قُربانی کی تعریف اور اس کا حُکم

وصف

سوال:قُربانی سے کیامراد ہے ؟ اورکیا قربانی کرنا واجب ہے یا سنت ؟

Download
اس پیج کے ذمّے دار کو اپنا تبصرہ لکھیں

کامل بیان

قُربانی کی تعریف اور اس کا حُکم

[الأُردية –اُردو Urdu]

فتوی :اسلام سوال وجواب سائٹ

—™

ترجمہ: اسلام سوال وجواب سائٹ

مراجعہ وتنسیق :عزیز الرّحمن ضیاء اللہ سنابلیؔ

 تعريف الأضحية وحكمها

فتوى:موقع الإسلام سؤال وجواب

—™

ترجمة: موقع الإسلام سؤال وجواب

مراجعة وتنسيق:عزيز الرحمن ضياء الله السنابلي

قُربانی کی تعریف اور اس کا حکم

: 36432 سوال:قُربانی سے کیامراد ہے ؟ اورکیا قربانی کرنا واجب ہے یا سنت ؟

جواب:

الحمد للہ :

الاضحيۃ : ایام عید الاضحی میں عید کے سبب اللہ تعالیٰ کا تقرب حاصل کرنے کے لیے بھیمۃ الأنعام میں سے کسی جانورکو ذبح کرنے کوقربانی کہا جاتا ہے ( بھیمۃ الانعام سے مراد: بھیڑ ،بکری ،اونٹ اور گائے ہیں )

قربانی دین اسلام کے شعائر میں سے ایک شعار ہے اس کی مشروعیت کتاب اللہ اورسنت نبویہ صلی اللہ علیہ وسلم اورمسلمانوں کے اجماع سے ثابت ہے ، ذيل میں اس کی مشروعیت کےدلائل پیش کیے جاتے ہيں :

کتاب اللہ سے(قربانی کی مشروعیت کی دلیل) :

اللہ سبحانہ وتعالی ٰ کا فرمان ہے :

﴿فَصَلِّ لِرَبِّكَ وَانْحَرْ﴾[الكوثر:2]

’’اللہ تعالی کے لیے ہی نماز ادا کرو اورقربانی کرو‘‘۔[سورہ کوثر:۲]

2-اورایک دوسرے مقام پر اللہ تعالیٰ نے کچھ اس طرح فرمایا :

﴿قُلْ إِنَّ صَلَاتِي وَنُسُكِي وَمَحْيَايَ وَمَمَاتِي لِلَّـهِ رَبِّ الْعَالَمِينَ ﴾[الأنعام:162]

’’ آپ فرما دیجئے کہ بالیقین میری نماز اور میری ساری عبادت اور میرا جینا اور میرا مرنا یہ سب خالص اللہ ہی کا ہے جو سارے جہان کا مالک ہے ‘‘[سورہ انعام:۱۶۲]

-3 اورایک تیسرے مقام پراللہ تعالی ٰنےاس طرح فرمایا :

﴿وَلِكُلِّ أُمَّةٍ جَعَلْنَا مَنسَكًا لِّيَذْكُرُوا اسْمَ اللَّـهِ عَلَىٰ مَا رَزَقَهُم مِّن بَهِيمَةِ الْأَنْعَامِ ۗ فَإِلَـٰهُكُمْ إِلَـٰهٌ وَاحِدٌ فَلَهُ أَسْلِمُوا ۗ وَبَشِّرِ الْمُخْبِتِينَ﴾[الحج:34]

’’ اور ہر امت کے لئے ہم نے قربانی کے طریقے مقرر فرمائے ہیں تاکہ وه ان چوپائے جانوروں پر اللہ کا نام لیں جو اللہ نے انہیں دے رکھے ہیں۔ سمجھ لو کہ تم سب کا معبود برحق صرف ایک ہی ہے تم اسی کے تابع فرمان ہو جاؤ عاجزی کرنے والوں کو خوشخبری سنا دیجئے ‘‘[سورہ حج:۳۴]

سنّت نبویہ سے دلائل :

- 1صحیح بخاری اورمسلم کی روایت ہے کہ انس بن مالک رضی اللہ تعالی عنہ بیان کرتے ہيں کہ:

(ضحّى النبي صلى الله عليه وسلّم بكبشين أملَحَين ذبحهما بيده وسمّى وكبّر، وضع رجله على صَفاحهما)

’’ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے دو سیاہ وسفید مینڈھوں کی قربانی دی ، اورانہيں اپنے ہاتھ سے ذبح کیا اور( ذبح کرتے ہوئے ) "بسم اللہ اللہ اکبر" کہا اوراپنا پاؤں ان کی گردن پررکھا ‘‘۔ دیکھیں صحیح بخاری حدیث نمبر ( 5558 ) صحیح مسلم حدیث نمبر ( 1966 ) ۔

- 2عبداللہ بن عمررضی اللہ تعالی عنہما بیان کرتے ہیں کہ:

(أقام النّبي صلى الله عليه وسلّم بالمدينة عشر سنين يضحّي)

’’نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے مدینہ شریف میں دس برس قیام کیا اورہر برس قربانی کیا کرتے تھے ‘‘ ۔

مسند احمد حدیث نمبر ( 4935 ) ،سنن ترمذی حدیث نمبر ( 1507 ) علامہ البانی رحمہ اللہ نے مشکاۃ المصابیح ( 1475 ) میں اس حدیث کوحسن قرار دیا ہے ۔

- 3عقبہ بن عامر رضی اللہ تعالی عنہ بیان کرتے ہيں کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنے صحابہ کرام کے مابین قربانیاں تقسیم کیں ،توعقبہ رضی اللہ تعالی عنہ کے حصہ میں جذعہ آیا تووہ کہنے لگے اے اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم میرے حصہ میں جذعہ آیا ہے تونبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا :( ضحّ بها)

’’اس کوہی ذبح کردو‘‘۔ دیکھیں صحیح بخاری حدیث نمبر ( 5547 ) ۔

- 4براء بن عازب رضی اللہ تعالی عنہ بیان کرتے ہيں کہ رسول صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : (مَنْ ذَبح بعد الصّلاة فقد تم نسكَه وأصاب سُنّة المسلمين)

’’جس نے نماز ( عید ) کے بعد ( قربانی کا جانور ) ذبح کیا تواس کی قربانی ادا ہوگئ ، اوراس نے مسلمانوں کی سنت پرعمل کرلیا ‘‘ ۔ صحیح بخاری حدیث نمبر ( 5545 ) ۔

تواس طرح معلوم ہوا کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے خود بھی قربانی کے جانور ذبح کیے اورصحابہ کرام رضی اللہ عنہم بھی قربانی کرتے رہے ، اورنبی صلی اللہ علیہ وسلم نے ہمیں یہ بتایا کہ قربانی کرنا مسلمانوں کی سنت یعنی ان کا طریقہ ہے ۔

لہذا تمام مسلمانوں کا قربانی کی مشروعیت پراجماع ہے ، جیسا کہ کئی ایک اہل علم نے اس اجماع کونقل کیاہے ۔

اوراہل علم کااس میں اختلاف ہے کہ آیا قربانی کرنا سنت موکدہ ہے یا واجب جس کا ترک کرنا جائز نہيں ؟

جمہورعلماءکرام کا مسلک یہ ہے کہ قربانی کرنا سنت موکدہ ہے ، امام شافعی کا مسلک بھی یہی ہے اورامام مالک اورامام احمد سے بھی یہی مشہور ہے ۔

اوردوسرے علماء کرام کہتے ہیں کہ قربانی کرنا واجب ہے ، یہ امام ابوحنفیہ رحمہ اللہ کا مسلک ہے اوریہی امام احمد کی دور وایتوں میں سے ایک ہے، اورشیخ الاسلام ابن تیمیہ رحمہ اللہ تعالیٰ نے بھی اسی کواختیار کیا ہے ،اور یہ کہا ہےکہ :

’’یہی مذہب امام مالک کے دوقولوں میں سے ایک ہے یا یہی امام مالک کے مذہب کا ظاہر ہے‘‘۔انتھی ۔

دیکھیں : احکام الأضحیۃ والذکاۃ تالیف شیخ ابن عثیمین رحمہ اللہ ۔

اور شیخ محمد بن عثيمین رحمہ اللہ کا کہنا ہے :

’’جوشخص قربانی کرنے کی استطاعت رکھتا ہواس کے لیے قربانی کرنا سنت مؤکدہ ہے ، لہذا انسان بذات خود اوراپنے اہل وعیال کی جانب سے قربانی کرے ‘‘۔ دیکھیں : فتاوی ابن عثیمین ( 2 / 661 ) ۔

واللہ اعلم .

الاسلام سوال وجواب

(مُحتاج دُعا:عزیزالرحمن ضیاء اللہ سنابلیؔ [email protected])