قبروں كى زيارت اور ان محفلوں ميں شريك ہونا جن كے بارےميں یہ گمان كيا جاتا ہے كہ وہاں اولياء كى روحيں حاضر ہوتى ہيں

وصف

سوال:قبروں كى زيارت اور وہاں نماز پڑھنے كا حكم كيا ہے ؟

Download
اس پیج کے ذمّے دار کو اپنا تبصرہ لکھیں

کامل بیان

قبروں كى زيارت اور ان محفلوں ميں شريك ہونا جن كے بارے ميں یہ گمان كيا جاتا ہے كہ وہاں اولياء كى روحيں حاضر ہوتى ہيں

[الأُردية –اُردو Urdu]

فتوی : شیخ الاسلام ابن تیمیہؒ

—™

ترجمہ: اسلام سوال وجواب سائٹ

مراجعہ وتنسیق:عزیز الرّحمن ضیاء اللہ سنابلیؔ

 زيارة القبور وشهود مناسبة يزعمون فيها حضور أرواح الأولياء

فتوى: شيخ الإسلا م ابن تيمية -رحمه الله-

—™

ترجمة: موقع الإسلام سؤال وجواب

مراجعة وتنسيق:عزيز الرحمن ضياء الله السنابلي

۶۷۴۴:قبروں كى زيارت اور ان محفلوں ميں شريك ہونا جن كے بارےميں یہ گمان كيا جاتا ہے كہ وہاں اولياء كى روحيں حاضر ہوتى ہيں

سوال:قبروں كى زيارت اور وہاں نماز پڑھنے كا حكم كيا ہے ؟
پاكستان ميں سالانہ عرس نامى چيز كا اہتمام كيا جاتا ہے، كيا اس ميں شريك ہونا جائز ہے ؟
اس ميں شريك ہونے والے لوگ كہتے ہيں كہ فوت ہونے والا شخص اللہ كا ولى تھا، ممكن ہے وہ ہمارى دعا اللہ تك پہنچا دے، اور نيك و صالح لوگوں سے دعا كرنا زيادہ قبوليت كى باعث ہے، تو كيا آپ اس موضوع پر كچھ روشنى ڈال سكتے ہيں، جزاكم اللہ خيرا ؟

بتاریخ ۱۹-۳-۲۰۰۶کو نشر کیا گیا

جواب

الحمد للہ:

۱۔ قبروں كى زيارت دو طرح كى ہے:

پہلى قسم:

شرعى طور پر مشروع اور مطلوب زيارت تو مردوں كے ليے دعائے استغفار اور ان كے ليے رحم كى دعا كرنے، اور موت اور آخرت كى ياد كرنے كے ليے كى جاتى ہے، كيونكہ رسول كريم صلى اللہ عليہ وسلم كا فرمان ہے:(زُوروا القبورَ فإنّها تذكّركم الآخرةَ) .

’’ قبروں كى زيارت كيا كرو كيونكہ يہ تمہیں آخرت ياد دلاتى ہے‘‘۔ صحيح مسلم حديث نمبر ( 976 ).

اور نبى كريم صلى اللہ عليہ عليہ وسلم اور ان كے صحابہ كرام رضى اللہ تعالیٰ عنہم بھى قبروں كى زيارت كيا كرتے تھے.

عائشہ رضى اللہ تعالیٰ عنہا بيان كرتى ہيں كہ جب بھى ان كى بارى والى رات ہوتى رسول كريم صلى اللہ عليہ وسلم رات كے آخرى حصہ ميں بقيع كى طرف نكل جاتے اور وہاں يہ دعا پڑھا كرتے تھے:

(السّلام عليكم دار قوم مؤمنين، وأتاكم ما توعدون ، غدا مؤجلون ، وإنا إن شاء الله بكم لاحقون ، اللهم اغفر لأهل بقيع الغرقد(

’’ اے مومنوں كى قوم ! تم پر سلامتى ہو، اور جن چیزوں كا تم سے وعدہ كيا گيا وہ تمہیں دے ديا گيا، اور يقينا ہم بھى تمہارے ساتھ ملنے والے ہيں، اے اللہ اہل بقيع الغرقد كو بخش دے‘‘۔ صحيح مسلم شريف حديث نمبر ( 974 ).

دوسرى قسم: بدعی زيارت

بدعی زيارت يہ ہے كہ قبروں والوں سے دعا كرنا، اور ان سے مدد طلب كرنا، يا ان كے ليے جانور ذبح كرنا، يا ان كے ليے نذر ماننا اور چڑھاوے چڑھانا، يہ سب كچھ منكر اور شرك اكبر ہے، اور اسی میں یہ بھی شامل ہیں کہ: قبر كے پاس جا كر دعائيں كى جائيں اور وہاں نماز ادا كى جائےاور قرآن مجيد كى تلاوت كى جائے، يہ تمام چیزیں بدعت اور غير مشروع ہیں.

۲۔ اور رہا مسئلہ قبروں كے پاس نماز ادا كرنے كا، اگر آپ اس سے مراد نماز جنازہ لیتے ہیں تو يہ جائز ہے اس ميں كوئى ممانعت نہیں ہے ، اور اگر نماز جنازہ نہیں بلكہ فرضى اور نفلى عام نماز ہے تو يہ حرام اور ممنوع ہے.

قبر پر نماز جنازہ كے جائز ہونے كى دليل مندرجہ ذيل حديث ہے:

ابو ہريرہ رضى اللہ تعالیٰ عنہ بيان كرتے ہيں كہ: ايك کالامرد يا کالی عورت مسجد كى صفائى كيا کرتا تھا تو جب اس کی وفات ہوگئی، تو رسول كريم صلى اللہ عليہ وسلم نے اس كے متعلق دريافت كيا ،تو صحابہ كرام نے عرض كيا: وہ تو فوت ہو گيا ہے، تو رسول صلى اللہ عليہ وسلم نے فرمايا: (أفلا كنتُم آذنتُموني به؟ دلّوني على قبره، أو قال: قبرها، فأتى قبرها، فصلى عليها(

’’ تم نے مجھے كيوں نہ بتايا، مجھے اس كى قبر كا راستہ بتاؤ، يا فرمايا: اس عورت كى قبر كا راستہ بتاؤ، چنانچہ رسول كريم صلى اللہ عليہ وسلم اس كى قبر پر آئے اور نماز جنازہ ادا كى‘‘۔

صحيح بخارى حديث نمبر ( 446 ) صحيح مسلم حديث نمبر ( 956).

اور قبرستان ميں نماز جنازہ كے علاوہ كوئى اور نماز جائز نہ ہونے كى دليل:

ا ـ عائشہ اور عبد اللہ بن عباس رضى اللہ تعالیٰ عنہم بيان كرتے ہيں كہ: (لعنة الله على اليهود والنصارى اتخذوا قبور أنبيائهم مساجد(،يحذِّر مثل ما صنعوا .)

’’ جب رسول كريم صلى اللہ عليہ وسلم پر موت نازل ہوئى تو وہ اپنے چہرے پر ايك كپڑا ڈالنے لگے اور جب غشى كم ہوئى تو اپنے چہرہ سے پردہ اٹھایا اور اسى حالت ميں آپ فرمانے لگے:

’’ يہوديوں اور عيسائيوں پر اللہ تعالیٰ کی لعنت ہوكہ انہوں نے اپنے انبياء كى قبروں كو مسجديں بنا لیں‘‘۔

رسول كريم صلى اللہ عليہ وسلم اس سے ڈرا رہے تھے جو انہوں نے كيا تھا. صحيح بخارى حديث نمبر ( 425 ) صحيح مسلم حديث نمبر ( 531) .

ب ـ ابو مرثد غنوى رضى اللہ تعالیٰ عنہ بيان كرتے ہيں كہ رسول كريم صلى اللہ عليہ وسلم نے فرمايا:

( لا تَجلِسوا على القبور ولا تصلّوا إليها )

’’ قبروں پر نہ بیٹھو اور نہ ہى ان كى طرف رخ كر كے نماز ادا كرو‘‘۔ صحيح مسلم حديث نمبر ( 972 ).

۳۔ اور ہر سال منائے جانے والے عرس كے متعلق گزارش يہ ہے كہ:

’’ اگر اس ميں كوئى عبادت كى جاتى ہے، يا وہاں شريك ہونے والے گمان كرتے ہيں كہ وہ اس طرح اللہ تعالیٰ كا تقرب حاصل كرتے ہيں، يا اس ميں معاصى و گناہ اور منكرات كا ارتكاب كيا جاتا ہے، اور ڈھول باجا اور ناچ پايا جاتا ہے تو پھر وہاں شريك ہونا اور اس ميں شركت كرنا حرام اور ناجائز ہے.

اور اگر يہ سب كچھ نہ بھى ہو تو پھر بھى وہاں نہ جائيں كيونكہ شرعى عيد ( عيد الفطر اور عيد الاضحى ) كے علاوہ كوئى اور [تیسری] عيد منانا حرام اور بدعت ہے، اور وہاں حاضر ہونے والوں كا يہ اعتقاد ركھنا كہ اس عرس ميں ولى كى روح حاضر ہوتى ہے، يہ اعتقاد بھى حرام اور بدعت ہے، اور مستقبل ميں يہ اعتقاد دين بن سكتا ہے.‘‘۔

تو اس طرح لوگوں كے ليے فتنہ كا باعث بنےگا، لہذا اس كا انكار كرنا اور اس سے روكنا اور اس عرس ميں حاضر نہ ہونا واجب ہے، اللہ تعالیٰ ہى سيدھا راہ دكھانےوالا ہے.

۴۔ اور رہا مسئلہ كسى نيك اور صالح شخص سے اس كى زندگى ميں دعا كروانا ، تو زندہ شخص سے دعا كروانا جائز ہے، كيونكہ اس كى نيكى كى بنا پر قبوليت كى اميد كى جا سكتى ہے، اس كى دليل مندرجہ ذيل حديث ہے:

۱۔ عثمان بن حنيف رضى اللہ تعالیٰ عنہ بيان كرتے ہيں كہ ايك اندھا شخص نبى كريم صلى اللہ عليہ وسلم كے پاس آ كر كہنے لگا: (ادْعُ الله أَنْ يُعَافِيَني،قاَلَ:إِنْ شِئْتَ دَعَوْتُ لَكَ ، وَإِنْ شِئْتَ أَخَّرْتُ ذَلِكَ فَهُوَ خَيْرٌ(، وفي روايةٍ (وَإِنْ شِئْتَ صَبَرْتَ فَهُوَ خَيْرٌ لَكَ) . فَقَالَ:( أُدْعُهُ( ،فأَمَرَهُ أَنْ يتوَضَأَ فَيُحْسِنَ وُضُوءهُ، فَيُصَلِّيَ رَكْعَتَيْنِ ... .)

اللہ تعالیٰ سے دعا كريں كہ مجھے عافيت سے نوازے، تو رسول كريم صلى اللہ عليہ وسلم نے فرمايا:

’’اگر تم چاہو تو ميں دعا كر ديتا ہوں، اور اگر چاہو تو اسے مؤخر كر ديتا ہوں،اور يہ تمہارے ليے بہتر ہے‘‘.

اور ايك روايت ميں ہے كہ:

’’ اور اگر تم صبر كرو تو تمہارے ليے بہتر ہے‘‘۔

تو وہ كہنے لگا: دعا كرديں، تو رسول كريم صلى اللہ عليہ وسلم نے اسے اچھى طرح وضو كرنے كا حكم ديا اور پھر دو ركعتيں ادا كرنے کا ....... ‘‘

اسے امام احمد ( 4 / 138 ) اور ترمذى ( 5 / 569 ) اور ابن ماجۃ ( 1 / 441 ) نے روايت كيا ہے، اور يہ حديث صحيح ہے.

ب ۔ انس رضى اللہ تعالیٰ عنہ بيان كرتے ہيں كہ نبى كريم صلى اللہ عليہ وسلم جمعہ كا خطبہ ارشاد فرما رہے تھے كہ ايك شخص كھڑا ہو كر كہنے لگا: اے اللہ تعالیٰ كے رسول صلى اللہ عليہ وسلم اونٹ اور بكرياں ہلاك ہو رہے ہيں، لہذا آپ اللہ تعالیٰ سے دعا كريں كہ وہ ہميں بارش سے نوازے، تو رسول كريم صلى اللہ عليہ وسلم نے ہاتھ پھيلائے اور دعا كى‘‘۔

صحيح بخارى حديث نمبر ( 890 ) صحيح مسلم حديث نمبر ( 897 ).

۵ ۔ اور جب نبى يا ولى فوت ہو جائے تو اس سے دعا مانگنى مشروع نہیں ہے كيونكہ وہ دنيا سے منقطع ہو چكے ہيں، اور ايسا كرنا شرك كے دروازوں ميں سے ايك دروازہ ہے، جس ميں اس امت كے صالح لوگ صحابہ کرام اور ان کے پیروکاروں میں سے کوئی بھی داخل نہیں ہوا۔ .

اللہ سبحانہ وتعالیٰ كا فرمان ہے: ﴿ وَمَنْ أَضَلُّ مِمَّن يَدْعُو مِن دُونِ اللَّـهِ مَن لَّا يَسْتَجِيبُ لَهُ إِلَىٰ يَوْمِ الْقِيَامَةِ وَهُمْ عَن دُعَائِهِمْ غَافِلُونَ﴾[الأحقاف:5]

’’ اس سے بڑھ كر اور كون گمراہ اور ظالم ہو گا ؟ جو اللہ تعالیٰ كے علاوہ ايسوں كو پكارتا ہے جو قيامت تك اس كى دعا قبول نہیں كر سكتے، بلكہ ان كے پكارنے سے وہ تو بالكل بے خبر ہيں، اور جب لوگوں كو جمع كيا جائےگا تو يہ ان كے دشمن بن جائيں گے، اور ان كى عبادت سے صاف انكار كر جائيں گے‘‘۔ الاحقاف ( 5 – 6).

شيخ الاسلام رحمہ اللہ تعالیٰ كہتے ہيں:

’’ بندے سے مطلوب تو يہ ہے كہ اگر كوئى ايسا معاملہ ہو جس پر اللہ تعالیٰ كے علاوہ كوئى اور قادر نہ ہو، مثلا:

وہ اپنے مريض كى شفايابى آدميوں يا جانوروں سے مانگتا پھرے، يا اپنے قرض كى ادائيگى كسى غير متعين کی طرف كرے، يا اپنے اہل وعيال اور اسے جو دنياوى يا اخروى تكليف ہے ، يا دشمن پر غلبہ اور اس كے خلاف مدد، اور دل كى ہدايت و راہنمائى، اور گناہوں كى بخشش، يا جنت ميں داخلہ، يا جہنم سے نجات يا علم کا حصول ، يا قرآن مجيد كى تعليم، يا دل كى اصلاح، اور اخلاق كو بہتر بنانا، اور تزكيۂ نفس، يا اس طرح كے دوسرے امور، يہ سب ايسےہيں جو اللہ تعالیٰ كے علاوہ كسى اور سے طلب كرناجائز نہیں ہے .

اور نہ ہى يہ جائز ہے كہ وہ كسى فرشتے يا نبى يا شيخ چاہے وہ زندہ ہو يا مردہ يہ كہتا پھرے: ميرے گناہ معاف كردے، ميرے دشمن كے خلاف ميرى مدد كر، اور نہ ہى يہ كہہ سكتا ہے: ميرے مريض كو شفا دے، مجھے عافيت سے نواز، يا ميرے اہل و عيال اور ميرے جانوروں وغيرہ كو عافيت دے.

اور جس نے بھى يہ سب كچھ مخلوق سے مانگا چاہے وہ كوئى بھى ہو تو وہ اپنے رب كے ساتھ شرك كرنےوالوں ميں سے ہے، اور يہ اسى جنس یا قبیل كے مشركين ميں سے ہے جو فرشتوں اور انبياء اور ان مجسموں كى پوجا كرنے والوں ميں سے ہے جو انہوں نے ان كى شكلوں ميں بنا ركھے تھے، اور نصارىٰ كى اس دعا كى جنس ميں سے ہے جو انہوں نے مسيح عليہ السلام اور ان كى والدہ كے ساتھ كى تھى.

فرمان بارى تعالیٰ ہے: ﴿وَإِذْ قَالَ اللَّـهُ يَا عِيسَى ابْنَ مَرْيَمَ أَأَنتَ قُلْتَ لِلنَّاسِ اتَّخِذُونِي وَأُمِّيَ إِلَـٰهَيْنِ مِن دُونِ اللَّـهِ﴾[المائدة:116]

’’ اوروہ وقت بھى قابل ذكر ہے جب اللہ تعالیٰ فرمائےگا كہ اے عيسى بن مريم ! كيا تو نے ان لوگوں سے كہہ ديا تھا كہ مجھے اور ميرى ماں كو بھى اللہ تعالیٰ كے علاوہ معبود قرار دے لو! ‘‘۔ المائدۃ ( 116).

اور ايك مقام پر ارشاد بارى تعالیٰ ہے:﴿اتَّخَذُوا أَحْبَارَهُمْ وَرُهْبَانَهُمْ أَرْبَابًا مِّن دُونِ اللَّـهِ وَالْمَسِيحَ ابْنَ مَرْيَمَ وَمَا أُمِرُوا إِلَّا لِيَعْبُدُوا إِلَـٰهًا وَاحِدًا لَّا إِلَـٰهَ إِلَّا هُوَ سُبْحَانَهُ عَمَّا يُشْرِكُونَ http://tanzil.net/ - 9:31[التوبة:31]

’’ ان لوگوں نے اللہ تعالیٰ كو چھوڑ كر اپنے عالموں اور درويشوں كو رب بنا ليا، اور مسيح بن مريم كو بھى، حالانكہ انہیں صرف ايك اكيلے اللہ تعالیٰ ہى كى عبادت كا حكم ديا گيا تھا، جس كے سوا كوئى اور معبود نہیں، وہ پاك ہے ان كے شريك مقرر كرنے سے‘‘۔ التوبۃ ( 31).

ديكھيں: مجموع الفتاوى ( 27 / 67 - 68 ).

اور شيخ الاسلام رحمہ اللہ تعالیٰ كا يہ بھى كہنا ہے كہ:

’’ اور جو كوئى شخص كسى نبى يا نيك اور صالح كى قبر پر جائے، يا جس قبر كے متعلق يہ اعتقاد ركھا جاتا ہے كہ وہ نبى يا نيك شخص كى قبر ہے، ليكن حقيقت ميں وہ ايسے نہ ہو اور وہ اس قبر پر جا كر اس سے مانگے، اور اس سے مدد طلب كرے، تو اس كے تين درجے ہيں:

پہلا درجہ:

وہ شخص اس سے اپنى ضروريات طلب كرے، مثلا اس سے سوال كرے كہ وہ اس كى يا اس كے جانوروں كى مرض دور كر دے، يا اس كى قرض ادا كر دے، يا اس كے دشمن سے انتقام لے، يا اس كى جان اور اس كے اہل و عيال اور اس كے جانوروں كو عافيت ميں ركھے،اوراس طرح کے دیگر امور جن پر اللہ تعالیٰ كے علاوہ كوئى اور قادر نہیں ہے تو يہ صريح شرك ہے، اور اس كے مرتكب كو توبہ كروائى جائےگى اگر وہ توبہ كر لے تو ٹھيك ہے وگرنہ اسے قتل كر ديا جائےگا.

اور اگر وہ يہ كہے كہ ميں تو اس سے اس ليے سوال كرتا ہوں كہ وہ مجھ سے زيادہ اللہ تعالیٰ كے قريب ہے، تا كہ وہ ان معاملات ميں ميرى سفارش كردے كيونكہ ميں تو اسے وسيلہ بنا رہا ہوں، جس طرح كسى بادشاہ اور حكمران كے سامنے وزير اور مشير كو وسيلہ بنايا جاتا ہے، تو يہ مشركين اور نصارىٰ كے افعال ميں شامل ہوتا ہے، كيونكہ وہ يہ گمان كرتے ہيں كہ انہوں نے اپنے علماء اور درويشوں كو سفارشى بنايا ہوا ہے جو ان كے مطالبات ميں ان كى سفارش كرتے ہيں، اور اسى طرح اللہ تعالیٰ نے مشركوں كے متعلق خبر ديتے ہوئے فرمايا: ﴿ مَا نَعْبُدُهُمْ إِلَّا لِيُقَرِّبُونَا إِلَى اللَّـهِ زُلْفَىٰ ﴾[الزمر:3]

’’ ہم تو ان كى عبادت صرف اس ليے كرتے ہيں كہ يہ ( بزرگ ) اللہ كے قرب تك ہمارے رسائى كرا ديں ‘‘۔ [الزمر] ( 3 ).

اور ايك مقام پر اللہ سبحانہ وتعالیٰ نے فرمايا: ﴿ أَمِ اتَّخَذُوا مِن دُونِ اللَّـهِ شُفَعَاءَ قُلْ أَوَلَوْ كَانُوا لَا يَمْلِكُونَ شَيْئًا وَلَا يَعْقِلُونَ قُل لِّلَّـهِ الشَّفَاعَةُ جَمِيعًا لَّهُ مُلْكُ السَّمَاوَاتِ وَالْأَرْضِ ثُمَّ إِلَيْهِ تُرْجَعُونَ ﴾[الزمر 43 - 44 ]

’’ كيا ان لوگوں نے اللہ تعالیٰ كے سوا اوروں كو سفارشى مقرر كر ركھا ہے؟ آپ كہہ ديجئے! كہ اگر وہ كچھ اختيار نہ ركھتے ہوں، اور نہ ہى عقل ركھتے ہوں، كہہ ديجئے! كہ تمام سفارش كا مختار اللہ ہى ہے، تمام آسمانوں اور زمين كا راج اسى كے ليے ہے، تم سب اسى كى طرف لوٹائے جاؤ گے ‘‘۔ [الزمر43 - 44]

اور ايك مقام پر ارشاد ربانى كچھ اس طرح ہے:

﴿مَا لَكُم مِّن دُونِهِ مِن وَلِيٍّ وَلَا شَفِيعٍ أَفَلَا تَتَذَكَّرُونَ ﴾[السجدة:4]

’’تمہارے ليے اس كے سوا كوئى مددگار اور سفارشى نہیں، كيا پھر بھى تم نصيحت حاصل نہیں كرتے ‘‘۔ [السجدۃ: 4]

اور ايك اورمقام پر رب ذوالجلال نے فرمايا:﴿مَن ذَا الَّذِي يَشْفَعُ عِندَهُ إِلَّا بِإِذْنِهِ... ﴾[البقرة:255]

’’ كون ہے جو اس كے ہاں اس كى اجازت كے بغير سفارش كرے ‘‘۔ [البقرۃ : 255]

چنانچہ اللہ تعالیٰ نے اپنے اور مخلوق كے درميان فرق بيان كيا ہے.

کیونکہ لوگوں كى عام طور پر عادت ہے كہ وہ اپنے بڑے لوگوں كے پاس اسے سفارشى بنا كر لے جاتے ہيں جس پر وہ كرم كرتا ہو، اور وہ سفارشى اس سے مانگتا ہے تو وہ يا تو رغبت، يا ڈرتے ہوئے يا پھر شرم وحيا كرتے ہوئے، يا پھر مودت و محبت كرتے ہوئے اس كى حاجت و ضرورت پورى كر ديتا ہے.

ليكن اللہ تعالیٰ كے یہاں اس وقت تك كوئى سفارش كر ہى نہیں سكتا جب تك اللہ تعالیٰ اسے سفارش كى اجازت نہ دے، اور پھر سفارشى وہی کچھ كرتا ہے جو اللہ چاہے، اور سفارشى كى سفارش اللہ تعالیٰ كى اجازت اور حكم سے ہی ہو گى، اس ليے سب حكم اللہ تعالیٰ ہى كے ليے ہے.

اور بہت سے گمراہ لوگوں كا يہ كہنا كہ: يہ مجھ سے اللہ تعالیٰ كے یہاں زيادہ قريب ہے، اور ميں اللہ تعالیٰ سے دور ہوں، ميرے ليے اس واسطے كے بغير اللہ تعالیٰ كو پكارنا ممكن ہى نہیں ہے ، اور اس طرح كى اور مشركوں جيسى باتيں كرنا، حالانكہ اللہ سبحانہ وتعالیٰ تو فرما رہا ہے:﴿وَإِذَا سَأَلَكَ عِبَادِي عَنِّي فَإِنِّي قَرِيبٌ أُجِيبُ دَعْوَةَ الدَّاعِ إِذَا دَعَانِ﴾[البقرة:186]

’’ اور جب ميرے بندے آپ سے ميرے متعلق دريافت كريں تو ( كہہ ديجئے ) يقينا ميں قريب ہوں، جب پكارنے والا مجھے پكارتا ہے تو ميں اس كى پكار كو قبول كرتا ہوں ‘‘۔ [البقرۃ ] ( 187 ).

اور صحيح بخارى ميں ہے صحابہ كرام رضوان اللہ اجمعين ايك سفر ميں تھے اور وہ بلند آواز سے تكبيریں كہہ رہے تھے تو نبى كريم صلى اللہ عليہ وسلم نے فرمايا: )يا أيها الناس اربعوا على أنفسكم فإنكم لا تدعون أصم ولا غائبا بل تدعون سميعا قريبا...)

" اے لوگو! اپنے آپ پر نرمى كرو، كيونكہ كسى بہرے اور غائب كو نہیں پكار رہے، بلكہ سننے والے اور قريب اللہ تعالیٰ كو پكار رہے ہو‘‘۔

اور اللہ تعالیٰ نے اپنے تمام بندوں کو اللہ کے لیے نماز ادا کرنے،اسی سے مناجات کرنے کا حکم دیا ہے،اور ان میں سے ہرایک کو يہ كہنے كا حكم ديا: ﴿إياك نعبد وإياك نستعين﴾ [الفاتحة :5]

’’ ہم صرف تيرى ہى عبادت كرتے ہيں اور تجھ سے ہى مدد مانگتے ہيں‘‘۔ [ الفاتحۃ: 5]

اور اللہ سبحانہ وتعالیٰ نے قرآن مجيد ميں يہ خبر ديتے ہوئے فرمايا كہ مشركين كہتے ہيں: ﴿مَا نَعْبُدُهُمْ إِلَّا لِيُقَرِّبُونَا إِلَى اللَّـهِ زُلْفَىٰ ﴾[الزمر:3]

’’ہم تو ان كى عبادت صرف اس ليے كرتے ہيں كہ يہ ( بزرگ ) اللہ كے قرب تك ہمارے رسائى كرا ديں ‘‘ [ الزمر : 3 ]

پھر اس مشرك كو يہ كہا جائے كہ: جب تم اسے پكارتے ہو اور تم یہ خیال رکھتے ہو كہ يہ تمہارے حال كو زيادہ جانتا ہے، اور تمہارے سوال كو پورا كرنے كى زيادہ قدرت ركھتا ہے، يا تم پر زيادہ رحم كر سكتا ہے، تویہ جہالت و گمراہى اور كفر ہے.

اور اگر تم يہ جانتے ہو كہ اللہ تعالیٰ زيادہ علم ركھنے والا، اور يا قدرت ركھنے والا اور زيادہ رحم كرنے والا ہے، تو پھر تم نے اللہ تعالیٰ سے سوال كرنے كے بجائے كسى اور سے كيوں سوال کیا(یا کرتے ہو)؟

كيا آپ نے بخارى وغيرہ كى مندرجہ ذيل حديث نہیں سنى ہے ؟

جابر رضى اللہ تعالیٰ عنہ بيان كرتے ہيں كہ رسول كريم صلى اللہ عليہ وسلم ہميں ہر معاملہ ميں استخارہ كرنا اس طرح سكھاتے جس طرح قرآن مجيد كى سورۃ كى تعليم ديا كرتے تھے...

اور اگر تمہیں يہ علم ہے كہ وہ بزرگ تم سے زيادہ اللہ تعالیٰ كے قريب ہے، اور اللہ تعالیٰ كے یہاں تم سے زيادہ شان و مرتبہ ركھتا ہے، يہ بات تو حق اور صحيح ہے، ليكن اس حق كے ساتھ باطل چاہا گيا ہے، كيونكہ جب وہ آپ سے سے زيادہ قريب ہے، اور آپ سے زيادہ مرتبہ اور درجہ ركھتا ہے تو اس كا معنىٰ يہ ہوا كہ اللہ تعالیٰ اسے آپ سے زيادہ اجروثواب دےگا، اس كا یہ مطلب ہرگز نہیں ہے كہ جب آپ اسے پكاريں گے تو اللہ تعالی ٰ تمہاری حاجت اور ضرورت زیادہ سنے گا،اورجب تم اللہ کو (ڈائرکٹ) پکارو یا اس سےسوال کروگے تو کم سنے گا۔

مثال كے طور پر زيادتى اور ظلم و عدوان كى بنا پر اگر آپ سزا اور دعا کےرد ہونے كے مستحق ہيں تو نبى صلى اللہ عليہ وسلم اور صالح و نيك شخص اس چیز ميں مدد نہیں كرتےجسے اللہ تعالیٰ ناپسند كرتا ہو، اور ايسى اشياء ميں وہ كوشش نہیں كرتے جو اللہ تعالیٰ كو ناراض كرے اور غصہ دلائے، اور اگر ايسا نہیں ہے تو پھر اللہ تعالیٰ رحمت اور قبول كے زيادہ لائق ہے. اھـديكھيں: مجموع الفتاوى لابن تيميہ (27/ 72 - 75)

ہم سوال كرنے والے بھائى كو نصيحت كرتے ہيں كہ وہ سابقہ حوالہ جات كو ديكھ كر مزيد تفصيل سے مطالعہ ضرور كرے.

مجموع الفتاوى لابن تيميہ ( 27 / 72 - 75 )

ج

(طالبِ دُعا:عزیزالرحمن ضیاء اللہ سنابلیؔ: [email protected])