دورانِ طواف حطیم کےاندرسے گزرنا

وصف

سوال:بعض لوگ دورانِ طواف حطیم کے دروازے سے داخل ہوکردوسری طرف نکل جاتے ہیں اورحطیم کے باہر سے طواف مکمل نہیں کرتے خاص کرشدید ازدھام(بھیڑ بھاڑ) کے وقت ایسا ہوتا ہے ، توکیا ان کا طواف صحیح ہوگا ؟

Download
اس پیج کے ذمّے دار کو اپنا تبصرہ لکھیں

کامل بیان

دوران طواف حطیم کےاندرسے گزرنا

[الأُردية –اُردو Urdu]

فتوی :شیخ محمد بن صالح العثیمینؒ

—™

ترجمہ: اسلام سوال وجواب سائٹ

مراجعہ وتنسیق:اسلام ہاؤس ڈاٹ کام

 المرور بالحِجرأثناء الطواف

فتوى:الشيخ محمد بن صالح العثمين-رحمه الله-

—™

ترجمة: موقع الإسلام سؤال وجواب

مراجعة وتنسيق:موقع دارالإسلام

:46597دوران طواف حَطیم کے اندرسے گزرنا

 سوال:بعض لوگ دوران طواف حطیم کے دروازے سے داخل ہوکردوسری طرف نکل جاتے ہیں اورحطیم کے باہر سے طواف مکمل نہیں کرتے خاص کرشدید ازدھام(بھیڑ بھاڑ) کے وقت ایسا ہوتا ہے ، توکیا ان کا طواف صحیح ہوگا ؟

Published Date: 2014-02-09

جواب:

الحمد للہ :

شیخ محمد بن عثیمین رحمہ اللہ کہتے ہیں :

’’یہ بہت بڑی غلطی ہے کہ بعض لوگ دورانِ طواف ازدھام(بھیڑ بھاڑ) کے دنوں میں حطیم کے ایک دروازے سے داخل ہوکردوسرے دروازے سے نکل جاتےہیں ، وہ یہ خیال کرتے ہیں کہ یہ آسان اورزيادہ قریب ہے، لیکن ایسا کرنا بہت بڑی غلطی ہے ، کیونکہ جوشخص بھی ایسا کرے وہ بیت اللہ کا طواف نہيں کررہا ہےاوراس کا یہ طواف شمار نہيں ہوگا کیونکہ اللہ تعالی کا فرمان ہے :

﴿وَلْيَطَّوَّفُوا بِالْبَيْتِ الْعَتِيقِ﴾[الحج:29]

’’اوراللہ تعالیٰ کے قدیم گھر کا طواف کریں ‘‘[سورہ حج:۲۹]

اورپھر نبی صلی اللہ علیہ و سلم نے بھی حطیم کے باہرسے ہی طواف کیا ہے ، لہذا جب کوئی انسان حطیم کے اندرسے طواف کرتا ہے تواسے بیت اللہ کا طواف کرنے والا شمار نہيں کیا جائے گا ، اوراس کا طواف صحیح نہيں ہوگا ، یہ مسئلہ بہت خطرناک ہے اورخاص کرجب طواف رکن ہو جس طرح عمرہ کا طواف اورطوافِ افاضہ رکن ہے ، اوراس کا علاج یہ ہے کہ ہم حجاج کرام کےسامنے یہ بیان کریں کہ ان کا طواف اس وقت تک صحیح نہیں جب تک پورے بیت اللہ کا طواف نہ کیا جائے اورحطیم بھی بیت اللہ میں شامل ہے ۔

حطیم یعنی حِجر کوحِجراسماعیل کا نام دینا :

اس مناسبت سے میں چاہتا ہوں کہ یہ بیان کردوں کہ حطیم کوبہت سے لوگ حِجر اسماعیل کا نام دیتے ہيں حالانکہ حقیقت یہ ہے کہ اسماعیل علیہ السلام تواس کے بارےمیں جانتے تک نہ تھے ، اورنہ ہی یہ ان کا گوشہ ہے ، بلکہ یہ تواس وقت بنا جب قریش نے بیت اللہ کی تعمیر کی اوران کے پاس حلال مال کم ہوگیا تووہ ابراہیم علیہ السلام کی بنیادوں پرپورے کعبہ کی تعمیر نہ کرسکے ،اورانہوں نےاس سے اس جانب کو چھوڑ دیا اوراسے حطیم اورحجر کہا جانے لگا ، لہذا اسماعیل علیہ السلام کواس کے بارے میں کوئى علم نہيں تھا اورنہ ہی ان کا اس میں کوئى عمل دخل ہی شامل ہے ۔

اورکچھ لوگ ایسے بھی ہوتے ہیں جوطواف کرتے وقت کعبہ کواپنے بائيں جانب رکھنے کا اہتمام نہیں کرتے بلکہ آپ انہیں دیکھیں گے کہ وہ اپنی عورتوں کے ساتھ طواف کررہے ہوتے ہیں اوراپنے کسی دوست کے ہاتھوں کوپکڑ کرعورتوں کے بچاؤ کے لیے حصاربنائے ہوئے طواف کرتے ہیں اورکعبہ کواپنے پیچھے کیے ہوتے ہیں اوراس کا دوسرا دوست اس طرح طواف کررہا ہوتا ہے کہ کعبہ اس کے سامنے ہوتا ہے ، یہ بھی بہت بڑی غلطی ہے ۔

اس لیے کہ اہل علم کہتے ہيں :

صحیح طواف کیلئے دورانِ طواف کعبہ کوبائيں جانب رکھنا شرط ہے ، لہذا اگر کسی نے کعبہ اپنی پیٹھ پیچھے یا سامنے رکھا یا پھر اپنی دائيں جانب رکھا تواس کا یہ طواف صحیح نہيں ہوگا ، چنانچہ انسان پرواجب ہے کہ وہ اس بات کا خیال رکھے ، اوراپنے پورے طواف میں کعبہ کوبائيں جانب رکھنے کی کوشش کرے۔

اورکچھ لوگ کعبہ کوشدید بھیڑ کی وجہ سے چند قدم اپنی پیٹھ پیچھے یا پھرسامنے کرلیتے ہیں ، یہ بھی غلط ہے ، لہذا آدمی پرواجب ہے کہ وہ اپنے دین کے لیے احتیاط سے کام لے ، اورعبادت میں اللہ تعالیٰ کی حدود کا علم رکھے قبل اس کے کہ وہ ان حدود میں واقع ہوجائے تاکہ وہ اللہ تعالیٰ کی عبادت بصیرت کے ساتھ کرسکے ۔

اورآپ اس بات پرتعجب کرینگے کہ کوئی شخص جب کسی ایسے ملک جانے کا ارادہ کرے جس کے راستے کا ہی اسے علم نہ ہو تواس ملک کی جانب اس وقت تک سفر نہیں کرتا جب تک کہ وہ اس کے بارے میں کسی سے پوچھ نہ لے اوراس راستے کو تلاش نہ کرلے ، اورپھر یہی نہيں بلکہ وہ آسان ترین راستہ تلاش کرتا ہے تا کہ وہاں آسانی اورسہولت کے ساتھ پہنچ سکے ، اور بغیر راستہ بھولے اورضائع ہوئے اپنی منزل مقصود تک پہنچ جائے ۔

لیکن دینی معاملات میں بہت سارے لوگ - بہت افسوس کے ساتھ کہنا پڑتا ہے کہ - عبادت میں مشغول ہوجاتے ہیں اورانہيں اس میں اللہ تعالیٰ کی حدود کا علم ہی نہیں ہوتا ،یہ کمی ہے، بلکہ یہ بہت بڑی کوتاہی ہے ۔

ہم اللہ تعالیٰ سےاپنے اوراپنے مسلمان بھائیوں کے لیے ہدایت طلب کرتے ہیں ، اوردعا گو ہیں کہ وہ ہمیں ایسے لوگوں میں سے بنائے جو ان حدود کا علم رکھتے ہیں جنہیں اللہ تعالی نے اپنے رسول صلی اللہ علیہ وسلم پرنازل فرمایا ہے ‘‘۔ انتہی . ماخوذ از : (دلیل الأخطاء التی یقع فیہا الحاج والمعتمر)۔

(مُحتاج دُعا:عزیزالرحمن ضیاء اللہ سنابلیؔ [email protected])