عاشورا ءکے روزے سے صرف صغیرہ گناہ معاف ہو تے ہیں ، کبیرہ گناہ کیلئے توبہ کرنا ضروری ہے

وصف

سوال: اگر میں شرابی ہوں ،پھر بھی میں نیت کر لوں کہ 9 اور 10 محرّم کے روزے رکھوں گا تو کیا مجھے ان روزوں کا ثواب ملے گا ،اور اگر ملے گا تو کیا میرے سابقہ اور آئندہ سال کے گناہ معاف ہو جائیں گے ؟

Download
اس پیج کے ذمّے دار کو اپنا تبصرہ لکھیں

کامل بیان

عاشورا ءکے روزے سے صرف صغیرہ گناہ معاف ہو تے ہیں ، کبیرہ گناہ کیلئے توبہ کرنا ضروری ہے

[الأُردية –اُردو Urdu]

فتوی :شعبہ ٔعلمی اسلام سوال وجواب سائٹ

—™

ترجمہ: اسلام سوال وجواب سائٹ

مراجعہ وتنسیق:عزیزالرّحمن ضیاء اللہ سنابلیؔ

 صيام عاشوراء لا يكفر إلا صغائر الذنوب ، وليس للكبائر إلا التوبة

فتوى: القسم العلمي بموقع الإسلام سؤال وجواب

—™

ترجمة: موقع الإسلام سؤال وجواب

مراجعة وتنسيق:عزيز الرحمن ضياء الله السنابلي

 176290 : عاشورا ءکے روزے سے صرف صغیرہ گناہ معاف ہو تے ہیں ، کبیرہ گناہ کیلئے توبہ کرنا ضروری ہے

سوال: اگر میں شرابی ہوں ،پھر بھی میں نیت کر لوں کہ 9 اور 10 محرّم کے روزے رکھوں گا تو کیا مجھے ان روزوں کا ثواب ملے گا ،اور اگر ملے گا تو کیا میرے سابقہ اور آئندہ سال کے گناہ معاف ہو جائیں گے ؟

بتاریخ2016-10-07 کو نشر کیا گیا

جواب

الحمد للہ:

اول:

اللہ تعالی ٰدو سال کے(صغیرہ) گناہ عرفہ کے روزہ رکھنے سے معاف فرما دیتا ہے، صیام عاشورا ءسے نہیں، عاشورا ءکے روزوں سے صرف ایک سال کے(صغیرہ) گنا ہ معاف ہوتے ہیں ۔

عرفہ کے دن کے روزے کی فضیلت کے لئے سوال نمبر: (98334)اور عاشورا ءکے روزوں کی فضیلت کے لئے سوال نمبر: (21775) کے جوابات دیکھیں۔

دوم:

شراب نوشی کبیرہ گناہ ہے ،اگر اس کی عادت ہو تو یہ مزید سنگین اور بڑا جرم ہے ؛ کیونکہ شراب نوشی تمام خباثتوں کی جڑ اور تمام برائیوں کا دروازہ ہے ،نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے شراب سے تعلق رکھنے والے دس آدمیوں پر لعنت فرمائی ہے ، چنانچہ ترمذی (1295) میں جناب انس رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہتے ہیں:

(لَعَنَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي الْخَمْرِ عَشْرَةً : عَاصِرَهَا ، وَمُعْتَصِرَهَا ، وَشَارِبَهَا ، وَحَامِلَهَا ، وَالْمَحْمُولَةُ إِلَيْهِ ، وَسَاقِيَهَا ، وَبَائِعَهَا ، وَآكِلَ ثَمَنِهَا ، وَالْمُشْتَرِي لَهَا ، وَالْمُشْتَرَاةُ لَهُ)

’’ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے شراب کے بارے میں دس آدمیوں پر لعنت فرمائی : اس کو تیار کرنے والے پر ، جس کے لئے تیار کی گئی، پینے والے پر، اٹھانے والے پر، جس کی طرف اٹھا کر لے جائی گئی، پلانے والے پر ، بیچنے والے پر، اس کی قیمت کھانے والے پر، اس کے خریدنے والے پر اور جس کے لئے خریدی گئی‘‘۔
اسےالبانی نے[صحیح ترمذی ] میں صحیح کہا ہے ۔

لہذا اسے چھوڑنا اور اس کی عادت سے توبہ تائب ہونا اور اللہ کی طرف متوجہ ہونا واجب ہے ۔

نیز عرفہ اور عاشورا ءکے روزے سے صرف صغیرہ گناہ معاف ہوتے ہیں ، کبیرہ گناہوں کی معافی کے لئے پکی توبہ ضروری ہے ۔

شیخ الاسلام ابن تیمیہ رحمہ اللہ کہتے ہیں:
’’نبی صلی اللہ علیہ وسلم سے صحیح ثابت ہے کہ یوم عرفہ کے روزے سے دو سال اور عاشورا ءکے روزے سے ایک سال کے گناہ معاف ہوتے ہیں ، لیکن آپ کے یہ فرمانے سے کہ گناہ معاف ہوتے ہیں یہ لازم نہیں آتا کہ کبیرہ گناہ بھی بلا توبہ معاف ہو جاتے ہیں ؛کیونکہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے ایک اور حدیث میں فرمایا ہے کہ: ’’ایک جمعہ سے اگلے جمعہ اور ایک رمضان سے اگلے رمضان تک کے گناہ اس جمعہ اور روزے سے معاف ہو جاتے ہیں بشرطیکہ کبیرہ گناہوں سے اجتناب کیا جائے‘‘۔
اور یہ بات معلوم ہے کہ نماز ،روزوں سے افضل ہے اور رمضان کے روزے ،عرفہ کے دن کے روزوں سے افضل ہیں ،اور یہ روزے اور نماز بھی اس وقت گناہوں کی معافی کا سبب بنتے ہیں جبکہ کبائر سے اجتناب کیا جائے جیسا کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے خود یہ شرط لگائی ہے ؛تو یہ کیسے سمجھا جاسکتا ہے کہ ایک یا دو نفلی روزے ،زنا ،چوری ،شراب نوشی، جوا اور جادو وغیرہ جیسے کبیرہ گناہوں کا کفارہ بن جائیں گے؟لہذا ایسا ممکن نہیں ہے‘‘ انتہی (مختصر الفتاوی المصریہ:1/254)

ابن قیم رحمہ اللہ کہتے ہیں:
’’بعض لوگ کہتے ہیں کہ عاشورا ءکا روزہ سال کے سارے گناہ مٹا دیتا ہے ،اور عرفہ کے روزے سے اجر میں اضافہ ہو جاتا ہے ،اس غافل کو یہ علم نہیں کہ رمضان کے روزے ،اور نماز پنجگانہ، عرفہ اور عاشورا ءکے روزے سے افضل اور برتر ہیں ،اور یہ اپنے درمیان کے گناہ کی معافی کا اس وقت سبب بنتے ہیں جبکہ کبیرہ گناہوں سے بچا جائے، چنانچہ ایک رمضان سے لیکر دوسرے رمضان تک اور ایک جمعہ سے لیکر دوسرے جمعہ تک کے صغیرہ گناہوں کی معافی کا یہ اس وقت تک سبب نہیں بن سکتے جب تک کہ ان کے ساتھ کبائر سے اجتناب کے عمل کو شامل نہ کیا جائے ،چنانچہ دونوں امور[صوم و صلوٰۃ اور اجتناب کبائر]کا مجموعہ مل کر ہی صغیرہ گناہوں کی بخشش کا سبب بننے کے قابل ہوتے ہیں۔
لہذا ایک دن کا نفلی روزہ کیسے بندے کے سارے کبیرہ گناہوں کی معافی کا ذریعہ بن سکتا ہے جبکہ وہ اس کبیرہ گناہ پر مصر بھی ہے اور اس سے توبہ بھی نہیں کی ؟ایسا ناممکن ہے ۔
البتہ یہ ممکن ہے کہ عرفہ اور عاشورا ءکا روزہ عمومی طور پر سال کے تمام گناہوں کا کفارہ ہو، اور یہ حدیث ان وعدے والی نصوص میں سے ہو جس کے لئے کچھ شرائط اور موانع ہیں ،اور سائل آدمی کا گناہ پر دوام اور اڑے رہنا گناہوں کی معافی کے لئے رکاوٹ ہوگا، چنانچہ اگر کبیرہ گناہ پر مصر نہیں ہے تو روزہ اور عدم اصرار مل کر ایک دوسرے کے تعاون سے صغیرہ و کبیرہ تمام گناہوں کو مٹا دیں ،جیسا کہ رمضان اور نماز پنجگانہ، کبائر سے اجتناب کیساتھ مل کر اور ایک دوسرے کی معاونت سے صغائر کو مٹا دیتے ہیں؛ کیونکہ اللہ تعالیٰٰٰٰ کا فرمان ہے:
(إِنْ تَجْتَنِبُوا كَبَائِرَ مَا تُنْهَوْنَ عَنْهُ نُكَفِّرْ عَنْكُمْ سَيِّئَاتِكُمْ) [النساء : 31]
’’ اگر تم منع کردہ کبیرہ گناہوں سے اجتناب کرو تو ہم تمہارے صغیرہ گناہ مٹا دیں گے‘‘۔[سورہ نساء:۳۱]
اب یہ بات واضح رہے کہ کسی چیز کو گناہوں کی معافی کا سبب بنانا اس بات کے منافی نہیں ہے کہ وہ کسی اور سبب سے مل کر گناہوں کی معافی کا سبب بنے ،اور گناہوں کی معافی کے دو اسباب سے ملنے والی معافی تنہا سبب کی بہ نسبت زیادہ قوی اور کامل ہو گی ، جس قدر گناہوں کی معافی کے اسباب قوی ہوں گے گناہ اتنے ہی زیادہ گناہ معاف ہوں گے اور اچھی طرح گناہوں کی صفائی ہو گی‘‘ ۔ انتہی (الجواب الکافی:ص13)

اور امام ترمذی (1862) نے عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما سے روایت کیا ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا) : مَنْ شَرِبَ الْخَمْرَ لَمْ يَقْبَلْ اللَّهُ لَهُ صَلَاةً أَرْبَعِينَ صَبَاحًا ، فَإِنْ تَابَ تَابَ اللَّهُ عَلَيْهِ فَإِنْ عَادَ لَمْ يَقْبَلْ اللَّهُ لَهُ صَلَاةً أَرْبَعِينَ صَبَاحًا ، فَإِنْ تَابَ تَابَ اللَّهُ عَلَيْهِ ، فَإِنْ عَادَ لَمْ يَقْبَلْ اللَّهُ لَهُ صَلَاةً أَرْبَعِينَ صَبَاحًا فَإِنْ تَابَ تَابَ اللَّهُ عَلَيْهِ ، فَإِنْ عَادَ الرَّابِعَةَ لَمْ يَقْبَلْ اللَّهُ لَهُ صَلَاةً أَرْبَعِينَ صَبَاحًا فَإِنْ تَابَ لَمْ يَتُبْ اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَقَاهُ مِنْ نَهْرِ الْخَبَالِ )

’’اللہ تعالیٰٰٰٰ شراب پینے والے کی چالیس دن کی نماز قبول نہیں فرماتا، تاہم اگر وہ توبہ کرے تو اللہ اس کی توبہ قبول فرماتا ہے، اور اگر وہ دوبارہ شراب نوشی کرے تو اس کی چالیس دنوں تک نماز قبول نہیں ہوتی ،پھر اگر وہ توبہ کرے تو اللہ اس کی توبہ قبول فرماتا ہے ،پھر اگر تیسری بار پیے تو چالیس دنوں تک نماز قبول نہیں ہوتی ، لیکن اگر توبہ کرے تو اللہ اس کی توبہ قبول فرماتا ہے ،اگر وہ چوتھی مرتبہ بھی شراب پیے تو اللہ تعالیٰ اس کی چالیس دن تک نماز قبول نہیں فرماتا، اگر وہ توبہ نہ کرے تو اللہ اسے نہر خبال( ہلاکت وبربادی کی نہر)سےپلائےگا) اسے البانی نے [صحیح ترمذی] میں صحیح کہا ہے ۔

مبارکپوری رحمہ اللہ [تحفۃ الاحوذی] میں کہتے ہیں:
’’اس حدیث کا مطلب بیان کرتے ہوئے یہ بھی کہا گیا ہے کہ : صرف نماز کو اس لئے ذکر کیا ہے کیونکہ یہ تمام بدنی عبادات میں سے افضل ترین ہے ،جب یہ قبول نہیں تو دیگر عبادات تو بالاولی ٰقبول نہیں ہوں گی ‘‘
[ تحفۃ الأحوذی ](5/ 488) معمولی تصرّف کیساتھ۔

عراقی اور مناوی رحمہما اللہ نے بھی یہی کہا ہے ۔

اس بارے میں مزید معلومات کیلئے سوال نمبر (38145) کے جواب کا مطالعہ کریں۔

اگر شراب نوشی کی عادت سے فرض عبادات قبول نہیں ہوتے ہیں تو عاشورا ءکا روزہ کیسے قبول ہو سکتا ہے؟ نیز سال کے گناہوں کا کفارہ کیسے بن سکتا ہے ؟

چنانچہ آپ پر ضروری ہے کہ جلدی سے پکی اور سچی توبہ کریں ،اور شراب نوشی کی عادت سے باز آ جائیں ،اور اپنی کوتاہی کا تدارک کر کے ،نیک اعمال کثرت سے کریں ،اللہ تعالیٰ سے امید ہے کہ وہ آپ کی توبہ قبول فرمائے گا اور آپ کی کوتاہی اور حدود اللہ سے تجاوز کرنے کے سنگین گناہ سے درگزر فرمائے گا ۔

سوم:یہاں جو کچھ ہم نے ذکر کیا ہے یہ عرفہ اور عاشورا ءکے روزے اور دیگر نفل نماز ،روزہ ،صدقہ اور قربانی وغیرہ سے مانع نہیں ہے، نیکی کے اعمال جو آپ کرنا چاہیں کریں، اس کیلئے کوئی رکاوٹ نہیں ہے؛ کیونکہ شراب نوشی، نیکی کے اعمال سے منع نہیں کرتی ہے ۔

اور کبیرہ گناہ کے ارتکاب کا یہ مطلب نہیں کہ آپ نیکی اور بھلائی کے کاموں سے اپنے آپ کو بالکل دور ہی کر لیں ؛ کیونکہ اس طرح آپ معاملے کو مزید سنگین کر دیں گے ، اس لیے آپ توبہ کریں اور قبیح عادت کو جلدی سے ترک کر دیں، بھلائی کے کام کثرت سے کریں ،اگرچہ آپ نفس کے سامنے مغلوب ہو بھی جائیں اور آپ سے کوئی گناہ سر زد ہو جائے ۔ اس لیے کہ عمل کا درست ہونا اور اس کا قبول ہونا الگ بات ہے اور سال یا دو سال کے گناہوں کی معافی کی خصوصی فضیلت الگ چیز ہے ۔

جعفر بن یونس کہتے ہیں : ہم شام کے قافلے میں تھے ،راستے میں بدو ملے تو قافلے والوں کو انہوں نے پکڑ لیا ،اور قافلے کو امیر کے سامنے پیش کر دیا، انہیں ایک تھیلی قافلے والوں کے پاس سے ملی جس میں چینی اور بادام تھے ،لوگوں نے اس میں سے کھانا شروع کر دیا لیکن امیر نے اس میں سے کچھ نہ لیا !! میں نے پوچھا: آپ کیوں نہیں کھاتے ؟
اس نے جواب دیا: میں روزے سے ہوں !میں نے کہا: آپ رہزنی کرتے ہیں ،لوگوں کے مال چھینتے ہیں ،اور ناحق لوگوں کو قتل کرتے ہیں اور روزہ بھی رکھتے ہو؟
اس نے جواب دیا: جناب! میں رب سے صلح کے لئے راستہ باقی رکھتا ہوں!!پھر کچھ عرصہ گزرنے کے بعد میں نے اسے احرام کی حالت میں بیت اللہ کا طواف کرتے دیکھا ،میں نے پوچھا :آپ وہی ہیں ؟
اس نے کہا: [ہاں میں وہی ہوں اور]یہ روزہ ہی تھا جس نے مجھے اس مقام تک پہنچا دیا !! ( تاریخ دمشق :66/52)

مزید جانکاری کیلئے سوال نمبر : (14289)کے جواب کا مطالعہ کریں۔

واللہ اعلم.

اسلام سوال وجواب (طالبِ دُعا:عزیزالرحمن ضیاء اللہ [email protected])

فیڈ بیک