حج بدل کے احکام وضوابط

وصف

سوال: ہمارے ملک میں کچھ ایسے حج گروپ ہیں جو حج بدل کی سہولت فراہم کرتے ہیں، یعنی ہم انہیں نقدی رقم دیتے ہیں -یہی حج کرنے کیلئے رقم ہوتی ہے- اور پھر اہل علم افرادہماری طرف سے حج کرتے ہیں، تو کیا یہ جائز ہے؟

Download
اس پیج کے ذمّے دار کو اپنا تبصرہ لکھیں

کامل بیان

حج بدل کے احکام وضوابط

[الأُردية –اُردو Urdu]

فتوی :اسلام سوال وجواب سائٹ

—™

ترجمہ: اسلام سوال وجواب سائٹ

مراجعہ وتنسیق:اسلام ہاؤس ڈاٹ کام

 ضوابط وأحكام حج البدل

فتوى:موقع الإسلام سؤال وجواب

—™

ترجمة: موقع الإسلام سؤال وجواب

مراجعة وتنسيق:موقع دارالإسلام

حج بدل کے احکام وضوابط

: 111794 سوال: ہمارے ملک میں کچھ ایسے حج گروپ ہیں جو حج بدل کی سہولت فراہم کرتے ہیں، یعنی ہم انہیں نقدی رقم دیتے ہیں -یہی حج کرنے کیلئے رقم ہوتی ہے- اور پھر اہل علم افرادہماری طرف سے حج کرتے ہیں، تو کیا یہ جائز ہے؟

Published Date: 2013-10-12

جواب:

الحمد للہ :

بہت سے لوگ حج بدل میں تساہل سے کام لیتے ہیں، جبکہ حجِ بدل کیلئے کچھ خاص شروط و ضوابط اور احکامات ہیں، جو کہ مندرجہ ذیل ہیں، اللہ تعالی سے امید ہے کہ ان سے فائدہ ہوگا:

-1 حجۃ الاسلام (فرض حج) کی ہر لحاظ سے طاقت رکھنے والے شخص کی جانب سے حج ِ بدل ادا کرنا صحیح نہیں ہے ۔

ابن قدامہ رحمہ اللہ کہتے ہیں:

’’اس بات پر اجماع ہے کہ فرض حج کی طاقت رکھنے والے شخص کی طرف سے کوئی دوسرا شخص حج ادا نہیں کرسکتا ہے ، ابن منذر کہتے ہیں کہ : اہل علم کا اس بات پر اجماع ہے کہ جس پر حج ادا کرنا واجب ہو اور وہ اس کو ادا کرنے کی طاقت بھی رکھتا ہو، تو اس کی طرف سے کیا جانے والا حج ِبدل کفایت نہیں کریگا‘‘۔ انتہی ( المغني : 3 / 185) ۔

2 -حجِ بدل ایسے مریض کی جانب سے کیا جائے گا جس کے شفا یاب ہونے کی امید نہ ہو، یا بدنی طور پر عاجز ہو، یا میت کی طرف سے حجِ بدل کیا جائے گا، کسی غریب، یا سیاسی اور امنی طور پر عاجز شخص کی جانب سے حج بدل ادا نہیں کیا جاسکتا ہے ۔

امام نووی رحمہ اللہ کہتے ہیں:

’’جمہور علمائے کرام اس بات کے قائل ہیں کہ حج میں میت، اور بیماری سے شفایابی سے مایوس عاجز شخص کی جانب سے نیابت کی جاسکتی ہے، قاضی عیاض نے مالکی فقہاء کی ان احادیث -جن میں میت کی جانب سے روزہ رکھنا اور حج کرنے کا ذکر ملتا ہے-کی مخالفت میں انکی جانب سے ایک عذر پیش کیا ہے کہ یہ روایت مضطرب ہے، لیکن ان کا یہ عذر باطل ہے، کیونکہ حدیث میں کوئی اضطراب نہیں ہے ، اور اسکے صحیح ہونے کیلئے امام مسلم کا اپنی صحیح میں ذکر کرنا ہی کافی ہے‘‘۔

( شرح النووي على مسلم : 8 / 27 )۔

جس حدیث کی جانب امام نووی رحمہ اللہ نے اشارہ کیا ہے اور یہ ذکر کیا ہےکہ بعض مالکی علماء نے اس پر اضطراب کا حکم لگایا ہے، وہ حدیث یہ ہے: عبد اللہ بن بریدہ اپنے والد سے بیان کرتے ہیں کہ: ہم رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس بیٹھے تھے کہ ایک خاتون نے آکر کہا: ’’میں نے اپنی والدہ کو ایک لونڈی صدقہ میں دی تھی، اور پھر وہ فوت ہوگئی، تو آپﷺ نے فرمایا: ’’تمہیں تمہارا اجر مل گیا ہے، اور وراثت کی وجہ سے لونڈی تمہارے پاس پھر واپس آگئی ہے، اس نے کہا: اےاللہ کے رسول! میری والدہ پر ایک ماہ کے فرض روزےتھے، تو کیا میں یہ روزے انکی طرف سے رکھوں؟"آپ ﷺنے فرمایا: ’’اسکی طرف سے روزے رکھو، پھر اس نےکہا: ’’میری والدہ نے کبھی بھی حج نہیں کیا ، تو کیا میں اسکی طرف سے حج کر سکتی ہوں؟‘‘، آپ ﷺنے فرمایا: ’’اسکی طرف سے حج کرو‘‘(مسلم (1149)۔

حافظ ابن حجر رحمہ اللہ کہتےہیں:

’’حج میں نیابت کے قائلین اس بات پر متفق ہیں کہ کسی کی طرف سے فرض حج نہیں کیا جاسکتا، سوائے فوت شدگان، یا فالج کے مریضوں کے، چنانچہ ان میں وہ مریض شامل نہیں ہوسکتے جن کے شفا یاب ہونے کی امیدہے، اور نہ ہی مجنون ؛ اس لئے کہ اسکے افاقہ کی امید ہے، نہ ہی قیدی؛ اس لئے کہ وہ جیل سے باہر بھی آسکتا ہے، اور نہ ہی فقیر؛ اس لئے کہ وہ بھی غنی ہوسکتا ہے‘‘انتہی

( فتح الباری : 4 / 70)۔

دائمی کمیٹی کے علماء سے پوچھا گیا:

کیا کوئی مسلمان جس نے پہلے اپنا حج کیا ہوا ہو مُلک چین سے تعلق رکھنے والے اپنے کسی رشتہ دار کی طرف سے حج ادا کرسکتا ہے ؟ کیونکہ وہ شخص حج کی ادائیگی کیلئے سفر کرنے کی استطاعت نہیں رکھتا ہے

تو انہوں نے جواب دیا:

’’ایسا مسلمان جس نے اپنا حج ادا کر لیا ہے وہ کسی دوسرے کی طرف سے حجِ بدل ادا کر سکتا ہے، جیسے کہ وہ عمر رسیدہ ہے، یا ایسی بیماری میں مبتلا ہے جس سے شفا یاب ہونے کی امید نہیں ہے ، یا وہ فوت ہوچکا ہے؛ اس بارے میں صحیح احادیث موجود ہیں، اور اگر جس کی طرف سے حج کا ارادہ ہے وہ کسی عارضی رکاوٹ کی وجہ سے حج کی ادائیگی نہیں کرسکتا مثلاً: ایسی بیماری اسے لاحق ہے جس سے شفا یابی کی امیدہے، یا کوئی سیاسی عذر ہے، یا سفر کیلئے راستہ پر امن نہیں وغیرہ ؛ تو ایسی صورت میں اس کی جانب سے حج ِ بدل اداکرنا کافی نہیں ہوگا‘‘ انتہی.

شيخ عبد العزيز بن عبد الله بن باز- شيخ عبد الرزاق عفيفی- شيخ عبد الله بن قعود(فتاوى اللجنة الدائمة للبحوث العلمية والإفتاء: 11/51)

-3مالی طور پر عاجز شخص کی طرف سے حج ِ بدل ادا نہیں کیا جا سکتا ہے ؛ اس لئے کہ غریب آدمی سے حج کی فرضیت ساقط ہو جاتی ہے، جبکہ حجِ بدل جسمانی طور پر عاجز شخص کی طرف سےادا کیا جاتا ہے۔

مستقل فتوی کمیٹی کے علماء سے پوچھا گیا:

کیا کسی کیلئے جائز ہے کہ وہ مکہ سے دور رہائش پذیر اپنے کسی رشتہ دار کی طرف سے عمرہ یا حج کرے؟ اور اس کے پاس مکہ آنے کیلئے وسائل نہیں ہیں، لیکن بدنی طور پر وہ خود طواف وغیرہ کر سکتا ہے۔

تو انہوں نے جواب دیا:

"آپ کے سوال میں مذکور رشتہ دار پر حج اس وقت تک واجب نہیں ہوگا جب تک وہ مالی طور پر حج کی طاقت نہ رکھتا ہو، اور اس کی طرف سے حج یا عمرہ کرنا جائز نہیں ہے؛ اس لئے کہ اگر وہ خود مشاعر تک پہنچ جائے تو وہ خود ہی اس کی دائیگی کر سکتا ہے، جبکہ حج و عمرہ میں نیابت میت یا جسمانی طور پر عاجز شخص کی طرف سے ہوتی ہے ’’ انتہی-

شيخ عبد العزيز بن عبد الله بن باز- شيخ عبد الرزاق عفيفی- شيخ عبد الله بن غديان.(فتاوى اللجنة الدائمة للبحوث العلمية والإفتاء: 11/52)

-4 کوئی شخص اس وقت تک کسی کی طرف سے حج ادا نہیں کرسکتا ہے جب تک اس نے اپنی طرف سے حج نہ ادا کر لیا ہو، اور اگر اس نے اپنا حج کرنے سے پہلے کسی کی طرف سے حج بدل کیا تو وہ اُسی کی طرف سے ہوگا ، کسی دوسرے کی طرف سےادا نہیں ہوگا۔

دائمی فتوی کمیٹی کے علماء نے کہا:

’’کسی انسان کیلئے یہ جائز نہیں کہ وہ اپنی طرف سے حج کرنے سے پہلے کسی دوسرے کی جانب سے حج ادا کرے، اس کی دلیل ابن عباس رضی اللہ عنہما سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے ایک آدمی کو کہتے ہوئے سنا: ’’میں شبرمہ کی طرف سے حاضر ہوں‘‘آپ نے فرمایا: ’’کیا تم نے اپنی طرف سے حج ادا کرلیا ہے؟‘‘اس نے کہا: ’’نہیں‘‘ آپﷺ نے فرمایا: ’’پہلے اپنی طرف سے حج ادا کرو، پھر شبرمہ کی طرف سے کرنا‘‘ انتہی-

شيخ عبد العزيز بن عبد الله بن باز... شيخ عبد الله بن غديان (فتاوى اللجنة الدائمة للبحوث العلمية والإفتاء: 11/50)۔

-5 ایک خاتون کسی مرد کی طرف سے حج ادا کرسکتی ہے، جس طرح سے ایک مرد کسی خاتون کی طرف سے حج اد اکرسکتا ہے۔

دائمی فتوی کمیٹی کے علماء نے کہا ہے کہ:

’’حج میں نیابت جائز ہے، بشرطیکہ نیابت کرنے والے نے پہلے اپنا حج ادا کر لیا ہو، اسی طرح سے اُس عورت کیلئے بھی حج کی ادائیگی ضروری ہے جسے آپ رقم اس لئے دے رہے ہیں کہ وہ آپ کی والدہ کی طرف سے حجِ بدل ادا کرے، کیونکہ عورت بھی حج کی ادائیگی میں کسی دوسری عورت یا مرد کی طرف سے نیابت کر سکتی ہے، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے اس بارے میں دلائل ثابت ہیں‘‘انتہی۔

(فتاوى اللجنة الدائمة للبحوث العلمية والإفتاء:11/52)

-6 کسی شخص کیلئے یہ جائز نہیں ہے کہ ایک حج میں دو یا زیادہ افراد کی طرف سے کرے، ہاں عمرہ اپنے لئے کر لے یا کسی اور کیلئے اور حج کسی تیسرے شخص کی طرف سےکر سکتا ہے۔

دائمی کمیٹی کے علماء کا کہنا ہے کہ:

’’حج میں میت یا ایسے موجود(زندہ)شخص کی طرف سے نیابت جائز ہے جو حج ادا کرنے کی طاقت نہیں رکھتا، اور کسی شخص کیلئے یہ جائز نہیں کہ وہ ایک (مرتبہ) حج ادا کرے اوراسے دو شخصوں کی جانب سےکردے، اس لئے کہ حج وعمرہ کی ادائیگی تو صرف ایک شخص کی طرف سے ہو سکتا ہے ، لیکن اگر ایک سال میں حج ایک شخص کی طرف سے ہو اور عمرہ کسی اور کی طرف سے کرے تو یہ جائز ہے ، بشرطیکہ ا س نے اپنا حج یا عمرہ پہلے سے کیا ہوا ہو‘‘ انتہی۔

شيخ عبد العزيز بن عبد الله بن باز- شيخ عبد الرزاق عفيفی- شيخ عبد الله بن غديان- شيخ عبد الله بن قعود.(فتاوى اللجنة الدائمة للبحوث العلمية والإفتاء:11/58)

-7 کسی کے لئے یہ جائز نہیں کہ حجِ بدل سے اس کا مقصد مال لیناہو، بلکہ مقصدِ حج اور مشاعرِ مقدسہ میں پہنچ کر اپنے بھائی کی طرف سے حج کر کے اس پر احسان کرنا ہو۔

شیخ محمد بن صالح عثیمین رحمہ اللہ کہتےہیں:

’’حج میں کسی کی طرف سے نیابت کرنا سنت رسول سے ثابت ہے، اس لئے کہ ایک خاتون نے آپ صلی اللہ علیہ وسلم سے کہا:’’اے اللہ کےرسول(صلی اللہ علیہ وسلم)! بیشک اللہ تعالیٰ کی طرف سے فریضہ حج میرے والد پر بڑھاپے کی حالت میں فرض ہو گیا ہے، اور وہ سواری پر بیٹھ بھی نہیں سکتے، تو کیا میں ان کی طرف سے حج کروں؟‘‘ تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ’’ہاں‘‘۔

اور حج میں رقم کے بدلے میں نیابت کرنے کے بارے میں یہ ہےکہ : اگر انسان کا مقصد صرف رقم کا حصول ہے تو اس کے بارے میں شیخ الاسلام ابن تیمیہ رحمہ اللہ کہتےہیں :’’جس نے صرف اس لئے حج کیا تاکہ اس کے ذریعہ کھائے، تو اس کیلئے آخرت میں کچھ بھی حصہ نہیں ہے،اور جو اس لئے رقم لیتا ہے تا کہ اس کے ذریعہ حج کرے تو اس میں کوئی حرج نہیں، اس لئے نیابت کرنے کیلئے رقم وصول کرتے ہوئے نیت یہ ہو کہ یہ رقم اس کیلئے حج میں مددگار ثابت ہوگی، اور یہ بھی نیت کرے کہ جس کی طرف سے حج کر رہا ہے اسکی ضرورت پوری ہوگی، اس لئے کہ جو حجِ بدل کروا رہا ہے وہ ضرورت مند ہے، اور اسے خوشی ہوتی ہے جب اسے کوئی حجِ بدل کرنے والا مل جاتا ہے، اس لئے حج ِبدل کرنے والے کو حج کی ادائیگی کے ذریعےاحسان کی نیت کرنی چاہئے،اور اپنی نیت کو پاک رکھنی چاہئے‘‘ انتہی۔

( لقاءات الباب المفتوح : 89 / السؤال 6)۔

آپ رحمہ اللہ نےیہ بھی کہا:

’’بڑے ہی افسوس کی بات ہے کہ بہت سارے لوگ دوسروں کی طرف سے حج صرف مال کمانے کی غرض سے کرتے ہیں، اور یہ ان کیلئے حرام ہے؛ اس لئے کہ عبادات کو دنیا کمانے کی غرض سے نہیں کیا جاسکتا، فرمانِ باری تعالیٰ ہے:

( مَنْ كَانَ يُرِيدُ الْحَيَاةَ الدُّنْيَا وَزِينَتَهَا نُوَفِّ إِلَيْهِمْ أَعْمَالَهُمْ فِيهَا وَهُمْ فِيهَا لَا يُبْخَسُونَ . أُولَئِكَ الَّذِينَ لَيْسَ لَهُمْ فِي الْآخِرَةِ إِلَّا النَّارُ وَحَبِطَ مَا صَنَعُوا فِيهَا وَبَاطِلٌ مَا كَانُوا يَعْمَلُونَ)

’’جو شخص دنیا کی زندگی اور اس کی زینت پر فریفتہ ہوا چاہتا ہو ہم ایسوں کو ان کے کل اعمال (کا بدلہ) یہی بھرپور پہنچا دیتے ہیں اور یہاں انہیں کوئی کمی نہیں کی جاتی ہاں یہی وه لوگ ہیں جن کے لئے آخرت میں سوائے آگ کے اور کچھ نہیں اور جو کچھ انہوں نے یہاں کیا ہوگا وہاں سب اکارت ہے اور جو کچھ ان کےاعمال تھے سب برباد ہونے والے ہیں ‘‘۔ [سورہ ہود: 15- 16[

(فَمِنَ النَّاسِ مَنْ يَقُولُ رَبَّنَا آتِنَا فِي الدُّنْيَا وَمَا لَهُ فِي الْآخِرَةِ مِنْ خَلَاقٍ)۔

’’بعض لوگ وه بھی ہیں جو کہتے ہیں اے ہمارے رب! ہمیں دنیا میں دے۔ ایسے لوگوں کا آخرت میں کوئی حصہ نہیں ‘‘۔ [سورہ بقرہ:200]

اس لئے اللہ تعالی اپنے بندے سے کوئی ایسی عبادت قبول نہیں کرتا جس کامقصد اللہ کی ذات نہ ہو، اسی لئے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے عبادت گاہوں کو دنیا کمانے کا ذریعہ بنانے سے روکا ہے، چنانچہ آپ نے فرمایا: ’’جب تم کسی کو دیکھو کہ مسجد میں خرید و فروخت کر رہا ہے، تو تم اسے کہو: اللہ تمہاری تجارت میں نفع نہ دے‘‘، پس جب عبادت گاہ کو جائے تجارت بنانے پر اس کے خلاف بد دعا کی جارہی ہےکہ اللہ تمہاری تجارت میں نفع نہ دے ، تو اس شخص کے بارے میں کیا خیا ل ہے جس نے عبادت کو ہی ذریعہ تجارت بنا لیا، گویا کہ اس نے حج کو سامانِ تجارت بنا لیا ہے، یا جیسے اس نے کسی کا گھر یا دیوار بناتے ہوئے اس نے اپنی پیشہ ورانہ مہارت دکھائی ہے!! آپ دیکھو گے کہ جسے آپ اپنا نائب بنانا چاہتے ہو وہ اس پر بھاؤ لگانا شروع کردیتا ہے ، کہ یہ رقم تو تھوڑی ہے!، مجھے فلاں شخص اس سے زیادہ دے رہا تھا!، یا فلاں نے مجھے حج کیلئے اتنی رقم دی تھی!، وغیرہ وغیرہ ، جس سے پتہ چلتا ہے کہ اس شخص نے عبادت کو ایک پیشہ وصناعت بنا لیا ہے، اسی لئے حنبلی فقہاءنے صراحت کے ساتھ کہا ہے کہ : کسی شخص کو اجرت دے کر حجِ بدل کروانا درست نہیں ہے، شیخ الاسلام ابن تیمیہ رحمہ اللہ کہتے ہیں: جو شخص بھی حج مال کے حصول کیلئے کرتا ہے اس کے لئے آخرت میں کچھ بھی نہیں، ہاں اگر کسی دینی مقصد سے وہ رقم لیتا ہے ، مثال کے طور پر اسکی نیت ہے کہ میں اپنے بھائی کی طرف سے حج کر کے اسے فائدہ پہنچاؤں گا ، تو ٹھیک ہے، یا اسکا مقصد مشاعر میں پہنچ کر زیادہ سے زیادہ عبادت، ذکر کرنا ہوتو اس میں بھی کوئی حرج نہیں ہے، یہ نیت درست ہے۔

بے شک جو لوگ حج میں نیابت کرنے کیلئے کسی سے رقم لیتے ہیں ان کیلئے ضروری ہے کہ وہ اپنی نیت اللہ کے لئےخالص کر یں، انکا مقصد بیت اللہ کا حج کرنا ہو، اللہ کا ذکر اور دعائیں کرنا ہو، اور ساتھ میں ایک مسلمان کی حاجت کو پورا کرنابھی مقصد میں شامل ہو، انہیں چاہئے کہ مال کمانے کی گھٹیانیت سے دور رہیں ، لہذا اگر انکی نیت صرف مال کمانا ہے تو ان کیلئے نیابت کرتے ہوئے رقم کی وصولی درست نہیں ہے، چنانچہ جوں ہی انکی نیت درست ہوگی تو جو کچھ بھی انہیں دیا جائے گا وہ اسی کا ہے، اِلاّ کے باقی بچ جانے والی رقم کی واپسی کیلئے شرط لگا دی جائے‘‘ انتہی۔

( الضياء اللامع من الخطب الجوامع : 2 / 477 ، 478 )۔

-8 جب کوئی مسلمان فوت ہو جائے اور وجوبِ حج کی شرائط مکمل ہونے کے باوجود فریضٔہ حج ادا نہ کرسکے ، تو اسکی طرف سے اسکے مال میں سے حج کروانا ضروری ہے، چاہے اس نے حج کی وصیت کی ہو یا نہ کی ہو۔

دائمی کمیٹی کے علمائے کرام کہتےہیں:

’’جب کوئی مسلمان فوت ہو جائے اور وجوبِ حج کی شرائط مکمل ہونے کے باوجود فریضٔہ حج ادا نہ کرسکے ، تو اسکی طرف سے اسکے مال میں سے حج کرنا ضروری ہے، چاہے اس نے حج کی وصیت کی ہو یا نہ کی ہو، چنانچہ اگر اسکی طرف سے کوئی ایسا شخص حج کر دیتا ہے جس کا حج کرنا درست ہو، اور اس نے پہلے اپنی طرف سے حج کیا ہوا ہو تو میت کی طرف سے اسکا حج کرنا درست ہوگا ، اور میت سے فرض کی ادائیگی کیلئے کافی ہوگا‘‘ انتہی۔

شيخ عبد العزيز بن باز ، شيخ عبد الرزاق عفيفی ، شيخ عبد الله بن غديان ، شيخ عبد الله بن منيع .

( فتاوى اللجنة الدائمة :11/100)۔

-9 کیا حج ِبدل کرنے والے کو بھی اتنا ہی ثواب ملے گا کہ وہ بھی ایسے ہی واپس آئے گا جیسے اسکی ماں نے آج ہی اُسے جنم دیا ہو؟

دائمی کمیٹی کے علمائے کرام کہتےہیں:

’’حجِ بدل کرنے والے کے بارے میں یہ کہنا کہ اسے اپناحج کرنےکے برابر ثواب ملے گا، یا کم یا زیادہ تو یہ معاملہ اللہ سبحانہ وتعالیٰ کے سپرد ہے‘‘انتہی۔

شيخ عبد العزيز بن باز ، شيخ عبد الرزاق عفيفی ، شيخ عبد الله بن غديان ، شيخ عبد الله بن منيع .

( فتاوى اللجنة الدائمة :11/100)۔

ایسے ہی انہوں نے کہا:

’’جس شخص نے اجرت لے لیکر یا بغیر اجرت لئے کسی کے لئے حج کیا تو اسکا ثواب اُسی کو ملے گا جس کی طرف سے حج یا عمرہ کیا ہے، اور حج یا عمرہ بدل کرنے والےکیلئے بھی بہت ہی عظیم ثواب کی امید کی جاسکتی ہے، جو اسے اسکے اخلاص اور نیت کے مطابق ملے گا، اور جو کوئی بھی مسجد الحرام تک پہنچ جائے اور وہاں کثرت سے نفلی عبادتیں کرے، اور دیگرطاعات کے کام سر انجام دے اس کیلئے اخلاص کی بنیاد پر اجر عظیم کی امید کی جاسکتی ہے‘‘ انتہی۔( فتاوى اللجنة الدائمة :11/77، 78)۔

امام ابن حزم رحمہ اللہ کہتے ہیں:

’’داؤد کہتے ہیں کہ انہوں نے کہا: میں نے سعید بن مسیب کو کہا: ابو محمد! ان دونوں میں سے کس کو ثواب ملے گا، حج ِبدل کرنے والے کو یا جس کی طرف سے حج کیا جا رہا ہے اسکو؟ تو سعید نے کہا: بیشک اللہ تعالیٰ ان دونوں کو دینے کی وسعت رکھتا ہے۔ ابن حزم کہتے ہیں: سعید رحمہ اللہ نے سچ کہا‘‘۔

( المحلى : 7 / 61 )۔

اعمالِ حج سے ہٹ کر حجِ بدل کرنے والا جو کوئی بھی عمل کریگا اسکا ثواب اِسی کرنے والے کو ملے گا، مثلاً: حرم میں نمازوں کی ادائیگی، قرآن مجید کی تلاوت، وغیرہ سب کا ثواب اِسی کرنے والے کو ملے گا نہ کہ جس کی طرف سے حج کیا جا رہا ہے۔

شیخ محمد بن صالح عثیمین رحمہ اللہ کہتے ہیں:

’’مناسک سے متعلق تمام اعمال کا ثواب اسی کو ملے گا جس نے اسے حج میں اپنا وکیل بنا کر بھیجا ہے، جبکہ اسکے علاوہ نمازوں کا اضافی اجر اور نفلی طواف اور قراءت قرآن کا ثواب اِسی کو ملے گا جو حج کرر ہاہے نہ کہ موکّل کو‘‘ انتہی۔

(الضياء اللامع من الخطب الجوامع : 2 / 478)۔

-10 مستحب یہ ہے کہ اولاد اپنے والدین کی طرف سے حج کریں، اور قریبی رشتہ دار اپنے عزیز کیلئے ، لیکن اگر پھر بھی کوئی کسی کو اجرت دے کر حج کیلئے بھیج دیتا ہے تو جائز ہے۔

شیخ عبد العزیز بن باز رحمہ اللہ سے پوچھا گیا:

’’میں چھوٹا سا تھا اس وقت میری والدہ فوت ہوگئیں تھیں، تو میں نے ایک معتمد شخص کو انکی جانب سے حج کرنے کیلئے اجرت دے کر بھیج دیا تھا، میرے والد بھی فوت ہوچکے ہیں، میں نے اپنے کچھ اقارب سے سنا ہے کہ انہوں نے حج کیا تھا۔

تو کیا میرے لئے جائز ہے کہ میں کسی کو اپنی والدہ کی طرف سے حج کرنے کیلئے بھیج دوں، یا مجھے خود ہی انکی طرف سے حج ادا کرنا ہوگا؟ ایسے ہی کیا میں اپنے والدین کی طرف سے حج اداکروں، اور میں نے سنا ہے کہ انہوں نے پہلے حج کیا تھا؟

تو انہوں نے جواب دیا:

’’اگر تم خود جا کر حج اداکرو اور شرعی طور پر مکمل مناسک کو اہتمام کے ساتھ ادا کرو تو یہ واقعی افضل ہے، اور اگر کسی معتمدشخص کو آپ اجرت دیکرانکی طرف سے حج کروا دیتے ہیں تو کوئی حرج نہیں ہے۔

افضل یہی ہے کہ آپ انکی طرف سے حج اور عمرہ دونوں ادا کریں، ایسے ہی آپ جسکو بھیج رہے ہیں وہ انکی جانب سے حج اور عمرہ ادا کریں، یہ آپکی طرف سے اپنے والدین کیلئے نیکی اور احسان ہوگا، اللہ تعالیٰ آپ سے اور ہم سے تمام نیکیاں قبول فرمائے‘‘ انتہی- ( فتاوى الشيخ ابن باز :16 / 408)۔

-11 کسی کی طرف سے حج کرنے کی یہ شرط نہیں ہے کہ حج کرنے والے کو اسکے نام کا علم ہو، بلکہ صرف اسکی طرف سے نیت ہی کافی ہے۔

دائمی کمیٹی کے علماء سے پوچھا گیا:

’’میرے عزیز و اقارب میں تقریباً چار افراد ہیں چچا، اور دادا، ان میں خواتین اور مرد دونوں شامل ہیں، جن میں سے کچھ کے ناموں کا مجھے نہیں پتہ ہے، اور میں چاہتا ہوں کہ انکی طرف سے حج ِبدل ادا کرنےکیلئے کچھ لوگوں کو اپنے ذاتی خرچے پر بھیج دوں، تو میں کیا کروں؟

تو انہوں نے جواب دیا:

’’اگر صورتِ حال ایسی ہی ہے جیسے آپ نے ذکر کی تو جن خواتین و حضرات کے نام آپ جانتے ہو ان کے بارے میں تو کوئی اشکال نہیں، اور جن مرد و خواتین کے ناموں کا آپکو علم نہیں آپ انکی عمر، اور اوصاف کو مد نظر رکھتے ہوئے انکی طرف سے نیت کر سکتے ہیں، حج ِ بدل کیلئے صرف نیت ہی کافی ہے، چاہے آپکو انکے ناموں کا علم نہ بھی ہو‘‘انتہی۔

(فتاوى اللجنة الدائمة :11/172)۔

-12 جس شخص نے کسی کو اپنی طرف سے حج کیلئے وکیل بنایا تو اُسے آگے کسی اور شخص کو وکیل بنانے کی اجازت نہیں ہے اِلاّ کہ وکیل بنانے والے کی رضا مندی حاصل ہوجائے۔

شیخ محمد بن صالح عثیمین رحمہ اللہ کہتےہیں:

’’نیابۃً حج کرنے والے کسی بھی شخص کیلئے یہ جائز نہیں ہے کہ وہ کسی اور کو وکیل بنائے چاہے تھوڑی یا زیادہ رقم دے یہاں تک کے وکیل بنانے والے کی طرف سے اجازت حاصل کر لے‘‘ انتہی-

(الضياء اللامع من الخطب الجوامع : 2/ 478 )۔

-13 کیا نفل حج کیلئے نیابت ہو سکتی ہے؟

علمائے کرام کا اس بارے میں اختلاف ہے، چنانچہ ابن عثیمین رحمہ اللہ نے اس بات کو اختیار کیا ہے کہ نیابت صرف اور صرف فرض حج ہی میں ہوسکتی ہے۔

شیخ رحمہ اللہ کہتےہیں:

’’اگر آدمی نے فرض ادا کر لیا ہواور اسکا ارادہ بنے کہ کسی کو اپنی طرف سے نفل حج یا عمرہ کرنے کیلئے بھیجے، تو اس بارے میں علمائے کرام کا اختلاف ہے، کچھ علماء نے اسے جائز قرار دیا ہے اور کچھ نے منع کیا ہے، میرے نزدیک بہتر یہ ہے کہ یہ منع ہی ہے، اس لئے کسی کیلئے یہ جائز نہیں کہ وہ کسی کو اپنی طرف سے نفل حج یا عمرہ کرنے کیلئے وکیل بنائے؛ کیونکہ عبادات میں اصل یہ ہے کہ انسان انہیں خود انجام دے، یہ ایسےہی ہے جیسے کوئی اپنی طرف سے روزے رکھنے کیلئے وکیل مقرر نہیں کر سکتا -ہاں اگر کوئی فوت ہوجائے اور اس پر فرض روزے باقی ہوں تو اسکی طرف سے ولی روزے رکھے گا-بعینہ اسی طرح حج کا بھی معاملہ ہے ، اور حج ایک ایسی عبادت ہے جو انسان خود اپنے بدن سے کرتا ہے، یہ کوئی مالی عبادت نہیں ہے جس میں اصل ہدف محتاج شخص ہوتا ہے، اور جب عبادت بدنی ہو کہ انسان خود اسے ادا کرے تو کوئی بھی دوسرا شخص اسکی طرف سے ادا نہیں کر سکتا سوائے ان عبادات کے جن کے بارے میں سنت میں بیان کردیا گیا ہو، جبکہ نفل حج کے بارے میں کوئی ایسی دلیل موجود نہیں جس میں کسی کی طرف سے نفل حج کرنے کی اجازت دی گئی ہو، یہی موقف امام احمد سے منقول دو روایات میں سے ایک ہے، میری مراد انسان کسی کو نفل حج یا عمرہ میں اپنی طرف سے وکیل نہیں بنا سکتاچاہے وہ خود قادر ہو یا نہ ہو۔

اور جب ہم اس قول پر قائم رہیں گے تو اس سے صاحبِ حیثیت اور جسمانی طاقت رکھنے والے لوگوں کو رغبت ملے گی کہ وہ خود اپنی طرف سے حج ادا کریں؛ اسی لئے کچھ لوگ کئی سالوں تک مکہ نہیں جاتے صرف اس بات پر اعتماد کرتے ہوئے کہ ہم تو ہر سال اپنی طرف سے حج ِبدل کروا دیتے ہیں، تو اس سے ہر سال حج رہ جاتا ہے کہ اس نے اپنی طرف سے حج کیلئے وکیل بنا دیا ہے‘‘ انتہی-

( فتاوى إسلامية : 2 / 192 ، 193 )۔

-14 حج بدل کیلئے قابل اعتماد، سچے اور امین لوگوں کو تلاش کیا جائے، جنہیں مناسک ِحج کا علم بھی ہو۔

دائمی کمیٹی کے علمائے کرام کہتےہیں:

’’جو شخص کسی کو اپنا نائب مقرر کرنا چاہتا ہے، تو اسے چاہئے کہ دیندار، امین لوگوں کو تلاش کرے اور انہی کو اپنا نائب مقرر کرے، تا کہ واجبات کی ادائیگی کے حوالے سے اسکا دل مطمئن رہے‘‘۔

( فتاوى اللجنة الدائمة :11/53)۔

واللہ اعلم .

اسلام سوال وجواب سائٹ

(مُحتاج دُعا:عزیزالرحمن ضیاء اللہ سنابلیؔ [email protected])