صالحين كےمقام ومرتبہ كا واسطہ دے كر اللہ تعالیٰ سےسوال كرنے كا حكم

وصف

سوال: کیا فوت شدہ صالحین اور نيك لوگوں كےمقام ومرتبہ کی بنا پر زندہ لوگوں پر اللہ تعالیٰ كرم كرتا ہے ، جب ہم اللہ تعالیٰ سے کسی صالح اور نيك شخص کی نيکی اور اصلاح اور اس کی عبادت كےواسطےسے کسی مصيبت سے چھٹكارا طلب كريں، حالانكہ ہميں علم ہے كہ فائدہ صرف اللہ تعالیٰ کی جانب سے ہی ہوتاہے ؟

Download
اس پیج کے ذمّے دار کو اپنا تبصرہ لکھیں

کامل بیان

    صالحين كےمقام ومرتبہ كا واسطہ دے كر

    اللہ تعالیٰ سےسوال كرنے كا حكم

    [الأُردية –اُردو Urdu]

    فتوی :شعبہ ٔعلمی اسلام سوال وجواب سائٹ

    —™

    ترجمہ: اسلام سوال وجواب سائٹ

    مراجعہ وتنسیق:عزیز الرّحمن ضیاء اللہ سنابلیؔ

    حكم سؤال الله بجاه الصالحين ومكانتهم عنده

    فتوى: القسم العلمي بموقع الإسلام سؤال وجواب

    —™

    ترجمة: موقع الإسلام سؤال وجواب

    مراجعة وتنسيق:عزيز الرحمن ضياء الله السنابلي

    :23265 صالحين كےمقام ومرتبہ كا واسطہ دے كراللہ تعالیٰ سےسوال كرنے كا حكم

    سوال: کیا فوت شدہ صالحین اور نيك لوگوں كےمقام ومرتبہ کی بنا پر زندہ لوگوں پر اللہ تعالیٰ كرم كرتا ہے ، جب ہم اللہ تعالیٰ سے کسی صالح اور نيك شخص کی نيکی اور اصلاح اور اس کی عبادت كےواسطےسے کسی مصيبت سے چھٹكارا طلب كريں، حالانكہ ہميں علم ہے كہ فائدہ صرف اللہ تعالیٰ کی جانب سے ہی ہوتاہے ؟

    بتاریخ 2005-05-22کو نشر کیا گیا

    جواب

    الحمد للہ:

    اس ميں کوئی شك نہیں كہ دعاشرعی عبادات ميں سےايك عظيم عبادت ہے جس كےذریعہ اللہ تعالیٰ كا تقرب حاصل کیا جاتا ہے، اور اس ميں بھی کوئی شك نہیں كہ يہ کسی بھی بندے كےلئےجائزنہیں ہے كہ وہ اللہ تعالیٰ کی عبادت اس طريقہ پر كرے جو نبی كريم صلى اللہ علیہ و سلم کی زبان سے مشروع نہیں ہے ، کیونكہ حديث ميں نبی كريم صلی اللہ علیہ و سلم كا فرمان ہے:

    عائشہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا بيان کرتی ہيں كہ رسول كريم صلى اللہ علیہ و سلم نےفرمايا: (مَنْ أَحْدَثَ فِي أَمْرِنَا هَذَا مَا لَيْسَ مِنْهُ فَهُوَ رَدٌّ)

    ’’ جس نےبھی ہمارے دين ميں کوئی ايسا كام ايجاد کیا جواس ميں سے نہیں ہے تو وہ مردود ہے‘‘

    صحيح بخاری حديث نمبر ( 2499 ) صحيح مسلم حديث نمبر

    ( 3242 ) اور مسلم کی ايك روايت كےالفاظ ہيں: (مَنْ عَمِلَ عَمَلاً ليسَ عليه أمرُنا هذا فهو رَدٌّ)

    ’’ جس نےبھی ايسا کوئی عمل کیا جس پرہمارا حكم نہیں ہے تو وہ مردود ہے‘‘ صحيح مسلم حديث نمبر ( 3243 ) .

    اس سےيہ معلوم ہوا كہ اللہ تعالیٰ كواس كا وسيلہ يا واسطہ دينا جو نبی كريم صلى اللہ علیہ و سلم سےثابت ہی نہیں ہے، نہ تو قولی اورفعلی طور پر اور نہ ہی ان صحابہ كرام نےکیا ، جونيکی اورخير ميں ہم سےزيادہ سبقت لےجانےوالےتھے ايسا كام كرنا بدعت اور برائی ہے، وہ بندہ جو اللہ تعالیٰ سےمحبت كرتا ہے اور رسول كريم صلى اللہ علیہ و سلم کی اتباع وپیروی كرتا ہے وہ اس سےاجتناب كرے اورايسےطريقہ سےعبادت نہ كرے جو شرعا ثابت ہی نہیں ہے.

    لہذا جب ہم ـسائل نےجو كچھ ذكر کیا ہے اسےديكھتےہيں كہ صالح اور نيك لوگوں كےمقام ومرتبہ اوران کی عبادت اورمقام كا اللہ تعالیٰ كو وسيلہ دينا، توہم اس كام كو ايك نئی ايجاد پاتےہيں جو نبی صلى اللہ علیہ وسلم سےثابت نہیں ہے، اور نہ ہی صحابہ كرام رضی اللہ تعالیٰ عنہم سےثابت ہے کیونکہ انہوں نے کسی ايك دن بھی اللہ تعالیٰ كو رسول كريم صلى اللہ علیہ و سلم كےمقام ومرتبہ اوران کی شان كا وسيلہ ديا ہو نہ تو نبی كريم صلى اللہ علیہ وسلم کی زندگی ميں نہ ہی آپ کےوفات كےبعد، بلكہ نبی كريم صلى اللہ علیہ و سلم کی زندگی ميں وہ نبی كريم صلى اللہ علیہ و سلم کی دعا سےوسيلہ پكڑتے،اور نبی كريم صلى اللہ علیہ و سلم ان كےلئےاللہ تعالیٰ سےدعا فرمايا كرتےتھے، اورجب نبی كريم صلى اللہ علیہ و سلم فوت ہوگئے توانہوں نے زندہ اور صالح افراد کی دعا كا وسيلہ بنايا اور نبی كريم صلى اللہ علیہ و سلم کی شان اور مرتبہ كےوسيلہ كو ترك كرديا، جو كہ واضح طور پر اس بات کی دلیل ہے كہ اگر نبی كريم صلى اللہ علیہ و سلم کی ذات يا ان كےمقام ومرتبہ كا وسيلہ خيرو بھلائی کے حصول کے لیے جائزہوتا تو صحابہ كرام ہم سےسبقت لے جاتےہوئےايسا ضرور كرتے.

    اور كون ايسا شخص ہے جويہ خيال كرےكہ وہ عمر بن خطاب رضی اللہ تعالیٰ عنہ سےخيروبھلائی ميں زيادہ حرص ركھتا ہے؟ ديكھيں عمربن خطاب رضی اللہ تعالیٰ عنہ نبی كريم صلى اللہ علیہ و سلم كےمقام مرتبہ اوران کی شان كا وسيلہ دينے سے اعراض كررہے ہيں بلكہ انہوں نے نبی كريم صلى اللہ علیہ و سلم كےچچا کی دعا كا وسيلہ بنايا، اور صحابہ كرام بغير کسی مخالفت اور انكار كے اس کی گواہی ديتےہيں جيسا كہ صحيح بخاری ميں ہے:

    انس بن مالك رضی اللہ تعالى عنہ بيان كرتےہيں كہ:

    ) أَنَّ عُمَرَ بْنَ الْخَطَّابِ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ كَانَ إِذَا قَحَطُوا اسْتَسْقَى بِالْعَبَّاسِ بْنِ عَبْدِ الْمُطَّلِبِ فَقَالَ :" اللَّهُمَّ إِنَّا كُنَّا نَتَوَسَّلُ إِلَيْكَ بِنَبِيِّنَا فَتَسْقِينَا وَإِنَّا نَتَوَسَّلُ إِلَيْكَ بِعَمِّ نَبِيِّنَا فَاسْقِنَا قَالَ فَيُسْقَوْنَ (

    ’’ جب قحط پڑتا تو عمر بن خطاب رضی اللہ تعالیٰ عنہ عباس بن عبدالمطلب رضی اللہ تعالیٰ عنہ سےدعا كرواتے اور يہ كہتے: اے اللہ ہم تيری طرف اپنےنبی كا وسيلہ بنايا كرتےتھےتو ہميں تو بارش عطا كرتا تھا، اور اب ہم اپنےنبی كےچچا كا وسيلہ بناتےہيں توہميں بارش عطا فرما، وہ كہتےہيں كہ بارش ہوجايا کرتی تھی ‘‘ صحيح بخاری حديث نمبر ( 954 ).

    نبی صلى اللہ علیہ و سلم يا عباس رضی اللہ تعالیٰ عنہ كو وسيلہ بنانے كا معنیٰ يہ ہے كہ ان کی دعا كا وسيلہ بناتےتھےجيسا كہ حديث كےبعض طرق ميں اس كوبيان بھی کیا گيا ہے:

    انس رضی اللہ تعالیٰ عنہ بيان كرتےہيں كہ جب نبی كريم صلى اللہ علیہ و سلم كےدور ميں بارش نہ ہوتی اور قحط پڑجاتا تو صحابہ كرام ان سے بارش کی دعا طلب كرتےتوانہیں بارش مل جاتی تھی ، اور جب عمر رضی اللہ تعالیٰ عنہ کی امارت ميں ايسا ہوا‘‘ اس كےبعد باقي حديث ذكر کی، اسےاسماعيلی نے صحيح پر اپنی مستخرج ميں بيان کیا ہے.

    اور مصنف عبدالرزاق ميں ابن عباس رضی اللہ تعالیٰ عنہما کی حديث ميں ہےكہ:( أَنَّ عُمَر اِسْتَسْقَى بِالْمُصَلَّى , فَقَالَ لِلْعَبَّاسِ : قُمْ فَاسْتَسْقِ , فَقَامَ الْعَبَّاس)

    ’’عمر رضی اللہ رضی اللہ تعالیٰ نےعيدگاہ ميں بارش کی دعا کی اور عباس رضی اللہ تعالیٰ عنہ كو كہنےلگے: اٹھو اور بارش کی دعا كرو، تو عباس رضی اللہ تعالیٰ عنہ كھڑے ہوئے‘‘۔

    پھر باقي حديث ذكر کی،اسے حافظ ابن حجر رحمہ اللہ تعالیٰ نے فتح الباری ميں نقل کیا اورخاموشی اختيار کی ہے.

    تواس سےواضح ہوا كہ عمر رضی اللہ تعالیٰ عنہ نےجو توسل اور وسيلہ كا قصد کیا تھا تو ايك نيك اور صالح شخص کی دعا تھی جو كہ صحيح اور مشروع ہے، اس كےبہت سےدلائل پائےجاتےہيں اور صحابہ كرام كےحالات سے يہ معلوم ہے كہ جب وہ قحط سالی كا شكار ہوتےاور بارش نہ ہوتی تو رسول كريم صلى اللہ علیہ و سلم سے دعا كرنےكو كہتےتو رسول كريم صلى اللہ علیہ و سلم كےدعا كرنےسےبارش ہوجاتی ، اس سلسے ميں بہت سی احاديث مشہورہيں.

    مستقل فتویٰ كميٹی كےفتاویٰ ميں ہے كہ:

    ’’ رسول كريم صلى اللہ علیہ و سلم كے مقام اور مرتبہ يا کسی صحابی يا ان كےعلاوہ کسی اور كا شرف و مقام يا اس کی زندگی كےواسطےاوروسيلہ سےدعا كرنا جائزنہیں، اللہ تعالیٰ نےاسےمشروع نہیں کیا،اس لئےكہ عبادات توقيفی ہيں، بلكہ اللہ تعالیٰ نے اپنےبندوں كےلئے اپنےناموں اور صفات اوراس کی توحيد اور اس پرايمان اور اعمال صالحہ كا وسيلہ مشروع اور جائز کیا ہے، نہ كہ کسی کی زندگی اوراس كےمقام ومرتبہ كاوسيلہ، لہذا مكلفين پر واجب ہے كہ وہ اس پر اكتفا كريں جواللہ تعالیٰ نےان كےلئےمشروع کیا ہے، تواس سےيہ پتہ چلتا ہے كہ کسی کی زندگی يا مقام مرتبہ وغيرہ كاوسيلہ دين ميں نئی ايجاد كردہ بدعت ہے.‘‘ اھ ديكھيں: (فتاوي اللجنۃ الدائمۃ للبحوث العلميۃ والافتاء: 1/ 153)

    اورشيخ الاسلام ابن تيمیہ رحمہ اللہ تعالیٰ كہتےہيں:

    ’’كسى كےلئے بھى يہ جائزنہیں كہ وہ اپنے سے پہلے سلف صالحين كا اللہ تعالیٰ كوواسطہ دے، کیونكہ ان كا نيك اورصالح ہونا اس كےعمل ميں سےنہیں كہ اسےاس كا بدلہ ديا جائے، مثلا غار والے تين اشخاص نے اپنے سے پہلے نيك وصالح لوگوں كا وسيلہ نہیں ديا بلكہ انہوں نےاللہ تعالیٰ كےسامنے اپنے اعمال صالحہ كو وسيلہ بنايا تھا ‘‘اھ.

    اللہ تعالیٰ سےہمارى دعا ہے كہ وہ ہميں موت تك اپنےدين اور شريعت پر ثابت قدم ركھےآمين.

    واللہ تعالیٰ اعلم.

    ديكھيں: التوسل وأنواعہ و أحكامہ تالیف: الشيخ البانى رحمہ اللہ (ص 55 )، اور فتاوى اللجنۃ الدائمۃ للبحوث العلميۃ والافتاء ( 1 / 153 ) اور التوصل الى حقيقۃ التوسل تالیف الشيخ محمد نسيب الرفاعى (ص 18 ).

    واللہ اعلم

    اسلام سوال وجواب

    (طالبِ دُعا:عزیزالرحمن ضیاء اللہ [email protected])