند كے ليے طلاق دينے كى تعداد كى حد تين طلاق مقرر كى ہے.

    اس ميں ظاہر میں تو یہی حكمت ہے تاكہ اگر وہ طلاق پر نادم ہو تو اسے بيوى سے رجوع كرنے كى فرصت اور موقع مل جائے اور ہو سكتا ہے دونوں ميں سے جس كى غلطى تھى وہ اپنى غلطى كى اصلاح اور تصحیح كر لے.

    پھر خاوند كو ايك اور موقع ديا گيا ہے، اور اگر وہ اسے تيسرى طلاق دے دے تو يہ ـ غالبا اس پر دلالت كرتى ہے كہ ـ ان كے معاملات درست نہیں ہوئے، اس ليے اب عليحدگى كے علاوہ كوئى چارہ نہیں رہا.

    علامہ طاہر بن عاشور رحمہ اللہ كہتے ہيں:

    اس عظيم تشريع ميں حكمت يہ ہے كہ: خاوندوں كو اپنى بيويوں كے حقوق کو كم سمجھنے سے روكنا، اور بيويوں كو اپنے گھروں میں کھلونہ بنانے سے منع كرنا ہے، اس ليے پہلى طلاق خاوند كے ليے خطرہ كى گھنٹى اور دوسرى طلاق تجربہ اور تيسرى طلاق كو عليحدگى اور جدائى بنايا گيا ہے.

    جيسا كہ رسول كريم صلى اللہ عليہ وسلم نے موسى اور خضر عليہ السلام كے قصہ ميں فرمايا ہے:

    ’’ پہلى غلطى موسى عليہ السلام كى جانب سے بھول كر ہوئى تھى، اور دوسرى شرط تھى اور تيسرى عمدا اور جان بوجھ كر تھى ‘‘۔

    اسى ليے خضر نے موسى عليہ السلام كو تيسرى بار كہا تھا: [ يہ ميرے اور آپ كے درميان جدائى ہے ]. الكہف ( 78 ).

    صحيح بخارى حديث نمبر ( 2578 ) مسند احمد ( 35 / 56 ).

    محققين حضرات نے اس حديث كو صحيح قرار ديا ہے.

    ديكھيں: التحرير و التنویرير ( 2 / 415 ).

    اور ابن ہمام حنفى رحمہ اللہ تين طلاقوں كى مشروعيت ميں حكمت بيان كرتے ہوئے كہتے ہيں:

    ’’ كيونكہ نفس جھوٹا ہے، بعض اوقات نفس يہ ظاہر كرتا ہے كہ اس كى ضرورت نہیں رہى يا اسے چھوڑنے كى ضرورت پيش آ گئى ہے، يا اس طرح كا خيال دل ميں لائے اور جب يہ ہو جائے يعنى طلاق دے بيٹھے اور نادم ہو اور سينہ ميں تنگى پيدا ہو جائے اور صبر كرنا مشكل ہو تو اللہ سبحانہ و تعالیٰ نے تين طلاق مشروع كى ہيں تا كہ وہ پہلى بار تجربہ كرے اور اگر صورت حال اس کی تصدیق کرے تو وہ طلاق ميں ہى باقی رہے یہاں تک کہ اس كى عدت گزر جائے.

    بصورت دیگر اگر اس کے لیے ممکن ہو تو اپنی بيوى سے رجوع كرلے(اس کے ساتھ پہلے کی طرح زندگی بسر کرے)، پھر اگر دوسرى بار بھى نفس اسے ايسا كرنے پر ابھارتا ہے اور غالب آ جائے اور وہ اسے طلاق دے بيٹھے تو اب اس سے جو كچھ ہوا ہے اس ميں غور و خوض كرے.

    اس ليے وہ تیسرا طلاق اسى وقت ديتا ہے جب وہ اپنى حالت كا تجربہ كر چكا ہوتا ہے ، اور پھر تیسرے طلاق كے بعد كوئى عذر قابل قبول نہیں ہوگا ‘‘۔ انتہى

    ديكھيں: شرح فتح القدير ( 3 / 465 - 466 ).

    ۶۔ بيوى كو وعظ و نصيحت كرنے اور بستر ميں اكيلا چھوڑنے اور ہلكا پھلكا مارنے كى مشروعيت ہے، ليكن يہ اس وقت ہے جب بيوى اپنے خاوند كى نافرمان ہو، اور اس كى بات نہ مانے اللہ تعالیٰ كا فرمان ہے:﴿وَاللَّاتِي تَخَافُونَ نُشُوزَهُنَّ فَعِظُوهُنَّ وَاهْجُرُوهُنَّ فِي الْمَضَاجِعِ وَاضْرِبُوهُنَّ ۖ فَإِنْ أَطَعْنَكُمْ فَلَا تَبْغُوا عَلَيْهِنَّ سَبِيلًا ۗ إِنَّ اللَّـهَ كَانَ عَلِيًّا كَبِيرًا ﴾

    ’’ اور جن عورتوں كى نافرمانى اور بد دماغى كا تمہیں خوف ہو انہیں نصيحت كرو اور انہیں الگ بستر پر چھوڑ دو اور انہیں مار كى سزا دو پھر اگر وہ تمہارى اطاعت كريں تو ان پر كوئى راہ تلاش نہ كرو، يقينا اللہ تعالیٰ بڑى بلندى اور بڑائى والا ہے ‘‘۔ النساء ( 34).

    اس ليے چھوٹى سے مشكل پر ہى خاوند طلاق سے ابتدا نہ كرے، بلكہ يہ سب خاوند اور بيوى كے مابين اصلاح كى كوششيں ہيں كہ طلاق سے قبل ان ميں صلح ہو جائے.

    ۷۔ اگر خاوند اور بيوى آپس ميں اپنا جھگڑا حل نہ كر سكنے سے عاجز ہو جائيں تو پھر ان ميں كوئى تيسرا شخص فيصلہ كرے.

    اللہ سبحانہ و تعالیٰ كا فرمان ہے: ﴿ وَإِنْ خِفْتُمْ شِقَاقَ بَيْنِهِمَا فَابْعَثُوا حَكَمًا مِّنْ أَهْلِهِ وَحَكَمًا مِّنْ أَهْلِهَا إِن يُرِيدَا إِصْلَاحًا يُوَفِّقِ اللَّـهُ بَيْنَهُمَا ۗ إِنَّ اللَّـهَ كَانَ عَلِيمًا خَبِيرًا﴾

    ’’ اور اگر تمہیں مياں اور بيوى كے درميان آپس كى ان بن كا ڈر ہو تو ايك منصف مرد والوں كى جانب سے اور ايك عورت كے گھر والوں كى جانب سے مقرر كرو، اگر يہ دونوں صلح كرانا چاہيں گے تو اللہ دونوں ميں ملاپ كرا دےگا، يقينا اللہ تعالیٰ پورے علم والا پورى خبر والا ہے ‘‘۔ [النساء : 35 ].

    اس ليے اگر جھگڑا ہو جائے اور اسے حل كرنے ميں مشكلات پيش آ رہى ہوں تو خاوند فورى طور پر طلاق ہى نہ دے بلكہ اس جھگڑے كو حل كرنے كے ليے دو منصف افراد كے ليے ايك اور كوشش كى جائے.

    اس سے واضح ہوا كہ دينِ اسلام نے طلاق كى مشروعيت ميں آسانى نہیں برتى ہے ، بلكہ اس ميں تو مرد پر سختى اور تشديد كى ہے تا كہ طلاق ميں كمى واقع ہو، اس ليے كہ اللہ سبحانہ و تعالیٰ كو طلاق کا عمل ناپسند ہے، محبوب نہیں ہے ۔

    شيخ عبد العزيز بن باز رحمہ اللہ سے دريافت كيا گيا:

    اسلام نے خاوند اور بيوى كے مابين آخرى حل طلاق بنايا ہے، اور اس سے قبل آپس كى مشكلات كو حل كرنے كے ليے طلاق دينے كے بجائے كئى ايك حل پيش كئے ہيں، جناب والا اگر آپ ہميں خاوند اور بيوى كے مابين جھگڑے كو حل كرنے كے ليے اسلام كى جانب سے وضع كردہ حل كے بارے ميں بتائيں تو آپ كى عين نوازش ہو گى .

    شيخ رحمہ اللہ كا جواب تھا:

    ’’ اللہ سبحانہ و تعالیٰ نے خاوند اور بيوى كے مابين جھگڑا ہو جانے كى صورت ميں كئى وسائل مشروع كيے ہيں جن سے ان کااختلاف ختم ہو سكتا ہے اور وہ طلاق کے خیال وتصوّرسے دور رہتے ہوئے آپس ميں اكٹھے رہ سكتے ہيں، ان وسائل ميں درج ذيل وسائل شامل ہيں:

    وعظ و نصيحت كرنا، اور پھر اگر يہ كام نہ آئے تو اسے بستر ميں عليحدہ چھوڑنا، اور اگر يہ بھى كام نہ آئے تو ہلكا پھلكا مارنا جيسا كہ اللہ سبحانہ و تعالیٰ كا فرمان ہے:

    ﴿وَاللَّاتِي تَخَافُونَ نُشُوزَهُنَّ فَعِظُوهُنَّ وَاهْجُرُوهُنَّ فِي الْمَضَاجِعِ وَاضْرِبُوهُنَّ ۖ فَإِنْ أَطَعْنَكُمْ فَلَا تَبْغُوا عَلَيْهِنَّ سَبِيلًا ۗ إِنَّ اللَّـهَ كَانَ عَلِيًّا كَبِيرًا ﴾

    ’’ اور جن عورتوں كى نافرمانى اور بد دماغى كا تمہیں خوف ہو انہیں نصيحت كرو اور انہیں الگ بستر پر چھوڑ دو اور انہیں مار كى سزا دو پھر اگر وہ تمہارى اطاعت كريں تو ان پر كوئى راہ تلاش نہ كرو، يقينا اللہ تعالیٰ بڑى بلندى اور بڑائى والا ہے ‘‘۔ النساء ( 34 ).

    اور ان وسائل ميں يہ بھى شامل ہے كہ خاوند اور بيوى كے گھرانہ سے ايك ايك منصف شخص خاوند اور بيوى كے جھگڑے كو حل كرنے كے ليے مقرر كيا جائے جيسا كہ اللہ سبحانہ و تعالیٰ كے اس فرمان ميں ہے: ﴿ وَإِنْ خِفْتُمْ شِقَاقَ بَيْنِهِمَا فَابْعَثُوا حَكَمًا مِّنْ أَهْلِهِ وَحَكَمًا مِّنْ أَهْلِهَا إِن يُرِيدَا إِصْلَاحًا يُوَفِّقِ اللَّـهُ بَيْنَهُمَا ۗ إِنَّ اللَّـهَ كَانَ عَلِيمًا خَبِيرًا﴾

    ’’ اور اگر تمہیں مياں اور بيوى كے درميان آپس كى ان بن كا ڈر ہو تو ايك منصف مرد والوں كى جانب سے اور ايك عورت كے گھر والوں كى جانب سے مقرر كرو، اگر يہ دونوں صلح كرانا چاہيں گے تو اللہ دونوں ميں ملاپ كرا دےگا، يقينا اللہ تعالیٰ پورے علم والا پورى خبر والا ہے ‘‘۔ [النساء : 35 ].

    اور اگر ان وسائل سے بھى فائدہ نہ ہو اور خاوند اور بيوى كى آپس ميں صلح نہ ہو اور اختلاف باقى رہيں تو اللہ سبحانہ و تعالیٰ نے خاوند كے ليے طلاق مشروع كى ہے كہ اگر سبب وہ ہے تو بيوى كو طلاق د یدے، اور اگر ايسا نہیں ہے ، بلكہ بيوى اپنے خاوند كو ناپسند كرتى ہے يا پھر بيوى كى غلطى ہے تو وہ خاوند كو فديہ دے كر اپنى جان چھڑا سكتى ہے.

    اللہ سبحانہ و تعالیٰ كا فرمان ہے:

    ﴿الطَّلَاقُ مَرَّتَانِ ۖ فَإِمْسَاكٌ بِمَعْرُوفٍ أَوْ تَسْرِيحٌ بِإِحْسَانٍ ۗ وَلَا يَحِلُّ لَكُمْ أَن تَأْخُذُوا مِمَّا آتَيْتُمُوهُنَّ شَيْئًا إِلَّا أَن يَخَافَا أَلَّا يُقِيمَا حُدُودَ اللَّـهِ ۖ فَإِنْ خِفْتُمْ أَلَّا يُقِيمَا حُدُودَ اللَّـهِ فَلَا جُنَاحَ عَلَيْهِمَا فِيمَا افْتَدَتْ بِهِ ۗ تِلْكَ حُدُودُ اللَّـهِ فَلَا تَعْتَدُوهَا ۚ وَمَن يَتَعَدَّ حُدُودَ اللَّـهِ فَأُولَـٰئِكَ هُمُ الظَّالِمُونَ ﴾

    ’’يہ طلاقيں دو مرتبہ ہيں، پھر يا تو اچھائى سے روك لينا ہے يا عمدگى كے ساتھ چھوڑ دينا ہے، اور تمہارے ليے حلال نہیں ہے كہ تم نے انہیں جو دے ديا ہے اس ميں سے كچھ بھى واپس لو، ہاں يہ اور بات ہے كہ دونوں كو اللہ كى حدود قائم نہ ركھ سكنے كا خوف ہو اسی طرح اگر تمہیں ڈر ہو كہ يہ دونوں اللہ كى حديں قائم نہ ركھ سكيں گے تو عورت رہائى پانے كے ليے كچھ دے ڈالے، اس ميں دونوں پر كوئى گناہ نہیں ہوگا ، يہ اللہ كى حديں ہيں خبردار ان سے تجاوز مت كرنا، اور جو لوگ اللہ كى حدوں سے تجاوز كر جائيں وہ ظالم ہيں ‘‘۔ [البقرۃ : 229 ].

    اس ليے كہ اچھائى اور عمدگى كے ساتھ عليحدہ كر دينا اور چھوڑ دينا يہ آپس ميں اختلاف سے بہتر ہے، اور پھر اس ميں ان مقاصد كا حصول بھى ناممكن ہو جاتا ہے جن كى وجہ سے نكاح مشروع كيا گيا ہے.

    اسى ليے اللہ سبحانہ و تعالیٰ كا فرمان ہے: ﴿وَإِن يَتَفَرَّقَا يُغْنِ اللَّـهُ كُلًّا مِّن سَعَتِهِ ۚ وَكَانَ اللَّـهُ وَاسِعًا حَكِيمًا﴾

    ’’ اور اگر خاوند اور بيوى جدا بھى ہو جائيں تو اللہ تعالیٰ اپنى وسعت سے ہر ايك كو بےنياز كر ديگا، اور اللہ تعالیٰ وسعت والا حكمت والا ہے ‘‘۔ [النساء : 130].

    اور پھر صحيح حديث ميں رسول كريم صلى اللہ عليہ وسلم سے ثابت ہے كہ جب ثابت بن قيس كى بيوى ثابت سے محبت نہ ہونے كى بنا پر ان کے ساتھ رہنے كى استطاعت نہ ركھ سكى تو نبى كريم صلى اللہ علیہ وسلم نے ان کی بیوی سے کہا کہ: ثابت بن قيس کی طرف سے مہر میں دیا ہوا باغ ثابت کو واپس کردو،اور ثابت بن قيس انصارى رضى اللہ تعالیٰ عنہ سے کہا كہ باغ قبول كر كے ان کو ايك طلاق دیدو، تو انہوں نے ايسا ہى كيا‘‘۔

    اسے امام بخارى نے صحيح بخارى ميں روايت كيا ہے.

    ديكھيں: فتاوى علماء البلد الحرام ( 494 - 495 )

    واللہ اعلم .

    اسلام سوال و جواب

    (طالبِ دُعا:عزیزالرحمن ضیاء اللہ سنابلیؔ[email protected]com: )