• اردو

    زیر تبصرہ کتاب حافظ صلاح الدین یوسف اور چند دیگر صاحبانِ علم کے مضامین و مقالات کا مجموعہ ہے۔ شروع میں بطور مقدمہ مولانا حنیف ندویؒ کا مضمون کتاب کا حصہ بنایا گیا ہے جس میں انہوں نے اہلحدیث اور ان کے مسلک کے تعارف کے حوالے سے بحث کی ہے۔ اس کے بعد باقاعدہ مضامین کا سلسلہ شروع ہوتا ہے۔ پہلا مضمون حافظ صاحب کی وہ تحریر ہے جو انہوں نے حافظ محمد گوندلویؒ کی کتاب ’الاصلاح‘ کے مقدمہ کے طور پر لکھی تھی۔ اس کے بعد ’عقائد علمائے دیوبند‘ کے عنوان سے دوسرا مقالہ شروع ہوتا ہے جس میں آل دیوبند کی مشہور و معروف کتاب ’المہند علی المفند‘ میں سے ان کے بعض اعقتادات ان ہی کی زبانی بیان کیے گئے ہیں اور ساتھ ساتھ فاضلانہ تبصرہ بھی پیش کیا گیا ہے۔ تیسرا مضمون ’شخصیت پرستی اور مشیخیت کے دینی و اخلاقی مفاسد‘ کے عنوان سے ہے جو دراصل ایک دیوبندی عالم دین ہی کی تحریر ہے جس میں انہوں نے نہایت اخلاص اور دردِ دل سے اپنے مشاہدات اور ان کے دینی رجحانات کا تذکرہ کیا ہے۔ چوتھا مقالہ مولانا ابراہیم میر سیالکوٹی کا شامل کیا گیا ہے جس میں مولانا نے نہایت شدو مدّ کے ساتھ اہل تقلید کے تقلیدی جمود کو تنقید کا نشانہ بنایا ہے۔ اسی مناسبت سے مولانا عبدالرحمٰن ضیاء کے مضمون کو بھی کتاب کا حصہ بنایا ہے جو اس سے قبل سہ ماہی ’نداء الجامعہ‘ میں بھی شائع ہو چکا ہے۔ سب سے آخر میں علامہ البانیؒ کا اپنے دوست کے ساتھ ہونے والے مکالمہ’’ہم سلفی کیوں کہلائیں؟‘‘ کے عنوان سے شامل اشاعت ہے۔

  • اردو

    زیر تبصرہ کتاب’’حضرت ابراہیم علیہ السلام کی قربانی کا قصہ، تفسیر ودروس‘‘ پروفیسر فضل الٰہی ظہیر حفظہ اللہ کی تصنیف ہے۔ یہ کتاب سیدنا ابراہیم علیہ السلام کی واقعہ قربانی پر مشتمل تفصیلی کتاب ہے۔ پروفیسر صاحب نےاس قصہ کوسمجھنے سمجھانے اوراس میں موجود دروس اور عبرتوں سے فیض یاب ہونے اور دوسروں کوفیض کرنے کےلیے اس کتا ب کومرتب کیا ہے۔ انہوں نے اس قصہ سےمتعلقہ آیات کی تفسیر اوران سے اخذ کردہ دروس اور عبرتوں کے تحریر کرنے میں معتمد تفسیروں سے استفادہ کیا ہے۔ اور ضعیف احادیث اوراسرائیلی روایات سے کلی طور پر اجنتاب کیا ہے کیوں کہ ثابت شدہ تھوڑی معلومات غیر ثابت شدہ زیادہ معلومات سے کہیں بہترہیں۔ مصنف موصوف نے قصہ سے متعلقہ آیات پندرہ حصوں میں تقسیم کی کیں ہیں اور ہر حصے میں اس کی تفسیر اوراخذ کردہ دروس بیان کیے گئے ہیں۔ بیان کردہ دروس کی مجموعی تعداد بتیس ہے۔ اپنے موضوع پر یہ کتاب انتہائی جامع اور مستند ہے۔ اللہ تعالیٰ پروفیسر صاحب کی تمام دعوتی وتبلیغی اور تحقیقی وتصنیفی خدمات قبول فرمائے۔(آمین)

  • اردو

    اللہ رب العزّت کے امّت اسلامیہ پر ان گنت احسانات میں سے ایک یہ ہے کہ اس نے اپنی کتاب عزیز قرآن مجید اور سنّت مصطفیٰﷺ میں اپنے خلیل ابراہیم علیہ الصلوٰۃ والسلام کی بحیثیت والد سیرت مطہّرہ کو ہمیشہ ہمیش کے لیے محفوظ فرمادیا ہے جو کہ راہ نمائی کے طلب گار والدین کے لئے مشعل راہ اور منارہدایت ہے۔ان کی سیرت مطہرہ میں اولاد کے متعلق والدین کے بہت سے سوالات کے جوابات موجود ہیں ،انہی سوالات میں سےدرج ذیل تین سوالات ہیں جو اس کتاب کا بنیادی موضوع ومحور ہیں: ۱۔ابراہیم علیہ السلام نے اپنی اولاد کے لیے کن چیزوں کو پسند فرمایا؟ ۲۔انہوں نے کن چیزوں سے اپنی اولاد کو بچانے کی رغبت اور کوشش کی؟ ۳۔اولاد کے بارے میں اپنے عزائم اور ارادوں کی تکمیل کے لیے انہوں نے کیا طریقے اختیارکئے؟

  • اردو

    زیر نظر کتاب ’’قربانی عقیقہ اور عشرہ ذی الحجہ‘‘مولانا محمد فاروق رفیع﷾(مدرس جامعہ لاہور الاسلامیہ ،لاہور) کی اس مسئلہ پر تحقیقی وعلمی کاوش ہے ۔ جس میں موصوف نے قربانی کے تمام متعلقہ احکام ومسائل کو حتی الامکان خوب کھول کر بیان کیا ہے۔ہر مسئلہ کو قرآن کریم اور احادیث صحیحہ کے ٹھوس دلائل سے ثابت کیا گیا ہے ۔پھر کسی مسئلہ میں اگر کچھ اختلاف ہے تومختلف مذاہب وآراء کو نقل کرنے کےبعد کتاب وسنت کے قریب ترین مذہب کے راجح ہونے کی نشاندہی کی گئی ہے۔ قربانی کے مسائل کے ساتھ عقیقہ کے مسائل کافی مشابہت رکھتے ہیں ۔ فاضل مصنف نے حتیٰ الوسع اس کتاب میں عقیقہ کے تمام مسائل بھی یکجا کردئیےہیں۔اس کتاب کے اس ایڈیشن میں عشرہ ذی الحجہ کے فضائل ومسائل بھی شامل کردئیے ہیں ۔کیونکہ قربانی کا تعلق بھی انہی ایام سے ہے اللہ تعالی اسے مؤلف،اس کے والدین،اساتذۂکرام اور اہل خانہ کے لیے اجر وثواب کا ذریعہ اور توشۂ آخرت بنائے (آمین) (م۔ا )

  • اردو

    شیخ الاسلام محمد بن عبد الوہا ب رحمہ اللہ کی شہرہ آفاق تالیف ’’کتاب التوحید‘‘ توحید کےموضوع پر سب سے جامع ومانع کتاب ہے،جس کی متعدد شروحات ہیں،لیکن ان شروحات میں سب سے عمدہ ونفیس شرح عبد الرحمن بن حسن بن محمد بن عبد الوهابؒ کی ’’فتح المجید‘‘ ہے،اس کتاب میں توحید،اس کی فضیلت،شرک،اس کی خطرناکی،شرک کی اقسام ،بدعت اوراس کی خطرناکی وغیرہ کو خالص کتاب وسنت کی روشنی میں واضح کیا گیاہے ،اس کا سلیس اردو ترجمہ افادہ عام کی خاطرمولانا عطاء اللہ ثاقبؒ نے کیا ہے اور علامہ بدیع الدی شاہ راشدی اوردیگرعلماء نے اس کا مراجعہ فرمایا ہے۔

  • اردو

    زیرنظر کتاب میں ماہ رمضان کی اہمیت وفضیلت اوراس کی خصوصیات کو ذکرکرکےاس ماہ کے بارے میں سلف صالحین (صحابہ،تابعین وتبع تابعین) رحمہم اللہ کے حالات کا تذکرہ کیا گیا ہے کہ وہ اس ماہ کی آمد کا شدت سے انتظار کرتے تھے اور جب یہ ماہ آجاتا تو صیام وقیام،صدقات وخیرات،تلاوت قرآن کریم،اعتکاف ودیگراعمال برّ میں بڑھ چڑھ کر حصہ لیتے تھے۔لہذا ہمیں بھی انہی کے نقش قدم پرچل کراس موسم بہار کو غنیمت جان کرخوب زیادہ نیکی وبھلائی کے کام کرنا چاہیئے۔(تالیف:محترمہ ام عبد منیب،ناشر:مشربہ علم وحکمت،لاہور)

  • اردو

    زیر نظر کتاب میں مسائل روزہ پر مفصّل بحث کی گئی ہے، اورہرحدیث پرحکم کے سلسلے میں علامہ البانی ودگرمحقیقن کے حکم سے استفادہ کیا گیا ہے،مسائل اربعہ کے علاوہ عرب وعجم کے قدیم وجدید علماء ومفتیان اور فقہائے عظام کے فتاوی جات بھی نقل کئے گئے ہیں۔،

  • اردو

    اولاد کی تربیت صالح ہوتو ایک نعمت ہے وگرنہ یہ ایک فتنہ اور وبال بن جاتی ہے ۔ دین وشریعت میں اولاد کی تربیت ایک فریضہ کی حیثیت رکھتی ہے ۔ کیونکہ جس طرح والدین کے اولاد پر حقوق ہیں اسی طرح اولاد کےوالدین پر حقوق ہیں اور جیسے اللہ تعالیٰ نے ہمیں والدین کےساتھ نیکی کرنے کا حکم دیا ہے ایسے ہی اس نے ہمیں اولاد کےساتھ احسان کرنے کا بھی حکم دیا ہے ۔ان کے ساتھ احسان اور ان کی بہترین تربیت کرنا دراصل امانت صحیح طریقے سے ادا کرنا ہے اورانکو آزاد چھوڑنا اور ان کے حقوق میں کوتاہی کرنا دھوکہ اور خیانت ہے۔ کتاب وسنت کے دلائل میں اس بات کا واضح حکم ہے کہ اولاد کے ساتھ احسان کیا جائے ۔ ان کی امانت کوادا کیا جائے ، ان کوآزاد چھوڑنے اوران کےحقوق میں کتاہیوں سے بچا جائے ۔کیونکہ اللہ تعالیٰ کی بے شمار نعمتوں میں سے ایک بہت بڑی نعمت اولاد بھی ہے ۔ اور اس بات میں کوئی شک نہیں کہ اگر اولاد کی صحیح تربیت کی جائے تو وہ آنکھوں کا نور اور دل کا سرور بھی ہوتی ہے ۔ لیکن اگر اولاد بگڑ جائے اور اس کی صحیح تربیت نہ کی جائے تو وہی اولاد آزمائش بن جاتی ہے ۔اپنی اولاد کی تربیت کے معاملہ میں سردمہری کامظاہرہ کرنے والوں کو کل قیامت کے روز جوکربناک صورت حال پیش آسکتی ہے۔ اس سے اہل ایمان کومحفوظ رکھنےکےلیے اللہ تعالیٰ نے پہلے سےآگاہ کردیا ہے۔ تاکہ وہ اپنی فکر کےساتھ ساتھ اپنے اہل عیال اوراپنی آل اولاد کوعذاب الٰہی میں گرفتار ہونے اور دوزخ کا ایندھن بننے سے بچانے کی بھی فکرکریں۔ زیر تبصرہ کتاب’’تربیت اطفال کے اسلامی اصول ‘‘سعودی عرب کے معروف عالم دین شیخ محمد بن جمیل زینو ﷾ کاتربیت اولاد کے موضوع پر ایک عربی رسالے ’’کیف نربی اولانا‘‘ کا ترجمہ ہے۔اس کتابچہ میں شیخ موصوف نے تقریباً ان تمام باتوں کا احاطہ کر نےکی کوشش کی ہے جن سے معلوم ہوسکے کہ مسلمان بچوں کی تربیت کےلیے کون سے امور ضروری ہیں اوران کی مکمل تہذیب کے لیے کن باتوں سے پرہیز لازم ہے۔یہ کتاب اپنےبچوں کے مستقبل کوسنوارنے او راسلامی منہج پر صحیح تربیت کرنےکے لیےبہترین کتاب ہے۔نوٹ:واضح رہے کہ یہی کتاب دارالسلام لاہورسے بھی ’’ تربیت اولاد‘‘ کےنام سے چھپ چکی ہے۔

  • اردو

    قرآن وحدیث ،طب وحکمت اورجدید سائنس کی روشنی میں بچّوں کی تربیت کیسے کریں؟:چے کو ایک اچھا انسان اور خاص طور پر ایک اچھا مسلمان بنانے کے لیے اس کی نیک اور صالح تربیت انتہائی ضروری ہے تاکہ وقت کے ساتھ ساتھ نہ صرف وہ معاشرے کی تعمیر وترقی میں اپنا مثبت کردار ادا کرے بلکہ اسلامی طرز حیات اپناتے ہوئے دنیا وآخرت میں سرخرو ہو سکے- زیر نظر کتاب میں مصنف اسی موضوع کو تفصیل کے ساتھ زیر بحث لائے ہیں – کتاب کی سات ابواب میں تقسیم کی گئی ہے جن میں بچے کی ولادت سے قبل کی ضروریات اور ولادت کے بعد اسلامی آداب کا تذکرہ کیا گیا ہے، پھر طبی اور نفسیاتی اعتبار سے بچوں کی کچھ مشکلات اور عوارض کا ذکر ملتا ہے کتاب کے چوتھے باب میں بچوں کے حفظان صحت کے اسلامی اصول بیان کیے گئے ہیں- پانچویں باب میں بچے کی اخلاقی، معاشرتی اور جنسی تربیت کے بارے میں اسلامی نقطہ نظر کو واضح کیا گیا ہے-جبکہ آخری ابواب میں بچے کی تربیت پر اثر انداز ہونے والے عوامل، بچوں کے بگاڑ اور ان کی اصلاحی تدابیر کے بارے میں عمدہ لوازمہ پیش کیا گیا ہے۔ اضافہ ونظرثانی:محمد طاہر نقاش،ناشر:داالبلاغ ،لاہور۔ نوٹ: اس کتاب کے ساتھ شیخ محمد جمیل زینو ؒکی کتاب’’تربیت اطفال کے اسلامی اصول‘‘ (ترجمہ حافظ خالدحیات محمود) یا ’’تربیت اولاد‘‘ (ترجمہ:دارالسلام،لاہور) کا ضرور مطالعہ کریں۔

  • اردو

    قرآن کی عظمتیں اور اس کے معجزے : قرآن کریم اللہ تعالیٰ کا معجز کلام ہے جس کا ایک ایک لفظ فصاحت و بلاغت کا آئینہ دار ہے۔ قرآن کریم کا بے تکلف طرز تخاطب انسان کے عقل و شعور کو جھنجوڑتا اور اللہ تعالیٰ کی بندگی پر آمادہ کرتا ہے۔ اس وقت امت مسلمہ کے گوناگوں مسائل کی بنیادی وجہ قرآن کریم کے ساتھ اس وابستگی کا ختم ہونا ہے جو کبھی مسلمانوں کا خاصہ ہوا کرتا تھا۔ ہمارے گھروں میں قرآن مجید تو موجود ہے لیکن ان کو کھولنے کی زحمت کرنا ایک مشکل امر بن چکا ہے۔ زیر نظر کتاب مسلمانوں کے دل میں قرآن کریم کی عظمت کا چراغ روشن کرنے کے لیے تصنیف کی گئی ہے تاکہ بھولا بھٹکا راہی صراط مستقیم کا مسافر بن جائے۔ مصنف نے سب سے پہلے قرآن کی عظمت کے دلائل پیش کیے ہیں اور قرآن کا تعارف قرآن ہی کی آیات مقدسہ سے کرایا ہے اس کے بعد دلائل و براہین کی روشنی میں یہ حقیقت اجاگر کی ہے کہ قرآن کریم قیامت تک کے لیے زندگی کے ہر تقاضے کا جواب دینے کے جوہر سے آراستہ ہے۔ کتاب کے آخر میں بے خبر انسانوں کو حق کی طرف دعوت دی گئی ہے۔ کتاب اصل میں عربی میں تھی جس کے مصنف محمود بن احمد الدوسری ہیں۔ کتاب کا سلیس اور رواں اردو ترجمہ پروفیسر حافظ عبدالرحمٰن ناصرحفظہ اللہ نے انجام دیا ہے۔ نہایت ہی مفید علمی رسالہ ہے ضرور مطالعہ فرمائیں۔ ناشر: دارالسلام،لاہور

  • اردو

    سلفیت کا تعارف اور اس کے متعلق بعض شُبہات کا ازالہ:تاریخ اسلام کا مطالعہ کرنے سے یہ بات معلوم ہوتی ہےکہ خلیفہ سوم حضرت عثمان کی مظلومانہ شہادت کے بعد امت مسلمہ مختلف جماعتوں اور گروہوں میں تقسیم ہوگئی تھی، ابتداءً یہ اختلافات سیاسی نوعیت کے تھے جو بعد میں چل کر دینی شکل اختیار کر گئے،اور اسی کے بعد سے نئی نئی جماعتوں اور فرقوں کا ظہور ہونےلگا۔ ہر جماعت اور ہر فرقہ اپنے آپ کو اسلام کا علمبر دار کہتا اور اسلام سے وابستگی کا مظاہرہ کرتے ہوئے اپنے آپ کو حق پر ثابت کرنے کی کوشش کرتا۔ اس صورت حال کو پیش نظر رکھتے ہوے علمائے کرام نے باطل فرقوں اور راہ حق سے بر گشتہ جماعتوں سے اہل حق کو ممتاز کرنے کے لئے’’اھل السنۃ والجماعۃ‘‘کی اصطلاح ایجاد کی۔ اس اصطلاح سے خوارج، اہل تشیع، روافض اور معتزلہ وغیرہ سے تمیّز مقصود تھی۔ اس اصطلاح سے تمام علماء حق راضی اور متفق تھے۔ لیکن ’’اھل السنۃ والجماعۃ ‘‘ کے مابین بھی اختلاف رونما ہوئے۔فلسفہ اور علم الکلام سے اشتغال رکھنے کی وجہ سے مختلف مکاتب فکر اور جماعتیں ظہور پزیر ہوئیں جنہوں نے اپنے لیے الگ الگ اصول وضوابط متعین کئے، اور ’’اھل السنۃ والجماعۃ‘‘ سے وابستگی ظاہر کرتے ہوے ہر ایک نے اپنے آپ کو کتاب وسنت کا حامل وعلمبردار قرار دیا۔ لہذا ان تمام جماعتوں اور مکاتب فکر سے امتیاز کے لیے اہل حق نے ’’سلف‘‘ کا انتخاب کرتے ہوئے اس کی طرف اپنی نسبت کی۔ تو جس طرح ’’اہل السنۃ والجماعۃ‘‘ کی اصطلاح ایک ضرورت کےتحت ایجاد کی گی تھی اسی طرح ’’سلف ‘‘ اور سلفی‘‘ کی اصطلاح بھی ایک ضرورت کے تحت ایجاد کی گئی ہے۔ زیر تبصرہ کتاب’’سلفیت کا تعارف‘‘فاضل مصنف ڈاکٹررضاءاللہ محمد ادریس مبارکپوریؒ کی تصنیف کردہ ہے جس میں انہوں نے سلفیت کا تعارف اور اس کے متعلق شکوک وشبہات کا ازالہ کیا ہے اور اہل حدیث پر کیے جانے والے اعتراضات کا نہایت ہی علمی وسنجیدہ جواب دیا ہے۔ اللہ رب العزت سے دعا کرتے ہیں کہ اللہ فاضل مصنف کو اس کا ر خیر پر اجر عظیم سے نوازے۔ آمین(ش.خ) تقدیم:ڈاکٹرمقتدی احسن ازہریؒ ناشر: دارالخلد،لاہور

  • اردو

    پیغمبر اسلام صلی اللہ علیہ وسلم اور معجزات:مسلمان جب نبی کریم ﷺکی نبوت ورسالت اوراس کے دلائل کےبارے میں گفتگو کرنےکا اہتمام کرتا ہے توگویا وہ ابوابِ اسلام میں ایک عظیم باب او رموضوع کو تھامتاہے۔کیوں کہ خود قرآن کریم نے ہمیں نبی کریم ﷺ کی نبوت کےدلائل پر غورو فکرکرنے کی دعوت دی ہے ۔ اللہ تعالی نے جناب نبی کریم ﷺکی نبوت کی تائید و اثبات کےلیے بہت زیادہ معجزات عطا فرمائے،معجزات دراصل دلائل نبوت ہوتے ہیں یعنی ان کو دیکھ کر کچھ لوگ نبوت سے آشنائی حاصل کرتے ہیں ۔جن سے ایمان والوں کےدلوں کو قرار وثبات ملتا او ران کے عمل وایمان میں اضافہ ہوتا تھا ۔اوراس کے ساتھ ساتھ منکرین کے اوپر حجت قائم ہوتی اور ان میں سےسلیم الفطرت لوگ ان معجزات کودیکھ اور سن کردولتِ ایمان سےبہرہ ور ہو تے۔نبی کریم ﷺ کو ملنے والے معجزات کئی انواع واقسام پر مشتمل ہیں ۔ آپ ﷺ کو ملنے والےمعجزات کی حد بندی تو مشکل ہے ۔ تاہم کتبِ احادیث میں ان کی تعداد سیکڑوں سے متجاوز ہے جن کوائمہ محدثین نے بیان کیا ہے ۔ اوراس سلسلے میں متعدد علماء نے اس موضوع پر مستقل کتب بھی تصنیف کی ہیں۔ زیر تبصرہ کتاب’’پیغمبر اسلام ﷺاور معجزات ‘‘ حکیم محمود احمد ظفرصاحب کی تصنیف ہےاس کتاب میں انہوں نے معجزات نبوی ، چندبڑے معجزات ، اسراء اور معراج، نبو ت اور وحی ، آپ کے ہاتھ کی برکات ، کھانے میں برکت، پانی کےبارےمیں آپﷺ کے معجزات، حضورکےلعاب دہن کی برکات، حضوراکرمﷺ کی دعاؤں کے اثرات ،مختلف اشیاء میں اثرات، جانوروں پر اثرات،پیشگوئیاں یا اخبار غیب، علامات قیامت کی پیشگوئیاں جیسے جلی عنوانات قائم کر کے ان کے تحت سرکاردوعالم ﷺ کے معجزات کی ایک اچھی خاصی تعداد جمع کردی ہے۔جو نبی کریم ﷺ کی سیرت کا ایک تتمہ ہے ۔(م۔ا) (باہتمام:نشریات،لاہور)

  • اردو

    40 خصوصیات محمد صلی اللہ علیہ وسلم: اللہ رب العزت نےجہاں آپ ﷺ کوتمام انسانیت سے افضل اوراعلیٰ مقام ومرتبہ عطا فرمایا ہے وہاں آپ کو بہت سےایسی خوبیاں اور خصوصیات بھی عطا فرمائی ہیں۔ جو تمام انبیاء اور کل کائنات سے آپ کوممتاز کرتیں ہیں۔ نبی کریم ﷺ کی عظمت ورفعت کے بیان میں اللہ تعالیٰ نے سیکڑوں خصوصیات آپ کودے رکھیں ہیں ۔کتب وحدیث وسیرت میں جن کاتفصیلی ذکر موجود ہے اور باقاعدہ اس موضوع پر الگ سے کتب بھی موجود ہیں ۔ زیر نظر کتاب ’’40 خصوصیات محمد ﷺ ‘‘مولانا محمد عظیم حاصل پوری ﷾ (مدیرماہنامہ المحمدیہ،حاصل پور )کی کاوش ہے جس میں انہوں نےاختصار کے ساتھ آپﷺکی 40خصوصیات کاذکرکیا ہے۔تاکہ ہم اپنے نبی جناب محمد ﷺ کی عظمت ورفعت کوپہچان کر ان کی سچی اتباع کریں اور دنیا وآخرت کی فوزوفلاح کےحقدار بن جائیں۔ اللہ تعالیٰ مصنف موصوف کے علم اور زورِ قلم میں اضافہ فرمائے۔ اور ہمیں اپنے نبی ﷺ کی سچی اتباع،روز قیامت آپ کا دیدار،آپ کی رفاقت اور آپ کی سفارش نصیب فرمائے (آمین) (م۔ا)

  • اردو

    تعليم الفرائض(أردو) زیر تبصرہ کتاب’’ تعلیم الفرائض‘‘محدث العصر مجتہد وفقیہ حافظ عبداللہ محدث روپڑی﷫ کے لائق ترین شاگرد اور روپڑی ﷫ کے فتاوی ٰ جات کو تین مجلدات میں فتاویٰ اہل حدیث کے نام سے مرتب کرنے والے ابوالسلام مولانا محمد صدیق سرگودہوی﷫ کی مرتب شدہ ہے ۔ یہ کتاب در اصل محدث روپڑی کے ارشاد پر ’’وارثت اسلامیہ‘‘ کےنام سے مرتب کیے گئے نقشہ کی طبع دوم ہے مولانا صاحب نے جب اس نقشہ کومرتب کیا تو اکابر علماء وقت نے اسے بہت پسند کیا ۔تو پھر مرتب نے اس میں بعض مسائل کا اضافہ کیا اور اسے ’’تعلیم الفرائض ‘‘ کے نام سے شائع کیا ۔اسلامی وراثت کے موضوع پر یہ کتا ب مختصر ،جامع اور آسان تصنیف ہے ۔ اسی وجہ سے اکثر مدارس سلفیہ میں شامل نصاب ہے۔ (م۔ا)ناشر:ادارہ احیاء السنۃ النبویۃ،سرگودھا،پنجاب،پاکستان۔

  • اردو

    فوت ہونے والا شخص اپنےپیچھے جو اپنا مال، زمین،زیور وغیرہ چھوڑ جاتاہے اسے ترکہ ،وراثت یا ورثہ کہتے ہیں۔ کسی مرنے والے مرد یا عورت کی اشیاء اور وسائلِ آمدن وغیرہ کےبارے یہ بحث کہ کب ،کس حالت میں کس وارث کو کتنا ملتا ہے شرعی اصلاح میں اسے علم الفرائض کہتے ہیں۔ علم الفرائض (اسلامی قانون وراثت) اسلام میں ایک نہایت اہم مقام رکھتا ہے۔ قرآن مجید نے فرائض کےجاری نہ کرنے پر سخت عذاب سے ڈرایا ہے۔ چونکہ احکام وراثت کاتعلق براہ راست روز مرہ کی عملی زندگی کے نہایت اہم پہلو سے ہے ۔ اس لیے نبی اکرمﷺ نے بھی صحابہ کواس علم کی طرف خصوصاً توجہ دلائی اور اسے دین کا نہایت ضروری جزء قرار دیا۔ صحابہ کرام میں سیدنا علی ابن ابی طالب، سیدنا عبد اللہ بن عباس، سیدنا عبد اللہ بن مسعود، سیدنا زید بن ثابت رضی اللہ عنہم کا علم الفراض کے ماہرین میں شمار ہوتا ہے۔ صحابہ کے بعد زمانےکی ضروریات نے دیگر علوم شرعیہ کی طرح اس علم کی تدوین پر بھی فقہاء کومتوجہ کیا۔ انہوں نے اسے فن کی حیثیت دی اس کے لیے خاص زبان اور اصلاحات وضع کیں اور اس کے ایک ایک شعبہ پر قرآن وسنت کی روشنی میں غورو فکر کر کے تفصیلی و جزئی قواعد مستخرج کیے۔ اہل علم نے اس علم کے متعلق مستقل کتب تصنیف کی ہیں۔ زیر تبصرہ کتاب ’’الاعوان الناجیۃ فی شرح الفرائض السراجیۃ‘‘ مولانا ابو میمون محمدمحفوظ اعوان کی تصنیف ہے ۔مصنف موصوف نے اس کتاب میں مدارس دینیہ کے نصاب میں وراثت کے موضوع پر شامل معروف کتاب ’’سراجی ‘‘ کی تسہیل وتشریح اور تمام مسائل کو مثالوں سے عملی طور پر حل کرکے اردودان علم وراثت میں دلچسپی رکھنے والوں کے لیے انتہائی آسان کر دیا ہے۔ یہ کتاب علم میراث پڑھنے والے طلباء کےلیے انتہائی عمدہ کاوش ہے۔ اللہ تعالیٰ مؤلف کے علم وعمل میں برکت فرمائے اور ان کی اس کاوش کو شرف قبولیت سے نوازے۔ (آمین) (م۔ا)

  • اردو

    کتاب التوحید: اس میں کوئی شک نہیں کہ اسلامی عقیدہ خاص طور پر توحید کا علم بہت ہی اہم اور بنیادی ہے، اسے سیکھنے ،سکھانے اور اس کے مطابق عمل کرنے کی طرف بھرپور توجّہ دینا ہمارا اولین فریضہ ہے،اس لئے کہ بندوں کے اعمال کی صحت،قبولیت اور نفع بخش ہونے کا یہی ایک راستہ ہے، خاص طورپر ایسے وقت اور ماحول میں جہاں الحاد،تصوّف،رہبانیت،قبرپرستی اور سنت وشریعت مخالف بدعتوں کی تیزوتند آندھیاں چل رہی ہیں، طرح طرح کی گمراہ کن اور خطرناک تحریکیں اور جماعتیں اپنا کام کررہی ہیں۔ ایسے زہر آلود عہد وماحول میں اگرمسلمان کتاب وسنت پر مبنی صحیح عقیدہ کے ہتھیار سے مسلح نہ ہوں توبہت جلد انھیں گمراہ کن اورفاسد لہریں بہا لے جائیں گی،ان خطرات کے پیش نظر مسلم بچّوں کے لئے کتاب وسنت پرمبنی صحیح عقیدہ پھراس کی تعلیم وتلقین کا اہتمام اور انتظام بہت ضروری ہے، زیرنظر کتاب اس راہ کی ایک سنجیدہ کوشش ہے، کتاب مختصر اور اسلوب بیان نہایت ہی سلیس وعام فہم ہے۔تالیف: صالح بن فوزان الفوزان ۔حفظہ اللہ ۔ ترجمہ وتہذیب وتسہیل: حافظ محمد یوسف سراج (رفیق کار ادارہ ’’دارالاندلس‘‘لاہور)۔

  • اردو

    توحیدِ خالص اور اس کے تقاضے: زیر نظرکتاب’’توحید خالص اور اس کے تقاضے‘‘ توحید کی وضاحت،قوم نوح اور مشرکین عرب کے شرک کی حقیقت،غلواورشخصیت پرستی،اولیاء اللہ کے بارے میں غلواورزیادتی،اولیاء اللہ سے سچّی محبت اور عقیدت کا طریقہ،شرعی اور غیرشرعی وسیلہ کی حقیقت جیسے اہم بنیادی عقائد سے متعلق مسائل پرمشتمل ہے۔ان شاء اللہ اس کتاب کے مطالعہ سے توحید خالص اورشرک کی حقیقت سمجھنے میں کافی مدد ملے گی۔اس کتاب کی تالیف کا مقصد لوگوں کے عقائد کی اصلاح ہے نہ کی کسی جماعت اور فرقہ پرتنقیدوتبصرہ۔ اللہ تعالیٰ ہم سب کے عقائد اوراعمال کی اصلاح فرمائے اورہمیں کتاب وسنت کے مطابق زندگی گزارنے کی توفیق دے،آمین۔(تالیف: مولاناعبدالقادرسلفی، نظرثانی:مولانا انیس الرحمن مدنیؔ ومولانا عبدالغنی سلفی)

  • اردو

    جنّت میں داخلہ اور دوزخ سے نجات: زیرنظرکتاب میں نامورسعودی عالم شیخ عبد اللہ بن جاراللہ الجاراللہ نے قرآن کریم اوررسالت مآب صلی اللہ علیہ وسلم کی احادیث مبارکہ سے وہ تمام باتیں یکجا کردی ہیں جو دوزخ سے نجات اورجنت میں داخلے کی ضامن ہیں۔اسی طرح جنت وجہنم کی صفات اوراہل جنت وجہنم کے بعض اعمال کا بھی مختصرا تذکرہ فرمایا ہے۔ دارالسلام ریاض نے اس گرانمایہ کتاب کو ایمان کی مضبوطی اورحسن عمل کے فروغ کے لئے شائع کیا ہے۔ یہ کتاب جنت میں داخلے کی دستاویز ہے اسے پڑھئے اوراپنی اخروی نجات کے لئے اس کی تعلیمات پرسچے دل سے عمل کیجئے۔ترجمہ: شعبہ تحقیق دارالسلام۔

  • اردو

    برّ صغیرپاک وہند میں علمائے اہل حدیث کی تفسیری خدمات: برصغیر پاک وہندمیں علمائےاہل حدیث نےاشاعت اسلام ، کتاب وسنت کی ترقی وترویج، ادیان باطلہ اور باطل افکار ونظریات کی تردید اور مسلک حق کی تائید اور شرک وبدعات ومحدثات کےاستیصال اور قرآن مجید کی تفسیر اور علوم القرآن پر جو گراں قدر نمایاں خدمات سرانجام دیں وہ تاریخ اہل حدیث کاایک زریں باب ہے زیر تبصرہ کتابچہ ’’برصغیر پاک وہند میں علمائے اہل حدیث کی تفسیری خدمات‘‘جماعت اہل حدیث کے ممتاز مؤرخ ومقالہ نگار محترم جناب عبدالرشید عراقی حفظہ اللہ کی کاوش ہے ۔یہ کتابچہ دراصل مولانا عبدالرشید عراقی کےان مضامین کا مجموعہ ہے جوانہوں نے 1980ء میں’’علمائے اہل حدیث کی تفسیری خدمات ‘‘ کےعنوان سے ہفت روزہ الاعتصام میں تحریر کیے بعد ازاں بعض اہل علم کے اصرار پر ان میں مزید اضافہ جات کرکے اسے کتابی صورت میں شائع کیاگیا۔عراقی صاحب کا یہ رسالہ تین ابواب پر مشتمل ہے ۔اس میں انہوں نے 308 کتابوں کاذکر کیا ہےجن کا تعلق تفسیر قرآن اور علوم القرآن سے ہے اور اس کے علاوہ 28 مفسرین کرام (اہل حدیث) کے مختصر حالات زندگی اوران کی تفسیری خدمات کاذکر کیا ہے۔نیز ان کتابوں کابھی ذکر کیا ہے جومخالفین اسلام نے قرآن مجید پر اعتراضات کیے اور علمائے اہل حدیث نے ان کے جوابات دیے اور کچھ ایسی کتابوں کابھی ذ کر کیا ہے جوعلمائے اسلام نے فروعی اختلافات کی وجہ سے بطور تنقید ایک دوسرے کے خلاف لکھیں۔ اللہ تعالی ٰ عراقی کو صحت وعافیت سے نوازےاوران کی تمام مساعی حسنہ کو قبول فرمائے (آمین) (م۔ا) ناشر:(صادق خلیل اسلامک لائبریری،رحمت آباد،فیصل آباد،پاکستان)

  • اردو

    پاک وہند میں علمائے اہل حدیث کی خدماتِ حدیث: برصغیرپاک وہند میں ’’اہل حدیث‘‘ کی تاریخ اتنی ہی قدیم ہے جتنی اسلام کی۔ اسلام کا ابتدائی قافلہ جب وارد ہند ہوا تو اس وقت تقلیدی مذاہب کا کہیں وجود نہ تھا، تمام کا ملجا وماویٰ اللہ تعالیٰ کی کتاب اور رسول صلی اللہ علیہ وسلم کی حدیث وسنت تھی۔ بلکہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے ارشاد: لاتزال طائفۃ من أمتی ظاھرین علی الحق (الحدیث) کے مطابق تقلید وجمود کے رواج پاجانے کے باوجود یہاں ہردورمیں خال خال ہستیاں ایسی رہی ہیں جنہوں نے صحابہ کرامؓ اورتابعین عظامؓ کے نقشِ قدم پرکتاب وسنت کو ہی دین کی اصل بنیاد قراردیا۔ پھرآخری دورمیں حضرت مجدّدالفؒ ثانی اورحضرت شاہ ولی اللہ محدث دہلویؒ نے بڑے پرحکمت انداز سے یہاں کے جامد ماحول میں تحریرا اوران کے بعد حضرت امام شاہ محمد اسماعیل شہیدؒ اوران کے رفقاء نے عملا ایسا ارتعاش پیدا کیا جس کی صدائے بازگشت بستی بستی سنائی دینے لگی۔ شرک کی جگہ توحید اوربدعات کی جگہ سنّت کا چرچا ہونے لگا۔ مدارس میں(جہاں پہلے حدیث پاک کی ایک آدھ کتاب محض بطورتبرّک پڑھائی جاتی تھی) کتب ستّہ کو شامل نصاب کرکے اس کی تعلیم وتدریس کا آغاز کیا گیا، اورکتب احادیث کی شروح وحواشی،نیزان کے تراجم اوران کی نشرواشاعت کا اہتمام کیا جانے لگا۔تاکہ دین اسلام کے دوسرے بڑے ماخذ سے براہ راست تعلق عام اورآسان ہوسکے، اس سلسلے میں علمائے اہلحدیث نےکیا خدمات سرانجام دیں؟ اس اجمال کی ضروری تفصیل آپ کو ان شاء اللہ زیرنظررسالہ میں ملے گی۔ تصنیف: علامہ ارشادالحق اثری حفظہ اللہ، ناشر:ادارۃ العلوم الاثریہ،فیصل آباد۔ نوٹ:اس کتاب میں ہندوستانی مدارس کے ضمن میں ہندوستان کی راجدہانی دلی میں واقع سابق ناظم جمعیت اہل حدیث ہند علامہ عبدالحمید عبدالجباررحمانیؒ کا مشہوردینی ادارہ جامعہ اسلامیہ سنابلؔ کا تذکرہ لاعلمی میں چھوٹ گیا ہے جس کا تذکرہ کئے بغیرہندوستانی مدارس نا مکمل ہیں۔(ش،ر)

صفحہ : 10 - سے : 1
فیڈ بیک