استغفار اور روزہ رکھ کر سال کا اختتام کرنا

وصف

سوال: اسلامى سال ہجرى ختم ہونے كے قريب ہو تو موبائل پر ميسج آنا شروع ہو جاتے ہيں كہ اعمال كا دفتر سال ختم ہونے پر لپيٹ ديا جائيگا، اور سال كا اختتام استغفار اور روزہ ركھ كر كرنے كى ترغيب دلائى جاتى ہے؛ اس طرح كے ميسج كا كيا حكم ہے، اور كيا سال كا آخرى دن اگر سوموار يا جمعرات بن جائے تو كيا روزہ ركھنا سنت ہو گا يا بدعت ؟

Download
اس پیج کے ذمّے دار کو اپنا تبصرہ لکھیں

کامل بیان

 استغفار اور روزہ رکھ کر سال کا اختتام کرنا

[الأُردية –اُردو Urdu]

فتوی :شعبۂ علمی اسلام سوال وجواب سائٹ

—™

ترجمہ: اسلام سوال وجواب سائٹ

مراجعہ وتنسیق:عزیزالرّحمن ضیاء اللہ سنابلیؔ

 هل يُوصى بختم العام بالاستغفار والصّيام؟

فتوى: القسم العلمي بموقع الإسلام سؤال وجواب

—™

ترجمة: موقع الإسلام سؤال وجواب

مراجعة وتنسيق:عزيز الرحمن ضياء الله السنابلي

 :44021 استغفار اور روزہ رکھ کر سال کا اختتام کرنا

سوال: اسلامى سال ہجرى ختم ہونے كے قريب ہو تو موبائل پر ميسج آنا شروع ہو جاتے ہيں كہ اعمال كا دفتر سال ختم ہونے پر لپيٹ ديا جائيگا، اور سال كا اختتام استغفار اور روزہ ركھ كر كرنے كى ترغيب دلائى جاتى ہے؛ اس طرح كے ميسج كا كيا حكم ہے، اور كيا سال كا آخرى دن اگر سوموار يا جمعرات پڑ جائے تو كيا روزہ ركھنا سنت ہو گا يا بدعت ؟

بتاریخ2009-01-11 کو نشر کیا گیا

جواب:

الحمد للہ :

سنت مطہرہ سے ثابت ہوتا ہے كہ بندوں كے اعمال روزانہ دو بار اٹھائے جاتے ہيں، ايك رات كے وقت اور ايك دن كے وقت.

صحيح مسلم ميں ابو موسى اشعرى رضى اللہ تعالى عنہ سے حديث مروى ہے وہ بيان كرتے ہيں رسول كريم صلى اللہ عليہ وسلم ہمارے بیچ پانچ كلمات كے ساتھ كھڑے ہوئے اور فرمايا: (إِنَّ اللَّهَ عَزَّ وَجَلَّ لا يَنَامُ ، وَلا يَنْبَغِي لَهُ أَنْ يَنَامَ ، يَخْفِضُ الْقِسْطَ وَيَرْفَعُهُ ، يُرْفَعُ إِلَيْهِ عَمَلُ اللَّيْلِ قَبْلَ عَمَلِ النَّهَارِ، وَعَمَلُ النَّهَارِ قَبْلَ عَمَلِ اللَّيْلِ )

’’يقينا اللہ سبحانہ و تعالىٰ سوتا نہيں، اور سونا اس كے شايان شان بھی نہيں، وہ ترازو كو نيچا كرتا ہے اسے اونچا بھى وہى كرتا ہے، اور رات كے اعمال دن سے قبل اس كى جانب چڑھتے ہيں، اور دن كے عمل رات سے قبل ‘‘۔

صحيح مسلم حديث نمبر ( 179)

امام نووى رحمہ اللہ كہتے ہيں:

’’نگراں فرشتے رات ختم ہونے كے بعد دن كے شروع ميں اعمال لے كر اوپر جاتے ہيں، اور دن كے اعمال دن ختم ہونے كے بعد رات كى ابتدا ميں لے كر اوپر جاتے ہيں.

اور بخارى و مسلم نے ابو ہريرہ رضى اللہ تعالى ٰعنہ سے بيان كيا ہے كہ رسول كريم صلى اللہ عليہ وسلم نے فرمايا:

(يَتَعَاقَبُونَ فِيكُمْ مَلائِكَةٌ بِاللَّيْلِ وَمَلائِكَةٌ بِالنَّهَارِ ،وَيَجْتَمِعُونَ فِي صَلاةِ الْفَجْرِ وَصَلاةِ الْعَصْرِ ، ثُمَّ يَعْرُجُ الَّذِينَ بَاتُوا فِيكُمْ فَيَسْأَلُهُمْ وَهُوَ أَعْلَمُ بِهِمْ : كَيْفَ تَرَكْتُمْ عِبَادِي ؟ فَيَقُولُونَ : تَرَكْنَاهُمْ وَهُمْ يُصَلُّونَ وَأَتَيْنَاهُمْ وَهُمْ يُصَلُّونَ)

’’رات اور دن كے فرشتے تمہارے پاس بارى بارى آتے ہيں، اور نماز فجر اور نماز عصر ميں وہ جمع ہوتے ہيں، پھر جنہوں نے تمہارے ساتھ رات بسر كى ہوتى ہے وہ اوپر جاتے ہيں تو اللہ ان سے سوال كرتا ہے حالانكہ وہ ان سے زيادہ علم ركھتا ہے تم نے ميرے بندوں كو كس حالت ميں چھوڑا ؟

تو فرشتے جواب ديتے ہيں: جب ہم ان كے پاس سے آئے تو وہ نماز ادا كر رہے تھے اور جب ہم ان كے پاس گئے تو وہ نماز ادا كر رہے تھے ‘‘۔

صحيح بخارى حديث نمبر ( 555 ) صحيح مسلم حديث نمبر ( 632 )

حافظ ابن حجر رحمہ اللہ كہتے ہيں:

’’اس حديث ميں بيان ہوا ہے كہ دن كے آخر ميں اعمال اوپر اٹھائے جاتے ہيں، جو شخص اس وقت اطاعت و فرمانبردارى كى حالت ميں ہوگا اس كى روزى اور عمل ميں بركت كى جائيگى, واللہ اعلم، اور اس پر ان دونوں ( نماز فجر اور نماز عصر ) كى پابندى اور اہتمام كى حكمت كا امر ظاہر ہوتا ہے ‘‘۔ انتہى

اور سنت اس پر دلالت كرتى ہے كہ پورے ہفتے ميں بھى دو بار اللہ تعالى كے سامنے اعمال پيش كيے جاتے ہيں.

ابو ہريرہ رضى اللہ تعالى عنہ بيان كرتے ہيں كہ رسول كريم صلى اللہ عليہ وسلم نے فرماياکہ : ( تُعْرَضُ أَعْمَالُ النَّاسِ فِي كُلِّ جُمُعَةٍ مَرَّتَيْنِ يَوْمَ الِاثْنَيْنِ وَيَوْمَ الْخَمِيسِ فَيُغْفَرُ لِكُلِّ عَبْدٍ مُؤْمِنٍ إِلا عَبْدًا بَيْنَهُ وَبَيْنَ أَخِيهِ شَحْنَاءُ فَيُقَالُ : اتْرُكُوا هَذَيْنِ حَتَّى يَفِيئَا )

’’ہر ہفتہ میں دو مرتبہ پیر کے دن اور جمعرات کے دن لوگوں کے اعمال اللہ تعالیٰ کے سامنے پیش کئے جاتے ہیں تو اللہ تعالیٰ سب مسلمان بندوں کو بخش دیتا ہے سوائے اس کے جس کی کسی مسلمان سے عداوت ہو، كہا جاتا ہے ان دونوں كو چھوڑ دو یہاں تک كہ وہ صلح كر ليں ‘‘۔صحيح مسلم حديث نمبر ( 2565 )

سنت اس پر دلالت كرتى ہے كہ ہر سال شعبان كے مہينہ ميں سارے اعمال اللہ كى جانب اٹھائے جاتے ہيں.

اسامہ بن زيد رضى اللہ تعالى عنہ بيان كرتے ہيں ميں نے عرض كيا اے اللہ تعالىٰ كے رسول صلى اللہ عليہ وسلم ميں ديكھتا ہوں كہ آپ شعبان ميں اتنے روزے ركھتے ہيں جتنا كسى اور مہينہ ميں نہيں ركھتے ؟

تو رسول كريم صلى اللہ عليہ وسلم نے فرمايا: (ذَلِكَ شَهْرٌ يَغْفُلُ النَّاسُ عَنْهُ بَيْنَ رَجَبٍ وَرَمَضَانَ ، وَهُوَ شَهْرٌ تُرْفَعُ فِيهِ الأَعْمَالُ إِلَى رَبِّ الْعَالَمِينَ فَأُحِبُّ أَنْ يُرْفَعَ عَمَلِي وَأَنَا صَائِمٌ)

رجب و رمضان کے درمیان یہ ایسا مہینہ ہے جس سے لوگ غفلت کا شکار رہتے ہیں، اوریہ ایسا مہینہ ہے جس میں آدمی کے اعمال رب العالمین کے سامنے پیش کئے جاتے ہیں، لہذا میں چاہتا ہوں کہ جب میرا عمل پیش ہو تو میں روزہ سے رہوں ‘‘۔

سنن نسائى حديث نمبر ( 2357 ) علامہ البانى رحمہ اللہ نے صحيح الجامع ميں اسے حسن قرار ديا ہے.

ان نصوص كا خلاصہ يہ ہوا كہ: بندوں كے اعمال اللہ تعالى ٰكے سامنے پيش كرنے كى تين قسميں ہيں:

ـ روزانہ پيش كيے جانے والے اعمال، اور يہ دن ميں دو بار پيش كيے جاتے ہيں.

ـ ہفتہ وار پيش كيے جانے والے اعمال اور يہ سوموار اور جمعرات كو پيش كيے جاتے ہيں.

ـ سالانہ پيش كيے جانے والے اعمال، اور يہ صرف ايك بار شعبان ميں پيش كيے جاتے ہيں.

ابن قيم رحمہ اللہ كہتے ہيں:

’’سال بھر كے اعمال شعبان ميں اٹھائے جاتے ہيں جيسا كہ الصادق المصدوق نبى صلى اللہ عليہ وسلم نے بتايا ہے، اور ہفتہ بھر كے اعمال سوموار اور جمعرات كو اٹھائے جاتے ہيں، اور دن كے اعمال رات سے قبل دن كے آخر ميں اٹھائے جاتے ہيں، اور رات كے اعمال دن سے قبل رات كے آخر ميں اٹھائے جاتے ہيں، اور رات و دن ميں اعمال كا اٹھايا جانا سال بھر كے اعمال سے خاص ہے، اور جب عمر ختم ہو جاتى ہے تو پورى عمر كے اعمال اٹھائے جاتے ہيں اور رجسٹر و صحيفہ لپيٹ كر بند كر ديا جاتا ہے ‘‘۔انتہى مختصرا۔ (ماخوذ از: حاشيہ سنن ابو داود)

اللہ تعالىٰ كے سامنے اعمال پيش كيے جانے والى احاديث اعمال پيش كيے جانے كے اوقات ميں اطاعت و فرمانبردارى زيادہ كرنے كى ترغيب پر دلالت كرتى ہيں كيونكہ نبى كريم صلى اللہ عليہ وسلم كا شعبان كے روزے كے متعلق فرمان ہے:

(فَأُحِبُّ أَنْ يُرْفَعَ عَمَلِي وَأَنَا صَائِمٌ)

’’ ميں پسند كرتا ہوں كہ جب ميرے اعمال اٹھائے جائيں تو ميں روزے سے ہوں ‘‘۔

اور سنن ترمذى ميں ابو ہريرہ رضى اللہ تعالى عنہ سے مروى ہے وہ بيان كرتے ہيں كہ رسول كريم صلى اللہ عليہ وسلم نے فرمايا:

( تُعْرَضُ الأَعْمَالُ يَوْمَ الاثْنَيْنِ وَالْخَمِيسِ ؛ فَأُحِبُّ أَنْ يُعْرَضَ عَمَلِي وَأَنَا صَائِمٌ )

’’سوموار اور جمعرات كے دن اعمال پيش كيے جاتے ہيں لہذا ميں یہ پسند كرتا ہوں كہ جب ميرے عمل پيش كيے جائيں تو ميں روزہ سے ہوں ‘‘۔

سنن ترمذى حديث نمبر ( 747 ) علامہ البانى رحمہ اللہ نے ارواء الغليل ( 949 ) ميں اسے صحيح قرار ديا ہے.

ابن رجب رحمہ اللہ نے لطائف المعارف ميں بيان كيا ہے كہ :’’جمعرات كے روز بعض تابعىن اپنی بیوی سے مل کرروتے كہ آج ہمارے اعمال اللہ عزوجل كے سامنے پيش ہو رہے ہيں ‘‘۔

اوپر جو كچھ ہم نے بيان كيا ہے اس سے واضح ہوتا ہے كہ سال كے اختتام كو اور سال كے ابتداء كو رجسٹر بند كرنے اور اللہ كے سامنے اعمال پيش ہونے ميں كوئى دخل نہيں، بلكہ اعمال پيش كرنے كى وہ اقسام ہيں جن كى طرف ہم اشارہ كر چكے ہيں.

اور نصوص ميں اس كے دوسرے اوقات بھى محدد كيے گئے ہيں اور نصوص اس پر بھى دلالت كرتى ہيں كہ نبى كريم صلى اللہ عليہ وسلم كا طريقہ يہ تھا کہ ان اوقات ميں آپﷺ زيادہ اطاعت و فرمانبردارى كيا كرتے تھے.

شيخ صالح الفوزان حفظہ اللہ سال كے آخر ميں سال كے اختتام كى ياد دہانى كرانے كے متعلق كہتے ہيں:

’’ اس كى كوئى دليل اور اصل نہيں اور سال كے اختتام كى كسى معين عبادت مثلا روزے وغيرہ كے ساتھ تخصيص كرنا بدعت ہے ‘‘۔انتہى.

رہا سوموار اور جمعرات كا روزہ ركھنا تو اس كے متعلق گزارش ہے كہ اگر كسى شخص كى عادت ہو كہ وہ سوموار اور جمعرات كا روزہ ركھتا ہو كيونكہ اس دن روزہ ركھنے كى ترغيب دلائى گئى ہے، اور يہ دن سال كے اختتام كے موافق ہو تو عادت كے مطابق روزہ ركھنے ميں كوئى ممانعت نہيں اسے منع نہيں كيا جائيگا، چاہے يہ دن سال كى ابتدا كے موافق ہو يا اختتام كے موافق، ليكن شرط يہ ہے كہ وہ اس موافقت كى بنا پر روزہ نہ ركھے، يا اس گمان سے روزہ نہ ركھے كہ اس مناسبت سے روزہ ركھنے ميں كوئى خاص فضيلت ہے.

واللہ اعلم .

اسلام سوال وجواب سائٹ

طالبِ دُعا:([email protected])