ہندومذہب کا مختصر تعارف

وصف

سوال: کیا آپ مجھے ہندودھرم کے بارے میں بعض حقائق سے آگاہ کرسکتے ہیں؟

Download
اس پیج کے ذمّے دار کو اپنا تبصرہ لکھیں

کامل بیان

    ہند و مذہب کا مختصر تعارُف

    [ الأردية – اُردوUrdu]

    اعداد:اسلام سوال وجواب سائٹ

    —™

    ترجمہ:شفیق الرّحمن ضیاء اللہ مدنی

    مراجعہ:عطاء الرّحمن ضیاء اللہ

    ناشر:دفترتعاون برائے دعوت وارشاد،ربوہ،ریاض

    مملکتِ سعودی عرب

    تعريف موجز بديانة الهندوس

    إعداد: موقع الإسلام سؤال وجواب

    —™

    ترجمة: شفيق الرّحمن ضياء الله المدني

    مراجعة:عطاء الرّحمن ضياء الله

    الناشر:مكتب توعية الجاليات بالربوة، الرياض

    المملكة العربية السّعودية

    عرضِ مُترجم

    الحمد لله وكفىٰ وسلامٌ على عباده الذين اصطفىٰ، أمابعد:

    زیرِنظرکتابچہ ہندومذہب کے مختصر تعارف پر مشتمل ہے جو در اصل ایک فتویٰ ہے جسے اسلام سوال وجواب سائٹ کی جانب سے قا رئین کی خدمت میں پیش کیا گیا تھا ،تاکہ اس کا مطالعہ کرکے ہندو دھر م کی حقیقت سے واقف ہوں،اور اسلام کی حقانیت وصداقت کو جان کر اسے تسلیم کریں،کیونکہ یہی سچا الہی دھرم ہے، اور اس کے علاوہ رب کے یہاں کوئی دوسرادھرم قابلِ قبول نہیں ہے۔

    اور چونکہ یہ کتابچہ ہند ومذہب کے تعارف کے سلسلے میں نہایت مفیدہے،لیکن عربی زبان میں ہونے کی وجہ سے اردو داں طبقہ کے لیے اس سے استفادہ کرنا مشکل تھا،لہذااسلام ہاؤس ڈاٹ کام کے شعبۂ ترجمہ وتالیف نے قارئین کی آسانی کے لیےاسےاردو قالَب میں ڈھالاہے۔

    ربّ کریم اس کتابچہ کے نفع کو عام کرے،اور مولّف،مترجم،مراجع اورجملہ ناشرین کی کاوشوں کو قبول فرمائےآمین۔

    وصلى الله على نبينا محمد وعلى آله وصحبه وسلم۔

    (طالبِ دُعا:[email protected])

    ہندومذہب کا مختصر تعارف

    :126472 سوال : کیا آپ مجھے ہندو دھرم کے بارے میں بعض حقائق سے آگاہ کرسکتے ہیں؟

    بتاریخ21 2009-3- کو نشر کیا گیا

    جواب:

    الحمد للہ

    اوّل: تعارف

    ہندودھرم(ہندومت):جسے برہمن ازم بھی کہا جاتا ہے،یہ ایک بت پرستی کا دھرم ہے ،جس کو بھارت کے اکثرلوگ اپنائے ہوئے ہیں،یہ عقائد،عادات اور رسم ورواج کا ایک مجموعہ ہے جو پندرہویں صدی قبل مسیح سے لے کر ہمارے موجودہ وقت تک کے ایک لمبے عرصہ کے دوران تشکیل پایا ہے، جہاں- پندرہویں صدی قبل مسیح میں- ہندوستان کے اصلی سیاہ فام باشندے قیام کرتے تھے جن کے کچھ افکار وعقائد تھے،پھراپنے راستے میں ایرانیوں کے پاس سے گزرتے ہوئے آریائی حملہ آور آئے تو ان کے عقائد ان ملکوں سے متاثر ہوئے جن سے ان کا گزر ہوا۔اورجب وہ ہندوستان میں مستقل طور سے بس گئے تو عقائد ونظریات کے درمیان امتزاج ہوا جس سے ہندومت ایک ایسے مذہب کی شکل میں جنم لیاجس کے اندر ابتدائی خیالات ونظریات خاص طور سے فطرت،آباء واجداد اور گائے کی پوجا شامل تھی،اورآٹھویں صدی قبل مسیح میں ہندومت میں ترقی ہوئی جب براہمن ازم وضع کیا گیا ، اورانہوں نے براہما کی پوجا کرنے کی بات کہی۔

    ہندو مذہب کا کوئی مخصوص بانی نہیں ہے،اور اس کی اکثر کتابوں کے معین مصنّفین بھی معلوم نہیں ہیں، کیونکہ ہندومذہب کی تشکیل نیز اس کی کتابیں ایک لمبے زمانہ کے مراحل کےدوران وجود میں آئی ہیں۔

    دوم:نظریات وعقائد:

    ہم ہندودھرم کو اس کی کتابوں ،معبود کے بارے میں اس کے نظریے،اس کےعقائد ،اس کے طبقات اوربعض دیگرفکری وعقائدی مسائل کے ذریعہ سمجھ سکتے ہیں:

    أ ۔ہندومذہب کی کتابیں:

    ہندومذہب کی بہت بڑی تعداد میں کتابیں ہیں جن کا سمجھنا مشکل ہےاوران کی زبان بہت عجیب وغریب ہے، ان کتابوں کی شرح کیلئے بہت ساری کتابیں تالیف کی گئی ہیں، جبکہ بعض دوسری کتابیں ان شرحوں کی اختصار کے لئے لکھی گئی ہیں، اوریہ سب کی سب ان(ہندومت) کے نزدیک مقدّس ہیں،اور ان میں سے اہم ترین درج ذیل ہیں:

    ۱۔وید(Veda):یہ سنسکرت زبان کالفظ ہے جس کا معنیٰ حکمت ومعرفت کے ہیں،یہ آریوں کی زندگی اورذہنی زندگی کی سادگی سے فلسفیانہ شعور واحساس تک ترقی کرنے کے مدارج کی تصویرپیش کرتا ہے،اور اس میں کچھ ایسی دعائیں(بھجن) ہیں جو شکوک وشبہات پر ختم ہوتے ہیں، اسی طرح اس میں رب کا ایسا تصّور پایا جاتا ہے جو وحدت الوجود (کائنات کی ہرچیز میں اللہ نظرآنایا ہر چیزکو اللہ کی ذات کا جزء سمجھنا) تک جا پہنچتا ہے،اوریہ چار کتابوں سے مل کر بنا ہے۔

    ۲۔مہابھارت(رزم نامہ،داستانِ جنگ): یہ یونانیوں کےیہاں اوڈیسی اور الیاڈ(Odyssey and Iliad) کی طرح ایک بھارتی رزم نامہ (کورووں اور پانڈووں کے درمیان کی لڑائی کی کہانی) ہے،اس کا مولّف عارف ’’پراشر‘‘ کا بیٹا’’ویاس‘‘ ہے، جس نے اسے ۹۵۰ قبل مسیح میں ترتیب دیا تھا، یہ کتاب شاہی خاندانوں کے سرداروں کے درمیان ایک جنگ کا تذکرہ کرتی ہے، اوراس جنگ میں دیوتا بھی شریک ہوئے تھے۔

    ب۔معبودوں(دیوتاؤوں) کے بارے میں ہندومت کا تصوّر ونظریہ:

    - توحید: درست معنیٰ میں توحید نہیں پایا جاتا ہے،لیکن جب وہ لوگ کسی ایک معبود (دیوتا) کی طرف متوجہ ہوتے ہیں تودل وجان سے متوجہ ہوتے ہیں یہاں تک کہ ان کی نظروں سے دیگرتمام معبود (دیوتا) اوجھل ہوجاتے ہیں، اور اس وقت وہ اسےپرم پرمیشور،یادیوتاؤوں کا دیوتا کے نام سے مخاطب کرتے ہیں۔

    -تعدّد:وہ کہتے ہیں کہ ہرفائدہ مندیا نقصان دہ فطرت جیسے :پانی،ہوا،دریاؤوں اورپہاڑوں ...کا ایک معبود(دیوتا) ہے جس کی پوجا کی جاتی ہے اور یہ بہت سارے دیوتا ہیں جن کی یہ لوگ پوجا اور نذرونیاز کے ذریعے تقرّب حاصل کرتے ہیں۔

    تثلیث(تری مورتی): نوویں صدی قبل مسیح میں کاہنوں نے تمام دیوتاؤوں کو ایک دیوتا میں جمع کردیاجس نے اپنی ذات سے دنیا کووجودبخشا، اسی کو وہ براہما کہتے ہیں:

    ۱۔براہما: اس اعتبار سے کہ وہ رب اوروجود کا سبب ہے۔

    ۲۔وشنو:اس اعتبار سے کہ وہ محافظ ونگہبان ہیں۔

    ۳۔شیو:اس اعتبار سے کہ وہ ہلاک کرنے والا ہے۔ اس لئے جو شخص ان تینوں دیوتاؤوں میں سے کسی ایک کی عباد ت کرتا ہے توگویا وہ ان سارےدیوتاؤوں کی عبادت کرنے والا ، یا ایک سب سے بلند کی عبادت کرنے والا ہے، اوران کے درمیان کوئی فرق نہیں ہے ، اس طرح سے انہوں نے عیسائیوں کے سامنے تثلیث کے عقیدہ کادروازہ کھول دیا۔

    ۔ہندو لوگ گائے اور کئی طرح کے رینگنے والے جانوروں جیسے ناگ (اژدہا)،اور کئی طرح کے حیوانات جیسے بندر کو پاک سمجھتے ہیں، مگران سب کے بیچ گائے کو وہ تقدس حاصل ہے جوہرتقدّس سے بر تر ہے۔اورمندروں،گھروں اور میدانوں میں اس کی مورتیاں(مجسّمے) لگی ہوتی ہیں،اوراسے کسی بھی جگہ جانے اورمنتقل ہونےکی آزادی حاصل ہوتی ہے،کسی ہندو کے لئے اسے تکلیف پہنچانا یا اسے ذبح کرنا جائز نہیں ہے، اگر اس کی موت ہوجائے تو مذہبی رواج کے ساتھ اسے دفنایا جائے گا۔

    ۔ہندؤوں کے یہاں یہ اعتقاد پایا جاتا ہے کہ ان کے دیوتا کرشنا نامی ایک شخص کے اندربھی حلول کئےہیں، اوراس کے اندر خالق انسان سے مل گیا ہے،یا لاہوت (خالق)ناسوت(انسان) کے اندرحلول کرگیا ہے، اوریہ لوگ کرشنا کے بارے میں ویسے ہی باتیں کرتے ہیں جیسا کہ نصاریٰ لوگ عیسیٰ مسیح کے بارے میں باتیں کرتے ہیں۔

    شیخ محمد ابوزہرہ رحمہ اللہ نے ان دونوں کے درمیان موازنہ قائم کرکے عجیب وغریب تشابہ بلکہ ہم آہنگی ظاہر کیا ہے اور موازنہ کے آخرمیں اس طرح تبصرہ فرمایا ہے کہ: ’’عیسائیوں کو چاہیے کہ وہ اپنے مذہب کا اصل تلاش کریں‘‘۔

    ج۔ہندوسماج میں طبقاتی نظام:

    - جب سے آریا لوگ ہندوستان آئے ہیں انہوں نے طبقات کو تشکیل دیا ہے جوآج تک موجود ہیں،اوران کے خاتمہ کا کوئی راہ دکھائی نہیں دیتا، کیونکہ ان کے اعتقاد کے مطابق یہ اللہ کی تخلیق کردہ ابدی تقسیمات ہیں۔

    -منو کے قوانین میں طبقات کا ذکراس طرح آیا ہوا ہے:

    ۱۔برہمن: یہ وہ لوگ ہیں جن کو برہما نے اپنے منھ سے پیدا کیا ہے: انہیں میں سے معلم،کاہن اور قاضی ہیں، اورانہی کی طرف لوگ شادی اوروفات کے معاملے میں رجوع کرتے ہیں، اورانہی کی موجودگی میں نذرونیاز دینا جائزہے۔

    ۲۔چتھری(کشتری): یہ وہ لوگ ہیں جن کو برہما نے اپنے دونوں بازوؤں سے پیدا کیا ہے: یہ لوگ تعلیم حاصل کرتے ہیں، نیاز پیش کرتے ہیں اور دفاع کے لئے ہتھیار اٹھاتے ہیں۔

    ۳۔ویش: یہ وہ لوگ ہیں جن کو برہما نے اپنی ران سے پیدا کیا ہے: یہ لوگ کھیتی باڑی اور تجارت کرتے ہیں ، مال کو جمع کرتے ہیں اور مذہبی اداروں میں خرچ کرتے ہیں۔

    ۴۔شودر(چمار):یہ وہ لوگ ہیں جن کو برہما نے اپنے پاؤں سے پیدا کیا ہے،یہ لوگ اصلی سیاہ فام لوگوں کے ساتھ اچھوت طبقہ کی تشکیل کرتے ہیں۔ان کا کام اپنے سابقہ تینوں معزّز برادریوں کی خدمت کرنا ہے، یہ لوگ حقیر وذلیل اورگندے پیشوں کو اپناتے ہیں۔

    -یہ تمام لوگ دینی جذبےسے اس طبقاتی نظام کے تابع ہونے پر متفق ہیں۔

    -مرد کے لئے اپنے سے اعلیٰ طبقہ سے شادی کرنے کی اجازت ہے، اوراپنے نیچے والے طبقہ سے بھی شادی کرسکتا ہے، لیکن بیوی چوتھے طبقہ شودر( چمار) سے نہیں ہونی چاہئے، اسی طرح شودر(چمار) طبقہ(ذات) کے مردکے لئے کسی بھی حالت میں اپنے سے اوپر طبقہ سے شادی کرنے کی اجازت نہیں ہے۔

    vبرہمن لوگ یہ سب سے چنیدہ مخلوق ہیں،اور انہیں دیوتاؤوں سے بھی جوڑا جاتا ہے، ان کے لئے اپنے غلام’’شودر‘‘کے مالوں میں سے حسب منشا لینے کا اختیار حاصل ہے۔

    vجو برہمن مقدّس گرنتھ(کتاب) کو لکھتا ہے وہ بخشا ہواہے اگرچہ اس نے تینوں دنیا (لوکوں) کو اپنے گناہوں سے تباہ کردیا ہو۔

    vراجا کے لئے- چاہے حالات کتنے بھی مشکل ہوں-کسی بھی برہمن شخص سے چنگی یا ٹیکس لینا جائز نہیں ہے۔

    vاگر برہمن قتل کا مستحق ہےتو حاکم کیلئے صرف اتنا جائز ہے کہ اس کا سرمونڈوادے ، لیکن اس کے علاوہ (طبقہ کے لوگوں )کو قتل کیا جائے گا۔

    vوہ برہمن جس کی عمر دس سال کی ہے وہ اس شودر(چمار) پر فوقیت رکھتا ہے جس کی عمر سوسال کے قریب ہے،جس طرح باپ اپنے بیٹے پر فوقیت وبرتری رکھتا ہے۔

    vبرہمن کے لئے اپنے ملک میں بھوک سے مرنا صحیح نہیں ہے۔

    vمنو کے قانون کے مطابق اچھوت لوگ چوپایوں سے زیادہ گرے اور کتّوں سے زیادہ ذلیل ہیں۔

    vاچھوتوں کے لئے سعادت کی بات ہے کہ وہ برہمن کی خدمت کریں اوراس پران کے لئے کوئی اجروثواب نہیں ہے۔

    vاگرکوئی اچھوت کسی برہمن کو مارنے کے لئے اس پر ہاتھ یا لاٹھی اٹھائے ،تو اس کے ہاتھ کاٹ دئیے جائیں،اور اگر وہ اسے لات مارے تو اس کے پَیر کو چیر وپھاڑدیا جائے۔

    vاگرکوئی اچھوت کسی برہمن کے ساتھ بیٹھنے کا ارادہ کرے تو راجا کو چاہئے کہ اس کے چوتڑ کو داغ دے اور اسے ملک سے جلاوطن کردے۔

    vاگرکوئی اچھوت کسی برہمن کو تعلیم دینے کا دعویٰ کرے تو اسےکھولتا ہوا تیل پلایا جائے گا۔

    v کتّا،بلی،مینڈھک،چھپکلی،کوّا، الّو اور اچھوت طبقہ کے قتل کا کفاّرہ برابر ہے۔

    vحالیہ دنوں میں ان کی صورت حال میں کچھ سدھار دکھائی دیا ہے،اس خوف سے کہ ان کےحالات سے فائدہ اٹھایا جائے،اور وہ دوسرے مذاہب میں داخل ہوجائیں ،خاص کر عیسائیت جوان سے برسرپیکارہے یا کمیونزم جوان کو طبقاتی تنازعات کے نظریے کے ذریعہ دعوت دیتی ہے،لیکن بہت سارے اچھوتوں نے اسلام دھرم کے اندر عزت وبرابری کو پاکر اسلام دھرم کو گلے لگا لیا۔

    د۔ ہندؤوں کے عقائد:

    ہندؤوں کے عقائد کا اظہار ’’کرما،تناسخ ارواح ( آواگون) ، آزادی،اور وحدۃ الوجود‘‘ میں ہوتا ہے:

    ۱۔ کرما: بدلہ کا قانون یعنی دنیا کا نظام ایک الہی نظام ہے جو خالص عدل پر قائم ہے، یہ عدل ضروری طور پر ہوکررہے گا،چاہے موجودہ زندگی میں،یا آنے والی زندگی میں ،اور ایک زندگی کا بدلہ دوسری زندگی میں ملے گا، اور دنیا ابتلا وآزمائش کا گھرہے ،جس طرح کہ یہ بدلے اور ثواب کا گھرہے۔

    ۲۔آواگون (تناسخ ارواح) :جب انسان مرجاتا ہے تو اس کا جسم فنا ہوجاتا ہے، اوراس سے روح نکل جاتی ہےاورپہلی زندگی میں اس نے جو عمل کئے ہیں اس کے مطابق وہ ایک دوسرے جسم میں حلول کرجاتی ہے اور اس کا روپ اختیار کرلیتی ہے اور روح اس میں ایک نیا چکرشروع کرتی ہے۔

    ۳۔آزادی: نیک اوربرےاعمال کے نتیجے میں باربار نئی زندگی وجود میں آتی ہے،تاکہ اس کے اندر روح کو سابقہ چکرمیں دئیے گئے اعمال کے مطابق ثواب یا عقاب دیا جائے۔

    -جس شخص كو کسی چیز کی رغبت نہیں ہے اورہرگز کسی چیز میں رغبت نہیں رکھے گا اور خواہشات کی غلامی سے آزاد ہو گيا، اور اس کا نفس مطمئن ہوگيا تو وہ اپنے حواس کی طرف نہیں لوٹائى جاتى ہے،بلکہ اس کی روح جاکر براہما سے مل جاتی ہے۔

    ۴۔وحدت الوجود: فلسفیانہ تجرید نے ہندؤوں کو اس اعتقاد تک پہنچادیا ہے کہ انسان افکارونظریات ،قوانین اور تنظیمیں پیدا کرسکتا ہے،جس طرح کہ وہ ان کی نگہداشت کرنے،یا انہیں برباد کرنے کی طاقت رکھتا ہے،اور اس طرح سے رب سے جاملتا ہے،اور نفس ہی بعینہ پیدا کرنے والی قوّت ہوجاتی ہے۔

    أ-روح معبودوں کی طرح دائمی وابدی مستمرہے،مخلوق نہیں ہے۔

    ب۔انسان اور اس کے معبود کے درمیان تعلق اسی طرح ہے جیسے آگ کی چنگاری اور آگ کے درمیان تعلق ہوتا ہے، اور جیسے بیج اور درخت کے درمیان تعلق ہوتا ہے۔

    ج۔یہ پوری کائنات حقیقی وجود کا مظہر ہے،اور انسانی روح بلند روح کا ایک حصّہ ہے۔

    ھ۔دوسرے نظریات اور عقائد:

    ۔جسموں کو مرنے کے بعد جلادیا جاتا ہے، کیونکہ یہ روح کو بلندی کی طرف اورعمودی شکل میں جانے کی اجازت دیتا ہے، تاکہ ملکوت اعلیٰ میں قریب سے قریب وقت میں پہنچ سکے،اسی طرح جسموں کے جلانے میں روح کو جسم کے غلاف سے مکمل طور سے چھٹکارا دلانا ہے۔

    -جب روح چھٹکارا پاجاتی ہے اور اوپر چڑھ جاتی ہے تو اس کے سامنے تین دنیا ہوتی ہے:

    ۱۔ عالم بالا: فرشتوں کی دنیا

    ۲۔عالم انس: حلول کے ذریعہ آدمیوں کا ٹھکانہ ۳۔ عالم جہنم: اور یہ گنہگاروں ونافرمانوں کے لئے ہوتا ہے۔

    ۔صرف ایک جہنم نہیں ہے، بلکہ ہرصاحب گناہ کے لئے ایک مخصوص قسم کی جہنم ہے۔

    -عالم آخرت میں بعث(دوبارہ زندہ ہونا)صرف روحوں کے لئے ہوگا نہ کہ جسموں کے لئے۔

    -جس عورت کے شوہر کا انتقال ہوگیا ہے وہ دوبارہ شادی نہیں کرے گی، بلکہ دائمی بدبختی میں زندگی گزارے گی، اور ذلت ورسوائی اور ہتک عزت کی جگہ بن جائے گی، اور اس کا مرتبہ خادم ونوکر کے مرتبہ سے کم ہوگا، اسی لئے بسا اوقات عورت اپنے شوہر کی وفات کے بعد شقاوت وبدبختی کی زندگی میں ہونے والے عذاب کے خوف سے اپنے آپ کو خود جلاڈالتی ہے،البتہ موجودہ ہندوستان میں قانون نے اس عمل کو حرام قراردیدیا ہے۔

    سوم: ہندومذہب کے انتشار اور اثرورسوخ کی جگہیں:

    برّ صغیر پاک وہند میں ہندو دھرم کا راج تھااور وہ وہاں پھیلا ہوا تھا، لیکن مسلمانوں اور ہندؤوں کے درمیان کائنات،زندگی،اور اس گائے کے سلسلے میں جس کی ہندوپوجا کرتے ہیں،اور مسلمان ذبح کرکے اس کا گوشت کھاتے ہیں ان کے نظریے میں کافی دوری (دونوں ملکوں کے ) تقسیم کی ایک وجہ تھی،چنانچہ مشرقی اور مغربی حصہ سمیت پاکستانی حکومت کے قیام کا اعلان کیا گیاجس کی اکثریت مسلمانوں کی تھی،جبکہ ہندوستانی حکومت کو باقی رکھا گیا جس کی اکثریت ہندوہے اور مسلمان اس میں ایک بڑی اقلّیت میں ہیں۔

    یہ تعارف كچھ اختصار اورمعمولی تبدیلی کے ساتھ"الموسوعة الميسرة في الأديان والمذاهب والأحزاب المعاصرة" (2/724-731) نامی کتاب سے لیا گیا ہے۔

    اوراللہ ہی سب سے زیادہ علم رکھتا ہے۔

    سائٹ اسلام سوال وجواب

    فہرست موضوعات

    رقم

    عنوان

    صفحہ

    1

    عرض ِمُترجم

    1

    2

    ہندو مت کا تعارف

    2

    2

    نظریات وعقائد

    4

    3

    ہندومذہب کی کتابیں

    4

    4

    دیوتاؤوں کے بارے میں ہندومت کا تصوّر

    6

    5

    ہندوسماج میں طبقاتی نظام

    10

    6

    ہندؤوں کے عقائد

    16

    7

    دوسرے نظریات وعقائد

    19

    8

    ہندو مذہب کے انتشار ورسوخ کی جگہیں

    21

    9

    فہرست موضوعات

    23