متن اربعین نووی

مؤلّف : ابو زکریا النووی

ترجمہ:

وصف

متن اربعین نووی

Download
اس پیج کے ذمّے دار کو اپنا تبصرہ لکھیں

کامل بیان

متن اربعین نووی

شروع اللہ کے نام سے جو بڑا مہربان نہایت رحم والا ہے۔

حدیث نمبر (1)

تمام اعمال کا دارومدار نیتوں پر ہے

امیر المؤمنين ابو حفص عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، وہ کہتے ہیں کہ میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو فرماتے ہوئے سنا:"تمام اعمال کا دارومدار نیتوں پر ہے، اور ہر شخص کے لئے وہی کچھ ہے جس کی اس نے نیّت کی۔ چنانچہ جس شخص کی ہجرت اللہ اور اس کے رسول کی طرف ہے تو اس کی ہجرت اللہ اور اس کے رسول ہی کی طرف سمجھی جائے گی، اور جس کی ہجرت دنیا حاصل کرنے کے لئے یا کسی عورت سے نکاح کرنے کے لئے ہے تو اس کی ہجرت اسی چیز کے لیے ہوگی جس کے لیےاس نے ہجرت کی ہے۔“اسے امام المحدثین ابو عبد اللہ محمد بن اسماعیل بن ابراھیم بن مغیرۃ بن بردزبہ البخاری الجعفی (حدیث نمبر: 1)اور امام المحدثین ابو الحسین مسلم بن حجاج بن مسلم قشیری نیساپوری (حدیث نمبر: 1907) -اللہ ان دونوں سے راضی ہو- نےاپنی ان دو صحیح کتابوں میں روایت کیا ہے، جو (حدیث کی) تمام تصنیف کردہ کتابوں میں سب سے زیادہ صحیح ہیں۔

حدیث نمبر (2)

مسلمانوں كو ان کے دينی امور کی تعليم دینے کے لیے جبريل علیہ السلام كا آنا

عمر رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، وہ کہتے ہیں:ایک دن ہم رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں بیٹھے ہوئے تھے کہ اچانک ایک شخص نمودار ہوا جس کے کپڑے نہایت سفید اور بال انتہائی سیاہ تھے، اس پر نہ سفر کے کوئی آثار دکھائی دے رہے تھے اور نہ ہم میں سے کوئی اسے پہچانتا تھا۔ (وہ آیا) اور نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے قریب اس طرح بیٹھا کہ اس نے اپنے دونوں گھٹنے آپ کے گھٹنوں سے ملادیے اور اپنی ہتھیلیوں کو اپنی دونوں رانوں پر رکهـ لیے اور سوال کیا: اے محمد (صلی اللہ علیہ وسلم)! آپ مجھے اسلام کے بارے میں بتلائیے۔ اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: اسلام یہ ہے کہ تم اس بات کی گواہی دو کہ اللہ کے سوا کوئی معبود برحق نہیں اور محمد اللہ کے رسول ہیں اور نماز قائم کرو اور زکوٰۃ ادا کرو اور رمضان کے روزے رکھو اور بیت اللہ کا حج کرو اگر وہاں تک پہونچنے کی استطاعت ہے. اس نےکہا: آپ نے سچ فرمایا۔ (عمر رضی اللہ عنہ کہتے ہیں) ہمیں اس پر بڑا تعجب ہوا کہ خود آپ صلی اللہ علیہ وسلم سے سوال کررہا ہے اور خود ہی آپ کی تصدیق کر رہا ہے۔ اس نے پھر سوال کیا: مجھے ایمان کے بارے میں بتلائیے۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ایمان یہ ہے کہ تم اللہ پر، اس کے فرشتوں پر، اس کی نازل کردہ کتابوں پر، اس کے رسولوں پر اور آخرت کے دن پر ایمان لاؤ، نيز اچھی اور بری تقدیر (کے اللہ کی طرف سے ہونے) پر ایمان لاؤ۔ اس نے کہا: آپ نے سچ فرمایا۔ پھر پوچھا: مجھے احسان کے بارے میں بتلائیے۔ آ پ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: تم اللہ کی عبادت اس طرح کرو گویا کہ تم اسے دیکھ ر ہے ہو، اگر یہ خيال نہیں کر سکتے کہ تم اسے دیکھ رہے ہو تو(كم از كم یہ خیال رہے کہ) یقیناً وہ تمہیں دیکھ رہا ہے۔ اس نے کہا: مجھے قیامت کے بارے میں خبر دیجئے۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: "جس سےاس کے بارے میں پوچھا گیا ہے وہ پوچھنے والے سے زیادہ نہیں جانتا۔“ اس نے کہا: تو مجھے اس کی علامتوں کے بارے میں بتلائیے۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: لونڈی اپنی مالکہ کو جنے گی اور تم دیکھو گے کہ ننگے پاؤں اور ننگے بدن، غریب ومحتاج بکریوں كے چرواہے اونچی اونچی عمارتیں بناکر ایک دوسرے پر فخر کریں گے۔ پھر وہ شخص چلا گیا اور ہم اس کے بعد كچھ عرصہ تک ٹھہرے ہے۔ پھر (ایک دن) نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے پوچھا: اے عمر! كياتم جانتے ہو کہ یہ پوچھنے والا کون تھا؟ میں نے عرض کیا: اللہ اور اس کے رسول ہی بہتر جانتے ہیں۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: یہ جبریل علیہ السلام تھے جو تمھیں تمھارا دین سکھانے آئے تھے۔اسے امام مسلم (حدیث نمبر: 8) نے روایت کیا ہے۔

حدیث نمبر (3)

اسلام کی بنیاد پانچ چیزوں پر ہے

ابو عبدالرحمن عبداللہ بن عمر بن خطاب رضی اللہ عنہما سے روایت ہے، وہ کہتے ہیں کہ میں نے رسول اللہ ﷺ کو فرماتے ہوئے سنا:"اسلام کی بنیاد پانچ چیزوں پر ہے: اس بات کی گواہی دینا کہ اللہ کے سوا کوئی سچا معبود نہیں اور بیشک محمد صلی اللہ علیہ وسلم اللہ کے سچے رسول ہیں اور نماز قائم کرنا، زکوٰۃ ادا کرنا، خانہ کعبہ کا حج کرنا اور رمضان کے روزے رکھنا۔“اسے امام بخاری (حدیث نمبر: 8) اور امام مسلم (حدیث نمبر: 16) نے روایت کیا ہے۔

حدیث نمبر (4)

تم میں سے ہر ایک کے مادۂ تخلیق کو اس کی ماں کے پیٹ میں جمع كيا جاتا ہے.

ابو عبدالرحمن عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، وہ کہتے ہیں کہ صادق ومصدوق رسول اللہ ﷺ نے ہم سے بیان فرمایا:"تم میں سے ہر ایک کے مادۂ تخلیق کو اس کی ماں کے پیٹ میں چالیس دن تک نطفے کی شكل میں جمع كيا جاتا ہے، پھر اتنے ہی دن جمے ہوئے خون کی شکل میں رہتا ہے، پھر اتنے ہی دن گوشت کے لوتھڑے کی شکل میں رہتا ہے، پھر اس کی طرف فرشتے کو بھیجا جاتا ہے جو اس میں روح پھونکتا ہے، اوراسے چار باتیں لکھنے کا حکم دیا جاتا ہے: اس كا رزق، مدتِ عمر، عمل اور (وه) نیک بخت ہے یا بد بخت۔ اس ذات کی قسم جس کے سوا کوئی معبود برحق نہیں، تم میں سے کوئی جنت والوں کا عمل کرتا رہتا ہے یہاں تک کہ اس کے اور جنت کے بیچ صرف ایک ہاتھ کا فاصلہ رہ جاتا ہے، تو اس پر نوشتهٔ تقدیر غالب آجاتا ہے اور وہ جہنم والوں کا عمل کرنے لگتا ہے اور بالآخر جہنم میں داخل ہو جاتا ہے۔ اور تم میں سے کوئی جہنم والوں کا عمل کرتا رہتا ہے، یہاں تک کہ اس کے اور جہنم کے بیچ صرف ایک ہاتھ کا فاصلہ باقی رہ جاتا ہے، تو اس پر تقدیر کا لکھا ہوا غالب آجاتا ہے اور وہ جنت والوں کا عمل کرنے لگتا ہے اور بالآخر جنت میں داخل ہو جاتا ہے۔“اسے امام بخاری (حدیث نمبر: 3208) اور امام مسلم (حدیث نمبر: 2643) نے روایت کیا ہے۔

حدیث نمبر (5)

جس نے ہمارے اس دین میں کوئی ایسی چیز ایجاد کی جو اس میں سے نہیں ہے تو وہ ناقابلِ قبول ہے

ام المؤمنين ام عبداللہ عائشہ رضی اللہ عنہا سے روایت ہے، وہ کہتی ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نےفرمایا:"جس نے ہمارے اس دین میں کوئی ایسی چیز ایجاد کی جو اس میں سے نہیں ہے تو وہ مردود (ناقابلِ قبول) ہے۔“اسے امام بخاری (حدیث نمبر: 2697) اور امام مسلم (حدیث نمبر: 1718) نے روایت کیا ہے۔اور مسلم کی ایک روایت میں ہے:"جس نے ایسا عمل کیا جس پر ہمارا حکم نہیں ہے تو وہ نامقبول ہے۔“

حدیث نمبر (6)

یقیناً حلال واضح ہے اور حرام بھی واضح ہے

ابو عبداللہ نعمان بن بشیر رضی اللہ عنہما سے روایت ہے، وہ کہتے ہیں کہ میں نے رسول اللہ ﷺ کو یہ فرماتے ہوئے سنا:"یقیناً حلال واضح ہے اور حرام بھی واضح ہے اور ان دونوں کے درمیان کچھ مشتبہ چیزیں ہیں جن کو اکثر لوگ نہیں جانتے، چنانچہ جو شخص شبہہ کی چیزوں سے بچ گیا اس نے اپنے دین اور آبرو کو محفوظ کرلیا، اور جو شبہ والی چیزوں میں پڑ گیا وہ حرام میں پڑ جائےگا۔ اس کی مثال اس چرواہے کی ہے جو کسی محفوظ چراہ گاہ کے اردگرد چراتا ہے، تو قریب ہے کہ جانور اس چراگاہ میں سے بھی چر لیں۔ سنو! ہر بادشاہ کی ایک محفوظ چراہ گاہ ہوتی ہے (جس میں کسی کو داخل ہونے کی اجازت نہیں ہوتی) آگاہ رہو! اللہ کی چراگاہ اس کى حرام کردہ چیزیں ہیں۔ سنو! جسم کے اندر گوشت کا ایک ٹکڑا ہے جب وہ درست ہو جاتا ہے تو سارا جسم درست رہتا ہے اور جب وہ بگڑ جاتا ہے تو سارا جسم بگڑ جاتا ہے، جان لو! وہ دل ہے۔“اسے امام بخاری (حدیث نمبر: 52) اور امام مسلم (حدیث نمبر: 1599) نے روایت کیا ہے۔

حدیث نمبر (7)

دین خیر خواہی کا نام ہے

ابو رقیہ تمیم بن اوس داری رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ نبی ﷺ نے فرمایا:دین خیر خواہی کا نام ہے۔ ہم نے عرض کیا:کس کی خیر خواہی کا؟ آپ ﷺ نے فرمایا: "اللہ کی، اس کی کتاب کی، اس کے رسول کی، مسلمانوں کے حاکموں کی اور ان کے عام لوگوں کی۔“اسے امام مسلم (حدیث نمبر:55) نے روایت کیا ہے۔

حدیث نمبر (8)

مجھے حکم دیا گیا ہے کہ میں لوگوں سےجنگ کروں

ابن عمر رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا:"مجھے حکم دیا گیا ہے کہ میں لوگوں سے جنگ کروں یہاں تک کہ وہ گواہی دیں کہ اللہ کے سوا کوئی معبود نہیں اور یہ کہ محمد (ﷺ) اللہ کے (سچے) رسول ہیں، اور نماز قائم کریں اور زکوٰۃ ادا کریں۔ جب وہ یہ کرلیں گے تو مجھ سے اپنے جان و مال کو محفوظ کرلیں گے، سوائے اسلام کے حق کے، اور ان کا حساب اللہ تعالی پر ہے۔“اسے امام بخاری (حدیث نمبر: 25) اور امام مسلم (حدیث نمبر: 22) نے روایت کیا ہے۔

حدیث نمبر (9)

میں تمہیں جس چیز سے روک دوں اس سے رک جاؤ

ابو ھریرہ عبد الرحمن بن صخر رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، وہ کہتے ہیں کہ میں نے رسول اللہ ﷺ کو فرماتے ہوئے سنا:"میں تمہیں جس چیز سے روک دوں اس سے رک جاؤ اور جس چیز کا حکم دوں اسے اپنی طاقت کے مطابق بجا لاؤ، اس لیے کہ تم سے پہلے کے لوگوں کو بکثرت سوال اور اپنے انبیا سے اختلاف نے ہلاک کردیا۔“اسے امام بخاری (حدیث نمبر: 7288) اور امام مسلم (حدیث نمبر: 1337) نے روایت کیا ہے۔

حدیث نمبر (10)

بے شک اللہ تعالی پاک ہے اور پاکیزہ چیز ہی قبول فرماتا ہے۔

ابو ھریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا:"بے شک اللہ تعالی پاک ہے اور پاکیزہ چیز ہی قبول کرتا ہے۔ اور اللہ نے اپنے مومن بندوں کو اسی چیز کا حکم دیا ہے، جس کا حکم اپنے رسولوں کو دیا، چنانچہ ارشاد فرمایا: "يَا أَيُّهَا الرُّسُلُ كُلُوا مِنْ الطَّيِّبَاتِ وَاعْمَلُوا صَالِحًا(اے پیغمبرو! حلال چیزیں کھاؤ اور نیک عمل کرو۔) نیز ارشاد فرمایا: "يَا أَيُّهَا الَّذِينَ آمَنُوا كُلُوا مِنْ طَيِّبَاتِ مَا رَزَقْنَاكُمْ(اے ایمان والو! جو پاکیزه چیزیں ہم نے تمہیں دے رکھی ہیں انہیں کھاؤ، پیو۔) پھر آپ ﷺ نےاس شخص کا ذکر کیا جو طویل سفر کرتا ہے، پراگندہ بال اور غبار آلود ہے اور وہ اپنے دونوں ہاتھ آسمان کی طرف اٹھا کر دعا مانگتے ہوئے کہتا ہے: "اے میرے رب! اے میرے رب!“ حالانکہ اس کا کھانا حرام، اس کا پینا حرام اور اس کا لباس حرام اور حرام ہی سے اس کی پرورش ہوئی ہے، تو اس کی دعا کہاں سے قبول ہو؟“اسے امام مسلم (حدیث نمبر: 1015) نے روایت کیا ہے۔

حدیث نمبر (11)

جس چیز میں تمہیں شک ہو، اسے چھوڑ کر وہ چیز اختیار کر لو جس میں تمہیں کوئی شک نہ ہو۔

رسول اللہ ﷺ کے نواسے اور پھول ابو محمد حسن بن علی بن ابی طالب رضی اللہ عنہما سے روایت ہے وہ کہتے ہیں:میں نے رسول اللہ ﷺ (سے سن کر) یہ بات یاد کر رکھی ہے:"جس چیز میں تمہیں شک ہو، اسے چھوڑ کر وہ چیز اختیار کر لو جس میں تمہیں کوئی شک نہ ہو۔“اسے امام ترمذی (حدیث نمبر: 2520) اور امام نسائی (حدیث نمبر: 5711) نے روایت کیا ہے۔اور امام ترمذی نے اسے حسن صحیح قرار دیا ہے۔

حدیث نمبر (12)

کسی شخص کے اسلام کی خوبی یہ ہے

ابو ھریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا:"آدمی کے اسلام کی ایک خوبی یہ ہے کہ وہ اس چیز کو چھوڑ دے جس سے اسے کوئی سروکار نہیں۔“یہ حدیث حسن ہےاسے امام ترمذی (حدیث نمبر: 2318) اور امام ابن ماجہ (حدیث نمبر: 3976) نے روایت کیا ہے۔

حدیث نمبر (13)

تم میں سے کوئی شخص اس وقت تک (کامل) مومن نہیں ہو سکتا جب تک کہ وہ اپنے بھائی کے لیے وہی کچھ پسند نہ کرے جو وہ اپنے لیے پسند کرتا ہے۔

رسول اللہ ﷺ کے خادم ابو حمزہ انس بن مالک رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ نبی ﷺ نے فرمایا:"تم میں سے کوئی شخص اس وقت تک (کامل) مومن نہیں ہو سکتا جب تک کہ وہ اپنے بھائی کے لیے وہی کچھ پسند نہ کرے جو وہ اپنے لیے پسند کرتا ہے۔“اسے امام بخاری (حدیث نمبر: 13) اور امام مسلم (حدیث نمبر: 45) نے روایت کیا ہے۔

حدیث نمبر (14)

تین صورتوں کے علاوہ کسی مسلمان کا خون حلال نہیں

ابن مسعود رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے ارشاد فرمایا:"جو مسلمان آدمی اس بات کی گواہی دیتا ہو کہ اللہ تعالی کے سوا کوئی معبود برحق نہیں اور میں (محمد ﷺ) اللہ کا رسول ہوں، تو تین صورتوں کے علاوہ اسے قتل کرنا حلال و جائز نہیں: شادی شدہ زانى، جان کے بدلے جان اور اپنے دین کو چھوڑ کر (مسلمانوں کی) جماعت سے الگ ہونے والا۔“اسے امام بخاری (حدیث نمبر: 6878) اور امام مسلم (حدیث نمبر: 1676) نے روایت کیا ہے۔

حدیث نمبر (15)

جو شخص اللہ اور یوم آخرت پر ایمان رکھتا ہو اسے چاہیئے کہ وہ اچھی بات کہے

ابوھریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا:"جو شخص اللہ اور آخرت کے دن پر ایمان رکھتا ہو اسے چاہئے کہ وہ اچھی بات کہے، یا پھر خاموش رہے، جو اللہ اور آخرت کے دن پر ایمان رکھتا ہو وہ اپنے پڑوسی کی عزت کرے اور جو اللہ اور آخرت کے دن پر ایمان رکھتا ہو وہ اپنے مہمان کی عزت کرے۔“اسے امام بخاری (حدیث نمبر: 6018) اور امام مسلم (حدیث نمبر: 47) نے روایت کیا ہے۔

حدیث نمبر (16)

غصہ نہ کیا کرو

ابوھریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ ایک شخص نے نبی ﷺ سے درخواست کی: مجھے وصیت فرمائیے۔آپ ﷺ نے فرمایا: "غصہ نہ کیا کرو۔“ اس شخص نے اپنی (وہی) درخواست کئی بار دہرائی۔ آپ ﷺ نے ہر مرتبہ یہی فرمایا: "غصہ نہ کیا کرو۔“اسے امام بخاری (حدیث نمبر: 6116)نے روایت کیا ہے۔

حدیث نمبر (17)

بے شک اللہ نے ہر کام کو اچھے طریقے سے کرنا ضروری قرار دیا ہے

ابو یعلی شداد بن اوس رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا:"بے شک اللہ نے ہر کام کو اچھے طریقے سے کرنا ضروری قرار دیا ہے۔ لہٰذا جب تم قتل کرو تو اچھے طریقے سے قتل کرو اور جب (جانور) ذبح کرو تو اچھے طریقے سے ذبح کرو۔ تمہیں چاہیے کہ اپنی چھری تیز کر لو اور ذبح ہونے والے جانور کو آرام پہنچاؤ۔“اسے امام مسلم (حدیث نمبر: 1955) نے روایت کیا ہے۔

حدیث نمبر (18)

جہاں بھی رہو اللہ سے ڈرتے رہو

ابو ذر جندب بن جنادۃ اور ابو عبد الرحمن معاذ بن جبل رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ رسول ﷺ نے ارشاد فرمایا:"تو جہاں کہیں بھی ہو اللہ تعالی سے ڈر، برائی کے بعد نیکی کر، نیکی برائی کو مٹادے گی اور لوگوں کے ساتھ اچھے اخلاق سے پیش آ۔“اسے امام ترمذی (حدیث نمبر: 1987) نے روایت کیا ہے۔اور امام ترمذی نے اسے حسن قرار دیا ہے۔ اور بعض نسخوں میں ہے کہ آپ نے اسے حسن صحیح کہا ہے

حدیث نمبر (19)

تم اللہ کے احکام کی حفاظت کرو، وہ تمہاری حفاظت فرمائے گا

عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما سے روایت ہے وہ کہتے ہیں:میں ایک دن ( سواری پر) رسول اللہ ﷺ کے پیچھے (بیٹھا ہوا) تھا، تو آپ ﷺ نے فرمایا:"اے لڑکے! میں تجھے چند (اہم) باتیں بتلاتا ہوں (انھیں یاد رکھ): تو اللہ (کے احکام) کی حفاظت کر! وہ تیری حفاظت فرمائے گا۔ تو اللہ (کے حقوق) کاخیال رکھ، تو اسے اپنے سامنے پائے گا۔ جب تو مانگے تو صرف اللہ سے مانگ، اور جب تو مدد طلب کرے تو صرف اللہ سے مدد طلب کر۔ اور یہ بات جان لے کہ اگر ساری امت بھی اکٹھا ہوکر تجھے کچھ نفع پہنچانا چاہے تو اس سے زیادہ کچھ نفع نہیں پہنچا سکتی جو اللہ نے تیرے لئے لکھ دیا ہے، اور اگر وہ تجھے کچھ نقصان پہنچانے کے لیے اکٹھا ہوجائے تو اس سے زیادہ کچھ نقصان نہیں پہنچاسکتی جو اللہ نے تیرے لیےلکھ دیا ہے۔ قلم اٹھالیے گئے اور صحیفے خشک ہوگئے۔“اسے امام ترمذی (حدیث نمبر: 2516) نے روایت کیا ہے۔امام ترمذی نے کہا کہ یہ حدیث حسن صحیح ہے۔سنن ترمذی کے علا وہ ایک دوسری روایت میں ہے:"تو اللہ (کے حقوق) کا خیال رکھ، تو اسے اپنے سامنے پائے گا۔ تو خوش حالی میں اللہ کو پہچان اور اس کی طرف توجہ رکھ، وہ تجھے سختی اور مصیبت میں پہچانے گا، اور جان لے جو کچھ تجھ سے چوک گیا وہ تجھے پہنچنے والا نہ تھا، اور جو کچھ تجھے پہنچ گیا وہ تجھ سے چوکنے والا نہیں تھا۔ نیز جان لے کہ (اللہ کی) مدد صبر کے ساتھ ہے اور کشادگی تکلیف کے ساتھ ہے اور دشواری کے ساتھ آسانی ہے۔“

حدیث نمبر (20)

جب تو شرم و حیا نہیں کرتا تو جو چاہے کر

ابو مسعود عقبہ بن عمرو انصاری بدری رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا:"پہلے انبیا علیہم السلام کے کلام سے جو باتیں لوگوں نے حاصل کیں، ان میں سے یہ بھی ہے کہ جب تو شرم و حیا نہیں کرتا تو جو چاہے کر۔“اسے امام بخاری (حدیث نمبر: 3483) نے روایت کیا ہے۔

حدیث نمبر (21)

کہو مہں اللہ پر ایمان لایا پھر اس پر ثابت قدم رہو

ابو عمرو (بعض کے نزدیک ابو عمرہ) سفیان بن عبداللہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے:میں نے عرض کیا: اے اللہ کے رسول! مجھے اسلام کے بارے میں کوئی ایسی بات بتا دیں کہ مجھے اس کے بارے میں آپ کے بعد کسی اور سے سوال کرنے کی ضرورت نہ رہے آپ ﷺ نے ارشاد فرمایا: تم کہو: "میں اللہ پر ایمان لایا، پھر اس پرثابت قدم رہو۔“اسے امام مسلم (حدیث نمبر: 38) نے روایت کیا ہے۔

حدیث نمبر (22)

آپ مجھے بتلائیے اگر میں فرض نمازوں کو ادا کروں اور رمضان کے روزے رکھوں

ابو عبد اللہ جابر بن عبد اللہ انصاری رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہایک شخص نے رسول اللہ ﷺ سے دریافت کیا کہ آپ مجھے بتلائیے اگر میں فرض نمازوں کو ادا کروں اور رمضان کے روزے رکھوں اور حلال کو حلال اور حرام کو حرام سمجھوں اور اس سے زیادہ کوئی عمل نہ کروں تو کیا میں جنت میں داخل ہو جاؤں گا؟ آپ ﷺ نے فرمایا:" ہاں“۔اسے امام مسلم (حدیث نمبر: 15) نے روایت کیا ہے۔

حدیث نمبر تئیس (23)

پاکیزگی نصف ایمان ہے

ابومالک حارث بن عاصم اشعری رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نےفرمایا:"پاکیزگی نصف ایمان ہے اور الحمد اللہ کہنا میزان کو بھر دیتا ہے اور سبحان اللہ اور الحمد للہ کہنا، یہ آسمان و زمین کے درمیانی خلا کو بھر دیتا ہے۔ نماز نور ہے اور صدقہ دلیل ہے اور صبر روشنی ہے، اور قرآن تیرے حق میں یا تیرے خلاف حجت ہے۔ ہر شخص صبح کے وقت نکلتا ہے اور اپنے نفس کا سودا کرتا ہے۔ چنانچہ وہ اسے آزاد کرنے والا ہے یا اسے ہلاک کرنے والا ہے۔“اسے امام مسلم (حدیث نمبر: 223) نے روایت کیا ہے۔

حدیث نمبر (24)

اے میرے بندو! میں نے ظلم کو اپنے اوپر حرام کر لیا ہے

ابوذر غفاری رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے روایت ہے کہ نبی ﷺ اللہ تبارک وتعالیٰ سے روایت کرتے ہوئے بیان کرتے ہیں کہ اللہ نے فرمایا:"اے میرے بندو! میں نے ظلم کو اپنے اوپر حرام کر لیا ہے اور اسےتمہارے درمیان بھی حرام قرار دیا ہے۔ لہٰذا تم ایک دوسرے پر ظلم نہ کرو۔ اے میرے بندو! تم سب گمراہ ہو سوائے اس کے جسے میں ہدایت سے نواز دوں، پس تم مجھ ہی سے ہدایت مانگو میں تمہیں ہدایت دوں گا۔ اے میرے بندو! تم سب بھوکے ہو سوائے اس کے جسے میں کھلاؤں، پس تم مجھ ہی سے کھانا مانگو میں تمہیں کھانا دوں گا۔ اے میرے بندو! تم سب ننگے ہو سواۓ اس کے جسے میں لباس پہناؤں پس تم مجھ ہی سے لباس مانگو میں تمہیں لباس دوں گا۔ اے میرے بندو! تم سب دن رات گناہ کرتے ہو اور میں سارے گناہوں کو بخش دیتا ہوں پس تم مجھ ہی سے بخشش مانگو، میں تمہیں بخش دوں گا۔ اے میرے بندو! تم سب کی رسائی مجھے نقصان پہنچانے تک نہیں ہو سکتی کہ تم مجھے نقصان پہنچاؤ اور نہ تمہاری رسائی مجھے نفع پہنچانے تک ہو سکتی ہے کہ تم مجھے نفع پہنچاؤ۔ اے میرے بندو! اگر تمھارے پہلے کے لوگ اور تمھارے آخر کے لوگ اور تمھارے انسان اور تمھارے جنّات تم میں سب سے زیادہ متقی شخص کے دل جیسے ہوجائیں تو یہ میری سلطنت میں کچھ اضافہ نہ کرے گا۔ اے میرے بندو! اگر تمھارے پہلے کے لوگ اور تمھارے آخر کے لوگ اور تمھارے انسان اور تمھارے جنّات، تم میں سب سے زیادہ فاجر شخص کے دل جیسے ہوجائیں تو یہ میری سلطنت میں کچھ کمی نہ کرے گا۔ اے میرے بندو! اگر تمھارے پہلے کے لوگ اور تمھارے آخر کے لوگ، اور تمھارے انسان اور تمھارے جنّات،ایک کھلے میدان میں کھڑے ہو جائیں اور سب مجھ سے سوال کریں اور میں ہر انسان کو اس کی طلب کردہ چیز دے دوں تو اس سے میرے خزانوں میں کوئی کمی نہیں ہوگی سوائے ایسے جیسے ایک سوئی سمندر میں ڈبونے کے بعد (پانی میں) کمی کرتی ہے۔ اے میرے بندو! یہ تمہارے اعمال ہیں کہ جنہیں میں شمار کر رہا ہوں پھر میں تمہیں ان کا پورا پورا بدلہ دوں گا تو جو شخص بھلائی پائے وہ اللہ کا شکر ادا کرے اور جو اس کے علاوہ پائے تو وہ اپنے ہی نفس کو ملامت کرے۔“اسے امام مسلم (حدیث نمبر: 2577) نے روایت کیا ہے۔

حدیث نمبر (25)

دولت مند لوگ کہیں (زیادہ) اجر لے گئےابو ذر رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے ہی روایت ہے کہ نبی ﷺ کے بعض صحابہ نے آپ ﷺ سے عرض کیا: اے اللہ کے رسول! دولت مند لوگ کہیں (زیادہ) اجر لے گئے، وہ نماز پڑھتے ہیں جیسے ہم پڑھتے ہیں، وہ روزہ رکھتے ہیں جیسے ہم رکھتے ہیں، (اس پر مزید) وہ اپنے فاضل مالوں میں سے صدقہ وخیرات کرتے ہیں۔ آپ ﷺ نے فرمایا: " کیا اللہ نے تمہارے لیے ایسى چیزیں نہیں بنائیں کہ تم ان کا صدقہ کرو؟ بے شک ہر سبحان اللہ کہنا صدقہ ہے، ہر اللہ أکبر کہنا صدقہ ہے، ہر الحمد للہ کہنا صدقہ ہےاور ہر لاالہ الا اللہ کہنا صدقہ ہے، نیکی کا حکم دینا صدقہ ہے، برائی سے منع کرنا صدقہ ہے، اور تم میں سے کسی کا اپنی بیوی سے صحبت کرنا صدقہ ہے“۔ لوگوں نے پوچھا: اے اللہ کے رسول! ہم میں سےایک شخص اپنی شہوت پوری کرتا ہے، کیا اس میں بھی اسے اجر ملتا ہے؟ آپﷺ نے فرمایا: "بھلا بتلاؤ! اگر وہ اسے حرام جگہ سے پوری کرے تو اسے گناہ ہوگا؟ اسی طرح جب وہ اسے حلال طریقے سے پوری کرے گا تو اسے اجر ملے گا۔“اسے امام مسلم (حدیث نمبر: 1006) نے روایت کیا ہے۔

حدیث نمبر (26)

انسان کے ہر جوڑ پر صدقہ واجب ہے۔

ابو ھریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا:"ہر دن جس میں سورج طلوع ہوتا ہے، انسان کے ہر جوڑ پر صدقہ کرنا واجب ہے۔ تمہارا دو آدمیوں کے درمیان انصاف کرنا صدقہ ہے، اور کسی آدمی کو اس کی سواری پر بٹھانے یا اس کا سامان اٹھا کر اس پر رکھوانے میں اس کی مدد کرنا بھی صدقہ ہے، اچھی بات کہنا صدقہ ہے، اور ہر اس قدم میں، جس سے چل کر تو نماز کی طرف جائے صدقہ ہے۔ راستے سے کسی تکلیف دہ چیز کا ہٹانا بھی صدقہ ہے۔“اسے امام بخاری(حدیث نمبر: 2989) اور امام مسلم (حدیث نمبر: 1009) نے روایت کیا ہے۔

حدیث نمبر (27)

نیکی اچھے اخلاق کا نام ہے

نواس بن سمعان رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ نبی ﷺ نے فرمایا:"نیکی اچھے اخلاق کا نام ہے، اور گناہ وہ ہے جو تمھارے دل میں کھٹکے اور اس پر لوگوں کا مطلع ہونا تمھیں ناگوار ہو۔“اسے امام مسلم (حدیث نمبر:2553) نے روایت کیا ہے۔وابصہ بن معبد رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ میں رسول اللہ ﷺ کے پاس آیا تو آپ ﷺ نے فرمایا:"تم نیکی کے بارے میں پوچھنے آئے ہو؟“ میں نے کہا: جی ہاں! آپ ﷺ نے فرمایا: "اپنے دل سے پوچھو، نیکی وہ ہے جس پر نفس مطمئن ہو اور دل راضی ہو جائے اور گناہ وہ ہے جو دل میں کھٹکے اور اس کی بابت سینے میں تردد ہو، اگرچہ لوگ تجھے (اس کے جواز کا) فتویٰ دیں اور تجھے فتوی دیں۔“یہ حدیث حسن ہے۔یہ حدیث امام احمد کی مسند (4/227) اور امام دارمی کی مسند (2/246) میں حسن اسناد کے ساتھے مروی ہے۔

حدیث نمبر (28)

میں تمہیں اللہ کے تقویٰ اور حسن اخلاق کی وصیت کرتا ہوں

ابو نجیح عرباض بن ساریہ رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ:(ایک مرتبہ) رسول اللہ ﷺ نے ہمیں ایک موثر وعظ فرمایا جس سے دل کانپ اٹھے اور آنکھیں ڈبڈبا آئیں ۔ہم نے کہا اے اللہ کے رسول! یہ وعظ تو گویا کسی الوداع کہنے والے کے وعظ کی طرح ہے۔ لہٰذا آپ ہمیں وصیت فرمائیں۔ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: "میں تمہیں اللہ سے ڈرنے اور (امیر کی بات) سننے اور ماننے کی وصیت کرتا ہوں، اگرچہ تم پر کوئی حبشی غلام امیر بن جائے۔ (یاد رکھو!)تم میں سے جو (میرے بعد) زندہ رہے گا وہ یقینا بہت اختلاف دیکھے گا، چنانچہ تم میری سنت کو اور ہدایت یافتہ خلفائے راشدین کے طریقے کو لازم پکڑنا، انہیں دانتوں سے خوب جکڑ لینا اور دین میں نئے نئے کام ایجاد کرنے سے بچنا، کیونکہ ہر بدعت گمراہی ہے۔“اسے امام ابو داود (حدیث نمبر: 4607) اور امام ترمذی (حدیث نمبر: 266) نے روایت کیا ہے۔یہ حدیث حسن صحیح ہے۔

حدیث نمبر (29)

اللہ تعالیٰ کی عبادت کرو اور اس کے ساتھ کسی کو شریک نہ کرو

معاذ بن جبل رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ میں نے کہا: اے اللہ کے رسول ﷺ! مجھے کوئی ایسا عمل بتائیے جو مجھے جنت میں داخل کر دے اور جہنم سے دور کر دے تو آپ ﷺ نے فرمایا:"تم نے ایک عظیم چیز کا سوال کیا ہے لیکن یہ اس کے لیے آسان ہے جس پر اللہ آسان فرما دے۔ اللہ تعالیٰ کی عبادت کرو اس کے ساتھ کسی کو شریک نہ ٹھہراؤ، نماز قائم کرو، زکوۃ ادا کرو، رمضان کے روزے رکھو اور بیت اللہ کا حج کرو۔ پھر آپ ﷺ نے فرمایا: کیا میں تجھے نیکی کے دروازوے نہ بتلاؤں؟ روزہ ڈھال ہے، صدقہ گناہ کو ایسے مٹا دیتا ہے جیسے پانی آگ کو بجھا دیتا ہے، اور آدمی کا رات کے درمیان نماز پڑھنا، پھر آپ ﷺ نے یہ آیت تلاوت فرمائی: "تَتَجَافَى جُنُوبُهُمْ عَنِ الْمَضَاجِعِ(ترجمہ: ان کے پہلو بستروں سے دور رہتے ہیں) یہاں تک کہ آپ "يَعْمَلُونَ“ (جو کچھ کرتے تھے یہ اس کا بدلہ ہے) تک پہنچ گئے۔۔ پھر فرمایا: کیا میں تمہیں دین کا سر، اس کا ستون اور اس کے کوہان کی بلندی نہ بتلاؤں؟ میں نے کہا: کیوں نہیں، اے اللہ کے رسول (ضرور بتلائیں) آپ ﷺ نے فرمایا: دین كا سر اسلام ہے، اس کا ستون نماز ہے، اور اس کے کوہان کی بلندی جہاد ہے۔ پھر فرمایا: کیا میں تمہیں ان سب کے اصل کی خبر نہ دوں؟ میں نے کہا: کیوں نہیں، اے اللہ کے رسول! آپ ﷺ نے اپنی زبان پکڑی اور فرمایا: اسے قابو میں رکھو۔ میں نے کہا: اے اللہ کے پیغمبر! ہم زبان کے ذریعہ جو گفتگو کرتے ہیں اس پر بھی ہماری پکڑ ہوگی؟ آپ ﷺ نےفرمایا:تجھے تیری ماں گم پائے، لوگوں کو (جہنم میں) ان کے چہرے کے بل -یا پھر فرمایا ان کے نتھنوں کے بل- ان کی زبان کی کمائی ہی کی وجہ سے پھینکا جائے گا۔اسے امام ترمذی (حدیث نمبر: 2616) نے روایت کیا ہے۔یہ حدیث حسن صحیح ہے۔

حدیث نمبر (30)

اللہ تعالیٰ نے کچھ چیزیں فرض کی ہیں انھیں ضائع نہ کرو۔

ابو ثعلبہ خشنی جرثوم بن ناشب رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا:"اللہ تعالیٰ نے کچھ چیزیں فرض کی ہیں انھیں ضائع نہ کرو۔ اور کچھ حدیں مقرر کی ہیں، ان سے تجاوز نہ کرو۔ اور کچھ چیزیں حرام کی ہیں، ان کا ارتکاب کر کے ان کی حرمت پامال نہ کرو۔ اور کچھ چیزوں سے اس نے تم پر شفقت کرتے ہوئے، بغیر بھول کے، خاموشی اختیار کی ہے، چنانچہ ان کےمتعلق بحث کرید نہ کرو۔“یہ حدیث حسن ہے۔اسے امام دارقطنی نے اپنی سنن (4/184) میں، اور دیگر نے روایت کیا ہے۔

حدیث نمبر (31)

دنیا سے بے رغبت ہو جا اللہ تجھ سے محبت کرے گا

ابو العباس سہل بن سعد ساعدی رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، وہ فرماتے ہیں کہ ایک آدمی نبی ﷺ کی خدمت میں آیا اور عرض کیا: اے اللہ کے رسول! مجھے کوئی ایسا عمل بتلائیے جسے میں کرلوں تو اللہ بھی مجھ سے محبت کرے اور لوگ بھی مجھ سے محبت کریں۔ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا:"دنیا سے بے رغبت ہو جاؤ، اللہ تم سے محبت کرے گا اور لوگوں کے پاس جو کچھ ہے اس سے بے نیاز ہو جاؤ، لوگ تم سے محبت کریں گے۔“یہ حدیث حسن ہے۔اسے امام ابن ماجہ(حدیث نمبر: 4102) وغیرہ نے حسن سند کے ساتھ روایت کیا ہے۔

حدیث نمبر (32)

نہ (ابتداءً) کسی کو نقصان پہنچانا جائز ہے اور نہ بدلے کے طور پر نقصان پہنچانا

ابو سعید سعد بن مالک بن سنان الخدری رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہﷺ نے فرمایا:نہ (ابتداءً) کسی کو نقصان پہنچانا جائز ہے اور نہ بدلے کے طور پر نقصان پہنچانا جائز ہے۔یہ حدیث حسن ہے۔اسے امام ابن ماجہ(حدیث نمبر: 2341) اور امام دار قطنی(4/228) وغیرہ نے با سند روایت کیا ہے، البتہ امام مالک نے اس حدیث کو مؤطا (2/746) میں بطریق عمرو بن یحیی عن ابیہ عن النبی ﷺ مرسلاً روایت کیا ہے۔ چنانچہ درمیان میں ابو سعید کا واسطہ حذف کر دیا ہے۔اس حدیث کی دیگر سندیں بھی ہیں جو ایک دوسرے کو تقویت بخشتی ہیں۔

حدیث نمبر (33)

مدعی کے ذمہ ثبوت ہے اور مدعا علیہ اگر انکاری ہو تو قسم اٹھائے

ابن عباس رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا:"اگر لوگوں کو محض ان کے دعویٰ کرنے سے حق دے دیا جائے تو لوگ دوسروں کے اموال اور خون کا دعویٰ کرنے لگیں گے۔ لہذا اصول یہ ہے کہ مدعی کے ذمہ ثبوت پیش کرنا ہے اور مدعا علیہ اگر انکاری ہو تو قسم اٹھائے۔“یہ حدیث حسن ہے۔اسے امام بیہقی (سنن میں: 10/252) وغیرہ نے اسی طرح روایت کیا ہے اور اس حدیث کا کچھ حصہ صحیحین میں بھی مروی ہے۔

حدیث نمبر (34)

جو شخص کوئی برائی دیکھے تو اس کو اپنے ہاتھ سے روکے

ابو سعید خدری رضی اللہ عنہ سے روایت ہے وہ کہتے ہیں کہ میں نے رسول اللہ ﷺ كو یہ فرماتے ہوئے سنا:"تم میں سے جو شخص کوئی برائی (ہوتے) دیکھے تو اسے اپنے ہاتھ سے بدل (روک) دے۔ اگر اس کی استطاعت نہ ہو تو زبان سے (اس کی برائی واضح کرے) اور اگر اس کی بھی استطاعت نہ ہو تو دل سے (برا جانے) یہ ایمان کا کمزور ترین درجہ ہے۔“اسے امام مسلم (حدیث نمبر: 49) نے روایت کیا ہے۔

"تم میں سے جو شخص کوئی برائی (ہوتے) دیکھے تو اسے اپنے ہاتھ سے بدل (روک) دے۔ اگر اس کی استطاعت نہ ہو تو زبان سے (اس کی برائی واضح کرے) اور اگر اس کی بھی استطاعت نہ ہو تو دل سے (برا جانے) یہ ایمان کا کمزور ترین درجہ ہے۔“

اسے امام مسلم (حدیث نمبر: 49) نے روایت کیا ہے۔

حدیث نمبر (35)

ایک دوسرے سے حسد نہ کرو، خواہ مخواہ قیمت نہ بڑھاؤ اور آپس میں بغض نہ رکھو

ابو ھریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا:"ایک دوسرے سے حسد نہ کرو، خرید و فروخت کی بولی میں قیمت بڑھا کر ایک دوسرے کو دھوکا نہ دو۔ آپس میں بغض نہ رکھو، ایک دوسرے سے پیٹھ نہ پھیرو۔ تم میں سے ایک دوسرے کے سودے پر سودا نہ کرے۔ اور اے اللہ کے بندو! تم بھائی بھائی بن جاؤ۔ مسلمان مسلمان کا بھائی ہے، وہ اس پر ظلم نہ کرے، اس کو بے سہارا نہ چھوڑے، اس سے جھوٹ نہ بولے اور اس کو حقیر نہ سمجھے۔ تقویٰ یہاں ہے۔ اور آپ ﷺ نے یہ الفاظ اپنے سینے کی طرف اشارہ کرتے ہوئے تین مرتبہ فرمائے۔ کسی بھی آدمی کے برا ہونے کے لیے یہی کافی ہے کہ وہ اپںے مسلمان بھائی کو حقیر سمجھے۔ ۔ہر مسلمان کا خون، اس کا مال اور اس کی عزت دوسرے مسلمان پر حرام ہے۔“اسے امام مسلم (حدیث نمبر: 2564) نے روایت کیا ہے۔

"ایک دوسرے سے حسد نہ کرو، خرید و فروخت کی بولی میں قیمت بڑھا کر ایک دوسرے کو دھوکا نہ دو۔ آپس میں بغض نہ رکھو، ایک دوسرے سے پیٹھ نہ پھیرو۔ تم میں سے ایک دوسرے کے سودے پر سودا نہ کرے۔ اور اے اللہ کے بندو! تم بھائی بھائی بن جاؤ۔ مسلمان مسلمان کا بھائی ہے، وہ اس پر ظلم نہ کرے، اس کو بے سہارا نہ چھوڑے، اس سے جھوٹ نہ بولے اور اس کو حقیر نہ سمجھے۔ تقویٰ یہاں ہے۔ اور آپ ﷺ نے یہ الفاظ اپنے سینے کی طرف اشارہ کرتے ہوئے تین مرتبہ فرمائے۔ کسی بھی آدمی کے برا ہونے کے لیے یہی کافی ہے کہ وہ اپںے مسلمان بھائی کو حقیر سمجھے۔ ۔ہر مسلمان کا خون، اس کا مال اور اس کی عزت دوسرے مسلمان پر حرام ہے۔“

اسے امام مسلم (حدیث نمبر: 2564) نے روایت کیا ہے۔

حدیث نمبر (36)

جس نے کسی مسلمان کی کوئی پریشانی دور کردی

ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا:"جس نے کسی مومن کی دنیا کی پریشانیوں میں سے کوئی پریشانی دور کردی، اللہ تعالیٰ بروز قیامت اس کی پریشانیوں میں سے ایک پریشانی دور کردے گا۔۔ جس نے کسی تنگ دست پر آسانی کی، اللہ اس پر دنیا وآخرت میں آسانی کرے گا۔ جس نے کسی مسلمان کی عیب پوشی کی، اللہ تعالیٰ دنیا وآخرت میں اس کی عیب پوشی فرمائے گا۔ اللہ تعالیٰ بندے کی مدد میں ہوتا ہے جب تک بندہ اپنے بھائی کی مدد میں ہوتا ہے۔ جو شخص علم کی تلاش میں کسی راستے پر چلا اللہ تعالیٰ اس كی وجہ سے اس کے لیے جنت کی راہ آسان کردیتا ہے۔ جب کوئی قوم اللہ کے کسی گھر میں جمع ہو کر اللہ کی کتاب کی تلاوت کرتی ہے اور اسے آپس میں پڑھتی پڑھاتی ہے، تو ان پر سکینت کا نزول ہوتا ہے، (اللہ تعالیٰ کی) رحمت ان کو ڈھانپ لیتی ہے اور اللہ اپنے پاس موجود فرشتوں میں ان کا ذکر کرتا ہے۔ اور جس کا عمل اسے پیچھے کردے، اس کا نسب اسے آگے نہیں لے جاسکتا۔“اسے امام مسلم (حدیث نمبر: 2699) نے انہی الفاظ کے ساتھ روایت کیا ہے۔

"جس نے کسی مومن کی دنیا کی پریشانیوں میں سے کوئی پریشانی دور کردی، اللہ تعالیٰ بروز قیامت اس کی پریشانیوں میں سے ایک پریشانی دور کردے گا۔۔ جس نے کسی تنگ دست پر آسانی کی، اللہ اس پر دنیا وآخرت میں آسانی کرے گا۔ جس نے کسی مسلمان کی عیب پوشی کی، اللہ تعالیٰ دنیا وآخرت میں اس کی عیب پوشی فرمائے گا۔ اللہ تعالیٰ بندے کی مدد میں ہوتا ہے جب تک بندہ اپنے بھائی کی مدد میں ہوتا ہے۔ جو شخص علم کی تلاش میں کسی راستے پر چلا اللہ تعالیٰ اس كی وجہ سے اس کے لیے جنت کی راہ آسان کردیتا ہے۔ جب کوئی قوم اللہ کے کسی گھر میں جمع ہو کر اللہ کی کتاب کی تلاوت کرتی ہے اور اسے آپس میں پڑھتی پڑھاتی ہے، تو ان پر سکینت کا نزول ہوتا ہے، (اللہ تعالیٰ کی) رحمت ان کو ڈھانپ لیتی ہے اور اللہ اپنے پاس موجود فرشتوں میں ان کا ذکر کرتا ہے۔ اور جس کا عمل اسے پیچھے کردے، اس کا نسب اسے آگے نہیں لے جاسکتا۔“

اسے امام مسلم (حدیث نمبر: 2699) نے انہی الفاظ کے ساتھ روایت کیا ہے۔

حدیث نمبر (37)

اللہ تعالیٰ نے نیکیاں اور برائیاں لکھ دی ہیں

عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ رسول اللہﷺ اپنے رب تبارک و تعالیٰ سے روایت کرتے ہیں کہ:"بے شک اللہ تعالیٰ نے نیکیاں اور برائیاں لکھ دی ہیں۔ پھر اس کی وضاحت فرمائی: چنانچہ جس شخص نے کسی نیکی کا ارادہ کیا لیکن اسے نہ کر سکا تو اللہ تعالیٰ اسے اپنے پاس ایک مکمل نیکی لکھ لیتا ہے۔ اور اگر اس نے اس کا ارادہ کیا اور پھر اس پر عمل بھی کیا تو اللہ تعالی اپنے پاس دس گنا سے سات سو گنا تک بلکہ اس سے بھی کئی گنا زیادہ تک لکھ دیتا ہے۔ اور اگر کسی شخص نے کسی برائی کا اردہ کیا اور پھر اسے نہیں کیا، تو اسے اللہ تعالیٰ اپنے پاس ایک مکمل نیکی لکھ لیتا ہے، اور اگر اس کا ارادہ کیا اور پھر اس کا ارتکاب کر لیا تو اسے اللہ تعالیٰ صرف ایک برائی لکھتا ہے۔اسے امام بخاری (حدیث نمبر: 6491) اور امام مسلم(حدیث نمبر: 131) نے اپنی اپنی صحیح میں ان الفاظ کے ساتھ روایت کیا ہے

"بے شک اللہ تعالیٰ نے نیکیاں اور برائیاں لکھ دی ہیں۔ پھر اس کی وضاحت فرمائی: چنانچہ جس شخص نے کسی نیکی کا ارادہ کیا لیکن اسے نہ کر سکا تو اللہ تعالیٰ اسے اپنے پاس ایک مکمل نیکی لکھ لیتا ہے۔ اور اگر اس نے اس کا ارادہ کیا اور پھر اس پر عمل بھی کیا تو اللہ تعالی اپنے پاس دس گنا سے سات سو گنا تک بلکہ اس سے بھی کئی گنا زیادہ تک لکھ دیتا ہے۔ اور اگر کسی شخص نے کسی برائی کا اردہ کیا اور پھر اسے نہیں کیا، تو اسے اللہ تعالیٰ اپنے پاس ایک مکمل نیکی لکھ لیتا ہے، اور اگر اس کا ارادہ کیا اور پھر اس کا ارتکاب کر لیا تو اسے اللہ تعالیٰ صرف ایک برائی لکھتا ہے۔

اسے امام بخاری (حدیث نمبر: 6491) اور امام مسلم(حدیث نمبر: 131) نے اپنی اپنی صحیح میں ان الفاظ کے ساتھ روایت کیا ہے

حدیث نمبر (38)

جس شخص نے میرے کسی ولی سے دشمنی کی میرا اس سے اعلانِ جنگ ہے

ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہﷺ نے فرمایا کہ بیشک اللہ تعالیٰ فرماتا ہے:"جس شخص نے میرے کسی ولی (دوست) سے دشمنی کی میرا اس سے اعلانِ جنگ ہے۔ میرے نزدیک میرے فرض کردہ امور سے زیادہ محبوب کوئی اور چیز نہیں ہے جس کے ذریعے میرا بندہ میرا قرب حاصل کرے۔ اور میرا بندہ نوافل کے ذریعے میرے قریب ہوتا رہتا ہے یہاں تک میں اس سے محبت کرنے لگتا ہوں۔ جب میں اس سے محبت کرتا ہوں تو میں اس کا کان بن جاتا ہوں جس سے وہ سنتا ہے، اس کی آنکھ بن جاتا ہوں جس سے وہ دیکھتا ہے، اس کا ہاتھ بن جاتا ہوں جس سے وہ پکڑتا ہے، اس کا پاؤں بن جاتا ہوں جن سے وہ چلتا ہے۔ اگر وہ مجھ سے مانگے تو میں اسے ضرور عطا کرتا ہوں اور اگر وہ مجھ سے پناہ مانگے تو میں اسے ضرور پناہ دیتا ہوں۔“اسے امام بخاری (حدیث نمبر: 6502) نے روایت کیا ہے۔

"جس شخص نے میرے کسی ولی (دوست) سے دشمنی کی میرا اس سے اعلانِ جنگ ہے۔ میرے نزدیک میرے فرض کردہ امور سے زیادہ محبوب کوئی اور چیز نہیں ہے جس کے ذریعے میرا بندہ میرا قرب حاصل کرے۔ اور میرا بندہ نوافل کے ذریعے میرے قریب ہوتا رہتا ہے یہاں تک میں اس سے محبت کرنے لگتا ہوں۔ جب میں اس سے محبت کرتا ہوں تو میں اس کا کان بن جاتا ہوں جس سے وہ سنتا ہے، اس کی آنکھ بن جاتا ہوں جس سے وہ دیکھتا ہے، اس کا ہاتھ بن جاتا ہوں جس سے وہ پکڑتا ہے، اس کا پاؤں بن جاتا ہوں جن سے وہ چلتا ہے۔ اگر وہ مجھ سے مانگے تو میں اسے ضرور عطا کرتا ہوں اور اگر وہ مجھ سے پناہ مانگے تو میں اسے ضرور پناہ دیتا ہوں۔“

اسے امام بخاری (حدیث نمبر: 6502) نے روایت کیا ہے۔

حدیث نمبر (39)

اللہ تعالیٰ نے میری خاطر میری امت سے خطا اور نسیان کو معاف کردیا ہے

ابن عباس رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا:"بے شک اللہ تعالیٰ نے میری خاطر میری امت سےغلطی، بھول چوک اور جس پر انہیں مجبور کیا گیا ہو، معاف کر دیا ہے۔“یہ حدیث حسن ہے۔اسے امام ابن ماجہ (حدیث نمبر: 2045) اور امام بیہقی (سنن:7) نے روایت کیا ہے۔

"بے شک اللہ تعالیٰ نے میری خاطر میری امت سےغلطی، بھول چوک اور جس پر انہیں مجبور کیا گیا ہو، معاف کر دیا ہے۔“

یہ حدیث حسن ہے۔

اسے امام ابن ماجہ (حدیث نمبر: 2045) اور امام بیہقی (سنن:7) نے روایت کیا ہے۔

حدیث نمبر (40)

تم دنیا میں ایسے رہو گویا تم ایک پردیسی یا راہ گیر ہو

عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے میرے کندھے سے پکڑ کر فرمایا:"تم دنیا میں ایسے رہو گویا تم ایک پردیسی یا راہ گیر ہو۔“عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما فرمایا کرتے تھے:"جب تم شام کرو تو صبح کا انتظار مت کرو، اور جب صبح کرو تو شام کا انتظار مت کرو۔ اور اپنی صحت میں اپنی بیماری کے لیے اور اپنی زندگی میں اپنی موت کے لیے کچھ (عمل) کرلو۔“اسے امام بخاری (حدیث نمبر: 6416) نے روایت کیا ہے۔

"تم دنیا میں ایسے رہو گویا تم ایک پردیسی یا راہ گیر ہو۔“

عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما فرمایا کرتے تھے:

"جب تم شام کرو تو صبح کا انتظار مت کرو، اور جب صبح کرو تو شام کا انتظار مت کرو۔ اور اپنی صحت میں اپنی بیماری کے لیے اور اپنی زندگی میں اپنی موت کے لیے کچھ (عمل) کرلو۔“

اسے امام بخاری (حدیث نمبر: 6416) نے روایت کیا ہے۔

حدیث نمبر (41)

تم میں س کوئی شخص کامل مومن نہیں ہو سکتا یہاں تک کہ اس کی خواہشات میری لائی ہوئی شریعت کے تابع ہوجائیں۔

ابو محمد عبداللہ بن عمرو بن عاص رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ رسول اللہﷺ نے فرمایا :"تم میں س کوئی شخص (کامل) مومن نہیں ہو سکتا یہاں تک کہ اس کی خواہشات میری لائی ہوئی شریعت کے تابع ہوجائیں۔“یہ حدیث حسن صحیح ہے۔یہ حدیث ہمیں کتاب الحُجہ میں صحیح اسناد کے ساتھ روایت کی گئی ہے۔

"تم میں س کوئی شخص (کامل) مومن نہیں ہو سکتا یہاں تک کہ اس کی خواہشات میری لائی ہوئی شریعت کے تابع ہوجائیں۔“

یہ حدیث حسن صحیح ہے۔

یہ حدیث ہمیں کتاب الحُجہ میں صحیح اسناد کے ساتھ روایت کی گئی ہے۔

حدیث نمبر (42)

اے ابن آدم! جب تک تو مجھے پکارتا رہے گا اور مجھ سے امیدیں رکھے گا

انس بن مالک رضی اللہ عنہ سے روایت ہےوہ فرماتے ہیں کہ میں نے رسول اللہ ﷺ کو یہ فرماتے ہوئے سنا کہ اللہ تعالیٰ فرماتا ہے:"اے آدم کے بیٹے! جب تک تو مجھ سے دعائیں کرتا رہے گا اور مجھ سے امیدیں رکھے گا، میں تجھے بخشتا رہوں گا، چاہے تیرے گناہ کیسے بھی ہوں اور میں پروا نہیں کروں گا۔ اے آدم کے بیٹے! اگر تیرے گناہ آسمان کی بلندیوں تک پہنچ جائیں، پھر تو مجھ سے مغفرت طلب کرے تو میں تجھے بخش دوں گا اور میں کوئی پروا نہیں کروں گا۔ اے آدم کے بیٹے! اگر تو میرے پاس زمین بھر گناہ لے کر آئے، پھر تو مجھ سے اس حال میں ملاقات کرے کہ تو میرے ساتھ کسی کو شریک نہیں ٹھہراتا ہوگا تو میں تیرے پاس زمین بھر مغفرت لے کر آؤں گا۔“اسے امام ترمذی (حدیث نمبر: 3540) نے روایت کیا ہے۔اور اس حدیث کے بارے میں کہا کہ یہ حدیث حسن صحیح ہے

"اے آدم کے بیٹے! جب تک تو مجھ سے دعائیں کرتا رہے گا اور مجھ سے امیدیں رکھے گا، میں تجھے بخشتا رہوں گا، چاہے تیرے گناہ کیسے بھی ہوں اور میں پروا نہیں کروں گا۔ اے آدم کے بیٹے! اگر تیرے گناہ آسمان کی بلندیوں تک پہنچ جائیں، پھر تو مجھ سے مغفرت طلب کرے تو میں تجھے بخش دوں گا اور میں کوئی پروا نہیں کروں گا۔ اے آدم کے بیٹے! اگر تو میرے پاس زمین بھر گناہ لے کر آئے، پھر تو مجھ سے اس حال میں ملاقات کرے کہ تو میرے ساتھ کسی کو شریک نہیں ٹھہراتا ہوگا تو میں تیرے پاس زمین بھر مغفرت لے کر آؤں گا۔“

اسے امام ترمذی (حدیث نمبر: 3540) نے روایت کیا ہے۔

اور اس حدیث کے بارے میں کہا کہ یہ حدیث حسن صحیح ہے

حدیث نمبر (43)

وراثت کے مقررہ حصے ان کے حق داروں کو دو

ابن عباس رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ نبی کریم ﷺ نے فرمایا:"وراثت کے مقررہ حصے ان کے حق داروں کو دو۔ پھر جو کچھ باقی بچ جائے وہ میت کے سب سے زیادہ قریبی مرد (وارث) کے لیے ہے۔“اسے امام بخاری (حدیث نمبر: 6732) اور امام مسلم (حدیث نمبر: 1615) نے روایت کیا ہے۔

"وراثت کے مقررہ حصے ان کے حق داروں کو دو۔ پھر جو کچھ باقی بچ جائے وہ میت کے سب سے زیادہ قریبی مرد (وارث) کے لیے ہے۔“

اسے امام بخاری (حدیث نمبر: 6732) اور امام مسلم (حدیث نمبر: 1615) نے روایت کیا ہے۔

حدیث نمبر (44)

رضاعت سے (بھی) وہ تمام رشتے حرام ہو جاتے ہیں جو ولادت (نسب) کی وجہ سے حرام ہوتے ہیں۔

عائشہ رضی اللہ عنہا سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا:"رضاعت سے (بھی) وہ تمام رشتے حرام ہو جاتے ہیں جو ولادت (نسب) کی وجہ سے حرام ہوتے ہیں۔“اسے امام بخاری(حدیث نمبر: 2646) اور امام مسلم (حدیث نمبر: 1444) نے روایت کیا ہے۔

"رضاعت سے (بھی) وہ تمام رشتے حرام ہو جاتے ہیں جو ولادت (نسب) کی وجہ سے حرام ہوتے ہیں۔“

اسے امام بخاری(حدیث نمبر: 2646) اور امام مسلم (حدیث نمبر: 1444) نے روایت کیا ہے۔

حدیث نمبر (45)

اللہ اور اس کے رسول نے شراب کی خرید و فروخت کو حرام قرار دیا ہے

جابر بن عبداللہ رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ انہوں نے رسول اللہ ﷺ کو فتح مکہ کے سال جب کہ آپ ﷺ مکہ میں تھے فرماتے ہوئے سنا:"اللہ اور اس کے رسول نے شراب، مردار، سور اور بتوں کی خرید و فروخت کو حرام کردیا ہے۔ عرض کیا گیا: اے اللہ کے رسول! مردار کی چربی کے متعلق کیا حکم ہے؟ کیوں کہ وہ کشتیوں پر ملتے ہیں اور کھالوں پر روغن چڑھاتے ہیں اور اس سے لوگ چراغ روشن کرتے ہیں۔ آپ ﷺ نے فرمایا: نہیں، وہ حرام ہے۔ پھر رسول ﷺ نے اس وقت فرمایا: اللہ یہود کو تباہ کرے۔ اللہ نے جب ان پر چربی حرام کی تو ان لوگوں نے اس کو پگھلا کر اسے بیچنا شروع کر دیا اور اس کی قیمت کھانے لگے۔“اسے امام بخاری(حدیث نمبر: 2236) اور امام مسلم (حدیث نمبر: 1581) نے روایت کیا ہے۔

"اللہ اور اس کے رسول نے شراب، مردار، سور اور بتوں کی خرید و فروخت کو حرام کردیا ہے۔ عرض کیا گیا: اے اللہ کے رسول! مردار کی چربی کے متعلق کیا حکم ہے؟ کیوں کہ وہ کشتیوں پر ملتے ہیں اور کھالوں پر روغن چڑھاتے ہیں اور اس سے لوگ چراغ روشن کرتے ہیں۔ آپ ﷺ نے فرمایا: نہیں، وہ حرام ہے۔ پھر رسول ﷺ نے اس وقت فرمایا: اللہ یہود کو تباہ کرے۔ اللہ نے جب ان پر چربی حرام کی تو ان لوگوں نے اس کو پگھلا کر اسے بیچنا شروع کر دیا اور اس کی قیمت کھانے لگے۔“

اسے امام بخاری(حدیث نمبر: 2236) اور امام مسلم (حدیث نمبر: 1581) نے روایت کیا ہے۔

حدیث نمبر (46)

ہر نشہ آور چیز حرام ہے

ابو بردہ اپنے والد ابو موسیٰ اشعری رضی اللہ عنہ سے روایت کرتے ہیں کہ نبی کریمﷺ نے انہیں یمن کی طرف بھیجا، انہوں نے رسول اللہ ﷺ سے ان مشروبات کے بارے میں پوچھا جو وہاں بنائے جاتے تھے تو آپ ﷺ نے دریافت فرمایا: وہ کیا ہیں؟ ابوموسیٰ رضی اللہ عنہ نے بتایا کہ بتع اور مزر۔ ابو بردہ سے پوچھا گیا کہ "بتع“ کیا ہے؟ تو انہوں نے کہا کہ شہد سے تیار کی گئی شراب اور "مزر“ جَو سے تیار کی ہوئی شراب ہے۔ نبی کریم ﷺ نے جواب میں فرمایا: "ہر نشہ آور چیز حرام ہے۔“اسے امام بخاری(حدیث نمبر: 4343) نے روایت کیا ہے۔

اسے امام بخاری(حدیث نمبر: 4343) نے روایت کیا ہے۔

حدیث نمبر (47)

انسان نے پیٹ سے بُرا کوئی برتن نہیں بھرا

مقدام بن معدیکرب رضی اللہ عنہ سے روایت ہے وہ کہتے ہیں کہ میں نے رسول ﷺ کو یہ فرماتے ہوئے سنا:"آدمی نے اپنے پیٹ سے بدتر کوئی برتن نہیں بھرا۔ انسان کے لیے بس چند لقمے کافی ہیں جو اس کی پیٹھ کو سیدھا رکھیں اور اگر زیادہ ہی کھانا ضروری ہو تو پیٹ کا ایک تہائی حصہ اپنے کھانے کے لیے ہو، ایک تہائی پانی پینے کے لیے ہو اور ایک تہائی سانس لینے کے لیے خالی رکھے۔“اسے امام احمد (4/132)، امام ترمذی (حدیث نمبر: 2380) اور امام ابن ماجہ (حدیث نمبر: 3349) نے ورایت کیا ہےامام ترمذی فرماتے ہیں کہ یہ حدیث حسن ہے۔

"آدمی نے اپنے پیٹ سے بدتر کوئی برتن نہیں بھرا۔ انسان کے لیے بس چند لقمے کافی ہیں جو اس کی پیٹھ کو سیدھا رکھیں اور اگر زیادہ ہی کھانا ضروری ہو تو پیٹ کا ایک تہائی حصہ اپنے کھانے کے لیے ہو، ایک تہائی پانی پینے کے لیے ہو اور ایک تہائی سانس لینے کے لیے خالی رکھے۔“

اسے امام احمد (4/132)، امام ترمذی (حدیث نمبر: 2380) اور امام ابن ماجہ (حدیث نمبر: 3349) نے ورایت کیا ہے

امام ترمذی فرماتے ہیں کہ یہ حدیث حسن ہے۔

حدیث نمبر (48)

چار چیزیں جس شخص میں پائی جائیں وہ منافق ہے

عبداللہ بن عمرو رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ نبی کریم ﷺ نے فرمایا:"چار خصلتیں جس شخص میں ہوں گی وہ (مکمل) منافق ہو گا۔ اور جس میں ان میں سے کوئی ایک خصلت ہو گی، اس میں نفاق کی ایک خصلت ہو گی یہاں تک کہ وہ اسے چھوڑ دے: وہ جب بات کرے تو جھوٹ بولے، جب وعدہ کرے تو وعدہ خلافی کرے، جب جھگڑا کرے تو گالی گلوچ کرے اور جب عہد کرے تو بد عہدی کرے۔“اسے امام بخاری(حدیث نمبر: 34) اور امام مسلم (حدیث نمبر: 58) نے روایت کیا ہے۔

"چار خصلتیں جس شخص میں ہوں گی وہ (مکمل) منافق ہو گا۔ اور جس میں ان میں سے کوئی ایک خصلت ہو گی، اس میں نفاق کی ایک خصلت ہو گی یہاں تک کہ وہ اسے چھوڑ دے: وہ جب بات کرے تو جھوٹ بولے، جب وعدہ کرے تو وعدہ خلافی کرے، جب جھگڑا کرے تو گالی گلوچ کرے اور جب عہد کرے تو بد عہدی کرے۔“

اسے امام بخاری(حدیث نمبر: 34) اور امام مسلم (حدیث نمبر: 58) نے روایت کیا ہے۔

حدیث نمبر (49)

اگر تم اللہ تعالیٰ پر ایسے ہی توکل کرو جیسا کہ اس پر توکل کرنے کا حق ہے

عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ نبی کریمﷺ نے فرمایا:"اگر تم اللہ تعالیٰ پر ایسے ہی توکل (بھروسہ) کرو جیسا کہ اس پر توکل (بھروسہ)کرنے کا حق ہے، تو وہ تمہیں ایسے رزق دے گا جیسے پرندوں کو دیتا ہے، وہ صبح كو خالی پیٹ نکلتے ہیں اور شام کو پیٹ بھر کر لوٹتے ہیں۔“اسے امام احمد (1/30،52)، امام ترمذی (حدیث نمبر: 2344)، اور امام نسائی سنن کبری میں روایت کیا ہے -جیسا کہ تحفۃ الاشراف (8/79) میں مذکور ہے- نیز امام ابن ماجہ (حدیث نمبر: 4164) نے روایت کیا ہے، اور امام ابن حبان (حدیث نمبر: 730) اور امام حاکم (حدیث نمبر: 418) نے اسے صحیح قرار دیا ہے۔امام ترمذی فرماتے ہیں کہ یہ حدیث حسن صحیح ہے۔

"اگر تم اللہ تعالیٰ پر ایسے ہی توکل (بھروسہ) کرو جیسا کہ اس پر توکل (بھروسہ)کرنے کا حق ہے، تو وہ تمہیں ایسے رزق دے گا جیسے پرندوں کو دیتا ہے، وہ صبح كو خالی پیٹ نکلتے ہیں اور شام کو پیٹ بھر کر لوٹتے ہیں۔“

اسے امام احمد (1/30،52)، امام ترمذی (حدیث نمبر: 2344)، اور امام نسائی سنن کبری میں روایت کیا ہے -جیسا کہ تحفۃ الاشراف (8/79) میں مذکور ہے- نیز امام ابن ماجہ (حدیث نمبر: 4164) نے روایت کیا ہے، اور امام ابن حبان (حدیث نمبر: 730) اور امام حاکم (حدیث نمبر: 418) نے اسے صحیح قرار دیا ہے۔

امام ترمذی فرماتے ہیں کہ یہ حدیث حسن صحیح ہے۔

حدیث نمبر (50)

تمہاری زبان ہر وقت اللہ کے ذکر سے تر رہے

عبداللہ بن بسر رضی اللہ عنہ سے روایت ہے وہ فرماتے ہیں:نبی کریم ﷺ کے پاس ایک آدمی آیا اور اس نے کہا کہ اے اللہ کے رسول ﷺ! اسلام کے احکام بہت زیادہ ہوگئے ہیں۔ ان میں سے سب سے جامع چیز کون سی ہے کہ جس کو ہم مضبوطی سے تھام لیں؟۔ آپ ﷺ نے فرمایا:"تمہاری زبان ہر وقت اللہ کے ذکر سے تر رہنی چاہیے۔“اسے امام احمد (حدیث نمبر: 188، 190) نے روایت کیا ہے۔

نبی کریم ﷺ کے پاس ایک آدمی آیا اور اس نے کہا کہ اے اللہ کے رسول ﷺ! اسلام کے احکام بہت زیادہ ہوگئے ہیں۔ ان میں سے سب سے جامع چیز کون سی ہے کہ جس کو ہم مضبوطی سے تھام لیں؟۔ آپ ﷺ نے فرمایا:"تمہاری زبان ہر وقت اللہ کے ذکر سے تر رہنی چاہیے۔“

اسے امام احمد (حدیث نمبر: 188، 190) نے روایت کیا ہے۔

فیڈ بیک