• حیدر علی قلمداران "عناصر کی تعداد : 11"

    وصف :حیدر علی بن اسماعیل قلمداران ایران کے قم کے دیزیجان گاؤں میں ۱۹۱۳ھ میں پیدا ہوئے، گاؤں کے مکتب میں قرآن کی تعلیم حاصل کرنا شروع کیا، آپ بچپن سے ہی اسلامی کتابوں کے مطالعہ وتحقیق کے کافی شوقین تھے، اور چند سال ہی گزرے تھے نوجوانی ہی میں شعر کہنا شروع کیا اور طہران قم میں صادر ہونے میگزین میں مضمون نگار ہوگئے، اور قم کے مدارس میں تدریسی فریضہ انجام دینا شروع کیا، آپ رحمہ اللہ سیال قلم والے تھے اپنی قلم کو اسلامی مقالات ومضامین لکھنے اور دین حنیف کی تعلیم کی دفاع میں مسخّر کر رکھا تھا۔اور اسلام مخالف عناصر کی تردید کرتے تھے،او واقع حال کی اصلاح کی دعوت دیتے رہے، اور مسلمانوں کی ہمت کو بیدار کرتے رہے، شیعہ کے مرجع ومصلح آیۃ اللہ شیخ محمد مہدی الخالصی سے کافی متاثر ہوئے، اور ان کی اکثر کتابوں کو فارسی زبان میں منتقل کیا، لیکن ا؎پنے شیخ الخالصی سے کافی قدم آگے نکل گئے،اور امامیہ کے بعض اجماعی مسائل سے الگ ہوگئے، جیسے خمس کی ادائیگی کے وجوب کا انکار کیا،اور کہا کہ ائمہ اثنی عشریہ کے بارے میں کوئی شرعی نص نہیں ہے، بلکہ وہ صرف ربانی علماء اور مجتہد فقہاء ہیں،اور اپنے زمانے کے سب سے بہترین لوگ تھے، اور سب سے قریبی متبعین تھے، اور اس موضوع پر اپنی مشہور کتاب طریق الاتحاد نامی کتاب تالیف کرڈالی،اس کی تالیف کے بعد بعض متعصبین وغالی شیعہ کی طرف سے دھوکہ سے قاتلانہ حملہ ہوا۔ اسی طرح انہوں نے کہا کہ: مہدی غائب کے وجود کی کوئی ثبوت نہیں ہے، اور نہ ہی وہ رجوع کرنے والے ہیں، اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے علاوہ کسی بھی شخص کے لئے عصمت وتحفظ نہیں ہے۔اسی طرح قبروں کی ترئین وآرائش سے کچھ بھی فائدہ نہیں ہونے والا ہے، اور قبروں کو چونا گچ کرنے، ان پر قبے ومکانات تعمیر کرنے اور اسے مزارات بنانے سے منع کیا ہے، اور قبروں سے استغاثہ وفریاد طلب کرنا، اور قبروں کا طواف کرنا بہت بڑا جرم ہے۔ بلکہ یہ سب شرکیہ مظاہر ہیں، اس سلسلہ میں آپ نے ایک مشہور کتاب لکھی «بحث حول زيارة المزارات ،متعدد سالوں تک توحید واصلاح کی دعوت دے کر اس دنیائے فانی سے سن ۱۹۸۹, میں اس دار فانی سے کوچ کرگئے
    اللہ ان کی قبر کو رحمت سے بھر دے۔
    ».
    آپ کی وفات سن ۱۹۸۹ء میں ہوئی، :

فیڈ بیک