پہلے اولاد (کی نعمت) حاصل کرے یا فریضٔہ حج ادا کرے؟

وصف

سوال: میں اور میری اہلیہ اس سال حج کیلئے منصوبہ بندی بنا رہے تھے، لیکن ہمیں لگتا ہے کہ آئندہ سال تک حج مؤخر کرنا پڑیگا، لیکن آئندہ سال ہمارا نعمتِ اولاد حاصل کرنے کا ارادہ ہے، میری بیوی اس کیلئے پر عزم ہے، اور اولاد کیلئے ہم مزید انتظار بھی نہیں کر سکتے کیونکہ ہماری شادی کو دو سال سے زیادہ عرصہ ہو گیا ہے، اور اس سے زیادہ عرصہ اولاد سے محرومی کوئی دانشمندانہ اقدام نہیں ہے، خلاصہ یہ ہے کہ ہم حج کیلئے اپنی توجہ مرکوز کریں یا حصول اولاد کیلئے؟
میں اپنی بیوی کو اس بات پر قائل کرنے کی کوشش کر رہا ہوں کہ حج کیلئے ہم مزید ایک سال کا انتظار کر لیتے ہیں کیونکہ حج ادا کرنا اہم فریضہ ہے، لیکن میری اہلیہ کا ماننا ہے کہ بچہ پیدا کرنا بھی اہم فریضہ ہے، میں اس کے اس بات پر متفق ہوں تو اب ہم ان دو فریضوں میں سے کس فریضہ کو ترجیح دیں؟

فیڈ بیک