نماز کی طرف چل کر جانے کے آداب

وصف

نماز کی طرف چل کر جانے کے آداب

Download

کامل بیان

 (کتاب: نماز کی طرف چل کر جانے کے آداب)

تالیف: شیخ الاسلام، فريد عصر, امام ومجدد، شیخ محمد بن عبد الوہاب رحمه الله تعالىٰ

سعودی لائبریری میں موجود قلمی نسخہ نمبر 269 /86 اور دیگر مطبوعہ نسخوں سے تقابل وتصحیح کاکام شیخ عبد الكريم بن محمد اللاحم، شیخ ناصر بن عبد الله الطريم اور شیخ سعود بن محمد البشر نے انجام دیا ہے .

بسم اللہ الرّحمن الرّحیم

 (باب: نماز کی طرف جانے کے آداب)

نماز کے لیے باوضو ہوکر خشوع کے ساتھ نکلنا مسنون ہے۔ کیوں کہ نبی صلى الله عليه وسلم کا فرمان ہے : "جب تم میں سے کوئی اچھی طرح وضو کرکے مسجد کے ارادے سے نکلے، تو وہ اپنی انگلیوں کو ایک دوسرے میں داخل نہ کرے، کیونکہ وہ حالت نماز میں ہے۔" جب وہ گھر سے نکلے-اگرچہ نماز کی غرض سے نہ نکلا ہو- تویہ دعا پڑھے: "بسمِ اللهِ، آمنتُ باللهِ ، اِعتصمتُ باللهِ ، توَكَّلْتُ على اللهِ ولا حولِ ولا قوةَ إلا باللهِ ، اللهمُّ إني أعوذُ بِكَ أنْ أضلّ أو أُضلّ أو أَزلَ أو أُزلَ أو أَظلمَ أو أُظلمَ أو أَجهلَ أو يُجهلَ عليَّ۔" (اللہ کے نام سے، میں اللہ پر ایمان لایا، میں نے اللہ کو مضبوطی کے ساتھ تھام لیا اور میں نے اللہ پر بھروسہ کیا۔ اللہ کی مدد کے بغیر نہ کسی چیز سے بچنے کی طاقت ہے، نہ کچھ کرنے کی قوت۔ اے اللہ! میں تیری پناہ مانگتاہوں اس بات سے کہ گمراہ ہوجاؤں یا مجھے گمراہ کیا جائے یا پھسل جاؤں یا مجھے پھسلا یا جائے یا میں کسی پر ظلم کروں یا کوئی مجھ پر ظلم کرے یا میں کسی پرجہالت کروں یا کوئی مجھ پر جہالت کرے۔) نیز نماز کے لیے سکون اور وقار کے ساتھ نکلے۔ آپ صلى الله عليه وسلم کا فرمان ہے : "جب تم اقامت کی آواز سنو تو سکون واطمینان کے ساتھ چلو۔ پھر جتنی نماز تمھیں ملے پڑھ لو اور جو رہ جائے اسے (جماعت ختم ہونے کے بعد) پوری کرلو۔" اور چھوٹے چھوٹے قدموں سے چلتے ہوئے یہ دعا پڑھے: ’’اللهم إني أسألك بحق السائلين عليك وبحق ممشاي هذا فإني لم أخرج أشراً ولا بطراً ولا رياء ولا سمعة خرجت اتقاء سخطك وابتغاء مرضاتك أسألك أن تنقذني من النار وأن تغفر لي ذنوبي جميعاً إنه لا يغفر الذنوب إلا أنت۔‘‘ (اے اللہ! میں تجھ سے سوال کرتا ہوں مانگنے والوں کے تجھ پر حق کے ذریعہ اور میں(نماز کے لیے) اپنے اس چلنے کے وسیلہ سے تجھ سے سوال کرتا ہوں۔ میں نہ فخر کرتے ہوئے نکلا ہوں، نہ اتراتے ہوئے۔ نہ ریاکاری کے لیے، نہ شہرت کے لیے۔ میں تو تیری ناراضگی سے بچنے کے لیے نکلا ہوں اور تیری رضا کے حصول کے لیے نکلا ہوں۔ میں تجھ سے سوال کرتا ہوں کہ مجھے جہنم سے پناہ دے دے اور میرے گناہ معاف فرمادے۔ یقیناًتیرے سوا گناہوں کو کو کوئی نہیں بخش سکتا۔) اور یہ دعا بھی پڑھے : ’’اللهم اجعل في قلبي نوراً وفي لساني نوراً واجعل في بصري نوراً وفي سمعي نوراً وأمامي نوراً وخلفي نوراً وعن يميني نوراً وعن شمالي نوراً وفوقي نوراً وتحتي نوراً اللهم أعطني نوراً‘‘۔ (اے اللہ! میرے دل میں نور بنادے، میری زبان میں نور بنادے، میرے کانوں میں نور بنادے، میری آنکھوں میں نور بنادے، میرے پیچھے اور میرے آگے نور بنادے, میرے دائیں اور بائیں نور بنادے۔ اور میرے اوپر اور میرے نیچے نور بنادے۔ اے اللہ! مجھے نور عطا فرمادے۔) پھر جب مسجد میں داخل ہو، تو مستحب ہے کہ پہلے دایاں پیر داخل کرے اور یہ دعا پڑھے : ’’بسم اللهِ أعوذُ باللهِ العظيمِ وبوجههِ الكريمِ وسلطانِهِ القديمِ منَ الشيطانِ الرجيمِ اَللهمّ صَلِّ على محمدٍ اللهمَّ اغْفِرْلِيْ ذنوبي وافتَحْ لي أبوابَ رَحمتِكَ۔‘‘ (اللہ کے نام سے، میں عظمت والے اللہ کی اور اس کے کریم چہرے کی اور اس کی قدیم سلطنت کی پناہ چاہتا ہوں مردود شیطان سے۔ اے اللہ! محمد پر درود وسلام نازل کر اور اے اللہ! میرے گناہوں کو بخش دے اور میرے لیے اپنی رحمت کے دروازے کھول دے۔) جب کہ مسجد سے نکلتے وقت بایاں پیر آگے کرے اور یہ دعا پڑھے : ’’وافتح لي أبواب فضلك‘‘۔ (میرے لیے اپنے فضل کے دروازے کھول دے۔) اور جب مسجد میں داخل ہو تو دورکعت ادا کیے بغیر نہ بیٹھے۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کا فرمان ہے : "جب تم میں سے کوئی شخص مسجد میں داخل ہو، تو دو رکعتادا کیے بغیر نہ بیٹھے۔" (بعد ازاں) اللہ کے ذکر میں مشغول ہوجائے یا خاموش رہے اور دنیاوی باتوں میں نہ لگے۔ جب تک اس حال رہے گا، گویا نماز میں ہوگا اور فرشتے اس کے لیے استغفار کرتے رہیں گے، یہاں تک کہ وہ ایذا نہ پہنچائے یا اس کا وضو نہ ٹوٹ جائے۔

 (باب : نماز کا طریقہ)

مستحب طریقہ یہ ہے کہ اگر امام مسجد میں ہو، تو جب مؤذنقدْ قامتِ الصلاةُکہے، اس وقت نماز کے لیے کھڑا ہو، ورنہ امام کو دیکھ کر کھڑا ہو۔ امام احمد سے پوچھا گیا : کیا آپ تکبیر (تحریمہ) سے پہلے کچھ کہتے ہیں؟ انہوں نے فرمایا: "نہیں! کیونکہ نبی صلى الله عليه وسلم اور آپ کے اصحاب سے اس بارے میں کوئی چیز وارد نہیں ہے۔" اس کے بعد پھر امام کندھون اور ٹخنوں کی برابری کو مد نظر رکھتے ہوئے صفیں سیدھی کروائے۔

پہلے پہلی صف پھر دسری صف مکمل کرنا، مقتدیوں کا مِلْ مِلْ کر کھڑے ہونا اور صفوں کے درمیان خالی جگہ کو بھر لینا مسنون ہے۔ اسی طرح ہر صف کی دائیں جانب اور امام سے قریب کھڑے ہونا افضل ہے۔ نبی صلی اللہ علیہ وسلم کا فرمان ہے : "اہل عقل ودانش میرے قریب کھڑے ہوں۔" مردوں کی بہترین صف ان کی پہلی صف ہے اور بدترین صف ان کی آخری صف ہے۔ جب کہ خواتین کی بہترین صف ان کی آخری صف ہے اور بدترین صف ان کی پہلی صف ہے۔ پھر قیام پر قادر شخص کھڑے ہوکر 'اللهُ أكبر' کہے۔ 'اللهُ أكبر' کہ جگہ کچھ اور کہنا صحیح نہ ہوگا۔اللہُ اکبرکے ساتھ شروع کرنے کی حکمت اس ذات کی عظمت کا استحضار ہے، جس کے سامنے کھڑا ہو رہا ہے، تاکہ خشوع پیدا ہو سکے۔ اگر کوئیاللہیااکبرکے ہمزہ کو کھینچتا یا اَکبار کہتا ہے، تواس کی تکبیر تحریمہ نہیں مانی جائے گی۔ گونگا شخص دل سے تکبیر تحریمہ کہے اور زبان کو حرکت نہ دے۔ یہی حکم قرأت اور تسبیح وغیرہ کا بھی ہے۔ امام کا بآواز بلند تکبیر کہنا مسنون ہے۔ نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے اس فرمان کی وجہ سے: "جب امام تکبیر کہے، تو تم بھی تکبیر کہو۔" نیز (امام کا بآواز بلند)’سَمِعَ اللہُ لِمَنْ حَمِدَہُکہنا بھی (مسنون ہے)۔ دلیل نبی صلی اللہ علیہ وسلم کا یہ فرمان ہے : "اور جب امامسَمِعَ اللہُ لِمَنْ حَمِدَہُکہے، تو تمرَبَّنا وَلَكَ الْحَمْدْکہو ۔" جب کہ مقتدی ومنفرد دونوں کو پست آواز سے کہیں۔ اگر کوئی عذر نہ ہو تو اپنے دونوں ہاتھوں کو کندھوں تک اٹھائے، اس حال میں کہ انگلیاں پھیلی اور ملی ہوئی ہوں اور ہتھیلی کے باطنی حصے کا رخ قبلے کی جانب ہو۔ دونوں کو اٹھانا اس بات کی طرف اشارہ ہے کہ اس کے اور اس کے رب کے درمیان کا حجاب اٹھ چکا ہے، جیسا کہ شہادت کی انگلی سے توحید کا اشارہ سمجھا جاتا ہے۔ پھر اپنی بائیں بند ہتھیلی کو دائیں ہتھیلی سے پکڑے اور اسے ناف کے نیچے رکھ لے(دلائل کى روشنى میں سینے پر ہی ہاتھ باندھنا درست ہے۔ دیکھئے: ابن عثیمین رحمہ اللہ کى کتاب الشرح الممتع'(3/ 36-37 ) )۔ یہ دراصل اپنے رب کے سامنے عاجزی کا اظہار ہے۔ نماز کی ہر حالت میں سجدہ کی جگہ دیکھنا مستحب ہے، سوائے حالت تشہد کے۔ اس وقت نگاہ شہادت کی انگلی کی طرف ہونی چاہیے۔ پھر سرّی طور پر دعائے استفتاح ( سبحانك اللهم وبحمدك ) پڑھے۔ ’’سبحانك اللهم‘‘ کے معنی یہ ہیں کہ اے اللہ! ہم تیری شایان شان پاکی بیان کرتے ہیں۔ (وبحمدك) کے بارے میں کہا گیا ہے : اس کے معنی یہ ہیں: میں تیری تسبیح اور تحمید ساتھ ساتھ بیان کررہا ہوں۔ ( وتبارك اسمك ) یعنی تیرے ذکر سے برکت حاصل کی جاتی ہے۔ ( وتعالى جدك ) یعنی تو بہت عظیم ہے۔ ( ولا إله غيرك ) یعنی اے اللہ! زمین وآسمان میں تیرے سوا کوئی حقیقی معبود نہیں۔ دعائے استفتاح میں وارد کوئی بھی دعا پڑھی جا سکتی ہے۔ پھر آہستہ سےأعوذ بالله من الشيطان الرجيمکہے۔ اس سلسلے میں وارد کسی بھی طرح کے تعوذ کو اپناسکتا ہے۔ پھر آہستہسےبسم اللہ الرحمن الرحیمکہے۔ یاد رہے کہ 'بسم اللہ' نہ توسورہ فاتحہ کا حصہ ہے کسی اور سورہ کا، بلکہ یہ قرآن کی ایک آیت ہے، جس کى جگہ سورہ فاتحہ سے پہلے اور سوائے سورہ براءۃ اور سورہ الانفال کے ہر دوسورتوں کے مابینہے۔ خط وکتابت کی شروعات بھیبسم اللہسے کرنا مسنون ہے، جیسا کہ سلیمان علیہ السلام نے کیا تھا اور نبی صلى الله عليه وسلم بھی کیا کرتے تھے۔ نیز ہر کام کے شروع میںبسم اللہکہنا چاہئے۔ یہ شیطان کو بھگانے کا کام کرتی ہے۔

امام احمد فرماتے ہیں : شعر کے سامنے اور اس کے ساتھبسم اللہنہیں لکھنا چاہیے۔

پھر ترتیب، تسلسل اور تشدیدات کی رعایت کرتے ہوئے سورہ فاتحہ پڑھے۔ سورہ فاتحہ کا ہر رکعت میں پڑھنا رکن کی حیثیت رکھتا ہے، جیساکہ فرمان نبوی ہے: "اس شخص کی نماز نہیں، جس نے سورہ فاتحہ نہیں پڑھی"۔ سورہ فاتحہ کو 'ام القرآن' بھی کہا جاتا ہے؛ کیوں کہ اس میں الہیات، آخرت، انبیا اور ان سے متعلق خبروں اور تقدیر کا اثبات ہے۔ ابتدائی دو آیتیں الہیات پر دلالت کرتی ہیں اور{ مالك يوم الدين } خرت پر۔ {ہم صرف تیری ہی عبادت کرتے ہیں اور صرف تجھ ہی سے مدد چاہتے ہیں۔} یہ آیت امر، نہی، توکل اور ان تمام چیزوں کو اللہ کے ساتھ خاص کرنے کی دلیل ہے۔ اس میں تنبیہ ہے جادۂ حق، اہل حق اور ان لوگوں کی نشان دہی ہے، جن کی اقتدا کی جانی چاہئے۔ اسی طرح ضلالت وگمراہی کی بھی نشان دہی کر دی گئی ہے۔ اس کی ہر آیت پر ٹھہرنا مستحب ہے، جیسا کہ نبی صلى الله عليه وسلم کا معمول تھا۔ یہ قرآن کی سب سے عظیم سورت ہے، جب کہ قرآن کی سب سے عظیم آیتآیۃ الکرسیہے۔ اس میں گیارہ تشدید ہیں۔تشدید ومد میں زیادتی کرنا مکروہ ہے۔ جب سورہ فاتحہ مکمل کرلے تو ایک مختصر سے سکتہ کے بعد آمین کہے، تاکہ یہ پتہ رہے کہ آمین سورہ فاتحہ کا حصہ نہیں ہے۔ آمین کے معنی ہیں : اے اللہ! قبول کرلے۔ جہری نمازوں میں امام اور مقتدی دونوں ساتھ ساتھ زور سے آمین کہیں گے۔ سمرہ رضی اللہ عنہ کی حدیث کی وجہ سے جہری نمازوں میں آمین کے بعد امام کا سکتہ کرنا مستحب ہے۔ جسے سورہ فاتحہ معلوم نہ ہو، اسے سیکھنا ضروری ہے۔ اگر قدرت رکھتے ہوئے نہ سیکھے، تو اس کی نماز درست نہ ہوگی۔ جسے نہ سورہ فاتحہ ٹھیک سے پڑھنا آتا ہو اور نہ ہی قرآن کی دیگر آیتیں، تو لازمی طور پر وہ 'سبحان الله والحمد لله ولا إله إلا الله والله أكبر' کہے۔ کیوں کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم کا فرمان ہے : " اگر تمہیں قرآن یاد ہے تو پڑھو، ورنہالحمد للہ، لاالہ الا اللہ اور اللہ اکبرکہہ کر رکوع میں چلے جاؤ" اسے ابوداؤد اور ترمذی نے روایت کیا ہے۔ پھر آہستہ سے بسم اللہ کہے اور اس کے بعد کوئی مکمل سورت پڑھے۔ ایک آیت کا پڑھ لینا بھی کافی ہے، مگر امام احمد کے نزدیک اس ایک کا آیت کا طویل ہونا مستحب ہے۔ اگر حالت نماز میں نہ ہو، توبسم اللہبآواز بلند اور آہستہ دونوں طرح پڑھ سکتا ہے۔ فجر کی نماز میں طوال مفصل سے پڑھے، جس کی شروعات سورہ (ق) سے ہوتی ہے۔ اس کی دلیل اوس رضی اللہ عنہ کی وہ روایت ہے، جس میں وہ کہتے ہیں میں نے اصحاب محمد صلى الله عليہ وسلم سے دریافت کیا: آپ قرآن کو کتنے احزاب (حصوں) میں تقسیم کرتے ہیں؟ انہوں نے جواب دیا : تین، پانچ، سات، نو، گیارہ اور تیرہ احزاب میں، جن میں سے ایک حزب مفصل۔ فجر کی نماز میں سفر یا مرض وغیرہ جیسے عذر کے بغیر قصار مفصل سے پڑھنا مکروہ ہے۔ مغرب میںقصارمفصل سے پڑھے۔ البتہ بسا اوقاتطوال مفصلسے بھی پڑھ لے۔ کیونکہ آپ نے مغرب میں سورہ اعراف بھی پڑھی ہے۔ اگر کوئی عذر نہ ہو، تو باقی نمازوں میںاوساط مفصلسے پڑھے، ورنہقصار مفصلسے ہی پڑھے۔ اگر کوئی اجنبی شخص عورت کی آواز نہ سن رہا ہو، تو اس کا جہری نمازوں میں اونچی آواز میں پڑھنا جائز ہے۔ رات میں نفل پڑھنے والا شخص مصلحت کی رعایت کرے۔ اگر اس کے پاس موجود شخص اس کے بآوازبلند پڑھنے سے تکلیف محسوس کر رہا ہو، تو آہستہ قراءت کرے اور اگر وہ اس کی قراءت سننے والوں میں سے ہو، تو بآوازِ بلند پڑھے۔ اگرجہری نماز میں آہستہ قراءت کرنے لگے یا اس کے برعکس سری نماز میں بآواز بلند قراءت شروع کردے، تو قراءت پوری کرلے (شروع سے لوٹانے کی ضرورت نہیں ہے)۔ آیتوں کی ترتیب کا خیال رکھنا واجب ہے، کیوں کہ اس کی بنیاد نص پر ہے، جب کہ سورتوں کی ترتیب جمہور علما کے نزدیک اجتہاد پر مبنی ہے۔ نص پر نہیں، کلہذا ایک سورت کی تلاوت دوسری سورت سے قبل جائز ہوگی، اسی وجہ سے صحابہ کے مصاحف ایک دوسرے سے مختلف لکھے گئے تھے۔ امام احمد نے حمزہ اور کسائی کی قرأت اور ابو عمرو کے ادغام کبیر کو ناپسند کیا ہے۔ پھر قراءت سے فراغت اور تھوڑی دیر ٹھہر کر سانس لینے کے بعد اسی طرح رفع یدین کرے، جس طرح تکبیرتحریمہ میں کیا تھا۔ قراءت سے فارغ ہونے کے معا بعد رکوع کی تکبیر نہ کہے۔ تکبیر کہے, پھر اپنے دونوں ہاتھوں کو انگلیوں کو کھلا رکھ کر اپنے دونوں گھٹنوں پر اس طرح رکھے کہ ہاتھوں سےگھٹنوں کو پکڑے رہے۔ پیٹھ کو سیدھا کرکے پھیلا دے اور سر کو پیٹھ کے برابر رکھے، نہ اس سے اونچا اور نہ نیچا۔ اس کی دلیل عائشہ رضی اللہ عنہا کی حدیث ہے۔ دونوں کہنیوں کو اپنے بغل سے دور رکھے۔ اس کی دلیل ابو حمید کی حدیث ہے۔ رکوع میںسبحان ربي العظيمکہے۔ اس کی دلیل حذیفہ رضی اللہ عنہ کی حدیث ہے، جسے مسلم نے روایت کیا ہے۔ کمال کا ادنی درجہ یہ ہے کہ اسے تین بار پڑھے اور امام کے حق میں اعلی درجہ یہ ہے کہ دس بار پڑھے۔ یہی حکم سجدے میں 'سبحان ربي الأعلى' کہنے کا بھی ہے۔ رکوع وسجدوں میں قراءت نہ کرے، کیونکہ آپ صلى الله عليه وسلم نے اس سے روکا ہے۔ پھر اپنا سر اٹھائے اور پہلی بار (تکبیر تحریمہ میں) رفع یدین کی طرح, امام ومنفرد دونوں واجبی حکم کے طور پر "سمع الله لمن حمده" کہتے ہوئے رفع یدین کریں۔ یہاں 'سمع' کے معنی ہیں : قبول کیا۔ پھر جب سیدھے طور پر کھڑا ہوجائے، تو یہ کہے: "اے ہمارے رب! تیرے ہی لیے تعریف ہے، اتنی جس سے آسمان وزمین بھر جائیں اور اس کے بعد جو چیز تو چاہے بھر جائے۔" اور اگر چاہے تو مزید یہ کہے: " اے تعریف اور بزرگی کے لائق، سب سے سچی بات وہ ہے جو بندے نے کہی ہے۔ ہم سب تیرے بندے ہیں۔ جو تو دے اسے کوئی روکنے والا نہیں اور جو تو روک لے اسے کوئی دینے والا نہیں اور کسی شان والے کو اس کی شان تیرے ہاں کوئی فائدہ نہیں پہنچا سکتی۔" علاوہ ازیں دیگر وارد دعائیں بھی پڑھ سکتا ہے ۔

اور اگر چاہے تو کہے: ’’ اللھُمَّ ربَّنا لَكَ الْحَمـدُ‘‘ ، بغیر 'واو' کے۔ کیونکہ حدیث ابوسعید وغیرہ میں اسی طرح مذکور ہے۔ اگر مقتدی امام کو حالت رکوع میں پالیتا ہے، تواسے رکعت پانے والوں میں شمار کیا جائے گا۔ پھر تکبیر (اللہُ اکبر) کہتے ہوئے سجدہ کرے اور رفع یدین نہ کرے۔ پہلے اپنا گھٹنہ رکھے، پھر اپنے دونوں ہاتھوں کو اور پھر اپنے چہرے کو۔ اپنی پیشانی، ناک اور دونوں ہتھیلیوں کو زمین سے ٹیک دے اور دونوں پیروں کی انگلیوں کو قبلہ کی طرف رکھے۔ ان سات اعضا پر سجدہ کرنا رکن ہے۔ مستحب یہ کہ نمازی اپنی دونوں ہتھیلیوں کے باطنی حصہ کو زمین پر اس طرح رکھے کہ انگلیاں ملی ہوئی ا ور قبلہ رو ہوں، بندھی ہوئی نہ ہوں اور دونوں کہنیاں زمین سے اٹھی ہوئی ہوں۔

ایسی جگہ نماز پڑھنا مکروہ ہے، جو سخت ٹھنڈ یا سخت گرم ہو۔ کیونکہ اس سے خشوع ختم ہو جاتا ہے۔ سجدہ کرنے والے کے لیے مسنون یہ ہے کہ وہ اپنے دونوں بازو کو اپنی بغل سے، اپنے پیٹ کو اپنی دونوں رانوں سے اور اپنی دونوں رانوں کو اپنی دونوں پنڈلیوں سے الگ رکھے، اپنے دونوں ہاتھوں کو اپنے دونوں مونڈھوں کے مقابل میں رکھے اور اپنے دونوں گھٹنوں کو دونوں پیروں سے الگ رکھے۔

پھر 'اللہُ اکبر' کہتے ہوئے اپنا سر اٹھائے، اپنے بائیں پیر کو بچھا کر اس پر بیٹھ جائے اور دائیں پیر کو کھڑا کرکے اسے اپنے نیچے سے نکال دے اور اس کی انگلیوں کے اندرونی حصوں کو زمین کی جانب کر دے، تاکہ انگلیوں کے سرے قبلہ رو ہو جائیں۔ اس کی دلیل ابو حمید رضی اللہ عنہ کی حدیث ہے، جس میں نبی صلی اللہ علیہ و سلم کی نماز کا طریقہ بیان ہوا ہے۔ نیز اپنے دونوں ہاتھوں کو، ان کی انگلیوں کو آپس میں ملاکر، دونوں رانوں پر رکھ دے۔ پھر یہ دعا پڑھے:"ربِّ اغفرْ لي۔" (اے اللہ! مجھے بخش دے۔) اس پر اضافہ کرنے میں کوئی حرج نہیں ہے۔ ابن عباس کی اس حدیث کی بنیاد پر کہ نبی صلى الله عليه وسلم دونوں سجدوں کے درمیان یہ دعا پڑھتے تھے: ’’رب اغفر لي وَارْحمني واهدِنِیْ وارزقني وعافني‘‘ ۔ ( اے میرے رب! مجھے بخش دے، مجھ پر رحم کر، مجھے ہدایت دے، مجھے روزی عطا کر اور مجھے عافیت دے۔) امام ابو داود نے اسے روایت کیا ہے ۔ پھر پہلے سجدہ کی طرح دوسرا سجدہ کرے۔ اگر چاہے تو اس میں دعا کرسکتا ہے۔ کیوں کہ نبی صلى الله عليه وسلم کا فرمان ہے: "سجدوں میں بکثرت دعائیں کرو، کیونکہ وہ قبولیت کے زیادہ قریب ہوتی ہیں۔ " اسے امام مسلم نے روایت کیا ہے۔ مسلم کی ایک دوسری روایت میں ابوہریرہ سے مروی ہے کہ رسول الله صلى الله عليه وسلم اپنے سجدوں میں یہ دعا پڑھتے تھے : ’’اللهم اغفر لي ذنبي كله دقه وجله وأوله وآخره وعلانيته وسره‘‘۔ (اے اللہ! تو میرےچھوٹے بڑے، اگلے پچھلے، ظاہر اور پوشیدہ تمام گناہ بخش دے۔) پھر تکبیر کہتے ہوئےاپنے دونوں قدموں کے ابتدائی حصہ پر کھڑے ہوتے ہوئے اور اپنے دونوں گھٹنوں کا سہارا لیتے ہوئے اپنے سر کو اٹھائے۔ اس کی دلیل وائل رضی اللہ عنہ کی حدیث ہے۔ اِلّا یہ کہ بڑھاپے، مرض یا کمزوری کی وجہ سے دشواری پیش آتی ہو۔ پھر پہلی رکعت کی طرح دوسری رکعت پڑھے۔ البتہ تکبیر تحریمہ اور دعائے ثنا دوبارہ نہ پڑھے، اگرچہ پہلی رکعت میں اس کا موقع ہی نہ مل سکا ہو۔ پھر تشہد کے لیے اس طرح بیٹھے کہ اپنے دونوں ہاتھوں کو اپنی دونوں رانوں پر بچھا کر رکھے ہوئے ہو، بائیں ہاتھ کی انگلیوں کو ملا کر قبلہ رو رکھے ہوئے ہو، دائیں ہاتھ کی چھنگلیا اور اس کے بعد والی انگلی کو پکڑے ہوئے ہو اور انگوٹھے اور درمیانی انگلی سے حلقہ بنائے ہوئے ہو۔ پھر آہستہ سے تشہد پڑھے اور اپنے تشہد میں اللہ کی وحدانیت کے اظہار کے طور پر دائیں ہاتھ کی شہادت کی انگلی سے اشارہ کرے۔ شہادت کی انگلی سے یہ اشارہ دعا کے وقت نماز میں بھی کرے اور نماز کے باہر بھی۔ اس کی دلیل ابن زبیر کی وہ روایت ہے، جس میں ہے : نبی صلی اللہ علیہ و سلم جب دعا کرتے، تو انگلی سے اشارہ کرتے اور انگلی کو ہلاتے نہیں تھے۔ پھر کہے: ”التَّحِيَّاتُ لِلَّهِ وَالصَّلَوَاتُ وَالطَّيِّبَاتُ السَّلَامُ عَلَيْكَ أَيُّهَا النَّبِيُّ وَرَحْمَةُ اللَّهِ وَبَرَكَاتُهُ السَّلَامُ عَلَيْنَا وَعَلَى عِبَادِ اللَّهِ الصَّالِحِينَ أَشْهَدُ أَنْ لَا إِلَهَ إِلَّا اللَّهُ وَأَشْهَدُ أَنَّ مُحَمَّدًا عَبْدُهُ وَرَسُولُهُ۔ (ساری تعظیمات, سب دعائیںاور تمام پاکیزہ ااقوال واعمال اللہ کے لئے ہیں۔اے نبی! آپ پر سلام ہو، اللہ کی رحمت اور اس کی برکت نازل ہو۔ سلام ہو ہم پر اور اللہ کے نیک بندوں پر۔ میں گواہی دیتا ہوں کہ اللہ کے سوا کوئی حقیقی معبود نہیں اور گواہی دیتا ہوں کہ بے شک محمد (ﷺ) اللہ کے بندے اور اس کے رسول ہیں۔) نبی صلى الله عليه وسلم سے صحیح طور پر ثابت تشہدات میں سے جو بھی پڑھ لے جائز ہے۔ بہتر یہ ہے کہ اختصار سے کام لے اور اپنی طرف سے کچھ اضافہ نہ کرے۔ اور یہ پہلا تشہد ہے۔ پھر اگر نماز دورکعت والی ہے، تو نبی صلى الله عليه وسلم پر ان الفاظ میں درود پڑھے: ’’اللهم صل على محمد وعلى آل محمد كما صليت على آل إبراهيم إنك حميد مجيد، وبارك على محمد وعلى آل محمد كما باركت على آل إبراهيم إنك حميد مجيد‘‘۔ ( اے اللہ! صلاۃ بھیج محمد پر اور محمد کی آل پر، جس طرح تونے صلاۃ بھیجی ابراہیم کی آل پر۔ یقیناً تو تعریف والا، بزرگی والا ہے۔ اور برکت نازل فرما محمد پر اور محمد کی آل پر، جس طرح برکت ناز ل کی تونے ابراہیم کی آل پر۔ یقیناً تو تعریف اور بزرگی والا ہے۔) نبی صلى الله عليه وسلم سے منقول کوئی بھی درود پڑھ سکتا ہے۔ آل محمد سے مراد آپ کے اہل بیت ہیں۔"التحيات" یعنی ہرطرح کی تعظیمات خواہ استحقاق کے اعتبار سے ہوں یا ملکیت کے اعتبار سے۔ "والصلوات" یعنی دعائیں۔ "والطيبات" یعنی نیک اعمال۔ کیوں کہ اللہ تعالی سلام بھیجتا ہے، اس پر سلام نہیں بھیجا جاتا، کیونکہ سلام دعا ہے۔ غیر نبی پر بھی انفرادی طور سے صلاۃ بھیج سکتے ہیں، جب یہ کثرت کے ساتھ نہ ہو اور نہ اسے بعض لوگوں کے لئے شعاربنالیا گیا ہو یا اس سے صحابہ میں سے بعض کوچھوڑ کر بعض صحابہ کا قصد کیا گیا ہو۔ غیر نماز میں بھی نبی صلی اللہ علیہ وسلم پر صلاۃ (درود) بھیجنا مسنون ہے۔ خاص طور سے اس وقت اس کی تاکید بہت زیادہ ہے جب آپ کا ذکر آئے, نیز جمعہ کے دن اور جمعہ کی رات میں بھی۔۔ اس کے بعد یہ دعا پڑھنا سنت ہے: ”اللَّهمَّ إنِّي أَعُوْذُ بِكَ مِنْ عَذَابِ جَهَنَّمَ، وَمِنْ عَذَابِ القَبْرِ، وَمِنْ فِتْنَةِ المَحْيَا وَالمَمَاتِ وَمِنْ فِتْنَةِ المَسِيْحِ الدَّجَّالِ۔ (اے اللہ! میں تیری پناہ چاہتا ہوں جہنم کے عذاب سے اور قبر کے عذاب سے، میں تیری پناہ چاہتا ہوں زندگی اور موت کے فتنہ سے اور میں تیری پناہ چاہتا ہوں مسیح دجال کے فتنہ سے۔) اگر اس کے علاوہ کوئی دوسری وارد دعا پڑھے، تو اچھا ہے۔ کیوں کہ نبی صلى الله عليه وسلم کا فرمان ہے : ’’پھر اسے جو دعا اچھی لگے، اسے چن لے۔‘‘ جب تک مقتدی پر گراں نہ گزرے۔ کسی خاص شخص کے لیے بھی دعا کی جا سکتی ہے۔ کیونکہ آپ صلى الله عليه وسلم نے مکہ کے کمزوروں کے لیے دعا کی تھی۔ پھر بیٹھنے کی حالت میں ہی دائیں طرف 'السلام عليكم ورحمة الله' کہے اور پھر اسی طرح بائیں طرف سلام پھیرے۔ التفات (سلام کے وقت دائیں بائیں مڑنا) سنت ہے۔ بائیں طرف التفات زیادہ کرے یہاں تک کہ اس کے رخسار نظر آجائیں۔ امام صرف پہلی بار زور سے 'السلام علیکم و رحمۃ اللہ' کہے اور اس کے علاوہ دیگر نمازی دونوں بار سلام آہستہ سے کہیں گے۔۔ سلام کے الفاظ کو کھینچ کر نہ کہنا بلکہ رواں انداز میں کہنا سنت ہے ۔ سلام کے ذریعے نماز سے نکلنے کى نیت کرے نیز اعمال قلمبند کرنے والے فرشتوں اور حاضرین کو بھی سلام کرنے کی نیت کرے۔ اگر نماز دورکعت سے زیادہ کی ہو، تو تشہد سے فارغ ہونے کے بعد تکبیر کہتے ہوئے اپنے دونوں قدموں کے بل کھڑا ہوجائے اور گذری ہوئی تفصیلات کے مطابق باقی نماز پوری کرے۔ ہاں، اونچی آواز سے قراءت نہ کرے اور نہ سورہ فاتحہ کے بعد کوئی سورہ پڑھے۔ البتہ اگر کچھ پڑھ لیا، تو مکروہ نہیں ہے۔ پھر وہ دوسرے تشہد کے لیے تورُّکْ کی حالت میں بیٹھے۔ یعنی اپنے بائیں پیر کو بچھالے اور دائیں پیر کو کھڑا کرلے اور دونوں کو دائیں جانب سے نکال لے اور اپنی سُرین کو زمین پر رکھ لے۔ اس کے بعد پہلے تشہد پڑھے، پھر درود شریف، اس کے بعد دعا کرے اور پھر سلام پھیر دے۔ امام مقتدیوں کی طرف دائیں یا بائیں جانب سے گھوم کر بیٹھ جائے اور سلام پھیرنے کے بعد زیادہ دیر تک قبلہ کی جانب نہ بیٹھا رہے۔ مقتدی امام سے پہلے سلام نہ پھیرے۔ کیونکہ نبی صلى الله عليه وسلم کا فرمان ہے: "بے شک میں تمہارا امام ہوں، لہذا تم رکوع، سجدہ اور سلام پھیرنے میں مجھ سے سبقت نہ کرو۔" اگر عورتیں بھی ساتھ میں نماز پڑھ رہی ہوں، تو وہ پہلے نکل جائیں اور مرد حضرات تھوڑی دیر ٹھہرے رہیں، تاکہ عورتوں سے مڈبھیڑ نہ ہو۔ نماز کے بعد اللہ کا ذکر، دعا اور استغفار مسنون ہے۔ چنانچہ تین باراستغفرُ اللہکہے اور اس کے بعد یہ دعا پڑھے: ’’اللهم أنت السلام ومنك السلام تباركت يا ذا الجلال والإكرام لا إله إلا الله وحده لا شريك له له الملك وله الحمد وهو على كل شيء قدير ، ولا حول ولا قوة إلا بالله لا إله إلا الله ولا نعبد إلا إياه له النعمة وله الفضل وله الثناء الحسن لا إله إلا الله مخلصين له الدين ولو كره الكافرون۔‘‘ (اے اللہ! تو سلامتی والا ہے اور تجھی سے سلامتی ہے۔ اے بزرگی اور عزت والے! تو بڑی برکت والا ہے۔ اللہ کے سوا کوئی حقیقی معبود نہیں۔ وہ اکیلا ہے۔ اس کا کوئی شریک نہیں۔ اسی کی بادشاہت ہے اور اسی کے لئے ساری تعریف ہے۔ وہ ہر چیز پر قادر ہے۔ اس کی مدد کے بغیر نہ بچنے کی طاقت ہے اور نہ کچھ کرنےکی قوت۔ اللہ کے سوا کوئی حقیقی معبود نہیں ہم صرف اسى کی عبادتکرتے ہیں۔ سارى نعمتیں اسى کى ہیں, سارا فضل وکرم اسی کا ہے اور اسی کے لیے ساری اچھی تعریفیں ہیں۔ اللہ کے سوا کوئی حقیقی معبود نہیں۔ ہم اپنی بندگی اسی کے لیے خالص کرنے والے ہیں، خواہ کافروں کو برا ہی لگے۔) "اللهم لا مانع لما أعطيت ولا معطي لما منعت ولا ينفع ذا الجد منك الجد"۔ (اے اللہ! جو تو دے، اسے کوئی روکنے والا نہیں اور جو تو روک لے، اسے کوئی دینے والا نہیں اور کسی شان والے کو اس کی شان تجھ سے فائدہ نہیں پہنچاسکتی۔) پھر وہ 33 بار 'سبحان اللہ'، 33 بار 'الحمدللہ' اور 33 بار 'اللہ اکبر' کہے اور سو (۱۰۰) کی تعداد اس کلمہ سے پورا کرے: "لا إله إلا الله وحده لا شريك له له الملك وله الحمد وهو على كل شيء قدير"۔ (اللہ کے سوا کوئی معبودِ برحق نہیں۔ وہ اکیلا ہے۔ اس کا کوئی شریک نہیں۔ اسی کی بادشاہت ہے، اسی کے لیے تمام تعریفیں ہیں اور وہی ہر چیز پر قادر ہے۔) فجر اور مغرب کی نماز کے بعد، کسی سے بات کرنے سے پہلے، سات بار یہ کہے : "اللهم أجرني من النار۔" (اے اللہ! مجھے جھنم سے پناہ دے)۔ آہستہ دعا کرنا افضل ہے۔ نیز ماثور دعاؤں کا اہتمام کرنا افضل ہے۔ دعا میں ادب، خشوع، حضور قلب، امید اور خوف کا امتزاج ہونا چاہیے۔ اس لیے کہ حدیث میں ہے : "غافل دل کی دعا قبول نہیں کی جاتی۔" دعا میں اللہ کے ناموں، اس کی صفتوں اور توحید کا وسیلہ لے اور دعا کی قبولیت کے اوقات کو دعا کے لیے منتخب کرے۔ دعا کی قبولیت کے اوقات ہیں: رات کی آخری تہائی، اذان اور اقامت کے درمیان کا وقت، فرض نمازوں کے بعد اور جمعہ کے دن کی آخری گھڑی۔ دعا کی قبولیت کا انتظار کرے، جلد بازی سے کام نہ لے اور یہ نہ کہے کہ میں نے فلاں فلاں دعا کی، مگر وہ قبول نہ ہوئی۔ دعا کو اپنے لیے خاص کرنے میں مضایقہ نہیں ہے، مگر جب ساتھ میں کوئی آمین کہہ رہا ہو، تو عام دعا کرے۔ چلا چلا کر دعا کرنا مکروہ ہے۔ نماز میں معمولی التفات اور آسمان کی طرف نگاہ اٹھانا یا کسی کھڑے مجسمے کی طرف یا کسی آدمی کے چہرے کی طرف رخ کرنا یا پھر آگ کی طرف رُخ کرنا، اگرچہ وہ چراغ ہی کیوں نہ ہو، اور سجدے میں اپنے بازؤں کو پھیلانا مکروہ ہے۔ پیشاب یا پاخانہ روک کر یا بھوک کی حالت میں نماز شروع نہ کرے، بلکہ نماز مؤخر کردے، اگرچہ جماعت فوت ہوجائے۔ کنکریوں سے کھیلنا، انگلیوں کو ایک دوسرے میں پھنسانا، بیٹھتے وقت اپنے دونوں ہاتھوں پر ٹیک لگانا، اپنے داڑھی کے بال کو ہاتھ لگانا، بال سنوارنا اور کپڑے سمیٹنا (تاکہ سجدہ کرتے وقت زمین پر نہ لگیں) مکروہ ہے۔ اگر جمائی آئے، تو حتی الامکان اسے روکے۔ اگر نہ رک سکے، تو اپنے ہاتھ کو اپنے منہ پر رکھ لے ۔ بنا کسی عذر کے مٹی برابر کرنا مکروہ ہے۔ اپنے سامنے سے گزرنے والے کو روکے، اگرچہ اسے دھکا دینا ہی کیون نہ پڑے۔ خواہ گزرنے والا آدمی ہو یا کوئی اور، فرض نماز ہو یا نفل۔ اگر وہ نہ مانے، تو اس سے قتال کرے، اگرچہ کچھ چلنا پڑے۔ نمازی اور اس کے سترہ کے درمیان اور اگر سترہ نہ ہو، تو اس کے سامنے سے چلنا حرام ہے۔ دورانِ نماز سانپ یا بچھو یا جوں مارنا جائز ہے۔ اسی طرح کپڑے اور عمامہ ٹھیک کرنا، کسی چیز کا اٹھانا اور کسی چیز کا اتارنا جائز ہے۔ نیز بوقت ضرورت ہاتھ، چہرہ یا آنکھ سے اشارہ کرنا بھی جائز ہے۔ نمازی کو سلام کرنا مکروہ نہیں ہے۔ نمازی اشارہ سے سلام کا جواب دے۔ جب امام پر التباس ہو یا غلطی کرے، تو اسے لقمہ دے۔ اگر نماز میں کوئی معاملہ پیش آجائے (مثلًا دورکعت پر تشہد بھول جائے) تو مرد 'سبحان اللہ' کہے اور عورت تالی بجائے۔ اگر مسجد میں تھوک یا بلغم آجائے، تو اپنے کپڑے میں تھوک لے۔ مسجد کے علاوہ کسى جگہ میں ہو، تو اپنی بائیں جانب تھوک دے۔ دائیں جانب یا سامنے تھوکنا منع ہے۔ مقتدی کے علاوہ کے لیے کسی اور کے لیے بغیر سترہ کے نماز پڑھنا مکروہ ہے۔ چاہے کسی کے گزرنے کا خطرہ ہو یا نہ ہو۔ دیوا رکو سترہ بنایا جا سکتا ہے یا کسی بھی واضح شکل وصورت والی چیز کو سترہ بنایا جا سکتا ہے, جیسے نیزہ, یا اس کے علاوہ کوئی بھی دوسرى چیز، جو کجاوے کے پچھلےحصے کے برابر ہو۔ سترہ سے قریب رہنا مسنون ہے۔ دلیل نبی صلى الله عليه وسلم کا یہ فرمان ہے: "جب تم میں سے کوئی شخص نماز پڑھے، تو سترہ کی طرف رخ کرکے اور اس سے قریب ہوکر نماز پڑھے۔" سترہ سے ذرا ہٹ کر کھڑا ہو، کیوں کہ نبی صلى الله عليه وسلم نے ایسا ہی کیا ہے۔ اگر سترہ ملنا دشوار ہو، تو ایک لکیر کھینچ لے۔ اب اگر اس لکیر کے پیچھے سے کوئی گزرے، تو مکروہ نہیں ہے۔ اگرسترہ نہ ہو یا نمازی اور سترہ کے درمیان سے عورت، کتا یا گدھا گزر جائے، تواس کی نماز باطل ہوجائے گی۔

نمازی مصحف میں دیکھ کر تلاوت کرسکتا ہے۔ اسی طرح رحمت کی آیت پڑھتے وقت رحمت طلب کر سکتا ہے اور عذاب کی آیت پڑھتے وقت عذاب سے پناہ مانگ ستکا ہے۔

فرض نماز میں قیام ایک رُکن ہے۔ کیوں کہ اللہ تعالی کا فرمان ہے: {وقوموا لله قانتين} (سورہ البقرہ: 238) (اور اللہ تعالی کے لیے باادب کھڑے رہا کرو۔) ہاں! مجبور، ننگے،خائف، قیام سے عاجز محلے کے امام کے پیچھے نماز پڑھنے والے کے لیے قیام رکن نہیں ہے۔ اگر مقتدی امام کو رکوع میں پائے، تو تکبیر تحریمہ کے بقدر قیام کافی ہے۔ تکبیرتحریمہ، امام اور منفرد کا سورہ فاتحہ پڑھنا اور رکوع کرنا بھی رکن ہے ۔ کیوں کہ اللہ تعالی کا فرمان ہے: { يا أيها الذين آمنوا اركعوا واسجدوا۔} (اے ایمان والو! رکوع اور سجدہ کرو۔) اور ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ ایک شخص نے مسجد میں داخل ہوکر نماز ادا کی، پھر نبی صلى الله عليه وسلم کے پاس آکر آپ کو سلام کیا۔ آپ نے فرمایا: "جاؤ اور نماز پڑھو، کیونکہ تم نے نماز نہیں پڑھی ہے۔" اس نے تین بار ایسا کیا اور اس کے بعد کہا: قسم اس ذات کی، جس نے آپ کو حق کے ساتھ نبی بنا کر بھیجا ہے، اس سے بہتر نماز میں نہیں جانتا۔ آپ مجھے سکھلائیں۔ آپ صلى الله عليه وسلم نے اس سے فرمایا: "جب تم نماز کے لیے کھڑے ہو، توتکبیرِ تحریمہکہو۔ پھر آسانی کے ساتھ جتنا قرآن تمیں یاد ہو، اسے پڑھو۔ اس کے بعد رکوع کرو۔ اچھی طرح سے رکوع کرلو تو پھر سر اٹھا کر پوری طرح کھڑے ہوجاؤ۔ اس کے بعد پورے اطمینان کے ساتھ سجدہ کرو۔ پھر سر اٹھاؤ اور اچھی طرح بیٹھ جاؤ۔ اسی طرح اپنی تمام نماز پوری کرو۔" اسے جماعت (اصحاب کتب ستہ اور امام احمد نے روایت کیا ہے۔ اس سے واضح ہوا کہ اس حدیث میں بیان کردہ چیزیں کسی بھی حال میں ساقط نہیں ہوں گی۔ کیونکہ اگر ان کا ساقط ہونا جائز ہوتا، تو اس جاہل اعرابی سے ساقط ہوجاتیں۔

ان تمام افعال کو اطمینان کے ساتھ انجام دینا بھی ایک رکن ہے۔ کیوں مذکورہ حدیث میں اس کا حکم موجود ہے۔ نیز حذیفہ (رضی اللہ عنہ) نے ایک شخص کو دیکھا، جو رکوع اور سجدہ اچھی طرح نہیں کررہا تھا، تو اس سے کہا: تو نے نماز نہیں پڑھی اور اگر تجھے اسی حالت پر موت آگئی، تو تم اس فطرت کے برخلاف مروگے، جس فطرت پر اللہ تعالی نے محمد صلى الله عليه وسلم کو پیدا کیا ہے۔

آخری تشہد بھی ایک رکن ہے۔ ابن مسعود رضی اللہ عنہ کے اس قول کی بنیاد پر کہ وہ کہتے ہیں: تشہد فرض ہونے سے پہلے ہم اس طرح کہتے تھے: ’السلام على الله، السلام على جبريل وميكائيل۔‘ (سلام ہو اللہ پر اور سلام ہو جبریل اور میکائیل پر۔) چنانچہ نبی صلى الله عليه وسلم نے فرمایا: "اس طرح مت کہو، بلکہ یہ کہو: التحيات لله" اسے نسائی نے روایت کیا ہے اور اس کے روایت کرنے والے ثقہ ہیں۔

وہ واجبات، جو سہو کی وجہ سے ساقط ہوجاتے ہیں، آٹھ ہیں: (1) پہلی تکبیر کے علاوہ دیگر تکبیریں، (2) امام اور منفرد کاسمع اللہ لمن حمدہکہنا، (3) ہر ایک کاربنا ولک الحمدکہنا، (4-5) رکوع وسجدے کی تسبیحات، (6)رب اغفر ليکہنا، (7) تشہد اول، (8) اور تشہد اول کے لیے بیٹھنا۔ اس کے علاوہ سارے اعمال قولی اور فعلی سنت ہیں۔

قولی سنتیں سترہ (17) ہیں: (1) دعائےاستفتاح، (2) اعوذباللہ من الشیطان الرجیم کہنا، (3) بسم اللہ الرحمن الرحیم کہنا، (4) آمین کہنا، (5) (چار رکعت والی نماز کى) پہلی دورکعتوں میں (سورہ فاتحہ کے سوار کوئی اور ) سورت ملانا، (6) نماز فجر ، (7) جمعہ، (8) عید (9) اور جملہ نفلی نمازوں میں سورت کا ملانا، (10) جہری نمازوں میں اونچی آواز میں تلاوت کرنا، (11) سری نمازوں میں آہستہ تلاوت کرنا، (12) 'ملء السماء والأرض' الخ کہنا (13) اور رکوع (14) وسجدے کی ایک سے زائد تسبیحات (15) اور 'رب اغفر لي' کہنا (16) آخری تشہد میں چار چیزوں سے پناہ طلب کرنا (17) آل نبی صلى الله عليه وسلم پر درود و سلام بھیجنا۔ اس کے علاوہ باقی چیزیں فعلی سنتوں کے زمرے میں آتی ہیں۔ جیسے تکبیر تحریمہ، رکوع میں جاتے اور رکوع سے اٹھتے وقت انگلیوں کا پھیلا ہوا، آپس میں ملا ہوا اور قبلہ رخ ہونا اور اس کے بعد دونوں ہاتھوں کو گرا لینا، دائیں ہاتھ سے بائیں گٹے کو پکڑ کر دونوں ہاتھوں کو ناف کے نیچے رکھنا، سجدے کی جگہ پر نظر رکھنا، دوران قیام دونوں قدموں کو ایک دوسرے سے ہٹاکر رکھنا، باری باری دونوں قدموں کا سہارا لینا، ٹھہر ٹھہر کر تلاوت کرنا، امام کا مختصر قراءت کرنا، پہلی رکعت کا دوسری رکعت سے لمبا ہونا، رکوع میں اپنے دونوں گھٹنوں کو, دونوں ہاتھوں سے, ان کى انگلیوں کو کشادہ کرتے ہوئے, پکڑنا، پیٹھ کو بالکل سیدھا اور سر کو اس کے برابر کرنا، سجدہ میں دونوں گھٹنوں کو اپنے دونوں ہاتھوں سے پہلے رکھنا، اٹھتے وقت پہلے دونوں ہاتھوں کو اٹھانا، اپنی پیشانی اور ناک کو زمین پر اچھی طرح رکھنا، بازؤں کو بغلوں سے دور رکھنا، پیٹ کو دونوں رانوں سےاور دونوں رانوں کو دونوں پنڈلیوں سے دور رکھنا، دونوں قدموں کو کھڑا رکھنا اور ان کى انگلیوں کو پیھلاتے ہوئےان کے باطنی حصہ کو زمین پر رکھنا، سجدے میں دونوں ہاتھوں کو پھیلی ہوئی انگلیوں کے ساتھ اپنے دونوں مونڈھوں کے مقابل رکھنا، اپنے ہاتھ کی انگلیوں کو ملا کر قبلہ رو رکھنا، نمازی کا اپنے دونوں ہاتھوں اور اپنی پیشانی کو اٹھانا اور قدموں کے بل دوسری رکعت کے لیے اس طرح کھڑا ہونا کہ اپنے دونوں ہاتھوں کو اپنی دونوں رانوں پر رکھ کر سہارا لے، دونوں سجدوں کے درمیان اور تشہد میں دایاں پاؤں بچھاکر بیٹھنا، دوسرے تشہد میں تورک کرنا، دو سجدوں کے درمیان اور تشہد میں دونوں ہاتھوں کو اپنی دونوں رانوں پر اس طرح رکھنا کہ ہاتھ پھیلے ہوں اور انگلیاں ملی ہوئی اور قبلہ رخ ہوں، چھنگلیا اوراس کے بعد والی انگلی کو سمیٹ کو اور انگوٹھے اور درمیانی انگلی کا حلقہ بنا کر شہادت کی انگلی سے اشارہ کرنا، سلام پھیرتے وقت دائیں بائیں مڑنا اور دائیں جانب کے بالمقابل بائیں جانب زیادہ مُڑنا۔ سجدہ سہو کے بارے میں امام احمد کہتے ہیں: اس کے متعلق نبی سے پانچ طرح کی حدیثیں آئی ہیں۔ دورکعت پر سلام پھیر دیا اور سجدہ سہو کر کے سلام پھیرا۔ تین رکعت پر سلام پھیردیا اور سجدہ سہو کیا۔ زیادتی اور کمی رہ جانے پر اور دو رکعت کے بعد بغیر تشہد کے کھڑے ہوجانے پر سجدہ سہو کیا۔ امام خطابی کہتے ہیں: اہل علم کا اعتماد ان پانچ حدیثوں پر ہے۔ یعنی ابن مسعود کی دو حدیثوں اور ابوسعید، ابوہریرہ اور ابن بحینہ کی حدیثوں پر۔ سجدۂ سہو زیادتی، کمی اور فرض و نفل میں شک ہوجانے پر مشروع ہے۔ البتہ شک اگر اتنا زیادہ ہو جائے کہ وسوسے کی حد تک پہنچ جائے، تو اسے نظر انداز کرتے ہوئے ظن غالب پر عمل کیا جائے گا۔ یہی حال وضو، غسل اور نجاست زائل کرنے میں وسوسے کا ہے کہ اسے نظر انداز کرتے ہوئے ظن غالب پر عمل کیا جائے گا۔ اگر آدمی جان بوجھ کر نماز میں زیادتی کر دے، خواہ قیام ہو یا رکوع، سجدہ ہو یا قعدہ، تو نماز باطل ہوجائےگی اور بھول کر کرے، تو سجدہ سہو کرنا ہوگا۔ کیوں کہ نبی صلى الله عليه وسلم کا فرمان ہے: "جب آدمی اپنی نماز میں زیادتی یا کمی کردے، تو وہ دو سجدے کرے۔" اسے امام مسلم نے روایت کیا ہے۔ نماز میں بھولنے والے کو جب یاد آجائے، تو بغیر تکبیر کے نماز کی ترتیب کی طرف لوٹ آئے۔ اگر ایک رکعت زیادہ کردی ہے، تو جب یاد آئے، رکعت چھوڑ کر واپس آ جائے اور جہاں سے غلطی کی تھی، وہیں سے نماز آگے بڑھائے۔ اگر پہلے تشہد کر چکا ہے، تو تشہد نہ کرے، بلکہ سجدہ کرکے سلام پھیر دے۔ مسبوق زائد رکعت کا اعتبار نہ کرے اور جسے پتہ ہو کہ یہ زائد رکعت ہے، وہ اس کے ساتھ شریک نہ ہو۔ اگر امام یا منفرد ہو اور دوثقہ شخص تنبیہ کردیں، تو اسے رجوع کرنا ہوگا اور اگر ایک آدمی تنبیہ کرے تو رجوع نہ کرے۔ یہ اور بات ہے کہ شخص واحد کی بات کے صحیح ہونے کا یقین ہوجائے، کیونکہ نبی صلى الله عليه وسلم نے ذوالیدین کے کہنے سے رجوع نہیں فرمایا تھا۔

معمولی عمل نماز کو باطل نہیں کرتا۔ جیسے نبی صلى الله عليه وسلم کا عائشہ کے لیے دروازہ کھولنا اور اُمامہ کو گود میں لینا اور گود سے اتارنا۔ اگر کوئی نماز کی مشروع چیز کو غیر محل میں لے آیا، مثلا قعدہ میں قراءت اور قیام میں تشہد (التحیات) پڑھ لیا، تو اس سے نماز باطل نہیں ہوگی۔

البتہ سجدۂ سہو کرنا مناسب ہوگا۔ کیوں کہ نبی کا یہ فرمان عام ہے : "جب تم میں کسی سے بھول چوک ہوجائے، تو وہ سہو کے دو سجدے کر لے۔" اور اگر نماز مکمل کرنے سے قبل جان بوجھ کر سلام پھیر دے، تو نماز باطل ہوجائے گی۔ لیکن اگر بھول کر سلام پھیر دے، پھر جلد ہی یاد آ جائے، تو نماز پوری کرے، اگرچہ وہ مسجد سے نکل گیا ہو یا اس نے نماز میں سدھار کے تعلق سے معمولی گفتگو کرلی ہو۔ اگر بھول کر بات کر لے، یا نیند آجائے اور نیند کی حالت میں بات کر لے، یا قرآن پڑھنے کے دوران سبقت لسانی سے قرآن کے باہر کا کوئی کلمہ زبان سے نکل جائے، تو نماز باطل نہیں ہوگی۔ اگر قہقہہ لگا دے، تومتفقہ طور پر نماز باطل ہوجائے گی، البتہ مسکرانے سے باطل نہ ہوگی۔ اگر تکبیرِ تحریمہ کے علاوہ کسی اور رکن (مثلًا رکوع) کو بھول جائے اور بعد والی رکعت کی قرأت کے دوران یاد آ جائے، تو اس سے پہلی والی رکعت باطل ہوجائے گی اور دوسری رکعت اس کی جگہ لے لے گی۔ ایسے میں وہ دعائے استفتاح نہ لوٹائے۔ یہ امام احمد کاقول ہے۔ لیکن اگر قراءت سے قبل یاد آجائے، تو پلٹ کر چھوٹے ہوئے رکن اور اس کے بعد والے اعمال کو بجا لائے۔ اگر پہلا تشہد بھول جائے اور کھڑا ہونے لگے، تو لازمی طور پر لوٹ جائے اور اسے بجا لائے، جب تک کہ وہ سیدھے طور پر کھڑا نہ ہوگیا ہو۔ اس کی دلیل مغیرہ رضی اللہ عنہ کی وہ حدیث ہے، جسے ابوداود نے روایت کیا ہے۔ اس معاملے میں مقتدی کو امام کی پیروی کرنی ہوگی، لیکن اس سے تشہد ساقط ہو جائے گا اور وہ سجدہ سہو کرے گا۔ جس شخص کو رکعتوں کی تعداد میں شک ہوجائے، وہ یقین کا اعتبار کرے اور اگر مقتدی کو شک ہو، تو اپنے امام کے افعال کی پیروی کرے۔ اگر امام کو رکوع کی حالت میں پائے اور اسے شک ہو کہ آیا اس کے رکوع میں جانے سے پہلے امام نے اپنا سر اٹھالیا تھا یا نہیں، تو وہ اس رکعت کو شمار نہ کرے۔ پھر جب یقین پر بنا کرے، تو نماز کے باقی اعمال پورے کرے۔ جب کہ مقتدی ان کو امام کے سلام پھیرنے کے بعد پورا کرے گا اور سجدۂ سہو کرے گا۔ مقتدی پر سجدۂ سہو نہیں ہے۔ البتہ اگر امام سے سہو ہوتا ہے اور وہ سجدۂ سہو کرتا ہے، تو مقتدی بھی اس کے ساتھ سجدۂ سہو کرے گا، اگرچہ وہ تشہد پورا نہ کر پایا ہو۔ پھر مقتدی سجدۂ سہو کے بعد تشہد پورا کرے گا۔ مسبوق، امام کے ساتھ سہوا سلام پھیرنے کی وجہ سے، اس کے ساتھ سہو کی وجہ سے اور خود اپنے کسی سہو کی وجہ سے سجدۂ سہو کرے گا۔ سجدۂ سہو کا محل سلام سے پہلے ہے۔ ہاں، اگر ایک رکعت یا اس سے زیادہ رکعت چھوڑ کر سلام پھیر دے، تو سلام کے بعد سجدۂ سہو کرنا مستحب ہے۔ اسی طرح اگر ‏غالب گمان کا اعتبار کرتے ہوئے نماز پوری کرے، اگر ہم اس کے قائل ہوں، تو سلام کے بعد سجدۂ سہو کرنا مستحب ہے۔ اس کی دلیل علی اور ابن مسعود رضی اللہ عنھما کی حدیث ہے۔ اگر سلام سے پہلے یا سلام کے بعد سجدۂ سہو کرنا بھول جائے، تو یاد آنے پر سجدۂ سہو کرلے، جب تکہ کہ لمبا وقت نہ گزرا ہو۔ سجدۂ سہو، اس کے اذکار اور اس سے اٹھنے کے بعد کے اذکار نماز ہی کی طرح ہیں۔

 (باب: نفل نماز کا بیان)

ابو العباس علامہ ابن تیمیہ رحمہ اللہ کہتے ہیں: ’’قیامت کے دن فرض نماز کی کمی نفل سے پوری کی جائے گی۔ اس بارے میں مرفوع حدیث موجود ہے۔ یہی حال زکوۃ اور بقیہ اعمال کا بھی ہے۔ سب سے افضل نفل جہاد ہے، پھر اس کے لوازمات مثلا جہاد کے مصارف وغیرہ، اس کے بعد علم سیکھنا اور سکھانا۔‘‘ ابو الدرداء کہتے ہیں : ’’عالم اور متعلم اجر میں برابر ہیں۔ باقی لوگ بے وقوف ہیں۔ ان کے اندر کوئی خیر نہیں ہے۔‘‘ امام احمد سے مروی ہے: ’’جس کی نیت صحیح ہو، اس کے لیے طلب علم سے افضل کوئی عمل نہیں۔" مزید فرمایا: "رات کے کچھ حصہ میں علمی مذاکرہ کرنا میرے نزدیک رات بھر جاگ کر نفلی عبادت کرنے سے افضل ہے۔‘‘ وہ مزید کہتے ہیں: ’’آدمی کے لیے اتنا علم حاصل کرنا واجب ہے، جس سے وہ دین پر بصیرت کے ساتھ عمل کرسکے۔" آپ سے پوچھا گیا: جیسے کون سی چیز؟ فرمایا: جیسے وہ شخص جو جہالت کی وجہ سے نماز وروزہ وغیرہ صحیح ڈھنگ سے ادا نہ کرسکے۔‘‘ پھر اس کے بعد نماز کا مقام ہے۔ اس حدیث کی وجہ سے: "صراط مستقیم پر چلو اور تم اس کی ہرگز طاقت نہیں رکھ سکتے (مگر بقدر استطاعت) اور جان لو کہ تمہارے اعمال میں سب سے بہتر عمل نماز ہے۔" پھر اس کے بعد اس عمل کا مقام ہے، جس کا فائدہ دوسروں کو پہنچے۔ جیسے مریض کی عیادت کرنا، مسلمان کی ضرورت پوری کرنا یا لوگوں درمیان صلح کروانا۔ اس کی دلیل نبی صلى الله عليه وسلم کا یہ فرمان ہے: "کیا میں تمہیں تمہارے سب سے افضل عمل اور نماز و روزے سے چیز کے بارے میں نہ بتلاؤں؟ لوگوں کے درمیان صلح کروانا، کیونکہ آپسی بگاڑ ہلاک کر دینے والی چیز ہے۔" اسے ترمذی نے صحیح قراردیا ہے ۔ امام احمد کہتے ہیں: جنازے کے پیچھے چلنا (نفلی) نماز سے افضل ہے۔ پھر جن اعمال کا فائدہ دوسروں کو پہنچتا ہے، ان کے ثواب میں بھی تفاوت ہوتا ہے۔ مثلا کسی رشتے کے محتاج پر صدقہ کرنا غلام آزاد کرنے سے افضل ہے اور غلام آزاد کرنا کسی اجنبی انسان پر صدقہ کرنے سے افضل ہے۔ مگر یہ کہ زمانہ قحط کا ہو۔ پھر اس کے بعد حج کا مقام ہے۔ اور انس رضی اللہ عنہ سے مرفوعاً روایت ہے: "جو شخص طلب علم میں (اپنے گھر سے) نکلتا ہے، وہ اللہ کے راستے میں ہوتا ہے، یہاں تک کہ واپس لوٹ آئے۔" امام ترمذی نے اسے حسن غریب کہا ہے۔ شیخ الاسلام ابن تیمیہ رحمہ اللہ فرماتے ہیں : علم سیکھنا اور سکھانا جہاد میں داخل ہے اور جہاد ہی کی ا یک قسم ہے۔ نیز فرمایا: ذو الحجہ کے دس دنوں میں مکمل طور پر رات اور دن میں عبادت کرنا اس جہاد سے افضل ہے، جس میں جان اور مال محفوظ رہے۔ امام احمد سے روایت ہے کہ کوئی عمل حج کے مشابہ نہیں ہے، کیوں کہ اس میں بڑی تکان ہے، بہت سے مشاعر ہیں اور ایسا مجمع ہے کہ اسلام میں اس کی مثال نہیں ملتی۔ اس میں عرفہ کی شام بھی ہوتی ہے اور حج میں مال خرچ کرنا پڑتا ہے اور بدن کو زیادہ تھکانا پڑتا ہے۔ ابو امامہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہےکہ ایک شخص نے نبی صلى الله عليه وسلم سے دریافت کیا کہ کون سا عمل افضل ہے؟ آپ نے فرمایا : "تم روزہ کو لازم پکڑ لو، کیونکہ اس جیسا کوئی عمل نہیں ہے۔" اسے امام احمد وغیرہ نے حسن سند کے ساتھ روایت کیا ہے۔ شیخ الاسلام ابن تیمیہ رحمہ اللہ فرماتے ہیں: نبی صلی اللہ علیہ و سلم اور آپ کے صحابہ کے حاجت اور مصلحت کے تقاضے کے مطابق عمل کی وجہ سے ہر عمل کسی نہ کسی حالت میں افضل ہو سکتا ہے۔ یہی چیز امام احمد سے بھی منقول ہے۔ فرماتے ہیں: جو تمہارے دل کے لیے زیادہ درستگی کا باعث ہو، اسے کرو۔ اسی طرح امام احمد نے غور وفکر کی فضیلت کو نماز اور صدقہ پر فوقیت دی ہے۔ اس سے یہ ظاہر ہوتا ہے کہ قلبی عمل اعضا کے عمل سے افضل ہے اور اصحابِ رسول نے بھی اس سے عمل جوارح مراد لیا ہے، جس کی تائید اس حدیث سے ہوتی ہے: "اللہ تعالی کے نزدیک سب سے بہتر عمل اللہ کے لیے محبت کرنا اور اس کے لیے نفرت کرنا ہے۔" نیز اس حدیث سے بھی اس کی تائید ہوتی ہے : "ایمان کی سب سے مضبوط کڑی ( اللہ کے لیے محبت کرنا اور اسی کے لیے نفرت کرنا ) ہے۔"

سب سے مؤکد نفل نماز سورج اور چاند گرہن کی نماز ہے۔ اس کے بعد وتر، پھر فجر کی سنت، پھر مغرب کی سنت اور اس کے بعد بقیہ سنن مؤکدہ ہیں۔ نماز وتر کا وقت عشا کے بعد سے لے کر طلوع فجر تک رہتا ہے۔ جب کہ اس کا افضل وقت رات کا آخری حصہ ہے، بشرطیکہ بیدار ہونے کا یقین ہو۔ ورنہ سونے سے پہلے ہی پڑھ لے۔ وتر کم سے کم ایک رکعت اور زیادہ سے زیادہ گیارہ رکعت ہے۔ اسے پڑھنے کا افضل طریقہ یہ ہے کہ دو دو رکعت پر سلام پھیرتا جائے اور اخیر میں ایک رکعت پڑھ کر پوری نماز کو بے جوڑ بنا لے۔ اگر اس کے علاوہ بھی کسی ایسے طریقے سے پڑھتا ہے، جو نبی صلی اللہ علیہ وسلم سے ثابت ہے، تو کوئی بات نہیں ہے۔ کامل وتر کی ادنی مقدار تین رکعت ہے۔ بہتر یہ ہے کہ تین رکعت وتر دو سلام سے پڑھی جائے، جب کہ ایک سلام سے پڑھنا بھی جائز ہے۔ ساتھ ہی مغرب کی طرح پڑھنا بھی جائز ہے۔

سنن مؤکدہ کی تعداد دس رکعت ہے۔ انہیں گھر میں ادا کرنا افضل ہے۔ سنن مؤکدہ کی تفصیل اس طرح ہے: ظہر سے قبل دو رکعت، ظہر کے بعد دو رکعت، مغرب کے بعد دو رکعت، عشا کے بعد دو رکعت اورفجر سے پہلے دو رکعت۔

فجر کی سنتیں ہلکی قراءت کے ساتھ ادا کرے اور ان میں سورہ الکافرون اور سورہ اخلاص پڑھے۔ یا پھر پہلی رکعت میں سورہ بقرہ کی یہ آیت پڑھے: {قولوا آمنا بالله وما أنزل إلينا} (اے مسلمانو! تم سب کہو کہ ہم اللہ پر ایمان ئے اور اس چیز پر بھی جو ہماری طرف اتاری گئی ہے) الآیہ, اور دوسری رکعت میں یہ آیت پڑھے : {قل يا أهل الكتاب تعالوا إلى كلمة سواء بيننا وبينكم} الآيہ [سورہ آل عمران:64] (آپ کہہ دیجیے کہ اے اہلِ کتاب! ایسی انصاف والی بات کی طرف آؤ، جو ہم میں تم میں برابر ہے...) آدمی ان سنتوں کو سواری کى حالت میں بھی پڑھ سکتا ہے۔

جمعہ سے پہلے کوئی سنت نہیں ہے جب کہ جمعہ کے بعد دو یا چاررکعت سنت ہے۔ سنت تحیۃ المسجد کی طرف سے بھی کافی ہوگی۔ فرض اور سنت کے بیچ بات چیت یا قیام کے ذریعے جدائی ڈالنا سنت ہے۔ اس سلسلے میں معاویہ رضی اللہ عنہ سے ایک حدیث موجود ہے۔ اگر کسی کی کوئی سنت چھوٹ جائے تو اس کی قضا کرنا مستحب ہے۔ اذان واقامت کے درمیان نفل پڑھنا مستحب ہے۔

نماز تراویح سنت ہے, جسے نبی صلى الله عليه وسلم نے جاری فرمایا ہے۔ اسے جماعت سے پڑھنا افضل ہے۔ اس میں امام جہری قراءت کرے، کیونکہ بعد کے لوکوں نے اسلاف سے ایسا ہی نقل کیا ہے۔ اس کی ہر دو رکعت پر سلام پھیرے۔ کیوں کہ حدیث میں ہے: "رات کی نماز دودو رکعت ہے۔" تراویح کا وقت صلاۃِ عشا اور اس کی سنت کے بعد اور وتر سے پہلے طلوع فجر تک ہے۔ تراویح کے بعد وتر ادا کرے اور اگر تہجد پڑھنی ہے تو وتر تہجد کے بعد پڑھے۔ آپ صلى الله عليه وسلم کا فرمان ہے: "تم اپنی رات کی آخری نماز وتر کو بناؤ۔" جسے تہجد پڑھنی ہے، اگر وہ امام کی پیروی کرنا چاہتا ہے، تو امام کے سلام پھیرنے کے بعد کھڑا ہوجائے اور ایک رکعت ادا کرلے۔ کیوں کہ نبی صلى الله عليه وسلم کا فرمان ہے: "جس نے امام کے ساتھ قیام کیا، یہاں تک کہ وہ نماز مکمل کرلے،تو اس کے لیے رات بھر کا قیام لکھا جائے گا۔" امام ترمذی نے اسے صحیح کہا ہے۔ قرآن کریم حفظ کرنا بالاتفاق مستحب ہے، جو کہ تمام اذکار سے افضل ہے۔ قرآن کا اتنا حصہ یاد کرنا ضروری ہے، جتنا نماز کے لیے ضروری ہے۔ بچے کا ولی بچےکو سب سے پہلے قرآن سکھلائے الا یہ کہ ایسا کرنا مشکل ہو۔ قرآن کو ہر ہفتہ ختم کرنا اور بسا اوقات اس سے کم وقت میں ختم کرنا بھی مسنون ہے۔ اگر بھولنے کا خوف ہو تو قرآن کی تلاوت میں تاخیر کرنا حرام ہے۔ قرآن پڑھنے سے پہلے دھتکارے ہوئے شیطان سے اللہ کی پناہ مانگے، اخلاص پیدا کرنےکی کوشش کرے نیز اخلاص ختم کرنے والی چیزوں کو بھی دور کرنے کی کوشش کرے۔ سردی میں رات کی ابتدا میں اور گرمی میں دن کی ابتدا میں قرآن ختم کرے۔ طلحہ بن مصرف کہتے ہیں : "میں نے اس امت کے بھلے لوگوں کو پایا کہ وہ اسے مستحب سمجھتے ہیں۔ وہ کہتے ہیں کہ جب دن کے شروع میں قرآن ختم کرے گا، تو شام تک فرشتے اس کے لیے استغفار کریں گے اور جب شروع رات میں قرآن ختم کرے گا، تو صبح تک فرشتے اس کے لیے استغفار کریں گے۔‘‘ امام دارمی نے اسے سعد بن أبي وقاص سے حسن سند کے ساتھ روایت کیا ہے۔ قرآن کی تلاوت خوب صورت آواز میں کرے، اسے ٹھہر ٹھہر کر پڑھے، سنجیدگی اور غور وفکر کے ساتھ پڑھے، رحمت کی آیتوں پر اللہ تعالیٰ سے اس کی رحمت طلب کرے اور عذاپ کی آیتوں پر اللہ کی پناہ طلب کرے۔ نمازیوں یا سونے والوں یا تلاوت کرنے والوں کے درمیان اونچی آواز سے قرآن نہ پڑھے کہ لوگوں کو تکلیف ہو۔ آدمی کھڑے ہوکر، بیٹھ کر، لیٹ کر، سواراور پیدل ہر حالت میں تلاوت کر سکتا ہے۔ راستے میں قرآن پڑھنا مکروہ نہیں ہے۔ اسی طرح حدثِ اصغر (چھوٹی ناپاکی) کى حالت میں, اور گندی جگہوں پر قرآن پڑھنا مکروہ ہے۔ قرآن پڑھنے کے لیے ایک جگہ جمع ہونا اور تلاوت کرنے والے کی تلاوت سننا مستحب ہے۔ جب قرآن پڑھا جائے، تو آدمی کو چاہیے کہ غیر ضروری باتوں سے گریز کرے۔ امام احمد نے جلدی جلدی قرآن پڑھنے کو ناپسند کیا ہے۔ اسی طرح گا گا کر قرآن پڑھنے کو بھی ناپسند کیا ہے۔ البتہ ترجیع میں مضایقہ نہیں ہے۔ جس نے قرآن کے بارے میں اپنی رائے تھوپی یا ایسے بات کہی، جس کی جانکاری نہ ہو، وہ اپنا ٹھکانہ جہنم میں بنالے اور اس سےخطا یقینا سرزد ہوئی اگرچہ اس کى بات فی الواقع درست ہو۔ ناپاک شخص کے لیے قرآن چھونا جائز نہیں ہے اور کسی جزء دان یا سامان رکھنے کے برتن میں رکھ کر قرآن کو اٹھا سکتا ہے۔ اسی طرح اپنی آستین سے بھی قرآن اٹھاسکتا ہے اور چھڑی وغیرہ سے اس کے صفحات الٹ سکتا ہے۔ البتہ وہ تفسیر اور دیگر کتابیں چھوسکتا ہے، جن میں قرآن بھی لکھا ہو۔ وہ بغیر قرآن چھوئے اسے لکھ بھی سکتا ہے۔ قرآن کی کتابت کی اجرت لی جاسکتی ہے اور اس میں ریشم کا غلاف لگایا جا سکتا ہے۔ قرآن کو پیٹھ کے پیچھے کرنا یا اس کی طرف پیر پھیلانا وغیرہ، جس میں اس کی بے حرمتی ہو، جائز نہیں ہے۔ قرآن کوسونے یا چاندی سے ملمع کرنا اور اس میں عشر، سورتوں اور آیتوں کی تعداد وغیرہ لکھنا، جس کا رواج عہدِ صحابہ میں نہیں تھا، سب مکروہ ہے۔

قرآن یا ایسی چیزوں کا ناپاکی کی حالت میں لکھنا، جس میں اللہ کا ذکر ہو، حرام ہے۔ اگر اس حالت میں لکھ دیا گیا، تو اسے مٹانا واجب ہوگا۔ اگر مصحف پرانا ہوگیا یا اس کے حروف مٹ گئے، تواسے دفن کردیا جائے، کیوں کہ عثمان رضی الله عنہ نے مصاحف کو قبر اور منبر کے درمیان دفن کروائے تھے۔

مطلق نوافل کا تمام اوقات میں ادا کرنا مستحب ہے، سوائے ممنوعہ اوقات کے۔ رات کی نمازکی بڑی ترغیب دی گئی ہے اور وہ دن کی نماز سے افضل ہے۔ اسے سونےکے بعد ادا کرنا افضل ہے، کیونکہ 'الناشئة' لفظ جو اس نماز کے لیے قرآن میں وارد ہوا ہے، اس کا اطلاق اسی پر ہوتا ہے۔ جب آدمی نیند سے بیدار ہو، تو اللہ تعالی کا ذکر کرے اور ماثور اذکار کا ورد کرے۔ کچھ اذکار اس طرح ہیں: "لا إله إلا الله وحده لا شريك له له الملك وله الحمد وهو على كل شيء قدير، الحمد لله وسبحان الله ولا إله إلا الله والله أكبر ولا حول ولا قوة إلا بالله"۔ (اللہ کے سوا کوئی معبود برحق نہیں، وہ اکیلا ہے، اس کا کوئی شریک نہیں۔ اسی کے لیے بادشاہت ہے، اسی کے لیے سب تعریفیں ہیں اور وہ ہر چیز پر قادر ہے۔ سب تعریفیں اللہ تعالی کے لیے ہیں۔ پاک ہے اللہ کی ذات، اللہ کے سوا کوئی معبود برحق نہیں اور اللہ تعالی سب سے بڑا ہے۔ اس کی مدد کے بنا نہ بچنے کی طاقت ہے اور نہ کچھ کرنے کی قوت۔) اس کے بعد اگر یہ کہے: "اللهم اغفر لي" (اے اللہ! مجھے بخش دے۔) یا کوئی دعا کرے، تو اس کی دعا قبول ہوگی۔ نیز اگر وضو کرکے نماز ادا کرے، تو اس کی نماز مقبول ہوگی۔ پھر یہ دعا پڑھے: ’’الحمد لله الذي أحياني بعد ما أماتني وإليه النشور، لا إله إلا أنت، وحدك لا شريك لك، سبحانك، أستغفرك لذنبي وأسألك رحمتك۔ اللهم زدني علماً ولا تزغ قلبي بعد إذ هديتني وهب لي من لدنك رحمة إنك أنت الوهاب الحمد لله الذي ردّ علي روحي وعافاني في جسدي وأذن لي بذكره۔‘‘ (تمام تعریفیں اس اللہ کے لیے ہیں، جس نے مجھے مارنے کے بعد زندہ کیا اور اسی کی طرف لوٹنا ہے۔ تیرے سوا کوئی معبود حقیقی نہیں، تو اکیلا ہے، تیرا کا کوئی شریک نہیں، توپاک ہے، میں تجھ سے اپنے گناہوں کی معافی اور تیری رحمت کا سوالی ہوں۔ اے اللہ! میرے علم میں اضافہ کر اور ہدایت کے بعد میرے دل کو گمراہ نہ کر اور مجھے اپنی طرف سے رحمت عطا کر۔ بے شک تو بہت دینے والا ہے۔ تمام تعریفیں اس اللہ کے لیے ہیں جس نے میری روح کو لوٹایا اور میرے جسم کو عافیت دی اور مجھے اپنے ذکر کی اجازت دی)۔ پھر مسواک کرے اور جب نماز کے لیے کھڑا ہو، تو ابتدا فرض نماز والی دعائے استفتاح سے کرے۔ اگر چاہے، تو اس کے علاوہ دوسرے اذکار بھی پڑھ سکتا ہے۔ مثلا : "اللهم لك الحمد، أنت نور السموات والأرض ومن فيهن، ولك الحمد، أنت قيوم السموات والأرض ومن فيهن، ولك الحمد أنت ملك السموات والأرض ومن فيهن، ولك الحمد أنت الحق، ووعدك الحق، وقولك الحق، ولقاؤك حق، والجنة حق، والنار حق، والنبيون حق، والساعة حق۔ اللهم لك أسلمت، وبك آمنت، وعليك توكلت، وإليك أنبت، وبك خاصمت، وإليك حاكمت، فاغفر لي ما قدمت وما أخرت وما أسررت وما أعلنت وما أنت أعلم به مني، أنت المقدِّم وأنت المؤخر، لا إله إلا أنت، ولا قوة إلا بك"۔ ( اے اللہ! ہر طرح کی تعریف تیرے ہی لیے زیبا ہے، تو آسمانوں اور زمین اور ان میں موجود چیزوں کا نور ہے۔ تو آسمانوں اور زمین اور ان میں موجود چیزوں کا سنبھالنے والا ہے۔ تمام تعریفیں تیرے ہی لیے ہیں، تو آسمانوں اور زمین اور ان میں بسنے والی تمام مخلوقات کا بادشاہ ہے۔ تمام تعریفیں تجھے ہی زبیا ہیں، تو سراپا حق ہے، تیرا فرمان حق ہے، تیرا وعدہ برحق ہے، تیری ملاقات برحق ہے، جنت برحق ہے، دوزخ برحق ہے اور قیامت برحق ہے۔ اے اللہ! میں نے خود کو تیرے حوالے کیا، تجھی پر ایمان لایا، تجھی پر بھروسہ کیا، اور تیری طرف رجوع کیا، تیری مدد سے ہی میں نے (دشمن سے) جھگڑا کیا اور تیری ہی طرف میں فیصلہ لے کر آیا۔ پس تو مجھے معاف فرما دے جو کچھ میں نے پہلے کیا اور جو کچھ میں بعد میں کروں گا، جو میں نے چھپ کر کیا اور جو کچھ سرِ عام کیا اور جسے تو مجھ سے زیادہ جانتا ہے، تو ہی اول وآخر ہے، تیرے سوا کوئی معبود برحق نہیں۔) اگر چاہے تو مزید یہ پڑھے: "اللهم رب جبريل وميكائيل وإسرافيل، فاطر السموات والأرض، عالم الغيب والشهادة، أنت تحكم بين عبادك فيما كانوا فيه يختلفون، اهدني لما اختلف فيه من الحق بإذنك، إنك تهدي من تشاء إلى صراط مستقيم۔‘‘ (اے اللہ! جبریل ومیکائیل اور اسرافیل کے رب! آسمان اور زمین کے پیدا کر نے والے! غیب اور ظاہر کے جا ننے والے! تو ہی اپنے بندوں کے درمیان جس میں وہ اختلاف کرتے ہیں، فیصلہ فرمائے گا۔ جن چیزوں میں اختلاف ہے، ان میں اپنی منشا سے حق کی طرف میری رہنمائی فرما۔ بے شک تو جسے چاہتا ہے، اُسے سیدھی راہ دکھلا دیتا ہے۔)

سنت یہ ہے کہ اپنی تہجد کی شروعات دو مختصر رکعتوں سے کرے اور وہ ایک نفل خاص کرلے، جس پر وہ مداومت برتے اور جب وہ چھوٹ جائے، تو اس کی قضا کرے۔

صبح وشام قرآن و سنت میں وارد اذکار کا ورد کرے۔ اسی طرح سوتے اور بیدار ہوتے وقت، گھر میں داخل ہوتے اور اس سے نکلتے وقت وغیرہ کے وارد اذکار کا ورد کرے۔ نفل نمازیں گھر ہی میں ادا کرنا اور اگر وہ ان نمازوں میں سے ہے، جن میں جماعت مشروع نہیں ہے، تو آہستہ قراءت کرنا افضل ہے۔ نفل نمازوں کو جماعت سے بھی پڑھ سکتے ہیں بشرطیکہ اس کی عادت نہ بنا لی جائے۔ نیز صبح کے وقت کثرت سے استغفار کرنا بھی مستحب ہے۔ جس کی نماز تہجد فوت ہوجائے، وہ ظہر سے پہلے اس کی قضا کرلے۔ کروٹ کے بل لیٹ کر نفل ادا کرنا صحیح نہیں ہے۔

چاشت کی نماز بھی مسنون ہے۔ اس کا وقت طلوع آفتاب کے ممنوعہ وقت کے بعد سے لے کر زوال سے پہلے تک ہے۔ اسے دھوپ کی تپش تیز ہونے کے بعد ادا کرنا افضل ہے۔ ویسے تو یہ دو رکعت ہے، لیکن اگر اس سے زیادہ پڑھ لے، تو اچھا ہے۔

صلاۃِ استخارہ بھی مسنون ہے۔ جب کوئی اہم معاملہ درپیش ہو، تو وہ دو رکعت نفل نماز ادا کرکے یہ دعا پڑھے: "اللهم إني أستخيرك بعلمك، وأستقدرك بقدرتك، وأسألك من فضلك العظيم، فإنك تقدر ولا أقدر، وتعلم ولا أعلم، وأنت علام الغيوب۔ اللهم إن كنت تعلم أن هذا الأمر -ويسميه بعينه- خير لي في ديني ودنياي ومعاشي وعاقبة أمري (عاجله وآجله)، فاقدره لي، ويسره لي، ثم بارك لي فيه، وإن كنت تعلم أن هذا الأمر شر لي في ديني ودنياي ومعاشي وعاقبة أمري، فاصرفه عني واصرفني عنه، واقدر لي الخير حيث كان، ثم رضني به"۔ ( اے اللہ! میں تجھ سے تیرے علم کے ساتھ خیر کا سوال کرتا ہوں, تیری قدرت کے ساتھ طاقت کا سوال کرتا ہوں اور تجھ سے تیرے بڑے فضل کا سوال کرتا ہوں, کیونکہ توقدرت رکھتا ہے اور میں قدرت نہیں رکھتا, توجانتا ہے اور میں نہیں جانتا اور تو غیبوں کو جاننے والا ہے۔ اے اللہ! اگر تو جانتا ہے کہ یہ کام (اپنے کام کا نام لے) میرے دین، میری معاش اور میرے انجام کار (یا کہا کہ میری دنیا اور آخرت) کے لیے بہتر ہے، تو اسے میری قسمت میں کردے اور اسے میرے لیے آسان کردے، پھر میرے لیے اس میں برکت فرما۔ اور اگر تو جانتا ہے کہ یہ کام میرے دین، میری معاش اور میرے انجام کار (یا کہا کہ میری دنیا اور آخرت) کے لیے برا ہے، تو اسے مجھ سے ہٹادے اور میری قسمت میں بھلائی کر، جہاں بھی ہو، پھر مجھے اس پر راضی کردے۔) پھر مشورہ کرے۔ استخارہ کی نماز پڑھتے وقت کام کے کرنے یا نہ کرنے کا پختہ ارادہ نہ رکھے۔

تحیۃ المسجد اور تحیۃ الوضو مسنون ہے۔ (اسی طرح مغرب وعشا کے درمیان نفل پڑھنا بھی مسنون ہے)۔ جب کہ سجدۂ تلاوت سنت مؤکدہ ہے۔ واجب نہیں۔ اس کی دلیل عمر (رضی اللہ عنہ) کا یہ قول ہے: "جس نے سجدہ کیا اس نے درست کیا اور جس نے سجدہ نہیں کیا، اس پر کوئی گناہ نہیں۔" اسے موطأ میں امام مالک نے روایت کیا ہے۔ سننے والے کے لیے بھی سجدہ کرنا سنت ہے. سوار شخص اشارہ سے سجدہ کرلے، چاہے اس کا چہرہ جس طرف بھی ہو۔ پیدل چلنے والا زمین پر قبلہ رخ ہوکر سجدہ کرے اوربغیر ارادہ کے سننے والا سجدہ نہ کرے، جیسا کہ اس بارے میں صحابہ سے منقول ہے اور ابن مسعود (رضی اللہ عنہ) نے قاری سے، جو ایک لڑکا تھا، فرمایا کہ تم سجدہ کر لو، کیونکہ تم ہمارے امام ہو۔

کسى ظاہرینعمت کے حاصل ہونے پر, خواہ اس کا تعلق سب سے ہو یا کسى انسان کے ساتھ خاص ہو, سجدۂ شکر بجالانا مستحب ہے۔ جب کسی ایسے شخص کو دیکھے، جو اپنے دین یا بدن کی آزمائش سے دوچار ہو، تو یہ دعا پڑھے: ’’الحمد لله الذي عافاني مما ابتلاك به، وفضلني على كثير ممن خلق تفضيلا۔‘‘ (تمام تعریفیں اس اللہ کے لیے ہیں، جس نے مجھے اس چیز سے عافیت دی، جس میں تمہیں مبتلا کیا اور اس نے مجھے اپنے پیدا کیے ہوئے بہت سے لوگوں پر بڑی فضیلت بخشی۔)

نماز کے ممنوعہ اوقات پانچ ہیں: (1) نماز فجر کے بعد، یہاں تک کہ سورج طلوع ہوجائے۔ (2) طلوع ہونے کے بعد، یہاں تک کہ سورج ایک نیزہ کے بقدر بلند ہوجائے۔ (3) سورج کے بیچ آسمان میں آجانے پر، یہاں تک کہ ڈھل جائے۔ (4) عصر کی نماز کے بعد، یہاں تک کہ غروب کے قریب ہوجائے۔ (5) غروب کے وقت، یہاں تک کہ سورج غائب ہوجائے۔ تاہم ان اوقات میں فرائض کی قضا، نذر پوری کرنا، طواف کی دو رکعتیں پڑھنا اور باجماعت ادا کى جارہی نماز میں دوبارہ شریک ہونا اگر وہ مسجد میں موجود ہو، جائز ہے۔ البتہ ان دو لمبے اوقات میں نماز جنازہ پڑھی جا سکتی ہے۔

 ( باب : باجماعت نماز کا بیان )

جمعہ اور عیدین کے علاوہ دیگر موقعوں پر جماعت میں کم سے کم دو لوگ ہونے چاہییں۔ جماعت سے نماز پڑھنا فرض عین ہے، خواہ سفر ہو یا حضر، یہاں تک کہ حالت خوف میں بھی۔ کیوں کہ اللہ تعالی کا فرمان ہے: {اور جب تم ان میں ہو اور ان کے لئے نماز کھڑی کرو۔} الآیہ [سورہ النساء: 102]۔ جماعت سے نماز پڑھنے کا اجر تنہا پڑھنے کے بالمقابل 27 درجہ زیادہ ہے۔ جماعت مسجد میں ادا کی جائے گی۔ پرانی مسجد افضل ہے۔ اسی طرح جس مسجد میں جماعت بڑی ہو نیز جو مسجد دور ہو، وہ افضل ہے۔ جس مسجد کا امام متعین ہو، اس میں اس کی اجازت کے بغیر کوئی دوسرا شخص امامت نہ کرے۔ اِلّا یہ کہ وہ دیر کر دے۔ ایسے میں کسی کا امامت کے لیے آگے بڑھنا مکروہ نہیں ہے۔ کیوں کہ ابوبکر اور عبد الرحمن بن عوف رضی اللہ عنھما نے ایسا کیا تھا۔ جب جماعت کھڑی ہوجائے، تو اس وقت نفل نماز شروع کرنا جائز نہیں ہے۔ اگر دورانِ نفل جماعت کھڑی ہوجائے، تو جلدی سے پوری کر لے۔ جس نے امام کے ساتھ ایک رکعت پڑھ لی، اس نے جماعت پالی۔ امام کے ساتھ رکوع پا لینے سے بھی رکعت مل جاتی ہے۔ تکبیرِ تحریمہ رکوع کی تکبیر کی طرف سے بھی کافی ہوگی۔ کیونکہ زید بن ثابت اور ابن عمر رضی اللہ عنھما کا اس پر عمل رہا ہے اور صحابہ میں سے کسی نے ان کی مخالفت بھی نہیں کی ہے۔ لیکن دونوں تکبیریں کہنا بہتر ہے، تاکہ ان لوگوں کے اختلاف سے بچا جا سکے، جنہوں نے رکوع کی تکبیر کو واجب کہا ہے۔ اگر کسی نے رکوع کے بعد امام کو پایا، تو رکعت پانے والا شمار نہ ہوگا، لیکن وہ امام کے ساتھ شریک ہو جائے گا۔ امام کو جس حالت میں پائے، اسی حالت میں نماز میں داخل ہونا مسنون ہے۔ کیوں کہ اس سلسلے میں حدیث موجود ہے۔ جس کی رکعت چھوٹ گئی ہو، وہ اس وقت تک کھڑا نہ ہو، جب تک کہ امام دونوں طرف سلام نہ پھیر دے۔ اگر امام کو سلام پھیرنے کے بعد سجدۂ سہو کرتے ہوئے پائے، تو جماعت میں شریک نہ ہو۔ اگر جماعت فوت ہو جائے، تو مستحب یہ ہے کہ اس کے ساتھ کوئی شخص شریک ہو کر اس کا ساتھ دے۔ نبی صلى الله عليه وسلم کا فرمان ہے: "اس شخص پر کون صدقہ کرے گا پس اس کے ساتھ نماز پڑھے۔" مقتدی پر قراءت واجب نہیں ہے۔ کیوں کہ اللہ تعالی کا فرمان ہے: {اور جب قرآن پڑھا جایا کرے، تو اس کی طرف کان لگا دیا کرو اور خاموش رہا کرو، امید ہے کہ تم پر رحمت ہو۔} امام احمد فرماتے ہیں: لوگوں کا اس بات پر اجماع ہے کہ یہ آیت نماز کے بارے میں نازل ہوئی ہے۔ جب کہاگر امام بلند آواز سے قراءت نہ کرے تو مقتدی کا قراءت کرنا مسنون ہے۔ صحابہ اور تابعین وغیرہ اکثر اہل علم امام کى سرى قراءت کے وقت امام کے پیچھے قرأت کے قائل ہیں، تاکہ ان لوگوں کے اختلاف سے بچا جا سکے، جو پڑھنے کو واجب کہتے ہیں۔ لیکن ہم نے جہری نمازوں میں قراءت کو دلائل کی بنیاد پر ترک کیا ہے۔ مقتدی نماز کے سارے کاموں کو امام کے بعد، لیکن بنا تاخیر کیے انجام دیتا رہے گا اور اس کا امام کے ساتھ ساتھ سارے افعال کو ادا کرنا مکروہ اور اس سے آگے بڑھنا حرام ہے۔ اگر مقتدی بھول کر امام سے پہلے رکوع یا سجدے میں چلا جائے، تو واپس لوٹ جائے، تاکہ امام کے پیچھے انجام دے سکے۔ اگر جانتے ہوئے کہ واپس ہونا ضروری ہے، واپس نہ ہو، تو اس کی نماز باطل ہوجائے گی۔ اسی طرح اگر بغیر کسی عذر کے کسی رکن کی ادائیگی سے پیچھے رہ جائے، تو اس کا حکم وہی ہے، جو امام سے آگے بڑھنے کا ہے۔ البتہ اگر کسی عذر مثلا نیند، غفلت یا امام کی عجلت کی وجہ سے پیچھے رہ جائے، تو اس سے فارغ ہوکر امام سے مل جائے۔ اگر مقتدی کسی عذر کی وجہ سے امام سے ایک رکعت پیچھے رہ گیا، تو بقیہ نماز میں امام کی پیروی کرے اور امام کے سلام پھیرنے کے بعد اس رکعت کی قضا کر لے۔ اگر مقتدیوں کو کوئی واقعہ یا حادثہ پیش آجائے، جس کی وجہ سے ان کا نماز سے نکلنا ضروری ہو، تو امام نماز مختصر کر دے، تاہم ایسی جلد بازی مکروہ ہے، جس کی وجہ سے مقتدی مسنون طریقے پر نماز ادا نہ کر پائیں۔

سنت طریقہ یہ ہے کہ پہلی رکعت میں دوسری رکعت سے لمبی قراءت کی جائے۔ اسی طرح امام کے لیے مستحب یہ ہے کہ مسجد میں داخل ہونے والے کا انتظار کرے، تاکہ وہ رکعت پالے، بشرطیکہ مقتدی پر گراں نہ گزرے۔

امامت کا سب سے زیادہ حق دار وہ ہے، جو قرآن کا سب سے اچھا قاری ہو۔ جہاں تک نبی کے ابوبکر رضی اللہ عنہ کو امامت کے لیے آگے بڑھانے کی بات ہے، جب کہ ان سے اچھے قاری جیسے اُبی بن کعب اور معاذ رضی اللہ عنھما وغیرہ اس وقت موجود تھے، تو اس کا جواب امام احمد نے یہ دیا ہے کہ ایسا اس لیے کیا، تاکہ لوگ سمجھ لیں کہ امامت کبریٰ یعنی خلافت کے مستحق ابو بکر رضی اللہ ہی ہیں۔ جب کہ دیگر لوگوں نے جواب دیا ہے : آپ کا فرمان ہے کہ قوم کی امامت وہ کرے، جو قرآن کا سب سے بڑا قاری ہو اور اگر قرأت میں سب برابر ہوں، تو وہ شخص اس کا حق دار ہے، جو سنت کا سب سے بڑا عالم ہو، اس کے باوجود ابوبکر رضی اللہ عنہ کو آگے بڑھانا اس بات کی دلیل ہے کہ ابوبکر رضی اللہ عنہ سب سے بڑے قاری اور سب سے زیادہ سنت کےجان کار تھے، کیونکہ صحابہ کا معمول یہ تھا کہ وہ قرآن کے کسی حصے سے اس وقت تک آگے نہیں بڑھتے تھے، جب تک اس کے معانی نہ جان لیتے اور اس پر عمل نہ کرلیتے۔ ابن مسعور رضی اللہ عنہ کا فرمان ہے: ہم میں سے کوئی جب قرآن کی دس آیتیں سیکھ لیتا، تو وہ ان سے آگے نہیں بڑھتا، تا آں کہ ان دس آیتوں کے معانی نہ سیکھ لیتا اور ان پر عمل نہ کرلیتا۔ امام مسلم نے ابومسعود البدری سے مرفوعاً روایت کیا ہے : "قوم کی امامت وہ کرے، جو قرآن کا سب سے اچھا قاری ہو اور اگر قرأت میں سب برابر ہوں، تو وہ شخص اس کا حق دار ہے، جو سنت کا سب سے بڑا عالم ہو اور اگر سنت میں سب برابر ہوں، تو وہ شخص حق دار ہے، جس نے ان میں سب سے پہلے ہجرت کی ہو اور اگر ہجرت میں سب برابر ہوں، تووہ شخص مقدم ہوگا، جو ان میں سب سے معمر ہو۔" کوئی کسی امام کی جگہ پر اس کی اجازت کے بغیر امامت نہ کر وائے اور اس کے گھر میں اس کی مخصوص جگہ پر نہ بیٹھے۔ صحیحین میں ہے: "تمھارا امام وہ شخص بنے، جو تم میں سب سے بڑا ہو۔" اور ابومسعود رضی اللہ عنہ کی بعض روایتوں کے الفاظ ہیں: "اگر وہ ہجرت میں برابر ہوں، تو وہ شخص امامت کا حق دار ہے، جو ان میں سب سے پہلے اسلام لایا ہو۔" جو اجرت لے کر نماز پڑھائے، اس کے پیچھے نماز نہ پڑھی جائے. ابوداود کہتے ہیں: امام احمد سے ایک ایسے امام کے بارے میں پوچھا گیا، جو کہہ رہا تھا کہ میں رمضان میں اتنا اتنا لے کر تمہاری امامت کراؤں گا، تو انہوں نے فرمایا: میں اللہ سے عافیت چاہتا ہوں، کون اس کے پیچھے نماز پڑھے گا؟! قیام سے عاجز شخص کے پیچھے نماز نہ پڑھی جائے، اِلّا یہ کہ وہ محلے کا متعین امام ہو۔ جب وہ کھڑے ہونے کی طاقت نہ رکھتا ہو، تو اس کے پیچھے بیٹھ کر نماز پڑھی جائے گی۔ اگر امام ناپاکی کی حالت میں نماز پڑھا دے یا اس کے بدن پر نجاست لگی ہو اور اسے نماز سے فراغت کے بعد ہی اس کا علم ہو پایا ہو، تو مقتدی اپنی نماز نہیں لوٹائیں گے۔ البتہ ناپاکی کی حالت والى نماز کو صرف امام لوٹائے گا۔ ایسے شخص کا امام بننا مکروہ ہے، جسے اکثر لوگ کسی معقول وجہ کی بنیاد پر ناپسند کرتے ہوں۔ جب کہ باوضو شخص کا تیمم کیے ہوئے شخص کے پیچھے نماز پڑھنا درست ہے۔ سنت یہ ہے کہ مقتدی امام کے پیچھے کھڑی ہوں۔ کیوں کہ جابر اور جبار رضی اللہ عنھما جب نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے دائیں اور بائیں کھڑے ہوگئے، تو آپ نے ان کے ہاتھ پکڑ کر انھیں اپنے پیچھے کھڑا کر دیا۔ اسے مسلم نے روایت کیا ہے۔ رہی بات ابن مسعود رضی اللہ عنھما کے علقمہ اور اسود کو، اپنے دونوں جانب کھڑا کرکے نماز پڑھانے کی بات ہے، تو اس کا جواب ابن سیرین نے یہ دیا ہے کہ جگہ تنگ تھی۔ اگر مقتدی ایک ہی ہو، تو وہ امام کے دائیں کھڑا ہو۔ اگر وہ بائیں جانب کھڑا ہوگیا، تو امام اسے گھما کر اپنی دائیں طرف کر لے۔ اس سے اس کی تکبیر تحریمہ باطل نہیں ہوگی۔ البتہ اگر ایک مرد اور ایک عورت ہو، تو مرد امام کے دائیں طرف اور عورت اس کے پیچھے کھڑی ہو۔ اس کی دلیل انس رضی اللہ عنہ کی وہ حدیث ہے، جسے امام مسلم نے روایت کیا ہے۔ پھر بہتر یہ ہے کہ امام کے پیچھے کی صف اس سے قریب ہو۔ اسی طرح ساری صفیں ایک دوسری سے قریب ہوں۔ ساتھ ہی امام صف کے بیچ میں کھڑا ہو۔ کیوں کہ اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ و سلم کا فرمان ہے: "امام کو درمیان میں رکھو اور صفوں کے بیچ جگہ نہ چھوڑو۔" بچے کو صف میں کھڑا کرنا درست ہے۔ کیوں کہ انس رضی اللہ عنہ کا قول ہے: ’’میں اور یتیم نبی صلی اللہ علیہ کے پیچھے تھے اور بوڑھی عورت ہمارے پیچھے تھی‘‘۔ اگر کسی نے پیچھے تنہا نماز پڑھ لی، تو اس کی نماز نہیں ہوگی۔ اگر با جماعت نماز پڑھتے وقت مقتدی امام کو یا اپنے پیچھے کے مقتدیوں کو دیکھ رہا ہو، تو نماز صحیح ہوگی، اگرچہ صفیں آپس میں ملی ہوئی نہ ہوں۔ اسی طرح اگر وہ تکبیر سن رہا ہو، تو بھی اقتدا درست ہوگی، اگرچہ وہ کسی کو دیکھ نہ پا رہا ہو، کیوں کہ مشاہدہ ہی کی طرح تکبیر سُن کر بھی اقتدا ممکن ہے۔ اگر امام اور مقتدی کے درمیان سڑک حائل ہو اور صفیں کٹ جائیں، تو اقتدا درست نہ ہوگی، جب کہ موفق ابن قدامہ وغیرہ کی رائے یہ ہے کہ اقتدا درست ہوگی، کیوں کہ اس بارے میں نہ تو کوئی نص ہے اور نہ ہی اجماع۔ یہ مکروہ ہے کہ امام مقتدیوں سے بلند جگہ پر کھڑا ہو، جیساکہ ابن مسعود رضی اللہ عنہ نے حذیفہ رضی اللہ عنہ سے کہا تھا: کیا تم نہیں جانتے ہو کہ صحابہ کو اس سے منع کیا گیا تھا؟ تو انہوں نے فرمایا تھا: ہاں ایسا ہی ہے۔ اسے امام شافعی نے ثقہ سندوں سےروایت کیا ہے۔ البتہ معمولی بلندی، جیسے منبر کے بقدر امام کے بلند ہونے میں کوئی حرج نہیں ہے۔ اس کی دلیل سہل رضی اللہ عنہ کی حدیث ہے کہ نبی صلى الله عليه وسلم نے منبر پر نماز پڑھی پھر الٹے پاؤں نیچے اتر کر سجدہ کیا۔ الحدیث جب کہ مقتدی کے امام سے اونچا ہونے میں کوئی مضائقہ نہیں ہے، کیونکہ ابوہریرہ رضی اللہ عنہ نے امام کی اقتدا میں مسجد کے اوپر نماز پڑھی ہے۔ اسے امام شافعی نےروایت کیا ہے۔ امام کا فرض نماز کے بعد اسی جگہ پر نفل نماز پڑھنا مکروہ ہے۔ اس سلسلے میں مغیرہ رضی اللہ عنہ کی مرفوع حدیث موجود ہے، جسے امام ابوداود نے روایت کیا ہے۔ لیکن امام احمد نے کہا کہ علی رضی اللہ عنہ کے علاوہ کسی اور سے میں اسے نہیں جانتا۔ مقتدی امام سے پہلے سلام نہ پھیرے۔ کیونکہ نبی صلى الله عليه وسلم کا فرمان ہے: "تم رکوع، سجدہ اور سلام پھیرنے میں مجھ سے سبقت نہ کرو۔" امام کے علاوہ کسی اور کے لیے مسجد میں کوئی جگہ اس طرح خاص کرنا کہ وہ اس کے علاوہ کہیں اور فرض ادا نہ کرے، مکروہ ہے۔ کیونکہ نبی صلى الله عليه وسلم نے اونٹ کی طرح جگہ بنا لینے سے منع فرمایا ہے۔ جمعہ اور جماعت ترک کرنے کے معاملے میں مریض اور وہ شخص معذور سمجھا جائےگا جسے اپنے مال کے ضائع ہونے کا اندیشہ ہو یا جو اس کی حفاظت پر مامور ہو، کیونکہ (مرض یا مال کے فقدان کی صورت میں) لاحق ہونے والی مشقت، اس مشقت سے کہیں زیادہ ہے، جو بارش کی وجہ سے کپڑے بھیگ جانے کی صورت میں لاحق ہو تی ہے اور بارش بالاتفاق عذر ہے۔ عمر رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ سفر کے درمیان نبی صلى الله عليه وسلم کا منادی ٹھنڈ اور بارش کی رات میں آواز لگاتا تھا کہ اپنے گھروں میں نماز پڑھ لو۔ متفق علیہ۔ ساتھ ہی شیخین نے ابن عباس رضی اللہ عنھما سے روایت کیا ہے کہ انہوں نے جمعہ کو بارش کے دن اپنے مؤذن سے کہا: ’’جب تم 'أشهد أن محمداً رسول الله' کہہ لو، تو 'حيَّ على الصلاة' (آؤ نماز کے لیے ) مت کہو، بلکہ کہو: 'صلُّوا في بيوتكم' (یعنی تم سب اپنے گھروں میں نماز ادا کرلو)۔‘‘ لیکن جب لوگوں نے اس کی نکیر کی، تو فرمایا : "ایسا اس ہستی نے کیا ہے، جو مجھ سے بہتر تھی۔ یعنی رسول الله صلى الله عليه وسلم نے۔ میں نے اچھا نہیں سمجھا کہ تمہیں مٹی اور پھسلن میں نکالوں۔" اس شخص کا مسجد میں حاضر ہونا منع ہے، جس نے کچا لہسن یا کچی پیاز کھائی ہو، اگرچہ مسجد میں کوئی آدمی نہ ہو، کیونکہ اس سے فرشتوں کو تکلیف ہوتی ہے۔

 (باب : شرعی عذر والوں کی نماز )

مریض کے لیے فرض نماز کھڑے ہوکر پڑھنا واجب ہے۔ کیوں کہ عمران رضی اللہ عنہ کی حدیث ہے: "کھڑے ہو کر نماز پڑھو، کھڑے نہ ہو سکو تو بیٹھ کر پڑھو اور بیٹھ کر بھی نہ پڑھ سکو تو کروٹ کے بل لیٹ کر پڑھو۔" اسے امام بخاری نے روایت کیا ہے۔ جب کہ نسائی نے یہ اضافہ کیا ہے: "کروٹ کے بل لیٹ کر نہ پڑھ سکو تو چت لیٹ کر پڑھو۔" ایسے میں رکوع اور سجدہ کے لیے بقدر امکان اپنے سر سے اشارہ کرے۔ نبی صلى الله عليه وسلم کا ارشاد ہے: "جب میں تمہیں کسی چیز کا حکم دوں، تو اسے اتنا بجا لاؤ جتنا تم سے ہو سکے۔"

"کھڑے ہو کر نماز پڑھو، کھڑے نہ ہو سکو تو بیٹھ کر پڑھو اور بیٹھ کر بھی نہ پڑھ سکو تو کروٹ کے بل لیٹ کر پڑھو۔"

اسے امام بخاری نے روایت کیا ہے۔

جب کہ نسائی نے یہ اضافہ کیا ہے: "کروٹ کے بل لیٹ کر نہ پڑھ سکو تو چت لیٹ کر پڑھو۔" ایسے میں رکوع اور سجدہ کے لیے بقدر امکان اپنے سر سے اشارہ کرے۔ نبی صلى الله عليه وسلم کا ارشاد ہے:

"جب میں تمہیں کسی چیز کا حکم دوں، تو اسے اتنا بجا لاؤ جتنا تم سے ہو سکے۔"

سواری پر فرض نماز پڑھنا درست ہے، چاہے سواری چل رہی ہو یا رُکی ہوئی ہو، جب کہ کیچڑ اور بارش سے اذیت کا ڈر ہو۔ اس کی دلیل یعلی بن امیہ کی وہ حدیث ہے، جسے امام ترمذی نے روایت کیا ہے اور بعد ازاں فرمایا ہے کہ اسى پر اہل علم کا عمل ہے۔

مسافر خصوصی طور پر چار رکعت والی نماز میں قصر کرے گا اور وہ رمضان میں روزے بھی توڑ سکتا ہے۔ مسافر اگر مقیم کی اقتدا میں نماز پڑھ رہا ہے، تو پوری نماز پڑھے۔ اگر وہ کسی کام کے پورا ہونے کے انتظار میں بلا نیت رک جاتا ہے اور اسے یہ معلوم نہیں ہو پاتا ہے کہ اس کا کام کب پورا ہوگا، اسی طرح اگر اسے بارش یا بیماری کی وجہ سے رکنا پڑتا ہے، تو لگاتار قصر کرتا رہے گا۔ ویسے سفر سے متعلق احکام چار ہیں: قصر کرنا، دو نمازوں کو ایک ساتھ پڑھنا، مسح کرنا اور فرض روزے چھوڑنا۔

دوران سفر ظہر و عصر کو اور اسی طرح مغرب اور عشا کو، دونوں میں سے کسی ایک نماز کے وقت میں، ایک ساتھ پڑھنا جائز ہے۔ اور (قیام کى حالت میں) عرفہ اور مزدلفہ کو چھوڑ کر دیگر مقامات میں دو نمازوں کو جمع کرکے ایک ساتھ نہ پڑھنا ہی افضل ہے۔ اور اسى طرح اگر مریض (جو حالت سفر میں نہ ہو )کو دو نمازوں کو ایک ساتھ نہ پڑھنے کی صورت میں پریشانی کا سامنا کرنا پڑے، تو اس کے حق میں بھی جمع کرنا افضل ہے۔ کیونکہ آپ صلى الله عليه وسلم نے بغیر کسی خوف اور بنا سفر کے دو نمازوں کو جمع کرکے ایک ساتھ پڑھا ہے۔ اور مستحاضہ کے لیے بھی جمع کرکے نماز پڑھنی ثابت ہے، اور استحاضہ بھی ایک قسم کا مرض ہے۔ اس معاملے میں امام احمد کی دلیل یہ ہے کہ مرض سفر سے زیادہ مشکل چیز ہے (اس لیے جب سفر میں دو نمازوں کو ایک ساتھ جمع کرکے پڑھنے کی اجازت ہے، تو بیماری میں بھی ہونی چاہیے)۔ انہوں نے فرمایا: حضر میں بھی ضرورت یا مشغولیت کی بنیاد پر دو نمازیں ایک ساتھ پڑھی جا سکتی ہیں۔ وہ فرماتے ہیں: خوف کی نماز نبی صلى الله عليہ وسلم سے چھ یا سات طرح سے ثابت ہے اور یہ سارے طریقے جائز ہیں۔ البتہ میں نے سہل رضی اللہ عنہ کی حدیث میں مذکور طریقے کو اختیار کیا ہے۔ جس میں غزوۂ ذات الرقاع کے موقعے پر پڑھی جانے والی نماز کا ذکر ہے اور جو کچھ اس طرح ہے: "ایک جماعت نے آپ کے ساتھ صف بندی کی اور ایک جماعت دشمن سے برسر پیکار تھی۔ جو جماعت آپ کے ساتھ تھی، اسے آپ نے ایک رکعت پڑھائی۔ پھر آپ کھڑے رہے اور صحابہ نے خود ایک رکعت پوری کرلی۔ پھر وہ چلے گئے اور انہوں نے دشمنوں کے سامنے صف بندی کرلی۔ اب دوسری جماعت آئی، تو آپ نے انہیں باقی ایک رکعت پڑھائی۔ پھر آپ بیٹھے رہے اور صحابہ نے خود ایک رکعت پوری کرلی۔ پھر آپ نے ان کے ساتھ سلام پھیرا۔" بخاری ومسلم۔ امام کے لیے اس کی بھی گنجائش ہے کہ ہر گروہ کو پوری نماز پڑھائے اور ہر ایک کے ساتھ سلام پھیرے۔ اسے احمد، ابوداؤد اور نسائی نے روایت کیا ہے۔ خوف کی نماز ہتھیار سے لیس ہوکر ہی پڑھنا مستحب ہے۔ کیوں کہ اللہ تعالی کا فرمان ہے: {(اور وہ اپنے ہتھیاروں کو لیے رہیں۔} [سورہ النساء: 102] اگر اسے واجب بھی کہہ دیا جائے، تو اس کی بھی گنجائش ہے۔ کیوں کہ اللہ تعالی کا فرمان ہے: {اور اپنے ہتھیار اتار رکھنے میں اس وقت تم پر کوئی گناہ نہیں، جب تمہیں بارش کی وجہ سے پریشانی میں رہو یا تم بیمار ہو۔} [سورہ النساء: 102] لیکن جب خوف بڑھ جائے، تو لوگ پیدل اور سوار، قبلہ رو یا غیر قبلہ رو، نماز پڑھ سکتے ہیں۔ کیوں کہ اللہ تعالی کا فرمان ہے: {اگر تمہیں خوف ہو تو پیدل ہی سہی یا سوار ہی سہی۔} [سورہ النساء: 102] بقدر استطاعت اشاروں سے کام لیں گے اور سجدے میں رکوع کی بہ نسبت زیادہ جھکیں گے۔ میدان جنگ میں اگر امام کی پیروی ممکن نہ ہو، تو جماعت جائز نہیں ہے۔

اور (قیام کى حالت میں) عرفہ اور مزدلفہ کو چھوڑ کر دیگر مقامات میں دو نمازوں کو جمع کرکے ایک ساتھ نہ پڑھنا ہی افضل ہے۔ اور اسى طرح اگر مریض (جو حالت سفر میں نہ ہو )کو دو نمازوں کو ایک ساتھ نہ پڑھنے کی صورت میں پریشانی کا سامنا کرنا پڑے، تو اس کے حق میں بھی جمع کرنا افضل ہے۔ کیونکہ آپ صلى الله عليه وسلم نے بغیر کسی خوف اور بنا سفر کے دو نمازوں کو جمع کرکے ایک ساتھ پڑھا ہے۔ اور مستحاضہ کے لیے بھی جمع کرکے نماز پڑھنی ثابت ہے، اور استحاضہ بھی ایک قسم کا مرض ہے۔

اس معاملے میں امام احمد کی دلیل یہ ہے کہ مرض سفر سے زیادہ مشکل چیز ہے (اس لیے جب سفر میں دو نمازوں کو ایک ساتھ جمع کرکے پڑھنے کی اجازت ہے، تو بیماری میں بھی ہونی چاہیے)۔ انہوں نے فرمایا: حضر میں بھی ضرورت یا مشغولیت کی بنیاد پر دو نمازیں ایک ساتھ پڑھی جا سکتی ہیں۔ وہ فرماتے ہیں: خوف کی نماز نبی صلى الله عليہ وسلم سے چھ یا سات طرح سے ثابت ہے اور یہ سارے طریقے جائز ہیں۔ البتہ میں نے سہل رضی اللہ عنہ کی حدیث میں مذکور طریقے کو اختیار کیا ہے۔

جس میں غزوۂ ذات الرقاع کے موقعے پر پڑھی جانے والی نماز کا ذکر ہے اور جو کچھ اس طرح ہے:

"ایک جماعت نے آپ کے ساتھ صف بندی کی اور ایک جماعت دشمن سے برسر پیکار تھی۔ جو جماعت آپ کے ساتھ تھی، اسے آپ نے ایک رکعت پڑھائی۔ پھر آپ کھڑے رہے اور صحابہ نے خود ایک رکعت پوری کرلی۔ پھر وہ چلے گئے اور انہوں نے دشمنوں کے سامنے صف بندی کرلی۔ اب دوسری جماعت آئی، تو آپ نے انہیں باقی ایک رکعت پڑھائی۔ پھر آپ بیٹھے رہے اور صحابہ نے خود ایک رکعت پوری کرلی۔ پھر آپ نے ان کے ساتھ سلام پھیرا۔" بخاری ومسلم۔ امام کے لیے اس کی بھی گنجائش ہے کہ ہر گروہ کو پوری نماز پڑھائے اور ہر ایک کے ساتھ سلام پھیرے۔

اسے احمد، ابوداؤد اور نسائی نے روایت کیا ہے۔

خوف کی نماز ہتھیار سے لیس ہوکر ہی پڑھنا مستحب ہے۔ کیوں کہ اللہ تعالی کا فرمان ہے:

{(اور وہ اپنے ہتھیاروں کو لیے رہیں۔} [سورہ النساء: 102]

اگر اسے واجب بھی کہہ دیا جائے، تو اس کی بھی گنجائش ہے۔ کیوں کہ اللہ تعالی کا فرمان ہے:

{اور اپنے ہتھیار اتار رکھنے میں اس وقت تم پر کوئی گناہ نہیں، جب تمہیں بارش کی وجہ سے پریشانی میں رہو یا تم بیمار ہو۔} [سورہ النساء: 102]

لیکن جب خوف بڑھ جائے، تو لوگ پیدل اور سوار، قبلہ رو یا غیر قبلہ رو، نماز پڑھ سکتے ہیں۔ کیوں کہ اللہ تعالی کا فرمان ہے:

{اگر تمہیں خوف ہو تو پیدل ہی سہی یا سوار ہی سہی۔} [سورہ النساء: 102]

بقدر استطاعت اشاروں سے کام لیں گے اور سجدے میں رکوع کی بہ نسبت زیادہ جھکیں گے۔ میدان جنگ میں اگر امام کی پیروی ممکن نہ ہو، تو جماعت جائز نہیں ہے۔

 (باب : نمازِ جمعہ کا بیان)

جمعہ کی نماز ہر عاقل، بالغ، مرد، آزاد اور ایسے شخص پر واجب ہے جو کسی ایسی جگہ میں گھر بناکر رہتا ہو، جس کا کوئی نام ہو۔ جس پر جمعہ کی نماز واجب نہیں ہے، وہ بھی اگر پڑھ لے، تو اس کے لیے کافی ہوگی۔ جس نے جمعے کی ایک رکعت پالی، وہ جمعہ کی نماز پوری کرے، ورنہ ظہر کی نماز پڑھے۔ جمعہ کی نماز سے پہلے دو خطبے ضروری ہیں، جن کے اندر اللہ کی حمد و ثنا، اللہ کے معبود ہونے اور محمد صلی اللہ علیہ و سلم کے رسول ہونے کی گواہی اور ایسی نصیحت ہونی چاہیے، جو دلوں کے اندر حرکت پیدا کرے اور جسے خطبہ کہا جا سکے۔ خطبہ منبر یا کسی اونچی جگہ پر دیا جائے۔ جب امام نکل کر مقتدیوں کی طرف متوجہ ہو، تو انہیں سلام کرے اور پھر اذان مکمل ہونے تک بیٹھا رہے۔ اس کی دلیل ابن عمر رضی اللہ عنھما کی وہ حدیث ہے، جسے ابوداود نے روایت کیا ہے۔ امام دو خطبوں کے درمیان تھوڑی دیر بیٹھے، جیسا کہ صحیحین میں عمر رضی اللہ عنہ کی حدیث میں موجود ہے۔ خطبہ کھڑے ہوکر دے؛ کیونکہ نبی صلى الله عليه وسلم ایسا ہی کیا کرتے تھے۔ دوران خطبہ اس کا رخ سامنے کی جانب ہو اور خطبہ مختصر ہو۔ جمعہ کى نماز دو رکعت ہے، جس میں اونچی آواز میں قراءت کرے۔ پہلی رکعت میں سورہ الجمعہ اور دوسری رکعت میں سورہ المنافقوں یا پہلی رکعت میں سورہ الاعلی اور دوسری رکعت میں سورہ الغاشیہ پڑھے۔ ہر ایک کے بارے میں صحیح حدیث موجود ہے۔ جمعہ کے دن فجر کی نماز میں الم السجدة اورسورہ الإنسان پڑھے، تاہم اس پر مداومت برتنا مکروہ ہے۔ اگر جمعہ کے دن عید آجائے، تو جنہوں نے عید کی نماز ادا کی ہے، ان سے جمعہ کی نماز ساقط ہوجاتی ہے، سوائے امام کے کہ اس سے جمعہ کے نماز ساقط نہیں ہوگی۔ جمعہ کے بعد سنت دو یا چار رکعت ہے، جب کہ جمعہ سے پہلے کوئی سنت نہیں ہے، بلکہ مستحب یہ ہے کہ جتنی چاہے نفل پڑھے۔ جمعہ کے لیے غسل اورمسواک کرنا اور خوشبو لگانا مستحب ہے۔ جمعہ کے دن آدمی سب سے اچھا کپڑا زیب تن کرے اور پیدل چل کر جلدی مسجد جائے۔ دوسری اذان ہو جانے کے بعد تیز جانا واجب ہے، لیکن سکون اور خشوع کے ساتھ۔ پھر امام کے قریب بیٹھے۔ جمعہ کے دن قبولیت کی گھڑی کی موافقت کی امید میں کثرت سے دعا کرے۔ ویسے دعا قبول ہونے کی زیادہ امید عصر کے بعد کی آخری ساعت میں ہوتی ہے، جب آدمی باوضو ہوکر مغرب کی نماز کا انتظار کررہا ہو۔ کیونکہ اس وقت وہ گویا نماز میں ہوتا ہے۔ جمعہ کے دن اور جمعہ کی رات کو نبی صلى الله عليه وسلم پر کثرت سے درود پڑھے۔ جمعہ کے دن مسجد میں لوگوں کی گردنیں پھلانگنا مکروہ ہے، الا یہ کہ کہیں کوئی ایسی خالی جگہ نظر آئے، جہاں اس کے بغیر پہنچنا ممکن نہ ہو۔ کسی آدمی کو اٹھا کر اس کی جگہ نہ بیٹھے، اگرچہ اس کا غلام اور بیٹا ہی کیوں نہ ہو۔ اگر کوئی شخص اس وقت مسجد میں داخل ہو، جب امام خظبہ دے رہا ہو، تو مختصر انداز میں دو رکعت پڑھے بنا نہ بیٹھے۔ خطبے کے دوران نہ بات کرے اور نہ کوئی لغو کام کرے۔ کیوں کہ نبی صلى الله عليه وسلم کا فرمان ہے: "جس نے کنکر چھوا، اس نے لغو کام کیا۔" اسے امام ترمذی نے صحیح قرار دیا ہے۔ اس دوران جسے نیند آئے، وہ اپنی جگہ بدل لے۔ کیونکہ نبی صلى الله عليه وسلم نے اس کا حکم دیا ہے اور امام ترمذی نے اس روایت کو صحیح قرار دیا ہے۔

امام دو خطبوں کے درمیان تھوڑی دیر بیٹھے، جیسا کہ صحیحین میں عمر رضی اللہ عنہ کی حدیث میں موجود ہے۔ خطبہ کھڑے ہوکر دے؛ کیونکہ نبی صلى الله عليه وسلم ایسا ہی کیا کرتے تھے۔ دوران خطبہ اس کا رخ سامنے کی جانب ہو اور خطبہ مختصر ہو۔ جمعہ کى نماز دو رکعت ہے، جس میں اونچی آواز میں قراءت کرے۔ پہلی رکعت میں سورہ الجمعہ اور دوسری رکعت میں سورہ المنافقوں یا پہلی رکعت میں سورہ الاعلی اور دوسری رکعت میں سورہ الغاشیہ پڑھے۔ ہر ایک کے بارے میں صحیح حدیث موجود ہے۔ جمعہ کے دن فجر کی نماز میں الم السجدة اورسورہ الإنسان پڑھے، تاہم اس پر مداومت برتنا مکروہ ہے۔

اگر جمعہ کے دن عید آجائے، تو جنہوں نے عید کی نماز ادا کی ہے، ان سے جمعہ کی نماز ساقط ہوجاتی ہے، سوائے امام کے کہ اس سے جمعہ کے نماز ساقط نہیں ہوگی۔

جمعہ کے بعد سنت دو یا چار رکعت ہے، جب کہ جمعہ سے پہلے کوئی سنت نہیں ہے، بلکہ مستحب یہ ہے کہ جتنی چاہے نفل پڑھے۔ جمعہ کے لیے غسل اورمسواک کرنا اور خوشبو لگانا مستحب ہے۔ جمعہ کے دن آدمی سب سے اچھا کپڑا زیب تن کرے اور پیدل چل کر جلدی مسجد جائے۔ دوسری اذان ہو جانے کے بعد تیز جانا واجب ہے، لیکن سکون اور خشوع کے ساتھ۔ پھر امام کے قریب بیٹھے۔ جمعہ کے دن قبولیت کی گھڑی کی موافقت کی امید میں کثرت سے دعا کرے۔ ویسے دعا قبول ہونے کی زیادہ امید عصر کے بعد کی آخری ساعت میں ہوتی ہے، جب آدمی باوضو ہوکر مغرب کی نماز کا انتظار کررہا ہو۔ کیونکہ اس وقت وہ گویا نماز میں ہوتا ہے۔

جمعہ کے دن اور جمعہ کی رات کو نبی صلى الله عليه وسلم پر کثرت سے درود پڑھے۔ جمعہ کے دن مسجد میں لوگوں کی گردنیں پھلانگنا مکروہ ہے، الا یہ کہ کہیں کوئی ایسی خالی جگہ نظر آئے، جہاں اس کے بغیر پہنچنا ممکن نہ ہو۔ کسی آدمی کو اٹھا کر اس کی جگہ نہ بیٹھے، اگرچہ اس کا غلام اور بیٹا ہی کیوں نہ ہو۔ اگر کوئی شخص اس وقت مسجد میں داخل ہو، جب امام خظبہ دے رہا ہو، تو مختصر انداز میں دو رکعت پڑھے بنا نہ بیٹھے۔ خطبے کے دوران نہ بات کرے اور نہ کوئی لغو کام کرے۔ کیوں کہ نبی صلى الله عليه وسلم کا فرمان ہے:

"جس نے کنکر چھوا، اس نے لغو کام کیا۔"

اسے امام ترمذی نے صحیح قرار دیا ہے۔ اس دوران جسے نیند آئے، وہ اپنی جگہ بدل لے۔ کیونکہ نبی صلى الله عليه وسلم نے اس کا حکم دیا ہے اور امام ترمذی نے اس روایت کو صحیح قرار دیا ہے۔

 (باب: عیدین کی نماز کا بیان)

اگر زوال کے بعد عید کا پتہ چلے، تو عید کی نماز دوسرے دن پڑھے۔ عیدالاضحی کی نماز میں جلدی کرنا اور عید الفطر میں تاخیر کرنا اور عید الفطر کی نماز کے لیے نکلنے سے قبل طاق عدد میں چند کھجوریں کھا لینا مسنون ہے، جب کہ عیدالاضحی کے دن عیدالاضحی کی نماز سے قبل کچھ نہ کھائے۔ عید گاہ کی طرف ایک راستے سے جائے اور دوسرے راستے سے واپس آئے۔ سنت یہ ہے کہ کسی قریبی صحرا میں جاکر دورکعت نماز ادا کرے۔ نماز کی پہلی رکعت میں تکبیر تحریمہ کے بعد چھ تکبیر کہے اور دوسری رکعت میں پانچ تکبیریں کہے اور ہر ایک تکبیر میں رفع یدین کرے۔ ایک رکعت میں سبح اسْمَ (سورہ الاعلی) اور دوسری رکعت میں سورہ الغاشیہ پڑھے۔ نماز سے فراغت کے بعد خطبہ دے۔ عیدگاہ میں عید کی نماز سے قبل اور عید کی نماز کے بعد کوئی نفل نہ پڑھے۔ عیدین میں تکبیر کہنا اور اس کا اظہار مسجدوں اور راستوں میں کرنا اور بستی اور شہر والوں کا زور زور سے تکبیر کہنا مسنون ہے۔ لیکن عیدین کی راتوں میں اور نماز کے لیے نکلتے وقت تکبیر کہنے کی زیادہ تاکید ہے، جب کہعیدالاضحی میں تکبیر مطلق کی ابتدا دس ذی الحجہ کے آغاز سے ہوجاتی ہے اور تکبیر مقید کی ابتدا عرفہ کے دن کی نماز فجر سے ہوتی ہے اور اس کی انتہا ایام تشریق کے آخری دن کے عصر کی نماز پر ہوتی ہے۔ ذی الحجہ کے ابتدائی دس دنوں میں پوری محنت سے عمل صالح کرنا مسنون ہے۔

عید گاہ کی طرف ایک راستے سے جائے اور دوسرے راستے سے واپس آئے۔ سنت یہ ہے کہ کسی قریبی صحرا میں جاکر دورکعت نماز ادا کرے۔ نماز کی پہلی رکعت میں تکبیر تحریمہ کے بعد چھ تکبیر کہے اور دوسری رکعت میں پانچ تکبیریں کہے اور ہر ایک تکبیر میں رفع یدین کرے۔ ایک رکعت میں سبح اسْمَ (سورہ الاعلی) اور دوسری رکعت میں سورہ الغاشیہ پڑھے۔ نماز سے فراغت کے بعد خطبہ دے۔ عیدگاہ میں عید کی نماز سے قبل اور عید کی نماز کے بعد کوئی نفل نہ پڑھے۔

عیدین میں تکبیر کہنا اور اس کا اظہار مسجدوں اور راستوں میں کرنا اور بستی اور شہر والوں کا زور زور سے تکبیر کہنا مسنون ہے۔ لیکن عیدین کی راتوں میں اور نماز کے لیے نکلتے وقت تکبیر کہنے کی زیادہ تاکید ہے، جب کہعیدالاضحی میں تکبیر مطلق کی ابتدا دس ذی الحجہ کے آغاز سے ہوجاتی ہے اور تکبیر مقید کی ابتدا عرفہ کے دن کی نماز فجر سے ہوتی ہے اور اس کی انتہا ایام تشریق کے آخری دن کے عصر کی نماز پر ہوتی ہے۔ ذی الحجہ کے ابتدائی دس دنوں میں پوری محنت سے عمل صالح کرنا مسنون ہے۔

 (باب: سورج اور چاند گرہن کی نمازکا بیان )

اس نماز کا وقت گرہن لگنے سے لے کر گرہن ختم ہوجانے تک ہے اور یہسنت مؤکدہ ہے، خواہ آدمی سفر میں ہو یا حضر میں، یہاں تک کہ عورتوں کے لیے بھی مسنون ہے۔ اس وقت اللہ کا ذکر کرنا، دعا کرنا، مغفرت طلب کرنا، غلام آزاد کرنا اور صدقہ کرنا مسنون ہے۔ اگر نماز ختم ہوگئی، لیکن گرہن ختم نہیں ہوا، تو دوبارہ نہیں پڑھی جائے گی، بلکہ لوگ گرہن ختم ہونے تک اللہ کا ذکر کریں گے اور اس سے مغفرت طلب کریں گے۔ اس نماز کے لیے بلانے کی خاطر ندا ’’الصلاة جامعة‘‘ کہہ کر لگائی جائے۔ اس موقعے پر دو رکعت نماز پڑھی جائے، جس میں جہری قرأت ہو اور قرأت، رکوع اور سجدے طویل ہوں۔ اس نماز کی ہر رکعت میں دو دو رکوع کیے جائیں، لیکن دوسرا رکوع پہلے سے ہلکا ہو۔ پھر اس کے بعد تشہد پڑھ کر سلام پھیر دیا جائے۔ اگر دوران نماز گرہن ختم ہوجائے، تو نماز مختصر کرکے سلام پھیر دے۔ کیوں کہ نبی صلى الله عليہ وسلم کا فرمان ہے: "پس نماز پڑھو اور دعا کرو، یہاں تک کہ تم سے گرہن ہٹ جائے۔"

"پس نماز پڑھو اور دعا کرو، یہاں تک کہ تم سے گرہن ہٹ جائے۔"

 (باب: استسقا کی نماز کا بیان)

یہ نماز سنت مؤکدہ ہے، خواہ سفر ہو یا حضر۔ اس نماز کا طریقہ عید کی نماز کی طرح ہی ہے اور اسے دن کے ابتدائی حصہ میں ادا کرنا مسنون ہے۔ اس کے لیے آدمی خشوع وخضوع اور عاجزی ظاہر کرتے ہوئے نکلے۔ اس کی دلیل ابن عباس رضی اللہ عنہ کی حدیث ہے، جسے امام ترمذی نے صحیح قرار دیا ہے۔ چنانچہ امام لوگوں کو نماز پڑھائے، اس کے بعد ایک خطبہ دے، جس میں کثرت سے استغفار کرے اور اپنےدونوں ہاتھوں کواٹھا کر کثرت سے دعا کرے اور یہ کہے: ’’اللهم اسقنا غيثاً مغيثاً هنيئاً مريئاً مريعاً غدقاً مجللا سحاً عاماً طبقاً دائماً نافعاً غير ضار عاجلا غير آجل۔ (اے اللہ ہمیں بارش عطا فرما، ایسی بارش جو مدد کرنے والی، خیر والی، خوش گوار، سرسبز کرنے والی، بڑی بڑی بوند والی، پوری روئے زمین کو فائدہ پہنچانے والی، پے درپے برسنے والی، عام، زمین کو بھردینے والی،لگا تار برسنے والى، نفع بخش، غیر نقصان دہ، جلدی آنے والی اور دیر نہ کرنے والی ہو۔" اللهم أسق عبادك وبهائمك، وانشر رحمتك، وأحيي بلدك الميت، اللهم أسقنا الغيث ولا تجعلنا من القانطين، اللهم سقيا رحمة لا سقيا عذاب ولا بلاء ولا هدم ولا غرق۔" (اے اللہ! اپنے بندوں اور اپنے جانوروں کو پانی پلا اور اپنی رحمت پھیلادے اور اپنے مردہ بلاد کو زندہ کردے۔ اے اللہ! ہمیں بارش سے سیراب کردے اور ہمیں مایوس نہ کر۔ اے اللہ! رحمت کی بارش برسا، نہ کہ عذاب، آزمائش، انہدام اور غرق کی بارش۔ اللهم إن بالعباد والبلاد من اللأواء والجهد والضنك ما لا نشكوه إلا إليك۔ (اے اللہ! بے شک تیرے بندے اور تیرے بلاد تنگی، مشقت اور ایسی پریشانی سے جوجھ رہے ہیں، جس کی شکایت ہم تیرے علاوہ کسی سے نہیں کرسکتے۔) "اللهم أنبت لنا الزرع، وأدر لنا الضرع، وأسقنا من بركات السماء، وأنزل علينا من بركاتك، اللهم إنا نستغفرك، إنك كنت غفاراً، فأرسل السماء علينا مدراراً‘‘۔ (اے اللہ! ہمارے لیے پودے اگا، ہمارے لیے کثرت سے دودھ مہیا کر، ہمیں آسمان کی برکتوں سے سیراب کر اور ہمارے اوپر اپنی برکتیں نازل فرما۔ اے اللہ! ہم تجھ سے مغفرت طلب کرتے ہیں۔ بے شک تو ہی بخشنے والا ہے۔ پس ہمارے اوپر آسمان سے موسلا دھار بارش نازل فرما۔) مستحب ہے کہ دوران خطبہ امام کا رخ قبلے کی جانب ہو، پھر وہ اپنی چادر کو پلٹتے ہوئے دائیں کے حصے کو بائیں طرف کردے اور بائیں کے حصے کودائیں طرف کردے۔ کیونکہ آپ صلى الله عليہ وسلم نے اس موقعے پر لوگوں کی طرف پشت اور قبلے کی طرف چہرہ کر لیا اور اس کے بعد اپنی چادرکو پلٹ دیا۔ (متفق علیہ) پھر قبلہ رخ ہو کر سری طور پر دعا کرے۔ اگر لوگ نماز کے بعد یا دوران خطبہ بھی بارش طلب کریں، تو یہ عین سنت کے مطابق ہوگا۔ مستحب یہ ہے کہ جب بارش شروع ہو، تو بارش میں کھڑا ہو اور اپنی سواری اور کپڑوں کو نکالے، تاکہ اس پر بارش کے قطرے گریں اور جب پانی بہنے لگے، تو وادی کے پاس جاکر وضو کرے اور جب بارش دیکھے، تو یہ دعا پڑھے: "اللهم صيباً نافعاً" (اے اللہ! اسے نفع دینے والی بارش بنادے۔) پھر جب پانی زیادہ ہوجائے اور بارش کی کثرت سے خوف محسوس ہونے لگے، تو یہ دعا پڑھنا مستحب ہے: ’’اللهم حوالينا ولا علينا اللهم على الظراب والآكام وبطون الأودية ومنابت الشجر‘‘۔ (اے اللہ! ہمارے اردگرد بارش برسا، ہم پر نہ برسا۔ اے اللہ! ٹیلوں اور پہاڑیوں پر اور وادیوں کے نچلے حصوں میں اور درخت اگنے کی جگہوں میں بارش برسا۔) جب بارش برس رہی ہو، تو دعا کرے اور کہے: "مطرنا بفضل الله ورحمته" (ہم پر اللہ کے فضل اور اس کی رحمت سے بارش ہوئی۔) جب بادل دیکھے یا ہوا چلے، تو اللہ سے اس کی بھلائی مانگے اور اس کے شر سے اللہ کی پناہ طلب کرے۔ ہوا کوبرابھلا کہنا درست نہیں ہے، بلکہ یہ کہے: ’’اللهم إني أسألك من خير هذه الريح، وخير ما فيها، وخير ما أرسلت به۔ وأعوذ بك من شرها، وشر ما فيها، وشر ما أرسلت به۔ اللهم اجعلها رحمة، ولا تجعلها عذاباً۔ اللهم اجعلها رياحاً، ولا تجعلها ريحاً۔‘‘ (اے اللہ! میں تجھ سے اس ہوا کی بھلائی کا سوال کرتا ہوں, اس چیز کی بھلائی کا سوال کرتا ہوں جو اس کے اندر ہے اور اس چیز کی بھلائی کا سوال کرتا ہوں جس کے ساتھ یہ بھیجی گئی ہے اور میں تیری پناہ مانگتا ہوں اس کی برائی سے اور اس چیز کی برائی سے جو اس میں ہے اور اس چیز کی برائی سے جس کے ساتھ یہ بھیجی گئی ہے۔ اے اللہ! تو اسے رحمت بنا اور اسے عذاب نہ بنا۔ اے اللہ! اسے رحمت کی ہوا بنا، نہ کہ عذاب کی ہوا۔) جب بادل کی گرج اور اس کی کڑک سنے، تو یہ کہے: ’’ اللهم لا تقتلنا بغضبك، ولا تهلكنا بعذابك، و عافنا قبل ذلك۔ سبحان من سبح الرعد بحمده والملائكة من خيفته‘‘۔ (اے اللہ! تو مجھے اپنے غضب اور اپنے عذاب سے ہلاک نہ کر اور ہمیں اس سے قبل اپنی عافیت میں لے لے۔ پاک ہے وہ، جس کی حمد کے ساتھ اس کی تسبیح یہ گرج پڑھتی ہے اور فرشتے بھی اس کے خوف سے (اس کی تسبیح پڑھتے ہیں)۔ اور جب گدھے کے رینکنے اور کتے کے بھونکنے کی آواز سنے، تو شیطان سے اللہ کی پناہ طلب کرے اور جب مرغ کی آواز سنے، تو اللہ تعالی سے اس کا فضل طلب کرے۔

’’اللهم اسقنا غيثاً مغيثاً هنيئاً مريئاً مريعاً غدقاً مجللا سحاً عاماً طبقاً دائماً نافعاً غير ضار عاجلا غير آجل۔ (اے اللہ ہمیں بارش عطا فرما، ایسی بارش جو مدد کرنے والی، خیر والی، خوش گوار، سرسبز کرنے والی، بڑی بڑی بوند والی، پوری روئے زمین کو فائدہ پہنچانے والی، پے درپے برسنے والی، عام، زمین کو بھردینے والی،لگا تار برسنے والى، نفع بخش، غیر نقصان دہ، جلدی آنے والی اور دیر نہ کرنے والی ہو۔"

اللهم أسق عبادك وبهائمك، وانشر رحمتك، وأحيي بلدك الميت، اللهم أسقنا الغيث ولا تجعلنا من القانطين، اللهم سقيا رحمة لا سقيا عذاب ولا بلاء ولا هدم ولا غرق۔" (اے اللہ! اپنے بندوں اور اپنے جانوروں کو پانی پلا اور اپنی رحمت پھیلادے اور اپنے مردہ بلاد کو زندہ کردے۔ اے اللہ! ہمیں بارش سے سیراب کردے اور ہمیں مایوس نہ کر۔ اے اللہ! رحمت کی بارش برسا، نہ کہ عذاب، آزمائش، انہدام اور غرق کی بارش۔

اللهم إن بالعباد والبلاد من اللأواء والجهد والضنك ما لا نشكوه إلا إليك۔ (اے اللہ! بے شک تیرے بندے اور تیرے بلاد تنگی، مشقت اور ایسی پریشانی سے جوجھ رہے ہیں، جس کی شکایت ہم تیرے علاوہ کسی سے نہیں کرسکتے۔)

"اللهم أنبت لنا الزرع، وأدر لنا الضرع، وأسقنا من بركات السماء، وأنزل علينا من بركاتك، اللهم إنا نستغفرك، إنك كنت غفاراً، فأرسل السماء علينا مدراراً‘‘۔ (اے اللہ! ہمارے لیے پودے اگا، ہمارے لیے کثرت سے دودھ مہیا کر، ہمیں آسمان کی برکتوں سے سیراب کر اور ہمارے اوپر اپنی برکتیں نازل فرما۔ اے اللہ! ہم تجھ سے مغفرت طلب کرتے ہیں۔ بے شک تو ہی بخشنے والا ہے۔ پس ہمارے اوپر آسمان سے موسلا دھار بارش نازل فرما۔)

مستحب ہے کہ دوران خطبہ امام کا رخ قبلے کی جانب ہو، پھر وہ اپنی چادر کو پلٹتے ہوئے دائیں کے حصے کو بائیں طرف کردے اور بائیں کے حصے کودائیں طرف کردے۔ کیونکہ آپ صلى الله عليہ وسلم نے اس موقعے پر لوگوں کی طرف پشت اور قبلے کی طرف چہرہ کر لیا اور اس کے بعد اپنی چادرکو پلٹ دیا۔ (متفق علیہ) پھر قبلہ رخ ہو کر سری طور پر دعا کرے۔ اگر لوگ نماز کے بعد یا دوران خطبہ بھی بارش طلب کریں، تو یہ عین سنت کے مطابق ہوگا۔

مستحب یہ ہے کہ جب بارش شروع ہو، تو بارش میں کھڑا ہو اور اپنی سواری اور کپڑوں کو نکالے، تاکہ اس پر بارش کے قطرے گریں اور جب پانی بہنے لگے، تو وادی کے پاس جاکر وضو کرے اور جب بارش دیکھے، تو یہ دعا پڑھے:

"اللهم صيباً نافعاً" (اے اللہ! اسے نفع دینے والی بارش بنادے۔)

پھر جب پانی زیادہ ہوجائے اور بارش کی کثرت سے خوف محسوس ہونے لگے، تو یہ دعا پڑھنا مستحب ہے:

’’اللهم حوالينا ولا علينا اللهم على الظراب والآكام وبطون الأودية ومنابت الشجر‘‘۔ (اے اللہ! ہمارے اردگرد بارش برسا، ہم پر نہ برسا۔ اے اللہ! ٹیلوں اور پہاڑیوں پر اور وادیوں کے نچلے حصوں میں اور درخت اگنے کی جگہوں میں بارش برسا۔)

جب بارش برس رہی ہو، تو دعا کرے اور کہے: "مطرنا بفضل الله ورحمته" (ہم پر اللہ کے فضل اور اس کی رحمت سے بارش ہوئی۔) جب بادل دیکھے یا ہوا چلے، تو اللہ سے اس کی بھلائی مانگے اور اس کے شر سے اللہ کی پناہ طلب کرے۔ ہوا کوبرابھلا کہنا درست نہیں ہے، بلکہ یہ کہے:

’’اللهم إني أسألك من خير هذه الريح، وخير ما فيها، وخير ما أرسلت به۔ وأعوذ بك من شرها، وشر ما فيها، وشر ما أرسلت به۔ اللهم اجعلها رحمة، ولا تجعلها عذاباً۔ اللهم اجعلها رياحاً، ولا تجعلها ريحاً۔‘‘ (اے اللہ! میں تجھ سے اس ہوا کی بھلائی کا سوال کرتا ہوں, اس چیز کی بھلائی کا سوال کرتا ہوں جو اس کے اندر ہے اور اس چیز کی بھلائی کا سوال کرتا ہوں جس کے ساتھ یہ بھیجی گئی ہے اور میں تیری پناہ مانگتا ہوں اس کی برائی سے اور اس چیز کی برائی سے جو اس میں ہے اور اس چیز کی برائی سے جس کے ساتھ یہ بھیجی گئی ہے۔ اے اللہ! تو اسے رحمت بنا اور اسے عذاب نہ بنا۔ اے اللہ! اسے رحمت کی ہوا بنا، نہ کہ عذاب کی ہوا۔)

جب بادل کی گرج اور اس کی کڑک سنے، تو یہ کہے: ’’ اللهم لا تقتلنا بغضبك، ولا تهلكنا بعذابك، و عافنا قبل ذلك۔ سبحان من سبح الرعد بحمده والملائكة من خيفته‘‘۔ (اے اللہ! تو مجھے اپنے غضب اور اپنے عذاب سے ہلاک نہ کر اور ہمیں اس سے قبل اپنی عافیت میں لے لے۔ پاک ہے وہ، جس کی حمد کے ساتھ اس کی تسبیح یہ گرج پڑھتی ہے اور فرشتے بھی اس کے خوف سے (اس کی تسبیح پڑھتے ہیں)۔ اور جب گدھے کے رینکنے اور کتے کے بھونکنے کی آواز سنے، تو شیطان سے اللہ کی پناہ طلب کرے اور جب مرغ کی آواز سنے، تو اللہ تعالی سے اس کا فضل طلب کرے۔

 (باب: جنازوں کا بیان )

دوا علاج کرانا متفقہ طور پر جائز ہے اور یہ توکل کے خلاف نہیں ہے۔ داغ کر علاج کرنا مکروہ ہے۔ پرہیز کرنا مستحب ہے۔ حرام چیزوں کے ذریعہ علاج حرام ہے، خواہ وہ کھانے کی چیزیں ہوں یا پینے کی۔ کیوں کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے فرمان کا فرمان ہے: "حرام چیزوں سے علاج مت کرو۔" تعویذ گنڈا حرام ہے اور اس سے مراد غیرشرعی جھاڑ پھونک یا کچھ لکھ کر چمڑے یا کپڑے میں بند کرکے اسے گلے وغیرہ میں لٹکانا ہے۔کثرت سے موت کو یاد کرنا اور اس کی تیاری کرنا اور مریض کی عیادت کرنا مسنون ہے۔ اگر مریض اللہ کی حمد و ثنا کے بعد اپنی تکلیف اور پریشانی کی بابت بتائے، جب کہ یہ شکوے کے قبیل سے نہ ہو، تو کوئی مضایقہ نہیں ہے۔ بیماری کے وقت صبر کرنا واجب ہے، تاہم اللہ تعالی کے سامنے اپنی پریشانی کا اظہار صبر کے خلاف نہیں، بلکہ عین مطلوب ہے۔ اللہ تعالی کے ساتھ حسن ظن رکھنا واجب ہے اور آدمی کسی پریشانی سے تنگ آ کر موت کی تمنا نہ کرے۔ مریض کی عیادت کرنے والا شخص اس کی شفا یابی کی دعا کرے اور جب مریض جاں کنی کی حالت میں ہو، تو مستحب یہ ہے کہ اسے 'لا الہ الا اللہ' کی تلقین کرے۔ جب کوئی جاں کنی کی حالت میں ہو، تو اسے قبلہ رو کر دیا جائے، جب اس کی وفات ہوجائے تواس کی آنکھیں بند کر دی جائیں اور اس کے گھر والے صرف اچھی بات منہ سے نکالیں، کیونکہ ان کی باتوں پر فرشتے آمین کہتے ہیں۔ مرے ہوئے آدمی کے بدن کو کپڑے سے ڈھکا جائے اور اس کے قرض کی ادائیگی یا نذر اور کفارہ سے اسے بری الذمہ کرنے میں جلدی کی جائے۔ کیوں کہ نبی صلى الله عليہ وسلم کا فرمان ہے: "مؤمن کی جان اس کے قرض کے ساتھ لٹکی رہتی ہے، یہاں تک کہ اسے ادا کردیا جائے۔" اسے ترمذی نے حسن قرار دیا ہے۔ میت کے کفن و دفن کا انتظام جلد کرنا چاہیے۔ نبی صلى الله عليه وسلم کا فرمان ہے: "مسلم کی میت کے لیے مناسب نہیں ہے کہ اسے اس کے گھر والوں کے درمیان روک کے رکھا جائے۔" امام ابو داود نے اسے روایت کیا ہے ۔ موت کی منادی کرنا مکروہ ہے۔ میت کو غسل دینا، اس کی نماز جنازہ پڑھنا، اسے اٹھانا، کفن پہنانا اور اسے قبلہ رخ دفنانا فرض کفایہ ہے اور ان میں سے کسی بھی چیز کی اجرت لینا مکروہ ہے۔ اسی طرح بنا ضرورت میت کو دوسرے شہر میں لے جانا بھی مکروہ ہے۔ غسل دینے والے کو چاہیے کہ وہ غسل دلانے کی ابتدا وضو کے اعضا سے کرے، دائیں طرف سے غسل دلائے اور تین یا پانچ بار غسل دلائے۔البتہ ایک بار غسل دلانا بھی کافی ہے۔ اگر ساقط کے حمل پر چار مہینے سے زیادہ کى مدت ہو جائے، تو اسے غسل دیا جائے گا اور اس کی نمازجنازہ بھی پڑھی جائے گی۔ کیوں کہ نبی صلى الله عليه وسلم کا فرمان ہے: "ساقط کی نماز جنازہ ادا کی جائے گی اور اس کے والدین کے لیے مغفرت اور رحمت کی دعا کی جائے گی۔" اسے امام ترمذی نے صحیح قرار دیا ہے اور اس کے الفاظ اس طرح ہیں : "اور بچے کی نماز جنازہ ادا کی جائےگی۔" اگر پانی نہ ہونے کی وجہ سے یا کسی اور سبب سے غسل دینا ممکن نہ ہو، تو تیمم کروائے۔ کفن کے طور پر کم سے کم ایک کپڑے کا ہونا ضروری ہے، جو پورے بدن کو ڈھانپ لے۔ اگر پورا بدن نہ ڈھک سکے، تو پہلے شرم گاہ اور اس کے بعد سر اور اس سے متصل حصوں کو ڈھانپے اور اس کے بعد باقی جسم پر گھاس اور پتے ڈال دے۔ امام نماز پڑھاتے وقت مرد کے سینے کے پاس اور عورت کے درمیان میں کھڑا ہو اور تکبیر کہہ کر سورہ فاتحہ پڑھے، پھر تکبیر کہہ کر نبی صلى الله عليہ وسلم پر درود پڑھے، پھر تکبیر کہہ کر میت کے لیے دعا کرے، پھر چوتھی تکبیر کہہ کر تھوڑی دیر رکے، پھر دائیں جانب ایک سلام پھیرے۔ ہر تکبیر کے ساتھ رفع یدین بھی کرے اور نماز کے بعد جنازہ اٹھا لیے جانے تک اپنی جگہ پر ٹہھرا رہے۔ عمر رضی اللہ عنہ سے اسی طرح مروی ہے۔ جو شخص نماز جنازہ نہ پڑھ سکا، وہ جنازہ رکھ دیے جانے کے بعد یا دفن کے بعد قبر پر پڑھ لے۔ باجماعت پڑھنے کی بھی اجازت ہے۔ اس کی اجازت دفن کے بعد ایک مہینے تک ہے۔ رات میں دفن کرنے میں کوئی حرج نہیں ہے۔ البتہ سورج کے طلوع و غروب اور بیچ آسمان میں ہوتے وقت دفن کرنا مکروہ ہے۔ جنازہ کو لے کر تیزی کے ساتھ چلنا مسنون ہے، لیکن دوڑنے کی اجازت نہيں ہے۔ جنازہ کے پیچھے چلنے والوں کے لیے اسے زمین میں دفن کے لیے رکھے جانے سے پہلے بیٹھنا مکروہ ہے۔ جنازہ کے پیچھے چلنے والوں کو چاہیے کہ وہ خشوع وخضوع کے ساتھ آخرت کی فکر میں غرق ہوکر چلیں۔ مسکرانا اور دنیوی باتیں کرنا مکروہ ہے۔ میت کو، اگر بہ آسانی ہو سکے، تو اس کے پائتانے کی جانب سے قبر میں داخل کرنا مستحب ہے۔ مرد کی قبر کو ڈھانکنا مکروہ ہے۔ محرم کی موجودگی میں کسی اجنبی مرد کے لیے عورت کو دفن کرنا مکروہ نہیں ہے۔ بغلی قبر شق یعنی سپاٹ قبر سے افضل ہے اور قبر کو گہرا اور کشادہ کرنا مسنون ہے، جب کہ تابوت میں دفن کرنا مکروہ ہے۔ قبر میں میت رکھتے وقت کہے: ’’بسم الله وعلى ملة رسول الله۔‘‘ (اللہ کے نام سے اور رسول اللہ کے مذہب پر اسے رکھا جا رہا ہے۔) دفن کے بعد قبر کے پاس کھڑے ہوکر دعا کرنا مستحب ہے اور موجود لوگوں کو چاہیے کہ وہ میت کے سر کی جانب سے دونوں ہاتھوں میں بھر کر تین بار مٹی ڈالیں۔ قبر کو ایک بالشت اونچا کرنا مستحب ہے اور اس سے زیادہ اونچا کرنا مکروہ ہے؛ کیوں کہ آپ صلى الله عليہ وسلم نے علی رضی اللہ عنہ سے فرمایا تھا: "جہاں بھی کوئی مجسمہ دیکھو، اسے ختم کردینا اور جب کوئی اونچی قبر دیکھو، تو اسے برابر کردینا۔" اسے امام مسلم نے روایت کیا ہے۔ قبر پر پانی چھڑک کر اس پر کنکریاں ڈال دی جائیں، جس سے قبر کی مٹی کی حفاظت ہو سکے۔ قبر پر پہچان کے مقصد سے پتھر وغیرہ سے کوئی نشانی لگانے میں مضایقہ نہیں ہے۔ ایسا عثمان بن مظعون رضی اللہ عنہ کی قبر کے سلسلے میں وارد ہوا ہے۔ مگر قبر کو پختہ کرنا اور اس پر عمارت بنانا جائز نہیں ہے۔ اگر عمارت بن جائے، تو اسے گرا دینا واجب ہے۔ قبر پر خود اس کی مٹی کے علاوہ الگ سے مٹی نہ ڈالی جائے، کیونکہ اس سے منع کیا گیا ہے۔ جسے امام ابو داؤد نے روایت کیا ہے۔ قبرکا بوسہ لینا، اس پر خوشبو لگانا اور اسے دھونی دینا، اس پر بیٹھنا، جائز نہیں ہے, نیز کسى قبر پر یا دو قبروں کے مابین پیشاب پاخانہ کرنا جائز نہیں ہے۔ اسی طرح قبر کی مٹی سے شفا طلب کرنا بھی جائز نہیں ہے۔ اس پر چراغاں کرنا اور اسے سجدہ گاہ بنانا بھی حرام ہے۔ قبر پر بنی عمارت کو منہدم کرنا واجب ہے۔ قبرستان میں جوتا پہن کر چلنے سے بھی حدیث میں ممانعت آئی ہے۔ جس کی سند کو امام احمد نے اچھی کہا ہے۔ بنا سفر قبروں کی زیارت مسنون ہے۔ کیوں کہ نبی اکرم کا فرمان ہے: "تین مسجدوں کے علاوہ کسی اور جگہ کے لیے رخت سفر نہ باندھا جائے۔" عورتوں کے لیے قبروں کی زیارت جائز نہیں ہے ۔ نبی صلى الله عليه وسلم کے اس فرمان کی وجہ سے : "اللہ کی لعنت ہو قبروں کی زیارت کرنے والی عورتوں، انھیں سجدہ گاہ بنانے والوں اور ان پر چراغاں کرنے والوں پر۔" اسے اہلِ سنن نے روایت کیا ہے۔ قبروں کو (بطورِ تبرک) چھونا, ان کے پاس نماز پڑھنا اور دعا کرنے کے لیے قبروں کے پاس جانا، یہ سب منکرات بلکہ شرک کے اقسام میں سے ہیں۔ قبروں کی زیارت کرنے والا یا ان کے پاس سے گزرنے والا یہ دعا پڑھے : "السلام عليكم دار قوم مؤمنين وإنا إن شاء الله بكم لاحقون يرحم المستقدمين منّا ومنكم والمستأخرين نسأل الله لنا ولكم العافية ، اللهم لا تحرمنا أجرهم ولا تفتنا بعدهم واغفر لنا ولهم"۔ (اے ہل ایمان کى بستى والو! تم پر سلامتی ہو اور ہم ان شاء اللہ تم سے ملنے والے ہیں۔ اللہ تعالی ہمارے اگلوں اور ہمارے پچھلوں پر رحم فرمائے۔ ہم اللہ سے اپنے اور تمہارے لیے عافیت کے طلب گار ہیں۔ اے اللہ! ہمیں ان کے اجر سے محروم نہ کر، ہمیں ان کے بعد فتنے میں نہ ڈالنا اور ہماری اور ان کی مغفرت فرما۔) آدمی کسی باحیات شخص سے سلام کرنے وقت ’’السلام علیکم‘‘ اور ’’سلام علیکم‘‘ دونوں میں سے کوئی بھی کہہ سکتا ہے۔ سلام کرنے میں پہل کرنا سنت ہے، جب کہ سلام کا جواب دینا واجب ہے۔ اگر کسی انسان کو سلام کرنے کے بعد اس سے دوبارہ، سہ بارہ یا اس سے زائد بار ملاقات ہو، تو ہر بار اسے سلام کرے۔ سلام کرتے وقت جھکنا جائز نہیں ہے۔ کسی اجنبی عورت کو سلام نہ کرے، مگر یہ کہ وہ بوڑھی ہو، جس کی شہوت ختم ہوچکی ہو۔ واپسی کے موقعے پر بھی سلام کرنا چاہیے۔ آدمی جب اپنے اہل خانہ کے پاس جائے، تو سلام کرے اور یہ دعا پڑھے: ’’اللهم إني أسألك خير المولج وخير المخرج، بسم الله ولجنا، وبسم الله خرجنا، وعلى الله توكلنا‘‘۔ (اے اللہ! میں تجھ سے بہتر مدخل اور بہترمخرج کا سوالی ہوں۔ اللہ کے نام سے ہم داخل ہوئے اور اللہ کے نام کے ساتھ نکلے اور اللہ ہی پر ہم نے بھروسہ کیا۔) مصافحہ کرنا سنت ہے اور اس سلسلے میں انس رضی اللہ عنہ کی حدیث موجود ہے۔ مگر عورت سے مصافحہ کرنا جائز نہیں ہے۔ بڑوں کی طرح بچوں کو بھی سلام کیا جائے گا۔ چھوٹا بڑے کو سلام کرے، چھوٹی جماعت بڑی جماعت کو سلام کرے، پیدل چلنے والا بیٹھنے والے کو سلام کرے اور سوار پیدل چلنے والے کوسلام کرے۔ اگر کوئی شخص کسی کا سلام پہنچائے، تو اس کے لیے یہ کہنا مستحب ہے: "عليك وعليہ السلام" (تجھ پر اور اس پر سلامتی ہو ۔)

"حرام چیزوں سے علاج مت کرو۔"

تعویذ گنڈا حرام ہے اور اس سے مراد غیرشرعی جھاڑ پھونک یا کچھ لکھ کر چمڑے یا کپڑے میں بند کرکے اسے گلے وغیرہ میں لٹکانا ہے۔کثرت سے موت کو یاد کرنا اور اس کی تیاری کرنا اور مریض کی عیادت کرنا مسنون ہے۔ اگر مریض اللہ کی حمد و ثنا کے بعد اپنی تکلیف اور پریشانی کی بابت بتائے، جب کہ یہ شکوے کے قبیل سے نہ ہو، تو کوئی مضایقہ نہیں ہے۔ بیماری کے وقت صبر کرنا واجب ہے، تاہم اللہ تعالی کے سامنے اپنی پریشانی کا اظہار صبر کے خلاف نہیں، بلکہ عین مطلوب ہے۔ اللہ تعالی کے ساتھ حسن ظن رکھنا واجب ہے اور آدمی کسی پریشانی سے تنگ آ کر موت کی تمنا نہ کرے۔ مریض کی عیادت کرنے والا شخص اس کی شفا یابی کی دعا کرے اور جب مریض جاں کنی کی حالت میں ہو، تو مستحب یہ ہے کہ اسے 'لا الہ الا اللہ' کی تلقین کرے۔ جب کوئی جاں کنی کی حالت میں ہو، تو اسے قبلہ رو کر دیا جائے، جب اس کی وفات ہوجائے تواس کی آنکھیں بند کر دی جائیں اور اس کے گھر والے صرف اچھی بات منہ سے نکالیں، کیونکہ ان کی باتوں پر فرشتے آمین کہتے ہیں۔ مرے ہوئے آدمی کے بدن کو کپڑے سے ڈھکا جائے اور اس کے قرض کی ادائیگی یا نذر اور کفارہ سے اسے بری الذمہ کرنے میں جلدی کی جائے۔ کیوں کہ نبی صلى الله عليہ وسلم کا فرمان ہے:

"مؤمن کی جان اس کے قرض کے ساتھ لٹکی رہتی ہے، یہاں تک کہ اسے ادا کردیا جائے۔"

اسے ترمذی نے حسن قرار دیا ہے۔

میت کے کفن و دفن کا انتظام جلد کرنا چاہیے۔ نبی صلى الله عليه وسلم کا فرمان ہے:

"مسلم کی میت کے لیے مناسب نہیں ہے کہ اسے اس کے گھر والوں کے درمیان روک کے رکھا جائے۔"

امام ابو داود نے اسے روایت کیا ہے ۔

موت کی منادی کرنا مکروہ ہے۔

میت کو غسل دینا، اس کی نماز جنازہ پڑھنا، اسے اٹھانا، کفن پہنانا اور اسے قبلہ رخ دفنانا فرض کفایہ ہے اور ان میں سے کسی بھی چیز کی اجرت لینا مکروہ ہے۔ اسی طرح بنا ضرورت میت کو دوسرے شہر میں لے جانا بھی مکروہ ہے۔ غسل دینے والے کو چاہیے کہ وہ غسل دلانے کی ابتدا وضو کے اعضا سے کرے، دائیں طرف سے غسل دلائے اور تین یا پانچ بار غسل دلائے۔البتہ ایک بار غسل دلانا بھی کافی ہے۔ اگر ساقط کے حمل پر چار مہینے سے زیادہ کى مدت ہو جائے، تو اسے غسل دیا جائے گا اور اس کی نمازجنازہ بھی پڑھی جائے گی۔ کیوں کہ نبی صلى الله عليه وسلم کا فرمان ہے:

"ساقط کی نماز جنازہ ادا کی جائے گی اور اس کے والدین کے لیے مغفرت اور رحمت کی دعا کی جائے گی۔"

اسے امام ترمذی نے صحیح قرار دیا ہے اور اس کے الفاظ اس طرح ہیں : "اور بچے کی نماز جنازہ ادا کی جائےگی۔"

اگر پانی نہ ہونے کی وجہ سے یا کسی اور سبب سے غسل دینا ممکن نہ ہو، تو تیمم کروائے۔ کفن کے طور پر کم سے کم ایک کپڑے کا ہونا ضروری ہے، جو پورے بدن کو ڈھانپ لے۔ اگر پورا بدن نہ ڈھک سکے، تو پہلے شرم گاہ اور اس کے بعد سر اور اس سے متصل حصوں کو ڈھانپے اور اس کے بعد باقی جسم پر گھاس اور پتے ڈال دے۔ امام نماز پڑھاتے وقت مرد کے سینے کے پاس اور عورت کے درمیان میں کھڑا ہو اور تکبیر کہہ کر سورہ فاتحہ پڑھے، پھر تکبیر کہہ کر نبی صلى الله عليہ وسلم پر درود پڑھے، پھر تکبیر کہہ کر میت کے لیے دعا کرے، پھر چوتھی تکبیر کہہ کر تھوڑی دیر رکے، پھر دائیں جانب ایک سلام پھیرے۔ ہر تکبیر کے ساتھ رفع یدین بھی کرے اور نماز کے بعد جنازہ اٹھا لیے جانے تک اپنی جگہ پر ٹہھرا رہے۔ عمر رضی اللہ عنہ سے اسی طرح مروی ہے۔ جو شخص نماز جنازہ نہ پڑھ سکا، وہ جنازہ رکھ دیے جانے کے بعد یا دفن کے بعد قبر پر پڑھ لے۔ باجماعت پڑھنے کی بھی اجازت ہے۔ اس کی اجازت دفن کے بعد ایک مہینے تک ہے۔

رات میں دفن کرنے میں کوئی حرج نہیں ہے۔ البتہ سورج کے طلوع و غروب اور بیچ آسمان میں ہوتے وقت دفن کرنا مکروہ ہے۔ جنازہ کو لے کر تیزی کے ساتھ چلنا مسنون ہے، لیکن دوڑنے کی اجازت نہيں ہے۔ جنازہ کے پیچھے چلنے والوں کے لیے اسے زمین میں دفن کے لیے رکھے جانے سے پہلے بیٹھنا مکروہ ہے۔ جنازہ کے پیچھے چلنے والوں کو چاہیے کہ وہ خشوع وخضوع کے ساتھ آخرت کی فکر میں غرق ہوکر چلیں۔ مسکرانا اور دنیوی باتیں کرنا مکروہ ہے۔

میت کو، اگر بہ آسانی ہو سکے، تو اس کے پائتانے کی جانب سے قبر میں داخل کرنا مستحب ہے۔ مرد کی قبر کو ڈھانکنا مکروہ ہے۔ محرم کی موجودگی میں کسی اجنبی مرد کے لیے عورت کو دفن کرنا مکروہ نہیں ہے۔ بغلی قبر شق یعنی سپاٹ قبر سے افضل ہے اور قبر کو گہرا اور کشادہ کرنا مسنون ہے، جب کہ تابوت میں دفن کرنا مکروہ ہے۔ قبر میں میت رکھتے وقت کہے: ’’بسم الله وعلى ملة رسول الله۔‘‘ (اللہ کے نام سے اور رسول اللہ کے مذہب پر اسے رکھا جا رہا ہے۔) دفن کے بعد قبر کے پاس کھڑے ہوکر دعا کرنا مستحب ہے اور موجود لوگوں کو چاہیے کہ وہ میت کے سر کی جانب سے دونوں ہاتھوں میں بھر کر تین بار مٹی ڈالیں۔

قبر کو ایک بالشت اونچا کرنا مستحب ہے اور اس سے زیادہ اونچا کرنا مکروہ ہے؛ کیوں کہ آپ صلى الله عليہ وسلم نے علی رضی اللہ عنہ سے فرمایا تھا:

"جہاں بھی کوئی مجسمہ دیکھو، اسے ختم کردینا اور جب کوئی اونچی قبر دیکھو، تو اسے برابر کردینا۔"

اسے امام مسلم نے روایت کیا ہے۔

قبر پر پانی چھڑک کر اس پر کنکریاں ڈال دی جائیں، جس سے قبر کی مٹی کی حفاظت ہو سکے۔ قبر پر پہچان کے مقصد سے پتھر وغیرہ سے کوئی نشانی لگانے میں مضایقہ نہیں ہے۔ ایسا عثمان بن مظعون رضی اللہ عنہ کی قبر کے سلسلے میں وارد ہوا ہے۔ مگر قبر کو پختہ کرنا اور اس پر عمارت بنانا جائز نہیں ہے۔ اگر عمارت بن جائے، تو اسے گرا دینا واجب ہے۔ قبر پر خود اس کی مٹی کے علاوہ الگ سے مٹی نہ ڈالی جائے، کیونکہ اس سے منع کیا گیا ہے۔

جسے امام ابو داؤد نے روایت کیا ہے۔

قبرکا بوسہ لینا، اس پر خوشبو لگانا اور اسے دھونی دینا، اس پر بیٹھنا، جائز نہیں ہے, نیز کسى قبر پر یا دو قبروں کے مابین پیشاب پاخانہ کرنا جائز نہیں ہے۔

اسی طرح قبر کی مٹی سے شفا طلب کرنا بھی جائز نہیں ہے۔ اس پر چراغاں کرنا اور اسے سجدہ گاہ بنانا بھی حرام ہے۔ قبر پر بنی عمارت کو منہدم کرنا واجب ہے۔ قبرستان میں جوتا پہن کر چلنے سے بھی حدیث میں ممانعت آئی ہے۔

جس کی سند کو امام احمد نے اچھی کہا ہے۔

بنا سفر قبروں کی زیارت مسنون ہے۔ کیوں کہ نبی اکرم کا فرمان ہے:

"تین مسجدوں کے علاوہ کسی اور جگہ کے لیے رخت سفر نہ باندھا جائے۔"

عورتوں کے لیے قبروں کی زیارت جائز نہیں ہے ۔ نبی صلى الله عليه وسلم کے اس فرمان کی وجہ سے :

"اللہ کی لعنت ہو قبروں کی زیارت کرنے والی عورتوں، انھیں سجدہ گاہ بنانے والوں اور ان پر چراغاں کرنے والوں پر۔"

اسے اہلِ سنن نے روایت کیا ہے۔

قبروں کو (بطورِ تبرک) چھونا, ان کے پاس نماز پڑھنا اور دعا کرنے کے لیے قبروں کے پاس جانا، یہ سب منکرات بلکہ شرک کے اقسام میں سے ہیں۔ قبروں کی زیارت کرنے والا یا ان کے پاس سے گزرنے والا یہ دعا پڑھے :

"السلام عليكم دار قوم مؤمنين وإنا إن شاء الله بكم لاحقون يرحم المستقدمين منّا ومنكم والمستأخرين نسأل الله لنا ولكم العافية ، اللهم لا تحرمنا أجرهم ولا تفتنا بعدهم واغفر لنا ولهم"۔ (اے ہل ایمان کى بستى والو! تم پر سلامتی ہو اور ہم ان شاء اللہ تم سے ملنے والے ہیں۔ اللہ تعالی ہمارے اگلوں اور ہمارے پچھلوں پر رحم فرمائے۔ ہم اللہ سے اپنے اور تمہارے لیے عافیت کے طلب گار ہیں۔ اے اللہ! ہمیں ان کے اجر سے محروم نہ کر، ہمیں ان کے بعد فتنے میں نہ ڈالنا اور ہماری اور ان کی مغفرت فرما۔)

آدمی کسی باحیات شخص سے سلام کرنے وقت ’’السلام علیکم‘‘ اور ’’سلام علیکم‘‘ دونوں میں سے کوئی بھی کہہ سکتا ہے۔ سلام کرنے میں پہل کرنا سنت ہے، جب کہ سلام کا جواب دینا واجب ہے۔ اگر کسی انسان کو سلام کرنے کے بعد اس سے دوبارہ، سہ بارہ یا اس سے زائد بار ملاقات ہو، تو ہر بار اسے سلام کرے۔ سلام کرتے وقت جھکنا جائز نہیں ہے۔ کسی اجنبی عورت کو سلام نہ کرے، مگر یہ کہ وہ بوڑھی ہو، جس کی شہوت ختم ہوچکی ہو۔ واپسی کے موقعے پر بھی سلام کرنا چاہیے۔ آدمی جب اپنے اہل خانہ کے پاس جائے، تو سلام کرے اور یہ دعا پڑھے:

’’اللهم إني أسألك خير المولج وخير المخرج، بسم الله ولجنا، وبسم الله خرجنا، وعلى الله توكلنا‘‘۔ (اے اللہ! میں تجھ سے بہتر مدخل اور بہترمخرج کا سوالی ہوں۔ اللہ کے نام سے ہم داخل ہوئے اور اللہ کے نام کے ساتھ نکلے اور اللہ ہی پر ہم نے بھروسہ کیا۔)

مصافحہ کرنا سنت ہے اور اس سلسلے میں انس رضی اللہ عنہ کی حدیث موجود ہے۔ مگر عورت سے مصافحہ کرنا جائز نہیں ہے۔ بڑوں کی طرح بچوں کو بھی سلام کیا جائے گا۔ چھوٹا بڑے کو سلام کرے، چھوٹی جماعت بڑی جماعت کو سلام کرے، پیدل چلنے والا بیٹھنے والے کو سلام کرے اور سوار پیدل چلنے والے کوسلام کرے۔

اگر کوئی شخص کسی کا سلام پہنچائے، تو اس کے لیے یہ کہنا مستحب ہے: "عليك وعليہ السلام" (تجھ پر اور اس پر سلامتی ہو ۔)

ہر ملنے والے کو چاہیے کہ وہ سلام کرنے میں پہل کرنے کے لیے کوشاں رہے۔ البتہ "السلام عليكم ورحمة الله وبركاته" میں کچھ اور نہ بڑھائے۔ جب جماہی آئے، تو مقدور بھر اسے روکے اور اگرجماہی آ ہی جائے، تو اپنا منہ ڈھانپ لے۔ اسی طرح جب چھینک آئے، تو اپنے چہرے کو ڈھانپ لے، اپنی آواز پست کرے اور اتنی آواز سے 'الحمدللہ' کہے کہ اس کے پاس بیٹھا ہوا شخص سن لے۔ سننے والے کو چاہیے کہ وہ "يرحمك الله" کہے۔ پھر چھینکنے والا اس کے جواب میں "يهديكم الله ويصلح بالكم" کہے۔ جو "الحمد للہ" نہ کہے، اس کے جواب میں "يرحمك الله" نہ کہا جائے۔ اگر کوئی دوسری اور تیسری بار چھینکے، تو اس کا جواب دیا جائے گا، لیکن اس کے بعد چھینکنے کی صورت میں اس کے حق میں عافیت کی دعا کی جائے گی۔

جو شخص کسی کے گھر میں داخل ہونا چاہے، خواہ وہ رشتے دار ہو یا اجنبی، اس کے لیے اجازت طلب کرنا واجب ہے۔ اگر اجازت ملے، تو داخل ہو، ورنہ واپس ہو جائے۔ اجازت تین بار طلب کرے گا، اس سے زیادہ نہیں۔ اجازت طلب کرتے وقت کہے : ’’السلام عليكم، کیا میں اندر آسکتا ہوں؟‘‘ جب آدمی کسی مجلس میں پہنچے، تو جہاں جگہ ملے وہیں بیٹھ جائے اور بلا اجازت دو آدمیوں کے بیچ میں بیٹھ کر انھیں ایک دوسرے سے الگ نہ کرے۔

ایسے آدمی کی، جس کے گھر میں کسی کی وفات ہوجائے، تعزیت کرنا مستحب ہے۔ تاہم تعزیتی نشست منعقد کرنا مکروہ ہے۔ تعزیت کے کلمات متعین نہیں ہیں۔ بس اتنا ہے کہ صبر کی تلقین کی جائے گی، اجر و ثواب کی امید دلائی جائے گی اور میت کے لیے دعا کی جائے گی۔ جب کہ مصیبت زدہ شخص کہے گا: ’’الحمد لله رب العالمين، إنا لله وإنا إليه راجعون، اللهم أجرني في مصيبتي واخلف لي خيراً منها۔‘‘ (تمام تعریفیں اس اللہ کے لیے ہیں، جو سارے جہان کا پالنہار ہے۔ بے شک ہم اللہ کے لیے ہیں اور ہمیں اسی کی طرف لوٹ کرجانا ہے۔ اے اللہ! مجھے میری مصیبت میں اجر دے اور مجھے اس کے بدلے میں اس سے بہتر چیز عطا فرما۔) اگر اللہ تعالی کے اس فرمان ’’واستعينوا بالصبر والصلاة‘‘ (اور صبر اور نماز کے ذریعہ اللہ سے مدد طلب کرو) پر عمل کرتے ہوئے نماز پڑھے، تو اچھا ہے۔ ابن عباس رضی اللہ عنہما نے ایسا کر کے دکھایا ہے۔ صبرکرنا واجب ہے۔ میت پر رونا مکروہ تو نہیں ہے، لیکن نوحہ و ماتم کرنا حرام ہے۔ نبی صلى الله عليه وسلم نے مصیبت کے وقت چیخنے چلانے والی، بال منڈوانے والی اور کپڑے پھاڑنے والی عورتوں سے اپنی براءت کا اظہار کیا ہے۔ جزع و فزع کا اظہار بھی حرام ہے۔

صبرکرنا واجب ہے۔ میت پر رونا مکروہ تو نہیں ہے، لیکن نوحہ و ماتم کرنا حرام ہے۔ نبی صلى الله عليه وسلم نے مصیبت کے وقت چیخنے چلانے والی، بال منڈوانے والی اور کپڑے پھاڑنے والی عورتوں سے اپنی براءت کا اظہار کیا ہے۔ جزع و فزع کا اظہار بھی حرام ہے۔

 (کتاب: زکوۃ کے بارے میں)

چوپایوں، زمین کی پیداوار، نقود اور سامانِ تجارت میں پانچ شرطوں کے ساتھ زکوۃ واجب ہے: (1) اسلام، (2) آزادی، (3) نصاب کا مالک ہونا، (4) ملکیت کا تام ہونا (5) اور سال کا گزرجانا۔ بچے اور پاگل کے مال میں زکوۃ واجب ہے۔ عمر اور ابن عباس وغیرہ رضی اللہ عنہم سے یہی مروی ہے اور ان کا کوئی مخالف بھی نہیں ہے۔ نصاب سے زائد چیز پر زکوۃ نصاب ہی کے حساب سے واجب ہوگی، سوائے چرنے والے جانوروں کے کہ اس میں دو نصابوں کے بیچ زائد جانوروں پر زکوۃ نہیں ہے۔ اسی طرح غیر معین پر وقف کیے ہوئے مال جیسے مساجد وغیرہ پر زکوۃ نہیں ہے۔ البتہ کسی معین شخص پر وقف کی ہوئی زمین کے غلے پر زکوۃ واجب ہے۔ جس شخص کا بقایا، جیسے قرض یا مہر وغیرہ، کسی غنی اور قادر شخص پر ہو، تو سال گزرنے کا حساب اس کی ملکیت کے وقت سے ہوگا اور وہ اس کی زکوۃ اس کے کُل یا جز پر قبضے کے بعد دے گا، اگر چہ قبضہ کیا ہوا مال نصاب تک نہ پہنچتا ہو۔ یہ بات اجماع صحابہ کے ظاہر کے موافق ہے۔ حالانکہ وجوب کا سبب موجود ہونے کی وجہ سے قبضہ سے پہلے بھی زکوۃ نکال دینا درست ہے، لیکن قبضہ تک مؤخرکرنے کی گنجائش ہے اور یہ وجوب سے پہلے زکوۃ نکالنے جیسا نہیں ہے۔ اگر آدمی کے ہاتھ میں کچھ نصاب ہو اور باقی قرض یا کھوئے ہوئے مال کی شکل میں ہو، تو جتنا اس کے پاس ہے اس کی زکوۃ ادا کرے۔ اسی طرح غیر مال دار کے ذمہ قرض، غصب کیے ہوئے مال اور جس مال کو کوئی لے کر مکر جائے، اس کی زکوۃ بھی، واپس مل جانے کے بعد ادا کی جائے گی۔ ایسا علی اور ابن عباس رضی اللہ عنھم سے مروی ہے۔ جب درمیان سال میں الگ سے کچھ مال حاصل ہو، تو اس پر سال گزرنے سے پہلے اس کی زکوۃ ادا نہیں کرنی ہے۔ البتہ چوپایوں کی افزائش اور تجارت کے مال کے منافع کا مسئلہ اس سے الگ ہے۔ کیوں کہ عمر رضی اللہ عنہ کا فرمان ہے: "بھیڑ بکری کے نوزائدہ بجوں کو نصاب پورا کرنے کے لیے شمار کر لو، لیکن انہیں ان کی جانب سے زکوۃ کے طور پر قبول نہ کرو۔" اسے امام مالک نے روایت کیا ہے۔ اس سلسلے میں علی رضی اللہ عنہ کا ایک فرمان بھی موجود ہے اور ان دونوں کا صحابہ کے اندر کوئی مخالف دکھائی نہیں پڑتا۔ دوران سال دوسری جہت سے حاصل ہونے والے مال کو پہلے سے موجود مال کے ساتھ اس صورت میں ملا دیا جائے گا، جب وہ نصاب کو پہنچتا ہو اور اسی کى جنس سے یا اسی کے حکم میں ہو، جیسے سونا اور چاندی۔ لیکن اگر وہ نصاب کی جنس سے نہ ہو یا اس کے حکم میں نہ ہو، تو اس کا مستقل حکم ہوگا۔

اگر چہ قبضہ کیا ہوا مال نصاب تک نہ پہنچتا ہو۔ یہ بات اجماع صحابہ کے ظاہر کے موافق ہے۔ حالانکہ وجوب کا سبب موجود ہونے کی وجہ سے قبضہ سے پہلے بھی زکوۃ نکال دینا درست ہے، لیکن قبضہ تک مؤخرکرنے کی گنجائش ہے اور یہ وجوب سے پہلے زکوۃ نکالنے جیسا نہیں ہے۔ اگر آدمی کے ہاتھ میں کچھ نصاب ہو اور باقی قرض یا کھوئے ہوئے مال کی شکل میں ہو، تو جتنا اس کے پاس ہے اس کی زکوۃ ادا کرے۔ اسی طرح غیر مال دار کے ذمہ قرض، غصب کیے ہوئے مال اور جس مال کو کوئی لے کر مکر جائے، اس کی زکوۃ بھی، واپس مل جانے کے بعد ادا کی جائے گی۔ ایسا علی اور ابن عباس رضی اللہ عنھم سے مروی ہے۔ جب درمیان سال میں الگ سے کچھ مال حاصل ہو، تو اس پر سال گزرنے سے پہلے اس کی زکوۃ ادا نہیں کرنی ہے۔ البتہ چوپایوں کی افزائش اور تجارت کے مال کے منافع کا مسئلہ اس سے الگ ہے۔ کیوں کہ عمر رضی اللہ عنہ کا فرمان ہے: "بھیڑ بکری کے نوزائدہ بجوں کو نصاب پورا کرنے کے لیے شمار کر لو، لیکن انہیں ان کی جانب سے زکوۃ کے طور پر قبول نہ کرو۔"

اسے امام مالک نے روایت کیا ہے۔

اس سلسلے میں علی رضی اللہ عنہ کا ایک فرمان بھی موجود ہے اور ان دونوں کا صحابہ کے اندر کوئی مخالف دکھائی نہیں پڑتا۔

دوران سال دوسری جہت سے حاصل ہونے والے مال کو پہلے سے موجود مال کے ساتھ اس صورت میں ملا دیا جائے گا، جب وہ نصاب کو پہنچتا ہو اور اسی کى جنس سے یا اسی کے حکم میں ہو، جیسے سونا اور چاندی۔ لیکن اگر وہ نصاب کی جنس سے نہ ہو یا اس کے حکم میں نہ ہو، تو اس کا مستقل حکم ہوگا۔

 (باب: چوپایوں کی زکوۃ كا بيان)

زکوۃ صرفسائمہپر واجب ہے اورسائمہسے مراد وہ جانور ہیں، جو سال میں زیادہ تر چرتے ہیں۔ اگر ان کا مالک انہیں چارہ خرید کر کھلائے یا ان کے لیے کھانے کے چیزیں جمع کرکے رکھے، تو ان کی زکوۃ ادا نہیں کرنی ہے۔ ایسے چوپایوں کی تین قسمیں ہیں:

1- اونٹ : اونٹ جب تک پانچ نہ ہوں، ان میں زکوۃ نہیں ہے۔ پانچ ہوجانے پر ایک بکری، دس میں دوبکریاں، پندرہ میں تین بکریاں اور بیس میں چار بکریاں واجب ہیں۔ لیکن جب تعداد پچیس پہنچ جائے تو اس میں ایک سال کی اونٹنی دینی ہے۔ اگر بنت مخاض یعنی ایک سال کی اونٹنی نہ ہو، تو ابن لبون یعنی دوسال کا اونٹ کافی ہوگا۔ جب کہ 36 اونٹوں میں ایک بنت لبون یعنی دو سال کی اونٹنی، 46 میں حقہ یعنی تین سال کی اونٹنی، 61 میں جذعہ یعنی چار سال کی اونٹنی، 76 میں دوبنت لبون، 91 میں دوحقہ اور 121 میں تین بنت لبون واجب ہیں۔ اس کے بعد یہ عام قاعدہ لاگو ہوگا کہ ہر چالیس میں ایک بنت لبون اور ہر پچاس میں ایک حقہ واجب ہوگا۔ لیکن جب عدد 200 تک پہنچ جائے، تو دو اختیارات حاصل ہوتے ہیں؛ چاہے تو چار حقے دے اور چاہے تو پانچ بنت لبون نکالے۔

اگر بنت مخاض یعنی ایک سال کی اونٹنی نہ ہو، تو ابن لبون یعنی دوسال کا اونٹ کافی ہوگا۔ جب کہ 36 اونٹوں میں ایک بنت لبون یعنی دو سال کی اونٹنی، 46 میں حقہ یعنی تین سال کی اونٹنی، 61 میں جذعہ یعنی چار سال کی اونٹنی، 76 میں دوبنت لبون، 91 میں دوحقہ اور 121 میں تین بنت لبون واجب ہیں۔ اس کے بعد یہ عام قاعدہ لاگو ہوگا کہ ہر چالیس میں ایک بنت لبون اور ہر پچاس میں ایک حقہ واجب ہوگا۔ لیکن جب عدد 200 تک پہنچ جائے، تو دو اختیارات حاصل ہوتے ہیں؛ چاہے تو چار حقے دے اور چاہے تو پانچ بنت لبون نکالے۔

2- گائے: تیس سے کم گایوں میں زکوۃ واجب نہیں ہے، جب کہ تیس گایوں میں ایک تبیع یا تبیعہ یعنی ایک سال کا بچھڑا یا ایک سال کی بچھیا، 40 میں مسنہ یعنی دو سال کی بچھیا اور 60 میں ایک سال کے دو بچھڑے واجب ہوتے ہیں۔ پھر ہر تیس میں ایک سال کا بچھڑا اور ہر چالیس میں ایک دو سال کی بچھیا واجب ہے۔

3- بکری: 40 سے کم بکریوں میں زکوۃ واجب نہیں ہے، جب کہ 40 سے 120 میں ایک بکری اور 121سے 200 تک دو بکریاں واجب ہیں۔ اس کے بعد ایک بھی زیادہ ہوجائے تو 300 تک تین بکریاں واجب ہیں۔ اس کے بعد ہر سو میں ایک بکری واجب ہے۔ زکوۃ میں آنڈو، بوڑھی بکری، عیب دار بکری، بچے والی بکری، گابھن بکری، موٹی بکری اور چنے ہوئے مال کو نہیں لیا جائے گا۔ کیوں کہ اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ و سلم کا فرمان ہے: "لیکن تمہارے درمیانی مال سے لیں، کیونکہ اللہ نے تم سے ان کا بہترین مال نہیں مانگا ہے اور نہ تمہیں ان کا برا مال لینے کا حکم دیا ہے۔" امام ابو داود نے اسے روایت کیا ہے ۔ مشترکہ چوپایے ایک مال کے حکم میں آجاتے ہیں۔

بکریاں واجب ہیں۔ اس کے بعد ہر سو میں ایک بکری واجب ہے۔ زکوۃ میں آنڈو، بوڑھی بکری، عیب دار بکری، بچے والی بکری، گابھن بکری، موٹی بکری اور چنے ہوئے مال کو نہیں لیا جائے گا۔ کیوں کہ اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ و سلم کا فرمان ہے:

"لیکن تمہارے درمیانی مال سے لیں، کیونکہ اللہ نے تم سے ان کا بہترین مال نہیں مانگا ہے اور نہ تمہیں ان کا برا مال لینے کا حکم دیا ہے۔"

امام ابو داود نے اسے روایت کیا ہے ۔

مشترکہ چوپایے ایک مال کے حکم میں آجاتے ہیں۔

 ( باب : زمینی پیدوار کی زکوۃ كا بيان)

ہر وہ چیز ناپى جا سکے اور جس کا ذخیرہ کیا جا سکے خواہ اس کا تعلق روزہ مرہ کى غذا سے ہو یا نہ ہو، تو اسمیں دوشرطوں کے ساتھ زکوۃ واجب ہے۔ پہلی شرط نصاب کو پہنچنا ہے۔ اور وہ پانچ وسق ہے۔ ایک وسق ساٹھ صاع کا ہوتا ہے۔ معلوم رہے کہ ایک سال کے اندر پیدا ہونے والے پھلوں اور کھیتیوں کو نصاب پورا کرنے کے سلسلے میں آپس میں ملا دیا جائے گا۔ دوسری شرط یہ ہے کہ نصاب زکوۃ واجب ہونے کے وقت آدمی کی ملکیت میں رہے۔ یہی وجہ ہے کہ ان غلوں میں زکوۃ واجب نہیں ہے، جنہیں چننے والے کھیتوں سے چن کر جمع کرتے ہیں یا جو ہدیے میں ملتے ہیں یا کٹائی کی اجرت کے طور پر حاصل ہوتے ہیں۔ جو کھیتی بغیر مشقت کے (قدرتی یا چشموں کے پانی سے) سیراب ہو، اس کا دسواں حصہ نکالا جائے گا اور جو مشقت کے ساتھ سیراب ہو، اس کا بیسواں حصہ نکالا جائے گا۔ لیکن اگر نصف سیرابی مشقت سے اور نصف بغیر مشقت کے ہو، تو اس میں عشر کا تین چوتھائی نکالیں گے۔ پھر اگر مشقت اور غیرمشقت سے سیرابی میں تفاوت ہو، تو دیکھیں گے دونوں میں سے کس سے زیادہ فائدہ ہوا ہے۔ لیکن اگر سیرابی کی کیفیت کا پتہ نہ ہو، تو دسواں حصہ نکالا جائے گا۔ غلوں کی زکوۃ صاف ستھرا کرنے کے بعد اور پھلوں کی زکوۃ سکھانے کے بعد نکالی جائے گی۔ اپنی دی ہوئی زکوۃ اور صدقہ کیے ہوئے مال کو خریدنا درست نہیں ہے۔ البتہ اگر وراثت کے راستے سے اس کے پاس لوٹ آئے، تو جائز ہے۔ حاکم وقت غلوں کی زکوۃ لینے کے لیے اندازہ لگانے والے کوبھیجے گا، جس کے لیے ایک شخص کافی ہے۔ اندازہ لگانے والا کھجور کے مالک کے لیے اتنی مقدار میں تازہ کھجوریں چھوڑ دے گا، جو اس کے اور اس کے گھر والوں کے لیے کافی ہو۔ اگر ایسا نہ کرے، تو مال والے کو اسے لینے کا حق حاصل ہے۔ امام احمد نے رات میں کٹائی اور توڑائی کو مکروہ کہا ہے۔ عشر نکالے جانے والے غلے سے دوبارہ عشر نہیں لیں گے، اگرچہ وہ اس کے پاس سالوں سال پڑا رہے، جب تک کہ وہ تجارت کی غرض سے نہ رکھا گیا ہو۔ ورنہ پھر ہرسال اندازہ لگا کر سامان تجارت کی طرح اس کی زکوۃ لی جائے گی۔

پھر اگر مشقت اور غیرمشقت سے سیرابی میں تفاوت ہو، تو دیکھیں گے دونوں میں سے کس سے زیادہ فائدہ ہوا ہے۔ لیکن اگر سیرابی کی کیفیت کا پتہ نہ ہو، تو دسواں حصہ نکالا جائے گا۔ غلوں کی زکوۃ صاف ستھرا کرنے کے بعد اور پھلوں کی زکوۃ سکھانے کے بعد نکالی جائے گی۔ اپنی دی ہوئی زکوۃ اور صدقہ کیے ہوئے مال کو خریدنا درست نہیں ہے۔ البتہ اگر وراثت کے راستے سے اس کے پاس لوٹ آئے، تو جائز ہے۔

حاکم وقت غلوں کی زکوۃ لینے کے لیے اندازہ لگانے والے کوبھیجے گا، جس کے لیے ایک شخص کافی ہے۔ اندازہ لگانے والا کھجور کے مالک کے لیے اتنی مقدار میں تازہ کھجوریں چھوڑ دے گا، جو اس کے اور اس کے گھر والوں کے لیے کافی ہو۔ اگر ایسا نہ کرے، تو مال والے کو اسے لینے کا حق حاصل ہے۔ امام احمد نے رات میں کٹائی اور توڑائی کو مکروہ کہا ہے۔ عشر نکالے جانے والے غلے سے دوبارہ عشر نہیں لیں گے، اگرچہ وہ اس کے پاس سالوں سال پڑا رہے، جب تک کہ وہ تجارت کی غرض سے نہ رکھا گیا ہو۔ ورنہ پھر ہرسال اندازہ لگا کر سامان تجارت کی طرح اس کی زکوۃ لی جائے گی۔

 (باب: سونے چاندی کى زکوۃ كا بيان)

سونے کا نصاب بیس مثقال اور چاندی کا نصاب دو سو درہم ہے، اور دونوں میں چالیسواں حصہ نکالنا ہے۔ نصاب پورا کرنے کے لیے ان دونوں میں سے ایک کو دوسرے کے ساتھ ملایا جائے گا اور اسی طرح سامانوں کی قیمت کو بھی ان میں دونوں میں سے ہر ایک سے ملا دیا جائے گا۔ مباح زیور میں زکوۃ نہیں ہے۔ لیکن اگر اسے تجارت کی غرض سے تیار کیا گیا ہو تو، اس میں زکوۃ ہے۔ مرد کے لیے چاندی کی صرف انگوٹھی استعمال کرنا جائز ہے، جسے بائیں ہاتھ کی چھنگلیا میں پہنا جائے گا۔ امام احمد نے دائیں ہاتھ میں انگوٹھی پہننے والی روایت کو ضعیف قرار دیا ہے۔ مرد و عورت دونوں کے لیے ہی لوہے، پیتل اور تانبے کی انگوٹھی استعمال کرنا مکروہ ہے۔ اس پر نص موجود ہے۔تلوار کے اس حصے کو جو قبضے کے اوپر ہوتا ہے چاندی سے بنایا جاسکتا ہے اور تلوار کے قبضے کو چاندی سے مزین کرنا جائز ہے، کیونکہ صحابہ رضي الله عنہم نے چاندی سے مزین قبضوں کا استعمال کیا ہے۔ سونے اور چاندی کے وہ زیورات، جو عام طور پر عورتیں استعمال کرتی ہیں، عورتوں کے لیے ان کا استعمال جائز ہے۔ جب کہ لباس وغیرہ میں مرد کا عورت کی مشابہت اور عورت کا مرد کی مشابہت اختیار کرنا حرام ہے۔

مباح زیور میں زکوۃ نہیں ہے۔ لیکن اگر اسے تجارت کی غرض سے تیار کیا گیا ہو تو، اس میں زکوۃ ہے۔ مرد کے لیے چاندی کی صرف انگوٹھی استعمال کرنا جائز ہے، جسے بائیں ہاتھ کی چھنگلیا میں پہنا جائے گا۔ امام احمد نے دائیں ہاتھ میں انگوٹھی پہننے والی روایت کو ضعیف قرار دیا ہے۔

مرد و عورت دونوں کے لیے ہی لوہے، پیتل اور تانبے کی انگوٹھی استعمال کرنا مکروہ ہے۔ اس پر نص موجود ہے۔تلوار کے اس حصے کو جو قبضے کے اوپر ہوتا ہے چاندی سے بنایا جاسکتا ہے اور تلوار کے قبضے کو چاندی سے مزین کرنا جائز ہے، کیونکہ صحابہ رضي الله عنہم نے چاندی سے مزین قبضوں کا استعمال کیا ہے۔ سونے اور چاندی کے وہ زیورات، جو عام طور پر عورتیں استعمال کرتی ہیں، عورتوں کے لیے ان کا استعمال جائز ہے۔ جب کہ لباس وغیرہ میں مرد کا عورت کی مشابہت اور عورت کا مرد کی مشابہت اختیار کرنا حرام ہے۔

 (باب: سامانِ تجارت کی زکوۃ کا بیان)

سامانِ تجارت کی قیمت جب نصاب تک پہنچ جائے، تو ان کی زکوۃ واجب ہوگی۔ جب کہ جو چیز کرایے پر دینے کے لیے ہو، اس میں زکوۃ نہیں ہے، خواہ وہ زمین ہو یا جانور وغیرہ۔

 (باب: صدقۂ فطر کا بیان )

’’صدقۂ فطر‘‘ روزے دار کو لغو کاموں اور زبان سے تعلق رکھنے والی ناروا چیزوں سے پاک کرتا ہے۔ یہ ہر اس مسلمان پر فرض ہے، جس کے پاس اس کے اور اس کے گھر والوں کے لیے عید کے دن اور اس کی رات کے کھانے کے بقدر کھانے پینے کی چیز کے بعد مزید کھانے کی چیز ہو۔ آدمی اپنی اور اپنی کفالت میں موجود ہر مسلمان کی طرف سے ایک ایک صاع ادا کرے گا۔ البتہ مزدور کی طرف سے ادا کرنا ضروری نہیں ہے۔ اگر سب کے طرف سے نہ ادا کر پائے تو سب سے پہلے اپنى طرف سے ادا کرے پھر جو اس کے سب سے زیادہ قریبی ہوں بالترتیب ان کى طرف سے ادا کرے۔ جنین کى جانب سے صدقہ فطر بالاجماع واجب نہیں ہے۔ جو شخص کسی مسلمان کی رضاکارانہ طور پر رمضان مہینے میںکفالت کرے، اسے اس کا فطرہ بھی دینا ہوگا۔ فطرہ عید سے ایک یا دو دن پہلے ادا کیا جا سکتا ہے اور اسے عید الفطر کے دن سے مؤخر نہیں کیا جا سکتا۔ اگر کسی نے مؤخر کر دیا، تو گناہ گار ہوگا, لیکن اسے صدقہ فطر بہر حال نکالنا ہوگا۔ افضل عید کے دن نماز سے قبل دینا ہے۔ ایک صاع کھجور یا ایک صاع گیہوں یا ایک صاع کشمش، یا ایک صاع پنیر واجب ہے۔ اگر مذکورہ چیزیں نہ پائے، تو شہر کے کھانوں میں سے جو ان کے قائم مقام ہوں، ادا کرے۔ امام احمد نے بہتر اور صاف شفاف کھانے کی چیز دینے کو پسند کیا ہے اور اسے ابن سیرین سے نقل کیا ہے۔ ایک آدمی کا فطرہ ایک جماعت کو دیا جا سکتا ہے اور ایک جماعت کا فطرہ بھی ایک آدمی کو دیا جا سکتا ہے۔

افضل عید کے دن نماز سے قبل دینا ہے۔ ایک صاع کھجور یا ایک صاع گیہوں یا ایک صاع کشمش، یا ایک صاع پنیر واجب ہے۔ اگر مذکورہ چیزیں نہ پائے، تو شہر کے کھانوں میں سے جو ان کے قائم مقام ہوں، ادا کرے۔ امام احمد نے بہتر اور صاف شفاف کھانے کی چیز دینے کو پسند کیا ہے اور اسے ابن سیرین سے نقل کیا ہے۔ ایک آدمی کا فطرہ ایک جماعت کو دیا جا سکتا ہے اور ایک جماعت کا فطرہ بھی ایک آدمی کو دیا جا سکتا ہے۔

 (باب: زکوۃ نکالنے کا بیان)

زکوۃ کو اگر وجوب کے وقت ادا کردینا ممکن ہو، تو اس کی ادائیگی میں تاخیر کرنا جائز نہیں ہے۔ الا یہ کہ حاکم، یا مستحق حاضر نہ ہو۔ اسی طرح زکوۃ وصول کرنے والے کو اختیار حاصل ہے کہ وہ زکوۃ کو اس کے مالک کے پاس کسی معقول عذر جیسے قحط اور فاقہ وغیرہ کی وجہ سے چھوڑے رکھنا جائز ہے۔ اس معاملے میں امام احمد نے عمر رضی اللہ عنہ کے عمل سے استدلال کیا ہے۔

 (باب: زکوۃ کے مستحقین کا بیان)

مستحقینِ زکوٰۃ آٹھ طرح کے لوگ ہیں اور ان کے علاوہ کسی اور کو زکوۃ دینا جائز نہیں ہے۔ اس آیت کى وجہ سے جو اس بابت قرآن میں وارد ہے:

پہلی اور دوسری قسم: فقرا اور مساکین۔ اگر آدمی کے پاس بقدرِ ضرورت چیز موجود ہو، تو سوال کرنا جائز نہیں ہے۔ البتہ پینے کے لیے پانی مانگنے، کسی سامان کو بلا معاوضہ استعمال کے لیے مانگنے اور قرض مانگنے میں کوئی حرج نہیں ہے۔ بھوکے کو کھانا کھلانا، ننگے کو کپڑا پہنانا اور قیدی کو آزاد کرانا واجب ہے۔

تیسری قسم: زکوۃ کے لیے کام کرنے والے۔ جیسے زکوۃ وصول کرنے والے، اسے لکھنے والے، شمار کرنے والے اور تولنے والے۔ حاکم کا قریبی رشتے داروں کو ان کاموں پر لگانا درست نہیں ہے۔ اگرحاکم چاہے، تو کام کرنے والے معاملہ طے کیے بنا بھیج سکتا ہے اور اگر چاہے تو اگر چاہے تو متعینہ حصہ طے کرکے بھیج سکتا ہے۔

چوتھی قسم: ایسے لوگ جن کے دلوں کو اسلام کی طرف مائل کرنا مقصود ہو۔ ان سے مراد ایسے کافر سردار ہیں، جن کی بات ان کے قبیلے والے سنتے ہیں، یا ایسے مسلم سردار مراد ہیں، جن کو دینے سے ان کے ایمان کی مضبوطی یا ان جیسے اور لوگوں کے اسلام کی تقویت کىامید ہو یا ان کی خیر خواہی مقصود ہو یا ان کی برائی سے بچنے کی امید ہو۔ کسی مسلمان کے لیے یہ حلال نہیں ہے کہ وہ اپنے شر سے محفوظ رکھنے کے لیے بطور رشوت کچھ لے۔۔

پانچویں قسم: غلام آزاد کرنا۔ اس سے مراد وہ غلام ہیں، جنھوں نے اپنے آقاؤں سے ایک متعینہ رقم کے بدلے آزادی حاصل کر لینے کا عہد لے لیا ہو۔ زکوۃ کے مال کو بطور فدیہ دے کر ایسے مسلم قیدیوں کو چھڑایا بھی جاسکتا ہے، جو کافروں کے ہاتھ لگ گئے ہوں، کیونکہ اسے بھی گردن آزاد کرنا کہا جاتا ہے۔ اسی طرح زکوۃ کے ذریعہ غلام خرید کر اسے آزاد کیا جاسکتا ہے۔ کیوں کہ اللہ تعالی کا قول: {وفي الرقاب} (اور گردن آزاد کرنے میں) عام ہے۔

چھٹی قسم: قرض دار۔ ان کی دوقسمیں ہیں :اول- جو آپسی تنازع کو ختم کرنے اور کسی فتنے کو ٹھنڈا کرنے کے لیے تاوان بھرے۔ 2- جس نے اپنے لیے کسی مباج کام کی خاطر قرض لیا ہو۔

ساتویں قسم: اللہ کے راستے میں۔ اس سے مراد غازی ہیں۔ انہیں غزوہ کی وجہ سے دیا جائے، تاکہ ان کی ضروریات پوری ہوں اگرچہ وہ مال دار ہی کیوں نہ ہوں۔ اسی طرح 'فی سبیل اللہ' میں حج بھی شامل ہے۔

آٹھویں قسم: مسافر۔ اس سے مراد وہ مسافر ہے، جس کا زاد راہ سفر کے درمیان میں ختم ہو چکا ہو اور اس کے پاس وطن واپسی کے لیے کچھ نہ ہو۔ ایسے آدمی کو زکوۃ کے مال میں سے اتنا دیا جائے گا کہ وہ وطن واپس ہو جائے، اگر چہ وہ اپنے وطن میں مال دار ہی کیوں نہ ہو۔ اگر وہ غریب ہونے کا دعوی کرے اور کسی کو یہ معلوم نہ ہو کہ وہ مال دار ہے، تو اس کی بات مانی جائے گي۔ البتہ اگر وہ توانا و طاقت ور ہو اور یہ معلوم ہوکہ یہ کماتا بھی ہے، تو اُسے دینا جائز نہ ہوگا۔ لیکن اگر کمائی کے بارے میں معلوم نہ ہو، تو اسے یہ بتا دینے کے بعد کہ اس مال میں کسی مال دار، کمائى کى سکت رکھنے والے طاقت ور کا حصہ نہیں ہے، دے دیا جائے گا۔ اگر اجنبی زیادہ حاجت مند ہو تو قریبی کو نہیں دیا جائے گا اور غیر قریبی کو منع کر دیا جائے گا۔ زکوۃ کا مال چن کر رشتے دار کو نہیں دیا جا سکتا، اسے مذمت سے بچاؤ کا ذریعہ نہی بنایا جا سکتا، اس کے ذریعے کسی کی خدمت نہیں لی جا سکتی اور اس کے ذریعے اپنے مال کی حفاظت نہیں کی جا سکتی۔ نفلی صدقہ ہر وقت مسنون ہے اور اسے چھپا کر دینا افضل ہے۔ اسی طرح صحت کی حالت میں، بہ طیب خاطر اور رمضان میں صدقہ کرنا افضل ہے نیز حاجت کے اوقات میں دینا افضل ہے۔ اللہ تعالی کے اس فرمان کی وجہ سے: {بھوک والے دن (کھانا کھلانا)} [سورہ البلد: 14] کسی رشتے دار کو صدقہ کرنے سے وہ صدقہ بھی ہے اور صلہ رحمی بھی۔ خصوصاً جب دونوں کے درمیان عداوت ہو۔ نبی صلى الله عليه وسلم کے اس فرمان کی وجہ سے : "اس کے ساتھ رشتہ جوڑو، جو تمہارے ساتھ رشتہ توڑے۔" پھر پڑوسی کا حق ہے۔ اللہ تعالی کے اس فرمان کی وجہ سے : {اور قرابت دار ہمسایہ سے اور اجنبی ہمسایہ سے ) سلوک واحسان کرو۔} [سورہ النساء: 36]۔ اسی طرح جو سخت ضرورت مند ہو، اسے بھی دیا جائے۔ اللہ تعالی کے اس فرمان کی وجہ سے : {یا خاک سار مسکین کو۔} [سورہ البلد: 14]۔ اس چیز کو صدقہ کے طور پر نہ دے، جس کی وجہ سے خود اسے، اسے قرض دینے والے کو یا اس کے زیر کفالت لوگوں کو نقصان پہنچے۔ جو شخص اپنے پورے مال کو بطور صدقہ دینا چاہے اور وہ اپنی کمائی سے اپنے اہل وعیال کی کفالت کرسکتا ہو اور اللہ پر مکمل بھروسہ بھی رکھتا ہو، تو اس کے لیے پورا مال بطور صدقہ دینا مستحب ہے۔ اس کی دلیل ابوبکر صدیق رضی اللہ عنہ کا عمل ہے۔ لیکن اگر ایسا نہ ہو، تو جائز نہیں ہے اور اسے اپنا پورا مال صدقہ کرنے سے روک دیا جائے گا۔ اسی طرح جوشخص تنگ حالی پر صبر نہ کرسکے، اس کے لیے مکروہ ہے کہ وہ اپنے نفس کے تئیں حاجات کى مکمل پاسداری میں کوئی کمی کرے۔ صدقہ دے کر احسان جتلانا حرام ہے اور یہ کبیرہ گناہ ہے۔ اس کی وجہ سے صدقہ کا ثواب جاتا رہتا ہے۔ جوشخص صدقہ دینے کے لیے کوئی چیز نکالے پھرکوئی عارضہ لاحق ہوجائے، تو اس کے لیے اس صدقہ کو ادا کردینا مستحب ہے۔ عمرو بن العاص رضی اللہ عنہ جب کسی سائل کے لیے غلہ نکالتے اور اسے نہ پاتے، تو اسے دوسرے کو دے دیتے تھے۔ آدمی بہتر چیز صدقہ کرے اور جان بوجھ کر بری چیز صدقہ نہ کرے۔ تنگ دست کا صدقہ کرنا سب سے افضل صدقہ ہے اور اس کے معارض یہ حدیث نہیں ہے: "بہتر صدقہ وہ ہے، جو تونگری کے بعد ہو۔" کیونکہ تنِگ دست کے صدقہ سے مراد وہ صدقہ ہے جو وہ اپنے اہل وعیال پرخرچ کے بعد بچے ہوئے مال میں سے صدقہ کرنا ہے۔

{بھوک والے دن (کھانا کھلانا)} [سورہ البلد: 14]

کسی رشتے دار کو صدقہ کرنے سے وہ صدقہ بھی ہے اور صلہ رحمی بھی۔ خصوصاً جب دونوں کے درمیان عداوت ہو۔ نبی صلى الله عليه وسلم کے اس فرمان کی وجہ سے :

"اس کے ساتھ رشتہ جوڑو، جو تمہارے ساتھ رشتہ توڑے۔"

پھر پڑوسی کا حق ہے۔ اللہ تعالی کے اس فرمان کی وجہ سے :

{اور قرابت دار ہمسایہ سے اور اجنبی ہمسایہ سے ) سلوک واحسان کرو۔} [سورہ النساء: 36]۔

اسی طرح جو سخت ضرورت مند ہو، اسے بھی دیا جائے۔ اللہ تعالی کے اس فرمان کی وجہ سے :

{یا خاک سار مسکین کو۔} [سورہ البلد: 14]۔

اس چیز کو صدقہ کے طور پر نہ دے، جس کی وجہ سے خود اسے، اسے قرض دینے والے کو یا اس کے زیر کفالت لوگوں کو نقصان پہنچے۔ جو شخص اپنے پورے مال کو بطور صدقہ دینا چاہے اور وہ اپنی کمائی سے اپنے اہل وعیال کی کفالت کرسکتا ہو اور اللہ پر مکمل بھروسہ بھی رکھتا ہو، تو اس کے لیے پورا مال بطور صدقہ دینا مستحب ہے۔ اس کی دلیل ابوبکر صدیق رضی اللہ عنہ کا عمل ہے۔ لیکن اگر ایسا نہ ہو، تو جائز نہیں ہے اور اسے اپنا پورا مال صدقہ کرنے سے روک دیا جائے گا۔ اسی طرح جوشخص تنگ حالی پر صبر نہ کرسکے، اس کے لیے مکروہ ہے کہ وہ اپنے نفس کے تئیں حاجات کى مکمل پاسداری میں کوئی کمی کرے۔ صدقہ دے کر احسان جتلانا حرام ہے اور یہ کبیرہ گناہ ہے۔ اس کی وجہ سے صدقہ کا ثواب جاتا رہتا ہے۔

جوشخص صدقہ دینے کے لیے کوئی چیز نکالے پھرکوئی عارضہ لاحق ہوجائے، تو اس کے لیے اس صدقہ کو ادا کردینا مستحب ہے۔ عمرو بن العاص رضی اللہ عنہ جب کسی سائل کے لیے غلہ نکالتے اور اسے نہ پاتے، تو اسے دوسرے کو دے دیتے تھے۔ آدمی بہتر چیز صدقہ کرے اور جان بوجھ کر بری چیز صدقہ نہ کرے۔ تنگ دست کا صدقہ کرنا سب سے افضل صدقہ ہے اور اس کے معارض یہ حدیث نہیں ہے:

"بہتر صدقہ وہ ہے، جو تونگری کے بعد ہو۔"

کیونکہ تنِگ دست کے صدقہ سے مراد وہ صدقہ ہے جو وہ اپنے اہل وعیال پرخرچ کے بعد بچے ہوئے مال میں سے صدقہ کرنا ہے۔

(کتاب: صیام کے بارے میں)

رمضان کا روزہ اسلام کے ارکان میں سے ایک رکن ہے، یہ دو ہجری میں فرض ہوا۔ رسول اللہ صلى الله عليه وسلم نےنو سال رمضان کے روزے رکھے۔ شعبان کی تیسویں رات کو چاند دیکھنے کی کوشش کرنا مستحب ہے۔ رمضان کا چاند دیکھنے سے رمضان کا روزہ واجب ہوجاتا ہے۔ اگر موسم ٹھیک ٹھاک ہونے کے باوجود چاند نہ دیکھ سکے، تو تیس شعبان کی گنتی پوری کریں اور اس کے بعد متفقہ طور پر روزہ رکھیں۔ چاند نظر آنے پرتین بار تکبیر کہے اور یہ دعا پڑھے: ’’اللهم أهله علينا بالأمن والإيمان والسلامة والإسلام والتوفيق لما تحب وترضاه، ربي وربك الله، هلال خير ورشد۔‘‘ (اے اللہ! تو اسے ہم پر طلوع کر امن، ایمان، سلامتی اور اسلام کے ساتھ اور اس چیز کی توفیق کے ساتھ جس سے تو محبت کرتا اور جسے پسند کرتا ہے۔ اےخیر و بھلائی والے چاند! میرا اور تیرا رب اللہ ہی ہے۔) رؤیتِ ہلال کے سلسلے میں ایک عادل شخص کی شہادت مقبول ہے۔ اسے امام ترمذی نے اکثر علما سے نقل کیا ہے۔ اگر کسی نے اکیلے چاند دیکھا اور اس کی شہادت رد کردی گئی، تو اسے لازمی طور پر روزہ رکھنا ہوگا۔ اور ہاں! وہ لوگوں کے ساتھ ہی روزہ توڑے گا۔ لیکن جب کوئی تنہا شوال کا چاند دیکھے، توافطار نہ کرے۔

’’اللهم أهله علينا بالأمن والإيمان والسلامة والإسلام والتوفيق لما تحب وترضاه، ربي وربك الله، هلال خير ورشد۔‘‘ (اے اللہ! تو اسے ہم پر طلوع کر امن، ایمان، سلامتی اور اسلام کے ساتھ اور اس چیز کی توفیق کے ساتھ جس سے تو محبت کرتا اور جسے پسند کرتا ہے۔ اےخیر و بھلائی والے چاند! میرا اور تیرا رب اللہ ہی ہے۔)

رؤیتِ ہلال کے سلسلے میں ایک عادل شخص کی شہادت مقبول ہے۔ اسے امام ترمذی نے اکثر علما سے نقل کیا ہے۔ اگر کسی نے اکیلے چاند دیکھا اور اس کی شہادت رد کردی گئی، تو اسے لازمی طور پر روزہ رکھنا ہوگا۔ اور ہاں! وہ لوگوں کے ساتھ ہی روزہ توڑے گا۔ لیکن جب کوئی تنہا شوال کا چاند دیکھے، توافطار نہ کرے۔

مسافر جب اپنی بستی کے گھروں سے آگے بڑھ جائے، تو روزہ توڑ سکتا ہے، لیکن اس کے لیے افضل روزہ رکھنا ہی ہے، تاکہ بیش تر علما کے اختلاف سے بچا جا سکے۔ حاملہ اور دودھ پلانے والی عورتیں اگر خود اپنے یا اپنے بچوں کے بارے میں ڈر محسوس کریں، تو ان کے لیے روزہ نہ رکھنے کی چھوٹ ہے۔ لیکن اگر صرف اپنے بچوں کے بارے میں ڈر ہو، تو روزانہ ایک مسکین کو کھانا کھلائیں۔ اگر مریض کو ضرر کا اندیشہ ہو تو اس کا روزہ رکھنا مکروہ ہے۔ خود قرآن کی آیت میں اس کا ذکر ہے۔ جو شخص عمر زیادہ ہونے یا ایسی بیماری میں مبتلا ہونے کی وجہ سے روزہ رکھنے سے عاجز ہو، جس سے شفایابی کی امید نہ ہو، وہ روزہ نہ رکھے اور اس کے بدلے میں روزانہ ایک مسکین کو کھانا کھلائے۔ اگرحلق میں مکھی یاغبار چلا جائے یا بنا قصد کے حلق میں پانی داخل ہو جائے، تو روزہ نہیں ٹوٹے گا۔

فرض روزے کے درست ہونے کے لیے رات ہی میں روزے کی نیت کرنا ضروری ہے۔ البتہ نفل روزہ دن میں زوال سے پہلے اور زوال کے بعد نیت کرلینے سے درست ہوگا۔

 (باب: روزہ توڑ دینے والی چیزوں کا بیان)

جس نے کھا لیایا پی لیا، یا ناک میں تیل وغیرہ ڈالا جو اس کے حلق میں پہنچ گیا، یا اپنے جسم میں انجکشن کے ذریعہ دوا داخل کیا، یا جان بوجھ کر قے کیا یا پچھنا لگایا یا لگوایا تو اس کاروزہ فاسد ہوجائے گا۔ البتہ ان میں سے کسی بھی کام کو بھول کر کرنے والے کا روزہ نہیں ٹوٹے گا۔ اگر طلوع فجر کے بارے میں شک ہو، تو کھا پی سکتا ہے، اللہ تعالی کے اس فرمان کی وجہ سے: {تم کھاتے پیتے رہو، یہاں تک کہ صبح کا سفید دھاگہ سیاہ دھاگے سے ظاہر ہوجائے۔} [سورہ البقرۃ: 187] جس نے ہمبستری کرکے روزہ توڑا، اس پر قضا کے ساتھ ظہار کا کفارہ بھی واجب ہے۔ جس کی شہوت بھڑک اٹھتی ہو، اس کے لیے بوسہ لینا مکروہ ہے۔ جھوٹ، غیبت، گالی گلوج اور چغلی سے بچنا ویسے تو ہر وقت واجب ہے، لیکن روزہ دار کے لیے اس کی مزید تاکید ہے۔ روزے دار کے لیے ہر ناپسندیدہ چیز سے بچنا مسنون ہے۔ اگر کوئی اسے گالی دے ،تو کہے کہ میں روزہ سے ہوں۔ جب سورج کاغروب ہونا ثابت ہوجائے، تو افطار میں جلدی کرنا مسنون ہے اور غالب گمان (کہ سورج ڈوب چکا ہے ) کی بنیاد پر افطار کرنے کی اجازت ہے۔ جب تک طلوع فجر کا خدشہ نہ ہو، سحری میں تاخیر کرنا مسنون ہے۔ سحری کی فضیلت تھوڑا بہت کھانے پینے سے بھی حاصل ہوجائے گی۔ تر کھجور سے افطار کرے، اگر دستیاب نہ ہو، تو خشک کھجور سے کرے۔ اگر یہ بھی میسر نہ ہو، تو پانی سے افطار کرے اور افطار کے وقت دعا کرے۔ جس نے کسی روزہ دارکو افطار کروایا اسے خود اس کے برابر اجر ملے گا۔ رمضان میں کثرت سے قرآن کی تلاوت، ذکر اور صدقہ کرنا مستحب ہے۔ سب سے افضل نفل روزہ یہ ہے کہ آدمی ایک دن روزہ رکھے اور ایک دن افطار کرے۔ ہر مہینہ تین دن روزہ رکھنا سنت ہے، جب کہ افضل یہ ہے کہ یہ تین روزے ایام بیض (مہینے کی تیرھویں، چودھویں اور پندرھویں تاریخوں) میں رکھے جائیں۔ جمعرات اور دو شنبہ کے روزے مسنون ہیں۔ اسی طرح شوال کے چھ روزے بھی مسنون ہیں، اگرچہ متفرق طور پر ہی کیوں نہ ہوں۔ نیز ذی الحجہ کے ابتدائی نو دنوں کے روزے رکہنا بھی مسنون ہے اور ان میں سے نویں ذی الحجہ یعنی عرفہ کے دن کے روزہ کى سب سے زیادہ تاکید ہے۔ محرم مہینے میں بھی روزہ رکھنا مسنون ہے، جب کہ اس مہینہ کا سب سے افضل روزہ اس مہینے کی نویں اور دسویں تاریخوں کا روزہ ہے۔ سنت یہ ہے کہ دونوں دن روزہ رکھا جائے۔ عاشورا کے دن میں روزہ کے علاوہ جتنے بھی اعمال ذکر کیے جاتے ہیں، ان کی کوئی اصل نہیں ہے، بلکہ وہ سارے کے سارے بدعت ہیں۔ صرف رجب کے مہینے کو روزہ کے لیے خاص کرنا بدعت ہے۔ یاد رہے کہ رجب کے مہینے میں روزہ اور نمازکی فضیلت سے متعلق ہرحدیث من گھڑت ہے۔ جمعہ کے دن خصوصی طور پر روزہ رکھنا مکروہ ہے۔ اسی طرح رمضان سے ایک یا دو دن پہلے روزہ رکھنا مکروہ ہے۔ رات میں کچھ کھائے بنا مسلسل روزہ رکھنا بھی مکروہ ہے۔ عیدین اور ایام تشریق میں روزہ رکھنا اور بلا ناغہ ہمیشہ روزہ رکھنا بھی حرام ہے۔ شبِ قدر بڑی عظیم رات ہے اور اس میں دعا قبول ہونے کی امید رہتی ہے۔ اللہ تعالی کے اس فرمان کی وجہ سے : {شبِ قدر ہزار مہینے سے بہتر ہے ۔} [سورہ القدر: 3] مفسرین کہتے ہیں: اس رات کو قیام کرنا اور نیک عمل کرنا ایسے ہزار ماہ کے قیام سے افضل ہے، جو شب قدر سے خالی ہوں۔ اس رات کو لیلۃ القدر اس لیے کہا جاتا ہے، کیونکہ سال بھر کے اندر انجام پذیر ہونے والی چیزوں کا فیصلہ اسی رات کو کیا جاتا ہے۔ یہ رات آخری عشرہ اور اس کی طاق راتوں کے ساتھ خاص ہے، جب کہ ستائسویں رات زیادہ اہم ہے۔ اس رات کو وہ دعا کی جائے، جو نبی صلى الله عليہ وسلم نے عائشہ رضی اللہ عنہا کو سکھلائی تھی۔ دعا یہ ہے: (اے اللہ! تو بڑا معاف کرنے والا اور مہربان ہے۔ اس لیے مجھے معاف کر دے۔) اللہ ہی سب سے زیادہ جانتا ہے اور درود و سلام ہو محمد ، آپ کے آل واولاد اور تمام صحابہ پر۔

{تم کھاتے پیتے رہو، یہاں تک کہ صبح کا سفید دھاگہ سیاہ دھاگے سے ظاہر ہوجائے۔} [سورہ البقرۃ: 187]

جس نے ہمبستری کرکے روزہ توڑا، اس پر قضا کے ساتھ ظہار کا کفارہ بھی واجب ہے۔ جس کی شہوت بھڑک اٹھتی ہو، اس کے لیے بوسہ لینا مکروہ ہے۔ جھوٹ، غیبت، گالی گلوج اور چغلی سے بچنا ویسے تو ہر وقت واجب ہے، لیکن روزہ دار کے لیے اس کی مزید تاکید ہے۔ روزے دار کے لیے ہر ناپسندیدہ چیز سے بچنا مسنون ہے۔ اگر کوئی اسے گالی دے ،تو کہے کہ میں روزہ سے ہوں۔

جب سورج کاغروب ہونا ثابت ہوجائے، تو افطار میں جلدی کرنا مسنون ہے اور غالب گمان (کہ سورج ڈوب چکا ہے ) کی بنیاد پر افطار کرنے کی اجازت ہے۔ جب تک طلوع فجر کا خدشہ نہ ہو، سحری میں تاخیر کرنا مسنون ہے۔ سحری کی فضیلت تھوڑا بہت کھانے پینے سے بھی حاصل ہوجائے گی۔ تر کھجور سے افطار کرے، اگر دستیاب نہ ہو، تو خشک کھجور سے کرے۔ اگر یہ بھی میسر نہ ہو، تو پانی سے افطار کرے اور افطار کے وقت دعا کرے۔ جس نے کسی روزہ دارکو افطار کروایا اسے خود اس کے برابر اجر ملے گا۔

رمضان میں کثرت سے قرآن کی تلاوت، ذکر اور صدقہ کرنا مستحب ہے۔ سب سے افضل نفل روزہ یہ ہے کہ آدمی ایک دن روزہ رکھے اور ایک دن افطار کرے۔ ہر مہینہ تین دن روزہ رکھنا سنت ہے، جب کہ افضل یہ ہے کہ یہ تین روزے ایام بیض (مہینے کی تیرھویں، چودھویں اور پندرھویں تاریخوں) میں رکھے جائیں۔ جمعرات اور دو شنبہ کے روزے مسنون ہیں۔ اسی طرح شوال کے چھ روزے بھی مسنون ہیں، اگرچہ متفرق طور پر ہی کیوں نہ ہوں۔ نیز ذی الحجہ کے ابتدائی نو دنوں کے روزے رکہنا بھی مسنون ہے اور ان میں سے نویں ذی الحجہ یعنی عرفہ کے دن کے روزہ کى سب سے زیادہ تاکید ہے۔

محرم مہینے میں بھی روزہ رکھنا مسنون ہے، جب کہ اس مہینہ کا سب سے افضل روزہ اس مہینے کی نویں اور دسویں تاریخوں کا روزہ ہے۔ سنت یہ ہے کہ دونوں دن روزہ رکھا جائے۔ عاشورا کے دن میں روزہ کے علاوہ جتنے بھی اعمال ذکر کیے جاتے ہیں، ان کی کوئی اصل نہیں ہے، بلکہ وہ سارے کے سارے بدعت ہیں۔ صرف رجب کے مہینے کو روزہ کے لیے خاص کرنا بدعت ہے۔ یاد رہے کہ رجب کے مہینے میں روزہ اور نمازکی فضیلت سے متعلق ہرحدیث من گھڑت ہے۔

جمعہ کے دن خصوصی طور پر روزہ رکھنا مکروہ ہے۔ اسی طرح رمضان سے ایک یا دو دن پہلے روزہ رکھنا مکروہ ہے۔ رات میں کچھ کھائے بنا مسلسل روزہ رکھنا بھی مکروہ ہے۔ عیدین اور ایام تشریق میں روزہ رکھنا اور بلا ناغہ ہمیشہ روزہ رکھنا بھی حرام ہے۔ شبِ قدر بڑی عظیم رات ہے اور اس میں دعا قبول ہونے کی امید رہتی ہے۔ اللہ تعالی کے اس فرمان کی وجہ سے :

{شبِ قدر ہزار مہینے سے بہتر ہے ۔} [سورہ القدر: 3]

مفسرین کہتے ہیں: اس رات کو قیام کرنا اور نیک عمل کرنا ایسے ہزار ماہ کے قیام سے افضل ہے، جو شب قدر سے خالی ہوں۔ اس رات کو لیلۃ القدر اس لیے کہا جاتا ہے، کیونکہ سال بھر کے اندر انجام پذیر ہونے والی چیزوں کا فیصلہ اسی رات کو کیا جاتا ہے۔ یہ رات آخری عشرہ اور اس کی طاق راتوں کے ساتھ خاص ہے، جب کہ ستائسویں رات زیادہ اہم ہے۔ اس رات کو وہ دعا کی جائے، جو نبی صلى الله عليہ وسلم نے عائشہ رضی اللہ عنہا کو سکھلائی تھی۔ دعا یہ ہے:

(اے اللہ! تو بڑا معاف کرنے والا اور مہربان ہے۔ اس لیے مجھے معاف کر دے۔)

اللہ ہی سب سے زیادہ جانتا ہے اور درود و سلام ہو محمد ، آپ کے آل واولاد اور تمام صحابہ پر۔

 (نماز کے احکام)

تالیف شیخ الاسلام محمد بن عبد الوہّاب رحمہ اللہ

بسم اللہ الرّحمن الرّحیم

نماز کی نو شرطیں ہیں : (1) مسلمان ہونا، (2) عقل مند ہونا، (3) بھلے برے کی تمیز ہونا، (4) طہارت(5) ستر عورہ، (6) نجاست سے بچنا، (7) وقت کے داخل ہونے کا علم ہونا، (8) قبلہ رو ہونا، (9) اورنیت کرنا۔ (نماز کے چودہ ارکان ہیں) (1) طاقت ہونے کی صورت میں کھڑے ہونا، (2) تکبیرتحریمہ کہنا، (3) سورہ فاتحہ پڑھنا، (4) رکوع کرنا، (5) رکوع سے اٹھنا، (6) اعتدال، (7) سجدہ کرنا، (8) سجدے سے اٹھنا، (9) دونوں سجدوں کے درمیان بیٹھنا، (10) تمام ارکان کو اطمینان کے ساتھ ادا کرنا، (11)ترتیب کا خیال رکھنا، (12) آخری تشہد، (13) آخری تشہد کے لیے بیٹھنا، (14) اور پہلا سلام پھیرنا۔ (نمازباطل کرنےوالی چیزیں آٹھ ہیں) (1) جان بوجھ کربات کرنا، (2) ہنسنا، (3) کھانا، (4) پینا، (5) شرم گاہ کا کھل جانا، (6) قبلہ کی طرف سے پھر جانا، (7) زیادہ لغو کام کرنا (8) اور طہارت کا ختم ہو جانا۔ (نماز کے واجبات آٹھ ہیں: ) (1) تکبیرتحریمہ کے علاوہ دیگر تکبیریں، (2) امام اور منفرد کا 'سمع الله لمن حمدہ' کہنا، (3) 'ربنا ولك الحمد' کہنا، (4) رکوع کی تسبیح، (5) سجدے کی تسبیح، (6) دونوں سجدوں کے درمیان 'رب اغفر لي' کہنا۔ یاد ہے کہ صرف ایک بار کہنا ہی واجب ہے۔ (7) تشہد اول، کیونکہ آپ نے اس پر ہمیشہ عمل کیا ہے، اس کا حکم دیا ہے اور اسے بھول جانے کی صورت میں سجدۂ سہو کیا ہے۔ (8) تشہد اول کے لیے بیٹھنا۔ (وضوکے فرائض چھ ہیں) (1) چہرا دھونا، (2) کہنیوں سمیت دونوں ہاتھوں کو دھونا، (3) پورے سرکا مسح کرنا، (4) ٹخنوں سمیت دونوں پیروں کو دھونا، (5) ترتیب کا خیال رکھنا اور (6) ان سارے کاموں کو لگاتار کرنا۔ (وضوکی پانچ شرطیں ہیں) (1) پانی کا پاک ہونا، (2) آدمی کا مسلمان اور بھلے برے کی تمیز رکھنے والا ہونا، (3) کسی رکاوٹ کا نہ ہونا، (4) چمڑی تک پانی کا پہنچنا (5) اور دائمی حدث والے شخص کے لیے وقت کا داخل ہونا۔ (وضوتوڑنے والی چیزیں آٹھ ہیں) (1) آگے یا پیچھے کی شرم گاہ سے کسی چیزکا نکلنا، (2) بدن کے دوسرے مقام سے بڑی مقدار میں کچھ نکلنا، (3) نیند یا اس کے علاوہ کسی وجہ سے عقل کا زائل ہونا، (4) شہوت کے ساتھ عورت کو چھونا، (5) آدمی کی اگلی یا پچھلی شرم گاہ کوچھونا، (6) میت کو غسل دینا، (7) اونٹ کا گوشت کھانا، (8) اور اسلام سے پھرجانا۔ اللہ اس سے ہماری حفاظت فرمائے۔ والله أعلم۔

(1) مسلمان ہونا، (2) عقل مند ہونا، (3) بھلے برے کی تمیز ہونا، (4) طہارت(5) ستر عورہ، (6) نجاست سے بچنا، (7) وقت کے داخل ہونے کا علم ہونا، (8) قبلہ رو ہونا، (9) اورنیت کرنا۔

(نماز کے چودہ ارکان ہیں)

(1) طاقت ہونے کی صورت میں کھڑے ہونا، (2) تکبیرتحریمہ کہنا، (3) سورہ فاتحہ پڑھنا، (4) رکوع کرنا، (5) رکوع سے اٹھنا، (6) اعتدال، (7) سجدہ کرنا، (8) سجدے سے اٹھنا، (9) دونوں سجدوں کے درمیان بیٹھنا، (10) تمام ارکان کو اطمینان کے ساتھ ادا کرنا، (11)ترتیب کا خیال رکھنا، (12) آخری تشہد، (13) آخری تشہد کے لیے بیٹھنا، (14) اور پہلا سلام پھیرنا۔

(نمازباطل کرنےوالی چیزیں آٹھ ہیں)

(1) جان بوجھ کربات کرنا، (2) ہنسنا، (3) کھانا، (4) پینا، (5) شرم گاہ کا کھل جانا، (6) قبلہ کی طرف سے پھر جانا، (7) زیادہ لغو کام کرنا (8) اور طہارت کا ختم ہو جانا۔

(نماز کے واجبات آٹھ ہیں: )

(1) تکبیرتحریمہ کے علاوہ دیگر تکبیریں، (2) امام اور منفرد کا 'سمع الله لمن حمدہ' کہنا، (3) 'ربنا ولك الحمد' کہنا، (4) رکوع کی تسبیح، (5) سجدے کی تسبیح، (6) دونوں سجدوں کے درمیان 'رب اغفر لي' کہنا۔ یاد ہے کہ صرف ایک بار کہنا ہی واجب ہے۔ (7) تشہد اول، کیونکہ آپ نے اس پر ہمیشہ عمل کیا ہے، اس کا حکم دیا ہے اور اسے بھول جانے کی صورت میں سجدۂ سہو کیا ہے۔ (8) تشہد اول کے لیے بیٹھنا۔

(وضوکے فرائض چھ ہیں)

(1) چہرا دھونا، (2) کہنیوں سمیت دونوں ہاتھوں کو دھونا، (3) پورے سرکا مسح کرنا، (4) ٹخنوں سمیت دونوں پیروں کو دھونا، (5) ترتیب کا خیال رکھنا اور (6) ان سارے کاموں کو لگاتار کرنا۔

(وضوکی پانچ شرطیں ہیں)

(1) پانی کا پاک ہونا، (2) آدمی کا مسلمان اور بھلے برے کی تمیز رکھنے والا ہونا، (3) کسی رکاوٹ کا نہ ہونا، (4) چمڑی تک پانی کا پہنچنا (5) اور دائمی حدث والے شخص کے لیے وقت کا داخل ہونا۔

(وضوتوڑنے والی چیزیں آٹھ ہیں)

(1) آگے یا پیچھے کی شرم گاہ سے کسی چیزکا نکلنا، (2) بدن کے دوسرے مقام سے بڑی مقدار میں کچھ نکلنا، (3) نیند یا اس کے علاوہ کسی وجہ سے عقل کا زائل ہونا، (4) شہوت کے ساتھ عورت کو چھونا، (5) آدمی کی اگلی یا پچھلی شرم گاہ کوچھونا، (6) میت کو غسل دینا، (7) اونٹ کا گوشت کھانا، (8) اور اسلام سے پھرجانا۔ اللہ اس سے ہماری حفاظت فرمائے۔ والله أعلم۔

فیڈ بیک