شوگر(ذیابیطس)اوربلڈ پریشرکے مریض رمضان میں کیا کریں؟

وصف

سوال:کیا کوئی مسلمان ان دنوں کا فدیہ دے سکتا ہے جن میں وہ صحیح سلامت ہونے کے باوجود روزہ نہیں رکھا؛ کیونکہ وہ ذیابیطس اور بلڈ پریشر کی بیماری کا سامنا کررہا تھا؟ اور کیا وہ کسی مسکین کو ایک بار کھانا کھلائے گا یا دو بار؟ کیونکہ وہ بیرون ملک کام کرتا ہے اور اپنے ملک میں ایک ماہ کی چھٹی پر آیا ہے۔

Download
اس پیج کے ذمّے دار کو اپنا تبصرہ لکھیں

کامل بیان

شوگر(ذیابیطس)اوربلڈ پریشرکے مریض رمضان میں کیا کریں؟

[الأُردية –اُردو Urdu]

فتوی :اسلام سوال وجواب سائٹ

—™

ترجمہ: اسلام سوال وجواب سائٹ

مراجعہ وتنسیق:اسلام ہاؤس ڈاٹ کام

 ماذا يفعل مريض السكر وضغط الدم في رمضان؟

فتوى موقع الإسلام سؤال وجواب

—™

ترجمة: موقع الإسلام سؤال وجواب

مراجعة وتنسيق:موقع دارالإسلام

شوگر(ذیابیطس)اوربلڈ پریشرکے مریض رمضان میں کیا کریں؟

222148سوال:کیا کوئی مسلمان ان دنوں کا فدیہ دے سکتا ہے جن میں وہ صحیح سلامت ہونے کے باوجود روزہ نہیں رکھا؛ کیونکہ وہ ذیابیطس اور بلڈ پریشر کی بیماری کا سامنا کررہا تھا؟ اور کیا وہ کسی مسکین کو ایک بار کھانا کھلائے گا یا دو بار؟ کیونکہ وہ بیرون ملک کام کرتا ہے اور اپنے ملک میں ایک ماہ کی چھٹی پر آیا ہے۔

Published Date: 2016-06-06

جواب:

الحمد للہ

اول:

شوگر( ذیابیطس) اور بلڈ پریشر کے تمام مریض یکساں درجے کے نہیں ہوتے، اطباء انہیں مختلف انواع و اقسام میں تقسیم کرتے ہیں، چنانچہ کچھ مریض ایسے بھی ہوتے ہیں جو طبی تعلیمات کو سامنے رکھتے ہوئے آرام سے روزہ رکھ سکتے ہیں، لیکن کچھ بالکل بھی روزہ نہیں رکھ سکتے۔

لیکن اگر ذیابیطس اور بلڈ پریشر دونوں بیماریاں یکجا ہو جائیں تو ایسی صورت میں مریض کیلیے روزہ رکھنا مزید دشوار ہو جاتا ہے۔

اسی چیز کو مد نظر رکھتے ہوئے ، مریض کو مُعالج سے مشورہ کر لینا چاہیے اور پھر معُالج کے مشورے سے روزہ رکھنے یا چھوڑنے کا فیصلہ کرے؛ کیونکہ ہر قسم کے مریض کو روزہ چھوڑنے کی اجازت نہیں ہے جیسے کہ پہلے فتوی نمبر: (1319) میں گزر چکا ہے۔

دوم:

ذیابیطس اور بلڈ پریشر چونکہ دائمی امراض میں سے ہیں ، اس لیے عام طور پر ایسے مریض قضا دینے سے بھی قاصر ہوتے ہیں، اس لیے آپ کیلیے ہر دن کے بدلے میں ایک مسکین کو کھانا کھلانا واجب ہے،اوراس پر کوئی قضا نہیں ہے۔

نیز ایک مسکین کو کھانا کھلانے کا مطلب یہ ہے کہ اسے ایک وقت کا کھانا کھلایا جائے، اور مریض شخص کو یہ اختیار حاصل ہے کہ کھانا پکائے اور مسکین کو بلا کر کھلا دے یا پھر پکا ہوا کھانا یا اناج ان تک پہنچا دے ، ان تینوں طریقوں میں سے کوئی بھی طریقہ اپنانے سے مسکین کو کھانا کھلانے کا فریضہ ادا ہو جائے گا ، جیسا کہ پہلے بھی فتوی نمبر: (49944) اور (101100) میں گزر چکا ہے۔

واللہ اعلم.

اسلام سوال و جواب

(مُحتاج دُعا: [email protected])

فیڈ بیک