ہندوانہ رسم ورواج اور آج کا مسلمان

وصف

موجودہ دور میں دشمنانِ اسلام ہر چہار جانب سے مختلف دسیسہ کاریوں کے ذریعے جہاں ہمارے عقائد اور ایمان کو خراب کرنے کی کوشش میں لگے ہوئے ہیں، وہیں برادران وطن مختلف فلموں اور سیریلوں کے ذریعے ہماری تہذیب و ثقافت اور اسلامی تشخص کو متاثر کردینے کی کوشش کررہے ہیں۔ اور اسکا اثر ہمارے سامنے واضح اور نمایاں ہے، آج معاشرے کے اندر چھوٹی چھوٹی بچیوں کے ماتھے پر تلک، بِندی، پاؤں میں گنگھرو، گلے میں قسمت کے پتھروں کی لکیریں اور اسطرح کی دیگر چیزیں ہیں جو ہندو ثقافت اور تہذیب کی یلغار کا نتیجہ ہیں۔ بات اسی پر ختم نہیں ہوتی، بلکہ اگر آستھا اور امید کے نام پر ، فقیری کا بھیس بنا کرکے یہ برادران وطن کاشی اور متھرا اور مختلف مقامات کا زیارت کرتے ہیں ، تو آج کا مسلمان بھی مختلف صورتیں بنا کرکے، فقیری کا بھیس اپنا کرکے، بابا کے نام کی منّتیں مانگتے ہوئے اپنی مرادوں کو لے کر کے نا معلوم کن کن مقامات کی خاک چھاندتا ہے اور وہاں جانے کے بعد وہ تمام چیزیں کرتا ہے جو شرک کے زمرے میں آتی ہیں، جنکا اسلام سے کوئی تعلق نہیں۔ اسلئے اس بات کی ضرورت تھی کہ اس موضوع پر کچھ باتیں کی جائیں اور اس کی جانب لوگوں کی توجہ مبذول کرائی جائے اور یہ بتا یا جائے کہ آخر وہ کون کون سے ہندوانہ رسوم ہیں جو مسلم سماج کے اندر سرایت کر گئیے ہیں ، اور ہم جانے یا انجانے میں ان چیزوں کو اپنائے ہوئے ہیں۔ اس ویڈیو میں شیخ عبد المجید بن عبد الوہاب مدنی –حفظه الله- نے اسی موضوع سے متعلق نہایت ہی وقیع وموثر خطاب فرما یا ہے۔

فیڈ بیک