بچوں کو باطل ادیان پڑھانے کا حکم

وصف

سوال:میں ایسے تخصص کی تعلیم حاصل کر رہی ہوں جسکی وجہ سے میں بچوں کودینی تعلیم دے سکتی ہوں، اور چونکہ میں ایک یورپی عیسائی ملک میں رہتی ہوں، تو تدریسی نصاب مجھ سے اسلام، عیسائیت، یہودیت، ہندومت، اور بدھ مت دنیا کے پانچ بڑے بڑے مذاہب پڑھانے کا مطالبہ کرتا ہے، مجھے اس بات کا اندازہ نہیں تھا کہ بچوں کو یہ ادیان پڑھانا حرام ہوگا، لیکن مجھے یہ یقین ہے کہ اسلام ہی صحیح دین ہے، اور میں اپنی اس بات سے کبھی بھی ایک قدم پیچھے نہیں ہٹوں گی، اب مسئلہ یہ ہے کہ متعدد افراد نے مجھ سے کہا ہے کہ بچوں کو ان ادیان کی تعلیم دینا جائز نہیں ہے، اور خاص طور پر اگر بچے مسلمان ہوں تو اور زیادہ حرام ہوگا، میں نے اپنے اس سوال کا جواب خوب تلاش کیا لیکن مجھے کوئی تشفی نہیں ہوئی، اب آپ سے اس بارے میں حکم کی وضاحت چاہتی ہوں۔

فیڈ بیک