کیا فجرکی اذان سنتے ہی فوراً کھانا پینا بند کردینا چاہیے؟

وصف

سوال: فجر كى اذان كے دوران كھانے پینے كا كيا حكم ہے ؟ رسول كريم صلى اللہ عليہ وسلم كا فرمان ہے: ’’جب نماز كھڑى ہو جائے اور تم میں سے کسی کے ہاتھ میں برتن ہو تو وہ اسے اپنى ضرورت پورى کئے بغیر نہ رکھے‘‘ ؟

Download
اس پیج کے ذمّے دار کو اپنا تبصرہ لکھیں

کامل بیان

کیا فجرکی اذان سنتے ہی فوراً کھانا پینا

بند کردینا چاہیے؟

[الأُردية –اُردو Urdu]

فتوی :اسلام سوال وجواب سائٹ

—™

ترجمہ: اسلام سوال وجواب سائٹ

مراجعہ وتنسیق:اسلام ہاؤس ڈاٹ کام

 هل يلزم الإمساك عن الأكل والشرب بمجرّد سماع أذان الفجر؟

فتوى:موقع الإسلام سؤال وجواب

—™

ترجمة: موقع الإسلام سؤال وجواب

مراجعة وتنسيق:موقع دارالإسلام

کیا فجرکی اذان سنتے ہی فوراً کھانا پینا

بند کردینا چاہیے؟

:66202سوال: فجر كى اذان كے دوران كھانے پینے كا كيا حكم ہے ؟ رسول كريم صلى اللہ عليہ وسلم كا فرمان ہے: ’’جب نماز كھڑى ہو جائے اور تم میں سے کسی کے ہاتھ میں برتن ہو تو وہ اسے اپنى ضرورت پورى کئے بغیر نہ رکھے‘‘ ؟

Published Date: 2005-10-23

جواب:

الحمد للہ :

اوّل:

سائل نے جو حديث ذكر كى ہے وہ ان الفاظ كے ساتھ مروى نہيں، بلكہ اس كے الفاظ يہ ہيں:

ابو ہريرہ رضى اللہ تعالى عنہ بيان كرتے ہيں كہ رسول كريم صلى اللہ عليہ وسلم نے فرمايا:

’’ تم ميں سے جو كوئى اذان سنے اور اس كے ہاتھ ميں برتن ہو تو وہ اسے اپنى حاجت پورى كیے بغير نہ ركھے‘‘۔

مسند احمد حديث نمبر ( 10251 ) سنن ابو داود حديث نمبر ( 2350 ) علامہ البانى رحمہ اللہ تعالى نے صحيح ابو داود ميں اسے صحيح قرار ديا ہے۔

علماء كرام كے ہاں اس حديث كا معنىٰ كيا ہے اس کا بیان آگے آرہا ہے۔

دوم:

روزہ دار كو طلوعِ فجر سے ليكر غروبِ آفتاب تك روزہ ختم كر دينے والى تمام اشياء سے اجتناب كرنا لازم ہے، لہذا معتبر تو طلوعِ فجر ہے نہ كہ اذان۔

اللہ سبحانہ وتعالى ٰكا فرمان ہے:

}وَكُلُوا وَاشْرَبُوا حَتَّىٰ يَتَبَيَّنَ لَكُمُ الْخَيْطُ الْأَبْيَضُ مِنَ الْخَيْطِ الْأَسْوَدِ مِنَ الْفَجْرِ ۖ ثُمَّ أَتِمُّوا الصِّيَامَ إِلَى اللَّيْلِ{[البقرة: 187]

’’ اور تم كھاتے پيتے رہو حتىٰ كہ صبح كا سفيد دھاگہ رات كے سياہ دھاگے سے ظاہر ہو جائے، پھر رات تك روزہ پورا كرو ‘‘[سورہ بقرہ: ۱۸۷]

لہذا جسے فجرِ صادق طلوع ہونے كا يقين ہو چكا ہو، تو اس كے ليے كھانا پينا بند كرنا لازم ہے، اور اگر اس كے منہ ميں كچھ ہو تو اسے بھى باہر نكال پھينكے، اور اگر وہ ايسا نہيں كرتا ، تو اس كا روزہ فاسد ہے.

ليكن جس کو فجر ِصادق كے طلوع ہونے كا يقين نہيں ہوا ہو ، تو وہ يقين ہونے تك كھا پى سكتا ہے، اور اسى طرح اگر اسے علم ہو جائے كہ مؤذن وقت سے قبل اذان ديتا ہے، يا اسے شك ہو كہ وہ وقت يا وقت سے قبل اذان ديتا ہے تو اسے يقين ہونے تك كھانے پینے كا حق ہے،لیکن اولى اور بہتر ہے كہ وہ اذان سنتے ہى كھانا پينا فوراً بند كر دے.

اور مذكورہ حديث كو علماء كرام نے اس بات پر محمول كيا ہے كہ اگر مؤذن طلوعِ فجر سے قبل اذان ديتا ہو۔

امام نووى رحمہ اللہ (( المجموع )) ميں لكھتے ہيں:

’’ہم نے ذكر كيا ہےکہ جس شخص پرفجر طلوع ہو جائے اور اس كے منہ ميں كھانا ہو تو وہ اسے باہر نكال پھينكے، اور اپنا روزہ پورا كرے، اور اگر اس نے طلوع فجر كا علم ہو جانے كے بعد كھانا نگلا، تو اس كا روزہ باطل ہے، اس ميں كوئى اختلاف نہيں، اس كى دليل ابن عمر اور عائشہ رضى اللہ تعالىٰ عنہما كى مندرجہ ذيل حديث ہے:

رسول كريم صلى اللہ عليہ وسلم نے فرمايا:

(إِنَّ بِلالا يُؤَذِّنُ بِلَيْلٍ ، فَكُلُوا وَاشْرَبُوا حَتَّى يُؤَذِّنَ ابْنُ أُمِّ مَكْتُومٍ )

’’بےشک بلال رضى اللہ تعالىٰ عنہ رات كو اذان ديتے ہيں، لہذا تم كھاؤ پيؤ حتى كہ ابن ام مكتوم رضى اللہ تعالىٰ عنہ اذان ديں‘‘۔

اسے بخارى اور مسلم نے روايت كيا ہے، اور اس كے علاوہ بھى اس معنىٰ كى صحيح بخارى ميں احاديث ہيں۔

اور ابو ہريرہ رضى اللہ تعالىٰ عنہ كى حديث جس ميں نبى كريم صلى اللہ عليہ وسلم كا فرمان ہے:

( إِذَا سَمِعَ أَحَدُكُمْ النِّدَاءَ وَالإِنَاءُ عَلَى يَدِهِ فَلا يَضَعْهُ حَتَّى يَقْضِيَ حَاجَتَهُ مِنْهُ )

’’جب تم ميں سے كوئى اذان سنے اور برتن اس كے ہاتھ ميں ہو تو وہ اپنى ضرورت پورى كيے بغير برتن نہ ركھے‘‘۔

اور ايك روايت ميں ہے:

( وكان المؤذن يؤذّن إذا بزغ الفجر )

’’اور مؤذن فجرپھوٹنے(طلوع ہونے)كے وقت اذان ديتا تھا ‘‘۔

ابو عبد اللہ الحاكم نے پہلى روايت كو بیان کیا ہے اور كہا ہے كہ يہ صحيح ہے اور مسلم كى شرط پر ہے۔

اور ان دونوں روايتوں كو بيہقى نے روايت کرکے فرمایا ہے کہ: ’’اگر يہ صحيح ہو تو عام اہل علم كےیہاں اس بات پر محمول ہو گى كہ رسول كريم صلى اللہ عليہ وسلم كو يہ علم ہوا كہ وہ طلوع فجر سے قبل اذان ديتا ہے، اس طرح كہ اس كا پانى پينا طلوع فجر سے قبل واقع ہوا کرتا تھا‘‘۔

اوران کا کہنا ہے کہ: لفظ(إذا بزغ)’’جب فجر طلوع ہو‘‘ تواحتمال ہے كہ يہ كلام ابو ہريرہ كى نہ ہو بلكہ كسى اور كى ہو، يا يہ كہ يہ دوسرى اذان كى خبر ہو، اور نبى كريم صلى اللہ عليہ وسلم كا قول اس طرح ہو گا:

’’تم ميں سےجب کوئى اذان سنے اور برتن اس كے ہاتھ ميں ہو‘‘يہ پہلى اذان كى خبر ہے، تا كہ ابن عمر اور ابو ہريرہ رضى اللہ تعالى عنہما كى حديث كے موافق ہو جائے، ان كا كہنا ہے كہ: اس طرح سے ساری احاديثوں کے درمیان موافقت ہو جاتى ہے۔اوراللہ تعالىٰ ہى توفيق دينے والا ہے،واللہ اعلم ‘‘،انتہى .ديكھيں: المجموع ( 6 / 333 )

اور ((تھذيب السنن)) ميں ابن قيم رحمہ اللہ نے ذكر كيا ہے كہ بعض سلف رحمہ اللہ تعالىٰ نے سوال ميں وارد شدہ حديث كے ظاہر كو ليتے ہوئے اذان فجر سننے كے بعد بھى كھانا پينا جائز قرار ديا ہے، اور پھر كہتے ہیں کہ:

اور جمہور علماء كرام كا مسلك ہے كہ طلوع فجر كے بعد سحرى كھانى ممنوع ہے، ائمہ اربعہ اور عام فقہاء كرام كا يہى قول ہے، اور يہى معنىٰ عمر اور ابن عباس رضى اللہ تعالى عنہما سے بھى مروى ہے.

پہلے حضرات نے مندرجہ ذيل فرمان نبوى صلى اللہ عليہ وسلم سے استدلال كيا ہے:

ابن ام مكتوم رضى اللہ تعالىٰ عنہ كے اذان دينے تك كھاؤ پیو، اور ابن ام مكتوم طلوع فجر كے بعد اذان ديتے تھے‘‘۔ بخارى ميں ايسے ہى ہے، اور بعض روايات ميں ہے:

’’ابن ام مكتوم رضى اللہ تعالىٰ عنہ نابينا آدمى تھے اور اس وقت تك اذان نہيں ديتے تھے جب تك كہ انہيں يہ نہ كہا جاتا آپ نے صبح كردى صبح كر دى‘‘۔

اور جمہور علماء كرام نے مندرجہ ذيل فرمان بارى تعالىٰ سے استدلال كيا ہے:

}وَكُلُوا وَاشْرَبُوا حَتَّىٰ يَتَبَيَّنَ لَكُمُ الْخَيْطُ الْأَبْيَضُ مِنَ الْخَيْطِ الْأَسْوَدِ مِنَ الْفَجْرِ ۖ ثُمَّ أَتِمُّوا الصِّيَامَ إِلَى اللَّيْلِ{[البقرة: 187]

’’ اور تم كھاتے پيتے رہو حتىٰ كہ صبح كا سفيد دھاگہ رات كے سياہ دھاگے سے ظاہر ہو جائے، پھر رات تك روزہ پورا كرو ‘‘[سورہ بقرہ: ۱۸۷]

اور نبى صلى اللہ عليہ وسلم كے اس فرمان سے:

’’ابن ام مكتوم رضى اللہ تعالى عنہ كے اذان دينے تك كھاؤ پیو ‘‘۔

اور اس فرمان نبوى صلى اللہ عليہ وسلم سے:

’’فجر كى دو قسمیں ہيں، پہلى فجر كھانا حرام نہيں كرتى، اور نماز كو حلال نہيں كرتى، اور دوسرى كھانے كو حرام کرتی ہے اور نماز كو حلال كرتى ہے‘‘۔

اسے امام بیہقى رحمہ اللہ تعالىٰ نے سنن بیہقى ميں روايت كيا ہے. انتہى

اور بعض سلف رحمہ اللہ تعالىٰ سے كچھ آثار وارد ہيں، جو طلوع فجر كے يقين ہونے تك روزے دار كے ليے كھانے پینے كى اباحت پر دلالت كرتے ہيں، اور ابن حزم رحمہ اللہ تعالىٰ نے ان ميں سے بہت سے آثار ذكركيے ہيں، جن ميں سے چند ايك ذيل ميں دیئے جارہے ہيں:

’’عمر بن خطاب رضى اللہ تعالى عنہ كہا كرتے تھے: جب دو آدمى فجر کی تحقق ميں شك كرليں ، تو وہ دونوں يقين ہوتے تك كھاتے پیتے رہيں .... ‘‘

ابن عباس رضى اللہ تعالى عنہما بيان کرتے ہيں:

’’اللہ تعالىٰ نے پينا حلال كيا ہے جب تك تجھے شك ہو؛ يعنى فجر ميں ... ‘‘

اور مكحول رحمہ اللہ تعالىٰ كہتے ہيں: ’’ميں نے ديكھا كہ ابن عمر رضى اللہ تعالى عنہما نے زمزم کی ڈول یا بالٹی لی، اور دو آدميوں سے پوچھا: كيا فجر طلوع ہو گئى ہے ؟

تو ايك شخص نے كہا: طلوع ہو چكى ہے، اور دوسرا كہنے لگا: نہيں، تو ابن عمر رضى اللہ تعالى عنہما نے: زمزم کا پانی پیا ‘‘۔

ابن حزم رحمہ اللہ تعالىٰ نے اس حديث، جس كے بارے ميں سوال كيا گيا ہے، اور اس كے مشابہ دوسرے آثار پر تعليق كرتے ہوئے كہا ہے:

’’يہ سب اس بنا پر ہے كہ ان كے ليے ابھى تک واضح فجر طلوع نہيں ہوئى تھى؛ تو اس طرح احاديث اور قرآن كے درمیان موافقت ہو جاتى ہے‘‘۔ انتہى .

ديكھيں: المحلى لابن حزم ( 4 / 367 )

اور اس ميں كوئى شك و شبہ نہيں كہ آج اكثر مؤذن گھڑيوں اور كيلنڈروں پر اعتماد كرتے ہيں، نہ كہ فجر ديكھنے پر، اور اسے طلوع فجر ميں يقين شمار نہيں كيا جائے گا، لہذا جس نے كھا پى ليا اس كا روزہ صحيح ہے، كيونكہ يقينى طور پر فجر طلوع نہيں ہوئى، اور اولى ٰو بہتر اور احتياط اسى ميں ہے كہ كھانے پينے سے اس کے وقت پرہيز كيا جائے۔

شيخ ابن باز رحمہ اللہ تعالى ٰسے مندرجہ ذيل سوال كيا گيا:

اذان سن كر بھى كھانا پينا جارى ركھنے والے كے روزے كا شرعى حكم كيا ہے؟

شيخ رحمہ اللہ تعالىٰ كا جواب تھا:

’’ جب واضح ہو جائے كہ فجر طلوع ہو چكى ہے اور واجبی روزہ ہو مثلا: رمضان يا نذر اور كفارہ كا روزہ تو مومن كے ليے واجب ہے كہ وہ كھانے پينے اور روزہ ختم كردينے والى دوسرى تمام اشياء استعمال كرنے سے رك جائیں ، كيونكہ اللہ سبحانہ وتعالىٰ كا فرمان ہے:

’’اور تم كھاتے پيتے رہو یہاں تک كہ صبح كا سفيد دھاگہ رات كے سياہ دھاگے سے ظاہر ہو جائے، پھر رات تك روزہ پورا كرو ‘‘[سورہ بقرہ:۱۸۷]

جب اذان سنے اور اسے علم ہو كہ فجر كى اذان ہو رہى ہے تو اس پر كھانے پينے سے ركنا واجب ہے، اور اگر مؤذن طلوعِ فجر سے قبل اذان ديتا ہو تو اس كے ليے كھانا پينا بند كرنا واجب نہيں، بلكہ واضح طور پر فجر طلوع ہونے تك كھانا پينا جائز ہے.

اور اگر مؤذن كے متعلق علم نہ ہو كہ آيا وہ طلوع فجر سے پہلے اذان ديتا ہے يا بعد ميں تو اولىٰ وبہتر اور احتياط اسى ميں ہے كہ اذان سن كر كھانا پينا بند كر ديا جائے، اور اذان كے وقت كھانے پينے ميں كوئى نقصان نہيں كيونكہ اسے طلوع فجر كا علم نہيں.

اور يہ تو معلوم ہے كہ ان شہروں کا جہاں بجلى كے قمقمے اور لائٹیں ہوتى ہیں، وہاں بعينہ طلوع فجر كا وقت معلوم نہيں كيا جا سكتا، ليكن اسے احتياط كرتے ہوئے اذان اور كلينڈر پر عمل كرنا چاہيے جس ميں گھنٹوں اور منٹوں كى شكل ميں طلوع فجر كى تحديد كى گئى ہوتى ہے، تا كہ نبى كريم صلى اللہ عليہ وسلم كے اس فرمان پر عمل ہو سكے:

’’جس ميں شك ہواسے چھوڑ كر اس چیز کو اپناؤ جس ميں شك نہ ہو ‘‘ـ

اور نبى كريم صلى اللہ عليہ وسلم كا فرمان ہے:

’’جو شبہات سے بچ گیا ، اس نے اپنے دين اور عزت كو محفوظ كر لیا،اوراللہ تعالىٰ ہى توفيق دينے والا ہے‘‘۔ انتہى

ماخوذ از: فتاوى رمضان جمع و ترتيب اشرف عبد المقصود ( 201)

شيخ ابن عثيمين رحمہ اللہ سے مندرجہ ذيل سوال كيا گيا:

سوال: ؟

اللہ تعالىٰ آپ كى حفاظت فرمائے، آپ نے كہا ہے كہ مؤذن كى اذان سنتے ہى كھانا پينا بند كر دينا چاہيے، كئى برسوں سے ايسا ہو رہا ہے كہ وہ اذان ختم ہونے تك كھاتے رہتے ہيں، ان كے اس عمل كا كيا حكم ہے ؟

شيخ رحمہ اللہ تعالىٰ كا جواب تھا:

’’نماز فجر كى اذان يا تو طلوع فجر كے بعد ہو گى يا پہلے، اگر طلوع فجر كے بعد ہو تو انسان كے ليے اذان سنتے ہی كھانا پينا بند كرنا واجب ہے، كيونكہ نبى كريم صلى اللہ عليہ وسلم كا فرمان ہے:

’’بلال ـ رضى اللہ تعالىٰ عنہ ـ رات كو اذان ديتے ہيں، لہذا ابن ام مكتوم ـ رضى اللہ تعالىٰ عنہ ـ كے اذان دينے تك كھاتے پیتے رہا كرو، كيونكہ وہ طلوع فجر ہونے پر اذان ديتے ہيں‘‘۔

اگر آپ كو علم ہے كہ يہ مؤذن طلوع فجر كے بعد اذان ديتا ہے تو آپ اذان سنتے ہى فورا كھانا پينا بند كرديں، ليكن اگر مؤذن كلينڈر كے وقت پر اعتماد كر كے اذان ديتا ہے، يا پھر وہ اپنى گھڑى كے مطابق اذان ديتا ہے تو پھر اس ميں معاملہ آسان ہے.

تو اس بنا پر ہم اس سائل كو يہ كہيں گے:

جو كچھ ہو چكا ہے اس كى آپ پر قضاء لازم نہيں، كيونكہ آپ كو يہ يقين نہيں كہ آپ نے طلوع فجر كے بعد كھانا كھايا ہے، ليكن آئندہ مستقبل ميں انسان كو چاہيے كہ اس معاملہ ميں احتياط كرے، اور جب مؤذن كى آذان سنے تو كھانا پينا بند كردے. انتہى

ماخوذ از: فتاوى رمضان صفحہ نمبر: ( 204

اور شيخ ابن عثيمين رحمہ اللہ نے كلينڈر جس كے بارے میں كہا جاتا ہے كہ يہ دقيق نہيں تو اس كے متعلق فرمایا :

’’كيونكہ اب بعض لوگ اس كيلنڈر ميں شك كرنے لگے ہيں جو لوگوں كے پاس عموما موجود ہے، وہ كہتے ہيں يہ طلوع فجر سے پہلے ہے، حالانكہ ہم باہر كھلى جگہ نكلے اور ہمارے گرد و پيش كوئى روشنى وغيرہ نہيں تھى تو ہم نے ديكھا كہ فجر دير سے ہو رہى ہے، اور بعض لوگ تو كہتے ہيں كہ كلينڈر سے پندرہ منٹ بعد فجر ہوئى.

ليكن ظاہر يہ ہوتا ہے كہ اس ميں مبالغہ ہے اور يہ صحيح نہيں، ہمارے خيال ميں اس وقت جن لوگوں كے پاس جو كلينڈر ہے اس ميں پانچ منٹ كى تقديم پائى جاتى ہے اور خاص كر طلوع فجر ميں، يعنى اگر مؤذن كلينڈر كے مطابق اذان دے رہا ہے اور آپ اس كى اذان كے دوران كھا ليں تو اس ميں كوئى حرج نہيں، ليكن اگر مؤذن احتياط كرتے ہوئے دير كرتا ہے كيونكہ بعض مؤذن حضرات احتياط كرتے ہوئے كلينڈر سے پانچ منٹ بعد اذان كہتے ہيں، اور بعض جاہل قسم كے مؤذن احتياط كے گمان سے اس سے بھى پہلے فجر كى اذان كہہ ديتے ہيں، كہ اس ميں روزے كے ليے احتياط ہے، ليكن وہ يہ بھول جاتے ہيں كہ وہ ايسى چيز ميں سستى اور كاہلى كر رہے ہيں جو روزے سے بھى سخت اور شديد ہے، اور وہ نماز فجر ہے، ہو سكتا ہے ان كى اذان كى بنا پر كوئى نماز فجر وقت سے پہلے ادا كر لے، اور پھر جب انسان وقت سے قبل نماز ادا كر لے چاہے صرف تكبير تحريمہ ہى وقت سے پہلے كہہ لے تو اس كى نماز صحيح نہيں)... ماخوذ از: فتاوى الشيخ ابن عثيمين رحمہ اللہ جلد نمبر( 19 ) سوال نمبر ( 772 )

واللہ اعلم .

الاسلام سوال وجواب

(مُحتاج دُعا:عزیزالرحمن ضیاء اللہ سنابلیؔ [email protected])

فیڈ بیک