عقیقہ میں شراکت کا حکم

وصف

سوال : كيا جڑواں بچوں ( بچہ اور بچى ) كے عقيقہ ميں تين بكروں كے بجائے ايك بچھڑا يا گائے ذبح كرنا جائز ہے، اگر جواب مثبت میں ہو تو اس کی اوصاف كيا ہوں گى ؟

Download
اس پیج کے ذمّے دار کو اپنا تبصرہ لکھیں

کامل بیان

عقیقہ میں شراکت کا حکم

[الأُردية –اُردو Urdu]

فتوی: اسلام سوال وجواب سائٹ

—™

ترجمہ: اسلام سوال وجواب سائٹ

مراجعہ وتنسیق: عزیزالرحمن ضیاء اللہ سنابلیؔ

 حكم الإشتراك في العقيقة

فتوى: موقع الإسلام سؤال وجواب

—™

ترجمة: موقع الإسلام سؤال وجواب

مراجعة وتنسيق: عزيز الرحمن ضياء الله السنابلي

۸۲۶۰۷:عقیقہ میں شراکت کاحکم

سوال : كيا جڑواں بچوں ( بچہ اور بچى ) كے عقيقہ ميں تين بكروں كے بجائے ايك بچھڑا يا گائے ذبح كرنا جائز ہے، اگر جواب مثبت میں ہو تو اس کی اوصاف كيا ہوں گى ؟

بتاریخ:۶۔۵۔۲۰۰۸ کو نشر کیا گیا

جواب:

الحمد للہ

سنت تو يہ ہے كہ بچہ كى جانب سے دواور بچى كى جانب سے ايك بكرا ذبح كيا جائے؛ كيونكہ رسول كريم صلى اللہ عليہ وسلم كا فرمان ہے:

(مَنْ وُلِدَ لَهُ وَلَدٌ فَأَحَبَّ أَنْ يَنْسُكَ عَنْهُ فَلْيَنْسُكْ ، عَنْ الْغُلامِ شَاتَانِ مُكَافِئَتَانِ،وَعَنْ الْجَارِيَةِ شَاةٌ)

’’جس کے یہاں بچہ پیدا ہو اور وہ اپنے بچے کی طرف سے (بطورعقیقہ)جانور ذبح کرنا چاہے تو لڑکے کی طرف سے برابر کی دو بکریاں کرے، اور لڑکی کی طرف سے ایک بکری‘‘۔

سنن ابو داود حديث نمبر ( 2842 ) علامہ البانى رحمہ اللہ نے صحيح ابو داود ميں اسے حسن قرار ديا ہے.

اور جمہور علماء كرام كے یہاں بكرا ، اونٹ اور گائے كفایت كر جاتا ہے، ليكن ان ميں يہ اختلاف ہے كہ آيا يہ قربانى كا حكم حاصل كرے گا يا نہيں تا كہ گائے اور اونٹ ميں شراكت صحيح ہو سكے ؟

قريب ترين بات يہ ہے كہ اس ميں اشتراك صحيح نہيں ہے، مالكيہ اور حنابلہ كا يہى مسلك ہے.ديكھيں: (الموسوعۃ الفقھيۃ : 30 / 279 ).

شيخ ابن عثيمين رحمہ اللہ كہتے ہيں:

’’ عقيقہ ميں شراكت كفایت نہيں كرتى ہے ، چنانچہ دو بچوں كى جانب سے نہ تو اونٹ كفایت كرتا ہے، اور نہ ہى گائے، اور تين اور چار بچوں كى جانب سے بدرجہ اولیٰ كفایت نہيں كريگا، اس كى وجہ يہ ہے كہ:

اول:اس ميں شريك ہونا ثابت نہيں ہے، اور تمام عبادات توقيفی امور پر مبنى ہوتى ہيں.

دوم:يہ فديہ ہے، اور فديہ كے حصے نہيں ہوتے ہیں؛ چنانچہ يہ جان كى طرف سے فديہ ہے، تو جب جان كى جانب سے فديہ ہوا تو پھر ضرورى ہے كہ وہ بھى جان ہى ہو، اور پہلى علت بلا شك وشبہ زيادہ صحيح ہے، كيونكہ اگر اس ميں شركت ثابت ہوتى تو دوسرى تعليل باطل تھى، تو اس كا ثبوت نہ ملنا ہى حكم بر مبنى ہے ‘‘ انتہى.

واللہ اعلم۔

سائٹ اسلام سوال وجواب

(طالبِ دُعا:[email protected])

فیڈ بیک