غصّہ كى حالت ميں طلاق كا حكم

وصف

سوال: ايك مسلمان خاتون كے خاوند نے سخت غصہ كى حالت ميں اسےكئى بار ’’ تجھے طلاق ہے‘‘كے الفاظ كہے ہيں، اس كا حكم كيا ہے خاص كر اس كے بچے بھى ہيں ؟

Download
اس پیج کے ذمّے دار کو اپنا تبصرہ لکھیں

کامل بیان

غصّہ كى حالت ميں طلاق كا حكم

[الأُردية –اُردو Urdu]

فتوی:شعبۂ علمی اسلام سوال وجواب سائٹ

—™

ترجمہ: اسلام سوال وجواب سائٹ

مراجعہ وتنسیق :عزیز الرّحمن ضیاء اللہ سنابلیؔ

 حكم الطلاق في حالة الغضب

[الأُردية –اُردو Urdu]

فتوى:القسم العلمي بموقع الإسلام سؤال وجواب

—™

ترجمة: موقع الإسلام سؤال وجواب

مراجعة وتنسيق:عزيز الرحمن ضياء الله السنابلي


:45174 غصّہ كى حالت ميں طلاق كا حكم

سوال:

ايك مسلمان خاتون كے خاوند نے سخت غصہ كى حالت ميں اسےكئى بار ’’ تجھے طلاق ہے‘‘كے الفاظ كہے ہيں، اس كا حكم كيا ہے خاص كر اس كے بچے بھى ہيں ؟

بتاریخ 2010-07-28کو نشر کیا گیا

جواب

الحمد للہ:

شيخ ابن باز رحمہ اللہ سے درج ذيل سوال كيا گيا:

اگر کسی شخص كو اس كى بيوى اس كے ساتھ برا سلوك كرے اور اسے گالياں دے،تو وہ(شوہر) غصہ كى حالت ميں اپنی بيوى كو طلاق دیدے تو اس كا حكم كيا ہے ؟

شيخ كا جواب تھا:

’’ اگر مذكورہ طلاق شدتِ غضب اور عدم شعور کیوجہ سے آپ سے صادر ہوئى ہے، اور بيوى كى بدكلامى اور گاليوں كى بنا پر آپ اپنے آپ پر كنٹرول نہ ركھتے تھے اور اپنے اعصاب كے مالك نہ تھے، اور آپ نے شدتِ غضب اور شعور نہ ہونے كى حالت ميں طلاق دیدی اور بيوى بھى اس كا اعتراف كرتى ہے، يا پھر عادل قسم كے گواہ ہيں جو اس كى گواہى ديتے ہوں تو پھر طلاق واقع نہیں ہوئى ہے .

كيونكہ شرعى دلائل اس پر دلالت كرتے ہيں كہ شدتِ غضب ـ اور اگر اس ميں شعور اور احساس بھى جاتا رہے ـ ميں طلاق واقع نہیں ہوتى ہے۔

اس کے دلائل ميں: مسند احمد ، ابو داود اور ابن ماجہ كى درج ذيل حديث ہے:

عائشہ رضى اللہ تعالیٰ عنہا بيان كرتى ہيں كہ نبى كريم صلى اللہ عليہ وسلم نے فرمايا: (لَا طَلَاقَ وَلَا عَتَاقَ فِي إِغْلَاقٍ)

’’ اغلاق كى حالت ميں نہ تو غلام آزاد ہوتا ہے اور نہ ہى طلاق واقع ہوتى ہے ‘‘

اہل علم كى ايك جماعت نے [ اغلاق ] كا معنى يہ بیان كيا ہے كہ اس سے مراد: اكراہ يعنى جبر يا غصہ ہے؛ يعنى شديد غصہ، جسے شديد غصہ آيا ہو اور اس كا غصہ اسے اپنے آپ پر كنٹرول نہیں كرنے ديتا، اس ليے شديد غصہ كى بنا پر يہ پاگل و مجنون اور نشہ كى حالت والے شخص كے مشابہ ہوا، اس ليے اس كى طلاق واقع نہیں ہوگى.

اور اگر اس ميں شعور و احساس جاتا رہے، اور جو كچھ كر رہا ہے شدت ِغضب كى وجہ سے اس پر كنٹرول ختم ہو جائے تو طلاق واقع نہیں ہوتى ہے.

غصہ والے شخص كى تين حالتيں ہوتی ہيں:

پہلى حالت:

جس ميں احساس و شعور جاتا رہے، ایسے شخص کو مجنون و پاگل كے ساتھ ملحق كيا جائے گا، اور تمام اہل علم كے یہاں اس كى طلاق واقع نہیں ہوگى.

دوسرى حالت:

اگرچہ شديد غصہ ہو ليكن اس كا شعور اور احساس نہ جائے بلكہ اسے اپنے آپ پر كنٹرول ہو اور عقل ركھتا ہو، ليكن غصہ اتنا شديد ہو كہ اس غصہ كى بنا پر اسے طلاق دينے پر مجبور ہونا پڑے، تو صحيح قول كے مطابق اس شخص كى بھى طلاق واقع نہیں ہوگى.

تيسرى حالت:

عام قسم كا غصہ ہو اور بہت شديد اور زيادہ نہ ہو، بلكہ عام غصہ ہو جو لوگوں سے صادر ہوتا ہےتو يہ ملجئ(طلاق پرمجبور کرنے والا) نہیں ہے ،اوراس قسم كے حامل شخص کا سارے علماء كے نزدیک طلاق واقع ہو جائے گی ‘‘۔ انتہى

ديكھيں: [فتاوى الطلاق جمع و ترتيب ڈاكٹر عبد اللہ الطيار اور محمد الموسى صفحہ : 19 - 21 ]

شيخ رحمہ اللہ نے دوسرى حالت ميں جو ذكر كيا ہے وہ شيخ الاسلام ابن تيميہ اور ان كے شاگرد ابن قيم رحمہما اللہ كا موقف ہے اور ابن قيم رحمہ اللہ نے اس سلسلہ ميں ايك كتابچہ بھى تاليف كيا ہے جس كا نام [ اغاثۃ اللھفان في حكم طلاق الغضبان ] ركھا ہے، اس ميں درج ہے:

غصہ كى تين قسمیں ہيں:

پہلى قسم:

انسان كو غصہ كى مباديات اور ابتدائى قسم آئے يعنى اس كى عقل و شعور اور احساس ميں تبديلى نہ ہو، اور جو كچھ كہہ رہا ہے يا كر رہا ہے اس كاادراك ركھتا ہو تو اس شخص كى طلاق واقع ہونے ميں كوئى اشكال ہی نہیں بچتا ہے، اور اس كے سب معاہدے وغيرہ صحيح ہونگے.

دوسرى قسم:

غصہ اپنى انتہائى حد كو پہنچ جائے كہ اس كا علم اور ارادہ ہى كھو جائے اور اسے پتہ ہى نہ چلے كہ وہ كيا كر رہا ہے اور كيا كہہ رہا ہے، اور وہ كيا ارادہ ركھتا ہے، تو اس شخص كى طلاق نہ واقع ہونے ميں كوئى اختلاف ہی نہیں ہے۔

چنانچہ جب اس كا غصہ شديد ہو جائے ، چاہے وہ علم بھى ركھتا ہو كہ وہ كيا كہہ رہا ہے تو اس حالت ميں بلاشك و شبہ اس كے قول كو نافذ نہیں كيا جائے گا، كيونكہ مكلف كے اقوال تو اس صورت ميں نافذ ہوتے ہيں جب قائل كى جانب سے صادر ہونے اور اس كے معانى كا علم ركھتا ہو، اور كلام كا ارادہ ركھتا ہو.

تيسرى قسم:

سابقہ دو مرتبوں(دو قسموں کے درمیان کا غصہ ہو ) كے درميان جس كا غصہ ہو، يعنى مباديات سے زيادہ ہو ليكن آخرى حد كو نہ چھوئے كہ وہ پاگل و مجنون كى طرح ہو جائے، تو اس ميں اختلاف پايا جاتا ہے.

شرعى دلائل اس بات پر دلالت كرتے ہيں كہ اس كا طلاق دینااور آزاد كرنا اور وہ معاہدے جن ميں اختيار اور رضامندى شامل ہوتى ہے نافذ نہیں ہونگے، اور يہ اغلاق ہی كى ايك قسم ہے جيسا كہ علماء نے اس کی تشریح بیان كى ہے ‘‘۔ انتہى (معمولی تصرّف کے ساتھ ) منقول از: مطالب اولى النھى ( 5 (323 : اور زاد المعاد ( 5 / 215 ) ميں بھى اسی طرح مختصرا ذکر ہے،اورالموسوعة الفقهية الكويتية (29/ 18) میں بھی دیکھا جاسکتا ہے۔

اورخاوند كو چاہيے كہ وہ اللہ سے ڈرے اور طلاق كے الفاظ استعمال كرنے سے اجتناب كرے، تا كہ اس كے گھر میں کوئی تباہى نہ ہو، اور خاندان نہ بكھر جائے.

اسى طرح ہم خاوند اور بيوى دونوں كو يہ نصيحت كرتے ہيں كہ وہ اللہ كا تقوىٰ اختيار كرتے ہوئے حدود اللہ كا نفاذ كريں اور اس بات کا گہرائی سے خیال رکھنا چاہئے كہ خاوند كى جانب سے بيوى كے معاملہ ميں جو كچھ (صادر)ہوا ہے كيا وہ عام غصہ كى حالت ميں ہوا ہے يعنى (غصہ کی)تيسرى قسم جس ميں سب علماء كے ہاں طلاق واقع ہو جاتى ہے.

اور انہیں اپنے دينى معاملہ ميں احتياط سے كام لينا چاہيے اور يہ مت ديكھيں كہ دونوں كى اولاد ہے، جس كى بنا پر يہ تصور كر ليا جائے كہ جو كچھ ہوا وہ غصہ كى حالت ميں ہوا اور فتوى دينے والے كو اس كے وقوع پر آمادہ كر دے ـ حالانكہ دونوں يعنى خاوند اور بيوى كو علم تھا كہ يہ اس سے كم درجے کا تھا۔

اس بنا پر اولاد كا ہونا خاوند اور بيوى كو طلاق جيسے الفاظ کوبلا سوچے سمجھے ادا كرنے ميں مانع ہونا چاہيے، يہ نہیں كہ اولاد ہونے كى وجہ سے وہ شرعى حكم كے بارے ميں حيلہ بازی كرنا شروع كر ديں اور طلاق واقع ہو جانے كے بعد اس سے كوئى مخرج اور چھٹكارا حاصل كرنے كى كوشش كريں، اور فقہاء كرام كى رخصت كو تلاش کرتے پھریں.

اللہ سبحانہ و تعالیٰ سے دعا ہے كہ وہ ہم سب كو دينی بصیرت عطا کرےاوراپنی شریعت اور شعائر کی تعظیم کی توفیق دے۔

واللہ اعلم .

اسلام سوال و جواب

(طالبِ دُعا:عزیزالرحمن ضیاء اللہ[email protected]com: )