علمی زمرے

  • PDF

    برائے مہربانى درج ذيل موضوع كے متعلق معلومات مہيا كريں: عيد ميلاد النبى صلى اللہ عليہ وسلم كے موضوع ميں لوگ دو گروہوں ميں بٹے ہوئے ہيں، ان ميں سے ايك گروہ تو كہتا ہے كہ يہ بدعت ہے كيونكہ نہ تو يہ نبى كريم صلى اللہ عليہ وسلم كے دور ميں منائى گئى اور نہ ہى صحابہ كے دور ميں اور نہ تابعين كے دور ميں. اور دوسرا گروہ اس كا رد كرتے ہوئے كہتا ہے كہ: تمہيں جو كوئى بھى يہ كہتا ہے كہ ہم جو كچھ بھى كرتے ہيں وہ نبى كريم صلى اللہ عليہ وسلم كے دور ميں يا پھر صحابہ يا تابعين كے دور ميں پاياگيا ہے، مثلا ہمارے پاس علم رجال اور جرح و تعديل نامى اشياء ايسى ہيں اور ان كا انكار بھى كوئى شخص نہيں كرتا حالانكہ انكار ميں اصل يہ ہے كہ وہ بدعت نئى ايجاد كردہ ہو اور اصل كى مخالف ہو. اور جشن عيد ميلاد النبى صلى اللہ عليہ وسلم كى اصل كہاں ہے جس كى مخالفت ہوئى ہے، اور بہت سارے اختلافات اس موضوع كے گرد گھومتے ہيں ؟ اسى طرح وہ اس كو دليل بناتے ہيں كہ ابن كثير رحمہ اللہ نے جشن ميلاد منانے كو صحيح كہا ہے، اس ليے آپ اس سلسلہ ميں شرعى دلائل كے ساتھ حكم واضح كريں ؟

  • PDF

    ميں درج طريقہ سے نبى كريم صلى اللہ عليہ وسلم پر دورد پڑھنے كى مشروعيت معلوم كرنا چاہتا ہوں طريقہ يہ ہے: ہر شخص اپنے جاننے والوں اور عزيز و اقارب ميں ايك محدود تعداد ميں درود پڑھنا تقسيم كرتا ہے پھر وہ اپنے عزيز و اقارب اور جان پہچا نركھنے والوں سے يہ درود ايك صفحہ ميں جمع كرتا ہے تا كہ سب شريك ہوں، مثلا كوئى ايك طالب علم محلہ ميں جا كر ہر گھر كے دروازے پر دستك دے كر ہر فيملى سے ايك ہزار يا اس سے زائد بار درود پڑھنے كا كہتا ہے اور انہيں كہتا ہے كہ ميں ايك ہفتہ بعد آ كر آپ سے يہ درود لے جاؤنگا جتى تعداد بھى ہو گى، چنانچہ كچھ لوگ ايك ہزار پورا كر ليتے ہيں اور كچھ اس سے زيادہ بھى كر ليتے ہيں تو اس طرح وہ تقريبا ڈيڑھ كروڑ درود كر ليتا ہے، اور اسى طرح سكول كے ہر طالب علم پر بھى پانچ درود تقسيم كيا جاتا ہے تو اس طرح تين كروڑ جمع ہو جائيگا، كيا آپ كے ليے اس موضوع كے متعلق كچھ لكھنا ممكن ہے تا كہ جن مجالس ميں يہ كام ہوتا ہے وہاں پيش كيا جائے اور اس كا رد پيش كريں، اللہ تعالى سے دعا ہے كہ وہ سب كو اچھے عمل كرنے كى توفيق نصيت فرمائے.

  • PDF

    يہ تو معروف ہے كہ ميلاد النبى صلى اللہ عليہ وسلم منانا بدعت ہے، ليكن بہت سارے لوگ ميلاد مناتے ہيں ليكن اس غرض سے نہيں كہ جشن ميلاد النبى صلى اللہ عليہ وسلم، بلكہ نبى كريم صلى اللہ عليہ وسلم كى تعريف اور آپ كى زندگى وغيرہ كے متعلق، اگر يہ چيز ولادت رسول صلى اللہ عليہ وسلم كے دن نہ كى جائے تو كيا پھر بھى حرام ہے ؟ اور كيا فى ذاتہ ميلاد كا كلمہ ہى اس واقع كے حرام قرار ديا ہے، مثال كے طور پر اگر ميں نبى كريم صلى اللہ عليہ وسلم كى تعريف وغيرہ الخ بغير ميلاد كا كلمہ استعمال كيے كروں تو كيا پھر بھى حرام ہو گا، اور اس ميں لوگوں كو كھانا بھى كھلايا جائے، ميں يہ سوال اس ليے كر رہا ہوں كہ آئندہ ہفتہ وار چھٹى پر شادى كے موقع پر رات كا كھانا ہے، اور اس ليے كہ لوگ جمع ہونگے ضيافت كرنے والوں نے يہ فيصلہ كيا ہے كہ كھانے كے بعد مسجد ميں نبى كريم صلى اللہ عليہ وسلم كے تعريف كى مناسبت سے تقارير ہوں، اور انہوں نے اسے ميلاد كا نام ديا ہے، ليكن يہ دن نبى كريم صلى اللہ عليہ وسلم كى ولادت كا دن نہيں ہے، اور نہ ہى جشن ميلاد النبى منايا جائيگا، ليكن صرف نبى كريم صلى اللہ عليہ وسلم كى سيرت پر تقرير ہو گى، اور يہ انہوں نے رقص وغيرہ كے بدلے كيا تا كہ لوگ اس سے نبى كريم صلى اللہ عليہ وسلم كى زندگى سے زيادہ استفادہ كر سكيں، برائے مہربانى كوئى نصيحت فرمائيں. دوم: جب مسجد ميں نبى كريم صلى اللہ عليہ وسلم كى سيرت اور تعريف پر اجتماع كيا جائے اور حاضرين كو كھانا ديا جائے تو كيا يہ اجتماع حرام ہو گا ؟

  • PDF

    كيا عيد ميلاد النبى صلى اللہ عليہ وسلم سے ايك روز قبل يا ايك روز بعد يا ميلاد النبى كے دن ميلاد كى مٹھائى كھانا حرام ہے، اور ميلاد كى مٹھائى خريدنے كا حكم كيا ہے كيونكہ يہ مٹھائى انہيں ايام ميں ماركيٹ ميں آتى ہے، برائے مہربانى معلومات فراہم كريں.

  • PDF

    كيا محمد صلى اللہ عليہ وسلم كى ميلاد كے سلسلہ ميں تقسیم كردہ اشياء اور كھانے وغيرہ كھانا جائز ہيں ؟ كچھ لوگ اس كى دليل يہ ديتے ہيں كہ ابو لہب نے جب نبى كريم صلى اللہ عليہ وسلم كى ميلاد ميں لونڈى آزاد كى تو اللہ تعالى نے اس روز اس كے عذاب ميں كمى كردى ؟

  • PDF

    ہم ہر ماہ كے آخرى اتوار تقريبا تيس يا اس سے زيادہ عورتيں اكٹھى ہو كر قرآن خوانى كرتى ہيں اور ہر ايك تقريبا ايك سپارہ پڑھ كر ايك يا ڈيڑھ گھنٹہ ميں مكمل قرآن ختم ہو جاتا ہے، ہميں كہا جاتا ہے كہ اس طرح ہر ايك كے ليے ـ ان شاء اللہ ـ پورا قرآن شمار ہو گا، كيا يہ كلام صحيح ہے ؟ اس كے بعد ہم دعا كرتى ہيں كہ اللہ تعالى اس قرآن خوانى كا ثواب زندہ اور فوت شدگان مومنوں كو پہنچے تو كيا يہ ثواب ان كو پہنچتا ہے ؟ وہ اس كى دليل نبى كريم صلى اللہ عليہ وسلم كا درج ذيل فرمان بناتے ہيں: \” جب انسان فوت ہو جاتا ہے تو اس كے عمل منقطع ہو جاتے ہيں ليكن تين قسم كے نہيں، صدقہ جاريہ يا فائدہ مند علم جس سے لوگ فائدہ اٹھائيں يا نيك و صالح اولاد جو اس كے دعا كرے \” اسى طرح وہ عيد ميلاد النبى مناتے ہيں جو صبح دس بجے شروع ہو كر شام تين بجے تك رہتى ہے، اس ميں ابتدا استغفار اور حمد و تسبيح اور تكبير اور نبى صلى اللہ عليہ وسلم پر درود و سلام سے ہوتى ہے اور پھر قرآن پڑھتے ہيں، اور بعض عورتيں اس دن روزہ بھى ركھتى ہيں تو كيا اس دن كو يہ سارى عبادات كے ليے مخصوص كرنا بدعت شمار ہوتا ہے ؟ اسى طرح ہمارے ہاں ايك بہت لمبى دعا ہے جو سحرى كے وقت كى جاتى ہے جو اس كى استطاعت ركھتا ہو اس دعا كا نام \” دعاء رابطہ \” ہے يہ دعا نبى كريم صلى اللہ عليہ وسلم پر دورد و سلام اور آپ كى جماعت پر رحمت اور سارے انبياء اور امہات المؤمنين اور صحابيات پر سلام اور خلفاء راشدين اور تابعين عظام اور اولياء و صالحين پر رحمت كى دعا كے ساتھ ہر ايك اپنا نام ذكر كرتا ہے. اور كيا يہ صحيح ہے كہ ان سب ناموں كا ذكر كرنے سے وہ ہمارا تعارف كر ليتے ہيں اور جنت ميں ہميں پكارينگے، كيا يہ دعاء بدعت ہے ؟ ميں تو يہى سمجھتى ہوں كہ يہ بدعت ہے، ليكن اكثر عورتيں ميرى مخالفت كرتى ہيں، اگر ميں غلطى پر ہوں تو كيا اللہ مجھے سزا ديگا، اور ميں حق پر ہوں تو مجھے بتائيں كہ ميں انہيں كيسے مطمئن كر سكتى ہوں ؟ ميں اس مسئلہ سے بہت پريشان ہوں جب بھى نبى كريم صلى اللہ عليہ وسلم كى درج ذيل حديث ذہن ميں آتى ہے تو ميرى پريشانى اور غم اور بھى زيادہ ہو جاتا ہے: نبى كريم صلى اللہ عليہ و سلم كا فرمان ہے: \” ہر نيا كام بدعت ہے، اور ہر بدعت گمراہى ہے، اور ہر گمراہى آگ ميں ہے \”

  • video-shot

    YOUTUBE

    زیر نظر ویڈیو میں شیخ مقصود الحسن فيضى –حفظہ اللہ- نے ماہ محرم کی اہمیت وفضیلت کا تذکرہ فرما کر اس ماہ میں اور خاص طور سے اسکی دسویں تاریخ کو نام نہاد مسلمانوں کی طرف سے کئے جانے والے شرکیہ ومبتدعانہ رسوم واعمال کی سختی سے مذمت کی ہے-

  • PDF

    يوم عاشوراء كے متعلق ميں نے سارى احاديث كا مطالعہ كيا ہے ليكن كسى ميں بھى يہ نہيں ملا كہ نبى كريم صلى اللہ عليہ وسلم نے يہود كى مخالفت كرتے ہوئے گيارہ محرم كا روزہ ركھنے كا اشارہ كيا ہو، بلكہ نبى كريم صلى اللہ عليہ وسلم كا تو فرمان يہ ہے كہ: \” اگر ميں آيندہ برس زندہ رہا تو ميں نو اور دس تاريخ كا روزہ ركھوں گا \” يہوديوں كى مخالفت كرتے ہوئے، اسى طرح نبى كريم صلى اللہ عليہ وسلم نے صحابہ كرام كى بھى گيارہ تاريخ كا روزہ ركھنے كى راہنمائى نہيں فرمائى. اس بنا پر كيا يہ بدعت تو نہيں كہلائيگى كہ جو نبى كريم صلى اللہ عليہ وسلم نے نہيں كيا ہم وہ كر رہے ہيں، اور نہ ہى صحابہ كرام نے ايسا كيا ہے ؟ اور كيا اگر كسى شخص كا نو محرم كا روزہ رہ جائے تو دس محرم كا روزہ كفائت كر جائيگا يا نہيں ؟

  • PDF

    كيا يہ ممكن ہے كہ سنت روزے رمضان كى قضاء كى نيت سے ركھے جائيں، اور اسى طرح نفلى روزے مثلا يوم عاشوراء كا روزہ رمضان كى قضاء كى نيت سے ركھا جائے ؟

  • PDF

    كيا يوم عاشوراء كے موقع پر شيعہ كا پكايا ہوا كھانا تناول كرنا جائز ہے، ان كا كہنا ہے كہ يہ كھانا وہ اللہ كے ليے تقسيم كر رہے ہيں اور اس كا ثواب حسين رضى اللہ تعالى عنہ كو پہنچايا جاتا ہے، پھر اگر ميں يہ كھانا نہ لوں تو مجھے نقصان پہنچنے كا خطرہ ہے اس ليے كہ ميں عراق ميں رہائش پذير ہوں اور آپ جانتے ہيں كہ وہ اہل سنت كے ساتھ كيا سلوك كرتے ہيں ؟

  • PDF

    ميں دبى ميں رہائش پذير ہوں اور ہمارے گرد و پيش بہت سارے شيعہ رہتے ہيں وہ ہميشہ دعوى كرتے ہيں كہ نو اور دس محرم كو ہم جو كچھ كرتے ہيں وہ حسين رضى اللہ تعالى عنہ كے ساتھ محبت كى دليل ہے، اور ايسے عمل كرنے ميں كوئى حرج نہيں يہ بالكل ايسے ہى ہے جيسے يعقوب عليہ السلام نے كہا تھا: {ہائے يوسف! ان كى آنكھيں رنج و غم كى وجہ سے سفيد ہو چكى تھيں، اور وہ غم كو دبائے ہوئے تھے، بيٹوں نے كہا واللہ ! آپ ہميشہ يوسف كى ياد ہى ميں لگے رہيں گے يہاں تك كہ گھل جائيں يا ختم ہى ہو جائيں، انہوں نے كہا ميں تو اپنى پريشانيوں اور رنج كى فرياد اللہ ہى سے كر رہا ہوں، مجھے كى طرف سے وہ باتيں معلوم ہيں جو تم نہيں جانتے}. برائے مہربانى آپ يہ بتائيں كہ سينہ كوبى اور ماتم كرنا جائز ہے يا نہيں ؟

  • PDF

    مجھے عاشوراء کے روزہ کی فضیلت کا علم ہے کہ اس سے گذشتہ ایک برس کے گناہ معاف ہوتےہیں ، لیکن ہمارے ہاں میلادی تاریخ رائج ہے جس وجہ سے مجھے عاشوراء کا علم صرف اسی دن ہوتا ہے ، تواگر میں نے اس دن کچھ بھی نہ کھایا ہواورروزہ کی نیت کرلوں توکیا میرا روزہ صحیح ہوگا ، اورکیا مجھے عاشوراء کے روزے کی فضیلت حاصل ہوجائے گی ؟

  • PDF

    میں اس سال عاشوراء کا روزء رکھنا چاہتا ہوں ، مجھے کچھ لوگوں نے بتایا ہے کہ میں عاشوراء کے ساتھ نو محرم کا روزہ بھی رکھوں ، توکیا نبی صلی اللہ علیہ وسلم سے اس کی راہنمائي ملتی ہے ؟

  • PDF

    کیامیں صرف دس محرم کا روزہ رکھ سکتاہوں یعنی اس سے ایک دن قبل یا ایک دن بعد میں روزہ نہ رکھوں ؟

  • PDF

    میں نے سنا ہے کہ عاشوراء کا روزہ پچھلے ایک برس کے گناہوں کا کفارہ بنتاہے ، کیا یہ صحیح ہے ، اورکیا کبیرہ گناہ بھی مٹا دیۓ جاتے ہيں ، اورپھر اس دن کی تعظیم کا سبب کیا ہے ؟

  • PDF

    ميں گرلز كالج كى ايك طالبہ ہوں، ہم بہت زيادہ شيعہ لوگوں كے مابين رہائش پذير ہيں، اور وہ اس وقت يوم عاشوراء كى مناسبت سے سياہ لباس زيب تن كرتے ہيں، تو كيا اس كے مقابلے ميں ہمارے ليے دوسرے رنگوں ميں زرق برق لباس پہننے اور زيادہ بناؤ سنگھار كرنے جائز ہيں صرف انہيں غضب اور غصہ دلانے كے ليے؟ اور كيا ہمارے ليے ان كى غيبت كرنا اور ان كے ليے بد دعا كرنا جائز ہے، يہ علم ميں ہونا چاہيے كہ وہ ہمارے غضہ اور ناراضگى كا اظہار كرتے ہيں، جيسا كہ ميں ان ميں سے ايك لڑكى كو ديكھا كہ اس نے ايسے تعويذ پہن ركھے تھے جن پر طلسماتى عبارتيں لكھى ہوئى تھيں، اور اس كے ہاتھ ميں ايك لاٹھى تھى جس كے ساتھ وہ ايك طالبہ كى طرف اشارہ كر رہى تھى، اور ميں اس سے بہت تكليف ميں رہتى اور ابھى تك ہوں ؟

  • PDF

    کیا محرم میں کثرت سے نفلی روزے رکھنا سنت ہے ، اور کیا اس مہینہ کو دوسرے مہینوں پر کوئي فضیلت حاصل ہے ؟

  • PDF

    كيا مختلف تہواروں ـ يعنى ميلاد اور عاشوراء وغيرہ ـ كے موقع پر خاندان ـ بھائيوں اور چچا ـ كا جمع ہونا اور اكٹھے كھانا تناول كرنا جائز ہے، اور ايسا كرنے والے كا حكم كيا ہے، اور اسى طرح حفظ مكمل كرنے كے بعد اس كى خوشى ميں تقريب منعقد كرنا كيسا ہے ؟

  • video-shot

    YOUTUBE

    مشاہدین کرام! عام طورسے لوگ واقعہ اسراء ومعراج کے سلسلے میں افراط وتفریط کا شکارہیں اوراس سلسلے میں بہت ساری ضعیف وموضوع روایات اورباطل افسانے وقصص کا سہارا لے کرواقعہ اسراء ومعراج کی اصل حقیقت کو عوام سے پوشیدہ رکھا جاتا ہے. ویڈیومذکورمیں فاضل خطیب شیخ عبدالمجید بن عبدالوہاب مدنی –حفظه الله - نے قرآن وسنت اور صحیح اسلامی تاریخ کی روشنی میں معجزہ معراج رسول صلى اللہ علیہ وسلم کی اصل حقیقت کو پیش کرنے کی کوشش کی ہے. نہایت ہی مفید ویڈیو ہے ضرورمشاہدہ فرمائیں.

  • PDF

    زير نظر كتابچہ میں کتاب وسنت کی واضح دلائل کی روشنی میں ماہ رجب و ماہ شعبان کی شرعی فضیلت اور اس ماہ میں جہالت ولاعلمی یا تعصب و اندھی تقلید کی بنا پر کی جانے والی بدعات وغیر شرعی امور کا علمی ردّ پیش کیا گیا ہے. بے حد مفید کتابچہ ہے ضرور استفادہ حاصل کریں.

فیڈ بیک