حج کے مہینوں میں عمرہ کی ادائیگی

وصف

سوال:حج کے مہینوں میں عمرہ کی ادائیگی
کیا حج کے مہینوں میں عمرہ کی ادائیگی جائز ہے کیونکہ اس سال میں حج نہيں کرنا چاہتا، مثلا : میں حج سے تقریبا نصف ماہ قبل مکہ مکرمہ گيا تھا اورعمرہ ادا کرنے کے بعد واپس چلا آیا توکیا ایسا کرنا جائز ہے ؟

Download
اس پیج کے ذمّے دار کو اپنا تبصرہ لکھیں

کامل بیان

حج کے مہینوں میں عمرہ کی ادائیگی

[الأُردية –اُردو Urdu]

فتوی :اسلام سوال وجواب سائٹ

—™

ترجمہ: اسلام سوال وجواب سائٹ

مراجعہ وتنسیق:اسلام ہاؤس ڈاٹ کام

 العمرة في أشهر الحج

فتوى:موقع الإسلام سؤال وجواب

—™

ترجمة: موقع الإسلام سؤال وجواب

مراجعة وتنسيق:موقع دارالإسلام

حج کے مہینوں میں عمرہ کی ادائیگی

22658: سوال:حج کے مہینوں میں عمرہ کی ادائیگی

کیا حج کے مہینوں میں عمرہ کی ادائیگی جائز ہے کیونکہ اس سال میں حج نہيں کرنا چاہتا، مثلا : میں حج سے تقریبا نصف ماہ قبل مکہ مکرمہ گيا تھا اورعمرہ ادا کرنے کے بعد واپس چلا آیا توکیا ایسا کرنا جائز ہے ؟

Published Date: 2010-10-16

جواب:

الحمد للہ :

علماء کرام کے نزدیک بغیر کسی اختلاف کے حج کے مہینوں میں عمرہ کی ادائیگی جائز ہے ، اس میں کوئی فرق نہيں ہے کہ اُس سال حج کی نیت کی ہویا حج کی نیت نہ کی ہو ۔

نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنی پوری زندگی میں چاربار عمرہ کیا اوریہ سارے عمرے ذی القعدہ کے مہینہ میں ہی کیے تھے ، جوکہ حج کے مہینوں میں سے ایک ہے ، حج کے مہینے یہ ہیں : شوال ، ذی القعدہ اورذی الحجہ ، اورنبی صلی اللہ علیہ وسلم نے صرف آخری عمرہ کےساتھ حج کیا جو کہ حجۃ الوداع کہلاتا ہے ۔

امام بخاری اورمسلم رحمہما اللہ نے انس رضی اللہ تعالیٰ سے بیان کیا ہے کہ :(أن رسول الله صلى الله عليه وسلم اعتمر أربع عُمر كلهن في ذي القعدة إلا التي مع حجته :عمرة من الحديبية أو زمن الحديبية في ذي القعدة ، وعمرة من العام المقبل في ذي القعدة ، وعمرة من جِعْرانة حيث قسم غنائم حنين في ذي القعدة ، وعمرة مع حجته)

’’رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے چارعمرے کیے اوریہ سارے عمرے ذی القعدہ کے مہینہ میں کیے تھے صرف وہ عمرہ جوآپ نے حج کےساتھ کیا وہ (ذی القعدہ میں )نہيں تھا :ایک عمرہ حدیبیہ یا حدیبیہ کے زمانے میں ذی القعدہ کے مہینہ میں ، اورایک عمرہ اس کے اگلے سال وہ بھی ذی القعدہ میں ہی ، اورایک عمرہ جعرانہ سے جہاں آپ نے غزوہ حنین کی غنیمتیں تقسیم کیں وہ بھی ذی القعدہ میں ہی تھا اورایک عمرہ اپنے حج کے ساتھ کیا تھا‘‘۔

دیکھیں : صحیح بخاری حدیث نمبر ( 4148 ) اورصحیح مسلم حدیث نمبر ( 1253 ) ۔

امام نووی رحمہ اللہ تعالی اس حدیث کی شرح کرتے ہوئے کہتے ہیں:

’’انس اورابن عمررضی اللہ تعالیٰ عنہما کی حدیث کا حاصل یہ ہے کہ دونوں کا چارعمروں میں اتفاق ہے اوران میں سے ایک سن چھ ہجری ذی القعدہ کے مہینہ میں حدیبیہ کےسال تھا اوراس میں انہیں روک دیا گيا تھا تووہ حلال ہوگئے اوران کے لیے یہ عمرہ شمار کرلیا گیا ،اوردوسرا عمرہ ذی القعدہ سات ہجری میں عمرۂ قضاء کے طور پر کیاتھا ، اورتیسرا عمرہ ذی القعدہ آٹھ ہجری میں عام الفتح کے سال کیا تھا، اورچوتھا عمرہ آپ صلی اللہ وسلم نے اپنے حج کےساتھ کیا اوراس کا احرام ذی القعدہ میں باندھاتھا اوراس کے اعمال ذی الحجہ میں کئے تھے‘‘۔

اور فرمایا کہ:علماء کا کہنا ہے کہ : نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے یہ عمرے ذی القعدہ میں اس مہینہ کی فضیلت اوراہل جاہلیت کی مخالفت کی بنا پرکیے تھے کیونکہ وہ لوگ اس (مہینہ میں عمرہ کرنے کو)افجر الفجور شمار کرتے تھے ۔۔۔ لہذا نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے اس مہینے متعدد عمرے اس لیے کیا تا کہ اس کے جواز کا بیان خوب واضح ہو جائے اوردورجاہلیت کی رسم ورواج کا ابطال ظاہروباہرہوجائے۔، واللہ اعلم ) ۔

واللہ اعلم۔

اسلام سوال وجواب سائٹ

(مُحتاج دُعا:عزیزالرحمن ضیاء اللہ سنابلیؔ [email protected])