• اردو

    مقالاتِ محدًث مبارکپوری رحمۃ اللہ علیہ: یہ ایک حقیقت ہے کہ برصغیرپاک وہند میں علم حدیث کی تاریخ تب تلک تشنہ تکمیل رہے گی جب تک علامہ محمد عبد الرحمن محدّث مبارک پوریؒ کا ذکرخیرنہ ہو۔ آپ اپنے وقت کے بہت بڑے محدّث،مفسّر،محقّق،مفتی،ادیب اورنقّاد تھے۔ اللہ سبحانہ وتعالیٰ نے انہیں علم کی غیرمعمولی بصیرت وبصارت ،نظروفکر کی گہرائی،تحقیق وتنقیح میں باریک بینی اورژرف نگاہی عطاء فرمائی تھی۔ زہد وتقوی،اخلاص وللہیت،حسن عمل اورحسن اخلاق کے پیکرتھے۔ ’’تحفۃ الاحوذی‘‘ ان کا علمی شاہکارہے،اس کے علاوہ دو درجن سے زائد مختلف عناوین پران کی تحقیقی کاوشیں صحیفہ قرطاس پرمرتسم ہیں۔ ’’تحقیق الکلام فی وجوب القراءۃ خلف الامام‘‘ توکئی بار زیور طبع سے آراستہ ہوئی،مگراکثرایسی ہیں جو ایک یا دوبار شائع ہوئیں اورپھر دستیاب نہ ہوسکیں۔ اب ’’ادارۃ العلوم الاثریہ‘‘ آپ کی کمیاب بلکہ نایاب تصانیف کو’’مقالات محدّث مبارکپوری‘‘ کے عنوان سے شائع کرنے کی سعادت حاصل کررہا ہے جوحسب ذٰیل ہیں: 1-نورالأبصار في تائيد نور الأبصار 2- ضياء الأبصار في ردّ تبصرة الأنظار. 3-ضياء الأبصار في رد تبصرة الأنظار 4-المقالة الحسنى في سنّية المصافحة باليد اليمنى 5-القول السديد فيما يتعلق بتكبيرات العيد 6-تكبيرة الجنائز 8-إعلام أهل الزمن 9-خير الماعون في منع الفرار من الطاعون اس مجموعہ مقالات کی مراجعت ادارہ کے رفیق مولانا حافظ محمد خبیب احمد صاحب نے کی اورمقدور بھرحوالہ جات کا بھی تقابل کیا ہے۔ رب العالمین اس کتاب کے نفع کوعام کرے اورجملہ ناشرین کے حق میں صدقہ جاریہ بنائے آمین۔(ش۔ر)

  • اردو

    منہاج المسلم (تحقیق وتخریج سے مزیّن جدید ایڈیشن): بعض کتابیں اپنی اہمیت کے اعتبار سے نہایت مفید ہوتی ہیں۔انہیں باربار پڑھنے سے بھی دل سَیر نہیں ہوتا۔ان کے مطالعے سے ذہن کو بالیدگی اور روح کو تازگی ملتی ہے اور بھلائی کے امکانات کی ایک وسیع دنیا سامنے آتی ہے۔ ’’منہاج المسلم ‘‘ایسی ہی عظیم کتابوں میں سے ایک ممتاز کتاب ہے جوسعودی عرب کے نامورعالم دین علامہ ابوبکرجابرالجزائری حفظہ اللہ کی تصنیف ہے۔ اس عظیم الشان کتاب کا اردو ترجمہ شیخ الحدیث مولانا محمد رفیق اثری حفظہ اللہ نے کیا ہے۔اس کتاب میں کتاب وسنت کی روشنی میں تمام شعبہ ہائے زندگی کے بارے میں دلوں میں اترجانے والے بیش بہا اسباق چمک رہے ہیں ۔ زبان آسان ،عام فہم اور سادہ ہے ۔عقائد ہوں یا عبادات کا بیان ،اخلاقیات کے مختلف پہلو ہوں یا اسلامی آداب وحقوق کا تذکرہ ،احکام ِتجارت ہوں یا معاشرتی معاملات، وراثت کے مسائل ہوں یا عائلی قوانین، قصاص ودیت کے اصول ہوں یا قضاء کےمسائل سبھی پر سیر حاصل بحث کی گئی ہے۔ بلاشبہ یہ کتاب دین کی تعلیمات کا ایک عظیم الشان انسائیکلوپیڈیا ہے ۔یہ کتاب ہرفرد، ہرگھراورہرلائبریری کی خاص ضرورت ہے۔اللہ کتاب کے مولف،مترجم اور جملہ ناشرین کی کاوشوں کوقبول فرماکران سب کے حق میں اسے صدقہ جاریہ بنائے اور اس کے نفع کو عام کرے آمین۔ ناشر: دارالسلام لاہور۔ نوٹ: منہاج المسلم کے قدیم اردو ترجمہ والے نسخہ میں تواضع وانکساری کی عظمت اورتکبرکی مذمّت کے باب میں ص 266 پر حدیث کا لفظ يحشرالمتكبرون يوم القيامة أمثال الذرفي صورة الدجال یعنی متکبرلوگ قیامت کے دن چینوٹیوں کی طرح اٹھائے جائیں گے حالانکہ ان کی صورت دجّال کی ہوگی، جبکہ صحیح صورالرًجال ہے يعىنی ان کی صورتیں انسانی ہوں گی جیسا کہ اس نئے ایڈیشن میں ہے۔ (ش۔ر)

  • اردو

    قرآن کریم کے معانی کا آسان اردوترجمہ: قرآن کتاب الہی ہے جس میں انسانوں کی رشدوہدایت اوربھلائی وکامیابی کے تمام اصول وضوابط بیان کردئے گئے ہیں،لہذا ضرورت ہے کہ ہم اس کے معانی کوسمجھ کرپڑھیں،اوراس کے احکام کے مطابق عمل کریں تاکہ دنیاوآخرت کی سعادت اور رضائے الہی کا حقدار بن سکیں۔ اورقرآن چونکہ عربی زبان میں ہے اس لئے عربی نہ جاننے والوں کے لئے اس کا سمجھنا دشوار تھا، لہذا اس بات کا خیال کرتے ہوئے حافظ نذراحمد صاحب نے اس کا آسان اردو ترجمہ فرمایا،اس ترجمہ کی اہم خصوصیت یہ ہے کہ: اس میں ہرکلمہ کا لفظی ترجمہ کیا گیا ہے اور اس کے نیچے ہی اس کا سلیس ومحاورتی ترجمہ بھی کردیا گیا ہے،ساتھ ہی اس ترجمہ کوتمام مکاتب فکر(اہل حدیث،دیوبندی،بریلوی) کے علما ئے کرام کی مکمل تائید واتفاق حاصل ہے۔عربی نہ جاننے والوں کے لئے قرآن فہمی میں یہ ترجمہ بہت ہی مفید ثابت ہوگا۔ مترجم: حافظ نذراحمد مراجعہ :مولانا عزیز زبیدی ودیگرعلمائے کرام۔ ناشر: مسلم اکادمی،محمد نگر،لاہور۔ (ش۔ر)

  • اردو

    زیر نظر کتاب ’’بندہ مومن کا عقیدہ‘‘ اپنے موضوع پر ایک منفرد کتاب ہے جس میں مردِ مومن کے مذہبی عقائد،ان کی حاجت اور ضرورت اُن کے بنیادی اصول وضوابط، اورپھر ہر اصول کے ایک ایک جزئیے پر سیرحاصل گفتگو کی گئی ہے، اور اس کی انتھک کوشش کی گئی ہے کہ کسی زاویے سے کوئی بحث تشنہ نہ رہ جائے۔مذہبی دلائل کے ساتھ ساتھ علمی اور عقلی دلائل کو خاص طور پر ذکر کیا گیا ہے ،اور ترتیب وتالیف اور مفہوم کی ادائیگی کے وقت عصری تقاضوں اور پڑھنے والوں کی ذہنی صلاحیتوں کا پورا لحاظ کیا گیا ہے ۔تالیف:ابوبکرجزائری ترجمہ:مونا نصیراحمد ملّی نظرثانی: مولانا مختاراحمد ندویؒ ناشر: نعمانی کتب خانہ،لاہور۔

  • اردو

    اللہ تعالیٰ نے جس پر زور طریقے سے شرک کی مذمت کی ہے کسی اور چیز کی نہیں کی ہے۔حتی کہ شرک کی طرف جانے والے ذرائع اور اسباب سے بھی منع فرما دیا ہے۔ شرک کا لغوی معنی برابری جبکہ شرک کی واضح تعریف جو علماء کرام نے کی ہے وہ یہ ہے کہ اَللہ تعالیٰ کے کسی وصف کو غیر اللہ کیلئے اِس طرح ثابت کرنا جس طرح اور جس حیثیت سے وہ اَللہ تعالیٰ کیلئے ثابت ہے ،یعنی یہ اِعتقاد رکھنا کہ جس طرح اَللہ تعالیٰ کا علم اَزَلی، اَبدی ، ذاتی اور غیر محدود ومحیطِ کل(سب کو گھیرے ہوئے ) ہے ،اِسی طرح نبی اورولی کو بھی ہے اور جس طرح اَللہ تعالیٰ جملہ صفاتِ کمالیہ کا مستحق اور تمام عیوب ونقائص سے پاک ہے ،اِسی طرح غیر اللہ بھی ہے تو یہ شرک ہو گا اور یہی وہ شرک ہے جس کی وجہ سے اِنسان دائرۂ اِسلام سے خارِج ہو جاتا ہے اور بغیر توبہ مرگیا تو ہمیشہ کیلئے جہنم کا اِیندھن بنے گا۔اللہ تعالی نے قرآن مجید میں اور نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنی احادیث مبارکہ میں جس قدر شرک کی مذمت اور توحید کا اثبات کیا ہے اتنا کسی اور مسئلے پر زور نہیں دیا ہے۔۔شرک کی اسی قباحت اور اس کے ناقابل معافی جرم ہونے کے سبب تمام علماء امت نے اس کی مذمت کی اور لوگوں کو اس سے منع کرتے رہے۔عصر حاضر میں شرک پھیلانے کے سب سے بڑے علمبردار بعض نام نہاد اہل سنت اور ان کے معتقدین ہیں، جنہوں نے ہزاروں درباروں اور مزاروں کو کمائی کا ذریعہ بنا رکھا ہے۔ زیر تبصرہ کتاب"مزاروں اور درباروں کی شرعی حیثیت" محترم حافظ مقصود احمد صاحب کی تصنیف ہے، جس میں انہوں نے مزاروں اور درباروں کی شرعی حیثیت پر گفتگو کی ہے۔اللہ تعالی سے دعا ہے کہ وہ مولف موصوف کی اس محنت کو اپنی بارگاہ میں قبول فرمائے اور ان کے میزان حسنات میں اضافہ فرمائے۔آمین(راسخ) ناشر: مرکزی جمعیت اہل حدیث،اسلام آباد

  • اردو

    دُنیا اور آخرت کی حقیقت کتاب وسنّت کی روشنی میں: دنیا کی زندگی ایک کھیل کود سے زیادہ کی حیثیت نہیں رکھتی۔مسند احمد میں روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نےفرمایا :”دنیا سے میرا بھلا کیا ناطہ! میری اور دنیا کی مثال تو بس ایسی ہے جیسے کوئی مسافر کسی درخت کی سایہ میں گرمیوں کی کوئی دوپہر گزارنے بیٹھ جائے ۔ وہ کوئی پل آرام کر ے گا تو پھر اٹھ کر چل دے گا“ترمذی میں سہل بن عبداللہ کی روایت میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم فرماتے ہیں : ”یہ دنیا اللہ کی نگاہ میں مچھر کے پر برابر بھی وزن رکھتی تو کافرکوا س دنیا سے وہ پانی کا ایک گھونٹ بھی نصیب نہ ہونے دیتا“صحیح مسلم میں مستورد بن شداد کی روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”دنیا آخرت کے مقابلے میں بس اتنی ہے جتنا کوئی شخص بھرے سمندر میں انگلی ڈال کر دیکھے کہ اس کی انگلی نے سمندر میں کیا کمی کی “ تب آپ نے اپنی انگشت شہادت کی جانب اشارہ کیا ۔ “زیر تبصرہ کتاب"دنیا اور آخرت کی حقیقت قرآن وسنت کی روشنی میں "محترم مولانا ابو حمزہ عبد الخالق صدیقی صاحب کی تصنیف لطيف ہے، جس میں انہوں نے قرآن وسنت کی روشنی میں دنیا وآخرت کی حقیقت کو بیان کیا ہے۔اللہ تعالی سے دعا ہے کہ مولف موصوف کی اس کاوش کو اپنی بارگاہ میں قبول فرمائے اور ان کے میزان حسنات میں اضافہ فرمائے، اور تمام مسلمانوں کو دنیا کی حقیقت کو سمجھ کر آخرت کی تیاری کرنے کی توفیق عطا فرمائے۔آمین (راسخ) ناشر:انصار السنہ پبلیکیشنز، لاہور

  • اردو

    شان مصطفیٰ علیہ الصلاۃ والسلام-جدید ایڈیشن :رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم تما م مخلوق سے اعلیٰ وارفع ہیں اور انبیاء و رسل اور اولیاء و اصفیاء سے آپ کا مقام ومرتبہ بلند تر ہے۔آسمانی کتابوں اور احادیث نبویہ میں آپ کی بہت زیادہ تعریف و توصیف بیان ہوئی اور آپ کی شان و عظمت کا لحاظ کرنے کی باقاعدہ تاکید و تلقین ہے ۔آپ صلی اللہ علیہ وسلم اپنی صور ت و سیرت ،افکار و کردار اور عادات و اطوار ہر لحاظ سے اعلیٰ و افضل ہیں،اس لحاظ سے آپ کی تعظیم و تکریم اوراتباع و اطاعت ہر مسلمان پر لازم ہے ،اس مناسبت سے زیر نظر کتاب تالیف کی گئی ہے ،جو اس موضوع پر اچھی کتاب ہے ،جس میں آپ کے اوصاف حمیدہ ، عادات فاضلہ ،امت کے لیے مجسم رحمت ہونے کابیان ہے اورآپ کی ذات مبارکہ کے متعلق جو غلو پایا جاتاہے ،اس کا بہترین ازالہ کیا گیاہے ،کتاب ہذا کا مطالعہ سیرت مطفیٰ صلی اللہ علیہ وسلم کے متعلق معلومات کا بہترین خزینہ ہے۔(ف۔ر) ناشر:انصار السنہ پبلیکیشنز،لاہور

  • اردو

    ذکرِ الہی کے اسرار ومعرفت پرامام ابن قیّمؒ کی شاہکار کتاب ’’الوابل الصیّب‘‘ کا اردو ترجمہ :ذکرالہی اجڑی بستیوں اوربے قرار روحوں کے لئے متاعِ حیات اوراکسیرہے۔جب پیارے پیغمبرمحمد صلی اللہ علیہ وسلم کے ایک صحابی نے پوچھا کہ خیروبھلائی کے بہت سے کام ہیں مجھے ایک ایسا عمل بتادیجئے جوساری بھلائیوں کا خلاصہ ہو تو رسول صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ’’لایزال لسانک رطبا من ذکراللہ‘‘ یعنی ہمیشہ تیری زبان اللہ کے ذکر سے تررہے۔ ذرا تصوّر کیجئے کہ ذکر کی دولت جسے نصیب ہوجائے وہ کتنا خوش نصیب ہے۔ سید داؤد غزنویؒ فرمایا کرتے تھے: ’’جب میں ذکرالہی میں مشغول ہوجاتا ہوں تو مجھے ایسا معلوم ہوتا ہے کہ جیسے میں دنیا کا بادشاہ ہوں۔‘‘اللہ ہزاروں رحمتیں فرمائے شیخ الاسلام امام ابن تیمیہؒ اوران کے نامورشاگرد امام ابن قیمؒ پرجنہوں نے اسلامی علوم ومعارف اوردین کے فلسفہ ومعرفت کے وہ دریا بہائے کہ رہتی دنیا تک خلقت ان کے علم اوربرکتوں سے فیض یاب ہوتی رہےگی۔ یہ کتاب امام ابن قیمؒ کی عظیم شاہکار’’الوابل الصیّب‘‘ کا ترجمہ ہے جسے اردوقالب میں ڈھالنے کی سعادت ہندوستان کے نامورعالم دین مولانا مختاراحمد ندویؒ کے حصہ میں آئی۔اورشیخ الحدیث حافظ عبد العزیزعلوی حفظہ اللہ نے مکمل کتاب پرنظرثانی فرمائی اورمفید حواشی سے اس روحانی نسخہ شفا کو کندن بنادیا ۔ مولانا حافظ محمد خالد سیف حفظہ اللہ کے علمی نکات نے حسن وافادیت کودو چند کردیا۔ طارق اکیڈمی لاہورنے اسے خوبصورت اوراعلی معیارکے زیورطباعت سے آراستہ کرکے ہدیہ قارئین کیا ہے۔

  • اردو

    ماہ ربیع الاوّل اور عید میلاد: زیرنظررسالہ میں مولانا ابوالفوزان کفایت اللہ سنابلی حفظہ اللہ نے عید میلاد کی تاریخ اورفاطمی خلفاء کی حقیقت کے حوالے سے گفتگو کرکے عید میلاد النبی صلی اللہ علیہ وسلم کے دلائل اوراس سے متعلقہ شبہات کا علمی وتحقیقی جائزہ لے کران کامسکت جواب دیا ہے۔

  • اردو

    صفرکا مہینہ اور بدشگونی: ماہِ صفرسے نحوست پکڑنا اہل جاہلیت کا عقیدہ ہےجسےآج سے چودہ سوسال پہلے ہی اسلام نے مکمل طورسے باطل قراردیدیا تھا، لیکن افسوس شرعی علم سے جہالت اورشریعت سے دوری کی وجہ سے یہ عقیدہ دوبارہ مسلم سماج میں درآیا اوراس میں مزید توسًع پیدا ہوگیا۔ کتابچہ ہذا میں اسی باطل عقیدہ کا کتاب وسنت کی روشنی میں رد پیش کیا گیا ہے۔ پیشکش:الہدی شعبہ تحقیق،اسلام آباد۔

  • اردو

    اس دنیا میں انسانوں کے مختلف طبقات میں چھوٹے سے لیکر بڑے تک ،بچے سے لیکر بوڑھے تک،ان پڑھ جاہل سے لیکر ایک ماہر عالم اور بڑے سے بڑے فلاسفر تک،ہر شخص کی جد وجہد اور محنت وکوشش میں اگر غور سے کام لیا جائے تو ثابت ہو گا کہ اگرچہ محنت اور کوشش کی راہیں مختلف ہیں مگر آخری مقصد سب کا قدرے مشترک ایک ہی ہے ،اور وہ ہے امن وسکون کی زندگی۔ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم اسی امن وسلامتی کا علم بردارمذہب لے کر آئے۔ اسلام ایک امن وسلامتی والا مذہب ہے ،جو نہ صرف انسانوں بلکہ حیوانوں کے ساتھ بھی نرمی کرنے کی ترغیب دیتا ہے۔ اس عظیم دین کا حسن دیکھئے کہ اسلام ’’سلامتی‘‘ اور ایمان ’’امن‘‘ سے عبارت ہے اور اس کا نام ہی ہمیں امن و سلامتی اور احترام انسانیت کا درس دینے کیلئے واضح اشارہ ہے۔نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی حیاتِ طیبہ ، صبر و برداشت، عفو و درگزر اور رواداری سے عبارت ہے۔اسلام کی بدولت ایک ایسا معاشرہ تشکیل پایا جو تاریخ انسانی کا سب سے زیادہ باکمال اور شرف سے بھرپور معاشرہ تھا اور اس معاشرے کے مسائل کا ایسا خوشگوار حل نکالا کہ انسانیت نے ایک طویل عرصے تک زمانے کی چکی میں پس کر اور اتھاہ تاریکیوں میں ہاتھ پاؤں مار کر تھک جانے کے بعد پہلی بار چین کا سانس لیا۔ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے انسانیت کی بقاء کے لئے سب سے پہلے جان،مال،عزت،خاندان کے تحفظ کا حق اور اجتماعی طور پر پورے انسانی معاشروں کے تحفظ کے حقوق کا نہ صرف رسمی اعلان کیا بلکہ یقینی طور پر اس کے عملی نفاذ کی ضمانت فراہم کرکے جبر واستبداد اور استحصال طرز زندگی کا ناطقہ بند کر دیا۔ زیر تبصرہ کتاب" اسلام کا نظام امن وسلامتی" محترم ابو حمزہ عبد الخالق صدیقی صاحب کی تصنیف ہے،جس میں انہوں نے اسلام کے اسی وصف اور امتیاز کو بڑے احسن انداز میں پیش کیا ہے۔اللہ تعالی ان کی اس خدمت کو اپنی بارگاہ میں قبول فرمائے اور ان کے میزان حسنات میں اضافہ فرمائے۔آمین(راسخ) تقريظ:شيخ الحديث عبد الله ناصررحمانى حفظه الله. تحقیق:حافظ حامد محمودالخضری،ناشر:انصارالسنہ،پبلیکیشنز،لاہور۔

  • اردو

    ’’او میری امت کے جوانان رعنا، او میری قوم کے سپوتو! اٹھو آج تمھارے مسلک اور تمھاری جماعت کو تمھاری ضرورت ہے۔ کس کے لیے؟ حق کی علمبرداری کے لیے! ملک میں کتاب و سنت کی عملداری کے لیے! ملک میں کتاب و سنت کی علمداری کے لیے! شرک و گمراہی کو مٹانے کے لیے اور کتاب و سنت کو پھیلانے کے لیے! اور ان شاء اللہ! وہ دن آنے والا ہے، جب پاکستان کی فضاؤں میں پرچم لہرا ئے گا تو کتاب اللہ کا لہرائے گا اور سنت رسول اللہ کا لہرائے گا.... اور اس دن کو طلوع ہونے سے دنیا کی کوئی طاقت نہیں روک سکتی۔‘‘ یہ اس شخصیت کے الفاظ ہیں جس نے پاکستان میں اہل حدیث میں نئی روح پھونکی۔ جس کو اللہ تعالیٰ نے خطابت کا ایسا ملکہ عطا کیا کہ آغا شورش کاشمیری نے ان کی ایک تقریر سن کر کہا ’’احسان الٰہی اگر تم آئندہ سے خطابت چھوڑ دو تو تمھاری صرف اس ایک تقریر سے تمھیں برصغیر پاک و ہند کے چند بڑے خطیبوں میں شمار کیا جائے گا۔‘‘ علامہ احسان الٰہی ظہیر شہید 31 مئی 1945ء کو سیالکوٹ میں پیدا ہوئے ۔ اور اسلام کا یہ فرزند 23 مارچ 1987ء میں بم دھماکے میں زخمی ہونے کے بعد 30 مارچ 1987ء کو اپنے خالق حقیقی سے جا ملا۔ زیر نظر کتاب اسی بطل جلیل کے خطبات پر مشتمل ہے جو انھوں نے مختلف مواقعوں پر دئیے۔ ان خطبات میں اسلام کیا ہے؟، اہل حدیث کی دعوت، حضرت ابوبکر صدیق رضی اللہ عنہ ایک متفق علیہ شخصیت، سیرت عمر فاروق، واقعہ کربلا۔ پس منظر، فرقہ واریت کا خاتمہ، حقوق العباد کی اہمیت، علما اور طلبا سے خطاب اور مولانا کا آخری خطبہ وغیرہ شامل ہیں۔ یہ خطبات جہاں لوگوں کے عقائد و اخلاق سنوارنے کا سبب بنیں گے وہیں ان خطبات سے اصحاب رسول کی تنقیص کرنے والوں کے مقابلہ کے لیے لوگوں کو ایسے حقائق کا علم ہوگا جس کا جواب کسی کے پاس نہیں ہے۔ یہ کتاب خطبا مقررین اور عوام و خواص کے لیے یکساں مفید ہے۔(ع۔م)

  • اردو

    جہاد اور دہشت گردی: زیرنظرکتاب میں شیخ حافظ مبشرحسین لاہوری حفظہ اللہ نے جہاد اور دہشتگردی کے حوالے سے گفتکوکرتے ہوئے جہاد اسلامی کا صحیح مفہوم اور اسکی حقیقت کو واضح کیا ہے، ساتھ ہی دشمنان اسلام کی طرف سے اسلامی جہاد کے خلاف پھیلائے گئے تمام پروپیگنڈوں،اوراس سے متعلقہ شبہات اوراشکالات سے پردہ اٹھاکرقرآن وسنت کے ٹھوس دلائل سے ان کا مسکت جواب دیا ہے، اوریہ واضح کیا ہے کہ دین اسلام کا دہشت گردی سے کچھ بھی تعلق نہیں ہے،بلکہ یہ سراپاامن وسلامتی،اورمحبت ورواداری کا دین ہے جوسارے عالم میں امن وسلامتی قائم کرنے کے لئے آیا ہے۔ ناشر: مبشّر اکیڈمی، لاهور.

  • اردو

    خُطباتِ جُمعہ انتخاب اسلامی خطبات: اسلامی تعلیمات کی دعوت وتبلیغ اور فروغ کے لئے خطبہ جمعہ کو ہمیشہ سے ایک مرکزی مقام حاصل رہا ہے۔ہفتہ واراجتماع اور اس میں عوام الناس کی بڑی تعداد میں شرکت کے باعث علماء کرام بھی اس کے لئے خصوصی اہتمام فرماتے ہیں۔بعض علماء کرام نے ایسے مواقع پر افادہ عام کی خاطر تقریر کے ساتھ ساتھ تحریر کا بھی اہتمام کیا ہے، اسی سلسلہ کی کاوشوں میں سے ایک اہم کاوش برصغیر کی مشہور شخصیت مولانا عبد السلام بستوی علیہ الرحمۃ کی دوضخیم جلدوں پر مشتمل ’’اسلامی خطبات‘‘ ہے ۔جسے مولانا عطاء اللہ ساجد اور ان کے رفقاء نےتنقیح وتصحیح کرکے ’’خطبات جمعہ‘‘ کی شکل میں ترتیب دیا ہے،اور احادیث کی تخریج کا کام مولانا داؤد ارشد نے انجام دیا ہے،خطبات جمعہ کے اس مجموعہ میں عقائد ،سنن،بدعات،معاملات ،حقوق اللہ اور حقوق العباد سمیت مختلف موضوعات کا اختصار سے احاطہ کیا گیا ہے۔معاشرتی تعلقات کی بہتری اور برائیوں کے خاتمے پربطورخاص توجہ دی گئی ہے۔ دارالسلفیہ لاہور نے بہترین زیورطباعت سے آراستہ کرکے قارئین کی خدمت میں پیش کیاہے۔

  • اردو

    خُطباتِ حرمین(خطباتِ جمعہ مدینہ منوّرہ،سن 1422ھ):حرمین شریفین کے اس زرّیں سلسلہ میں ’’خطبات جمعہ مدینہ منوّرہ،سن 1422ھ جلد دوم ‘‘ قارئین کی خدمت میں پیش کرتے ہوئے ہم فخروسعادت محسوس کررہے ہیں،خطباتِ جمعہ کا یہ مجموعہ حرم نبوی کی درج ذیل نامورخطباء پرمشتمل ہے:(1۔فضیلۃ الشیخ ڈاکٹرعلی بن عبد الرحمن الحذیفی 2۔فضیلۃ الشیخ ڈاکٹر حسین بن عبد العزیز آل شیخ 3۔فضیلۃ الشیخ صلاح بن محمد البدیر 4۔ فضیلۃ الشیخ ڈاکٹر عبد الباری الثبیتی 5۔فضیلۃ الشیخ ڈاکٹر عبد المحسن القاسم حفظہم اللہ )، خُطباتِ جمعہ اور دروس مساجد کے لئے یہ ایک بہترین راہنما کتاب ہے، ضرور استفادہ حاصل کریں۔ترجمہ وتفہیم: شیخ مولانا محمد منیرقمرحفظہ اللہ تحقیق وتخریج: حافظ شاہد محمود حفظہ اللہ ناشر: مکتبہ کتاب وسنّت ریحان چیمہ،ڈسک،پاکستان۔

  • اردو

    خُطباتِ حرمین(خطبات جمعہ مکہ مکرّمہ،سن 1422ھ) : خطباتِ حرمین شریفین کے اس زرّیں سلسلہ میں’’ خطبات جمعہ مکہ مکرمہ سن1422ھ‘‘ قارئین کی خدمت میں پیش کرتے ہوئے ہم فخروسعادت محسوس کررہے ہیں،خطبات جمعہ کا یہ مجموعہ حرم مکّی کی درج ذیل نامورخطباء پرمشتمل ہے:1۔عزت مآب فضیلۃ الشیخ ڈاکٹر عبد الرحمن السدیس 2۔فضیلۃ الشیخ ڈاکٹرسعودالشریم 3۔فضیلۃ الشیخ ڈاکٹرصالح بن حمید 4۔فضیلۃ الشیخ محمد بن عبد اللہ السبیلؒ 5۔فضیلۃ الشیخ ڈاکٹر اُسامہ خیاط 6۔فضیلۃ الشیخ ڈاکٹرعمربن محمدالسبیًل حفظہم اللہ)،خُطباتِ جمعہ اور دروس مساجد کے لئے یہ ایک بہترین راہنما کتاب ہے، ضرور استفادہ حاصل کریں۔ترجمہ وتفہیم: شیخ مولانا محمد منیرقمرحفظہ اللہ تحقیق وتخریج: حافظ شاہد محمود حفظہ اللہ ناشر: مکتبہ کتاب وسنّت ریحان چیمہ،ڈسک،پاکستان

  • اردو

    خُطبات حرم (کوکبۃ الکوکبۃ ): اسلام نے خطابت کی شان نہایت بلند کی ہے کیونکہ دعوت وتبلیغ میں فن خطابت کوخصوصی اہمیت حاصل ہے۔ہمارے نبی محمد صلی اللہ علیہ وسلم خطباء کے امام اوران کے لئے بہترین نمونہ تھے۔خطابت کا یہ سنہرا سلسلہ سلف صالحین میں اسی طرح ایک سے دوسرے تک منتقل ہوتا رہا، یہاں تک کہ ہم تک بھی اس کی جھلکیاں اور آثارپہچنے۔موجودہ دورمیں انٹرنٹ کی ایجاد نے مسلمانوں تک اسلام کا پیغام پہنچانا بہت آسان کردیا ہے لہذا خطیب کی ذمہ داری اور بڑھ جاتی ہے، خطیب کو اس ماہرطبیب کی طرح ہونا چاہئے جو معاشرے کی بیماریوں کی تشخیص اوران کے اسباب کا جائزہ لے کرحکمت ودانائی سے صحیح علاج تجویزکرے۔اوراس سلسلے میں اسے اپنے سامنے رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کا اسوہ حسنہ رکھنا چاہئے کیونکہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کا نمونہ معتدل اور متوازن راستہ فراہم کرتا ہے۔خطیب کو چاہئے کہ اپنے خطاب میں لوگوں کے دلوں کو جوڑنے اور ان میں اتحاد پیدا کرنے والی باتیں کرے تاکہ ان میں ایسی دراڑیں نہ پڑیں جن سے معاشرے کی چُولیں ڈھیلی ہوں۔ یقیناً وہ خطیب عقلمند ہوگا جو اپنے منصب کو پہچانے ،اپنی ذمہ داریوں کو سمجھے اور سامعین کے جذبات کا احترام کرتے ہوئے عصرحاضر کے تقاضوں کے مطابق اپنی بات کو رکھے۔زیرنظرکتاب’’کوکبۃ الکوکبۃ‘‘ اختصار’’ کوکبة المنيفة من منبرالكعبة الشريفة"ان خطبات جمعہ کا پہلا مجموعہ ہے جو مسجد حرام کے امام وخطیب وسربراہ امورحرمین شریفین ڈاکٹرعبدالرحمن بن عبد العزیز السدیس حفظہ اللہ نے ارشاد فرمائے ہیں اورجسے افادہ عام کی خاطرشیخ عبد الہادی عمری مدنی حفظہ اللہ نے بہترین اردو قالَب میں ڈھالا ہے۔قارئین کرام!یہ بات واضح رہے کہ امام محترم ڈاکٹر عبد الرحمن السدیس حفظہ اللہ کی دنیا بھرمیں تلاوت قرآن مجید کے منفرد اسلوب کی وجہ سے ایک خاص پہچان ہے۔دنیا کے کروڑوں مسلمان آپ کے اسلوب تلاوت سے اپنی تلاوت کو مربوط کرنا باعثِ سعادت سمجھتے ہیں۔اس بلند مقام کے ساتھ ساتھ آپ نہایت بلند پایہ خطیب،پختہ عالم دین اور صاحب ِ اسلوب ادیب ہیں۔آپ کے خطبات کی شان نرالی ہے،زبان وبیان کی مہارت گویا موجیں مارتا ہوا سمندر ہے۔عموماً حمد وثنا ہی میں خطبے کے موضوع کا خلاصہ سمیٹ دیتے ہیں،پھرحالاتِ حاضرہ پر بقدر ضرورت تبصرہ اورعالم اسلام کے مرکزی منبرسے متعلقین،حکّام،مبلغین،صحافی،اورمختلف شعبہ ہائے زندگی سے تعلق رکھنے والوں کے لئے ان کی ذمہ داریوں کی حکیمانہ اسلوب میں یاد دہانی آپ کا خاص امتیازہے۔ علامہ موصوف کے دل میں دنیا بھرکے مسلمانوں کے لئے جوتڑپ ہے اس کا اندازہ ان خطبات پر نظرڈالتے ہی ہوجاتا ہے۔اورامّتِ مسلمہ کے لئے شیخ محترم کی پرسوز دعاؤں کا تذکرہ توزبان زدخاص وعام ہے۔ خطباتِ جمعہ کا یہ خوبصورت گلدستہ امام حرم کی طرف سے دنیا کے ائمہ وخطبائے مساجد کے لئے ایک بہترین تحفہ ہے۔ (نظرثانی:طارق جاویدعارفی اوران کے رفقاء ناشر:مکتبہ دارالسلام،ریاض۔سعودی عرب)

  • اردو

    خطباتِ حرم : اسلام میں جمعہ کے دن کی بڑی اہمیت وفضیلت ہے،اللہ تعالیٰ نے قرآن مجید میں سورۃ الجمعہ نام کی ایک مستقل سورت نازل فرمائی ہے جس کی آخری تین آیات خاص کرجمعہ سے متعلق ہیں،اورحدیث میں اسے ہفتہ کی عید کا دن قرار دیا گیا ہے،اورامام ابن القیمؒ نے اپنی کتا ب (زادالمعاد) میں جمعہ کے خصائص وفضائل کے ضمن میں خطبہ جمعہ کو خصوصی طورسے ذکرکیا ہے کیونکہ اس میں اللہ کی حمدوثنا بیان کی جاتی ہے، اللہ کی وحدانیت اور اس کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم کی رسالت کی گواہی دی جاتی ہے، بندوں کو اللہ کے احسانات وانعامات یاد دلائے جاتے ہیں، اوراس کے عذاب وعقاب پر متنبہ کیا جاتا ہے۔اوریہی خطبئہ جمعہ کا اصل مقصد ہے۔اوریہ بات اپنی جگہ مسلّم ہے کہ نمازجمعہ کے لئے خطبہ شرط ہے جس کے بغیرجمعہ کی نماز درست نہیں،لیکن خطیب کی شخصیت اورمنبرکے شرف وفضیلت کے اعتبارسے خطبہ کی اہمیت بھی بڑھ جاتی ہے،خطیب اورمنبرکی شان وشوکت جتنی ہی زیادہ ہوگی اس کے خطبات کواتنی ہی اہمیت حاصل ہوگی۔ اورخانہ کعبہ دنیا کے تمام مسلمانوں کا قبلہ ہے اوراللہ کے فضل وکرم سے اس کے ائمہ وخطباء ہرلحاظ سے اپنے اندرایک امتیازی شان رکھتے ہیں،ان ائمہ وخطباء میں اللہ تعالیٰ نے امام حرم شیخ محمد بن عبد اللہ السبیل رحمۃ اللہ علیہ کو بڑا مقام ومرتبہ عطا کیا ،آپ مسجد حرام مکہ مکرمہ کے امام وخطیب ہونے کے ساتھ حرمین شریفین کے امورکے سربراہ بھی رہے،آپ کی شخصیت پوری دنیائے اسلام میں معروف ومسلّم ہے اور آپ کے مؤثّروگرانقدر خطبات کو بڑی مقبولیت حاصل ہے،،ذلک فضل اللہ یؤتیہ من یشاء۔ زیرنظرکتاب انہی امام موصوفؒ کے خُطبات کے پہلے مطبوع مجموعہ’’من منبرالمسجد الحرام‘‘ کا اردوترجمہ ہے،جسے مشہورعالمِ دین ابوالمکرم عبد الجلیلؒ نے سلیس وشستہ اردو قالب میں ڈھالا ہے۔ یہ خطبات امام موصوفؒ کی ہمہ گیرعلمی شخصیت کے اعتبارسے بھی بڑے گرانقدر ہیں اور اس اعتبار سے بھی بڑی اہمیت کے حامل ہیں کہ امام موصوفؒ نے یہ خطبے خانہ کعبہ کے منبرسے ارشاد فرمائے ہیں۔ مراجعہ وتقدیم:مولاناصفی الرحمن مبارکپوریؒ ۔ ناشر: ادارۃ البحوث الاسلامیۃ،جامعہ سلفیہ،بنارس۔ہند

  • اردو

    علامہ ابوالحسن اشعریؒ (260۔330ھ) چوتھی صدی ہجری کی جلیل القدر شخصیت ہیں ۔اور تقریبا یکصد سے زائد کتب کے مصنف ہیں۔ زیر نظر کتاب ’’مسلمانوں کے عقاید وافکار‘‘ علامہ ابو الحسن اشعری رحمۃ اللہ علیہ کی مایہ ناز کتاب ’’مقالات الاسلا میین‘‘ کا ترجمہ ہے ۔جس میں علامہ ابو الحسن اشعریؒ نے چوتھی صدی ہجری کے اوائل کے ان تمام عقائد وافکار کو بغیر کسی تعصب کے بیان کردیا ہے جو صدیوں فکری وکلامی مناظروں کا محور بنے رہے۔ اس کتاب کے مطالعہ سے جہاں یہ معلوم ہوگاکہ مسلمانوں نے نفسیات،اخلاق اور مادہ وروح کے بارے میں کن کن علمی جواہر پاروں کی تخلیق کی ہے وہاں یہ حقیقت بھی نکھر کر سامنے آجائے گی کہ ماضی میں فکر ونظر کی کجی نے کن کن گمراہیوں کوجنم دیا ہے ۔اور ان گمراہیوں کےمقابلہ میں اسلام نے کس معجزانہ انداز سےاپنے وجود کو قائم اور برقرار رکھا ۔یہ کتاب دو حصوں پر مشتمل ہے جس کے ترجمے کا کام مولانا محمد حنیف ندوی رحمۃ اللہ علیہ نے سر انجام دیا ہے۔(م۔ا) ناشر:ادارہ ثقافتِ اسلامیہ،لاہور

  • اردو

    جدید دنیا میں بین الاقوامی تعلقات کی بنیاد کاتعین اور اس کے قواعد و ضوابط کی تشکیل تو کچھ ہی عرصہ پہلے ہوئی مگر اسلام نے قرآن مجید میں جگہ جگہ ’یا ایہا الناس‘ کے خطاب سے آج سے پندریاں صدیاں قبل ہی اس کی طَرح ڈال دی تھی۔ اسلام کا نظام بین الاقوامی تعلقات زبانی جمع خرچ کی بجائے ٹھوس حقائق، صدیوں کے تجربات اور عملی کامیابی کے ساتھ نمایاں اور ممتاز رہا ہے۔ اس موضوع پر ایک وسیع اور ضخیم لٹریچر اس کا دستاویزی سرمایہ ہے۔ ڈاکٹر وھبہ زحیلی نے اسی موضوع پر ایک ضخیم کتاب ’العلاقات الدولیۃ فی الاسلام‘ کے نام سے لکھی۔ جس کا اردو ترجمہ مولانا حکیم اللہ نے زیر نظر کتاب کی صورت میں کیا۔ ڈاکٹر وھبہ زہیلی کی یہ کتاب اسلام کے بین الاقوامی تعلقات کے نظام پر ایک قابل قدر کاوش ہے جس میں اسلامی قواعد و ضوابط کا جدید بین الاقوامی قانون کے ساتھ موازنہ بھی شامل ہے۔ یہ کتاب بنیادی طور پر ایک تمہید اور دو ابواب پر مشتمل ہے۔ پہلے باب میں حالت جنگ میں بین الاقوامی تعلقات کا تذکرہ ہے۔ اس میں پانچ مباحث کے تحت جنگ کے حالات، اس کی ابتدا اور انتہا اور قواعد و ضوابط کا بیان ہے جبکہ دوسرا باب حالت امن میں بین الاقوامی تعلقات کے اصول و ضوابط پر مشتمل ہے۔ اس میں متعدد مباحث کے تحت اسلام کے مزاج امن، دارالاسلام اور دارالحرب کی تقسیم کی منطق اور بین الاقوامی تعلقات کے قیام کے اصول و ضوابط اور عالم اسلام کے علمی تجربات کی تفصیل موجود ہے۔ جدید بین الاقوامی قانون کے حوالے سے اس کتاب میں قارئین کے لیے بہت کچھ ہے۔ نظرثانی: ڈاکٹرغلام مرتضی آزاد، تنقیح:ڈاکٹراکرام الحق یٰسین، ناشر:شریعہ اکیڈمی،اسلام آباد

فیڈ بیک