واقعہ اسراء میں نبی صلی اللہ علیہ وسلم کا انبیاء کرام کی امامت کروانے کی حکمت

وصف

سوال : اسراء ومعراج کی رات میں نبی صلی اللہ علیہ وسلم کا انبیائے کرام کی امامت کروانے میں کیاعلّت اورحکمت تھی؟اوریہ کس چیز پردال ہے؟

Download
اس پیج کے ذمّے دار کو اپنا تبصرہ لکھیں

کامل بیان

 واقعہ اسراء میں نبیﷺ کا انبیاء کرام

 کی امامت کروانے کی حکمت؟

[الأُردية –اُردو Urdu]

فتوی:اسلام سوال وجواب سائٹ

—™

ترجمہ: اسلام سوال وجواب سائٹ

مراجعہ وتنسیق:اسلام ہاؤس ڈاٹ کام

 الحكمة من إمامة النبي صلى الله عليه وسلم للأنبياء في حادثة الإسراء

فتوى:موقع الإسلام سؤال وجواب

—™

ترجمة: موقع الإسلام سؤال وجواب مراجعةوتنسيق: موقع دار الإسلام:46917 واقعہ اسراء میں نبیﷺ کاانبیاء کرام کی امامت کروانے میں کیا حکمت پوشیدہ تھی؟

سوال : اسراء ومعراج کی رات میں نبیﷺ کا انبیائے کرام کی امامت کروانے میں کیاعلّت اورحکمت تھی؟اوریہ کس چیز پردال ہے؟

Published Date: 2016-04-23

جواب:

الحمد للہ :

نبی ﷺ نے مسجد اقصیٰ میں تمام انبیاء کی امامت کروائی جو کہ ابراہیم خلیل اللہ علیہ السلام کے دور سے پیغمبروں کا مرکز تھی ، اس کی وجہ یہ تھی کہ ہمارے نبی ﷺ ہی امام اعظم اور سب سے مقدّم ہیں، جیسا کہ حافظ ابن کثیر رحمہ اللہ نے سورہ اسراء کی تفسیر کی ابتداء میں ہی اس بات کی صراحت کی ہے، نیز انہوں نے نبی ﷺ کی انبیائے کرام کی امامت کے بارے میں گفتگو کرتے ہوئے یہ بھی کہا ہے کہ:
’’آپ [ﷺ] کو تمام انبیاء کے آگے بڑھاکر آپ[ﷺ] کی عظمت وشرف اور مقام و مرتبہ کو اجاگر کیا گیا ہے، اور آپ[ﷺ] جبریل علیہ السلام کے اشارے پر آگے ہوئے تھے‘‘۔

یقیناً ہمارے نبی ﷺ تمام انبیائے کرام سےاعلیٰ اور افضل ہیں، چنانچہ آپ ﷺ کا فرمان ہے :

’’میں قیامت کے دن اولادِ آدم کا سربراہ ہونگا، اور سب سے پہلے میری قبر کھولی جائے گی، اور میں سب سے پہلا شفاعت کرنے والا ہونگا، اور میری ہی شفاعت سب سے پہلے قبول ہوگی‘‘۔

(صحیح مسلم حدیث نمبر:2278)

جبکہ کچھ اہل علم نے نبی ﷺ کی جانب سے تمام انبیائے کرام کی امامت کروانے پر ایک اور حکمت بھی تلاش کی ہے، اور وہ آپ [ﷺ] کے فرمان: ’’میں نے ان سب کی امامت کروائی‘‘ میں ۔واللہ اعلم۔ اس بات کی طرف اشارہ ہے کہ: امت محمدیہ[ﷺ] پوری انسانیت کی قیادت کریگی۔

اور اللہ ہی زیادہ جانتا ہے۔

سائٹ اسلام سوال وجواب

(مُحتاج دُعا:[email protected])