وصف

سوال: الحمد للہ ميں مسلمان ہوں، اورميرا ایمان ہے کہ اللہ تعالیٰ کی حکمت ہے، چاہے ہميں اس کی حكمت سمجھ میں آئے یا نہ آئے، اللہ عزوجل كو یہ علم ہے كہ كس چيز ميں ہمارا فائدہ ہے.
میں جانتا ہوں كہ عقد ِنكاح ميں جو سختى ہے اس ميں حكمت يہ ہے كہ خرابى اور فساد سے اجتناب اور بُعد پيدا ہو جائے ، تا كہ كوئى عورت زنا كر كے يہ نہ كہے كہ ميں تو شادى شدہ ہوں ليكن طلاق كے معاملہ ميں اتنى آسانى كيوں.
صرف ايك كلمہ كے ساتھ ہى شادى ختم ہو جاتى ہے اور پھر بغير گواہوں كے ہى اور لوگوں كو بتائے بغير ہى، اور پھر طلاق تين طلاقوں ميں محدود ہے، كيا خاندان كى تباہى ميں يہ آسانى نہیں ہے ؟
اور اسى طرح طلاق ميں گواہوں كا نہ ہونے ميں بھى خرابى نہیں ہے كیونکہ اگر طلاق دينے والا خاوند طلاق پر گواہ نہیں بناتا تو بيوى وراثت كا مطالبہ كر سكتى ہے، اور پھر زنا سے حاملہ ہونے كے بعد وہ طلاق دينے والے شخص كى طرف اسے منسوب بھى كر سكتى ہے ؟

فیڈ بیک