اذان کا جواب دینے میں مشغول ہونا بہتر ہے یا افطار میں جلدی کرنا؟

وصف

سوال: كہتے ہيں كہ اذان کا سماع واجب ہے، ليكن مغرب كى اذان كے وقت افطارى كرنے والے شخص كے متعلق كيا حكم ہے، آيا كھانے ميں مشغول ہونے كى بنا پر اسے اذان كا جواب دينا معاف ہے ؟ اور فجر كى اذان كے وقت سحرى كرنےمیں اسی چیز کا کیا حكم ہے ؟

Download
اس پیج کے ذمّے دار کو اپنا تبصرہ لکھیں

کامل بیان

اذان کا جواب دینے میں مشغول ہونا بہتر ہے یا افطار میں جلدی کرنا؟

[الأُردية –اُردو Urdu]

فتوی :اسلام سوال وجواب سائٹ

—™

ترجمہ: اسلام سوال وجواب سائٹ

مراجعہ وتنسیق:اسلام ہاؤس ڈاٹ کام

 أيهما أولى وأفضل:الاشتغال بإجابة الأذان أم تعجيل الإفطار؟

فتوى:موقع الإسلام سؤال وجواب

—™

ترجمة: موقع الإسلام سؤال وجواب

مراجعة وتنسيق:موقع دارالإسلام

اذان کا جواب دینے میں مشغول ہونا بہتر ہے یا افطار میں جلدی کرنا؟

:101582سوال: كہتے ہيں كہ اذان کا سماع واجب ہے، ليكن مغرب كى اذان كے وقت افطارى كرنے والے شخص كے متعلق كيا حكم ہے، آيا كھانے ميں مشغول ہونے كى بنا پر اسے اذان كا جواب دينا معاف ہے ؟ اور فجر كى اذان كے وقت سحرى كرنےمیں اسی چیز کا کیا حكم ہے ؟

Published Date: 2009-09-02

جواب:

الحمد للہ :

اذان كے كلمات دہرانے اور مؤذن كے کلمات کی متابعت کرنے کے بارے ميں علماء كرام كا اختلاف ہے، اور جمہور علماء كا قول ہى صحيح ہے، كہ اس كى متابعت واجب نہيں، بلكہ مستحب ہے، مالكيہ، شافعيہ، اور حنابلہ كا يہى قول ہے.

امام نووى رحمہ اللہ كتے ہيں:

’’ ہمارا مسلك يہى ہے كہ اذان كى متابعت سنت ہے واجب نہيں، اور جمہور علماء كا بھى يہى قول ہے، ليكن امام طحاوى رحمہ اللہ نے بعض سلف سے اس كے خلاف ذكر كيا ہے كہ يہ واجب ہے ‘‘۔ انتہى.

ديكھيں: المجموع ( 3 / 127 )

اور (( المغنى )) ميں امام احمد رحمہ اللہ سے منقول ہے:

’’اور اگر وہ اس کے کہنے کی طرح نہ کہے ( یعنی اذان کا جواب نہ دے)تو اس ميں كوئى حرج نہيں ‘‘۔ آپؒ کا قول تصرّف کے ساتھ ختم ہوا.

ديكھيں: المغنى ابن قدامہ ( 1 / 256 )

اس كى دليل نبى كريم صلى اللہ عليہ وسلم كا مالك بن حويرث اور ان كے ساتھيوں كو يہ فرمان ہے:

) إذا حضرت الصّلاة فليؤذّن لكم أحدكم ، وليؤمكم أكبركم (

’’جب نماز كا وقت ہو تو تم ميں سے كوئى ايك شخص تمہارے ليے اذان كہے اور تم ميں سے سب سے بڑا تمہارى امامت كرائے‘‘۔

تو يہ حدیث اس بات پر دلالت كرتى ہے كہ متابعت واجب نہيں، اس كى وجہ ِدلالت يہ ہے كہ: يہ تعليم كا مقام تھا اور اس ميں ضرورت ہوتى ہے كہ ضرورت كى ہر چيز بيان كى جائے، ہو سكتا ہے اس وفد كو نبى كريم صلى اللہ عليہ وسلم كے اس فرمان كا علم نہ ہو جس ميں اذان كى متابعت كا ذكر ہے، تو جب رسول كريم صلى اللہ عليہ وسلم نے اس كى ضرورت ہونے كے باوجود اس پر متنبہ نہيں كيا، اور پھر يہ وفد نبى كريم صلى اللہ عليہ وسلم كے پاس بيس دن ٹھرا ، اور پھر وہاں سے اپنے علاقے واپس چلا گيا ، تو يہ اس بات كى دليل ہے كہ اذان كا جواب دينا واجب نہيں، زيادہ قريب اور راجح يہى ہے ‘‘۔ انتہى.

ديكھيں: الشرح الممتع ( 2 / 75 )

اور امام مالك رحمہ اللہ نے موطا ميں" ابن شہاب عن ثعلبہ بن ابى مالك القرظى " کے طریق سے روايت كيا ہے كہ انہوں نے خبردیاکہ:

’’وہ عمر بن خطاب رضى اللہ تعالىٰ عنہ كے دور ميں جمعہ كے روز نماز پڑھا كرتے حتىٰ كہ عمر رضى اللہ تعالى عنہ مسجد ميں آتے، جب وہ مسجد ميں آتے اور منبر پر بيٹھ جاتے اور مؤذن اذان دينے لگتے۔

ثعلبہ كہتے ہيں: ’’ہم بيٹھ كر باتيں كرتے، اورجب مؤذن اذان دے كر خاموش ہوجاتے اور عمر رضى اللہ تعالى عنہ كھڑے ہو كر خطبہ دينے لگتے تو ہم خاموش ہو جاتے، اور ہم ميں سے كوئى بھى شخص بات چيت نہیں كرتا‘‘۔

مؤطا امام مالك ( 1 / 103 )

ابن شہاب كہتے ہيں:

’’چنانچہ امام كی آمد نماز كو كاٹ ديتی ، اور اس كى گفتگو ( يعنى خطبہ ) بات چيت كے سلسلے کو ختم كر ديتی ہے ‘‘۔

اور (( تمام المنۃ )) ميں علامہ البانى رحمہ اللہ تعالىٰ كہتے ہيں:

’’ اس اثر ميں يہ دليل ہے كہ مؤذن كے اذان کا جواب دينا واجب نہيں، كيونكہ عمر رضى اللہ تعالى عنہ كے دور ميں حالتِ اذان بات چيت كرنے پر عمل رہا ہے، اور عمر رضى اللہ تعالىٰ عنہ نے اس عمل پر خاموشى اختيار كى ہے، مجھ سے اذان كا جواب دينے كے وجوب كے متعلق بہت زيادہ سوال كيا گيا ہے تو ميں نے يہى جواب ديا ہے‘‘۔ انتہى. ملاحظہ فرمائیں: تمام المنۃ ( 340 )

مندرجہ بالا سطور كى بنا پر اگر كوئى شخص اذان كا جواب نہيں ديتا اور اس كى متابعت نہيں كرتا، تو اس پر كوئى گناہ نہيں ہوگا ، چاہے وہ كھانے پينے ميں مشغول ہونے كى بنا پر جواب نہ دے سكا، يا پھر كسى اور كام كى وجہ سے، ليكن اس طرح وہ اجرعظيم سے محروم ہو جاتا ہے.

جیسا کہ صحيح مسلم ميں عمر بن خطاب رضى اللہ تعالىٰ عنہ سے مروى ہے كہ رسول كريم صلى اللہ عليہ وسلم نے فرمايا:

(إِذَا قَالَ الْمُؤَذِّنُ : اللَّهُ أَكْبَرُ اللَّهُ أَكْبَرُ . فَقَالَ أَحَدُكُمْ : اللَّهُ أَكْبَرُ اللَّهُ أَكْبَرُ . ثُمَّ قَالَ : أَشْهَدُ أَنْ لَا إِلَهَ إِلَّا اللَّهُ . قَالَ : أَشْهَدُ أَنْ لَا إِلَهَ إِلَّا اللَّهُ . ثُمَّ قَالَ : أَشْهَدُ أَنَّ مُحَمَّدًا رَسُولُ اللَّهِ . قَالَ : أَشْهَدُ أَنَّ مُحَمَّدًا رَسُولُ اللَّهِ . ثُمَّ قَالَ : حَيَّ عَلَى الصَّلَاةِ . قَالَ : لَا حَوْلَ وَلَا قُوَّةَ إِلَّا بِاللَّهِ . ثُمَّ قَالَ : حَيَّ عَلَى الْفَلَاحِ . قَالَ : لَا حَوْلَ وَلَا قُوَّةَ إِلَّا بِاللَّهِ . ثُمَّ قَالَ : اللَّهُ أَكْبَرُ اللَّهُ أَكْبَرُ . قَالَ : اللَّهُ أَكْبَرُ اللَّهُ أَكْبَرُ . ثُمَّ قَالَ : لَا إِلَهَ إِلَّا اللَّهُ . قَالَ : لَا إِلَهَ إِلَّا اللَّهُ مِنْ قَلْبِهِ دَخَلَ الْجَنَّةَ )

’’جب مؤذن اللہ اکبر اللہ اکبر کہے تو سننے والا بھی یہی الفاظ دہرائے، اور جب وہ اشہد ان لا الٰہ الا اللہ اور اشہد ان محمدًا رسول اللہ کہے تو سننے والا بھی یہی الفاظ کہے ،اور جب مؤذن حیّ علی الصلوٰۃ کہے تو سننے والا لا حول ولا قوۃ الا باللہ کہے، پھر جب مؤذن حیّ علی الفلاح کہے تو سننے والا بھی لا حول ولا قوۃ الا باللہ کہے، اس کے بعد مؤذن جب اللہ اکبر اللہ اکبر کہے تو سننے والا بھی اسے کہے،اورجب مؤذن لاالہ الا اللہ کہے،توسننے والا اسے خالص دل سے کہے تو وہ جنت میں داخل ہوگا (بشرطیکہ ارکان اسلام کا بھی پابند ہو)‘‘۔صحيح مسلم حديث نمبر ( 385 )

جلد افطارى كرنے اور اذان كا جواب دينے ميں كوئى تعارض نہيں ہے، روزہ دار كے ليے غروب شمس كے فورا بعد جلد افطارى كرنا اور اذان كا جواب دینا ايك ہى وقت ميں ممكن ہے، تو اس طرح وہ دونوں فضيلت والے كام كو جمع كر سكتا ہے، ايك تو افطارى جلد كرنے كى فضيلت، اور دوسرى مؤذن كے اذان كا جواب دينے كى فضيلت.

اورلوگ قدیم زمانے سے اور آج بھی کھانے کے دوران بات چیت کرتے چلے آرہے ہیں اوروہ کھانے کو بات چیت کرنے میں رکاوٹ نہیں سمجھتے تھے،البتہ اس بات پر متنبہ رہنا چاہيے كہ افطارى میں جلدی كسى بھى چيز كے ساتھ ہو سكتى ہے، چاہے تھوڑى سى ہى کیوں نہ ہو، جیسے کہ ایک كھجوريا پانى كا ایک گھونٹ، (افطارى كا) معنىٰ يہ نہيں كہ پيٹ بھر كر كھايا جائے۔

اسی طرح یہی بات اس وقت بھی کہی جائے گی جب فجر کی اذان ہورہی ہو اور وہ سحری کھارہا ہو،تووہ بغیرکسی ظاہری مشقت میں پڑے دونوں چیزوں کو کرسکتا ہے۔

ليكن(اس بات کا خیال رہے کہ) اگر مؤذن فجر كى اذان وقت ہونے(طلوع فجر) کے بعد كہتا ہے ، تو اذان سنتے ہى كھانے پينے سے ركنا واجب ہے۔

اور(مزید تفصیل کے لئے) سوال نمبر ( 66202 ) كے جواب کا ملاحظہ فرمائیں۔

واللہ اعلم .

اسلام سوال وجواب

(مُحتاج دُعا:عزیزالرحمن ضیاء اللہ سنابلیؔ [email protected])

فیڈ بیک