کیا ہندومت بہتر ہے یا اسلام، اور کیوں؟

وصف

میں ایک ہندوشخص ہوں اورمیرا تعلق ماریشس سے ہے جو بحرہند کےملکوں میں سے ایک ملک ہے،براہ کرم مجھے یہ بتلائیں کہ کون سا دین سب سے بہترہے،کیا ہندودھرم بہتر ہے یا اسلام، اور کیوں؟

Download
اس پیج کے ذمّے دار کو اپنا تبصرہ لکھیں

کامل بیان

ایک ہندوشخص کا سوال:کیا ہندومت بہترہے یا اسلام، اورکیوں؟

[الأُردية –اُردو Urdu]

اسلام سوال وجواب سائٹ

—™

ترجمہ:شفیق الرّحمن ضیاء اللہ مدنیؔ

مراجعہ:عطاء الرّحمن ضیاء اللہ

 هندوسي يتساءل: أيّهما أفضل الهندوسية أم الإسلام، ولماذا ؟

موقع الإسلام سؤال وجواب

—™

ترجمة:شفيق الرحمن ضياء الله المدني

مراجعة:عطاء الرّحمن ضياء الله

ایک ہندوشخص کا سوال:کیا ہندومت بہترہے یا اسلام، اورکیوں؟

سوال:میں ایک ہندوشخص ہوں اورمیرا تعلق ماریشس سے ہے جو بحرہند کےملکوں میں سے ایک ملک ہے،براہ کرم مجھے یہ بتلائیں کہ کون سا دین سب سے بہترہے،کیا ہندودھرم بہتر ہے یا اسلام، اور کیوں؟

جواب:

الحمد للہ

سب سے بہتر دین وہ دین ہے جواس بات کی دلیل رکھتا ہے کہ وہ وہی دین ہے جسے خالق عزوجل پسند فرماتا ہے،اورجسے اس نے انسانیت کے لئے روشنی کےطور پر نازل فرمایا ہے تاکہ دنیوی زندگی میں انہیں سعادت دے،اور اخروی زندگی میں انہیں (جہنم )سے نجات دلائے۔

ثبوت ودلیل کے لئے ضروری ہے کہ وہ روشن وظاہرہو، جس کے بارے میں لوگوں کو کوئی شک نہ ہو،اورنہ ہی اس جیسا لانے کی وہ طاقت رکھتے ہوں،کیونکہ اللہ عزوجل ان دجال اورباطل لوگوں سے خوب واقف ہے جو جھوٹے طور پرکمزور اورگھٹیا دلیلیں پیش کرتے ہیں ۔اسی لئے اللہ سبحانہ وتعالیٰ نے اپنے نبیوں ورسولوں کی بھرپور معجزات اورظاہری نشانیوں کے ذریعہ تائید کی،جولوگوں کو اس بات کا یقین دلاتی ہیں کہ یہ رسول سچ ہے اور اس کے رب کی طرف سے اسے وحی کی جاتی ہے،تاکہ لوگ اس پر ایمان لائیں اور اس کی اتباع کریں۔

اس طرح اسلام کے پیغمبر محمد صلی اللہ علیہ وسلم روشن معجزات کو لائے،جو بہت زیادہ ہیں ،اورجن کے بارے میں ضخیم کتابیں تالیف کی گئیں،لیکن ان میں سب سے عظیم معجزہ قرآن عظیم ہے جس نے اہل عرب کوچیلنج کیا کہ ایسا کلام لائیں جو کمالات کے تمام پہلوؤں میں اس کے مانند ہو،اس لئے کہ اس میں ایسا بلاغی اعجاز ہے جس کے مثل فصحائے قریش کی زبانیں بولنے سے عاجز رہیں جو کہ مورخین کی شہادت کے مطابق فصاحت کی چوٹی پر پہنچے ہوئے تھے، اسی طرح ا س میں سائنسی اعجاز ہے اس طور پر کہ قرآن کریم - اسی طرح سنت نبوی - ایسے علمی حقائق پر مشتمل ہے جس کی طرح اس زمانہ میں کسی بشر کے لئے لانا ممکن نہیں تھا مگریہ کہ اس کی طرف وحی کی جاتی ہو، اسی طرح اس میں غیبی اعجاز ہے اس طور پر کہ اس نے اولین وآخرین کی تاریخ کے بارے میں گفتگو فرمایا ہے، جبکہ محمد صلی اللہ علیہ وسلم کو تاریخ کے بارے میں پہلے سے کچھ بھی جانکاری نہیں تھی، اور نہ ہی اس ملک عرب میں اہل کتاب کے چندباقی شدہ لوگوں کے علاوہ سرے سے کوئی اس کاجاننے والاتھا۔اوراس میں تشریعی اعجازبھی ہے جوایک مربوط نظام کی شکل میں ظاہر ہوتا ہے جس کی ابتدا اخلاق،ذاتی آداب،خاندانی احکام اور ذاتی احوال سے ہوتی ہے،اور جوبین الاقوامی روابط اورسماجی احکامات کو منظم کرتی ہے، اوربنی آدم کے درمیان آزادی وانصاف کے مبادی کی تاسیس کرتی ہے، اور دنیا ،آخرت،غیب اور سعادت وبدبختی کے مفاہیم کو ثابت کرتی ہے، اوریہ سب ایک ایسے امّی شخص سے صادرہوتی ہیں جو لکھنا پڑھنا نہیں جانتا،لیکن اس کے دوستوں سے پہلے اس کے اعداء اس کی سچائی ودیانتداری کی گواہی دیتے ہیں۔اوروہ اس قرآن کو لاتا ہے تاکہ اس کے ذریعہ ایسے زبردست اسلامی تہذیب کی بنا ڈالے جو چودہ صدی سے زیادہ مدت تک دراز رہتی ہے۔

ہماری نظر میں سب سے بہترین دین وہ دین ہے جو آپ کو صرف ایک طاقت سے مربوط کرتا ہے،یہ وہی طاقت ہے جس نے آپ کو پیدا کیا ہے اور آپ پر انعام کیا ہے، اور جو آسمان وزمین کی چابیوں کی مالک ہے، یہ وہی طاقت ہے جس پر اگر آپ ایمان لائے اور نیک عمل کئے تو آپ پر رحم کرے گی اور آپ کی اخروی زندگی میں آپ کےساتھ ہوگی، اور وہ اللہ سبحانہ وتعالیٰ ہے، جو ایک ،تنہا اور بے نیاز ہے۔ اوراس کے علاوہ کسی چیز سے آپ کو مربوط نہیں کرتاہے، کیونکہ اس کے علاوہ ساری چیز مخلوق ، کمزور اور اللہ سبحانہ تعالیٰ کی محتاج ہے۔

اس طرح سے انسان عبودیت وغلامی کی ساری قیودوبیٹریوں سے آزاد ہوکر صرف اللہ سبحانہ وتعالیٰ کا ہوجاتا ہے، اورزمین کے ان تمام روابط سے نجات پاجاتا ہے جوانسانیت کے لئے ذلت ورسوائی،ظلم واستبدا د اورتسلّط کا سبب بنتی ہیں، اوریہ سب اس باطل دین کے نام پرہوتا ہے جوطبقاتی نظام کوروارکھتاہے۔‘‘ (دیکھیں:ہندوستانی سماج میں طبقاتی نظام کا مبحث بحوالہ کتاب ڈاکٹرضیاء الرحمن اعظمی’’دراسات فی الیہودیہ والمسیحیہ وادیان الہند ‘‘ ص:۵۶۵)۔

اورجو غیراللہ کی عبودیت وغلامی کو ثابت کرتا ہے، بلکہ جانوروں جیسے گائیں وغیرہ کے لئے بھی عبودیت کو ثابت کرتا ہے ۔اوراس طرح سے وہ انسان جسے اللہ عزّوجل نے عقل اورروح کے ذریعہ -جوکہ اللہ عزّوجل کی روح سے ہے- عزت وتکریم بخشی تھی ان چوپایوں کا غلام ہوکر رہ جاتا ہے جن کی وہ تقدیس واحترام اور تعظیم کرتا ہے، جبکہ یہ چوپائے کسی نفع ونقصان کے مالک نہیں ہیں، بلکہ وہ خود اپنی نفس کے بھی مالک نہیں چہ جائے کہ غیرکے ہوں۔

اور بہترین دین وہ دین ہے جوایسے بھرپور نظام کا مالک ہے جو انسان کو دنیا وآخرت میں سعادت کی راہ کی طرف رہنمائی کرتا ہے، کیونکہ ادیان کا مقصدسعادت کی حصول یابی ہے، اوریہ حصول یابی اللہ سبحانہ وتعالیٰ کی ہدایت کے بغیرممکن نہیں ہے۔

اس بھرپور سعادت کے حصول کے لئےاسلام کے اندر نفسیاتی، خاندانی، سماجی، سیاسی،اوراقتصادی پہلوؤں میں ہر طرح کی ہدایت موجود ہے۔ اور جب مسلمانوں نے سابقہ زمانے میں اس ہدایت کو اپنایا تو زمین کو عدل وانصاف اورہرطرح کی بھلائی سے معمورکردیا ،اور جب وہ اس سے تہی دامن وکنارہ کش ہوئے تو ان سے اللہ کی طرف سے عطا کردہ تمام منفعتیں دور ہوگئیں۔

سب سے بہتر وہ دین ہے جو ترتیب زمانی کے لحاظ سے سب سےآخرمیں آیا،جوسابقہ تمام سچے ادیان کی تصدیق کرنے والاہے، اور بعض سابقہ شریعتوں کو منسوخ کرنے والا ہے جو اس وقت کے زمان ومکان کے اعتبار سے مناسب تھیں،اوران ادیان میں وارد بشارتوں کی تائید کرنے والا ہےجو آخری زمانہ میں بھیجے جانے والے نبی کے بارے میں خبردیتی ہیں اور اس کے بعض علامات وصفات کا تذکرہ کرتی ہیں، چنانچہ قرآن کریم نے ہمیں اس بات کی خبردی ہے کہ تمام سابقہ رسولوں اورنبیوں کو معلوم تھا کہ آخری زمانہ میں ایک ایسا نبی بھیجا جائے گا جس کا نام محمد ہے،اس کے ذریعہ اللہ تعالیٰ رسالتوں کا سلسلہ ختم کردے گا، چنانچہ اللہ کا فرمان ہے:

﴿وَإِذْ أَخَذَ اللَّهُ مِيثَاقَ النَّبِيِّينَ لَمَا آتَيْتُكُمْ مِنْ كِتَابٍ وَحِكْمَةٍ ثُمَّ جَاءَكُمْ رَسُولٌ مُصَدِّقٌ لِمَا مَعَكُمْ لَتُؤْمِنُنَّ بِهِ وَلَتَنْصُرُنَّهُ قَالَ أَأَقْرَرْتُمْ وَأَخَذْتُمْ عَلَى ذَلِكُمْ إِصْرِي قَالُوا أَقْرَرْنَا قَالَ فَاشْهَدُوا وَأَنَا مَعَكُمْ مِنَ الشَّاهِدِينَ ﴾ [آل عمران:81]

’’ جب اللہ تعالیٰ نے نبیوں سے عہد لیا کہ جو کچھ میں تمہیں کتاب وحکمت دوں پھر تمہارے پاس وه رسول آئے جو تمہارے پاس کی چیز کو سچ بتائے تو تمہارے لئے اس پر ایمان ﻻنا اور اس کی مدد کرنا ضروری ہے۔ فرمایا کہ تم اس کے اقراری ہو اور اس پر میرا ذمہ لے رہے ہو؟ سب نے کہا کہ ہمیں اقرار ہے، فرمایا تو اب گواه رہو اور خود میں بھی تمہارے ساتھ گواہوں میں ہوں‘‘۔

اسی لئے ہم سابقہ مذاہب کے غیر تحریف شدہ بقایات میں اس نبی کریم کے سلسلے میں واضح بشارتیں پاتے ہیں،چنانچہ تورات وانجیل ان بشارتوں سے بھری پڑی ہوئی ہیں، لیکن ہم کو انہیں یہاں ذکرکرنے کی کوئی ضرورت نہیں ہے، بلکہ ہم یہاں پراپنے نبی محمد صلی اللہ علیہ وسلم کے بارے میں ہندومت کے مقدّس کتابوں میں وارد کھلی بشارتوں کو ذکرکرنا چاہتے ہیں،یہ بشارتیں ضروری طورپر ان ساری کتابوں کی سلامتی وسچائی پردلالت نہیں کرتیں،بلکہ ان میں ثابت بعض سچائی پر دلالت کرتی ہیں جو زمانہ قدیم میں مبعوث کئے گئے نبیوں اور رسولوں سے ماخوذ ہے۔

اوران تمام نصوص کو ڈاکٹرضیاء الرحمن اعظمی حفظہ اللہ نے اپنی شاندار کتاب ’’دراسات فی الیہودیۃ والمسیحیۃ وادیان الہند‘‘ ص:۷۰۳۔۷۶۴) میں ذکرفرمایا ہے، اورخاص بات یہ ہے کہ ڈاکٹرصاحب خود ہندوستان سے تعلّق رکھتے ہیں،اوران کتابوں کے مطالعہ میں کافی مہارت رکھتے ہیں جو ہماری جانکاری کے مطابق ابھی تک عربی زبان میں منتقل نہیں ہوئی ہیں:

۱۔اس وقت (شمبھل ) [امن والےشہر] میں (وشنویاس) [عبداللہ] نرم دل انسان کے گھر میں(کلکی) [گناہوں اور برائیوں سے پاک] پیدا ہوگا‘‘۔(بھگوت پران۲؍۱۸)۔

اورمعلوم رہے کہ ہمارے نبی محمدصلی اللہ علیہ وسلم کے والد کا نام (عبد اللہ) تھا، اور قرآن کریم میں مکہ کو(امن والا شہر ) کہا گیا ہے۔

۲۔ (کلکی([1])) [تعریف کیا گیا یعنی محمد] (وشنویاس) [عبد اللہ] کے گھرمیں اس کی بیوی (سومتی) [امن وسلامتی والی ،آمنہ] سے پیدا ہوگا‘‘۔(کلکی پران۲؍۱۱)۔

اورمعلوم رہے کہ ہمارے نبی محمد صلی اللہ علیہ وسلم کی ماں کا نام آمنہ بنت وہب ہے۔

۳۔وہ چاند کے مہینے کی بارہ تاریخ کو پیدا ہوگاجس ماہ کا نام (مادوہ) ہے یعنی[وہ ماہ جو دلوں کے نزدیک کافی محبوب ہے،اوروہ ماہ ربیع ہے]۔(کلکی پران۲؍۱5)۔

اورسیرت نبویہ کی کتابیں آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی تاریخ پیدائش کے ذکرسے بھری پڑیں ہیں، اوریہ کہ آپ(علماء کے مختلف فیہ قول کے مطابق) ماہ ربیع الاول کی بارہویں تاریخ کو پیدا ہوئے۔

۴۔(کالکی) آٹھ صفات سے متصف ہوگا:

۱۔پرگیا(PRAGYA)’’مستقبل کی خبردے گا‘‘۔

۲۔کلینتا(CULINATA)’’قوم میں سب سے بہترہوگا‘‘۔

۳۔اندری دمن(INDRIDAMAN) ’’اپنے نفس پر قابو رکھنے والا ہوگا‘‘۔ ۴۔شروت(SHRUT)’’اس کی طرف وحی کی جائے گی‘‘۔ ۵۔پراکرم(PRAKRAM)’’مضبوط جسم والا ہوگا ۔

۶:ابھوبھاشتیا(ABHUBHASHITA)’’کم گو ہوگا‘‘

۷۔دان(DAN)’’کریم وسخی ہوگا‘‘۔

۸: کریتگیتا (KRITAGYATA)’’احسان مند ہوگا‘‘۔

یہ ہمارے سردار محمد صلی اللہ علیہ وسلم کی چندمعمولی صفات ہیں جن کا اعتراف آپ کے جاننے والے تمام اہل عرب کرتے تھے، چاہے وہ اسلام میں داخل ہوئے ہوں یا کفرپر باقی رہے ہوں ۔

۵۔’’وہ گھوڑا کی سواری کرے گا، اور اس سے نور نکلے گا،اور اس کے رعب وجمال میں اس کا کوئی مشابہ نہ ہوگا، وہ ختنہ کیا ہوا پیدا ہوگا،اور لاکھوں ظالموں اور کافروں کو پھانسی دے گا‘‘(بھگوت پران ۱۲۔۲۔۲۰)۔

اورختنہ ہندو ؤں کے یہاں نہیں کیا جاتا ہے،بلکہ یہ امّت محمد صلی اللہ علیہ وسلم کے مردوں پر اسلامی فرض ہے۔

۶۔’’وہ اپنےچارساتھیوں کی مدد سے شیطان کو ہلاک کرے گا، اورجنگوں میں اس کی مدد کے لئے زمین پرفرشتے نازل ہوں گے۔ ‘‘ (کلکی پران ۲؍۵-۷)۔

ہمارے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے چار صحابہ وہ خلفائے راشدین ہیں جنہوں نے آپ کے بعد حکومت کیا،اور جن کے بارے میں علمائے اسلام کا اتفاق ہے کہ وہ ہمارے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے بعد امّت کے سب سے بہتر لوگ ہیں۔

۷۔’’اپنی ولادت کے بعد وہ پہاڑ کی طرف متوجہ ہوکر (پرشو رام) بڑے استاد سے تعلیم حاصل کرے گا ، پھر شمال کی طرف جائے گا،اورپھروہ اپنی جائے پیدائش کی طرف لوٹے گا‘‘۔(کلکی پران)۔

اور اسی طرح نبی صلی اللہ علیہ وسلم غارحرا میں عبادت کے لئے تنہائی اختیارکرتے تھےیہاں تک کہ جبرئیل امین آپ پروحی لے کرنازل ہوئے،پھرشمال کی طرف مدینہ منورہ ہجرت کئے،پھرمکہ کی طرف فاتحانہ شان سے لوٹے‘‘۔

۸۔’’لوگ آپ کے جسم سے نکلنے والی خوشبوسےمسحورہوجائیں گے، آپ کے جسم طاہرکی خوشبوہواسے ملے گی اور نفوس وارواح کو لطف اندوز کردے گی۔‘‘(بھگوت پران ۲؍۲؍۲۱)۔

۹۔’’ سب سے پہلے جس نے ذبیحہ اور قربانی دی وہ احمد ہے پس وہ سورج کی طرح ہوگیا‘‘(سام وید:۳؍۶؍۸)َ

۱۰۔’’عنقریب روحانی استاداپنے ساتھیوں کے ساتھ تشریف لائے گا، اور لوگوں کے مابین (محامد) سے مشہورہوگا،اورسرداراس کا یہ کہتے ہوئے استقبال کرے گا:

’’اے صحرا نشین،شیطان کوشکست دینےوالے،معجزات والے،ہربرائی سے پاک،حق پرگامزن،اللہ کی معرفت میں ماہر،اوراس سے محبت کرنے والے،تجھ پر سلام ہو، میں تیرا غلام ہوں،تیرے قدموں تلے جیتا ہوں‘‘۔(بھوشیا پران ۳؍۳؍۵۔۸)۔

۱۱۔’’ان ادوار میں جب انسانوں کے لئے اجتماعی بھلائی کے ظہور کا وقت آئے گا تووہ حق آگے بڑھ جائے گا،اور(محمد) کے ظہور کے ساتھ ساری تاریکیاں کافور ہوجائیں گی،اورحکمت ودانائی وفہم کا ظہور ہوگا‘‘۔(بھگوت پران۲؍۷۶)۔

یہ نصوص اس کے (محمد) اور (احمد) نام سے ذکرکئے جانےکے بارے میں بالکل واضح ہیں،اوریہ سب آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے ناموں میں سے ہیں۔ارشاد باری تعالیٰ ہے:

﴿وَمُبَشِّرًا بِرَسُولٍ يَأْتِي مِنْ بَعْدِي اسْمُهُ أَحْمَدُ ﴾ [الصف:6]

’’اور اپنے بعد آنے والے ایک رسول کی میں تمہیں خوشخبری سنانے واﻻ ہوں جنکا نام احمد ہے۔ ‘‘

۱۲۔’’اگنی دیوی روشن شریعت والی،ہم نے تجھے نذرانے پیش کرنے کیلئے زمین کی پر بنایا ہے ‘‘۔(رگ وید:۳؍۲۹؍۴)۔

۱۳۔’’اور(اتھرویدا) و(رگ وید) کے متعدّد صفحات میں الگ الگ طور پر (نراشنس )یعنی ’’تعریف کیا ہوا انسان ‘‘کے بارے میں بشارتیں آئی ہوئی ہیں۔

اوراس کے وصف میں آیا ہے کہ:

’’وہ زمین پرسب سے خوبصورت ہوگا،اوراس کا نور گھرگھر داخل ہوگا، لوگوں کو گناہوں اوربرائیوں سے پاک کرے گا، اونٹ کی سواری کرے گا، اس کی بارہ بیویاں ہوں گی۔۔۔اے لوگو سنو! بے شک (نراشنس) کا ذکر بلند ہوگا۔۔۔بے شک (نراشنس) کی تعریف کی جائے گی،اور وہ ساٹھ ہزارنوے لوگوں کےدرمیان سے ہجرت کرے گا۔۔۔اور (مماح) [ Mamah rishi] کو میں نے ایک سو خالص سونے کے سکّے ،دس مالے،اورتین سوگھوڑے دیےہیں‘‘۔

اور سیرت نبویہ میں آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی بیویوں کی تعداد بھی ذکرکرد ہ تعداد کے مطابق ہے۔

۱۴۔’’ایک پاکبازسیرت شخص سندھ کےبادشاہ (راجابھوج([2])) کے پاس رات کی تاریکی میں آیا اورکہا: اے بادشاہ! بے شک آپ کا دین (آریا دھرم) ہندوستان کے تمام ادیان پر بھاری ہوگا، لیکن سب سے بڑے معبود کے حکم سے میں ایک ایسے شخص کا دین ظاہرکرنے والا ہوں جوصرف پاکیزہ چیزوں میں سے ہی کھاتا ہے،وہ مختون ہے،اس کے سرپر کوئی لٹکی یاباندھی ہوئی چوٹی نہ ہوگی ، اس کی لمبی داڑھی ہوگی،وہ عظیم انقلاب برپا کرے گا،اور لوگوں میں اذان دے گا، اورسور کے علاوہ تمام پاکیزہ چیزوں میں سے کھائے گا، اور اس کا دین تمام ادیان کو منسوخ کردے گا،اورہم نے اس کانام (مسلی) رکھا ہے،اور بڑے معبود نے اس کی طرف اس دین کو وحی کیا ہے‘‘۔(بھاوشیا پرانا:۳؍۳؍۲۳۔۲۷)۔

اور ہم کہتے ہیں کہ نماز کے لئے اذان دینا اور سور کے گوشت سے اجتناب کرنا شریعت اسلامیہ کی عظیم خصائص میں سے ہے،اوراس کے پیروکاروں کو (مسلمان) کہا جاتا ہے، نہ کہ(مسلی)،لیکن یہ ایک ہی اصل والے متقارب الفاظ ہیں۔

ہم آپ سے یہ بھی کہیں گے کہ ہندومذہب کےنظریہ سازوں کے کلام کا اقتضا آپ کو اسلامی عقیدے اوراس مذہب کے اپنانے کی اجازت دیتا ہے جسے نبی محمد صلی اللہ علیہ وسلم لے کرآئے،اس لئے کہ -ان کی نظر میں- ہندومت کا یہ امتیاز ہے کہ تعصّب سے بالا ترہوکر حق کی تلاش کی جائے،اوراس سےآپ کے ہندومت پر کوئی فرق نہیں پڑتا، چاہے آپ اللہ پرایمان لائیں یا نہ لائیں،اہم بات یہ کہ آپ حق کی تلاش میں سرگرداں رہیں۔

چنانچہ ہندوستانی لیڈر مہاتما گاندھی کا کہنا ہے کہ: ’’ہندومذہب کی یہ خوش نصیبی ہے کہ اس کے پاس کوئی بنیادی عقیدہ نہیں ہے، اگر مجھ سے اس کے بارے میں پوچھا جائے تو میں یہی کہوں گا کہ: ’’ہندومذہب کا عقیدہ ہے کہ تعصب سے بالاتر ہوکر اچھے طریقے سےحق کو تلاش کیا جائے، اوررہی بات خالق کے وجود اور عدم وجود کے اعتقاد کی تو یہ دونوں برابرہیں، اور ہندومذہب کے کسی بھی شخص کے لئے خالق پرایمان لانا ضرور ی نہیں ہے،پس وہ ہندو ہے چاہے ایمان لائے یا نہ لائے‘‘۔

نیز ان کا یہ بھی کہنا ہے کہ: ’’ہندومذہب کی خوش نصیبی میں سے ہے کہ وہ ہرعقیدہ سے دور ہے، لیکن یہ دیگر ادیان کے اساسی جوہراور تمام بنیادی عقائد کو محیط ہے ۔ ‘‘ا۔ھ(دیکھیں:کتاب ’’ہندو دھرم‘‘ بحوالہ کتاب ڈاکٹراعظمی’’دراسات فی الیہودیہ والمسیحیہ وادیان الہند ‘‘ ص:۵۲۹۔۵۳۰)۔

مزید جانکاری کے لئے سوال نمبر (۱۲۶۴۷۲) کے جواب کی طرف رجوع کرو۔

لہذا تم اسےاسلام کا مطالعہ کرنے، اس کے محاسن وفضائل کے بارے میں غور کرنے،اورتمام ادیان پر اس کےامتیازات تلاش کرنے کا محور کیوں نہیں بناتے،کیونکہ یہ تمام سابقہ ادیان کومنسوخ کرنے والا دین ہے،اور اسلام کے نبی محمد صلی اللہ علیہ وسلم اپنے سے قبل تمام نبیوں اور رسولوں کی بشارت ہیں۔

اور معاملہ نہایت ہی سنگین وخطرناک ہے،اس لئے کہ قرآن کریم راہِ نجات کواسلام کےراستہ دین توحید میں محصور کرتا ہے، چنانچہ اللہ سبحانہ وتعالیٰ فرماتا ہے:

﴿وَمَن يَبْتَغِ غَيْرَ‌ الْإِسْلَامِ دِينًا فَلَن يُقْبَلَ مِنْهُ وَهُوَ فِي الْآخِرَ‌ةِ مِنَ الْخَاسِرِ‌ينَ﴾[آل عمران:85)

’’ جو شخص اسلام کے سوا اور دین تلاش کرے، اس کا دین قبول نہ کیا جائے گا اور وہ آخرت میں خسارہ اٹھانے والوں میں سے ہوگا‘‘۔

(مزید)فائدہ کے لئے سوال نمبر(۱۷۵۳۳۹) کے جواب کی طرف رجوع کرو۔

واللہ اعلم۔

سائٹ اسلام سوال وجواب

(مُحتاج دُعا:[email protected])

[1]) ) ہندو مذہبی کتاب پرانا میں ذکر کیا گیا ہے کہ کلکی اوتار آئے گا۔ کلکی سنسکرت لفظ ہے جس کا مطلب تعریف کیا گیا ہے اگر عربی میں اس لفظ کا ترجمہ کریں تو محمد اس کا ترجمہ ہوگا۔ پھر کہا گیا ہے کہ وہ سومتی کے پیٹ سے پیدا ہوگا لفظ سومتی سنسکرت لفظ ہے جس کے اردو معنی امن والی کے ہے اور اگر ہم اس کا عربی میں ترجمہ کریں تو عربی میں سومتی کا ترجمہ آمنہ ہوگا جوکہ رسولﷺکی والدہ کا نام تھا۔

اورشری دس اوتار کے شلوک نمبر 10 میں کہا گیا ہے کہ کلکی ویشنو یاس نامی شخص کے گھر میں پیدا ہوگا اور وہ ویشنو یاس کا بیٹا ہوگا، ویشنو کا مطلب سنسکرت میں خدا او ریاس کا مطلب بندہ یعنی خدا کا بندہ۔اگر یہی لفظ ہم عربی زبان میں کہیں تو عبداللہ بنے گا جوکہ رسولﷺ کے والد کا نام ہے۔مزید کہا گیا ہے کہ وہ شمبالا (شمبھل)کے گاوں /علاقے میں پیدا ہوگا۔ شمبالا سنسکرت لفظ ہے جس کا مطلب امن والا جگہ ہے۔عربی میں ترجمہ کریں تو اس کا ترجمہ دارالامان ہوگا جوکہ مکہ کا دوسرا اور معروف نام ہے۔ (بحوالہ آزاد دائرۃ المعارف ،ویکپیڈیا،مزیدمعلومات کیلئے ڈاکٹرذاکر نایک صاحب کی کتاب :اسلام اورہندومت ایک تقابلی مطالعہ ص: ۲۸ ) کا ملاحظہ فرمائیں۔(ش۔ر)

[2]) ) راجہ بھوج ہندوستان کے بادشاہوں کا لقب تھا جیسے مصر کے بادشاہوں کا لقب فرعون تھا (ش۔ر)