فضائلِ اسلام

وصف

زیرمطالعہ کتاب اسلام کی فضیلت اور اسکی برتری پرمشتمل ہے .نیزاسمیں اس بات کا بیان ہے کہ اسلام الہی دین ہے جسکا ماننا سارے لوگوں کیلئے ضروری ہے اورجوشخص اسلام کے علاوہ دین کو اختیارکرے گا تو اللہ اسے ہرگزقبول نہیں کرے گا.اسی طرح اس رسالہ میں بدعتوں سے بچنے اور سنتوں کو اپنانے کی تعلیم دی گئی ہے اوراہل بدعت سے کنارہ کشی اختیارکرنے اور اہل سنت والجماعت سے تعلق رکھنے کی تاکید کی گئ ہے.

Download

کامل بیان

 فضائلِ اسلام

امام محمد بن عبد الوہاب رحمہ اللہ

 باب: اسلام کا وجوب

... اور ارشادِ باری تعالٰی :{جو شخص اسلام کے سوا اور دین تلاش کرے، اس کا دین قبول نہ کیا جائے گا اور وه آخرت میں نقصان پانے والوں میں ہوگا۔} [1](سورۂ آل عمران: 85)۔اور یہ فرمان الہی:{اور یہ کہ یہ دین میرا راستہ ہے، جو مستقیم ہے، سو اس راه پر چلو اور دوسری راہوں پر مت چلو کہ وه راہیں تم کو اللہ کی راه سے جدا کردیں گی۔} [2](سورۂ انعام: 153)۔

مجاہد رحمہ اللہ کہتے ہیں: ’سُبُل‘ سے مراد ’بدعات اور شبہات‘ ہیں۔

عائشہ رضی اللہ عنہا سے مروی ہے کہ اللہ کے رسول ﷺ نے ارشاد فرمایا :"جس نے ہمارے اس دین میں کوئی ایسی چیز ایجاد کی، جو اس میں سے نہیں ہے، تو وہ ناقابلِ قبول ہے۔" [3]۔اور ایک روایت میں ان الفاظ کے ساتھ مروی ہے:"جس نے ایسا عمل کیا، جس پر ہمارا حکم نہیں ہے، تو وہ نا قابل قبول ہے۔" [4]۔

اور بخاری میں ابو ھریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا:"میری امت کے سب لوگ جنت میں جائیں گے، ماسوا ان کے جنہوں نے انکار کیا۔ پوچھا گیا کہ یا رسول اللہ! انکار کرنے والے کون ہوں گے؟ آپ ﷺ نے فرمایا: جس نے میری اطاعت کی، وہ جنت میں جائے گا اور جس نے میری نافرمانی کی، اس نے انکار کیا ۔" [5]

صحیح بخاری میں ابن عباس رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا:"تین قسم کے لوگ اللہ تعالیٰ کو انتہائی ناپسند اور حد درجہ مبغوض ہیں: حرم میں الحاد برپا کرنے والا، اسلام میں جاہلیت کے طور طریقہ کى چاہت رکھنے والا اور کسی آدمی کا ناحق خون کرنے کے لیے کوشاں رہنے والا۔" [6](اسے امام بخاری نے روایت کیا ہے۔)اس کے تحت مطلق یا مقید (جس کا تعلق بعض سے ہو) ہر طرح کے جاہلی امور آتے ہیں۔ خواہ اس کا تعلق اہلِ کتاب سے ہو یا بُت پرستوں سے یا ان کے علاوہ کسی بھی شخص سے، جو رسولوں کی لائی ہوئی تعلیمات کا مخالف ہو۔

اور صحیح (بخاری) میں حذیفہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ انہوں نے فرمایا: ’’اے قاریو (علما) کی جماعت! تم استقامت کا راستہ اپناؤ, اس لیے کہ تم بہت زیادہ سبقت لے جانے والے ہو۔ اگر تم (جادۂ حق سے) دائیں بائیں گئے تو دور گمراہی میں جاگرو گے‘‘۔

محمد بن وضاح سے مروی ہے کہ جب وہ مسجد میں داخل ہوتے تو مجلس کے پاس کھڑے ہوکر انھیں وعظ ونصیحت فرماتے۔ ان کا کہنا ہے کہ ابن عیینہ نے مجالد ، انھوں نے شعبی اور انھوں نے مسروق کے واسطے سے خبر دی ہے کہ عبد اللہ (بن مسعود) رضی اللہ عنہ نے فرمایا ہے: ہر سال جو گزرتا ہے اس کے بعد آنے والا سال اس سے بدتر ہوتا ہے۔ میں یہ نہیں کہتا ایک سال دوسرے سے زرخیز ہوگا اور نہ کہتا ہوں کہ ایک حاکم دوسرے حاکم سے بہتر ہوگا، بلکہ میرا کہنا یہ ہے کہ تمہارے علما اور نیکوکار لوگ اٹھ جائیں گے (اُن کا انتقال ہوجائے گا)۔ پھر ان کی جگہ ایسے لوگ لیں گے جو امور دین میں قیاس آرائیاں کریں گے۔ اور اس طرح اسلام کو ڈھایا جائے گا اور اس کى شکل بدل دى جائے گى۔

 باب : اسلام کی تفسیر

اور اللہ تعالی کا فرمان :

{پھر بھی اگر یہ آپ سے جھگڑیں، توآپ کہہ دیں کہ میں اور میرے تابعداروں نے اللہ تعالیٰ کے سامنے اپنا سر تسلیم خم کر دیا ہے۔} [7]

(سورۂ آل عمران آیت: 20) الآیہ۔

اور صحیح میں ابن عمر رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا:

"اسلام یہ ہے کہ آپ اس بات کی گواہی دیں کہ اللہ کے سوا کوئی دوسرا معبودِ برحق نہیں اور محمد ﷺ اللہ کے رسول ہیں، نماز قائم کریں، زکوۃ دیں، رمضان کے روزے رکھیں اور اگر استطاعت ہو تو بیت اللہ کا حج کریں۔" [7]

اسی سلسلے میں ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مرفوعًا روایت ہے:

"مسلم وہ ہے، جس کی زبان اور ہاتھ سے دوسرے مسلم محفوظ رہیں۔" [8]

بھز بن حکیم سے مروی ہے، وہ اپنے والد سے اور ان کے والد ان کے دادا سے روایت کرتے ہیں کہ انہوں نے اللہ کے رسول ﷺ سے (اسلام کے بارے میں) دریافت کیا، تو آپ ﷺ نے فرمایا:

"اسلام یہ ہے کہ تمھارا دل اللہ کے لیے خم ہوجائے، تمہارا چہرہ اللہ کے رُخ ہوجائے، اور یہ کہ تم فرض نمازیں ادا کرو اور فرض زکوۃ نکالو۔"[10]

امام احمد نے اسے روایت کیا ہے۔

ابو قلابہ، عمرو بن عبسہ سے اور وہ ایک شامی شخص سے روایت کرتے ہیں، جو اپنے والد سے روایت کرتا ہے کہ اُنہوں نے اللہ کے رسول ﷺ سے دریافت کیا کہ اسلام کیا ہے؟ آپ ﷺ نے فرمایا: اسلام یہ ہے کہ تمہارا دل اللہ کے تابع ہوجائے اور دیگر مسلمان تمہاری زبان اور تمہارے ہاتھ سے محفوظ رہیں۔ اس شخص نے پھر پوچھا کون سا اسلام سب سے بہتر ہے؟ آپ ﷺ نے فرمایا: ایمان۔ اُس نے پوچھا: ایمان کیا ہے؟ آپ ﷺ نے فرمایا: ایمان یہ ہے کہ تم اللہ پر، اس کے فرشتوں پر، اس کی نازل کردہ کتابوں پر، اس کے رسولوں پر اور مرنے کے بعد دوبارہ زندہ کیے جانے پر ایمان لاؤ۔ [9].

 باب : فرمان باری تعالیٰ ’’جو شخص اسلام کے سوا اور دین تلاش کرے، اس کا دین ہرگز قبول نہیں ہو گا۔‘‘

ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا:"قیامت کے دن (بندوں کے) اعمال پیش کیے جائیں گے۔ چنانچہ جب نماز حاضر ہوگی، تو کہے گی: اے میرے رب! میں نماز ہوں۔ اُس سے اللہ تعالیٰ کہے گا: تم خیر وبھلائی پر ہو (یعنی تمہارے ساتھ خیر کا معاملہ ہوگا)۔ پھر روزہ آئے گا۔ اللہ اُس سے بھی کہے گا کہ تم خیر وبھلائی پر ہو۔ پھر اسی سے طرح دیگر اعمال پیش ہوں گے۔ اللہ اُن (سب) کے بارے میں یہی کہے گا کہ تم خیر وبھلائی پر ہو۔ پھر اسلام آئے گا اور کہے گا: اے میرے رب! تو سراپا سلامتی ہے اور میں اسلام ہوں۔ اس پر اللہ تعالی فرمائے گا: تم خیر وبھلائی پر ہو۔ آج کے دن میں تمہاری ہی بُنیاد پر مواخذہ کروں گا اور تمہاری ہی بنیاد پر نوازوں گا۔ اللہ تعالی کا ارشاد ہے:{جو شخص اسلام کے سوا اور دین تلاش کرے، اس کا دین قبول نہ کیا جائے گا اور وه آخرت میں نقصان پانے والوں میں ہوگا۔}" [10](سورہ آل عمران: 85)امام احمد نے اسے روایت کیا ہے۔

صحیح میں عائشہ رضی اللہ عنہا سے مروی ہے کہ اللہ کے رسول ﷺ نے ارشاد فرمایا:"جس نے ایسا عمل کیا، جس پر ہمارا حکم نہیں ہے، تو وہ نا قابل قبول ہے۔" [11]امام احمد نے اسے روایت کیا ہے۔

 باب : آپ ﷺ کی اتباع کے بعد کسی اور کی جانب دیکھنے کی ضرورت نہیں ہے

اور اللہ تعالی کا فرمان :{اور ہم نے تجھ پر یہ کتاب نازل فرمائی ہے، جس میں ہر چیز کا شافی بیان ہے۔} [12](سورہ النحل: 89)

امام نسائی وغیرہ نے نبی ﷺ سے روایت کیا ہے کہ آپ ﷺ نے عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ کے ہاتھ میں توریت کا ایک صفحہ دیکھ کر فرمایا:"اگر موسی -علیہ السلام- بھی زندہ ہوتے (اور میری نبوت کا زمانہ پا لیتے) تو ان کے لیے بھی میری پیروی کے سوا کوئی چارۂ کار نہیں ہوتا۔" [13]تو عمر رضی اللہ عنہ نے عرض کیا: ہم اللہ کو رب مان کر، اسلام کو دین مان کر اور محمد ﷺ کو رسول مان کر راضی ہیں۔

 باب : اسلام کے دعوے سے خارج ہونے کا بیان

اور اللہ تعالی کا فرمان :{اسی اللہ نے تمہارا نام مسلمان رکھا ہے۔ اس قرآن سے پہلے اور اس میں بھی۔} [14](سورۂ حج: 78)۔

حارث اشعری رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا:"میں بھی تمہیں ان پانچ چیزوں کا حکم دیتا ہوں، جن کا حکم مجھے اللہ نے دیا ہے: (۱) بات سننا (۲) (سننے کے بعد) اطاعت کرنا (۳) جہاد کرنا (4) ہجرت کرنا (۵) جماعت کے ساتھ رہنا، کیوں کہ جو جماعت سے ایک بالشت بھی ہٹا، اس نے اسلام کا پٹہ اپنی گردن سے باہر نکال پھینکا۔ مگر یہ کہ پھر اسلام میں واپس آ جائے۔ اور جس نے جاہلیت کا نعرہ لگایا، تو وہ جہنم کے ایندھنوں میں سے ایک ایندھن ہے۔ (یہ سن کر) ایک شخص نے پوچھا: اللہ کے رسول! اگرچہ وہ نماز پڑھے اور روزہ رکھے؟ آپ ﷺ نے فرمایا: ”ہاں۔ اگرچہ وہ نماز پڑھے اور روزہ رکھے۔ تو تم اللہ کے بندو! اس اللہ کو پکارو، جس نے تمہارا نام مسلم ومومن رکھا۔" [15]امام احمد اور امام ترمذی نے اس کی روایت کی ہے اور ترمذی نے حسن صحیح کہا ہے۔

اور صحیح میں ہے:"جس نے بالشت بھر بھی جماعت چھوڑی، اسے جاہلیت کی موت آئے گی۔} [16] نیز اسی روایت میں ہے: {کیا میرے رہتے ہوئے جاہلیت کے نعرے بلند ہو رہے ہیں؟!"ابو العباس کہتے ہیں: حسب ونسب، شہریت، جنس مسلک یا طریقۂ کار میں سے جو چیز بھی انسان کو اسلام کے دعوے سے خارج کرنے کا موجب بنے، وہ جاہلیت کا نعرہ اور اس کی گہار شمار کی جائے گی۔ بلکہ جب مہاجر اور انصار باہم جھگڑ پڑے اورمہاجر نے کہا : اے مہاجرو، میری مدد کے لیے آؤ۔ اور انصاری نے کہا : اے انصاریو! میری مدد کے لیے آؤ۔ تو نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا :"کیا میری نظروں کے سامنے جاہلیت کی گہار لگائی جائے گی!"اسی وجہ سے آپ ﷺ سخت ناراض ہوئے۔ (ابوالعباس کی بات حتم ہوئی۔)

 باب : اسلام میں کلی طور داخل ہونے اور اس کے علاوہ دیگر چیزوں کو چھوڑنے کا وجوب

اور اللہ تعالی کا فرمان :{ایمان والو! اسلام میں پورے پورے داخل ہوجاؤ۔} [17](سور‏ہ البقرہ: 208)مزید ارشاد ہے:{کیا آپ نے انہیں نہیں دیکھا، جن کا دعویٰ تو یہ ہے کہ جو کچھ آپ پر اور جو کچھ آپ سے پہلے اتارا گیا ہے، اس پر ان کا ایمان ہے؟} [18](سورہ النساء: 60) الآیہ۔فرمانِ باری تعالیٰ ہے:{جس دن بعض چہرے سفید ہوں گے اور بعض سیاه۔} [19](سورہ آل عمران: 106)۔ابن عباس رضی اللہ عنہما کہتے ہیں: اہل سنت اور اتحاد والوں کے چہرے سفید ہوں گے، جب کہ بدعتیوں اور اختلاف کرنے والوں کے چہرے سیاہ ہوں گے۔

عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا:"میری امت پر ایک زمانہ ضرور ایسا آئے گا، جیسا بنی اسرائیل پر آیا تھا۔ بالکل ایسے، جیسے ایک جوتی دوسری جوتی سے مشابہ ہوتی ہے۔ یہاں تک کہ اگر اُن میں سے کسی نے اپنی ماں کے ساتھ علانیہ طور پر زنا کیا ہوگا تو میری اُمت میں بھی ایسا شخص ہوگا، جو ایسا (گھناؤنا) کام کرے گا۔ بنی اسرائیل بہتّر (۷۲) فرقوں میں بٹ گئے تھے۔"[20]پوری حدیث اس طرح ہے:"اور میری یہ اُمت تہتّر (۷۳) فرقوں میں بٹ جائے گی۔ سارے فرقے جہنم میں جائیں گے، سوائے ایک فرقے کے۔ صحابہ نہے عرض کیا: وہ کون سا فرقہ ہوگا؟ آپ ﷺ نے فرمایا: اُس راستے پر چلنے والى جماعت، جس پر میں اور میرے صحابہ کاربند ہیں۔" [21]واہ رے زورِ نصیحت, جس نے دلوں کو زندہ کردیا!! امام ترمذی نے اسے روایت کیا ہے۔ نیز امام ترمذی نےمعاویہ کے طریق سےروایت کی ہے، جسے امام احمد اور امام ابوداود نے نقل کیا ہے، جس میں ہے:"میری امت میں ایسے لوگ پیدا ہوں گے، جن میں نفسانی خواہشات کی پیروی ایسے سرایت کرجائےگی، جیسے باؤلے کتے کے کاٹنے سے اس کے جراثیم انسان کے اندر سرایت کرجاتے ہیں اور اس کی ہر نس اور جوڑ میں پہنچ جاتے ہیں۔"اور آپ ﷺ کا یہ فرمان گزر چکا ہے : "اور اسلام میں جاہلیت کے رواج کو چاہنے والا۔"

 باب : بدعت کبیرہ گناہوں سے بھی خطرناک ہے

جیسا کہ اللہ عزّوجلّ کا فرمان ہے:{یقیناً اللہ تعالیٰ اپنے ساتھ شریک کیے جانے کو نہیں بخشتا اور اس کے سوا جسے چاہے بخش دیتا ہے۔} [22](سورہ النساء: 48)۔مزید ارشاد ہے:{اسی کا نتیجہ ہوگا کہ قیامت کے دن یہ لوگ اپنے پورے بوجھ کے ساتھ ہی ان کے بوجھ کے بھی حصے دار ہوں گے، جنہیں بے علمی سے گمراه کرتے رہے۔ دیکھو تو کیسا برا بوجھ اٹھا رہے ہیں؟} [23](سوہ النحل: 25)۔

اور صحیح میں ہے کہ آپ ﷺ نے خوارج کے متعلق فرمایا:"اُن سے جہاں بھی سامنا ہو، ان کو تہِ تیغ کردینا۔" [24]

اسی روایت میں ہے کہ آپ ﷺ نے ظالم حکمرانوں کو، جب تک کہ وہ نماز قائم کرتے رہیں، قتل کرنے سے منع فرمایا ہے۔

جریر بن عبداللہ رضی عنہ سے مروی ہے کہ ایک شخص نے صدقہ دیا، اُس کے بعد کئی لوگوں نے (اُسے دیکھ کر) صدقہ دینا شروع کردیا۔ اس پر اللہ کے رسول ﷺ نے فرمایا:"جو شخص اسلام میں کوئي اچھا طریقہ جاری کرے گا، اسے اس کا اجر ملے گا اور اس کے بعد اس پر عمل کرنے والے تمام لوگوں کے برابر اجر ملے گا۔ جب کہ عمل کرنے والوں کے اجر میں کوئی کمی نہیں کی جاۓ گی اور جو اسلام میں کوئی برا طریقہ جاری کرے گا، اس پر اس کا گناہ ہوگا اور اس پر عمل کرنے والے تمام لوگوں کے برابر گناہ ہوگا اور عمل کرنے والوں کے گناہ میں کوئی کمی نہیں کی جاۓ گی۔" [25]اسے امام مسلم نے روایت کیا ہے۔

مسلم ہی کی ایک روایت، جو ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے، جس کے الفاظ ہیں:"جس نے ہدایت کی طرف کسی کو بُلایا۔ (پھر فرمایا) جس نے کسی گمہراہی کی طرف بُلایا۔" [26]

باب : اللہ تعلی نے بدعتی کی توبہ پر روک لگادی ہے

یہ مراسیل حسن میں سے ہے اور انس رضی اللہ کی روایت کردہ ہے۔

ابن وضاح نے ایوب کے واسطے سے بیان کیا ہے کہ ہمارے یہاں ایک شخص تھا، جس کی(خلافِ سنت) ایک خاص رائے تھی۔ پھر اُس نے وہ رائے ترک کردی، تو میں محمد بن سیرین کے پاس گیا اور اُن سے کہا: کیا آپ نے محسوس کیا کہ فلاں نے اپنی رائے ترک کردی ہے؟ انہوں نے کہا: دیکھو وہ پھر کدھر گیا؟ درحقیقت حدیث کا آخری حصہ پہلے حصے کے مقابلے میں ان کے لئے زیادہ سخت ہے:"وہ اسلام سے نکل جائيں گے۔ پھر اس کی طرف لوٹ کر نہیں آئیں گے۔" [27]امام احمد بن حنبل سے اس کا معنی دریافت کیا گیا، تو آپ نے فرمایا: اس کا مطلب یہ ہے کہ اسے پھر توبہ کی توفیق نہیں ملے گی۔

 باب : فرمان باری تعالی ’’اے اہل کتاب! تم ابراہیم کی بابت کیوں جھگڑتے ہو؟‘‘

اور ارشادِ باری تعالٰی ہے:{اے اہل کتاب! تم ابراہیم کی بابت کیوں جھگڑتے ہو؟} [28](سورہ آل عمران: 65)۔فرمانِ باری تعالی تک:{اور وہ (ابراہیم) مشرکوں میں سے نہیں تھے۔} [29](آل عمران: 67)اللہ نے مزید فرمایا:{دین ابراہیمی سے وہی بےرغبتی کرے گا، جو محض بےوقوف ہو۔ ہم نے تو اسے دنیا میں بھی برگزیده کیا تھا اور آخرت میں بھی وه نیکوکاروں میں سے ہے۔} [30](سورہ البقرہ: 130)۔صحیح میں میں خوارج کی حدیث ہے جو گذر چکی ہے۔ اور صحیح ہی میں ہے کہ آپ ﷺ نے فرمایا ہے:{آل فلاں میرے اولیا اور دوست نہیں، میرے اولیا تو متقی اور پریہیز گار لوگ ہیں۔} [31]صحیح میں انس رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ اللہ کے رسول ﷺ سےذکر کیا گیا کہ ایک صحابی نے کہا ہے کہ میں گوشت نہیں کھاؤں گا اور دوسرے نے کہا ہے کہ میں ساری رات تہجد میں گزاروں گا اور نیند کی آغوش میں نہیں جاؤں گا، جب کہ تیسرے نے کہا ہے کہ میں ہمیشہ روزے سے رہوں گا اور کبھی روزہ نہیں چھوڑوں گا! اِس پر آپ ﷺ نے فرمایا:"لیکن میں تو قیام بھی کرتا ہوں، روزے بھی رکھتا ہوں، بنا روزے کے بھی رہتا ہوں، عورتوں سے شادیاں بھی کرتا ہوں اور گوشت بھی کھاتا ہوں۔ (یہ میری سنت ہے۔) اور جو میری سنت سے روگردانی کرے گا، تو وہ مجھ سے نہیں ہوگا۔" [32]ذرا غور کریں، جب عبادت کی غرض سے دنیا سے کنارہ کشی اختیارکرنے کا ارادہ رکھنے والے بعض صحابہ کے تئیں اس قدر سخت بات کہی جاسکتی ہے اور اسے سنت سے روگردانی قرار دیا جاسکتا ہے، تو بدعات اور غیر صحابہ کے بارے میں کیا خیال ہے ؟

 باب : فرمانِ باری تعالیٰ : "پس آپ یکسو ہو کر اپنا منہ دین کی طرف متوجہ کر دیں۔‘‘

ارشادِ باری تعالٰی ہے:{پس آپ یکسو ہو کر اپنا منہ دین کی طرف متوجہ کر دیں۔ اللہ تعالیٰ کی وه فطرت جس پر اس نے لوگوں کو پیدا کیا ہے۔ اللہ تعالیٰ کے بنائے کو بدلنا نہیں۔ یہی سیدھا دین ہے، لیکن اکثر لوگ نہیں سمجھتے۔} [33](سورہ الروم: 30)

نیز فرمانِ باری تعالیٰ ہے:{اسی کی وصیت ابراہیم اور یعقوب نے اپنی اوﻻدکو کی کہ ہمارے بچو! اللہ تعالیٰ نے تمہارے لیے اس دین کو پسند فرمالیا ہے۔ خبردار! تم مسلمان ہی مرنا۔} [34](سورہ البقرہ: 132)مزید فرمایا:{پھر ہم نے آپ کی جانب وحی بھیجی کہ آپ ملت ابراہیم حنیف کی پیروی کریں، جو مشرکوں میں سے نہ تھے۔} [35](سورہ النحل: 123)۔

ابن مسعود رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے ارشاد فرمایا ہے:"ہر نبی کے نبیوں میں سے ولی ہوتے ہیں اور اُن میں سے میرے ولی میرےابپ ابراہیم ہیں، جو میرے رب کے خلیل (دوست) بھی ہیں۔"پھر آپ ﷺ نے (یہ آیت) پڑھی:{سب لوگوں سے زیاده ابراہیم سے نزدیک تر وه لوگ ہیں، جنہوں نے ان کا کہا مانا اور یہ نبی اور جو لوگ ایمان ﻻئے۔ مومنوں کا ولی اور سہارا اللہ ہی ہے۔} [36](سورہ آل عمران: 68)امام ترمذی نے اسے روایت کیا ہے۔[37]

ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا:"اللہ تمہارے جسموں اور تمہاری شکلوں کی طرف نہیں دیکھتا، بلکہ وہ تو تمہارے دلوں اور اعمال کی طرف دیکھتا ہے۔" [38].

اور بخاری ومسلم نےابن مسعود رضی اللہ عنہ سے روایت کی ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا:"میں حوض کوثر پر تمہارا منتظر رہوں گا۔ میری اُمت کے کچھ لوگ میرے سامنے آئیں گے۔ پھر جب میں انھیں آبِ کوثر پلانے کے لیے جھکوں گا، تو انہیں مجھ سے دور ہٹا دیا جائے گا۔ میں کہوں گا: اے میرے رب! یہ میرے ساتھی (یعنی امتی) ہیں! تو کہا جائے گا: آپ کو پتہ نہیں کہ انہوں نے آپ کے بعد کیا بدعات گھڑی تھیں۔" [39]

صحیحین ہی میں ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا:"میری آرزو ہے کہ ہم اپنے بھائیوں کو دیکھیں۔ صحابہ رضی اللہ عنہم نے کہا: یا رسول اللہ! کیا ہم آپ کے بھائی نہیں ہیں؟ آپ ﷺ نے فرمایا: تم تو میرے اصحاب ہو اور میرے بھائی تو وہ لوگ ہیں، جو ابھی دنیا میں نہیں آئے۔ صحابہ رضی اللہ عنہم نے کہا: یا رسول اللہ! آپ کیسے پہچانیں گے اپنی امت کے ان لوگوں کو، جن کو آپ نے دیکھا ہی نہیں ہے؟ آپ ﷺ نے فرمایا: بھلا تم دیکھو، اگر ایک شخص کے سفید پیشانی سفید اور ہاتھ پاؤں والے گھوڑے سیاہ مشکی گھوڑوں میں مل جائیں، تو وہ اپنے گھوڑے نہیں پہچانے گا؟ صحابہ رضی اللہ عنہم نے کہا: بے شک وہ تو پہچان لےگا۔ آپ ﷺ نے فرمایا: تو میری امت کے لوگ قیامت کے دن وضو کے اثر سے سفید منہ اور سفید ہاتھ پاؤں رکھتے ہوں گے اور میں حوض کوثر پر ان کا منتظر رہوں گا۔ خبردار رہو! بعض لوگ میرے حوض پر سے اس طرح ہٹائے جائیں گے، جیسے بھٹکا ہوا اونٹ ہنکا دیا جاتا ہے۔ میں ان کو پکاروں گا کہ آؤ آؤ۔ لیکن کہا جائے گا: ان لوگوں نے آپ کے بعد اپنے تئیں بدل دیا تھا۔ (اور کافر ہو گئے تھے یا ان کی حالت بدل گئی تھی اور وہ بدعت اور ظلم میں گرفتار ہو گئے تھے) تب میں کہوں گا: جاؤ دور ہو، دور ہو۔“

صحیح بخاری کے الفاظ ہیں:"دریں اثنا کہ میں حوضِ کوثر پر کھڑا ہوں گا، ایک جماعت آئے گی۔ یہاں تک کہ جب میں انھیں پہچان لوں گا، تو میرے اور ان کے بیچ سے ایک شخص نمودار ہوگا اور اُن سے کہے گا: چلو! آپ ﷺ کہیں گے: انھیں کدھر لے جارہے ہو؟ وہ کہے گا: جہنم کی طرف۔ آپ ﷺ پوچھیں گے کہ ان کا کیا مسئلہ ہے؟ وہ کہے گا: یہ لوگ آپ ﷺ کے بعد اُلٹے پاؤں واپس ہو گئے تھے۔ پھر دوسری جماعت آئے گی۔ پہلے گروہ کے طرح ان کا بھی حال بیان کیا۔ آپ ﷺ نے فرمایا: اُن میں سے بھٹکے ہوئے اونٹوں کے بمقدار انتہائی کم لوگ ہی نجات پائیں گے۔" [43]

"دریں اثنا کہ میں حوضِ کوثر پر کھڑا ہوں گا، ایک جماعت آئے گی۔ یہاں تک کہ جب میں انھیں پہچان لوں گا، تو میرے اور ان کے بیچ سے ایک شخص نمودار ہوگا اور اُن سے کہے گا: چلو! آپ ﷺ کہیں گے: انھیں کدھر لے جارہے ہو؟ وہ کہے گا: جہنم کی طرف۔ آپ ﷺ پوچھیں گے کہ ان کا کیا مسئلہ ہے؟ وہ کہے گا: یہ لوگ آپ ﷺ کے بعد اُلٹے پاؤں واپس ہو گئے تھے۔ پھر دوسری جماعت آئے گی۔ پہلے گروہ کے طرح ان کا بھی حال بیان کیا۔ آپ ﷺ نے فرمایا: اُن میں سے بھٹکے ہوئے اونٹوں کے بمقدار انتہائی کم لوگ ہی نجات پائیں گے۔" [40]

صحیحین میں ابن عباس رضی اللہ عنہما سے مروی ہے:"میں وہی کہوں گا، جو صالح بندے نے کہا تھا: {میں ان پر گواه رہا جب تک ان میں رہا۔ پھر جب تو نے مجھ کو اٹھا لیا، تو تو ہی ان پر مطلع رہا اور تو ہر چیز کی پوری خبر رکھتا ہے۔}" [44](سورہ المائدہ: 117)

"میں وہی کہوں گا، جو صالح بندے نے کہا تھا: {میں ان پر گواه رہا جب تک ان میں رہا۔ پھر جب تو نے مجھ کو اٹھا لیا، تو تو ہی ان پر مطلع رہا اور تو ہر چیز کی پوری خبر رکھتا ہے۔}" [44]

(سورہ المائدہ: 117)

صحیحین ہی میں ابن عباس رضی اللہ عنھما ہی سے مرفوعًا روایت ہے:"ہر بچہ فطرت (اسلام) پر پیدا ہوتا ہے۔ پھر اس کے ماں باپ اس کو یہودی یا نصرانی یا مجوسی بنا لیتے ہیں۔ جیسے جانور ہمیشہ سالم جانور جنتا ہے۔ کیا تمہیں ان میں کوئی کان کٹا ہوا جانور محسوس ہوتا ہے؟ کان کاٹنے کا کام تو تم خود کرتے ہو۔" [45]پھر ابوہریرہ رضی اللہ نے یہ آیت پڑھی:{اللہ تعالیٰ کی وه فطرت، جس پر اس نے لوگوں کو پیدا کیا ہے۔۔} [46](سورہ الروم: 30)بخاری و مسلم۔

"ہر بچہ فطرت (اسلام) پر پیدا ہوتا ہے۔ پھر اس کے ماں باپ اس کو یہودی یا نصرانی یا مجوسی بنا لیتے ہیں۔ جیسے جانور ہمیشہ سالم جانور جنتا ہے۔ کیا تمہیں ان میں کوئی کان کٹا ہوا جانور محسوس ہوتا ہے؟ کان کاٹنے کا کام تو تم خود کرتے ہو۔" [45]

پھر ابوہریرہ رضی اللہ نے یہ آیت پڑھی:

{اللہ تعالیٰ کی وه فطرت، جس پر اس نے لوگوں کو پیدا کیا ہے۔۔} [46]

(سورہ الروم: 30)

بخاری و مسلم۔

حذیفہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، وہ کہتے ہیں:"لوگ رسول اللہ ﷺ سے خیر کی بابت سوال کیا کرتے تھ، جب کہ میں آپ ﷺ سے شر کے متعلق دریافت کیا کرتا تھا، اس خوف سے کہ کہیں وہ مجھے پانہ لے۔ چناچہ میں نے پوچھا اے اللہ کے رسول! ہم جاہلیت اور شر میں تھے۔ اللہ ہمارے لیے یہ خیر لے آیا۔ تو کیا اس خیر کے بعد بھی کوئی شر ہوگا؟ آپ نے فرمایا: ہاں! میں نے پوچھا کہ کیا اس شر کے بعد پھر سے خیر ہوگی؟ آپ نے فرمایا: ہاں! لیکن اس میں دخن (دھبہ، دلوں میں میل) بھی ہوگا۔ میں نے پوچھا: اس کا 'دخن' کیا ہوگا؟ فرمایا: ایسی قوم ہوگی، جو میری طریقہ کے علاوہ کسی اور طریقے کو اپنا لے گی۔ ان کی کچھ باتیں تمہیں بھلی معلوم ہوں گی اور کچھ بری۔ میں نے کہا کہ کیا اس خیر کے بعد بھی کوئی شر ہوگا؟ فرمایا: ہاں! ایسے داعیان ہوں گے، جو جہنم کے دروازوں کی طرف دعوت دیں گے، جو ان کی دعوت قبول کرلے گا، وہ اسے جہنم واصل کروادیں گے۔ میں نے کہا: اے اللہ کے رسول! ہمارے لیے ان کے اوصاف بیان کردیں۔ آپ ﷺ نے فرمایا: وہ ہماری ہی قوم میں سے ہوں گے اور ہماری ہی زبان بولتے ہوں گے۔ میں نے کہا: آپﷺ مجھے کیا حکم دیتے ہیں اگر میں انھیں پالوں؟ فرمایا: تم مسلمانوں کی جماعت اور ان کے امام سے وابستہ رہنا۔ میں نے کہا: اگر ان کی کوئی جماعت ہی نہ ہو اور نہ ہی امام؟ فرمایا: تو پھر ان تمام فرقوں سے علاحدہ ہوجانا، اگرچہ تجھے درخت کی جڑیں چبا کر ہی گزارا کیوں نہ کرنا پڑے، یہاں تک کہ تجھے اسی حال میں موت آجائے۔" [47]امام بخاری اور امام مسلم نے اس کی تخریج کی ہے اور مسلم نے ان لفظوں کا اضافہ کیا ہے:"پھر کیا ہوگا؟ آپ ﷺ نے فرمایا: دجال نکلے گا۔ اس کے ساتھ نہر اور آگ ہوگی۔ جو اس کی آگ میں ڈالا جائے گا، وہ اجر کا مستحق ہوگا۔ میں نے کہا: پھر کیا ہوگا؟ آپ ﷺ نے فرمایا: یہ قیامت کی گھڑی ہوگی۔" [48]ابو العالیہ کہتے ہیں:’’تم اسلام کی تعلیم حاصل کرو۔ پھر جب اسے سیکھ لو تو اس سے اعراض نہ کرو۔ صراطِ مستقیم کو لازم پکڑو، اس لیے کہ یہی اسلام ہے۔ صراطِ مستقیم سے دائیں بائیں مت جاؤ۔ اپنے نبی ﷺ کی سنت کو پکڑے رکھو۔ اور دیکھو، خواہشاتِ نفس کی پیروی سے دور رہا کرو۔‘‘ابو العالیہ کی بات ختم ہوئی۔

"لوگ رسول اللہ ﷺ سے خیر کی بابت سوال کیا کرتے تھ، جب کہ میں آپ ﷺ سے شر کے متعلق دریافت کیا کرتا تھا، اس خوف سے کہ کہیں وہ مجھے پانہ لے۔ چناچہ میں نے پوچھا اے اللہ کے رسول! ہم جاہلیت اور شر میں تھے۔ اللہ ہمارے لیے یہ خیر لے آیا۔ تو کیا اس خیر کے بعد بھی کوئی شر ہوگا؟ آپ نے فرمایا: ہاں! میں نے پوچھا کہ کیا اس شر کے بعد پھر سے خیر ہوگی؟ آپ نے فرمایا: ہاں! لیکن اس میں دخن (دھبہ، دلوں میں میل) بھی ہوگا۔ میں نے پوچھا: اس کا 'دخن' کیا ہوگا؟ فرمایا: ایسی قوم ہوگی، جو میری طریقہ کے علاوہ کسی اور طریقے کو اپنا لے گی۔ ان کی کچھ باتیں تمہیں بھلی معلوم ہوں گی اور کچھ بری۔ میں نے کہا کہ کیا اس خیر کے بعد بھی کوئی شر ہوگا؟ فرمایا: ہاں! ایسے داعیان ہوں گے، جو جہنم کے دروازوں کی طرف دعوت دیں گے، جو ان کی دعوت قبول کرلے گا، وہ اسے جہنم واصل کروادیں گے۔ میں نے کہا: اے اللہ کے رسول! ہمارے لیے ان کے اوصاف بیان کردیں۔ آپ ﷺ نے فرمایا: وہ ہماری ہی قوم میں سے ہوں گے اور ہماری ہی زبان بولتے ہوں گے۔ میں نے کہا: آپﷺ مجھے کیا حکم دیتے ہیں اگر میں انھیں پالوں؟ فرمایا: تم مسلمانوں کی جماعت اور ان کے امام سے وابستہ رہنا۔ میں نے کہا: اگر ان کی کوئی جماعت ہی نہ ہو اور نہ ہی امام؟ فرمایا: تو پھر ان تمام فرقوں سے علاحدہ ہوجانا، اگرچہ تجھے درخت کی جڑیں چبا کر ہی گزارا کیوں نہ کرنا پڑے، یہاں تک کہ تجھے اسی حال میں موت آجائے۔" [47]

امام بخاری اور امام مسلم نے اس کی تخریج کی ہے اور مسلم نے ان لفظوں کا اضافہ کیا ہے:

"پھر کیا ہوگا؟ آپ ﷺ نے فرمایا: دجال نکلے گا۔ اس کے ساتھ نہر اور آگ ہوگی۔ جو اس کی آگ میں ڈالا جائے گا، وہ اجر کا مستحق ہوگا۔ میں نے کہا: پھر کیا ہوگا؟ آپ ﷺ نے فرمایا: یہ قیامت کی گھڑی ہوگی۔" [48]

ابو العالیہ کہتے ہیں:

’’تم اسلام کی تعلیم حاصل کرو۔ پھر جب اسے سیکھ لو تو اس سے اعراض نہ کرو۔ صراطِ مستقیم کو لازم پکڑو، اس لیے کہ یہی اسلام ہے۔ صراطِ مستقیم سے دائیں بائیں مت جاؤ۔ اپنے نبی ﷺ کی سنت کو پکڑے رکھو۔ اور دیکھو، خواہشاتِ نفس کی پیروی سے دور رہا کرو۔‘‘

ابو العالیہ کی بات ختم ہوئی۔

ابو العالیہ کی اس بات پر غور کریں! یہ کس قدر اہم اور زمانہ شناسی پر مبنی ہے، جس میں خواہشاتِ نفس کی پیروی کرنے سے متنبہ کیا گیا ہے اور اسے اسلام سے انحراف وروگردانی قرار دیا گیا ہے! اسلام کی تفسیر سنت سے کرنے نیز ان کی جانب سے چوٹی کے تابعی علما کے بارے میں کتاب وسنت سے خروج کے اندیشے کے اظہار نے درج ذیل فرمانِ باری کے معنی و مفہوم کو واضح کر دیا ہے:{جب کبھی بھی ان کے رب نے ان سے کہا کہ اسلام لے آؤ۔} [49](سورہ البقرہ: 131)ساتھ ہی اس آیت کی بھی وضاحت ہو جاتی ہے:{اسی کی وصیت ابراہیم اور یعقوب نے اپنی اوﻻدکو کی کہ ہمارے بچو! اللہ تعالیٰ نے تمہارے لیے اس دین کو پسند فرمالیا ہے۔ خبردار! تم مسلمان ہی مرنا۔} [50](سورہ البقرہ: 132)۔نیز اس آیت کا مفہوم بھی نکھر کر سامنے آ جاتا ہے:{دین ابراہیمی سے وہی بےرغبتی کرے گا، جو محض بےوقوف ہو۔} [51](سورہ البقرہ: 130)ان جیسے بڑے بڑے اصولوں سے، جو حقیقت میں اصل الاصول کی حیثیت رکھتے ہیں، لوگ بے پروا ہیں۔ حالاں کہ ان کو جان لینے کے بعد اس باب کی حدیثوں اور ان جیسی دیگر حدیثوں کا مفہوم واضح ہو جاتا ہے۔ لیکن انسان کی حالت یہ ہے کہ وہ ان اور اِن جیسی دیگر آیتوں کو پڑھتا ہے اور سوچتا ہے کہ وہ ان آیتوں اور ان میں وارد تنبیہات کا مخاطب نہیں ہے۔ اور گمان رکھتا ہے کہ یہ سب باتیں تو ایسى قوموں کے بارے میں وارد ہوئی ہیں جو اپنے آپ کو اللہ کی تدبیر سے محفوظ سمجھتے تھے۔ اور اللہ کی چال سے صرف خسارہ اٹھانے والے لوگ ہی اپنے آپ کو مامون ومحفوظ سمجھتے ہیں۔

{جب کبھی بھی ان کے رب نے ان سے کہا کہ اسلام لے آؤ۔} [49]

(سورہ البقرہ: 131)

ساتھ ہی اس آیت کی بھی وضاحت ہو جاتی ہے:

{اسی کی وصیت ابراہیم اور یعقوب نے اپنی اوﻻدکو کی کہ ہمارے بچو! اللہ تعالیٰ نے تمہارے لیے اس دین کو پسند فرمالیا ہے۔ خبردار! تم مسلمان ہی مرنا۔} [50]

(سورہ البقرہ: 132)۔

نیز اس آیت کا مفہوم بھی نکھر کر سامنے آ جاتا ہے:

{دین ابراہیمی سے وہی بےرغبتی کرے گا، جو محض بےوقوف ہو۔} [51]

(سورہ البقرہ: 130)

ان جیسے بڑے بڑے اصولوں سے، جو حقیقت میں اصل الاصول کی حیثیت رکھتے ہیں، لوگ بے پروا ہیں۔ حالاں کہ ان کو جان لینے کے بعد اس باب کی حدیثوں اور ان جیسی دیگر حدیثوں کا مفہوم واضح ہو جاتا ہے۔ لیکن انسان کی حالت یہ ہے کہ وہ ان اور اِن جیسی دیگر آیتوں کو پڑھتا ہے اور سوچتا ہے کہ وہ ان آیتوں اور ان میں وارد تنبیہات کا مخاطب نہیں ہے۔ اور گمان رکھتا ہے کہ یہ سب باتیں تو ایسى قوموں کے بارے میں وارد ہوئی ہیں جو اپنے آپ کو اللہ کی تدبیر سے محفوظ سمجھتے تھے۔ اور اللہ کی چال سے صرف خسارہ اٹھانے والے لوگ ہی اپنے آپ کو مامون ومحفوظ سمجھتے ہیں۔

ابن مسعود رضی اللہ عنہ سے مروی ہے، وه کہتے ہیں:"اللہ کے رسول ﷺ نے ہمارے سامنے ایک لکیر کھینچی اور فرمایا: یہ اللہ کا راستہ ہے۔ پھر اس کے دائیں اور بائیں جانب کچھ لکیریں کھینچی اور کہا: یہ بھی چند راستے ہیں۔ ان میں سے ہر راستے پر شیطان ہوتا ہے، جو اس طرف بُلاتا ہے۔ اس کے بعد آپ نے یہ آیت کریمہ پڑھی:{اور یہ کہ یہ دین میرا راستہ ہے، جو مستقیم ہے۔ سو اس راه پر چلو اور دوسری راہوں پر مت چلو کہ وه راہیں تم کو اللہ کی راه سے جدا کردیں گی۔}" [52](سورۂ انعام: 153)احمد اور دارمی نے اسے روایت کیا ہے۔

"اللہ کے رسول ﷺ نے ہمارے سامنے ایک لکیر کھینچی اور فرمایا: یہ اللہ کا راستہ ہے۔ پھر اس کے دائیں اور بائیں جانب کچھ لکیریں کھینچی اور کہا: یہ بھی چند راستے ہیں۔ ان میں سے ہر راستے پر شیطان ہوتا ہے، جو اس طرف بُلاتا ہے۔ اس کے بعد آپ نے یہ آیت کریمہ پڑھی:

{اور یہ کہ یہ دین میرا راستہ ہے، جو مستقیم ہے۔ سو اس راه پر چلو اور دوسری راہوں پر مت چلو کہ وه راہیں تم کو اللہ کی راه سے جدا کردیں گی۔}" [52]

(سورۂ انعام: 153)

احمد اور دارمی نے اسے روایت کیا ہے۔

 باب : اسلام کی اجنبیت اور اجنبیوں کی فضیلت

اور اللہ تعالی کا فرمان:{پس کیوں نہ تم سے پہلے زمانے کے لوگوں میں سے ایسے اہل خیر لوگ ہوئے، جو زمین میں فساد پھیلانے سے روکتے۔ سوائے ان چند کے، جنہیں ہم نے ان میں سے نجات دی تھی۔} [53](سورہ هود آیت: 116)۔ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مرفوعًا روایت ہے:"اسلام کی ابتدا اجنبیت کی حالت میں ہوئی تھی اور ایک بار پھر اسلام اُسی اجنبیت کی حالت میں چلاجائے گا۔ سو مبارک باد ہے اجنبیوں کے لیے۔"اسے مسلم نے روایت کیا ہے۔ احمد نے ابن مسعود کے طریق سے اسے روایت کیا ہے، جس میں یہاضافہ ہے:"پوچھا گیا کہ اے اللہ کے رسول ﷺ! غرباء کون ہیں؟آپ ﷺنے جواب دیا کہ وہ لوگ جو اپنے گھر والوں سے دور اور اوجھل ہوگئے, اور جو لوگوں کے فساد میں مبتلا ہونے کے وقت صلاح پر ہوں گے۔" [55].

{پس کیوں نہ تم سے پہلے زمانے کے لوگوں میں سے ایسے اہل خیر لوگ ہوئے، جو زمین میں فساد پھیلانے سے روکتے۔ سوائے ان چند کے، جنہیں ہم نے ان میں سے نجات دی تھی۔} [53]

(سورہ هود آیت: 116)۔

ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مرفوعًا روایت ہے:

"اسلام کی ابتدا اجنبیت کی حالت میں ہوئی تھی اور ایک بار پھر اسلام اُسی اجنبیت کی حالت میں چلاجائے گا۔ سو مبارک باد ہے اجنبیوں کے لیے۔"

اسے مسلم نے روایت کیا ہے۔ احمد نے ابن مسعود کے طریق سے اسے روایت کیا ہے، جس میں یہاضافہ ہے:

"پوچھا گیا کہ اے اللہ کے رسول ﷺ! غرباء کون ہیں؟آپ ﷺنے جواب دیا کہ وہ لوگ جو اپنے گھر والوں سے دور اور اوجھل ہوگئے, اور جو لوگوں کے فساد میں مبتلا ہونے کے وقت صلاح پر ہوں گے۔" [41].[42]

ترمذی میں یہ حدیث کثیر بن عبد اللہ کے طریق سے مروی ہے، جو وہ اپنے والد سے اور ان کے والد ان کے دادا سے روایت کرتے ہیں:"مبارک باد ہو اجنبیوں کے لیے، جو میری ان سنتوں کی اصلاح کریں گے، جن میں لوگ بگاڑ پیدا کردیں گے۔" [56]

"مبارک باد ہو اجنبیوں کے لیے، جو میری ان سنتوں کی اصلاح کریں گے، جن میں لوگ بگاڑ پیدا کردیں گے۔" [43]

اور ابو امیہ سے مروی ہے، وہ کہتے ہیں کہ میں نےابوثعلبہ سے دریافت کیا کہ آپ اس آیت کے بارے میں کیا کہتے ہیں:{اے ایمان والو! اپنی فکر کرو۔ جب تم راه راست پر چل رہے ہو، تو جو شخص گمراه رہے، اس سے تمہارا کوئی نقصان نہیں۔}؟ [57](سورہ المائدة: 105)انہوں نے کہا: اللہ کی قسم! میں نے اس کے بارے میں سب سے زیادہ جانکار شخص (رسول اللہ ﷺ) سے پوچھا تھا۔"میں نے اللہ کے رسول ﷺ سے پوچھا، تو آپ ﷺ نے فرمایا: بلکہ تم ایک دوسرے کو بھلائی کا حکم دو اور برائی سے باز رکھو۔ یہاں تک کہ جب تم شدید بخالت، خواہشات نفسانی کی پیروی، دنیاوی امور کى دینی امور پر ترجیح اور ہر کس وناکس کا اپنی رائے کو بہت اچھا جاننا, دیکھو تو اپنے نفس کو لازم پکڑلو اور عوام کا پیچھا چھوڑ دو۔ اس لیے کہ تمہارے بعد ایسا زمانہ آنے والا ہے، جس میں صبر کرنے والا گویا انگاروں کو اپنى مٹھی میں لئے ہوگا۔ اس وقت عمل کرنے والے کو تمہارے جیسے پچاس عمل کرنے والوں کے برابر ثواب ملے گا۔ ہم نے پوچھا: کیا وہ عمل کرنے والے ہم میں سے ہوں گے؟ آپ ﷺ نے فرمایا: ہاں! تم میں سے ہوں گے!" [58]ابوداود اورترمذی نے اسے روایت کیا ہے۔

{اے ایمان والو! اپنی فکر کرو۔ جب تم راه راست پر چل رہے ہو، تو جو شخص گمراه رہے، اس سے تمہارا کوئی نقصان نہیں۔}؟ [57]

(سورہ المائدة: 105)

انہوں نے کہا: اللہ کی قسم! میں نے اس کے بارے میں سب سے زیادہ جانکار شخص (رسول اللہ ﷺ) سے پوچھا تھا۔

"میں نے اللہ کے رسول ﷺ سے پوچھا، تو آپ ﷺ نے فرمایا: بلکہ تم ایک دوسرے کو بھلائی کا حکم دو اور برائی سے باز رکھو۔ یہاں تک کہ جب تم شدید بخالت، خواہشات نفسانی کی پیروی، دنیاوی امور کى دینی امور پر ترجیح اور ہر کس وناکس کا اپنی رائے کو بہت اچھا جاننا, دیکھو تو اپنے نفس کو لازم پکڑلو اور عوام کا پیچھا چھوڑ دو۔ اس لیے کہ تمہارے بعد ایسا زمانہ آنے والا ہے، جس میں صبر کرنے والا گویا انگاروں کو اپنى مٹھی میں لئے ہوگا۔ اس وقت عمل کرنے والے کو تمہارے جیسے پچاس عمل کرنے والوں کے برابر ثواب ملے گا۔ ہم نے پوچھا: کیا وہ عمل کرنے والے ہم میں سے ہوں گے؟ آپ ﷺ نے فرمایا: ہاں! تم میں سے ہوں گے!" [58]

ابوداود اورترمذی نے اسے روایت کیا ہے۔

اسی معنی کی روایت ابن وضاح نے عبد اللہ بن عمر کى حدیث سے کی ہے۔ان کى حدیث کے الفاظ ہیں::"تمہارے بعد ایسا زمانہ آنے والا ہے، جس میں صبر کرنے والے اور اپنے دین کو لازم پکڑنے والے شخص کو تمہارے جیسے پچاس عمل کرنے والوں کے برابر ثواب ملے گا۔" [59]اس کے بعد کہا: ہم کو خبردی محمد بن سعید نے، انہوں نے کہا: ہم کو خبر دی اسد نے, وہ کہتے ہیں کہ سفیان بن عیینہ نے اسلم بصری سے روایت کیا اور وہ حسن بصری کے بھائی سعید سے روایت کرتے ہیں، جو اسے مرفوعًا روایت کرتے ہوئے کہتے ہیں:"آج تم اپنے رب کی طرف سے عطا کردہ واضح راستے پر گامزن ہو، اچھائیوں کا حکم دیتے ہو، بُرائیوں سے روکتے ہو، اللہ کی راہ میں جہاد کرتے ہو اور ابھی تمھارے اندر دو نشے ظاہر نہیں ہوئے ہیں: ایک جہالت کا نشہ اور دوسرا زندگی کی محبت کا نشہ۔ عنقریب ہی تم اس ڈگر سے ہٹ جاؤگے۔ پھر اُس دن کتاب وسنت کو لازم پکڑنے والے کو پچاس آدمیوں کے برابر ثواب ملے گا۔ کہا گیا: کیا وہ (عاملِ کتاب وسنت) ان (نافرمانوں) میں سے ہوگا؟ آپ ﷺ نے فرمایا: نہیں، بلکہ تم میں سے ہوگا۔"انہوں نے ہی ایک دیگر سند کے ذریعہ معافری سے روایت کیا ہے کہ اللہ کے رسول ﷺ نے فرمایا:"اجنبیوں کے لیے مبارک باد ہے، جو کتاب اللہ کو اس وقت لازم پکڑیں گے، جب اُسے چھوڑ دیا جائے گا اور سنت پر اُس وقت عمل پیرا ہوں گے، جب اسے بُجھا دیا جائے گا۔" [60]

"تمہارے بعد ایسا زمانہ آنے والا ہے، جس میں صبر کرنے والے اور اپنے دین کو لازم پکڑنے والے شخص کو تمہارے جیسے پچاس عمل کرنے والوں کے برابر ثواب ملے گا۔" [59]

اس کے بعد کہا: ہم کو خبردی محمد بن سعید نے، انہوں نے کہا: ہم کو خبر دی اسد نے, وہ کہتے ہیں کہ سفیان بن عیینہ نے اسلم بصری سے روایت کیا اور وہ حسن بصری کے بھائی سعید سے روایت کرتے ہیں، جو اسے مرفوعًا روایت کرتے ہوئے کہتے ہیں:

"آج تم اپنے رب کی طرف سے عطا کردہ واضح راستے پر گامزن ہو، اچھائیوں کا حکم دیتے ہو، بُرائیوں سے روکتے ہو، اللہ کی راہ میں جہاد کرتے ہو اور ابھی تمھارے اندر دو نشے ظاہر نہیں ہوئے ہیں: ایک جہالت کا نشہ اور دوسرا زندگی کی محبت کا نشہ۔ عنقریب ہی تم اس ڈگر سے ہٹ جاؤگے۔ پھر اُس دن کتاب وسنت کو لازم پکڑنے والے کو پچاس آدمیوں کے برابر ثواب ملے گا۔ کہا گیا: کیا وہ (عاملِ کتاب وسنت) ان (نافرمانوں) میں سے ہوگا؟ آپ ﷺ نے فرمایا: نہیں، بلکہ تم میں سے ہوگا۔"

انہوں نے ہی ایک دیگر سند کے ذریعہ معافری سے روایت کیا ہے کہ اللہ کے رسول ﷺ نے فرمایا:

"اجنبیوں کے لیے مبارک باد ہے، جو کتاب اللہ کو اس وقت لازم پکڑیں گے، جب اُسے چھوڑ دیا جائے گا اور سنت پر اُس وقت عمل پیرا ہوں گے، جب اسے بُجھا دیا جائے گا۔" [44][45]

 باب : بدعات سے ڈرانے کا بیان

عرباض بن ساریہ سے روایت ہے، وہ کہتے ہیں:"ایک مرتبہ رسول اللہ ﷺ نے ہمیں ایک موثر وعظ فرمایا، جس سے دل کانپ اٹھے اور آنکھیں بھر آئیں۔ ۔ہم نے کہا: اے اللہ کے رسول! یہ وعظ تو گویا کسی الوداع کہنے والےکا وعظ ہے۔ لہٰذا آپ ہمیں وصیت فرمائیں۔ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: میں تمہیں اللہ عز وجل سے ڈرنے، (امیر کی بات) سننے اور ماننے کی وصیت کرتا ہوں، اگرچہ تم پر کوئی حبشی غلام امیر بن جائے۔ (یاد رکھو!) تم میں سے جو (میرے بعد) زندہ رہے گا، وہ یقینا بہت اختلاف دیکھے گا۔ چنانچہ تم میری سنت کو اور ہدایت یافتہ خلفائے راشدین کے طریقے کو لازم پکڑنا۔ انہیں دانتوں سے خوب جکڑ لینا اور دین میں نئے نئے کام ایجاد کرنے سے بچنا۔ کیوں کہ ہر بدعت گمراہی ہے۔" [61]امام ترمذی نے اسے حسن صحیح قرار دیا ہے۔

"ایک مرتبہ رسول اللہ ﷺ نے ہمیں ایک موثر وعظ فرمایا، جس سے دل کانپ اٹھے اور آنکھیں بھر آئیں۔ ۔ہم نے کہا: اے اللہ کے رسول! یہ وعظ تو گویا کسی الوداع کہنے والےکا وعظ ہے۔ لہٰذا آپ ہمیں وصیت فرمائیں۔ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: میں تمہیں اللہ عز وجل سے ڈرنے، (امیر کی بات) سننے اور ماننے کی وصیت کرتا ہوں، اگرچہ تم پر کوئی حبشی غلام امیر بن جائے۔ (یاد رکھو!) تم میں سے جو (میرے بعد) زندہ رہے گا، وہ یقینا بہت اختلاف دیکھے گا۔ چنانچہ تم میری سنت کو اور ہدایت یافتہ خلفائے راشدین کے طریقے کو لازم پکڑنا۔ انہیں دانتوں سے خوب جکڑ لینا اور دین میں نئے نئے کام ایجاد کرنے سے بچنا۔ کیوں کہ ہر بدعت گمراہی ہے۔" [61]

امام ترمذی نے اسے حسن صحیح قرار دیا ہے۔

حذیفہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے، وہ کہتے ہیں: "ہر وہ عبادت، جسے محمد ﷺ کے صحابہ نے نہ کیا ہو، اسے تم نہ کرنا۔ کیوں کہ پہلوں نے بعد والوں کے لیے کچھ کہنے کو نہیں چھوڑا ہے۔ اس لیے، اے علما کی جماعت! تم اللہ سے ڈرو اور اپنے پیش تر لوگوں کے نقشِ قدم پر چلو۔"اسے امام ابو داود نے روایت کیا ہے۔دارمی کہتے ہیں: ہم کو خبر دی حکم بن مبارک نے، ان کو بتایا عمرو بن یحیٰ نے، انہوں نے اپنے والد سے سنا، جو اپنے والد سے بیان کرتے ہیں کہ انہوں نے کہا: ہم عبد اللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ کے دروازے پر ظہر کی نماز سے پہلے بیٹھے ہوئے تھے کہ جب وہ نکلیں تو ہم پیدل اُن کے ساتھ مسجد کی طرف چل پڑیں۔ اسی وقت ابو موسیٰ اشعری رضی اللہ عنہ بھی آگئے اور انہوں نے کہا: کیا ابوعبدالرحمن (ابن مسعود) نکلے؟ ہم نے کہا: نہیں! پھر وہ بھی ہمارے ساتھ بیٹھ گئے۔ جب وہ نکل کر آئے، تو کہا: اے ابوعبدالرحمن! میں نے مسجد میں ایک بات دیکھی، جو مجھے نئی لگی اور الحمد للہ میںخیر ہی کی امید کرتا ہوں۔ انہوں نے پوچھا: وہ کیا ہے؟تو انہوں نے کہا: اگر میں غلط بیانی کروں گا، تو ابھی آپ خود دیکھ لیں گے۔ انہوں نے کہا کہ میں نے کچھ لوگوں کو مسجد میں حلقہ بنائے بیٹھے دیکھا، جو نماز کا انتظار کر رہے تھے۔ ہر حلقے میں ایک (تلقین کرنے والا) شخص تھا۔ ان کے ہاتھوں میں کنکریاں تھیں۔ ایک شخص کہتا : سو بار "اللہ اکبر" کہو۔ سب سو دفعہ " اللہ اکبر" کہتے۔ پھر وہ کہتا: سوبار "لاالٰہ الا اللہ" کہو۔ سب سو بار " لاالٰہ الا اللہ" کہتے۔ پھر وہ کہتا: سو بار "سبحان اللہ" کہو، سب سو بار "سبحان اللہ" کہتے ۔۔۔۔۔۔ ابن مسعود نے فرمایا: تو آپ نے اُن سے کیا کہا؟ انہوں نے کہا: میں نے ابھی تک ان کو کچھ نہیں بولا، بلکہ آپ کے حکم کا انتظار کر رہا ہوں! ابن مسعود نے کہا: تم نے اُن سے یہ کیوں نہیں کہا کہ وہ اپنے گناہ شمار کریں اور تم نے ان کی نیکیاں ضائع ہونے سے بچانے کی ضمانت کیوں نہیں لی؟ پھر وہ خود اس حلقے میں تشریف لائے اور فرمایا: یہ میں کیا دیکھ رہا ہوں؟ لوگوں نے کہا: اے ابو عبد الرحمٰن! یہ کنکریاں ہیں۔ ہم ان کنکریوں پر تکبیر و تہلیل اور تسبیح گِنْ رہے ہیں۔ یہ سن عبد اللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ نے فرمایا : تم اس کے بجائے اپنے گناہ شمار کرو۔ میں ضمانت دیتا ہوں کہ اس طرح کم از کم تمہاری کوئی نیکی تو نہ ضائع ہو گی،۔اے امتِ محمد(ﷺ)! تم پہ افسوس ہے! تم کتنی جلدی برباد ہو گئے۔ ابھی نبی ﷺ کے صحابہ کرام اتنی بڑی تعداد میں موجود ہیں۔ نبیﷺ کے کپڑے تک موجود ہیں، جواب تک بوسیدہ نہیں ہوئے ہیں اور ہنوز آپ کے برتن بھی نہیں ٹوٹے ہیں!!اللہ کی قسم ! جس کے ہاتھ میں میری جان ہے! یا تو تم ملتِ محمدﷺ سے زیادہ نیک اور ہدایت یافتہ بن چکے ہو یا تم نے اپنے لیے ضلالت کا ایک دروازہ کھول لیا ہے! لوگوں نے کہا: اے ابو عبد الرحمٰن ! مگر ہمارا ارادہ اور نیت تو نیک ہے؟ فرمایا : کتنے لوگ ہیں، جن کے ارادے نیک ہوتے ہیں، لیکن نیکی اور خیر انہیں نصیب نہیں ہوتی!اللہ کے رسول ﷺ نے ہم سے بیان فرمایا ہے کہ کچھ لوگ قرآن پڑھیں گے، جو ان کے حلق سے نیچے نہیں اترے گا۔ اللہ کی قسم! امید ہے کہ ان میں سے بیش تر لوگ تم میں سے ہی ہوں گے۔ (یہ بات آپ ﷺ نے بنو تمیم کے ایک فرد ذو الخویصرہ کو مخاطب کر کے کہی تھی، جس نے آپ ﷺ کو کہا تھا کہ آپ عدل کریں۔) عمرو بن سلمہ کہتے ہیں: ہم نے دیکھا کہ ان میں سے اکثر لوگ جنگِ نہروان میں خوارج کے ساتھ ہمارے خلاف جنگ کر رہے تھے۔

اسے امام ابو داود نے روایت کیا ہے۔

دارمی کہتے ہیں: ہم کو خبر دی حکم بن مبارک نے، ان کو بتایا عمرو بن یحیٰ نے، انہوں نے اپنے والد سے سنا، جو اپنے والد سے بیان کرتے ہیں کہ انہوں نے کہا: ہم عبد اللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ کے دروازے پر ظہر کی نماز سے پہلے بیٹھے ہوئے تھے کہ جب وہ نکلیں تو ہم پیدل اُن کے ساتھ مسجد کی طرف چل پڑیں۔ اسی وقت ابو موسیٰ اشعری رضی اللہ عنہ بھی آگئے اور انہوں نے کہا: کیا ابوعبدالرحمن (ابن مسعود) نکلے؟ ہم نے کہا: نہیں! پھر وہ بھی ہمارے ساتھ بیٹھ گئے۔ جب وہ نکل کر آئے، تو کہا: اے ابوعبدالرحمن! میں نے مسجد میں ایک بات دیکھی، جو مجھے نئی لگی اور الحمد للہ میںخیر ہی کی امید کرتا ہوں۔ انہوں نے پوچھا: وہ کیا ہے؟

تو انہوں نے کہا: اگر میں غلط بیانی کروں گا، تو ابھی آپ خود دیکھ لیں گے۔ انہوں نے کہا کہ میں نے کچھ لوگوں کو مسجد میں حلقہ بنائے بیٹھے دیکھا، جو نماز کا انتظار کر رہے تھے۔ ہر حلقے میں ایک (تلقین کرنے والا) شخص تھا۔ ان کے ہاتھوں میں کنکریاں تھیں۔ ایک شخص کہتا : سو بار "اللہ اکبر" کہو۔ سب سو دفعہ " اللہ اکبر" کہتے۔ پھر وہ کہتا: سوبار "لاالٰہ الا اللہ" کہو۔ سب سو بار " لاالٰہ الا اللہ" کہتے۔ پھر وہ کہتا: سو بار "سبحان اللہ" کہو، سب سو بار "سبحان اللہ" کہتے ۔۔۔۔۔۔ ابن مسعود نے فرمایا: تو آپ نے اُن سے کیا کہا؟ انہوں نے کہا: میں نے ابھی تک ان کو کچھ نہیں بولا، بلکہ آپ کے حکم کا انتظار کر رہا ہوں! ابن مسعود نے کہا: تم نے اُن سے یہ کیوں نہیں کہا کہ وہ اپنے گناہ شمار کریں اور تم نے ان کی نیکیاں ضائع ہونے سے بچانے کی ضمانت کیوں نہیں لی؟ پھر وہ خود اس حلقے میں تشریف لائے اور فرمایا: یہ میں کیا دیکھ رہا ہوں؟ لوگوں نے کہا: اے ابو عبد الرحمٰن! یہ کنکریاں ہیں۔ ہم ان کنکریوں پر تکبیر و تہلیل اور تسبیح گِنْ رہے ہیں۔ یہ سن عبد اللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ نے فرمایا : تم اس کے بجائے اپنے گناہ شمار کرو۔ میں ضمانت دیتا ہوں کہ اس طرح کم از کم تمہاری کوئی نیکی تو نہ ضائع ہو گی،۔اے امتِ محمد(ﷺ)! تم پہ افسوس ہے! تم کتنی جلدی برباد ہو گئے۔ ابھی نبی ﷺ کے صحابہ کرام اتنی بڑی تعداد میں موجود ہیں۔ نبیﷺ کے کپڑے تک موجود ہیں، جواب تک بوسیدہ نہیں ہوئے ہیں اور ہنوز آپ کے برتن بھی نہیں ٹوٹے ہیں!!

اللہ کی قسم ! جس کے ہاتھ میں میری جان ہے! یا تو تم ملتِ محمدﷺ سے زیادہ نیک اور ہدایت یافتہ بن چکے ہو یا تم نے اپنے لیے ضلالت کا ایک دروازہ کھول لیا ہے! لوگوں نے کہا: اے ابو عبد الرحمٰن ! مگر ہمارا ارادہ اور نیت تو نیک ہے؟ فرمایا : کتنے لوگ ہیں، جن کے ارادے نیک ہوتے ہیں، لیکن نیکی اور خیر انہیں نصیب نہیں ہوتی!

اللہ کے رسول ﷺ نے ہم سے بیان فرمایا ہے کہ کچھ لوگ قرآن پڑھیں گے، جو ان کے حلق سے نیچے نہیں اترے گا۔ اللہ کی قسم! امید ہے کہ ان میں سے بیش تر لوگ تم میں سے ہی ہوں گے۔ (یہ بات آپ ﷺ نے بنو تمیم کے ایک فرد ذو الخویصرہ کو مخاطب کر کے کہی تھی، جس نے آپ ﷺ کو کہا تھا کہ آپ عدل کریں۔) عمرو بن سلمہ کہتے ہیں: ہم نے دیکھا کہ ان میں سے اکثر لوگ جنگِ نہروان میں خوارج کے ساتھ ہمارے خلاف جنگ کر رہے تھے۔




[1] سورۂ آل عمران آیت: 185۔

[3] بخاری کتاب الصلح(2550)، مسلم کتاب الأقضیہ (1718)، ابوداؤد کتاب السنہ (4606)، ابن ماجہ مقدمہ (14), احمد (6/256)۔

[5] بخاری کتاب الاعتصام بالکتاب والسنہ (6851)، مسلم الإمارۃ (1835)، احمد بن حنبل (2/361)۔

[6] بخاری کتاب الدیات (6488)۔

[7] مسلم کتاب الإيمان (8)، ترمذي کتاب الإيمان (2610)، نسائي کتاب الإيمان وشرائعه (4990)، أبو داود کتاب السنة (4695)، ابن ماجه مقدمة (63)، احمد (1/52)

[8] ترمذي کتاب الإيمان (2627)، نسائي کتاب الإيمان وشرائعه (4995)، احمد (2/379)۔

[9] احمد (4/114).

[10] سورہ آل عمران آیت: 85۔

[11] بخاري کتاب الصلح (2550) ، مسلم کتاب الأقضية (1718)، ابو داود کتاب السنة (4606)، ابن ماجه مقدمہ (14)، احمد (6/256).

[12] سورہ النحل آیت: 89۔

[13] احمد (3/387)، دارمي مقدمہ (435)۔

[14] سورۂ حج آیت: 78۔

[15] ترمذي کتاب الأمثال (2863)، احمد (4/130).

[16] بخاري کتاب الفتن (6646)، مسلم کتاب الإمارة (1849)، احمد (1/297)، دارمي کتاب السير (2519).

[17] سورہ البقرہ آیت: 208۔

[20] ترمذي کتابُ الإيمان (2641)۔

[22] سورہ النساء آیت: 48۔

[24] بخاري کتاب المناقب (3415)، مسلم کتاب الزكاة (1066)، نسائي کتاب تحريم الدم (4102)، ابو داود کتاب السُنّہ (4767)، احمد (1/131).

[25] مسلم کتابُ الزكاة (1017)، ترمذي کتابُ العلم (2675)، نسائي کتابُ الزكاة (2554)، ابن ماجه مقدمہ (203)، احمد (4/359)، دارمي مقدمہ (514).

[26] مسلم کتابُ العلم (2674)، ترمذي کتاب العلم (2674)، ابو داود کتاب السُنّہ (4609)، احمد (2/397)، دارمي مقدمہ (513).

[27] بخاري کتاب التوحيد (6995)، مسلم کتاب الزكاة (1064)، نسائي کتاب الزكاة (2578)، ابو داؤد کتاب السنّہ (4764)، احمد (3/68).

[28] سورہ آل عمران آیت: 65۔

[33] سورہ الروم آیت: 30۔

[34] سورہ البقرۃ آیت: 132۔

[36] سنن ترمذي تفسير القرآن (2995)، احمد (1/430).

[38] مسلم کتاب البر والصلة والآداب (2564).

[39] بخاري کتاب الفتن (6642)، مسلم کتاب الفضائل (2297)، ابن ماجه کتاب المناسك (3057)، احمد (5/393).

[40] بخاري کتابُ الرقاق (6215).

[41] سورہ ھود آیت: 116۔

[43] ترمذي کتاب الإيمان (2630).

[44] ترمذي کتاب تفسير القرآن (3058)، ابن ماجه کتاب الفتن (4014).

[45]

علمی زمرے:

فیڈ بیک